ایک لڑکی غالب کا دل توڑ کر چلی گئ تو غالب نے عرض کیا وہ چلی گئی ہماری شکل پر موت کے چلو اسی بہانے دیدار تو ہوئے اس کی چوت کے ایک لڑکی نے غالب سے لیٹ نائیٹ ملنے کا وعدہ کیا اور بہت انتظار کے بعد لڑکی ملنے پہنچی غالب نے عرض کیا لے جا اپنی چوت کسی اور کو دے دے غالب کو اپنے ہی ہاته سے قرار آ گیا