-
ایک جھلک
بہت بہت شکریہ حوصلہ افزائی کے لیے جی جی اپڈیٹ وقت پر ملیں گی میں تھوڑا کام میں بزی تھا جس کی وجہ سے محرم الحرام ک بعد بھی اپڈیٹ نا آ سکی لیکن اب ایک یا دو دن بعد اپڈیٹ لازمی آئیں گی رہی بات تنقید کرنے والوں کی تو love your haters they're your bigest fans
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 8 میں نے چونک کر دیکھا تو موبائل کی لائٹ آن تھی شاید کسی کی مس کال یا میسج آیا تھا خیر میں نے اس وقت میسج پڑھنا ضروری نہیں سمجھا اور بیگم کی بازو پر سر رکھ کے کمبل اوڑھ کے سو گیا صبح تقریبا میری آنکھ سات بجے بیگم کے اٹھانے سے کھلی اٹھ جائے آفس نہیں جانا آپ نے بیگم نے مجھے زور سے ہلا کر کہا میں نے نیند کی حالت میں کہا کیا ہے جانی سونے دو نا، بیگم جو ڈریسنگ ٹیبل پر کھڑی آپنے بال ٹھیک کر رہی تھی پیچھے مڑ کر کہا سونا نہیں ہے جائیے آفس میں نے ناشتہ تیار کر دیا ہے اور عمران اور میں جا رہے ہیں جلدی اٹھ کے آپ چلے جائیے گا افس یہ کہہ کر بیگم چلی گئی پھر میں نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھا ابھی اٹھا کے موبائل پہ بیل ہوئی میں نے اٹھا کر دیکھا تو طارق کی کال تھی میں نے سوچا اتنی صبح خیریت تو ہے پھر میں نے کال اٹھائی سلام دعا کے بعد طارق نے کہا ابے تو آرہا ہے یا میں چلا جاؤں میں نے نہ سمجھتے ہوئے کہاں چلا جاؤں اس بار طارق نے کہا کیا مطلب تو نے میرا میسج نہیں پڑھا کونسا میسج میں نے طارق سے سوال کیا ابے رات کو جو بھیجا تھا تجھے طارق نے الجھ کر کہا، اس پر میں نے جواب دیا ارے یار میں سو رہا تھا بتا کیا بات ہے، یار بڑی بری خبر ہے باس کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے طارق نے افسردگی سے کہا میں۔او ہو آلل۔۔۔۔ پاک مغفرت فرمائیں طارق۔ ہاں اب تو بتا رہا ہے یا نہیں میں۔کیسی بات کر رہا ہے آ رہا ہوں نا بس میں ناشتہ کر لوں پھر نکلتے ہیں خیر میں نے ناشتہ کرکے بیگم کو کال کیا اور اور ساری بات بتائی اور کہا کے اگر رات لیٹ ہو جاؤں تو میرا انتظار مت کرنا کھانا کھا لینا کیوں کے مجھے طارق کے ساتھ اسلام آباد باس کے گھر جانا تھا خیر گھر سے میں سیدھا چاچا کریم کو بتا کے تارے کے پاس چلا گیا اور وہاں سے ہم دونوں سیدھا اسلام آباد کے لیے نکل گئے دوستو اس پیج کو کچھ خاص نہ ہوا جو لکھنے لائک ہو خیر میری واپسی تقریبا رات کو ایک بجے ہوئی میں نے ہارن دیا تو چوکیدار نے دروازہ کھول دیا میں گاڑی کو گیراج میں کھڑا کر کے اندر چلا گیا اندر گیا تو بیگم ایک کرسی پر بیٹھی کوئی ناول پڑھ رہی تھی مجھے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور کہا اتنی دیر کر دی آپ نے میں نے جواب دیا جانی تمہیں پتا تو ہے لاہور کی ٹریفک کا پھر ہم لوگ اپنے کمرے میں پہنچے تو میں نے کہا جانی پلیز ایک کپ چائے تو لادو سر میں بڑا درد ہو رہا ہے بیگم چاہیے لینے چلی گئی اور میں باتھ روم میں گھس گیا فریش ہونے کے لیے تقریبا دس منٹ بعد میں باہر نکلا تو بیگم چائے لیے کھڑی تھی میں اپنی کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے لگا اور بیگم بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور مجھ سے سفر کے بارے میں پوچھنے لگی یوں ہی ہماری باتیں ہوتی رہیں اور میں کب ایک سائیڈ پر رکھ کر بیڈ پر چڑھ گیا اور بیگم کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گیا بیگم نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر نی شروع کر دی دیںاج بیگم مجھے کچھ چپ چپ سی لگ رہی تھی میں۔کیا ہوا بیگم آج بڑی چپ چپ ہو بیگم۔نئی ایسی تو کوئی بات نہیں بس ویسے ہی میں۔نئی بیگم کوئی تو بات ہے جو تم بتانا نہیں چاہتے خیر پھر تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی چھا گئی پھر ایک دم سے میرے دماغ میں جھماکا ہوا میں۔اچھا تو یہ بات ہے بیگم۔جب آپ کو پتا ہے تو کیوں نہیں میری بات مانتے میں۔دیکھو یار میں نے ان کو دل و جان سے معاف کر دیا ہے اگر ان کو نہیں لگتا تو میں کیا کروں بیگم۔اگر معاف کر بھی دیا ہے تو آپ بت کیوں نہیں کرتے ان سے ہاںاس بار بھی وہ بیچارے میرے سامنے رو رہے تھے میں۔(سر جھٹک کر)ہںں۔۔۔بیچارے بیگم۔دیکھیں پلیز وہ اپنے کیے کی سزا بھگت چکے ہیں پورے دس سال ہو گئے ہیں آپ ان سے ملنے نہیں گئے وہ ہر بار مجھ سے پوچھتے ہیں میں۔کیا ہوا اگر میں نہیں گیا تو وہ تو آ سکتے تھے بیگم۔یہی بات تو آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ وہ بیچارے شرمندہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا دیکھیں اگلے مہینے رضوان کی سالگرہ آ رہی ہے آپ میرے ساتھ چلیں گے اور آصف بھائی کو سرپرایز دیں گے جی ہاں یہاں میرے بڑے بھائی آصف علی کی بات ہو رہی ہے اب انہوں نے کیا کیا وو آہستہ آہستہ بتا چل جائے گا میں۔یعنی اب تم مجھے لے کے ہی جاو گی وہاں بیگم۔پلیز زین میں نے کبھی آپسے کچھ نہیں مانگا پلیز نہ مت کیجیے گا میں۔( کچھ دیر سوچ کر)اچھا میری جان جیسے تمھاری مرضی خوش بیگم۔مجھے زور سے گلے لگا کر تھینک یو سو مچ زین آ لو یو میں۔آ لو یو ٹو میری جان خیر پھر ہم نے تھوڑی دیر باتیں کی پھر سو گئے کیوں کے آج میں کافی تھکا ہوا تھا اس لیے کوئی مستی وغیرہ نہیں کی
-
ایک جھلک
اب ابڈیٹ محرم شریف کے بعد آئے گی
-
ایک جھلک
Bhai ap ny kahani sahi tarhan prhi hi nai hy
-
ایک جھلک
Thk hy bhai nahi likhun ga
-
ایک جھلک
OK bhai jesy ap ki marzi na prho
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 7 امی اپنی چارپائی پے لیٹی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی میں امی کی ٹانگیں اپنی گود میں رکھے ان کے پاؤں دبا رہا تھا امی نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا ان کے چہرے پر پریشانی ہی پریشانی تھی میں۔ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں امی؟ امی۔دیکھ رہی ہوں کہ میرا بیٹا بڑا ہو گیا ہے سوچ رہی ہوں تیری شادی کر دوں مجھے ایک دم چاچا کی بات یاد آئی میں۔ امی وہ چاچا کہ رہے تھے کہ انہوں نے میرے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے امی۔(تھوڑی دیر بعد جواب دیا)بیٹا فیصلہ انہوں نے نہیں میں نے کیا ہے میں۔تعجب سے کیسا فیصلہ امی۔بیٹا میری بات غور سے سنو تمھاری خالا کا۔۔۔۔۔۔ in present مجھے اور چاچا کریم کو دروازے کی بیل نے جگایا میں ایک دم چونک گیا دوستو میں ابھی اپنی وائف کا نام نہیں بتاؤں گا آگے جا کہ آپ کو خود پتا چل جائے گا اس کی جگہ میں بیگم ہی لکھوں میں۔چاچا کریم لگتا ہے بیگم آ گئی ہے چاچا کریم۔جی مجھے بھی یہی لگتا ہے اتنے میں دوبارہ بیل ہوئی اور چاچا کریم اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا میں نے ٹائم دیکھا تو بارہ بجنے والے تھے بیگم۔ ایک گھنٹے سے بیل بجا رہی ہوں کہاں تھے آپ دونوں؟ یہ عمران(میرا بیٹا) دوڑ کر میرے گلے لگ گیا میں۔میری جان مس کیا اپنے پاپا کو عمران میرا بیٹا تھا پہلے میری ایک بیٹی ہوئی تھی لیکن لیکن وہ ایک مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہہ سکی اس کے بعد عمران پیدا ہوا وہ ابھی سات سال کا تھا بیگم۔مس کیا مت پوچھیے جب سے گئی تھی یہی پوچھ رہا تھا ماما پاپا کے پاس واپس کب جائیں گے میں۔(عمران کے گال کو چوم کر)میرا پارا بیٹا پاپا کی جان جاؤ سو جاو اپنے کمرے میں بہت ٹائم ہو گیا ہے چاچا کریم جائیں عمران کو سلا دیں اور دودھ لازمی پلائیے گا عمران چاچا کریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا اور میں اور بیگم اپنے کمرے میں آگئے بیگم کمرے میں آتے ہی باتھ روم میں گھسا گئی اور پندرہ منٹ بعد نکلی میں بیڈ پے لیٹی چکا تھا بیگم آئی اور دوسری طرف میرے ساتھ لیٹ گئی میں۔ہاں جان سنائو کیا حال ہے کیسے گزرے دن میرے بغیر کیا حال ہے وہاں سب کا؟ بیگم۔ ایک دم فرسٹ کلاس میں۔کیوں میری یاد نہیں آئی تمہیں بیگم۔بلکل بھی نہیں میں۔(اٹھ کہ بیگم کہ اوپر بیٹھ گیا لیکن میں نے اس پر وزن نہیں ڈالا) ابھی بتاتا ہوں یہ کہ کر میں نے اپنے تپتے ہوے ہونٹ بیگم کے ہونٹوں پر رکھ دئیے اور بیگم کے ہونٹ چوسنے لگا وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی تقریبا ایک آدھ منٹ تک کسنک کے بعد میں نے منہ اوپر کیا اور بیگم کی ناک کے ساتھ ناک رگڑتے ہوئے کہا میں۔ ہاں اب بتائو یاد آئی کہ نہیں بیگم نے پیار سے میرے ہونٹوں پے ایک بوسہ دیا اور کہا بیگم۔زین آپ کو پتہ ہے میں زیادہ دن آپ سے دور نہیں رہ سکتی یہ کہ کر بیگم نے اپنے ہونٹ میرے ساتھ جوڑ دیوار کسنک کرنے لگی میں بھی بیگم کا ساتھ دینے لگا تھوڑی دیر بعد میں نے ہونٹوں کو چھوڑا اور بیگم کی نیک پر کسنک کرنے لگا یہ میری بیگم کا وییک پوائنٹ تھا بیگم کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی میں نے ایک ہاتھ میں بیگم کا ممہ لیا اور زور زور سے دبانے لگا بیگم کی ہلکی سی چیخ ماری بیگم۔اھھھھھھھ۔۔۔۔۔ زین میری جان تمھارے ہی ہیں آرام آرام سے دباؤ میں نے ہلکے ہلکے دبانے لگا اتنے میں بیگم کا ہاتھ نیچے کی طرف کھسکا اور میرا ناڑا کھولنے لگا میں ایک دم اٹھا اور اپنے سارے کپڑے اتار کے بیگم کے کپڑے بھی اتار دیے اور ایک دوسرے چمٹ گئے جیسے ہی بیگم کا ننگا میرے ننگے جسم کے ساتھ ملا ہم دونوں کے منہ سے سسکی نلکی میں۔کیوں اتنے دن لگا دیئے آنے میں میری جان یہ کہ کر میں نے بیگم کا ممہ منہ میں لے لیا بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔۔۔میری جان میں خود آھھھ۔۔۔ جانی آرام سے۔۔ پچھلے دو ہفتوں سے تمھارے بنا تڑپتی رہی ہوں آھھھھھ میں نے ایک ہاتھ بیگم کی پھدی پے رکھا اور ایک دم سے ایک انگلی پھلی میں ڈال دی اور انگوٹھے سے پھدی کا دانا مسلنے لگا بیگم۔آھھھھھھھھھھھ۔۔۔۔ زین پلیز اب اور آھھھھھھھ۔۔۔ مت تڑپاو اب میرا بھی برا ہال تھا میرا لن میں اب درد ہو رہا تھا میں اٹھا اور بیگم کی ٹانگوں میں بیٹھ کر لن پھدی کے دانے پے رگڑنے لگا بیگم۔سیییییییی۔۔۔ میری جان رگڑو نہیں ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دو میں۔پکا جانی ایک ہی جھٹکے میں وہ نیچے سے اپنی گانڈ اوپر کر رہی تھی کہ کسی طرح لن اندر چلا جائے بیگم۔سیییییی۔۔۔۔۔۔ ہاں میری جان ایک جھٹکے میں میں نے بھی اب بیگم کو زیادہ دیر تڑپاتا مناسب نا سمجھا اور لن کی ٹوپی پھدی کے سوراخ پے رکھ کر آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا بیگم۔آھھھھھھھھ۔۔۔میری جان ایک ہی جھٹکا لگاو میں نے لن کو پھدی سے باہر کھینچا اور ٹوپی تک باہر لے آیا اور ٹوپی اندر ہی رہنے دی اور ایک دم سے زور سے جھٹکا مارا بیگم کے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل اور میں بیگم کو زور سے چودنے لگا بیگم۔آھھھ۔زور زور سے چودو پھاڑ کہ رکھ دو آھھھ میری پھدی کا پھدا بنا دو اھھھھھھ بیگم جوش میں پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی کچھ دیر بعد ہی بیگم تڑپنے لگی اور مجھے میرے لن پے بیگم کی پھدی سے نکلتا ہوا پانی محسوس ہونے لگا اور مجھے بھی میرا خون ایک لن کی طرف جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا جلد ہی میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور آھھھھھھ کےساتھ اپنے پانی سے بیگم کی پھدی کو بھرتا ہوا گرتا چلا گیا ہم دونوں کی سانسیں بے ترتیب تھی تبھی میں نے ایک آواز سنی اور ہم دونوں چونک گئے
-
ایک جھلک
بہت شکریہ جی
-
ایک جھلک
@Administrator plz update approve kr den
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 6 میں چاچا کے کمرے گیا تو چاچا کہ ساتھ بھائی بھی بیٹھے تھے مجھے ایک سیکنڈ کے لیے ڈر لگا کیوں کہ چاچا کہ چھرے کے تاثرات ہی پریشان کرنے والے تھے خیر میں چاچا کو سلام کیا اور کہا میں۔جی چاچا جی تسی بلایا سی چاچا۔(پریشانی سے)جی پتر اس کے بعد چاچا تھوڑی دیر چپ رہے پھر بولے چاچا۔اور سنا پتر پڑھائی کیسی ہو رہی ہے میں۔ جی اچھی جا رہی ہے اب مجھے تھوڑا ڈر لگ رہا تھا کہ شاید چاچی نے بتا دیا ہو میرے چہرے پر پریشانی کہ آثار دیکھ کر چاچا بولے پتر کوئی مسئلہ میں۔نہیں چاچا جی تھوڑا وقفہ کے ساتھ میں۔چاچا جی وہ چاچی بتا رہی تھی کوئی ضروری بات کرنی ہے آپ نے مجھے چاچا کے چہرے پر پریشانی بڑھتی صاف نظر آ رہی تھی چاچا۔پتر ایک بات تو بتا اگر ہم تیری زندگی کا فیصلہ تجھ سے پوچھے بغیر کر دیں تو تو کیا کرے گا میں۔(چونک کر ان کی طرف دیکھا لیکن دوسرے ہی لمحے بات کو سمجھ گیا)چاچاجی آپ میرے بڑے ہیں اگر آپ نے میرے لیے کوئی فیصلہ کریں گے تو اچھا ہی ہی کریں گے میرے بھلے کے لیے چاچا۔شاباش میرا پتر مجھے تجھ سے یہی امید تھی میں۔لیکن آپ نے فیصلہ کیا کون سا ہے میرے لیے؟ میرے اس سوال پر چاچا تھوڑا پریشان ہوئے مجھے لگا کے چاچا مجھے کچھ بتانا نہیں چاہتے چاچا نے مجھے کہا بیٹا تو جا تیری امی تجھے بتا دیتی خیر میرے ذہن میں کئی سوال تھے میں انہی سوالوں کے ساتھ کمرے سے نکلا آٹھ بج چکے تھے ہم سب نے مل کر کھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے نوٹ کیا کے امی اور بھائی کچھ پریشان ہیں خیر ہم سب نے کھانا کھایا میری عادت تھی کہ میں رات کو سونے سے پہلے امی کے پاؤں دباتا تھا کھانا کھانے کہ بعد میں ایسے ہی واک کر رہا تھا کہ سعدیہ میرے پاس آئی میں۔کیسی ہے میری گڑیا؟ سعدیہ۔میں بلکل ٹھیک ہوں بھائی وہ علینا باجی کہاں ہیں میں۔وہ اپنے کمرے میں ہوں گی سعدیہ۔اچھا بھائی یہ کہ کر وہ علینہ کہ کمرے کی طرف چلی گئی جیسے ہی کمرے میں پہنچی اس نے مجھے آواز دی سعدیہ۔بھائی آپ کو امی بلا رہی تھی میں۔اچھا گڑیا جا رہا ہوں میں واک کرتا کرتا چاچی کہ پاس چلا گیا چاچی کچن میں ہی برتن صاف کر رہی تھی کیوں کہ وہ برتن دھوتے وقت تھوڑا ہل رہی جس کی وجہ سے ان کی گانڈ ایک ردھم کے ساتھ 71 72 کر رہی تھی میں سب کچھ بھول کے ان کو دیکھنے لگا وہ کہتے ہیں نا کہ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے چاچی نے ایک دم پیچھے مڑ کے دیکھا تو میری بھی آنکھیں ان سے ٹکرا گئی اور میں شرمندہ سا ہو کر رہہ گیا میں کچن میں چاچی کے پاس گیا اور کہا میں۔جی چاچی آپ نے بلایا چاچی۔بلایا تو تھا لیکن تو تو کسی اور کو بلانے میں لگا ہوا تھا میں۔(ایک دم اچھل کر)ککک کس کو چاچی۔(ہنستے ہوئے)نہیں کسی کو نہیں میں۔چاچی مجھے پتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہو(ایک دم سنجیدہ ہو کر) چاچی۔لو کر لو گل میں کیوں ناراض ہونے لگی اپنے پیارے بھتیجے سے میں۔نہیں وہ دوپہر کو جو ہوا میری بات کاٹتے ہوئے چاچی۔زین پتر وہ ایک حادثہ سمجھ کے بھول جاو وہ ایک حادثہ تھا لیکن جو ابھی تم کر رہے تھے وہ حادثہ نہیں تھا(چاچی کے خوبصورت چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئ)میں نے بھی مسکرانا ہی بہتر سمجھا چاچی ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی چاچی۔زین تمھاری تمھارے چاچا سے کیا بات ہوئی ہے میں نے بھی چاچی کو ساری بات بتا اور کہا چاچی پلیز مجھے بتاؤ کہ اصل بات کیا ہے چاچی کچھ بوتی اتنے میں کچن میں صوفیہ آتے ہوئے دکھائی دی اس سے تھوڑی بہت نوک جھوک ہوئی صوفیہ اپنی مثال آپ تھی ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے لیکن ایک دوسرے کہ بنا رہہ بھی نہیں پاتے تھے خیر میں کچن سے نکلا اور امی کے پاس بیٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگا
-
ایک جھلک
Bohot bohot shukria bhai ap ki hosla afzai ka G bhai I know update bohot hi choti hn bas bhai ak do din sbr kren phr lambi updates ayen gi actually thori masroofiyat ki waja sy updates choti hn
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 5 میں گھر آیا تو سب کے موڈ تقریبا ٹھیک ہی تھے لیکن مجھے پھر بھی ڈر لگ رہا تھا تھا پر یہ ڈر اس وقت بڑھ گیا جب صوفیہ میرے کمرے میں آئی اور غصے سے کہا صوفیہ۔میں تینوں دوپہر نوں وی آکھیا سی کے بابا تینوں بلانے پے سی پر نواب صاحب نوں تے کھیڈن جانا سی ہن جا بابا اتنے غصے وچ ہن تیرا کئی واری پوچھیا ہے آ جا ہن بابا نے کیا سی اونوں نال لے کے آئیں میں۔(ایک دم گھبرا گیا)کککککککک کیا صوفیہ۔اچھا چل گھبرا نئی کچھ نئی ہوندا اب اس بیچاری کو کیا پتا میں کیوں گھبرا رہا ہوں خیر میں اس کے ساتھ چل پڑا اور سوچ لیا تھا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن ٹانگیں میری پھر بھی کانپ رہی تھی صوفیہ مجھے باتھ روم کا کہ کے چلی گئی جیسے ہی میں چاچا کے کمرے جانے لگا اور چاچا کے کچن کہ سامنے سے گزرنے لگا تو میری نظر چاچی پر پڑی وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھی پتا نہیں مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی اور میں دوڑ کر چاچی کے پاس چلا گیا چاچی نے مجھے ایک شیطانی مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا چاچی۔ پریشان نا ہو میں نے تمہارے چاچا کو کچھ نہیں بتایا وہ تم سے کوئی اور بات کرنا چاہتے ہیں چاچی نے یہ بات کہہ کے جیسے میرے جسم سے جان ہی نکال دی ہو میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا میرے سر سے ایک ڈر خوف بوجھ اتر گیا اور پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی میں ایک دم سے چاچی کے گلے لگ گیا اور ان کے گال پہ کس کر کے کہا میں۔چاچی قسم سے مجھے نئی پتا تھا کہ تسی اندر ہو تے میں اتنا کہہ کر چپ کر گیا چاچی۔مینوں پتا ہے زین پتر پر تو ایس وقت اپنے چاچے کول جا کوئی ضروری گل کرنی ہے اناں تیرے نال میں۔جی اچھا چاچی کہا اور کچن سے باہر نکل گیا میرا جسم جیسے بلکل ہلکا ہو گیا ہو میں بلکل ٹینشن فری پر پھر خیال آیا چاچا کو کیا ضروری بات کرنی ہے مجھ سے پھر خیال آیا شاید چاچی نے مجھ سے جھوٹ بولا ہو اور انہوں نے چاچا کو بتا دیا ہو لیکن میں چاچی کو جانتا تھا وہ جھوٹ نہیں بولتی تھی خیر میں چاچا کے پاس چلا گیا
-
ایک جھلک
Ho gai hy janab
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 4 خیر میں نے کھانا کھا کے برتن باجی کو دیئے اور سونے چلا گیا میری عادت تھی میں سکول سے واپس آنے کے بعد سو جاتا تھا خیر شام کو تین بجے میری آنکھ کھل گئ میں اٹھا اور باہر صحن میں آیا تو بھائی بیٹھے تھے بھائی۔ہاں جی اٹھ گیا جوان بھائی شروع سے مجھے جوان کہتے تھے میں۔جی بھائی اٹھ گیا بھائی۔کدی ڈیرے تے وی چکر لا لیا کر میں۔آندا تے ہاں بھائی بھائی۔(ذرا تیز لہجے میں)ہاں پتا مینوں جتنا توں آندا ہر وقت اس لوفر(طارق) نال ای پھردا رہنا ایں امی۔اچھا ہن جاندے بچے نوں(میری طرف منہ کر کے)جا میرا پتر نہا لے میں۔جی اچھا امی خیر میں جا کے نہانے لگا نہا کے واپس آیا تو صوفیہ امی کے پاس سبزی وغیرہ کاٹ رہی تھی صوفیہ۔نواب صاحب اٹھ گئے(ذرا غصے سے) میں۔ہاں اٹھ گیا پر تینوں کی ہویا ہر ویلے منہ تے بارا وجے ہوندے ہن صوفیہ۔زیادہ بک بک نا کر ابا آئے ہوے ہن تے مینوں کے رے سی کے زین نو بلا کے لے آ میں۔تے تو مینوں پہلے دس صوفیہ۔آئی سی دسن پر نواب صاحب تے اوندے منہ سوئے ہوے سی امی۔پتر تو جا اپنے چاچا دی گل سن آ شاید کوئی کم ہووے میں۔جی امی میں نے صوفیہ کو چڑایا اور چاچا کے پاس چلا گیا جیسے چاچا کے کمرے میں پہنچا دروازے کو دھکیلا دروازے کھلتا گیا جیسے ہی دروازے کھلا اندر کا منظر دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے ایسا لگنے لگا جیسے میرے جسم میں جان ہی نا ہو سامنے چاچی کھڑی اپنے کپڑے تبدیل کر رہی تھیوہ اوپر سے بالکل ننگی ان کے 40 کے بوبس مجھے دعوت دے رہے تھے چاچی کی عمر کے لحاظ سے ان کے بوبس ابھی تک نا لٹکے تھے بلکہ آج بھی ان کی اٹھان برقرار تھی چاچی کا ہلکا سا باہر نکلا ہوا پیٹ کافی سیکسی لگ رہا تھا جیسے ہی ان کی نظر مجھ سے ملی وہ ایک دم اچھلی اور اپنے خزانے کو اپنے ہاتھوں سے چھپا لیا لیکن وہ کہاں چھپنے والے تھے میں بھی ایک دم ہوش میں آیا اور جلدی جلدی باہر نکل گیا اور سیدھا طارق کے پاس جا کہ رکا ہمارے ڈیرے کے پاس ہی ایک گراونڈ تھا جہاں میں اور طارق اور ہماری کلاس کے کچھ لڑکے کھیلنے آتے تھے جیسے ہی ہم گراونڈ پہنچے میں ایک طرف بیٹھ گیا طارق نے پوچھنے کی کافی کوشش کی لیکن میں نے طبیعت خراب ہونے کا بہانا بنا دیا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والے حادثے کے بارے میں سوچنے لگا ایک دم میرے دماغ میں آیا کے اگر چاچی نے چاچا کو بتا دیا تو کیا ہو گا وہ تو مجھے جان سے مار دینگے پھر میں خود کو گالیاں دینے لگا کہ میں وہاں گیا ہی کیوں تھا خیر انہی سوچوں میں گم تھا طارق میرے پاس آیا کہا کہ چل چلیں راستے میں طارق۔یار اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتا تیرا بھائی ہے نا میں۔نہیں یار کوئی بات نہیں خیر طارق بھی چپ کر گیا تھوڑی دیر بعد طارق کا گھر آ گیا وہ اپنے گھر چلا گیا لیکن میرا بلکل بھی گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن کہاں جاتا جانا تو آخر گھر ہی تھا اوپر سے بھائی کا ڈر کہ وہ تو مجھے کاٹ کہ رکھ دیں گے خیر میں نے بھی سوچ لیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا کہ دوں گا کہ میں نے جان بوجھ کہ نہیں دیکھا میں گھر آیا تو سب کے موڈ تقریباً ٹھیک ہی تھے لیکن مجھے پھر بھی بہت ڈر لگ رہا تھا پر یہ ڈر اس وقت بڑھ گیا جب صوفیہ میرے کمرے میں آئی اور غصے سے کہا صوفیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں۔(ایک دم گھبرا گیا )ک ک ک کیا صوفیہ نے ایسا کیا کہا ہو گا جانیے اگلی اپڈیٹ میں
-
ایک جھلک
اپڈیٹ 3 بیک ٹو سٹوری ہم لوگ ساہیوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے طارق اور میرا بچپن ایک ساتھ گزرا تھا ہم بچپن سے کافی اچھے دوست تھے خیر ہم لوگ سکول سے نکلے اور گھر کی طرف چل پڑے میں۔یار طارق دیکھ یہ جو تو روز روز میڈم سدرہ کے بارے میں الٹا سیدھا بکواس کرتا ہے مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا طارق۔ہنستے ہوئے کہیں سے جلنے کی بو آ رہی ہے میں۔ایسی بات نہیں ہے یار وہ ہماری ٹیچر ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے طارق۔اچھا نا کیوں سیریس ہو ہا مذاق کر رہا ہوں خیر ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم گھر پہنچ گئے طارق کا گھر میرے گھر سے پہلے آتا تھا خیر میں بھی گھر پہنچ گیا ہمارے گھر میں آٹھ کمرے تھے جن میں چار ہمارے اور چار چاچا لوگوں کے تھے ہمارا صہن تھوڑا بڑا تھا جس میں ایک طرف ہمارے کمرے تھے اور سامنے کی طرف چاچا لوگوں کے خیر میں گھر پہنچا تو عمر(چاچا کا بیٹا) سامنے چار پائی پر بیٹھا تھا میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آگے چل پڑا سامنے سے امی آتی ہوئی دیکھائ دی امی نے میرا ماتھا چوما اور کہا امی۔آگیا میرا پتر میں۔جی امی آگیا جلدی کرو روٹی دیو بڑی پکھ(بھوک)لگی اے امی۔پتر توں انج کر دھا(نہا)لے میں روٹی لانی آں تے ہاں اپنی چاچی دے کار (گھر)دھا(نہا)لے کیوں کے اتھے (اپنے باتھ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) علینا نہاندی پئی ہے میں۔جی اچھا امی خیر میں اپنے کمرے میں گیا جوتے اتارے اور شڑٹ اتار کر بنیان میں چاچی کے باتھ روم کی طرف چل پڑا جیسے ہی میں باتھ روم کے دروازے پر پہنچا اندر سےچاچی سکینہ نکل رہی تھی اور میں انہیں دیکھ کہ سکتے میں آگیا کیوں کہ سامنے کا نظارہ ہی ایسا تھا چاچی کا تروتازہ چہرے جس سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں اور سیدھا ان کے ماموں پر گر رہی تھی چاچی کا پیٹ تھوڑا سا باہر نکلا ہوا مجھے سال نظر آ رہا تھا ان کے ممے جالی دار برا سے صاف نظر آ رہے تھے مجھے یوں آپنی طرف دیکھتا پا کر چاچی نے گلے میں ڈالا ہوا دوپٹا اپنے گورے مموں پر ڈال دیا اور مجھے بھی ہوش آیا چاچی۔(باتھ روم سے نکل کر)بیٹا کب آئے سکول سے میں۔چاچی بس ابھی دس منٹ ہوئے ہیں چاچی۔نہانے آئے ہو میں۔جی چاچی اصل میں ادھر علینہ نہا رہی ہے چاچی ۔اچھا بیٹا نہا لو میں۔چاچی صوفیہ کہاں ہے چاچی ۔بیٹا وہ تمہارے چاچا کہ ساتھ شہر گئ ہے خیر چاچی چلی گئ اور جاتے جاتے مجھ پر گہری نظر ڈالی خیر میں باتھ روم میں گھسا اور کپڑے اتار کے نہانے لگا نہاتے نہاتے ایک بار پھر چاچی کے ممے میرے آنکھوں کے سامنے آگئے میرے جسم میری ٹانگوں کے درمیان ہلچل ہونے لگی میرا لن تن چکا تھا لیکن میں نے خود کو برا بھلا کہا کہ نہیں یہ غلط ہے خیر میں نہا کہ نکلا سامنے سے سعدیہ آتی ہوئی دیکھائ دی میں۔آ میری گڑیا کیسی ہے(میں سعدیہ کو گڑیا ہی کہتا تھا) سعدیہ۔میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی چاچی۔(کچن سے)سعدیہہہہہہہ بیٹا بات سننا سعدیہ۔آئی امیییییییی یہ کہ کر سعدیہ اپنے کچن کی طرف چلی گئی اور میں اپنے کچن کی طرف کچن میں باجی بیٹھی تھی میں۔ارے باجی ایڈی گرمی وچ کچن اچ کے کردی پئی ایں باجی۔تیرا انتظار میں۔کیوں خیر ہووے باجی۔مینوں امی نے کیا ہے کہ نواب صاحب نوں روٹی دے پانڈے رکھ دسویں میں ہنسا اور روٹی کھانے لگا
Imranmanii
Active Members
-
Joined
-
Last visited