Everything posted by Waniya
-
مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
کبھی کبھی يہ سب اپنا چيال لگتا ہے وہ ميرا ہے يا نہيں الجھا سوال لگتا ہے ميں وفا کر کے بھی گمناميوں ميں رہتا ہوں وہ بےوفا ہے مگر بےمثال لگتا ہے
-
قول اور نفس
ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے - اور ان کے بہت بہت پیروکار اور مرید تھے - بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا - مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں - بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے - مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا - تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی - اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں - اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا - ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟ میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو - اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے - اب اس پچاس ہزار کے جم غفیر میں سے صرف ایک آدمی اٹھا ، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ،ڈھیلے پاؤں رکھتا ہوا اس کے پاس گیا مرشد نے کہا تجھ میں یہ دم خم ہے ؟ اس نے کہا ، ہاں ہے - کہا ، آ میرے ساتھ - اس نے اس کی کلائی پکڑی اس کو جھگی کے اندر لے گیا اور وہاں کھڑا کر دیا - اور کہا خاموشی کے ساتھ کھڑا رہ - پھر اس نے ایک بکرے کو لٹایا ، چھری نکالی اور اسے ذبح کر دیا ، جھونپڑی کی نالی کے پاس - اور جب وہ خون نکلا تو پچاس ہزار کے گروہ نے دیکھا اور وہ خون آلود چھری لے کر باہر نکلا اور کہا قربانی دینے والے شخص نے قربانی دے دی - میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں اس نے بہت اچھا فعل کیا- جب لوگوں نے یہ دیکھا تو حیران اور پریشان ہو گئے - اب ان میں سے لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے - کچھ جوتیاں پہن کر کچھ جوتیا چھوڑ کر - تو انھوں نے کہا اے لوگو ! قول کے آدمی نہ بننا صرف مضبوطی اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کرنا - اب میں پھر ایک اور صاحب سے کہتا ہوں وہ بھی اپنے آپ کو قربانی دینے کے لئے پیش کرے ، اور میرے پاس آئے کیونکہ یہ اس کے نفس کا ٹیسٹ ہے - تو سناٹا چھایا ہوا تھا - کوئی آگے نہ بڑھا - اس دوران ایک عورت کھڑی ہوئی تو اس نے کہا ! " اے آقا میں تیار ہوں -" اس نے کہا ، بیبی آ - چنانچہ وہ بیبی چلتے چلتے جھگی میں گئی ، اس بیچاری کے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے کے ساتھ ہوا - اندر اسے کھڑا کیا اور دوسرا بکرا ذبح کر دیا ، اور اس کے پرنالے سے خون کے فوارے چھوٹے - جب یہ واقعہ ہو چکا تو بادشاہ نے کہا آپ صحیح کہتے تھے ، کیونکہ وہ میدان سارا خالی ہوگیا تھا - پچاس ہزار آدمی ان میں سے سے ایک بھی نہیں ہے - انھوں نے کہا میں نے کہا تھا میرے ماننے والوں میں سے صرف ڈیڑھ شخص ہے ، جو مانتا ہے - بادشاہ نے کہا ہاں میں بھی مان گیا ، اور سمجھ بھی گیا ، اور وہ شخص تھا وہ مرد تھا وہ پورا تھا - جب کہ وہ عورت جو تھی وہ آدھی تھی - اس نے کہا نہیں بادشاہ سلامت یہ مرد آدھا تھا اور عورت پوری تھی - پہلا جو آیا تھا اس نے کوئی خون نہیں دیکھا تھا - اس بیبی نے دیکھا جو واقعہ گزرا پھر بھی اٹھ کر آنے کے لئے تیار ہوئی تھی اس لیے وہ خاتون سالم Entity پر ہے - اور آدھا وہ مرد ہے - میرے ماننے والوں میں ڈیڑھ لوگ ہیں باقی سارے نفس کے بندے ہیں - از اشفاق احمد زاویہ ١ قول اور نفس صفحہ ٢٥١
-
Waniya is back
سمجھے تو آپ بلکل سہی ہیں ...!
-
تمام ممبرز کو سال گرہ مبارک ہو
آپ کیسے ہیں اڈمن سر. میں پاکستان سے باہر تھی سو فورم پر نہیں اسکی. لیکن مجھے فورم میں کچھ پروبلم لگ رہی ہے بار بار ویب پیج نوٹ فاؤنڈ کا مسیج آجاتا ہے بہت بار ری فرش کرنا پر رہا ہے
-
تمام ممبرز کو سال گرہ مبارک ہو
زبردست پتا ہی نہیں چلا اور فورم ایک سال کا ہوگیا میری طرف سے سب ممبرز اور سٹاف کو پہلی سال گرہ مبارک ہو.
-
Waniya is back
I am back hello members ap sab kese hein aur forum pr sab kesa chal raha hai. i am back with new participation
-
فورم میں چند تبدیلیوں کی ضرورت
Waoo many many congrats to Milestone and Ali... keep doing good work
-
ایک کال سنٹر کے لڑکے کے ساتھ پیچھے جب شوہر د&a
dear apne eik achi try ki hai.. lekin plz story ko post kerne se phale khud proper read ker liya kerin. aur mistake ko avoid kerin either its clear yaa story apne google translate se english to urdu ki but after translation story ko read ker ke upload kerte hope so u will improve abt that. keep it up
-
Hi to all
Welcome to the forum.. dear. and feel like family and enjoy
-
256 سالہ شخص کی طویل عمری کا راز
- انٹرنیٹ کے دشمن ممالک کی فہرست
- ~::A watery paradise in Croatia~::~
- ~::A watery paradise in Croatia~::~
- Different Countries Top View۔۔۔۔!!!
waoo...! beautiful and amazing collection of pics very nice- منجمد دریا میں موجود شاندار دنیا
- دنیا کے چند سب سے خطرناک کھیل
- WO KEHTI HAI SUNO !
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اُٹھا رکھا ہے روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے تم جِسے روٹھا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے چین لینے نہیں دیتے کسی طور مجھے تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے تیرے جانے سے جو اک دھول اُٹھی تھی غم کی ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا دل نے مدت سے جو اک شخص بُھلا رکھا ہے آخری بار جو آیا تھا میرے نام وصی میں نے اُس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے وصی شاہ- بے نام سا یہ درد
A sad story...! keep it up boss bhut ache style mein lehki apne ya story- People sleeping on amazing places…!!!
very very nice collection dear... really neend tu kehin bhi ajati hai.- بے نام سا یہ درد
huum...! kafi sehar angez kehni lehki hai very very nice keep it up- بے نام سا یہ درد
huum.. interesting lagtha hai koie fast past rewind ki story bani hai apne.. keep it up- مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
پاس رہ کر بھي بہت دور ہيں دوست اپنے حالات سے مجبور ہيں دوست ترک الفت بھي نہيں کر سکتے ساتھ دينے سے بھي معذور ہيں دوست گفتگو کے لئے عنواں بھي نہيں بات کرنے پہ بھي مجبور ہيں دوست يہ چراغ اپنے لئيے رہنے دو تير راتيں بھي تو بے نور ہيں دوست سبھي پثرمردہ ہيں محفل ميں شکيب ميں پريشان ہوں رنجور ہيں دوست- مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگي يہ بستيوں کي فضا کيوں دھواں اگلنے لگي اسي لئيے تو ہوا رو پڑی درختوں ميں ابھي ميں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگي اتر کے نائو سے بھي کب سفر تمام ہوا زميں پہ پائو دھرا تو زمين چلنے لگي کسي کا جسم اگر چھو ليا خيال ميں بھي تو پور پور مري مثل شمع جلنے لگي مري نگاہ ميں خواہش کا شائبہ بھي نہ تھا يہ برف سي ترے چہرے پہ کيوں پگھلنے لگي- شہاب نامہ سے ایک اقتباس
مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا"بیت المال کس طرف ہے؟" آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_ میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں- آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں_ قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس- WO KEHTI HAI SUNO !
میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا تیری نگری میں تو پتھر نہیں کھانے والا تو نے دیکھا ہی نہیں ساتھ مرے چل کے کبھی میں ہوں تنہائی کا بھی ساتھ نبھانے والا مجھ کو تم دشتِ تحیر میں نہ چھوڑو تنہا خوف طاری ہے عجب دل کو ڈرانے والا خوف آتا ہے مجھے اپنی ہی تنہائی سے روٹھ جاتا ہے کوئی مجھ کو منانے والا دل وہ شیشہ کہ ترا عکس لیے پھرتا ہے روز آتا ہے کوئی اس کو مٹانے والا اس کی ہر بات سر آنکھوں پہ لیے پھرتا ہوں مجھ کو اچھا بھی تو لگتا ہے رلانے والا اس قدر اجنبی انداز سے کیوں دیکھتا ہے میں وہی ہوں ترا کردار فسانے والا ہر قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھانا اے دل تیرا رہبر تو نہیں راہ بتانے والا چاہے جتنی بھی سفارش کرو اس کی مالک میں تری باتوں میں ہرگز نہیں آنے والا - انٹرنیٹ کے دشمن ممالک کی فہرست
Navigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.