Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Waniya

Previous Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Waniya

  1. کتاب عمر کا ایک اور باب ختم ہوا کتاب عمر کا ایک اور باب ختم ہوا شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا   ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے سراب ختم ہوا اضطراب ختم ہوا   برس کے کھل گیا بادل ہوائے شب کی طرح فلک پہ برق کا وہ بیچ و تاب ختم ہوا   جو اب نہ رہا یں کسی کے آگے منیر وہ اک سوال اور اس کا جواب ختم ہوا
  2. مجبور تو نہیں ہیں جو باتیں بنائیں ہم مجبور تو نہیں ہیں جو باتیں بنائیں ہم* مزدور تو نہیں ہیں جو نخرے اٹھاۓ ہم* اب ساٹھ سال بیت گۓ لیت و لعل میں اب کس طرح فریب تمنا میں آئیں ہم
  3. Beautiful Lakes of Pakistan Shimshal Lake Ansoo Lake
  4. Sorry all membrz posting ke baad muje andaza howa font kafi chota ho gya hai. bahar haal next time kayal rakoun gi
  5. yaa tu video bana ker black mailing kafi rang la rahi hai... aur mr jameel ki saysat bhi chmak rahi hai but hero ke liye sab kuch itna easy always rahe yaa kese possible hai koie big twist tu ana chaiye..?
  6. محبتوں کو مشروط ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ کہ شرائط، عہدنامے، دھمکیاں، ڈراوے اور چیلنج جزبوں کی لطافت، گہرائی اور معنویت کو مجروح کر ڈالتے ہیں۔ ان میں کھردراپن اور دراڑیں پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر اعتماد کی جگہ خوف بسیرا کرنے لگتا ہے۔ خوشی کی جگہ واہمے من آنگن میں لہرانے لگتے ہیں۔ طمانیت کی چھاؤں کے بجائے بےسکونی کی دھوپ رقص کرنے لگتی ہے۔ اعتبار ٹوٹ جاتا یے اور دھڑکے جی کا جنجال بنتے چلے جاتے ہیں۔ محبت کو آزاد ہونا چاہیے۔ ہر شرط سے، ہر خدشے کی زنجیر سے۔ جتنی محبت زیادہ ہوتی یے اتنا ہی محبت کرنے والے شخص کا ظرف اور دل کشادہ ہوتا ہے۔ وہ معاف کرنے اور معافی طلب کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔ جھوٹی انا کے خول میں لپٹ کر دوسری جانب سے "پہل" کا انتطار نہیں کرتا۔ اس کے بجائے خود صلح اور امن کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ البتہ محبتوں کو محدود کرنے والا شخص ڈراوے، دھمکی اور حاکمیت پسندی سے کام لیتا ہے۔ چھوٹا ظرف، چھوٹا دل، اور چھوٹی محبت۔ وہ جزباتی بلیک میلنگ اور بے حسی دکھا کر مقابل کو اپنے دام میں کسنے کی سعی کرتا ہے۔
  7. hooo seriously .. zaleelo kawar ker ke rakh diya saba ko...! wase ab tu app ya lafaaz sun sun ker bore nhi ho gya.." bhut achi story hai, very interesting, kamal ki story, etc etc" but eik word ap boloun gi jo mostly male use kerte hein kah kya jakaaaas khani hai keep it up
  8. کائنات کا کوئی ایسا غم نہیں جو انسان برداشت نہ کر سکے کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے کی صفت دی ہے ورنہ ایک غم ہمیشہ کیلئے غم بن جاتا۔ ...... ایک انسان کا غم ضروری نہیں کہ دوسرے کا بھی غم ہو ۔بلکہ اس کہ برعکس ایک کا غم دوسرے کی خوشی بن سکتا ہے۔ غم خو شی بن کر زندگی میں داخل ہوتا ہے او ر خوشی غم بن کر زندگی سے نکل جاتی ہے اور پھرمحروم زندگی آشنائے لذت و کیف کرا دی جاتی ہے۔ انسان اس زندگی میں نہ کچھ کھوتا ہے نہ پاتا ہے ۔وہ تو صرف آتا اور جاتا ہے۔کیا حاصل اور کیا محرومی۔کسی کا چہرہ کسی کی زندگی میں خوشی پیدا کر جاتا ہے اور کسی کو غم دے جاتا ہے ۔یہ سب قدرت کے کھیل ہیں۔ بہتر انسان وہی ہے جو دوسروں کے غم میں شامل ہو کر اسے کم کرے اور دوسروں کی خوشی میں شریک ہو کر ان میں اضافہ کرے۔ کسی انسان کے غم کا اندازہ اس کے ظر ف سے لگایا جا تا ہے ۔کم ظرف آدمی دوسروں کو خو ش دیکھ کر ہی غم زدہ ہو جاتا ہے ۔وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ خو ش رہیں۔وہ ان کی خوشیوں کو برباد کرنے پر تل جاتا ہے ۔اس کی خو شی یہ ہے کہ لوگ خوشی سے محروم ہو جائیں۔ وہ اپنے لئے جنت کو وقف سمجھتا ہے اور دو سروں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔ایک بخیل انسان نہ خوش رہ سکتا ہے نہ خوش کر سکتا ہے۔
  9. محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے لبوں کے کنج میں بوسوں کے آلوچے ہیں پژمردہ دلوں میں ہجر کے آزار کی شدت کا موسم ہے درندے چھپ گئے ہیں اوڑھ کر عشاق کی کھالیں دیارِ شوق ہے ویران،اور وحشت کا موسم ہے سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے جنودِ طالبانی کا یہ دینِ مدرسہ سوزی یہ کس کذاب کے پیغام کی شہرت کا موسم ہے ہوائے بے نوائی ملک بھر میں چلتی رہتی ہے مگر باغِ حکومت میں بڑی عشرت کا موسم ہے یہ ہیروں اور لیلائوں کے جھرمٹ آ گئے دیکھو نگر میں عشق کی تبلیغ اور دعوت کا موسم ہے چلو مسعود، اس کو جلوتوں سے آشنا کردیں کہ اس کے آستاں پر رات کو خلوت کا موسم ہے
  10. ہمارے یہاں اچھے بھلے بڑی کلاسوں کے طلبہ بھی محاورے کی وہ ٹانگ توڑتے ہیں کہ رہے نام ***** کا ایف - اے کے پرچے ہو رہے تھے اردو کے پرچے میں ایک طالبہ نے " کلنک کا ٹیکہ لگنا " کو بھی انجکشن کی ہی کوئی قسم سمجھا تھا اسے کچھ یوں جملے میں استمعال کیا - " ہمارے محلّے میں کل سب نے کلنک کے ٹیکے لگوائے ، میں گھر میں نہیں تھی ، اس لئے نہ لگوا سکی " امجد اسلام امجد کے سفر نامے ریشم ریشم سے اقتباس
  11. Noor Mahal Bahawalpur Pakistan The Noor Mahal is a palace in Bahawalpur, Pakistan. It was built in 1872 like an Italian chateau on neoclassical lines, at a time when modernism had set in.Noor Mehal is one of the hidden gems of Bahawalpur, since not many know about it and it is not open to public. It is currently in possession of the army and is used as state guest house and for holding state durbars and meetings with foreign delegations.There are various stories regarding its construction. According to one legend, Nawab Sadiq Muhammad Khan IV had the palace made for his wife; however, she was only there for one night, as she happened to see the adjoining graveyard from her balcony, and refused to spend another night there, and so it remained unused during his reign.The building was declared a �protected monument� in September 2001 by the Government of Pakistan's Department of Archeology, and it is now open for general visitors, students trips and other interested persons.In 1956, when Bahawalpur State was merged into Pakistan, the building was taken over by the Auqaf department. The palace was leased to the army in 1971; in 1997 the army purchased it for the sum of 119 million.
  12. Out class...! ya update bhi twisted rahi aga kya ho ga... ya kafi interesting lag raha hai waiting ....
  13. دریائے چناب دریاۓ چناب (انگریزی میں Chenab) چناب کا نام 'چن' اور 'آب' سے مل کر بنا ہے جس میں چن کا مطلب چاند اور آب کا مطلب پانی ہے، دریاۓ چندرا اور دریاۓ بھاگا کے بالائی ہمالیہ میں ٹنڈی کے مقام پر ملاپ سے بنتا ہے، جو بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع لاہول میں واقع ہے۔ بالائی علاقوں میں اس کو چندرابھاگا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ جموں و کشمیر کے جموں کے علاقہ سے بہتا ہوا پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔ پاکستان کے ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر یہ دریاۓ جہلم سے ملتا ہے اور پھر دریاۓ راوی کو ملاتا ہوا اوچ شریف کے مقام پر دریاۓ ستلج سے مل کر پنجند بناتا ہے، جو مٹھن کوٹ کے مقام پر دریاۓ سندھ میں جا گرتا ہے۔ دریاۓ چناب کی کل لمبائی 960 کلو میٹر ہے، اور سندھ طاس معاہدہ کی رو سے اس کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم ہے۔ ویدک زمانہ (قدیم ہندوستان) میں اسکو اشکنی یا اسکمتی کے نام سے اور قدیم یونان میں آچےسائنز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے سکندریہ (جو آج شاید اوچ شریف یا مٹھن کوٹ یا چچارن ہے) نام سے ایک شہر دریاۓ سندھ کے نزدیک پنجند کے سنگم پر تعمیر کیا۔ پنجابی تہذیب میں چناب کا مقام ایک علامت کے طور پر ہے جسکے گرد پنجابی سوجھ بوجھ گھومتی ہے اور ہیر رانجھا کی پنجابی رومانوی داستان دریاۓ چناب کے گرد ہی گھومتی ہے۔
  14. مونچھیں آپ کے بُرے وقت کی ساتھی ہیں، آپ کسی کی گردن نہیں مروڑ سکتے تو اپنی مونچھیں مروڑ کر غصہ نکال سکتے ہیں۔ آپ پریشان ہیں، کسی کا انتظار کر رہے ہیں تو ان پر ہاتھ پھیرکر وقت گزار لیں۔ آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو مونچھوں کی پرورش اور کانٹ چھانٹ کر کے اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں۔ مونچھیں تو مردوں کا ایکسلریٹر ہیں، اس لئے وہ لڑنے سے پہلے مونچھوں کو بل دیتے ہیں مونچھیں تراشنا میری پسندیدہ ان ڈور گیم ہے۔ اس کھیل میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بندہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت اکیلا کھیل سکتا ہے۔ مگر یہ بچوں کا کھیل نہیں کیونکہ یہ ہار اتنی مہنگی ہے کہ ہارنے والے کو ہفتوں منہ چھپائے رہنا پڑتا ہے۔ اس لئے تو مقابلوں میں بڑی سے بڑی شرط یہی لگائی جاتی ہے کہ ہار گیا تو مونچھیں منڈوا دوں گا۔ شاید اسی لئے شادی کے بعد اکثر لوگ مونچھیں صاف کروا دیتے ہیں۔ میں تو بڑا ڈرتے ڈرتے مونچھوں کو قینچی لگاتا ہوں اور ڈرنے میں برائی ہی کیا ہے؟ مونچھیں تراشنا دراصل توازن برقرار رکھنے کا نام ہے۔ دنیا میں پہلی کلین شیو اس دن ہوئی جب مونچھیں تراشنے والے سے ایک مونچھ چھوٹی ہو گئی اور دوسری بڑی۔ بڑی کو چھوٹی کرنے کی کوشش کی تو چھوٹی بڑی ہو گئی اور یوں ہوتے ہوتے کلین شیو ہو گئی۔ میں جب دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں قینچیاں دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں۔ کیونکہ ایک بار ہٹلر نے توازن بگاڑا تھا تو مونچھ سکڑ کر مکھی مونچھ بن گئی تھی۔ اگر اب توازن بگڑ گیا تو پھر دنیا کو کلین شیو ہونے سے کوئی نہ بچا سکے گا۔
  15. huuum now story is turning....! interesting very interesting
  16. Dr Khan updates once again wonder full hai Saba ka twist jo nazar arah hai seems interesting multiple character ko bhut achi thara se handle ker ke story jari hai next ka intazar rahe ga
  17. wase mein tu assume ker rahi thi.. saba ke sath kuch aur bura ho ga but not big much ya update itni maze daar tu nhi thi lekin story mein kisi big turn ka wait rahe ga.
  18. فلسفہء دوستی “تمہارا دوست وہ ہے جو تمہاری احتیاج پوری کرے” “وہ تمہارا وہ کھیت ہے جس میں تم محبت کی تخم پوشی کرتے ہو” “اسی کھیتی کو تم تشکر اوراطمینان کے ساتھ کاٹتے ہو” “اور جب تمہارا دوست اپنے دل کی کوئی بات تم سے کہتا ہے – تو تم کو نہ اپنے دل کی “نہیں“ متردو کرتی ہے – نہ تم اس کو اپنی “ہاں“ سے محروم رکھتے ہو” “اور جب وہ خاموش ہوتا ہے تب بھی تمہارا دل اس کے دل کی گفتگو سننے سے عاری نہیں ہوتا” “اس لئے کہ بغیر الفاظ کی مدد کے ، دوستی کے افکار ، تمام خیالات ، “تمام خواہشات، تمام توقعات، تمام ارادے پیدا ہوتے ہیں” “ان سے دوستوں کے لئے ایک مسرت حاصل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ بے طلب” “اور دوستی کا کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، سوائے اس کے کہ تم دوست کے ساتھ ایک مشترک روحانی گہرائی میں شریک ہوجاؤ” ” اس لئے کہ محبت نہیں چاہتی کہ اس کا بھید واضح ہو جاوے” “اور جو کچھ تمہارے اندر بہتر اور اعلی تر ہے وہی دوست کو دو” اگر وہ چاہتا ہے تمہارے “مد“ کے “ جزو“ بھی دیکھے ” تو اس کو اپنے دریا کی طغیانی بھی دیکھا دو -” “اس لئے کہ وہ تمہارا دوست ہی کیا ہے جسے تم صرف اس لئے ڈھونڈتے رہو کہ اس کی صحبت میں تم اپنا خالی وقت گزار سکو – وہ ساعتیں جو تم پر گراں ہیں-” “بلکہ دوست کو تو اس وقت ڈھونڈو جب تم بیداری عمل کا وقت گزارنا چاہو” “اس لئے کہ دوست کا کام یہ ہے کہ وہ تمہارے تقاضوں اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرے” “نہ یہ کہ تمہارے اوقات کے خالی کاسہ کو بھرا کرے !” “اور دوستی کی حلاوت میں اپنے تبسم کو ملادو ، اور اپنی مسرتوں کو مشترک کرلو" خلیل جبران
  19. Waoo this is really nice sharing.. bachpan mein aksar ho jati hein is type ki hamaqtien..
  20. وقت کا دباؤ بڑا شدید ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ برداشت کے ساتھہ حالات ضرور بدل جائیں گے، بس ذرا سا اندر ہی اندر مُسکرانے کی ضرورت ہے- یہ ایک راز ہے جو سکولوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں نہیں سکھایا جاتا- مسکرانا سیکھنا چاہیئے اور اپنی زندگی کو اتنا"چیڑا“ (سخت) نہ بنا لیں کہ ہر وقت دانت ہی بھینچتے رہیں- اشفاق احمد

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.