Everything posted by Waniya
-
Hello To UFC, I am Back here...
welcome ji welcome...! back
-
WO KEHTI HAI SUNO !
کبھی یاد میری آئے، دل کو ستائے تو لوٹ آنا تیری آنکھیں میری یاد میں نم ہو جائیں تو لوٹ آنا مجھے معلوم ہے تیرے چاہنے والوں کی کمی نہیں یہ سارے پنچھی رفتہ رفتہ جب اڑ جائیں تو لوٹ آنا میری ہر بات پر کھلکھلا کر ہنسنا تیرا مشغلہ تھا کوئی ایسی ہی میری بات تجھ کو رلائے تو لوٹ آن
-
مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ روئیں گے ہم ہزار بار ،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟ دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟ جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟ دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ تیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟ قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟ حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟ واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟ ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
-
باپ اور بیٹے میں فرق
باپ اور بیٹے میں فرق ایک 85 سالہ عمر رسیدہ باپ اپنے 45 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کے ھال کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کوّے نے کھڑکی کے قریب آ کر شور مچایا۔ باپ کو نجانے کیا سوجھی، اُٹھ کر بیٹے کے پاس آیا اور اُس سے پوچھا، بیٹے یہ کیا چیز ہے؟ بیٹے نے جواب دیا؛ یہ کوّا ہے۔ یہ سُن کر باپ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔ کُچھ دیر کے بعد وہ پھر اُٹھ کر اپنے بیٹے کے پاس کر آیا اور دوبارہ اُس سے پوچھا، بیٹے؛ یہ کیا ہے؟ بیٹے نے حیرت کے ساتھ باپ کی طرف دیکھا ور پھر اپنا جواب دُہرایا: یہ کوّا ہے۔ کُچھ دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا اور تیسری بار پوچھا: بیٹے یہ کیا ہے؟ بیٹے نے اپنی آواز کو اونچا کرتے ہوئے کہا؛ ابا جی یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد باپ پھر اُٹھ کر آیا ور چوتھی بار بیٹے سے مُخاطب ہو کر پوچھا؛ بیٹے یہ کیا ہے؟ اس بار بیٹے کا صبر جواب دے چُکا تھا، نہایت ہی اُکتا ہٹ اور ناگواری سے اپنی آواز کو مزید بُلند کرتے ہوئے باپ سے کہا؛ کیا بات ہے، آج آپکو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟ ایک ہی سوال کو بار بار دُہرائے جا رہے ہو۔ میں کتنی بار بتا چُکا ہوں کہ یہ کوّا ہے، یہ کوّا ہے۔ کیا میں کسی مُشکل زبان میں آپکو یہ سب کُچھ بتا رہا ہوں جو اتنا سادہ سا جواب بھی نہ تو آپ کو سُنائی دے رہا ہے اور نہ ہی سمجھ آرہا ہے! اس مرتبہ باپ یہ سب کُچھ سننے کے بعد اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس باہر آیا تو ہاتھ میں کُچھ بوسیدہ سے کاغذ تھے۔ کاغذوں سے لگ رہا تھا کہ کبھی کسی ڈائری کا حصہ رہے ہونگے۔ کاغذ بیٹے کو دیتے ہوئے بولا، بیٹے دیکھو ان کاغذوں پر کیا لکھا ہے؟ بیٹے نے پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا؛ آج میرے بیٹے کی عمر تین سال ہو گئی ہے۔ اُسے کھیلتے کودتے اور بھاگتے دوڑتے دیکھ دیکھ کر دِل خوشی سے پاگل ہوا جا رہا ہے۔ اچانک ہی اُسکی نظر باغیچے میں کائیں کائیں کرتے ایک کوّے پر پڑی ہے تو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا ہے اور پوچھتا ہے؛ یہ کیا ہے۔ میں نے اُسے بتایا ہے کہ یہ کوّا ہے مگر اُسکی تسلی نہیں ہورہی یا شاید میرے منہ سے سُن کر اُسے اچھا لگ رہا ہے۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد آ کر پھر پوچھتا ہے یہ کیا ہے اور میں ہر بار اُسے کہتا ہوں یہ کوّا ہے۔ اُس نے مُجھ سے یہ سوال ۲۳ بار پوچھا ہے اور میں نے بھی اُسے ۲۳ بار ہی جواب دیا ہے۔ اُسکی معصومیت سے میرا دِل اتنا خوش ہو رہا ہے کہ کئی بار تو میں جواب دینے کے ساتھ ساتھ اُسے گلے سے لگا کر پیار بھی کر چُکا ہوں۔ خود ہی پوچھ پوچھ کر تھکا ہے تو آکر میرے پاس بیٹھا ہے اور میں اُسے دیکھ دیکھ کر فدا اور قُربان ہو رہا ہوں
-
مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
Suno. Aey Chaand Si Larki, Abhi Tum Titliyaan Pakro, Ya Phir Guriyon Se Khelo Tum, Ya Phir Masoom Si Aankhon Se, Dheron Khuwab Dekho Tum, Faraz-O-Faiz-O-Mohsin Ki, Kitaben Mat Abhi Parhna, Ye Sub Lafzon K Saahir Hain, Tumhein Uljha K Rakh Dein Gay, Tumhein Maloom Hi Kab Hai? Mohabbat K Libaday Mein, Hawas Aur Hirs Hoti Hai, Ye Insanon Ki Dunya hai, Magar In Se Kaheen Barh Kar, Yahan Wehshi Darinday Hain, Wo Wehshi Jin Ki Aankhon Mein, Machalty Piyar K Peechay, Hawas Aur Hirs Hoti Hai, Abi Kachi Kali Ho Tum, Abi Kaanton Se Mat Khelo, Abi Apni Hatheli Par, Kisi Ka Nam Mat Likho.
- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
-
عورتيں کيوں روتی ہيں ؟
عورتيں کيوں روتی ہيں ؟ ايک بچہ اپنی ماں سے “آپ روتی کيوں ہيں ؟” ماں “کيونکہ ايسی ضرورت پڑتی ہے” بچہ ” مجھے سمجھ نہيں آئی” ماں نے بچے کو سينے سے لگا کر پيار کرتے ہوئے کہا “تمہيں سمجھ آئے گا بھی نہيں” پھر بچے نے اپنے باپ سے سوال کيا “ماں بغير وجہ کيوں روتی ہے ؟” باپ نے لاپرواہی سے جواب ديا “سب عورتيں بلاوجہ روتی ہيں” بچہ مخمصے ميں رہا ۔ کچھ دن بعد بچے کی ايک عالِم سے ملاقات ہوئی ۔ بچے نے سوچا “سب لوگ عالِم سے عِلم حاصل کرتے ہيں ۔ انہيں ضرور پتہ ہو گا کہ عورتيں کيوں روتی ہيں” بچہ نے عالِم سے کہا “يا شيخ ۔ عورتيں اتنی آسانی سے کيوں رونے لگ جاتی ہيں ؟” عالِم نے جواب ديا “جب خدا نے عورت کو بنايا تو اس پر خاص توجہ دی خدا نے عورت کے کندھے اتنے مضبوط بنائے کہ وہ دنيا کا وزن اُٹھا سکيں اور ساتھ اتنے نجيب کہ آرام پہنچا سکيں خدا نے عورت ميں اندرونی طاقت اتنی بھری کہ بچے کے حمل سے لے کر اُس ناپسنديدگی کو برداشت کر سکے جو بعض اوقات اُس کی اپنی اولاد ہی کی طرف سے ہوتی ہے خدا نے عورت کو کڑاپن عطا کيا کہ جب باقی سب ہار جاتے ہيں وہ بغير شکائت اپنے خاندان کی بيماری اور مشکلات کے دوران ديکھ بھال کرتی رہتی ہے خدا نے عورت ميں اپنے بچوں سے محبت کا احساس رکھا کہ وہ اُن سے ہر حال ميں محبت کرتی ہے خواہ بچے اُسے دُکھ ہی ديں خدا نے عورت کو طاقت بخشی ہے کہ اپنے خاوند کی تمام تر خاميوں کے ساتھ گذر کرتی ہے ۔ اور خدا نے اسے مرد کی پسلی سے اُس کے دل کی حفاظت کيلئے پيدا کيا ہے خدا نے عورت ميں جاننے کی عقل رکھی ہے کہ اچھا خاوند بيوی کو دُکھ نہيں ديتا بلکہ خدا کبھی کبھار خاوند کا ساتھ دينے ميں عورت کی مضبوطی اور قوتِ ارادی کا امتحان ليتا ہے اور سب سے بڑھ کر خدا نے عورت کو آنسو عطا کئے جو عورت کا طُرّہ امتياز ہيں جنہيں وہ جب چاہے جہاں چاہے بہائے ۔ اس کيلئے کسی وضاحت کی ضرورت نہيں کيونکہ يہ اُس کی خاص ملکيت ہيں ديکھ بيٹا ۔ عورت کا حُسن اُن کپڑوں ميں نہيں جو وہ پہنتی ہے ۔ نہ اُس کے چہرے کی رنگت يا خد و خال ہيں ۔ نہ اُس کے بال ہيں ۔ بلکہ عورت کا حُسن اُس کی پرہيزگاری ہے جو اُس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے کيونکہ وہی دل کی راہداری ہيں ۔ دِل جس ميں محبت گھر کرتی ہے
-
صائمہ کی طرف سےسب کوسلام
Welcome dear..! welcome on forum.
-
Hotgirl ka naam hi kafi hey.
Just welcome janab
-
انا
Zaberdast Guru ji eik bahtreen topic per khani lehki haiya ana bhi hamein bhut se logoun se door ker deti hai eik achi khani lekhne per bhut bhut shukriya
-
آئی ٹی میگزین ماہ فروری
This is great work.. eik completely new portion hai forum ka.. bahtreen start hai mazeed ka wait rahe ga. thanks a lot for sharing
-
London Olympic Games 2012
- WO KEHTI HAI SUNO !
جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سُلگتی ہے یُوں پیار نہیں چھپتا ، پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں جب برف پگھلتی ہے شہرت کی بُلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے- محبّت جیت ہوتی ہے مگر
- اگر آپ راہ چلتے ہوئے
اگر آپ راہ چلتے ہوئے از اشفاق احمد زاویہ اگر آپ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے اینٹ روڑے کو اس مقصد سے ہٹا دیتے ہیں کہ کوئی اس کی وجہ سے گر نہ جائے یا کسی کو چوٹ نہ لگ جائے تو آپ بھی اپنی ذات میں بابے ہیں - پرانے زمانے میں ، اب تو شاید اس کے لئے اتنا تردد نہیں کیا جاتا - ہمارے بزرگ راہ چلتے ہوئے سڑک پر پڑے ہوئے کانٹے ، اینٹ یا روڑے اپنی چھڑی سے ہٹا دیا کرتے تھے اور چاہے وہ جتنی بھی جلدی میں ہوں یہ کام کرتے جاتے تھے - خواتین و حضرات ! معمولی کام کرتے رہا کریں ، اس سے کچھ دینا نہیں پڑتا - کسی معذور کو کام چھوڑ کر سڑک پار کروا دینا - ہمسایوں کو پوچھ لینا کبھی کبھار کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں - اگر میرے لائق کوئی حکم ہو تو ضرور بتائیے گا ، بطور ہمسایہ یہ آپ کا مجھ پر حق ہے - ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہمارے مشکل کام آسان ہو جائیں گے از اشفاق احمد زاویہ ٣ قناعت پسندی صفحہ ٢٠٩- یونیکوڈ اردو کیا ہوتی ہے
zaberdast janab eik bahtren aur informative post hai.. sukhar kerin computer ne kuch aur nhi kah dala...!- بچپن از اسد علی حسنین
Good janab achi tahreer hai.- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
eik eik baat ka kafi khas kayal rak rahe hein.. bahar haal awesome going on- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
Ajj complete update perhne ka baad ya he kehoun gi.. this is master peace u made it... bhut details se cover ker rahe hein her part ko. mind blowing and bhut bhut shurkiya itni bahtreen story lekhne aur share kerne per. Thanks- مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
يہ عالم شوق کا ديکھا نہ جائے يہ عالم شوق کا ديکھا نہ جائے وہ بت ہے يا خدا، ديکھا نہ جائے يہ کن نظروں سے تو نے آج ديکھا کہ تيرا ديکھنا، ديکھا نہ جائے ہميشہ کيلئے مجھ سے بچھڑ جا يہ منظر بار ہا ديکھا نہ جائے غلط ہے سنا پر آزما کر تجھے اے بے وفا ديکھا نہ جائے يہ محرومی نہيں پاس وفا ہے کوئی تيرے سوا ديکھا نہ جائے يہی تو آشنا بنتے ہيں آخر کوئی نا آشنا ديکھا نہ جائے فراز اپنے سوا ہے کون تيرا تجھے تجھ سے جدا ديکھا نہ جائے- WO KEHTI HAI SUNO !
ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں تیرے لوٹ آنے کی دن رات دعا کرتے ہیں اب کوئی ہونٹ نہیں ان کو چرانے آتے میری آنکھوں میں اگر اشک ہوا کرتے ہیں تیری تو جانے ،پر اے جان تمنا ہم تو سانس کے ساتھ تجھے یاد کیا کرتے ہیں کبھی یادوں میں تجھے بانہوں میں بھر لیتے ہیں کبھی خوابوں میں تجھے چوم لیا کرتے ہیں تیری تصویر لگا لیتے ہیں ہم سینے سے پھر ترے خط سے تری بات کیا کرتے ہیں گر تجھے چھوڑنے کی سوچ بھی آئے دل میں ہم تو خود کو بھی وہیں چھوڑ دیا کرتے ہیں- MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")
- میرے شریف سمدھی
sorry muskan muje apki story ka focus bilkul pasand nhi aya.. bcz ya mere personal review hai bez mein is type ko stories ko always discourage kerti houn bahar haal baki sab ka apna mind hai- Amazing Trees
- WO KEHTI HAI SUNO !
Navigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.