رات کے دس بج رہے تھے تھے میں اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھا اپنی چاۓ آنے کا ویٹ کر رہا تھا اتنے میں کہ مجھے کچن کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چاچا کریم میری چائے ہاتھ میں لئے میرے پاس آ رہا تھا صاحب یہ آپ کی چائے چاچا نے مجھے چائے دیتے ہوئے کہا ارے چاچا کتنی بار کہا ہے مجھے صاحب نہ کہا کرو بیٹا کیا کروں عادت سی ہو گئی ہے (چاچا کریم میرے پاس پچھلے پانچ سال سے رہہ رہا تھا تھا ایک دن میں یوں ہی اپنے آفس سے جب واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے دروازے کے پاس ایک بوڑھا بیٹھا ہوا ہے میں اپنی گاڑی سے نیچے اترا جی بابا جی کون ہو اور کس سے ملنا ہے بیٹا مجھے ملنا کسی سے نہیں ہے بس نوکری کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہا ہوں ہو چاہئیے کچھ نہیں بس دو وقت کا کھانا اور بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے ایک چھت تب سے چاچا کریم میرے پاس رہہ رہا ہے) میں چائے پی رہا تھا چاچا کریم میرے سامنے نیچے قالین پر بیٹھ گیا کیا ارے چاچا اوپر آ کے بیٹھیے میں نے چائے اسٹول پر رکھ کرکریم کی طرف متوجہ ہوکر ان سے کہا اور ان کو پکڑ کر اپنے بغل میں پڑے صوفے پر بٹھا دیا میں چائے پیتے پیتے چاچا کریم سے باتیں کرنے لگا اچانک چاچا کریم نے کہا بیٹا میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم کبھی کبھی گہری سوچوں میں گم ہوتے ہو ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں میں نے چائے پیتے ہوئے چاچا کریم کو جواب دیا نہیں بیٹا کوئی تو بات ہے میں پچھلے پانچ سال سے تمہیں دیکھ رہا ہوں اتنا تو اندازہ مجھے ہوگیا ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں نے چا چا کو جواب دیا کیا دیکھو بیٹا کوئی تو بات ہے اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتے ہوئےجواب دیا تو چلو شاباش بتاؤ کیا بات ہے؟ کریم نے مجھے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو چلو چاچا لے چلتا ہوں میں آج آپ کو اپنے ماضی کے ان حسین وادیوں میں جہاں میں کبھی گرا کبھی اٹھا کبھی رویا کبھی ہنسا کبھی پھولوں پر چلا تو کبھی کانٹوں پر چلا