Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Featured Replies

  • Author

دُشواریوں نے راہ کو آساں‌ بنا دیا
ہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیا

کتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نے
ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا


چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثار
درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا

محدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِرا
وُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیا

اک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئے
تسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیا

رُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نے
آرائشِ جمال کو آساں بنا دیا

اک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئی
تارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیا

آیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نے
ہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیا

اخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نے
کارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا

(حنیف اخگر)
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

دیا ہے زہر مرے چارہ گر نے تنگ آکر
دوا تو خوب ملی ہے جو آئے راس مجھے

(داغ دہلوی)

Edited by Young Heart

  • Author

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا
رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز
شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون

(احمد فراز)

  • Author


نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو
کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے

اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے

 

(امیر مینائی)

  • Author
میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے

میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے

📢 Post Your Ad Here
  • Author
مرے چارہ گر

مرے محتسب

مری بات سن

مجھے صبر دے

مجھے دے سدا

تو یہ حوصلہ

کہ میں سہہ سکوں

جو ہیں غم سبھی

جو ہیں دکھ سبھی

مری ذات کے

مرے لم یزل

مرے راہبر

مری بات سن

تو بلاشبہ،

مجھے آزما

کڑے امتحاں

سے مجھے مٹا

تو اگر سنے،

مری التجا

مجھے بھی دکھا

وہی راستہ

کہ چلوں اگر

تو میں لڑکھڑا کے گروں نہیں

جو میں گرپڑوں

تو اے چارہ گر

مجھے تھام لے

  • Author
مرے منتظر

مجھے ہے خبر

تُو ہے مضطرب

تُو ہے مضمحل

نہ ہو بدگماں نہ خیال کر

سبھی وسوسوں کو نکال کر

تُو یقین کر مری ذات کا

تُو یقین کر مری بات کا

مرے معتبر

مرے محترم

میں جدا نہیں میں ہُوں تجھ میں ضم

ذرا مسکرا نہ کر آنکھ نم

میں گماں نہیں میں یقین ہُوں

تری دھڑکنوں کی مکین ہُوں

تری راحتوں کی امین ہُوں

مرے ہمنفس

مرے چارہ گر

نہ ہو مضطرب

نہ ہو مضمحل

تُو یقین رکھ

تُو یقین رکھ

Edited by Young Heart

  • Author

پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیں
یا میرے زخم پہ نشتر چلانے آئے ہیں
ہمارے بانکپن کی کچھ تو داد دے قاتل
کس اطمینان سے ہم سر کٹانے آئے ہیں
مزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھا
سو دل کو مار کے ہم مسکرانے آئے ہیں
الٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنا
نئی دوا ہے اِدھر آزمانے آئے ہیں
بس ایک وقتِ ملاقات ہم نے مانگا تھا
ہزار اُن کے لبوں پر بہانے آئے ہیں
ہمیں پتہ ہے کہ عمرانؔ کہہ نہیں سکتے
بڑے وثوق سے لیکن سُنانے آئے ہیں

(ڈاکٹر عمران علی)

Edited by Young Heart

  • Author

کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبعیت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی

داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی

  • 1 month later...
📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.