اس طرح شہر میں پہلے والی روٹین بن گی۔
توبا کو میں نے جان کر یاد نہیں کیا تھا۔
باقی یاد تو أتی تھی۔
کچھ دن تو کچھ بھی ایسا نہیں ھوا جس کا ذکر کیا جا سکے۔
یہ اتوار کا دن تھا گرمیوں کی وجہ سے چھت پر سوتے تھے۔
میں ایسے ہی چھت پر کھڑا تھا۔
سب گھر والے نیچے تھے۔
میں بھی جانے لگا تھا۔
ساتھ والی پڑوسن چھت پر کسی کام
سے أیٔ مجھ
دیکھ کر ایک بار دیکھا۔
اور اپنا کام کرنے لگی۔میں بھی کھڑا ھو کر دیکھنے لگا۔
پڑوسن کا نام انیلہ تھا بعد میں پتا چلا
تھا۔
انیلہ کپڑے دوھ کر أیٔ تھی۔
جب کپڑوں کا کام ختم ھو گیا۔
تو میں نے ہلکی سی اواز لگایٔ۔
کیا حال ھے ۔پھر تو کویٔ کوکرج نہی أیا۔
اور دیکھ کر مسکرا دیا۔انیلہ بھی میری بات سن کر ہنس دی۔
میرے پاس أیٔ اور بولی دو گھٹےبعد میرے گھر انا پھر کوکرج کو پکڑنا ھے۔
اتنی بات کر کہ انیلہ چلی گی۔
میں بھی انے والے وقت کو یاد کر کہ خوش ھو گیا۔
پھر وہ دو گھنٹے بھی گزر گیے
میں ان کہ گھر چلا گیا۔