Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

رات کے دس بج رہے تھے تھے میں اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھا اپنی چاۓ آنے کا ویٹ کر رہا تھا اتنے میں کہ مجھے کچن کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی  میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چاچا کریم میری چائے ہاتھ میں لئے میرے پاس آ رہا تھا صاحب یہ آپ کی چائے چاچا نے مجھے چائے دیتے ہوئے کہا  ارے چاچا کتنی بار کہا ہے مجھے صاحب نہ کہا کرو بیٹا کیا کروں عادت سی ہو گئی ہے (چاچا کریم میرے پاس پچھلے پانچ سال سے رہہ رہا تھا تھا ایک دن میں یوں ہی اپنے آفس سے جب واپس آیا  تو میں نے دیکھا کہ میرے دروازے کے پاس ایک بوڑھا بیٹھا ہوا ہے میں اپنی گاڑی سے نیچے اترا جی بابا جی کون ہو اور کس سے ملنا ہے بیٹا مجھے ملنا کسی سے نہیں ہے بس نوکری کی تلاش  میں ادھر ادھر پھر رہا ہوں ہو چاہئیے کچھ نہیں بس دو وقت کا کھانا اور بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے ایک چھت تب سے چاچا کریم میرے پاس رہہ رہا ہے) میں چائے پی رہا تھا چاچا کریم میرے سامنے نیچے قالین پر بیٹھ گیا کیا ارے چاچا  اوپر آ کے بیٹھیے میں نے چائے اسٹول پر رکھ کرکریم کی طرف متوجہ ہوکر ان سے کہا اور ان کو  پکڑ کر اپنے بغل میں پڑے صوفے پر بٹھا دیا میں چائے پیتے پیتے چاچا کریم سے باتیں کرنے لگا اچانک چاچا کریم نے کہا  بیٹا میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم کبھی کبھی گہری سوچوں میں گم ہوتے ہو ارے نہیں چاچا  ایسی کوئی بات نہیں میں نے چائے پیتے ہوئے چاچا کریم کو  جواب دیا نہیں بیٹا کوئی تو بات ہے میں پچھلے پانچ سال سے تمہیں دیکھ رہا ہوں اتنا تو اندازہ مجھے ہوگیا ہے چاچا نے کہا  ارے نہیں چاچا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں نے چا چا کو جواب دیا کیا دیکھو بیٹا کوئی تو بات ہے اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتے ہوئےجواب دیا تو چلو شاباش بتاؤ کیا بات ہے؟ کریم نے مجھے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو چلو چاچا لے چلتا ہوں میں آج آپ کو اپنے ماضی کے ان حسین وادیوں میں جہاں میں کبھی گرا کبھی اٹھا کبھی رویا کبھی ہنسا کبھی پھولوں پر چلا تو کبھی کانٹوں پر چلا

 

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

  • Replies 64
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Top Posters In This Topic

4 minutes ago, Imranmanii said:

رات کے دس بج رہے تھے تھے میں اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھا اپنی چاۓ آنے کا ویٹ کر رہا تھا اتنے میں کہ مجھے کچن کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی  میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چاچا کریم میری چائے ہاتھ میں لئے میرے پاس آ رہا تھا صاحب یہ آپ کی چائے چاچا نے مجھے چائے دیتے ہوئے کہا  ارے چاچا کتنی بار کہا ہے مجھے صاحب نہ کہا کرو بیٹا کیا کروں عادت سی ہو گئی ہے (چاچا کریم میرے پاس پچھلے پانچ سال سے رہہ رہا تھا تھا ایک دن میں یوں ہی اپنے آفس سے جب واپس آیا  تو میں نے دیکھا کہ میرے دروازے کے پاس ایک بوڑھا بیٹھا ہوا ہے میں اپنی گاڑی سے نیچے اترا جی بابا جی کون ہو اور کس سے ملنا ہے بیٹا مجھے ملنا کسی سے نہیں ہے بس نوکری کی تلاش  میں ادھر ادھر پھر رہا ہوں ہو چاہئیے کچھ نہیں بس دو وقت کا کھانا اور بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے ایک چھت تب سے چاچا کریم میرے پاس رہہ رہا ہے) میں چائے پی رہا تھا چاچا کریم میرے سامنے نیچے قالین پر بیٹھ گیا کیا ارے چاچا  اوپر آ کے بیٹھیے میں نے چائے اسٹول پر رکھ کرکریم کی طرف متوجہ ہوکر ان سے کہا اور ان کو  پکڑ کر اپنے بغل میں پڑے صوفے پر بٹھا دیا میں چائے پیتے پیتے چاچا کریم سے باتیں کرنے لگا اچانک چاچا کریم نے کہا  بیٹا میں نے اکثر دیکھا ہے کہ تم کبھی کبھی گہری سوچوں میں گم ہوتے ہو ارے نہیں چاچا  ایسی کوئی بات نہیں میں نے چائے پیتے ہوئے چاچا کریم کو  جواب دیا نہیں بیٹا کوئی تو بات ہے میں پچھلے پانچ سال سے تمہیں دیکھ رہا ہوں اتنا تو اندازہ مجھے ہوگیا ہے چاچا نے کہا  ارے نہیں چاچا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں نے چا چا کو جواب دیا کیا دیکھو بیٹا کوئی تو بات ہے اگر تم بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے چاچا نے کہا ارے نہیں چاچا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتے ہوئےجواب دیا تو چلو شاباش بتاؤ کیا بات ہے؟ کریم نے مجھے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو چلو چاچا لے چلتا ہوں میں آج آپ کو اپنے ماضی کے ان حسین وادیوں میں جہاں میں کبھی گرا کبھی اٹھا کبھی رویا کبھی ہنسا کبھی پھولوں پر چلا تو کبھی کانٹوں پر چلا

 

 

Link to comment

 اپ ڈیٹ 2

ان پاسٹ۔

میں اور طارق اسکول میں بیٹھے میتھ کی کلاس لے رہے تھے سب لڑکے بلیک بورڈ کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن طارق میڈم کی باہر نکلی ہوئی گانڈ کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے لن کو مسل رہا تھا اتنے میں طارق میرے قریب آیا اور سرگوشی میں کہا

طارق۔دیکھ یار کیا گانڈ ہے دل کر رہا ہے ابھی جا کے اس کے کپڑے پھاڑ کے چود ڈالوں

 میں نے طارق کی بات کا جواب دینے کے بجائے اسے گھور کر دیکھا

 میتھ کی کلاس کے بعد ہماری بریک ہوتی تھی خیر کلاس ختم ہوئی اور بیل بجی  بیل بجتے ہیں میں اور طارق کلاس  سے نکل گئے اور کینٹین سے کھانے کہ کچھ چیزیں لے اور گراؤنڈ میں پڑے بینچ پر بیٹھ گئے

میں۔ ہاں اب بکواس کر کیا کہہ رہا تھا کلاس میں؟ 

(طارق۔(میری طرف ہنس کر دیکھتے ہوئے

نہیں کچھ بھی تو نہیں

میں۔ اچھا کچھ نہیں کپڑے پھاڑ ڈالو گے وہ کیا بکواس تھی وہ

طارق۔پتا جو ہے تجھے جان بوجھ کے چسکے لے رہا ہے گانڈو

 خیر اسی نوک جھوک میں ہماری بریک ختم ہوئی اب بریک کے بعد دو کلاسز ہوتی تھیں اب آپ لوگوں کو تو پتا ہے بیک بینچرز بریک کے بعد ہونے والی کلاسز کوئی خاص دلچسپی سے نہیں لیتے بس میں اور طارق بھی اپنی کلاس کے انہی لڑکوں میں سے تھے جو بریک کے بعد صرف چھٹی کا انتظار کرتے تھے 

خیر آخری دو کلاسز کے بعد چھٹی ہوئی اور طارق اور میں سکول کو خیر آباد کہہ کر اپنے گھر کے لیے نکل گئے

 تعارف

زین علی۔(یعنی میں)

عمر سولہ سال نوویں کلاس میں پڑھتا تھا گورا چٹا سیدا سادہ(تھا اب نہیں ہے) لڑکا

والد۔ کا انتقال زین کے بچپن میں ہو گیا تھا

والدہ۔گھریلو خاتون

ہم تین بھائی تھے تھے سب سے چھوٹا میں پھر میری بہن علینہ پھر ہم دونوں سے بڑے بھائی آصف علی

بھائی بابا کی زمین (جو دادا نے اپنے تینوں بیٹوں میں برابر تقسیم کی تھی)کو سنبھالتے تھے۔عمر اکییس سال ابھی شادی نہیں ہوئی 

دو چاچا ایک ہمارے ساتھ رہتے تھے اور ایک اسلاماباد میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے

ممتاز علی (چاچا)۔عمر تینتالیس سال کافی ہنس مکھ نرم دل اور پیار کرنے والے

سکینہ ممتاز(چاچی)۔انتالیس سال گورا رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ 40 کے ممے کسی بوڑھے کو جوان کرنے میں ایک منٹ لگے 

ممتاز علی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا  

سب سے چھوٹی بیٹی سعدیہ۔ عمر آٹھ سال  چلبلی سی پیاری سے شرارتی سی لڑکی

بیٹا عمر۔ عمر دس سال 

بڑی بیٹی صوفیہ۔عمر پندرہ سال اگر اسے ہمارے خاندان کی سب سے پیاری لڑکی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا رنگ تو ایسے جیسے دودھ چھوٹی چھوٹی کیوٹ سی ابھری ہوئی چھاتیاں ہلکی سے نکلی ہوئی گانڈ

اسلاماباد والے چاچا کا سٹوری کے ساتھ تعارف ہو جائے گا

Link to comment
×
×
  • Create New...