Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/04/23 in all areas

  1. بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے پروین شاکر
  2. is ka matlab jo tv per ata han , do groupo mein tasdoom is ka matlab police ko sab pata hota hain kon kon mulawis hain>
  3. ڈیر گرو جی! جتنی تعریف کی جائے کم ہے! واقعی انسان بعض اوقات کتنا مجبور ہوتا ہے۔ اور مجبوری میں اٹھایا گیا قدم کس منزل پہ لے جاتا ہے کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ تحریم نے بھی ممتا کی محبت سے مجبور ہو کر ایک قدم اٹھایا تھا اور اگر آذر نے وقت پر پہنچ کر تحریم کی مدد نہ کی ہوتی تو کہانی کا انجام بڑا ہولناک ہوتا۔ اتنے پیارے اختتام پر میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جہاں اور بہت سے سبق اس کہانی سے ملے وہاں ایک سبق یہ بھی ملا ہے کہ واقعی بعض اوقات جذبات سے نہیں بلکہ ہوش و حواس میں رہ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ آخر میں میں آپ کو اتنی بہترین کہانی لکھنے پر نہ صرف یہ کہ اپنی طرف سے بلکہ پورے فورم کی طرف سے بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
  4. بہت ہی عمدہ گرو جی۔۔۔۔ سپیچ لیس اور مائنڈ بلوئنگ تحریر ہے۔۔ ایڈمن سے درخواست کرتا ہوں کہ اس تحریر پر گرو جی کو دو ہزار پوائنٹ دیے جائیں۔
  5. اس نے آنکھیں کھولیں تو تائی امی اس کے اوپر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔ اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تو ہاتھ میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ "یہ کیا کیا بیٹا؟" تائی نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ پاس بیٹھے تایا ابو بھی اٹھ کر اس کی طرف آگئے تھے۔ "مجھے تم سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی تحریم۔ جان سے زیادہ عزیز کیا ہوتا ہے؟ اگر خدانخواستہ تمہیں یا علی کو کچھ ہوجاتا تو ہمارے پاس بچتا ہی کیا۔ اسد پہلے ہی ۔ ۔ ۔ اب ہم میں مزید کوئی غم سہنے کی ہمت نہیں ہے۔" تایا ابو نے اس سے ناراضگی سے کہا تھا۔ اور تحریم نے شرمندگی سے نظریں جھکالی تھیں۔ "میں کیا کرتی تایا ابو! میں نے دے تو دیا تھا موبائل، پیسے سب۔ مگر۔ ۔ ۔مگر میں اسد کی دی ہوئی چوڑیاں کیسے دے دیتی۔ اور تایا ابو یہ سب اس طرح کب تک کرتے رہیں گے۔ یہ بھی تو مسلمان ہیں، یہ بھی تو پاکستانی ہیں۔ پھر اتنا فرق کیسے آگیا ان کی سوچ میں جو اپنے لیے ہر چیز قربان کرسکتے ہیں اور ان میں جو سب بچانے کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیتے ہیں؟" تحریم کو روتے دیکھ کر انہوں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔ "تمہاری بات ٹھیک ہے بیٹا۔ مگر اس طرح اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پتا نہیں ان جیسوں کی کیا مجبوریاں ہیں جو ان سے یہ سب کرواتی ہیں۔ شاید ان کا اللہ پر سے ایمان اٹھ گیا ہے۔ یا شاید محنت کرنے کے بجائے یہ راستہ بہت آسان لگتا ہے۔" انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ اسی وقت آذر، تایا اور چھوٹی تائی کو لے آیا تھا۔ ان دونوں نے بھی تحریم کو اس کی بے وقوفی پر ڈپٹا تھا۔ "میں تمہیں بعد میں ڈانٹوں گا۔ پہلے ذرا ٹھیک ہو لو۔" آذر نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ بھی چڑ گئی تھی۔ "سب مجھے ڈانٹے جارہے ہیں۔ جبکہ میں بہت خوش ہوں کہ میں اس سے ڈری نہیں۔ آپ سب ہی تو کہتے ہیں بہادر بنوں۔ میں بہت بہادر ہوں۔ بالکل اسد کی طرح۔ ایک شہید کی بیوہ کو ڈرنا بھی نہیں چاہیے۔" یہ کہتے کہتے اس نے آنکھیں جھپک جھپک کر اپنے آنسؤوں کو بہت مشکل سے روکا تھا۔ اتنے دن میں اس نے پہلی دفعہ ایسی بات کی تھی۔ مگر شہید کی بیوہ کہنے پر تائی امی بے ساختہ روپڑی تھیں اور باقی سب بھی بالکل خاموش ہوگئے تھے۔ "تائی امی! آپ مت روئیں۔ شہیدوں کی مائیں کب روتی ہیں؟ آپ تو بہت بہادر ہیں۔ اسد تو ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ میری ماں بہت بہادر ہے۔" اس نے اپنے پاس بیٹھی تائی امی کو چپ کراتے ہوئے کہا تھا۔ "کیسے بہادر بنوں میں۔ مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب۔ میں ماں ہوں۔ اور ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کیسے سہہ سکتی ہے۔" انہوں نے بے بسی سے کہا تھا تحریم بھی تھک کر چپ ہوگئی تھی۔ باقی سب بھی افسردگی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ تحریم کو اسی دن ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ گھر آکر بھی ان سب نے بہت دیر تک اسد کی باتیں کی تھیں۔ اور یہ ایک طرح سے سب کے لیے اچھا ہی تھا۔ جس حقیقت سے وہ سب اتنے دنوں سے نظریں چرارہے تھے آج کھل کر رولیے تھے۔ *----------*----------*----------* وہ علی کو سلانے کی کوشش کررہی تھی جب دروازہ ناک ہوا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے تایا کھڑے تھے۔ "تایا ابو آپ؟ آئیں۔ سب خیریت ہے نا؟" سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آنے تک تھکن کی وجہ سے وہ اس کے کمرے میں بہت ہی کم آتے تھے۔ اس لیے انہیں اس وقت وہاں دیکھ کر وہ تھوڑی پریشان ہوگئی تھی۔ "سب خیریت ہے بیٹا۔ ہم بس اپنے علی کو دیکھنے آگئے۔ مگر لگتا ہے یہ تو سورہا ہے" وہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ اور اسے بھی اپنے پاس بٹھالیا تھا۔ "جی ابھی سویا ہے۔" اس نے کہتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ جو سامنے دیکھ رہے تھے جہاں اسد کی تصویر لگی تھی۔ انہیں لگا اسد مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ان کے چہرے پر بھی ایک اداس مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی۔ "بیٹا، اب تو اسد کی برسی بھی ہوچکی۔" انہوں نے بڑی دقت سے بولنا شروع کیا تھا۔ "جانے والے تو چلے جاتے ہیں مگر زندگی ان پر ختم نہیں ہوسکتی۔ میں اور تمہاری تائی نے سوچا ہے کہ اب تمہارے لیے بھی کچھ فیصلہ کیا جائے۔" انہوں نے اپنی بات ابھی ختم نہیں کی تھی کہ تحریم بیچ میں بول پڑی۔ "کیسا فیصلہ تایا ابو؟ اور جانے والے۔ شہید تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تایا ابو۔ وہ ہمارے آس پاس ہیں۔ پھر آپ اس طرح کیوں کہہ رہے ہیں۔" اس نے ناراضگی سے کہا تھا۔ "شہید ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں بیٹا، مگر زندگی کا نام گزرتے رہنا ہے۔ اور اسے گزارنے کے لیے مضبوط سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسد تمہارا مضبوط سہارا تھا۔ مگر اب اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ وہ ہم میں نہیں ہے۔" انہوں نے تمہید باندھی تھی۔ اور تحریم بے بسی سے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ وہ یہ سب سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ اور جیسے تایا اس وقت ان ساری تکلیف دہ حقیقتوں کو اس کے سامنے کھول کر رکھ دینے کا ارادہ کرکے آئے تھے۔ وہی جانتی تھی کہ ان کے منہ سے یہ سب سن کر اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی۔ "تایا ابو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پہلے ماں باپ اور بہن اور اب اسد۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ "بیٹا یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کو ہی آزماتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر کیوں کا کیا سوال؟ وہ ہم سے بہت بہتر جانتا ہے۔ اور اسد کی شہادت تو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔" انہوں نے اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ اور تحریم خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ "اسد نے آذر سے ایک وعدہ لیا تھا۔" انہوں نے گلہ کھنکارتے ہوئے کہا۔ تحریم نے بے ساختہ سر اٹھاکر ان کی طرف دیکھا تھا۔ "ک۔ ۔۔ک کیسا وعدہ تایا ابو؟" اس کی آواز ہلک میں اٹکنے لگی تھی۔ "تحریم اس نے آذر سے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تحریم سے پوچھنا کیا وہ اسد کی آخری خواہش پوری کرنے کو تیار ہے؟" انہوں نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔ اور تحریم منہ ہاتھوں میں چھپا کر روپڑی تھی۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لپٹالیا۔ "بیٹا آذر نے مجھے سب بتایا ہے۔ وہ چاہتا تھا تمہیں کچھ اور وقت دیا جائے۔ مگر آج میں اور تمہاری تائی نے تمہاری شادی کا ذکر کیا تو اس نے کہہ دیا کہ تحریم اسی گھر میں رہے گی۔ جیسے پہلے رہتی تھی، کیونکہ اسد کی بھی یہی خواہش تھی۔" انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے بتایا۔ "تایا ابو کیا میں اسد کی بیوہ، آپ کے بھائی کی بیٹی کے رشتے سے اس گھر میں نہیں رہ سکتی؟" اس نے شکایتی انداز میں کہا تھا۔ "بیٹا یہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم خود سوچو۔ اب تمہاری ذمہ داری ہم پر ہے اور ہماری زندگیوں کا کیا بھروسہ؟ میرے دل پر بہت بوجھ ہے تحریم اور میں تمہارا اور علی کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں۔ شادی تو تمہیں کرنی ہے۔ پھر آذر سے اچھا اوپشن کہاں ملے گا؟ ہماری آنکھوں کے سامنے رہوگے تم دونوں۔ میرے اور تمہاری تائی کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے؟" "مجھے کچھ وقت دیں تایا ابو۔ ابھی تو میں اسد کے غم کو جھیلنا سیکھی ہوں اور آپ لوگ ایک اور مشکل میں ڈال رہے ہیں۔" اس نے بے بسی سے کہا تھا۔ دروازہ کھول کر تائی بھی وہیں آگئی تھیں۔ اور اس رات ان دونوں نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا۔ ان کی باتیں بھی ٹھیک تھیں۔ مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا۔ *----------*----------*----------* "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" ہر بار اسد کی یہ بات اسے بے بس کردیتی تھی۔ اس نے تحریم سے آخری دفعہ مانگا بھی تو کیا۔ تحریم نے تھک کر ڈائری بند کی اور اٹھ کر اسد کی تصویر کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ "اسد میں نے آپ کو پہلے کبھی مایوس کیا تھا جو اب کرتی۔ مگر اسد اس دفعہ آپ نا انصافی کرگئے! مجھ سے اپنی یادوں کے ساتھ جینے کا حق بھی چھین لیا۔ تایا تائی نے جتنا میرے لیے کیا ہے میں صرف ان کی خاطر مانی ہوں۔ مگر اسد آپ نے میرے لیے بہت مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔" تایا تائی نے اسے پورے چھ ماہ کا وقت دیا تھا اور اب چھ ماہ بعد اس کے رضا مندی ظاہر کرنے پر ان لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تائی امی کھڑی تھیں۔ وہ بھی اس کے قریب آگئی تھیں۔ "بہت اچھی لگ رہی ہے ہماری بیٹی۔" پتا نہیں کتنے عرصے بعد اس نے ایسے کپڑے پہنے تھے۔ ورنہ اس نے تو اپنی طرف بالکل توجہ دینا چھوڑ دی تھی۔ یہ سوٹ بھی وہ جاکر لائی تھیں۔ انہوں نے ہلکے کام کے سوٹ میں ملبوس تحریم کو دیکھا۔ اور اس کی پیشانی چوم لی۔ پھر اسد کی تصویر کی طرف اداسی سے دیکھتے ہوئے مسکرائیں تھیں۔ "آج اسد بہت خوش ہوگا تحریم۔ وہ تم سے بہت محبت کرتا تھا۔ اور محبت کرنے والے اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر خود بھی سکون میں نہیں رہتے۔ تم نے اسد اور ہماری خواہش کا احترام کرکے ہمارا مان رکھ لیا۔" انہوں نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔ اور بہت سی دعائیں دیتے ہوئے اسے باہر لے آئی تھیں جہاں چند لوگوں کی موجودگی میں اس کا اور آذر کا نکاح ہوا تھا۔ سب کے سامنے وہ بہت ضبط کرتی رہی۔ مگر کمرے میں آتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ آذر جانتا تھا اس وقت اسے حوصلے کی ضرورت ہے اسی لیے اس کے پیچھے آگیا تھا۔ اپنے کندھے پر دباؤ محسوس کرکے وہ پلٹی اور آذر کو وہاں دیکھ کر گھبراگئی تھی۔ جیسے اسد کی تصویر کے سامنے روتے ہوئے اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔ "تحریم، اسد سے صرف تمہارا رشتہ نہیں تھا۔ ہم سب کے لیے بھی اس صدمے کو برداشت کرنا بہت مشکل عمل تھا۔ مگر زندگی کا نام چلتے رہنا ہے۔ اسد نے جب مجھ سے تمہیں اپنانے کا وعدہ لیا اس وقت میرا ردعمل بھی ایسا ہی تھا۔ مگر میں ایک ایسے انسان کو کیسے نا امید جانے دیتا جس نے ساری زندگی ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا تھا۔ میں تمہیں اور وقت دینا چاہتا تھا۔ مگر کچھ ماہ پہلے جو تم نے بازار میں بے وقوفی کہ تھی اس سے ڈر گیا۔ تمہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی اور ان حالات میں تمہیں کوئی اپنا ہی سمیٹ سکتا تھا" آذر خاموش ہوا تو تحریم بول پڑی تھی۔ "میں جانتی ہوں آپ نے مجبوری میں دوستی کا حق نبھایا ہے مگر اس طرح آپ کی زندگی بھی تو خراب ہوگئی۔" اس نے شرمندگی سے کہتے ہوئے سرجھکا لیا تھا۔ "میری زندگی کیسے خراب ہوئی تحریم؟ شادی تو مجھے کرنی تھی۔ پھر جس کام سے اتنے لوگوں کو خوشیاں ملی ہیں اس سے میں بہت پرسکون ہوگیا ہوں۔ تمہیں یا علی کو کہیں اور جاتے دیکھنا ہم سب کیسے برداشت کرسکتے تھے؟ ہم سب ایک دوسرے کے اتنے عادی ہیں کہ یہ ایک اور بڑا صدمہ بن جاتا۔ اب ہم میں کوئی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے یہ سب کرنے پر کسی نے مجبور کیا ہے۔ میں نے اسد سے وعدہ ضرور کیا تھا مگر تمہیں اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ اپنایا ہے۔ اور اب ہم میں سے کوئی بھی تمہیں روتا ہوا نہ دیکھے۔" اس نے کہتے ہوئے اس کے آنسو صاف کیے تھے اور تحریم ہلکی پھلی ہوکر مسکرادی تھی۔ اسی وقت علی بھی بھاگتا ہوا آیا تو آذر نے اسے گود میں اٹھالیا تھا۔ علی کے پیچھے آتے تایا نے ان تینوں کے مسکراتے چہروں کی طرف دیکھا اور ان کی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی۔ *----------*----------*----------* ختم شد
  6. میں اکثر ماں سے کہتا تھا ماں! دعا کرنا کہ کبھی تیرا یہ بیٹا خاکی وردی پہنے سینے پہ تمغے سجائے مجاہدوں کا سا نور لیے تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو، اور میری ماں میری ماں یہ سن کر ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اُس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے، کہ شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا اس دن کا انتظار کرنا، جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی، اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے اشو کے دریا کا نیلا پانی، اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔ اور پھر اس دن کے بعد، میرا انتظار نہ کرنا، کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر، سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر میری ماں۔ ۔ ۔ آج بھی میرا انتظار کرتی ہے، گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے، میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ خاکی وردی میں جانے والے لوٹ کر کب آتے ہیں؟ میں اکثر ماں سے کہتا تھا یاد رکھنا! اس دھرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تھے، مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ہیں۔ ۔ ۔ میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔ مجھے مٹی میں ملنے والے اس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔ اور میری ماں یہ سن کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا اور دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا میرا وعدہ مت بھلانا، کہ جنگ کے اس میدان میں انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا اور ساری گولیاں سینے پہ کھائے گا اور میری ماں یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا، اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی، اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا، تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟ ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں! ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور میری ماںـ ـ ـ میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ اور دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے سنو۔ ۔ ۔! تم میری ماں سے کہنا وہ رویا نہ کرے ۔ ۔ ۔ Guru g Aaj to aap ne Rula dia Buhat Mushkil se Update perh paya hoon me Khuda ap ko Khush rakhay Hamaisha
  7. سب دوستوں کا شکریہ ،،،،،،،امید ہے کل اینڈ کر دوں گا
  8. گرو جی گرو جی گروجی
  9. ونڈر فل گرو جی! بہت اچھا اپ ڈیٹ دیا ہے۔ اگلے پارٹ کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔
  10. کہانی کا یہ موڑ بھی پسند آیا ... اچھی جا رہی ہے .. اگلی قسط کا انتظار رہے گا
  11. آہستہ آہستہ سب اپنی روٹین میں واپس آگئے تھے۔ گھر میں جو بالکل سناٹا چھایا رہتا تھا اب تایا ابو اور چھوٹے تایا کی وجہ سے اس میں کچھ کمی آگئی تھی۔ وہ دونوں روز شام میں ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے تھے اور یہی کوشش کرتے تھے کہ تحریم اور باقی سب بھی وہیں بیٹھے رہیں۔ تحریم سمجھ رہی تھی کہ یہ سب ان کا دھیان بٹانے کو کیا جارہا ہے۔ ورنہ تایا ابو خود بھی اپنے کمرے کے ہوکر رہ گئے تھے۔ تحریم نے بھی کوشش کرکے زیادہ وقت سب کے ساتھ گزارنا شروع کردیا تھا۔ وہ بولتی تو پہلے بھی کم تھی مگر پھر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں سے تائی امی اور تایا ابو کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی تھی۔ آذر بھی آج واپس آرہا تھا جس کی وجہ سے تائی امی اور چھوٹی تائی دونوں کچن میں پتا نہیں کیا کیا پکانے میں مصروف تھیں۔ وہ دونوں ہمشیہ ہی اسد یا آذر کے آنے پر بہت احتمام کرتی تھیں۔ آج بہت دن بعد گھر میں زندگی کا احساس جاگا تھا۔ *----------*----------*----------* آذر کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے باہر آگیا تھا۔ بات کرتے کرتے اس کی نطر لان کی طرف پڑی تو تحریم لان چیئر ہر بیٹھی پتا نہیں ڈوبتے سورج میں کیا تلاش کررہی تھی۔ قریب ہی علی اس کا ہاتھ ہلا ہلا کر دور چلی جانے والی بال مانگ رہا تھا۔ مگر وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔ آذر بھی فون بند کرکے وہیں آگیا۔ "کیا ہورہا ہے؟" ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اس نے علی کو گود میں اٹھا کر اچھالا تھا۔ اس کی آواز پر تحریم بھی چونک کر ان دونوں کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ "کچھ نہیں، یہ اندر تنگ کررہا تھا تو باہر لے آئی۔" تحریم نے جواب دیا اور پھر اپنے کسی خیال میں گم ہوجاتی کہ آذر بولا تھا۔ "باہر تو لے آئیں مگر بچے کو ٹائم دینے کے بجائے اپنے خیالوں میں گم ہیں محترمہ۔" وہ بھی وہیں سامنے والی چیئر پر بیٹھ گیا اور علی کو اپنی گود میں بٹھالیا تھا۔ جو اب اس کے پاکٹ کی تلاشیاں لینے میں مصروف ہوچکا تھا۔ "تحریم تائی کہہ رہی تھیں کچھ شاپنگ کرنی ہے تمہیں علی کے لیے۔ آج چلو پھر میں کچھ دن تک مصروف ہوں۔ تایا ابو اور بابا کا تمہیں پتا ہے بازار کے نام سے ہی کتنا چڑتے ہیں۔" "جی لینی تو ہیں، مگر آپ کل ہی تو آئے ہیں۔ چھوڑیں میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گی کسی دن۔" یہ بات کرتے وقت بھی اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔ آذر کو اندازہ تھا کہ اسد ہمیشہ ان لوگوں کو شاپنگ کروا کر جایا کرتا تھا تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور اس وقت تحریم کو وہی بات افسردہ کر گئی تھی۔ چھوٹی تائی بھی وہیں آگئی تھیں اور تحریم کی بات بھی سن چکی تھیں۔ "چلی جاؤ تحریم، علی بھی باہر نکلے گا تو خوش ہوجائے گا۔" انہوں نے علی کو پیار کرتے ہوئے کہا۔ اس نے علی کی طرف دیکھا۔ واقعی وہ کتنے دن سے اس کے ساتھ باہر نہیں نکلی تھی۔ آذر ہی لے جاتا تھا اور اس کی غیر موجودگی میں تحریم کا بھی دھیان نہیں گیا۔ اسی لیے علی بھی چڑچڑا ہورہا تھا۔ یہی سوچ کر وہ جانے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔ *----------*----------*----------* تحریم کو زیادہ چیزیں نہیں چاہیے تھیں۔ وہ لوگ جلد ہی فارغ ہوگئے تھے۔ "اچھا تم علی کو لے کر گاڑی میں بیٹھو میں پانچ منٹ میں آیا۔" آذر نے کہتے ہوئے اسے گاڑی کی چابیاں پکڑائیں اور خود سامنے والی بیکری میں گھس گیا۔ تحریم علی کو لیے گاڑی کی طرف آگئی تھی۔ اسی وقت اس کا موبائل بجنے لگا۔ تائی امی ان کی واپسی کا پوچھ رہی تھیں۔ وہ ان سے بات کرتے ہوئے علی کو گاڑی میں بٹھانے لگی تھی کہ اسی وقت کسی نے اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فون چھینا تھا۔ اور ہاتھوں میں پہنی گولڈ کی دو چوڑیاں اتارنے کا کہا۔ تحریم نے علی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑلیا تھا۔ اور گاڑی سے لگ کر کھڑی تھی۔ "دیکھو موبائل لے لیا نا تم نے اور یہ پیسے بھی لے لو" اس نے اپنا پرس بھی اسے دیتے ہوئے کہا۔ "مگر میں چوڑیاں نہیں دوں گی۔ یہ اسد نے دی تھیں مجھے۔ میں۔ ۔ ۔میں یہ نہیں دوں گی۔" اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔ "جلدی کرو۔۔۔زیادہ بکواس نہیں۔ اتار کر دو چوڑیاں ورنہ میں گولی ماردوں گا اسے۔" اس نے علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہا۔ "تم۔ ۔ ۔تم گولی مارو گے میرے بیٹے کو۔" وہ یہ کہتے ہوئے چیخ پڑی تھی۔ "تم سب نے۔ ۔ ۔تم سب نے کیا سمجھ لیا ہے؟ میں بس دیکھتی رہوں گی۔ اور تم سب مارتے رہو گے میرے اپنوں کو۔ ۔ ۔ اسد نے۔۔۔ اسد نے تم جیسوں کے لیے جان نہیں دی! میں۔ ۔ ۔میرا اسد اس لیے شہید نہیں ہوا کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے جان دے اور تم جیسے بے ضمیر لوگ اسے لوٹتے کھسوٹتے رہیں۔ میں تمہیں ماردوں گی۔ میں تم جیسوں کو ماردوں گی۔" تحریم اس وقت بالکل ہوش و حواس میں نہیں تھی۔ ورنہ اتنا بڑا خطرہ مول نہ لیتی۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو جھنجوڑا تھا پھر تھپڑ پر تھپڑ مارنے شروع کردیے تھے۔ اور وہ شاید اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ پہلے تو گھبرایا پھر اسے وارننگ دیتے ہوئے اس نے گولی چلادی تھی۔ اور اپنے ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چند ہی سیکنڈز میں وہاں سے جاچکا تھا۔ گولی کی آواز اور شور سن کر آذر نے باہر جھانکا اور سب کچھ وہیں چھوڑ کر باہر کی طرف بھاگا تھا۔ جہاں علی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے رورہا تھا اور تحریم گاڑی کے پاس بیٹھی اپنے ہاتھ سے بہتے خون کو بند ہوتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ "اوہ مائی گاڈ۔ تحریم یہ سب کیا ہوا؟" آذر بھی گھبراگیا تھا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر علی کو بٹھایا اور تحریم کو دیکھا جو تکلیف کی شدت سے بار بار اپنی آنکھیں میچ رہی تھی۔ آس پاس بہت سے لوگ جمع ہوگئے تھے مگر کسی نے کسی بھی قسم کی مدد کرنے کی پیشکش نہیں کی۔ بلکہ اپنی چہ مگوئیوں میں مگن رہے کہ لڑکی کی بے وقوفی تھی، دے دیتی جو مانگ رہے تھے، زندگی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ اور بھی پتا نہیں کون کون سے جملے آذر کے کانوں میں پڑے تھے۔ اس نے تحریم اور علی کو بٹھا کر گاڑی فل اسپیڈ سے ہاسپٹل کی طرف دوڑا دی تھی۔ اس وقت وہ صرف تحریم کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔ *جاری ہے----------*----------*----------*
  12. بس یوں سمجھ لیجیے گرو جی! کہ آپ کی کہانی کا تسلسل ایسا قائم ہے کہ بے چینی سے اگلے حصہ کا انتظار رہتا ہے۔ گو کہ کہانی بڑی آہستگی سے آگے بڑھ رہی ہے مگر لگتا یہ ہے کہ یہ اس کہانی کی ڈیمانڈ ہے بہت اچھے طریقہ سے لکھی گئی ایک عمدہ تحریر ہے۔
  13. بہت ہی عمدہ جناب۔۔۔ آپ کو اس پہ داد دیتا ہوں۔۔۔ آپ میں سے کوئی اگر لاہور کا ہے تو کیا اس نے آرمی سلیکشن سنٹر دیکھا ہے شامی روڈ پہ؟
  14. گرو جی کہانی بہت اچھی لکھ رہے ہیں اپ یہ والی اپڈیٹ پڑ کر تو میری آنکھوں میں بھی آنسو آگے. ایک خوبصورت ذہن کی ایک خوبصورت تحریر ہے. مزید کا انتظار ہے
  15. Buhat Buhat Khoob Guru G Really Very Nice UpDate Janb... Very Nice Story G...... Thanks And Keep IT Upp Update Ka Intazar Rahe ga
  16. دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں ڈھلنے لگے۔ سب کو دکھانے کے لیے تحریم نے اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا۔ تایا تائی کے لیے بھی یہ بہت بڑا صدمہ تھا اور وہ ان کے سامنے رو کر انہیں اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے سب کے سامنے رونا چھوڑدیا تھا مگر اس کی جامد چپ اب بھی نہ ٹوٹی تھی۔ تایا ابو اور چھوٹے تایا بھی ریٹائرڈ آرمی افسر تھے اس لیے ان کا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرتا تھا۔ تحریم ان دونوں کے سب سے چھوٹے بھائی کی بیٹی تھی۔ اس سے بڑی بہن اور ماں باپ ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ خوش قسمتی سے تحریم زخمی ہونے کے باجود بچ گئی تھی اور گیارہ سالہ تحریم کو تائی امی نے اسی دن اپنی بیٹی بنالیا تھا کہ ان کا صرف ایک بیٹا اسد ہی تھا۔ چھوٹی تائی کا بڑا بیٹا آذر، اسد کی عمر کا ہی تھا اور اس سے چھوٹی بیٹی تحریم کے برابر کی تھی۔ تحریم کو ان سب سے اتنی محبت ملی تھی کہ ماں باپ اور بہن کے چھن جانے کا دکھ بہت حد تک کم ہوگیا تھا۔ مگر اب اسد کی جدائی نے جیسے اسے ایک بار پھر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ گھر میں ہر وقت سناٹا چھایا رہتا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا یہاں کوئی رہتا بھی ہے۔ تحریم اپنے خیالوں میں گم اور تائی امی بھی چپ چاپ کسی نا کسی کام میں لگی رہتی تھیں۔ مگر ہر دفعہ فون کی اور گھر کی بیل بجنے پر وہ چونک کر دیکھا کرتی تھیں اور ہر دفعہ مایوسی سے پھر اپنے کام میں مگن ہوجاتی تھیں۔ پتہ نہیں انہیں اب کس کا انتظار تھا۔ شروع شروع میں آذر نے کوشش کرکے چھٹیاں لے لی تھیں تاکہ وہ سب بالکل تنہا نہ رہ جائیں۔ تب پھر بھی آذر سب کو باتوں میں لگائے رکھتا تھا۔ علی کو بھی باہر گھما لاتا تھا مگر پچھلے ماہ اس کی پوسٹنگ بھی دوسرے شہر ہوگئی تھی۔ تب سے گھر میں خاموشی چھائی رہتی تھی۔ جانے سے ایک دن پہلے آذر کچن کے سامنے سے گزرتا ہوا وہیں رک گیا تھا۔ تحریم کچن میں کھڑی علی کے لیے کچھ بنارہی تھی اور ساتھ ساتھ آنسو بھی بہہ رہے تھے۔ "تحریم تمہاری ایک امانت ہے میرے پاس۔ میں لے کر آتا ہوں۔" اس نے بغیر کسی تمہید کے کچن کے دروازے کے پاس رک کر کہا تھا اور اہنے کمرے میں چلاگیا۔ تحریم یہی سوچتی رہی کہ اس کی کونسی امانت؟ چند منٹ بعد آذر ہاتھ میں ایک ڈائری لیے واپس آیا تھا۔ "میں اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ یہ تمہیں دوں۔ مگر تمہاری کنڈیشن ایسی نہیں تھی اور میری بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ اب اتنے دن گزر چکے ہیں۔ اپنے آپ کو سنبھالو تحریم، اپنا نہیں تو علی کا ہی سوچو۔ وہ مسلسل اگنور ہونے کی وجہ سے بہت چڑچڑا ہوگیا ہے۔" آذر نے ڈائری تحریم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ "یہ کیا ہے؟" اس نے نا سمجھی سے ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ "اسد کی ڈائری ہے۔ وہ جب سے وزیرستان آیا تھا روز اس میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا تھا۔ اور آخری دن۔" آذر کو اپنی بات جاری رکھنا مشکل لگ رہا تھا۔ "آخری دن اسد نے اس میں لکھنے کے بعد مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ یہ مجھے تم تک پہنچانی ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ اس میں کیا لکھا کرتا تھا۔ اور نہ ہی میں ابھی تمہیں دینا چاہتا تھا۔ مگر اسد سے کیے ہوئے وعدے نے مجبور کردیا۔" اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔ تحریم نے خاموشی سے ڈائری پر ہاتھ پھیرا اور اس پر گرے اپنے آنسو کو دوپٹے کے کونے سے صاف کرنے لگی۔ "اب سنو۔ یہ میں نے دے تو دی ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کہ تم دن رات رو رو کر اپنی طبیعت پھر خراب کرلو۔ میں اسی لیے ابھی نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ بہادر بنو تحریم، اگر تم ہی ہمت ہار دو گی تو سوچو تایا تائی کا کیا ہوگا۔" اس نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا اور وہ خاموشی سے بیٹھی سنتی رہی تھی۔ *----------*----------*----------* اس نے کمرے میں آتے ہی ڈائری کھولی تھی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ پہلے صفحے پر نظر دوڑائی اور پڑھتی چلی گئی۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا ماں! دعا کرنا کہ کبھی تیرا یہ بیٹا خاکی وردی پہنے سینے پہ تمغے سجائے مجاہدوں کا سا نور لیے تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو، اور میری ماں میری ماں یہ سن کر ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اُس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے، کہ شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا اس دن کا انتظار کرنا، جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی، اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے اشو کے دریا کا نیلا پانی، اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔ اور پھر اس دن کے بعد، میرا انتظار نہ کرنا، کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر، سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر میری ماں۔ ۔ ۔ آج بھی میرا انتظار کرتی ہے، گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے، میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ خاکی وردی میں جانے والے لوٹ کر کب آتے ہیں؟ میں اکثر ماں سے کہتا تھا یاد رکھنا! اس دھرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تھے، مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ہیں۔ ۔ ۔ میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔ مجھے مٹی میں ملنے والے اس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔ اور میری ماں یہ سن کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا اور دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا میرا وعدہ مت بھلانا، کہ جنگ کے اس میدان میں انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا اور ساری گولیاں سینے پہ کھائے گا اور میری ماں یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا، اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی، اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا، تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟ ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں! ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور میری ماںـ ـ ـ میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ اور دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے سنو۔ ۔ ۔! تم میری ماں سے کہنا وہ رویا نہ کرے ۔ ۔ ۔ آنسؤوں نے سب کچھ اتنا دھندلا کردیا تھا کہ بہت دیر تک اس سے آگے تحریم سے کچھ پڑھا ہی نہیں گیا۔ اسے لگا کہ وہ بہت خودغرض ہے۔ اب تک صرف اپنے غم اور اپنی تکلیف کا سوچتی رہی۔ تائی امی اور تایا ابو کے چہروں پر چھائی اداسی اسے نظر کیوں نہ آئی؟ غم تو سب کا برابر تھا۔ دکھ تو سب جھیل رہے تھے پھر سب اس کی دل جوئی میں کیوں لگے ہیں؟ تائی کی آنکھوں میں بھی تو ہر وقت آنسو چمکا کرتے تھے۔ وہ اب بھی قیمہ نہیں پکاتی تھیں، اسد کو پسند جو نہیں تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اب بھی آٹھ پلیٹیں رکھتی تھیں اور ہمیشہ ایک خالی کرسی کے آگے ایک پلیٹ رکھی ہوتی تھی۔ تحریم نے ایک دو دفعہ نوٹ کیا مگر اس کے اپنے اندر بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ ٹیبل پر اسد کی جگہ پلیٹ نہ رکھے۔ وہ خود غیر محسوس طور پر کھانا نکالنے کے بعد اپنے برابر والے کے آگے رکھ دیتی تھی۔ جہاں کتنے ہی دن سے کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ وہ دونوں غیر محسوس طریقے سے اسد کی جدائی کو ماننا نہیں چاہتی تھیں۔ گھر کے باقی افراد نے بھی یہ محسوس کیا تھا۔ مگر شاید وقت کے ساتھ اس غم کے مدھم ہوجانے کا انتظار کررہے تھے۔ مگر کب تک؟ تحریم کو لگا کہ وہ اتنے مہینوں سے صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔ لیکن اب اسے سب کا سوچنا تھا۔ اسد نے اس سے بھی تو کتنی دفعہ سب کا خیال رکھنے کا وعدہ لیا تھا۔ وہ پوری رات تحریم نے ڈائری پڑھتے گزاری تھی۔ ہر لفظ کو پڑھتے وہ بارہا تڑپی تھی۔ جب آنسو پونچھتے نظر اٹھاتی سامنے ہی اسد کی تصویر پر نظر پڑتی۔ اسے لگتا وہ اس کے سامنے کھڑا یہ سب کہہ رہا تھا۔ اور وہ پھر پڑھنے لگتی۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے اس کے آنسو تھم گئے تھے۔ آخری سطریں اس نے ایک، دو۔ ۔ ۔بے شمار بار پڑھیں اور بے یقینی سے اگلا صفحہ پلٹا جہاں بس اتنا لکھا تھا۔ "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" جاری ہے*----------*----------*----------*
  17. Main nay lun ke topi gand main dale to wo nehe gaye.Phir main nay lun pur lotion lagaya.Our doobara kishsih ke, ufff thora sa lun gand main gaya or us nay cheek marae, main mur gaye shazi.Main nay keha main bahir nikellon us nay keha nehe plz poora kurro.Main nay keha eik he jhtekay main dall doon.Wo kehny lage gee.Maujy itne durd do kay main aap ko kabi be bhula na shukkon. Phir main nay lun thoorra sa bahir nikela our eik bhoorpor jhetka mara our mera lun us ke kunware tihgt gand ko pharta howa poora unsed gayeb ho gaya. Mujay youn feel hoowaa us ka sans ruk gaya hay.Lakin wo durd day roo rhe the.Main nay keha aab main gand choodnay laga hoon us nay ok ka signal diya our aab main nay us ke gand marne shurro ke , wo zoor zoor ke chekain mar rehe thee.After 4,5 mints mera pani nikel gaya our condom say ful ho gaya.Mai nay lun bahir nikela to wo bed pur gir pare.Main nay dekha us ke gand sooj gaye the.Wo bohat khush dekhaye day rehe the.Phir koie 15 mint kay baad main nay us ko doobara puker liya our kissing start ke, aab main us ke kunwaare choot be pharnay wala tha. Us ko acche teran garam kurnay kay baad main nay us ke kamar kay neecy pillow rekha our us ke legs khool dee.Us nay mere eye main dekha our phir aankhain bund kur lee jiis ka mutlab tha phar do mere choot be. Abb main nay us ke choot kay hole pur lun pur doobaraa 2 new condoms churha kur rekha our begair lotion kay dalnay ke koshish ke, lun us ke choot main nehe ja reha tha.Phir us ke choot pur thoora sa lotion lagaya our main nay aab us ke choot main lun dalna shurro kia.Abe eik inch he gaya tha kay us nay aankhain open kee our ceek marnae shurro ke, Us ko bohat durd ho rehe the, main thori dar ruka our phir us say poocha eik he jhatka main phar donn choot ya slow,Us nay phir keha jis say bohat zayada maza aya , main nay keha kay eik he ghetkay main choot main janay say durd be bohat hota hay lakin maza be bohat aata hay. Phiir us kay lips pur lips rekha our thoora sa lun bahir nikela our ummmmmmmmmmmm eik zoor ka powerful jhatka.Us ke choot phat chukee the kiyon k wo meray neechay eik begair pane kay fish ke teran muchel rehe thee.Jub wo mentally settle hoie to aab us ke choot ke chudai shurro ke, ufff kia tihgt choot the us ke. Main nay us ke choot marta reha our koie 3 mint kay baad us nay choot ko discharge kia. main nay apne speed our teez kee our kuch deer baad mera be pani nukel gaya.Main us kay uppe he gir gaya. Wo aankhain bund kur kay late rehe .After 5 mints jub main uta to bed sheet pur blood be tha our us ka pani be. Main na us ko bahot kisses ki aor apnay ghar wapas chala aaya is tarh main usay jab bhi maoka milta main usy khoob chodta tha.us k bad us ki aik sahaile aanti komain na us k ghar ja kar khoob choda Agar Rawalpindi ya Islamabad ya Faisalabad ki koi larki ya aanti mujh se chudwana chahay to is email pa rabta karay shazi4rawalpindi@gmail.com ya mere kahani k baray main comments daina chahay to mukammal k raazdari k sath mujh se rabta kar sakti hai, mera Email address ye hai: shazi4rawalpindi@gmail.com mujh se is Email pa rabta kar k aap chudwa sakti haon kiray daar aay thay, aik haftay bd jb main apnay hostal se apnay college k liya jar aha tha to main na us ghar se aik bahot khoobsurat larki ko nikltay daikha, wo bahot hi khoobsurat larki thi,goray rang aor jisam aik dam bahot sexy tha,main jb rozana college k liya niklta wo bhi apnay college k liya niklti thi, aik 2 haftay main main usay isharo kinayon main phansa chukka tha, aik din main na himmat

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.