Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 18/03/23 in all areas

  1. آپ کی رقم آپ کو واپس کر دی گئی ہے ۔ کیونکہ آپ کلاؤڈ پریمیم ممبر نہیں ہیں ۔ کسی بھی پیڈ ناول کی خریداری کے لیئے کلاؤڈ پریمیم ممبر ہونا ضروری ہے۔
  2. میں نے اس سٹوری کی اگلی قسط خریدی مگر مجھے اگلی قسط نظر ہی نہیں آرہی ہے
  3. 1 like
    ویلکم خوش آمدید جی آیاں نوں پخیر راغلے ھر کلہ راشہ
  4. بلکل سہی فرمایا آپ نے شائستہ والا سین مس ہو گیا ہے
  5. رات کے دس بج رہے تھے تھے میں اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھا اپنی چاۓ آنے کا ویٹ کر رہا تھا اتنے میں کہ مجھے کچن کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چاچا کریم میری چائے ہاتھ میں لئے میرے پاس آ رہا تھا صاحب یہ آپ کی چائے چاچا نے مجھے چائے دیتے ہوئے کہا ارے چاچا کتنی بار کہا ہے مجھے صاحب نہ کہا کرو بیٹا کیا کروں عادت سی ہو گئی ہے (چاچا کریم میرے پاس پچھلے پانچ سال سے رہہ رہا تھا تھا ایک دن میں یوں ہی اپنے آفس سے جب واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے دروازے کے پاس ایک بوڑھا بیٹھا ہوا ہے میں اپنی گاڑی سے نیچے اترا جی بابا جی کون ہو اور کس سے ملنا ہے بیٹا مجھے ملنا کسی سے نہیں ہے بس نوکری کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہا ہوں ہو چاہئیے کچھ نہیں بس دو وقت کا کھانا اور بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے ایک چھت تب سے چاچا کریم میرے پاس رہہ رہا ہے) میں چائے پی رہا تھا چاچا کریم میرے سامنے نیچے قالین پر بیٹھ گیا کیا ارے چاچا اوپر آ کے بیٹھیے میں نے چائے اسٹول پر رکھ کرکریم کی طرف متوجہ ہوکر ان سے کہا اور ان کو پکڑ کر اپنے بغل میں پڑے صوفے پر بٹھا دیا میں چائے پیتے پیتے چاچا کریم سے باتیں کرنے لگا اچانک چاچا کریم نے کہا بیٹا میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم کبھی کبھی گہری سوچوں میں گم ہوتے ہو ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں میں نے چائے پیتے ہوئے چاچا کریم کو جواب دیا نہیں بیٹا کوئی تو بات ہے میں پچھلے پانچ سال سے تمہیں دیکھ رہا ہوں اتنا تو اندازہ مجھے ہوگیا ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں نے چا چا کو جواب دیا کیا دیکھو بیٹا کوئی تو بات ہے اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتے ہوئےجواب دیا تو چلو شاباش بتاؤ کیا بات ہے؟ کریم نے مجھے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو چلو چاچا لے چلتا ہوں میں آج آپ کو اپنے ماضی کے ان حسین وادیوں میں جہاں میں کبھی گرا کبھی اٹھا کبھی رویا کبھی ہنسا کبھی پھولوں پر چلا تو کبھی کانٹوں پر چلا
  6. اپڈیٹ 8 میں نے چونک کر دیکھا تو موبائل کی لائٹ آن تھی شاید کسی کی مس کال یا میسج آیا تھا خیر میں نے اس وقت میسج پڑھنا ضروری نہیں سمجھا اور بیگم کی بازو پر سر رکھ کے کمبل اوڑھ کے سو گیا صبح تقریبا میری آنکھ سات بجے بیگم کے اٹھانے سے کھلی اٹھ جائے آفس نہیں جانا آپ نے بیگم نے مجھے زور سے ہلا کر کہا میں نے نیند کی حالت میں کہا کیا ہے جانی سونے دو نا، بیگم جو ڈریسنگ ٹیبل پر کھڑی آپنے بال ٹھیک کر رہی تھی پیچھے مڑ کر کہا سونا نہیں ہے جائیے آفس میں نے ناشتہ تیار کر دیا ہے اور عمران اور میں جا رہے ہیں جلدی اٹھ کے آپ چلے جائیے گا افس یہ کہہ کر بیگم چلی گئی پھر میں نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھا ابھی اٹھا کے موبائل پہ بیل ہوئی میں نے اٹھا کر دیکھا تو طارق کی کال تھی میں نے سوچا اتنی صبح خیریت تو ہے پھر میں نے کال اٹھائی سلام دعا کے بعد طارق نے کہا ابے تو آرہا ہے یا میں چلا جاؤں میں نے نہ سمجھتے ہوئے کہاں چلا جاؤں اس بار طارق نے کہا کیا مطلب تو نے میرا میسج نہیں پڑھا کونسا میسج میں نے طارق سے سوال کیا ابے رات کو جو بھیجا تھا تجھے طارق نے الجھ کر کہا، اس پر میں نے جواب دیا ارے یار میں سو رہا تھا بتا کیا بات ہے، یار بڑی بری خبر ہے باس کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے طارق نے افسردگی سے کہا میں۔او ہو آلل۔۔۔۔ پاک مغفرت فرمائیں طارق۔ ہاں اب تو بتا رہا ہے یا نہیں میں۔کیسی بات کر رہا ہے آ رہا ہوں نا بس میں ناشتہ کر لوں پھر نکلتے ہیں خیر میں نے ناشتہ کرکے بیگم کو کال کیا اور اور ساری بات بتائی اور کہا کے اگر رات لیٹ ہو جاؤں تو میرا انتظار مت کرنا کھانا کھا لینا کیوں کے مجھے طارق کے ساتھ اسلام آباد باس کے گھر جانا تھا خیر گھر سے میں سیدھا چاچا کریم کو بتا کے تارے کے پاس چلا گیا اور وہاں سے ہم دونوں سیدھا اسلام آباد کے لیے نکل گئے دوستو اس پیج کو کچھ خاص نہ ہوا جو لکھنے لائک ہو خیر میری واپسی تقریبا رات کو ایک بجے ہوئی میں نے ہارن دیا تو چوکیدار نے دروازہ کھول دیا میں گاڑی کو گیراج میں کھڑا کر کے اندر چلا گیا اندر گیا تو بیگم ایک کرسی پر بیٹھی کوئی ناول پڑھ رہی تھی مجھے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور کہا اتنی دیر کر دی آپ نے میں نے جواب دیا جانی تمہیں پتا تو ہے لاہور کی ٹریفک کا پھر ہم لوگ اپنے کمرے میں پہنچے تو میں نے کہا جانی پلیز ایک کپ چائے تو لادو سر میں بڑا درد ہو رہا ہے بیگم چاہیے لینے چلی گئی اور میں باتھ روم میں گھس گیا فریش ہونے کے لیے تقریبا دس منٹ بعد میں باہر نکلا تو بیگم چائے لیے کھڑی تھی میں اپنی کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے لگا اور بیگم بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور مجھ سے سفر کے بارے میں پوچھنے لگی یوں ہی ہماری باتیں ہوتی رہیں اور میں کب ایک سائیڈ پر رکھ کر بیڈ پر چڑھ گیا اور بیگم کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گیا بیگم نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر نی شروع کر دی دیںاج بیگم مجھے کچھ چپ چپ سی لگ رہی تھی میں۔کیا ہوا بیگم آج بڑی چپ چپ ہو بیگم۔نئی ایسی تو کوئی بات نہیں بس ویسے ہی میں۔نئی بیگم کوئی تو بات ہے جو تم بتانا نہیں چاہتے خیر پھر تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی چھا گئی پھر ایک دم سے میرے دماغ میں جھماکا ہوا میں۔اچھا تو یہ بات ہے بیگم۔جب آپ کو پتا ہے تو کیوں نہیں میری بات مانتے میں۔دیکھو یار میں نے ان کو دل و جان سے معاف کر دیا ہے اگر ان کو نہیں لگتا تو میں کیا کروں بیگم۔اگر معاف کر بھی دیا ہے تو آپ بت کیوں نہیں کرتے ان سے ہاںاس بار بھی وہ بیچارے میرے سامنے رو رہے تھے میں۔(سر جھٹک کر)ہںں۔۔۔بیچارے بیگم۔دیکھیں پلیز وہ اپنے کیے کی سزا بھگت چکے ہیں پورے دس سال ہو گئے ہیں آپ ان سے ملنے نہیں گئے وہ ہر بار مجھ سے پوچھتے ہیں میں۔کیا ہوا اگر میں نہیں گیا تو وہ تو آ سکتے تھے بیگم۔یہی بات تو آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ وہ بیچارے شرمندہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا دیکھیں اگلے مہینے رضوان کی سالگرہ آ رہی ہے آپ میرے ساتھ چلیں گے اور آصف بھائی کو سرپرایز دیں گے جی ہاں یہاں میرے بڑے بھائی آصف علی کی بات ہو رہی ہے اب انہوں نے کیا کیا وو آہستہ آہستہ بتا چل جائے گا میں۔یعنی اب تم مجھے لے کے ہی جاو گی وہاں بیگم۔پلیز زین میں نے کبھی آپسے کچھ نہیں مانگا پلیز نہ مت کیجیے گا میں۔( کچھ دیر سوچ کر)اچھا میری جان جیسے تمھاری مرضی خوش بیگم۔مجھے زور سے گلے لگا کر تھینک یو سو مچ زین آ لو یو میں۔آ لو یو ٹو میری جان خیر پھر ہم نے تھوڑی دیر باتیں کی پھر سو گئے کیوں کے آج میں کافی تھکا ہوا تھا اس لیے کوئی مستی وغیرہ نہیں کی
  7. اپڈیٹ 7 امی اپنی چارپائی پے لیٹی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی میں امی کی ٹانگیں اپنی گود میں رکھے ان کے پاؤں دبا رہا تھا امی نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا ان کے چہرے پر پریشانی ہی پریشانی تھی میں۔ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں امی؟ امی۔دیکھ رہی ہوں کہ میرا بیٹا بڑا ہو گیا ہے سوچ رہی ہوں تیری شادی کر دوں مجھے ایک دم چاچا کی بات یاد آئی میں۔ امی وہ چاچا کہ رہے تھے کہ انہوں نے میرے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے امی۔(تھوڑی دیر بعد جواب دیا)بیٹا فیصلہ انہوں نے نہیں میں نے کیا ہے میں۔تعجب سے کیسا فیصلہ امی۔بیٹا میری بات غور سے سنو تمھاری خالا کا۔۔۔۔۔۔ in present مجھے اور چاچا کریم کو دروازے کی بیل نے جگایا میں ایک دم چونک گیا دوستو میں ابھی اپنی وائف کا نام نہیں بتاؤں گا آگے جا کہ آپ کو خود پتا چل جائے گا اس کی جگہ میں بیگم ہی لکھوں میں۔چاچا کریم لگتا ہے بیگم آ گئی ہے چاچا کریم۔جی مجھے بھی یہی لگتا ہے اتنے میں دوبارہ بیل ہوئی اور چاچا کریم اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا میں نے ٹائم دیکھا تو بارہ بجنے والے تھے بیگم۔ ایک گھنٹے سے بیل بجا رہی ہوں کہاں تھے آپ دونوں؟ یہ عمران(میرا بیٹا) دوڑ کر میرے گلے لگ گیا میں۔میری جان مس کیا اپنے پاپا کو عمران میرا بیٹا تھا پہلے میری ایک بیٹی ہوئی تھی لیکن لیکن وہ ایک مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہہ سکی اس کے بعد عمران پیدا ہوا وہ ابھی سات سال کا تھا بیگم۔مس کیا مت پوچھیے جب سے گئی تھی یہی پوچھ رہا تھا ماما پاپا کے پاس واپس کب جائیں گے میں۔(عمران کے گال کو چوم کر)میرا پارا بیٹا پاپا کی جان جاؤ سو جاو اپنے کمرے میں بہت ٹائم ہو گیا ہے چاچا کریم جائیں عمران کو سلا دیں اور دودھ لازمی پلائیے گا عمران چاچا کریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا اور میں اور بیگم اپنے کمرے میں آگئے بیگم کمرے میں آتے ہی باتھ روم میں گھسا گئی اور پندرہ منٹ بعد نکلی میں بیڈ پے لیٹی چکا تھا بیگم آئی اور دوسری طرف میرے ساتھ لیٹ گئی میں۔ہاں جان سنائو کیا حال ہے کیسے گزرے دن میرے بغیر کیا حال ہے وہاں سب کا؟ بیگم۔ ایک دم فرسٹ کلاس میں۔کیوں میری یاد نہیں آئی تمہیں بیگم۔بلکل بھی نہیں میں۔(اٹھ کہ بیگم کہ اوپر بیٹھ گیا لیکن میں نے اس پر وزن نہیں ڈالا) ابھی بتاتا ہوں یہ کہ کر میں نے اپنے تپتے ہوے ہونٹ بیگم کے ہونٹوں پر رکھ دئیے اور بیگم کے ہونٹ چوسنے لگا وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی تقریبا ایک آدھ منٹ تک کسنک کے بعد میں نے منہ اوپر کیا اور بیگم کی ناک کے ساتھ ناک رگڑتے ہوئے کہا میں۔ ہاں اب بتائو یاد آئی کہ نہیں بیگم نے پیار سے میرے ہونٹوں پے ایک بوسہ دیا اور کہا بیگم۔زین آپ کو پتہ ہے میں زیادہ دن آپ سے دور نہیں رہ سکتی یہ کہ کر بیگم نے اپنے ہونٹ میرے ساتھ جوڑ دیوار کسنک کرنے لگی میں بھی بیگم کا ساتھ دینے لگا تھوڑی دیر بعد میں نے ہونٹوں کو چھوڑا اور بیگم کی نیک پر کسنک کرنے لگا یہ میری بیگم کا وییک پوائنٹ تھا بیگم کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی میں نے ایک ہاتھ میں بیگم کا ممہ لیا اور زور زور سے دبانے لگا بیگم کی ہلکی سی چیخ ماری بیگم۔اھھھھھھھ۔۔۔۔۔ زین میری جان تمھارے ہی ہیں آرام آرام سے دباؤ میں نے ہلکے ہلکے دبانے لگا اتنے میں بیگم کا ہاتھ نیچے کی طرف کھسکا اور میرا ناڑا کھولنے لگا میں ایک دم اٹھا اور اپنے سارے کپڑے اتار کے بیگم کے کپڑے بھی اتار دیے اور ایک دوسرے چمٹ گئے جیسے ہی بیگم کا ننگا میرے ننگے جسم کے ساتھ ملا ہم دونوں کے منہ سے سسکی نلکی میں۔کیوں اتنے دن لگا دیئے آنے میں میری جان یہ کہ کر میں نے بیگم کا ممہ منہ میں لے لیا بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔۔۔میری جان میں خود آھھھ۔۔۔ جانی آرام سے۔۔ پچھلے دو ہفتوں سے تمھارے بنا تڑپتی رہی ہوں آھھھھھ میں نے ایک ہاتھ بیگم کی پھدی پے رکھا اور ایک دم سے ایک انگلی پھلی میں ڈال دی اور انگوٹھے سے پھدی کا دانا مسلنے لگا بیگم۔آھھھھھھھھھھھ۔۔۔۔ زین پلیز اب اور آھھھھھھھ۔۔۔ مت تڑپاو اب میرا بھی برا ہال تھا میرا لن میں اب درد ہو رہا تھا میں اٹھا اور بیگم کی ٹانگوں میں بیٹھ کر لن پھدی کے دانے پے رگڑنے لگا بیگم۔سیییییییی۔۔۔ میری جان رگڑو نہیں ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دو میں۔پکا جانی ایک ہی جھٹکے میں وہ نیچے سے اپنی گانڈ اوپر کر رہی تھی کہ کسی طرح لن اندر چلا جائے بیگم۔سیییییی۔۔۔۔۔۔ ہاں میری جان ایک جھٹکے میں میں نے بھی اب بیگم کو زیادہ دیر تڑپاتا مناسب نا سمجھا اور لن کی ٹوپی پھدی کے سوراخ پے رکھ کر آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔میری جان ایک ہی جھٹکا لگاو میں نے لن کو پھدی سے باہر کھینچا اور ٹوپی تک باہر لے آیا اور ٹوپی اندر ہی رہنے دی اور ایک دم سے زور سے جھٹکا مارا بیگم کے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل اور میں بیگم کو زور سے چودنے لگا بیگم۔آھھھ۔زور زور سے چودو پھاڑ کہ رکھ دو آھھھ میری پھدی کا پھدا بنا دو اھھھھھھ بیگم جوش میں پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی کچھ دیر بعد ہی بیگم تڑپنے لگی اور مجھے میرے لن پے بیگم کی پھدی سے نکلتا ہوا پانی محسوس ہونے لگا اور مجھے بھی میرا خون ایک لن کی طرف جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جلد ہی میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور آھھھھھھ کےساتھ اپنے پانی سے بیگم کی پھدی کو بھرتا ہوا گرتا چلا گیا ہم دونوں کی سانسیں بے ترتیب تھی تبھی میں نے ایک آواز سنی اور ہم دونوں چونک گئے
  8. اپڈیٹ 6 میں چاچا کے کمرے گیا تو چاچا کہ ساتھ بھائی بھی بیٹھے تھے مجھے ایک سیکنڈ کے لیے ڈر لگا کیوں کہ چاچا کہ چھرے کے تاثرات ہی پریشان کرنے والے تھے خیر میں چاچا کو سلام کیا اور کہا میں۔جی چاچا جی تسی بلایا سی چاچا۔(پریشانی سے)جی پتر اس کے بعد چاچا تھوڑی دیر چپ رہے پھر بولے چاچا۔اور سنا پتر پڑھائی کیسی ہو رہی ہے میں۔ جی اچھی جا رہی ہے اب مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا تھا کہ شاید چاچی نے بتا دیا ہو میرے چہرے پر پریشانی کہ آثار دیکھ کر چاچا بولے پتر کوئی مسئلہ میں۔نہیں چاچا جی تھوڑا وقفہ کے ساتھ میں۔چاچا جی وہ چاچی بتا رہی تھی کوئی ضروری بات کرنی ہے آپ نے مجھے چاچا کے چہرے پر پریشانی بڑھتی صاف نظر آ رہی تھی چاچا۔پتر ایک بات تو بتا اگر ہم تیری زندگی کا فیصلہ تجھ سے پوچھے بغیر کر دیں تو تو کیا کرے گا میں۔(چونک کر ان کی طرف دیکھا لیکن دوسرے ہی لمحے بات کو سمجھ گیا)چاچاجی آپ میرے بڑے ہیں اگر آپ نے میرے لیے کوئی فیصلہ کریں گے تو اچھا ہی ہی کریں گے میرے بھلے کے لیے چاچا۔شاباش میرا پتر مجھے تجھ سے یہی امید تھی میں۔لیکن آپ نے فیصلہ کیا کون سا ہے میرے لیے؟ میرے اس سوال پر چاچا تھوڑا پریشان ہوئے مجھے لگا کے چاچا مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتے چاچا نے مجھے کہا بیٹا تو جا تیری امی تجھے بتا دیتی خیر میرے ذہن میں کئی سوال تھے میں انہی سوالوں کے ساتھ کمرے سے نکلا آٹھ بج چکے تھے ہم سب نے مل کر کھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے نوٹ کیا کے امی اور بھائی کچھ پریشان ہیں خیر ہم سب نے کھانا کھایا میری عادت تھی کہ میں رات کو سونے سے پہلے امی کے پاؤں دباتا تھا کھانا کھانے کہ بعد میں ایسے ہی واک کر رہا تھا کہ سعدیہ میرے پاس آئی میں۔کیسی ہے میری گڑیا؟ سعدیہ۔میں بلکل ٹھیک ہوں بھائی وہ علینا باجی کہاں ہیں میں۔وہ اپنے کمرے میں ہوں گی سعدیہ۔اچھا بھائی یہ کہ کر وہ علینہ کہ کمرے کی طرف چلی گئی جیسے ہی کمرے میں پہنچی اس نے مجھے آواز دی سعدیہ۔بھائی آپ کو امی بلا رہی تھی میں۔اچھا گڑیا جا رہا ہوں میں واک کرتا کرتا چاچی کہ پاس چلا گیا چاچی کچن میں ہی برتن صاف کر رہی تھی کیوں کہ وہ برتن دھوتے وقت تھوڑا ہل رہی جس کی وجہ سے ان کی گانڈ ایک ردھم کے ساتھ 71 72 کر رہی تھی میں سب کچھ بھول کے ان کو دیکھنے لگا وہ کہتے ہیں نا کہ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے چاچی نے ایک دم پیچھے مڑ کے دیکھا تو میری بھی آنکھیں ان سے ٹکرا گئی اور میں شرمندہ سا ہو کر رہہ گیا میں کچن میں چاچی کے پاس گیا اور کہا میں۔جی چاچی آپ نے بلایا چاچی۔بلایا تو تھا لیکن تو تو کسی اور کو بلانے میں لگا ہوا تھا میں۔(ایک دم اچھل کر)ککک کس کو چاچی۔(ہنستے ہوئے)نہیں کسی کو نہیں میں۔چاچی مجھے پتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہو(ایک دم سنجیدہ ہو کر) چاچی۔لو کر لو گل میں کیوں ناراض ہونے لگی اپنے پیارے بھتیجے سے میں۔نہیں وہ دوپہر کو جو ہوا میری بات کاٹتے ہوئے چاچی۔زین پتر وہ ایک حادثہ سمجھ کے بھول جاو وہ ایک حادثہ تھا لیکن جو ابھی تم کر رہے تھے وہ حادثہ نہیں تھا(چاچی کے خوبصورت چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئ)میں نے بھی مسکرانا ہی بہتر سمجھا چاچی ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی چاچی۔زین تمھاری تمھارے چاچا سے کیا بات ہوئی ہے میں نے بھی چاچی کو ساری بات بتا اور کہا چاچی پلیز مجھے بتاؤ کہ اصل بات کیا ہے چاچی کچھ بوتی اتنے میں کچن میں صوفیہ آتے ہوئے دکھائی دی اس سے تھوڑی بہت نوک جھوک ہوئی صوفیہ اپنی مثال آپ تھی ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے لیکن ایک دوسرے کہ بنا رہہ بھی نہیں پاتے تھے خیر میں کچن سے نکلا اور امی کے پاس بیٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگا
  9. اپڈیٹ 5 میں گھر آیا تو سب کے موڈ تقریبا ٹھیک ہی تھے لیکن مجھے پھر بھی ڈر لگ رہا تھا تھا پر یہ ڈر اس وقت بڑھ گیا جب صوفیہ میرے کمرے میں آئی اور غصے سے کہا صوفیہ۔میں تینوں دوپہر نوں وی آکھیا سی کے بابا تینوں بلانے پے سی پر نواب صاحب نوں تے کھیڈن جانا سی ہن جا بابا اتنے غصے وچ ہن تیرا کئی واری پوچھیا ہے آ جا ہن بابا نے کیا سی اونوں نال لے کے آئیں میں۔(ایک دم گھبرا گیا)کککککککک کیا صوفیہ۔اچھا چل گھبرا نئی کچھ نئی ہوندا اب اس بیچاری کو کیا پتا میں کیوں گھبرا رہا ہوں خیر میں اس کے ساتھ چل پڑا اور سوچ لیا تھا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن ٹانگیں میری پھر بھی کانپ رہی تھی صوفیہ مجھے باتھ روم کا کہ کے چلی گئی جیسے ہی میں چاچا کے کمرے جانے لگا اور چاچا کے کچن کہ سامنے سے گزرنے لگا تو میری نظر چاچی پر پڑی وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھی پتا نہیں مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی اور میں دوڑ کر چاچی کے پاس چلا گیا چاچی نے مجھے ایک شیطانی مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا چاچی۔ پریشان نا ہو میں نے تمہارے چاچا کو کچھ نہیں بتایا وہ تم سے کوئی اور بات کرنا چاہتے ہیں چاچی نے یہ بات کہہ کے جیسے میرے جسم سے جان ہی نکال دی ہو میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا میرے سر سے ایک ڈر خوف بوجھ اتر گیا اور پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی میں ایک دم سے چاچی کے گلے لگ گیا اور ان کے گال پہ کس کر کے کہا میں۔چاچی قسم سے مجھے نئی پتا تھا کہ تسی اندر ہو تے میں اتنا کہہ کر چپ کر گیا چاچی۔مینوں پتا ہے زین پتر پر تو ایس وقت اپنے چاچے کول جا کوئی ضروری گل کرنی ہے اناں تیرے نال میں۔جی اچھا چاچی کہا اور کچن سے باہر نکل گیا میرا جسم جیسے بلکل ہلکا ہو گیا ہو میں بلکل ٹینشن فری پر پھر خیال آیا چاچا کو کیا ضروری بات کرنی ہے مجھ سے پھر خیال آیا شاید چاچی نے مجھ سے جھوٹ بولا ہو اور انہوں نے چاچا کو بتا دیا ہو لیکن میں چاچی کو جانتا تھا وہ جھوٹ نہیں بولتی تھی خیر میں چاچا کے پاس چلا گیا
  10. اپڈیٹ 3 بیک ٹو سٹوری ہم لوگ ساہیوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے طارق اور میرا بچپن ایک ساتھ گزرا تھا ہم بچپن سے کافی اچھے دوست تھے خیر ہم لوگ سکول سے نکلے اور گھر کی طرف چل پڑے میں۔یار طارق دیکھ یہ جو تو روز روز میڈم سدرہ کے بارے میں الٹا سیدھا بکواس کرتا ہے مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا طارق۔ہنستے ہوئے کہیں سے جلنے کی بو آ رہی ہے میں۔ایسی بات نہیں ہے یار وہ ہماری ٹیچر ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے طارق۔اچھا نا کیوں سیریس ہو ہا مذاق کر رہا ہوں خیر ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم گھر پہنچ گئے طارق کا گھر میرے گھر سے پہلے آتا تھا خیر میں بھی گھر پہنچ گیا ہمارے گھر میں آٹھ کمرے تھے جن میں چار ہمارے اور چار چاچا لوگوں کے تھے ہمارا صہن تھوڑا بڑا تھا جس میں ایک طرف ہمارے کمرے تھے اور سامنے کی طرف چاچا لوگوں کے خیر میں گھر پہنچا تو عمر(چاچا کا بیٹا) سامنے چار پائی پر بیٹھا تھا میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آگے چل پڑا سامنے سے امی آتی ہوئی دیکھائ دی امی نے میرا ماتھا چوما اور کہا امی۔آگیا میرا پتر میں۔جی امی آگیا جلدی کرو روٹی دیو بڑی پکھ(بھوک)لگی اے امی۔پتر توں انج کر دھا(نہا)لے میں روٹی لانی آں تے ہاں اپنی چاچی دے کار (گھر)دھا(نہا)لے کیوں کے اتھے (اپنے باتھ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) علینا نہاندی پئی ہے میں۔جی اچھا امی خیر میں اپنے کمرے میں گیا جوتے اتارے اور شڑٹ اتار کر بنیان میں چاچی کے باتھ روم کی طرف چل پڑا جیسے ہی میں باتھ روم کے دروازے پر پہنچا اندر سےچاچی سکینہ نکل رہی تھی اور میں انہیں دیکھ کہ سکتے میں آگیا کیوں کہ سامنے کا نظارہ ہی ایسا تھا چاچی کا تروتازہ چہرے جس سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں اور سیدھا ان کے ماموں پر گر رہی تھی چاچی کا پیٹ تھوڑا سا باہر نکلا ہوا مجھے سال نظر آ رہا تھا ان کے ممے جالی دار برا سے صاف نظر آ رہے تھے مجھے یوں آپنی طرف دیکھتا پا کر چاچی نے گلے میں ڈالا ہوا دوپٹا اپنے گورے مموں پر ڈال دیا اور مجھے بھی ہوش آیا چاچی۔(باتھ روم سے نکل کر)بیٹا کب آئے سکول سے میں۔چاچی بس ابھی دس منٹ ہوئے ہیں چاچی۔نہانے آئے ہو میں۔جی چاچی اصل میں ادھر علینہ نہا رہی ہے چاچی ۔اچھا بیٹا نہا لو میں۔چاچی صوفیہ کہاں ہے چاچی ۔بیٹا وہ تمہارے چاچا کہ ساتھ شہر گئ ہے خیر چاچی چلی گئ اور جاتے جاتے مجھ پر گہری نظر ڈالی خیر میں باتھ روم میں گھسا اور کپڑے اتار کے نہانے لگا نہاتے نہاتے ایک بار پھر چاچی کے ممے میرے آنکھوں کے سامنے آگئے میرے جسم میری ٹانگوں کے درمیان ہلچل ہونے لگی میرا لن تن چکا تھا لیکن میں نے خود کو برا بھلا کہا کہ نہیں یہ غلط ہے خیر میں نہا کہ نکلا سامنے سے سعدیہ آتی ہوئی دیکھائ دی میں۔آ میری گڑیا کیسی ہے(میں سعدیہ کو گڑیا ہی کہتا تھا) سعدیہ۔میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی چاچی۔(کچن سے)سعدیہہہہہہہ بیٹا بات سننا سعدیہ۔آئی امیییییییی یہ کہ کر سعدیہ اپنے کچن کی طرف چلی گئی اور میں اپنے کچن کی طرف کچن میں باجی بیٹھی تھی میں۔ارے باجی ایڈی گرمی وچ کچن اچ کے کردی پئی ایں باجی۔تیرا انتظار میں۔کیوں خیر ہووے باجی۔مینوں امی نے کیا ہے کہ نواب صاحب نوں روٹی دے پانڈے رکھ دسویں میں ہنسا اور روٹی کھانے لگا
  11. اپ ڈیٹ 2 ان پاسٹ۔ میں اور طارق اسکول میں بیٹھے میتھ کی کلاس لے رہے تھے سب لڑکے بلیک بورڈ کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن طارق میڈم کی باہر نکلی ہوئی گانڈ کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے لن کو مسل رہا تھا اتنے میں طارق میرے قریب آیا اور سرگوشی میں کہا طارق۔دیکھ یار کیا گانڈ ہے دل کر رہا ہے ابھی جا کے اس کے کپڑے پھاڑ کے چود ڈالوں میں نے طارق کی بات کا جواب دینے کے بجائے اسے گھور کر دیکھا میتھ کی کلاس کے بعد ہماری بریک ہوتی تھی خیر کلاس ختم ہوئی اور بیل بجی بیل بجتے ہیں میں اور طارق کلاس سے نکل گئے اور کینٹین سے کھانے کہ کچھ چیزیں لے اور گراؤنڈ میں پڑے بینچ پر بیٹھ گئے میں۔ ہاں اب بکواس کر کیا کہہ رہا تھا کلاس میں؟ (طارق۔(میری طرف ہنس کر دیکھتے ہوئے نہیں کچھ بھی تو نہیں میں۔ اچھا کچھ نہیں کپڑے پھاڑ ڈالو گے وہ کیا بکواس تھی وہ طارق۔پتا جو ہے تجھے جان بوجھ کے چسکے لے رہا ہے گانڈو خیر اسی نوک جھوک میں ہماری بریک ختم ہوئی اب بریک کے بعد دو کلاسز ہوتی تھیں اب آپ لوگوں کو تو پتا ہے بیک بینچرز بریک کے بعد ہونے والی کلاسز کوئی خاص دلچسپی سے نہیں لیتے بس میں اور طارق بھی اپنی کلاس کے انہی لڑکوں میں سے تھے جو بریک کے بعد صرف چھٹی کا انتظار کرتے تھے خیر آخری دو کلاسز کے بعد چھٹی ہوئی اور طارق اور میں سکول کو خیر آباد کہہ کر اپنے گھر کے لیے نکل گئے تعارف زین علی۔(یعنی میں) عمر سولہ سال نوویں کلاس میں پڑھتا تھا گورا چٹا سیدا سادہ(تھا اب نہیں ہے) لڑکا والد۔ کا انتقال زین کے بچپن میں ہو گیا تھا والدہ۔گھریلو خاتون ہم تین بھائی تھے تھے سب سے چھوٹا میں پھر میری بہن علینہ پھر ہم دونوں سے بڑے بھائی آصف علی بھائی بابا کی زمین (جو دادا نے اپنے تینوں بیٹوں میں برابر تقسیم کی تھی)کو سنبھالتے تھے۔عمر اکییس سال ابھی شادی نہیں ہوئی دو چاچا ایک ہمارے ساتھ رہتے تھے اور ایک اسلاماباد میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے ممتاز علی (چاچا)۔عمر تینتالیس سال کافی ہنس مکھ نرم دل اور پیار کرنے والے سکینہ ممتاز(چاچی)۔انتالیس سال گورا رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ 40 کے ممے کسی بوڑھے کو جوان کرنے میں ایک منٹ لگے ممتاز علی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا سب سے چھوٹی بیٹی سعدیہ۔ عمر آٹھ سال چلبلی سی پیاری سے شرارتی سی لڑکی بیٹا عمر۔ عمر دس سال بڑی بیٹی صوفیہ۔عمر پندرہ سال اگر اسے ہمارے خاندان کی سب سے پیاری لڑکی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا رنگ تو ایسے جیسے دودھ چھوٹی چھوٹی کیوٹ سی ابھری ہوئی چھاتیاں ہلکی سے نکلی ہوئی گانڈ اسلاماباد والے چاچا کا سٹوری کے ساتھ تعارف ہو جائے گا
  12. ہیلو دوستو میں ہوں آپ کا شاہ جی۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکے سیشنل کھلاڑی ہوتے ہیں میں جب کبھی کرکٹ کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب سٹریٹ فیلوز کرکٹ کے دیوانے نظر آتے ہیں اور ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ چل رہا ہوتا ہے اسی طرح جب فٹ بال کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب لڑکے فٹ بال کیلئے ہی پاگل ہوتے ہیں یہ ایک نارمل بات ہے۔ یہ کہانی فٹ بال ورلڈ کے دنوں کی ہے جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھتا جاتا لڑکوں کا کریز بھی بڑھتا جاتا اور تب ایک دن ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک فٹ بال ٹیم بناتے ہیں اور پھر نیو سٹار فٹ بال کلب کے نام سے ہماری ٹیم بن گئی۔ جس کا میں نائب کپتان اور میرا دوست کپتان بن گئے۔ پریکٹس کے لیے ہم نے میڈیکل کالج راولپنڈی کی گراؤنڈ پسند کی لیکن ابھی ہم نے ایک دو دن ہی پریکٹس کی تھی کہ وہاں سے ہم لوگوں کو بھگا دیا گیا تب ہم نے ایک دوسری گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کردیا۔ لیکن پہلی کی طرح وہاں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔ اسی طرح ہم تیسری گراؤنڈ پر پہنچ گئے۔ وہاں سے بے دخلی کے بعد ہم نے ایک گورنمنٹ سکول کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کیا یہ گراؤنڈ ایک گورنمنٹ سکول کی ملکیت تھا۔ جہاں پر ہمارے دوست کے پاپا نے پرنسپل سے پرمیشن لے دی تھی۔ یہ سکول ائیر پورٹ کے قریب ہی تھا۔ ہمارے گراؤنڈ سے تھوڑا دور ہی آرمی آفیسران کے گھر تھے۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں گراؤنڈ میں فٹ بال اور کھلاڑیوں کی کٹس وغیرہ لایا بھی کروں اور کسی محفوظ جگہ پر رکھا بھی کروں۔ اب ہم نے ہر شام وہاں پریکٹس کرنا شروع کردی تھی کچھ دنوں کےبعد ایک لڑکا جو شکل سے کچھ سپیشل پرسن سا لگتا تھا ہمارے پاس آکر روزانہ گیم دیکھنے لگا اس سے ہماری خاص کر میری کچھ جان پہچان بھی ہوگئی اور پھر ایک دن اس نے بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کی ریکوسٹ کی لیکن کپتان نے درخواست صرف اسی وجہ سے قبول نہیں کیونکہ وہ خاص دکھتا تھا۔ کپتان کے صاف انکار سے وہ کافی ناامید ہوا اور وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب ہم کھیلنے آئے تو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ ایک بیٹ مین(آرمی والا) اور ایک میچور عورت جو کہ اس کی بڑی بہن تھی، آئے ہوئے تھے۔ بیٹ مین نے آگے آکر ہم سے کہا کہ میڈم صاحبہ بولا رہی ہیں جب میں اور کیپٹن میڈم کے پاس گیا تو وہ غصے سے بولیں: دیکھو اگر تم لوگوں کو یہاں کھیلنا ہے تو اس کو بھی ساتھ کھیلانا پڑے گا نہیں تو آپ سب کی چھٹی کردی جائے گی اس کھلی بلیک میلنگ سے ہم دونوں کافی گھبرا گئے اور ہم فوراً ہی اس لڑکے کو اپنے ساتھ کھیلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اب وہ لڑکا ہمارے ساتھ ہی کھیلنے لگا، گیم شیم تو اس کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی بہن کا ڈنڈا تھا تو اس لیے ہم اسے کھلانے پر مجبور تھے۔ لڑکے کی پہلے ہی میرے ساتھ کافی گپ شپ تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ بیک پر کھیلے گا۔ ساتھ ہونے کی وجہ سے میری اور اس کی بات چیت تھوڑے ہی دنوں میں فارمل بات چیت سے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ سے کچھ ہی دور اس کا گھر تھا اس لیے اسی نے آفر کی کہ میں ٹیم کی کٹ، فٹ بال اور باقی سامان اس کے گھر رکھ دیا کروں اور وہاں سے لے آیا کروں ، کچھ دنوں بعد میں اس کے گھر با آسانی آنے جانے لگا۔یہ گھر اس کے جیجا کرنل گل کا تھا۔ کرنل صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مسز گل نے اپنے والدین سے اپنا بھائی مانگ لیا تھا اور وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بہن مسز گل جس کا نام پل وشاہ مروت تھا لیکن سب اسے مسز کرنل گل کہتے تھے۔ وہ خاندانی پٹھان تھی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پٹھان خوبصورت اور گورے چٹے ہوتے ہیں اور ناجانے کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسز گل ٹھنڈے دماغ اور سمارٹ عورت دکھتی تھی۔ فوجی کی بیوی اور اوپر سے پٹھانی عورت، ہونے کی وجہ سے سٹائلش اور کلاسی۔۔۔ اوپر سے جسم بھی مسز گل نے ویل شیپڈ بنا رکھا تھا۔ صراحی دار لمبی گردن خوبصورت آنکھیں اور گولڈن بال۔۔۔اور جب وہ اپنی آنکھوں پر خوبصورت گلاسسز لگاتی تو بس۔۔۔ قیامت ہی آجاتی۔۔۔ بڑے بڑے پستان۔۔۔ اف اس کے پورے جسم میں سب سے زیادہ خوشنما اس کی نرم اور بڑی سی گانڈ تھی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ وہ مرد مار خاتون تھی جس (گانڈ) کو جب وہ ہلاہلا کر مستانی چال چلتی تو دیکھنے والے اپنا دل پکڑ کر رہ جاتے۔ مسز گل تھوڑا سپشل پرسن ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی فدا سے بڑا پیار کرتی تھی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی فدا کا دوست ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ بھی کافی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا۔ ان کے شوہر گھر پر بہت کم ملا کرتے تھے زیادہ تر پل وشاہ باجی ہی گھر پر موجود ہوتی تھیں۔ فدا کی طرح میں بھی ان کو بھی پل وشاہ باجی کہہ کر پکارتا تھا شروع شروع میں تو میں ٹیم کا سامان ان کے نوکر کو دے کر چلا جایا کرتا تھا۔ پر کچھ ہی دنوں کے بعد فدا نے مجھے اپنے گھر لے جانا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات یہ ہوگئے کہ ہم دونوں گھر سے ہی تیار ہوکر (کٹ میں) جاتے تھے اور واپسی پر وہیں کپڑے تبدیل کرتا تھا۔ یہ سمر سیزن کی بات ہے ہم دونوں معمول کے مطابق گھر آئے پسینے کی وجہ سے ہم دونوں کا جسم بھیگا ہوا تھا بُری طرح سے پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس دن ان کا نوکر بھی گھر پر نہیں تھا فدا بولا: آؤ شاہ جی فریج پر حملہ کرتے ہیں۔ اکثر نوکر ہی ہم کو ٹھنڈا پانی یا شربت سرو کرتا تھا لیکن اس دن وہ گھر پر نہیں تھا اس لیے ہم دونوں فوراً ہی کچن کی طرف چل دئیے چونکہ کچن کا راستہ ڈرائنگ روم سے ہوکرگزرتا تھا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں پہنچے تو باجی پل وشاہ کسی خاتون کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔ ان کے سامنے مشروب پڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پر پڑی وہ بولی: فدا دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے؟ ہم تو ابھی تمہیں ہی یاد کررہے تھیں۔ فدا اس خاتون کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور فوراً ہی اس طرف چلا گیا یہ مسز سلیم تھیں پل وشاہ کی دوست۔۔۔ میں نے بھی ان کو دور سے ہائے بولا اور پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا تو پل وشاہ باجی بولیں: شاہ جی آپ بھی آؤ نا۔۔۔ آپ سے بھی مسز سلیم ملنا چاہتی ہیں یہ سن کر میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔مسز سلیم تو پل وشاہ باجی سے بھی دو دو ہاتھ آگے تھیں اس نے بڑے ہی ٹرانسپیرنٹ کپڑے پہنے ہوئے تھے جس سے ان کا گورا بدن صاف نظر آرہا تھا جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا پل وشاہ باجی بولی: یہ ہیں مسٹر شاہ جس کا میں ذکر کررہی تھی فدا کا اس ٹاؤن میں اکلوتا دوست۔۔۔ مسز سلیم صوفے سے اٹھی اور میرے ساتھ مصافہ کیا۔ میں ویسے تو ان کے ساتھ مصافہ کررہا تھا پر میری آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اوپن ٹرانسپیرنٹ شرٹ سے جھانکتی ہوئی گورے گورے موٹی پستانوں پر تھی جن کے بس نپلز ہی برا میں چھپے ہوئے تھے۔ باقی وہ ٹوٹلی ننگی تھی اتنے خوبصورت پستانوں پر میری نظر جیسے چپک سی گئی تھی میرے خیال میں پل وشاہ باجی کو میری اس بدتمیزی کا اندازہ ہوچکا تھا اس لیے وہ فوراً بولی: شاہ جی یہ مشروب لے لو۔۔۔ جیسے ہی میں نے ڈرنک کا گلاس اُن کے ہاتھ سے لیا تو انہوں نے ہلکا سا میرا ہاتھ دبایا اور سرگوشی میں بولیں:بُری بات۔۔۔ آپ اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.