Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 06/12/21 in all areas

  1. محترم ریڈرز آپ سب کے لیے ایک سٹو رہی لکھ رہا ہوں جو امید ہےآپ کو ضرور پسند آئے گی اس سٹوری میں آپ سب کی انٹرٹینمنٹ کے لیے سیکس ایکشن -ایموشن -حوس -محبت سب کچھ ملے گا معاشرتی مسائل میں گھرے لوگ وڈیروں کے ظلم زیادتی اور پھر ظلم کا حساب اس سٹوری کا خاصہ ہو گا آپ سب کو بتا تا چلوں کہ میں کوئی پروفیشنل رائٹر نہیں ہوں لیکن دل میں ایک شوق ہے رایٹنگ کا جو نامور رائٹرز کی سٹوری پڑھ پڑھ کر پیدا ہوا کہ میں بھی کوشش کرو ان جیسا تو نہیں لکھ سکتا پر کوشش ضرور کر سکتا ہوں بس مجھے آپ سب کی محبت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہو گی اور مجھے اپ سب پہ پورا یقین ہے کہ ضرور اپنے پیار میری کوشش پر نچھاور کریں گے آپ کے وقت کا بہت بہت شکریہ اتوار کو سٹوری اپ لوڈ کر دونگا آپ کی محبتوں کا طالب شیخ جی فار یو
  2. Mera naam Naila hai Karachi ki middle class family se hoon Kuch time pehle ye group join Kia hai tanhai Ka shikar hoon MERI apni story Boht interesting hai Mai is group Mai wo story share Karna chahti hoon ye ek sachi story hai is story k kirdaron Mai kum se kum 1 to is page Ka follower BHI hai may be wo pehchan le mujhe , ap readers Ka sath chahiye Mai ye pehli koshish Kar rahi hoon kindly mujhe advise den thank you Mai Roz parts Mai apni story share Karon gi Jese Jese waqt mila
  3. محترم قارئین! کہانی میں طویل تعطل کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ دراصل میرا لیپ ٹاپ چوری ہو گیا ہے اس لیے کہانی کی اگلی اپڈیٹ پوسٹ نہیں کر پا رہا۔ اگلے ہفتے کے دوران میرا نیا لیپ ٹاپ آ جائے گا اور آپ کو ایک طویل اپڈیٹ بھی مل جائے گی۔ اس کے بعد میں پوری کوشش کروں گا کہ کہانی کی اپڈیٹس تعطل کا شکار نہ ہوں۔
  4. Awesome attractive amazing applaude doctor sb kamal ki update hai
  5. سرائیکی ایک میٹھی زبان ہے یہاں کہانی میں کافی لطف دے رہی ہے ۔باقی پلاٹ تو اپ نے اچھا بنایا ہے جیسے کہ اپ نے بتایا یہ ایک سچی کہانی ہے دیکھتے جو ہم نے پہلے سن رکھے ہے چوٹو گینگ کے قصے وه اور اپ داستان میں کتنا فرق ہے ۔ میرے خیال میں اپ کو ہفتہ کا ایک دن اپڈیٹ کے لیے رکھ دے ۔ہم کو کنفورم ہو آج اپڈیٹ آنی ہے ۔
  6. پیارے بھائی آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے پر کریکٹر جو زبان بولتا ہے اس حساب سے لکھ رہا ہوں میں ویسے آبا سائیں کو سمجھاوں گا کہ وہ سرائیکی کو بجائے اردو میں بولا کریں آپ کی پسندیدگی کا شکریہ
  7. چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان Update 2 انسپیکٹر آصف نے فون اٹھایا اور کال ملا دی کچھ ہی دیر میں کال رسیو ہوی اور انسپیکٹر آصف بولا سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازت ہو مودبانہ لہجہ میں کہا دوسری طرف سے کہا گیا جی بتائیں سر بات دراصل یہ ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چھوٹو گینگ جس نے اس پورے علاقہ میں خوف اور دہشت پھیلارکھی ہے “آباسائیں “پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں باوثوق ذرائع سے یہ بھی خبر ملی ہے کہ ایسا کر کے وہ ظلماور بربریت کی ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس علاقے میں اپنی دھاک بیٹھا نا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان سےڈریں اور وہ آسانی سے اپنا بھتہ وصول کر سکیں میں نے “ابا سئیں “ سے بات کی اور ان کو پولیس تعینات کرنے کا کہا پرانہوں نے صاف انکار کر دیا وہ کوئی بھی بات ماننے سے انکاری ہیں آپ کو بتانے کا مقصد کہ جیسے اب آپ حکم دیںویسے ہم بندوبست کریں گے اوکے میں بات کر کے بتاتا ہوں دوسری طرف سے کہا گیا کال بند کر دی انسپیکٹر آصف نے گہرا سانس لیا سب انسپیکٹر ارسلان جو یہ سب بات سن رہا تھا نے کہا سر بہت ہی اچھا ہو گیا ہے آپ نے ڈی پی او صاحب کو بتا کر اپنا پوائنٹ رکھا ہے اب ہمارے زمہ کوئی بھی بات نہیںآئے گی خوشامدانہ لہجہ میں کہا تمہاری تجویز ہی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا انسپیکٹر آصف نے ہنستے ہوے کہا سب انسپیکٹر ارسلان کہا کہ سر اپ کی مہربانی ہے ورنہ میں اس قابل کہا ہوں سر کہ کر کرسی سے اٹھ اجازت طلب کرکے آفس سے باہر چلا گیا سردار چھوٹو کمرے کی جانب روانہ ہوا اور دروازے پر روکا وہاں دو مسلح افراد ٹہرے تھے جن کو دیکھ کر سردار نے کہاچھمییہ کہا ہے ہے ان میں سے ایک مسلح شخص نے کہا کہ سردار وہ اندر اپ کا انتظار کر رہی ہے بڑی للچائے ہوے لحجے میں کہا سردار نے جو اس ہی کے کندھے پر پڑا کپڑا کھینچا اور چہرے پر لگے خون کے چھینٹوں کو اس کپڑے سے صاف کر کےواپس اس شخص کے کندھے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھ سے لن کو مسل کر مسکراتا ہوا اندر داخل ہو گیا کمرے میں دونوں سائڈوں سے آگ جل رہی تھی جس کی وجہ سے پورے کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی سردار نے انچی آواز میں کہا میری چھمیہ کتنا انتظار کروایا ہے میرا لن تیری پھدی میں جانے کے لیے بے تاب ہے اپنےلن کو مسلسل مسلتے ہوئے کہا کمرے کے ایک سائڈ پر چٹائی پر تقریباً نو عمر بھرے بھرے جسم والی خوب صورت لڑکی بیٹھی تھی سردار کو دیکھ کر ایکدم اٹھی اور سردار کے قریب آ کر لن کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مسلتے ہوئے بولی سردار ان تین دنوں میں مجھے تو خود سکون نہیں آیا جو تیرے لن کے بغیر گزرے ایک تڑپ تھی تیرے لن کو اپنی پھدی میںلینے کے لیے تو تو سمجھ ہی نہیں سکتا یہ کہہ کر شلوار کا ازاربند کھولا لمبے اور موٹے لن کو باہر نکال کر اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا تمہاری یہی ادا تو مجھے تیرا دیوانہ بنائے ہوے ہے سردار چھوٹو نے مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے کہا چھمیہ نے لن کی ٹوپی منہ میں سے نکالی اور کہا کہ سردار تیرا لن کا سواد کمال ہے اور پھر سے لن منہ میں ڈال کر چوسنےلگ جاتی لن اتنا موٹا تھا کہ صرف اسکا ٹوپہ ہی منہ میں مشکل سے جا رہا تھا وہ بڑے انہماک سے چوس چوس کر منہ سے ہی پٹاخہ بجاتی اور سردار زور زور سے ہنسنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو اس کے بوبز کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے چھمیہمیرے لن کو چھوڑ پہلے اپنی قمیض اتار اور میں بھی تیرے گیندوں سے کھیلوں چل چھوڑ لن کو چھمیا نے لن کو چھوڑ کر اپنی قمیض اتاری جس سے اس کے چھتیس سائز کے سانولے خوبصورت بوبز باہر کو چھلکے اور کساہوا جسم جو کہ ایک دیہاتی عورت کا خاصا ہوتا ہے اس کا جسم جو کافی حد تک سانولہ پر جازب نظر اور کمال نظر آ رہا تھا سردار جو بوبز کو بڑی للچائی ہوی نظروں سے دیکھ رہا تھا نے چھپٹ کر اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا اور کہا کیا کمال کیگیندیں ہیں واہ اور یہ کہ کر بوبز کو چوسنا شروع کر دیا سردار چھتیس سائز کے بوبز کو چوستا رہا یہاں تک کہ چھمیاں کو درد محسوس ہونے لگا اور کہا سردار آرام سے میں کہی بھاگیتو نہں جا رہی ہوں سردار نے کہا چھمیہ تیری یہ گیندیں ہیں ہی کمال کے ان کو کھا جانے کو دل کرتا ہے سردار ایک سائڈ پر ہوا اور اپنے سارے کپڑے اتار دئیے اور چھمیہ کو بھی شلوار اتارنے کو کہا دونوں اس وقت بغیر کپڑوں کے ایک دوسرے کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے اور پھر چھمیہ نے سردار کےہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملایا اور چوسنا شروع کردیا سردار بھی جوش خروش سے اس کا ساتھ دے رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد چھمیا نے سردار کے سینے پر موجود بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی اور سردار کے سینے پر کالے نپلز کو منہ میںلے لیا مزے سے سردار کی آواز نکلی آہ آہ آہ اور پھر چھمیاں نے ایک بار پھر لن کی ٹوپی کو منہ میں ڈال لیا اور لن کے نیچے بالز کو ہاتھوں سے پکڑ کر دبانے لگیپوزیشن یہ تھی کہ سردار نیچے اور چھمیہ اوپر تھی کہ اچانک ہی سردار نے چھمیاں کو نیچے کیا اور خود اوپر آ کر اس کے بوبز کوچوسنا شروع کر دیا پھر اس کے جسم کے ہر حصے کو چومنا شروع کیا اور نیچے پھدی کے لبوں پر اپنا موٹا لن رکھا اور ایکزوردار جھٹکا مارا اور چھمیا کی چیخ نکلی اور وہ بلبلا اٹھی اس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات عیاں تھے اور سردار کو کہا ظالم آرام سے اندر ڈال اس جھٹکے میں صرف لن کی ٹوپی ہی گئی سردار رکا پھر سردار نے اپنا لن باہر نکالا اور پھر آہستہ اندر ڈالا تنگ پھدی اسبات کی گواہی دے رہی تھی کہ زیادہ اس کو استعمال نہیں کیا گیا پھر پھدی میں لن ڈال کر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگاجس سے چھمیا کی مزے سے آنکھیں بند ہو گئی اور اس کے منہ سے آوازیں نکلنا شروع ہو گی آہ آہ آہ سردار کے لن کی ٹوپی کے مزے سے پھدی میں لیس دار پانی کی وجہ سے لن قدرے بہتر اندر باہر ہو رہا تھا کہ اچانک طاقت ور جھٹکا دیا سردار نے ساتھ ہی چھمیہ کی چیخ نکلی اور آدھا موٹا اور لمبا لن سخت پھدی کے اندر جا سکاایک اور طاقت ور جھٹکے کے ساتھ پورا لن اندر چلا گیا اور سردار پھر رکا اور آہستہ آہستہ لن کو ہلانے لگا چھمیاں کا اسآخری جھٹکہ کے ساتھ پورہ جسم لرز اٹھا تھا راڈ کی طرح سخت لن موٹا ہونے کی وجہ سے پھدی کے پڑخچے اڑانے کیصلاحیت رکھتا تھا سردار اپنے جھٹکوں کو آہستہ آہستہ اضافہ کرتا گیا اور پورے کمرے میں دونوں کی آواز سرور سے بھریمست آوازیں گونجنے لگی ایسا لگ رہا تھا کہ اس چدائی کا دونوں ہی مزا لے رہے ہوں اب لن کافی حد تک اندر باہر آسانی سے ہو رہا تھا اور سردار کے طوفانی جھٹکوں کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی کہاچانک ہی چھمیہ کا جسم اکڑا اور پھودی نے پانی چھوڑ دیا جب کہ سردار کے جھٹکے با دستور لگتے رہیں کچھ ہی پل میں سرداربھی پھدی میں اپنا پانی چھوڑ کر ریلیز ہو گیا اور چھمیہ کے اوپر لیٹ کر ہونٹوں کو چوسنے لگا لن پھدی کے اندر ہی رہنےدیا ابا سائیں چودائی کے بعد دھوتی پہن کر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو آواز دی “بلا “کتھاں مر گئی (کہا مر گیا ہے) ایک جانب سے وہی بلی سی آنکھوں والا بھاگتا ہوا آیا حکم کرو سائیں اندر ونج ڈیکھ او چھوکری اگر جیندی ہے تا ہوکو کتھائی سٹ آ مر گی ہے تا جنگل وچ پور آ (اندر جا کر دیکھو کہ لڑکی زندہ ہے تو کس جگہ اسے پھینک او جبکہ مر گئی ہو تو جنگل میں جا کر اسے دفن کر دو ) جو حکم “ابا سئیں “ بلا نے سن کر جواب دیا ابا سئیں یہ کہ کر ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب گیا اور بیٹھ گیا یہ وہی کمرہ تھا جہاں پر اس ایچ او سے فون پر بات ہویتھی وہاں موجود ملازم جس کا نام عطی تھا کو کہا ونج میڈے واسطے کھاونڑ دا بندو بسط کر میں دھاں کے امدا پیاں (جاؤ میرے لیے کھانے کا بندوبست کرو میں نہا کر آ رہا ہوں ) ابا سئیں نہانے سے فارغ ہو کر کھانا کھایا اور ڈیکار مار کر بولا عطی ! اے ڈس بلا نے کیا کیا انتظام کیتے ہوں کنجر گانڈو واسطے ابھی عطی بتانے ہی والا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی عطی نے فون جو ایک سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا کو اٹھا کر ابا سائیں کو دیا ابا سئیں کال اٹھا کر بولا جی کونڑ بولیندا پائیں کون بول رہا ہے دوسری طرف سے باوقار لہجہ میں کہا گیا ڈی پی او عارف نواز خان میں صدقے تھیواں آج کیوے صاحب بہادر بھول پیے ہین شکر ہے ساڈی یاد تا آئیں (میں صدقے جا آج کیسے ڈی پی او صاحب بھول کر یاد کر بیٹھے ہیں شکر ہے میری یاد تو آئی ) ابا سائیں آپ کو تو پتہ ہے کہ میں بہت مصروف رہ جاتا ہوں اس ضلع میں کام کا برڈن بہت زیادہ ہے ورنہ آپ کو تو میںضرور کال کرتا ڈی پی او عارف نواز نے کہا جیا سائیں جیا میکوں پتہ ہے کہ صاحب بہادر مصروف رہندے پر سجنڑاں واسطے ٹائم کڈھ گنیدے قبلہ ہنڑ حکم کرو یادکیویں کیتا ہوے (جی مجھے پتا ہے کہ آپ مصروف ہوتے ہیں پر سجن دوستوں کیلئے ٹائم نکالنا پڑتا ہے اب حکم کریں کیسے یاد کیا ) ضرور جناب ضرور میں وقت نکال کر آونگا آپ کے پاس اج مجھے ایس ایچ او کی کال آئی تھی بتا رہا تھا چھوٹو گینگ کےبارے میں کہ وہ آپ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں آپ سے ایس ایچ او نے پولیس تعینات کرنے کا کہا پر آپنے انکار کر دیا ابا سائیں بولا صاحب بہادر اے ٹھیک ہے کہ میں تہاڈی عزت کریندا پر ہندا اے مطلب نہیں کہ تسا میڈی توہیں کرومیں نا مرد نہیں ہاں جو پولیس دا سہارا گہنا میں اپنے دشمنا نال نبڑن جانڑدا میں خود ہوکو ایسا سبق ڈیسا کہ کہ او مر کے ویمیکوں کینا بھل سکسی تسا پریشان نہ تھیوں غصے سے ابا سائیں نے فون بند کر دیا (ابا سائیں نے کہا کہ ڈی پی او صاحب یہ بات ٹھیک ہے کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپمیری توہین کریں میں نامرد نہیں ہوں جو پولیس کا سہارا لوں میں اپنے دشمنوں سے نپٹنا جانتا ہوں میں خود اس کو ایسا سبقدونگا کہ وہ مر کر بھی یاد رکھے گا ) انسپیکٹر آصف اپنے آفس میں موجود فائلوں کو پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی آفس کے باہر شور شرابہ سنائی دیا جو انسپیکٹر کو ڈسٹرب کر رہا تھا تو اس نے بیل دی باہر موجود سپاہی اندر داخل ہواسلیوٹ کیا تو انسپیکٹر آصف نے کہا کہ یہ کیا باہر شور ہے کیا مسلۂ ہے تو اس سپاہی نے کہا کہ سر باہر ایک بڑھا آیا ہوا ہے جو اپنی بیٹی کو گمشدگی کی رپٹ لکھوانا چاہتا ہے اور زاروقطار رو رہاہے ایک دم سے اس کو یاد آیا کہ جب وہ تھانے آ رہا تھا تب ایک بوڑھا اس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا یہ خیال آتےہی وہ اٹھا اور باہر آ کر دیکھا تو تھانہ کے منشی کے روم سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ اس جانب چلا گیا ہولدار اورتھانہ کا منشی ایس ایچ او آصف کو دیکھ کر کھڑا ہو کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے اس بوڑھے کو دیکھا جو وہی بوڑھا تھا جو راستے میں ملا اس نے بوڑھے کو مخاطب کر کے کہا میرےآفس میں آؤ مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے وہاں ٹھرے سپاہی کو کہا کہ ان کو میرے آفس لے آؤ یہ کہ کر انسپیکٹر آصف اپنےآفس کی جانب روانہ ہوا بوڑھے نے جب انسپیکٹر کو دیکھا ایک دم سے چونک گیا اور خاموش ہو کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا آفس کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف نے جب بوڑھے کو اپنے آفس کے دروازے پر دیکھا تو کھڑے ہو کر ایک جانب آفس میں موجود کرسی پر بیٹھایا اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا بزرگ کے ساتھ آیا ہوئے سپاہی کو کہا بابے کے لیے پانی لے آؤ سپاہی باہر گیا پانی لے آیا بابے کو دیا بابے نے پانی پیا اور انسپیکٹر نے سپاہی کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور وہ باہر چلاگیا انسپیکٹر آصف نے کہا کہ سب سے پہلے میں معافی چاہتا ہوں کہ راستے میں آپ سے جو غیر مناسب رویہ رکھا امید ہے کہآپ مجھے معاف کر دیں گے میں بہت شرمندہ ہوں شرمندہ سے لہجہ میں انسپیکٹر آصف نے کہا بابے نے کہا بیٹا معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کرو میں سمجھتا ہوں آج کل کے نوجوان غصیلے ہیں میں بہتر جانتا ہوںکیونکہ میں سرکاری سکول میں ہیڈماسٹر رہا ہوں بیٹا بس میں صرف اپنی بیٹی کی گمشدگی کے بارے میں رپٹ لکھوانا چاہتا ہوں جو دو دنوں سے غائب ہے میں نے اسے ہرجگہ ڈھونڈا پر کہی بھی اس کا کہی بھی آتا پتہ نہیں ملا بیٹا بس میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرو میرا اس کے علاوہکوئی نہیں بوڑھے نے ابدیدہ ہو کر کہا انسپیکٹر آصف نے کہا آپ پریشان نہ ہوں آپکی بیٹی کو ڈھونڈنے میں آپ کی بھرپور مدد کرونگا اور بیل بجائی باہر ٹھہرہ ہوا سپاہی اندر آ کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر نے تہمکانہ لہجہ میں کہا کہ ارسلان کو بلاؤ جی سر سپاہی کہہ کر باہر بلانے چلہ گیا تھوڑی ہی دیر میں سب انسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور ایک جانب بیٹھ گیا بزرگو آپ کا نام تو میں پوچھنا ہی بھول گیا انسپیکٹر آصف نے کہا میرا نام کرم دین ہے بوڑھے نے اپنا نام بتایا ارسلان یہ کرم دین ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ دو دن سے ان کی بیٹی غائب ہے ہر جگہ تلاش کر چکے ہیں پر کہی بھی اس کا پتہنہیں چل سکا ان کو لے جاؤ پوری ڈیٹیل لے کر سب سے پہلے ان کی بیٹی کی تلاش کرو اور مجھے رپورٹ کرو انسپیکٹر آصفنے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے جوابا کہا جی سر جو آپ کا حکم کرم دین ٹھا اور انسپیکٹر آصف سے مخاطب ہو کر کہا میں آپکا شکر گزار ہوں اپ کی مہربانی مجھ جیسے غریب پر مہربانی کر رہے ہیں میں آپ کا احسان مند رہونگا ہمیشہ اوردعائیں دینے لگا انسپیکٹر نے کہا بابا جی اپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں میں تو پہلے ہی شرمندہ ہو جو شام کا واقعہ ہوا بس اپ مجھے اپنا بیٹاسمجھیں میری تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں اٹھ کر انسپیکٹر نے کرم دین کو گلے لگایا اور کرم دین پر نُم انکھوں ارسلان کے ساتھ افس سے باہر نکل گیا بل بجائی اور سپاہی کو بولا منشی کو بلا لاؤ منشی نے آتے ہی سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے کہا جاؤ چھوٹو گینگ کے جرائم کی مکمل فائل میری گاڑی میں رکھوا دو میںگھر جا رہا ہوں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مجھے سے موبائل پر رابطہ کر لینا یہ کہہ کر انسپیکٹر آصف باہر جانے کیلے اٹھ کھڑاہواگاڑی میں بیٹھا اور منشی سے فائل لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا بگو سردار چھوٹو کی بات سن کر ایک طرف جہاں گھنہ اور تاریک جنگل کی طرف روانہ ہوا وہاں چھ مسلح افراد تھے ان کوجا کر کہا چلوں شہر کی طرف چلو موٹر سائیکلیں لے آؤ اور ساتھ میں کلہاڑیاں بھی لے انا یہ سن ان میں سے تین بندے گیے اور تین موٹر سائیکلیں 125 سی سی لے آئے اور وہ چھ مسلح افراد تین موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر شہر کی جانب نا ہموار سے راستوں سے شہر کی جانب توانا روانہ ہوئے راستہ میں ایک مسلح شخص نے پوچھا کہ بگو خیر تو ہے آج کہاں واردات کرنے کا ارادہ ہے بگو مسکرایا اور کہا تو بس دیکھتا جا آج کافی مال اکٹھا کرنا ہے باتیں کرتے کرتے وہ لوگ مین روڈ پر جہاں چھوٹے اوربڑے درخت سڑک کے کنارے پر لگے ہوئے تھے پہنچ گئے بگو مین روڈ کے ایک سائڈ پر رکنے کا اشارہ کیا موٹر سائیکل سوار رک گئے چلو اس درخت کو کاٹو بگو نے ایک جانب درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دو مسلح افراد نے اپنی اپنی کلاشنیں ایک شخص کو دے کر درخت کو کاٹنے لگے کچھ ہی دیر بعد درخت کٹ کر زمین بوسہوا اس کو سڑک کے درمیان ڈال کر سائڈوں پر لگے درختوں کے پیچھے چھپ جاؤ بگو نے کہا اب منظر یہ تھا کہ کہ سڑک درخت کی وجہ سے بلاق ہو گئی تھی کچھ ہی دیر بعد ایک اے پی وی وین دور سے آتی دیکھائی دی بگو زیر لب مسکرایا اور کہا پہلا شکار آ رہا ہے وین ڈرائیور نے گرے درخت کو دیکھ کر زور دار بریک لگائی پر پھر بھی درخت سے چند انچ کی دوری سے ٹکراتے بچییں اے پی وی کے رکتے ہی مسلح افراد نے اس کا گھیراو کر لیا اور گنیں تان کر ڈرائیور کو نیچے اتارنے کا اشارہ کیا بگو گےبڑہااور ایک زور دار تھپڑ ڈرائیور کو دے مارا تھپڑ کھا کر خوف زدہ ہو کر اپنا گال مسلنے لگا جبکہ اے پی وی میں موجود سواریاں جن بچے اور عورتیں بھی شامل تھی اسناگہانی صورت حال میں خوفزدہ دیکھائی دے رہے تھے بگو نےسب کو نیچے آنے کا کہا سب کے سب لوگ وین سے نیچے اتر کر ایک سائڈ پر ہو لیے میں آب سب کو کچھ نہیں کہونگا جو جو کچھ ہے سب کا دے دو اگر کسی نے کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو انجام کا وہخود زمہ دار ہو گا سب نے چپ چاپ جو کچھ بھی تھا نکال کر دے دیا چوں چراں کیے بغیر نکال کر دے دیا اتنے میں ایک بس آتی دیکھائی دی تو بگو نے سب کو چیخ کر کہا سائڈ پر ہو جاؤ بس کو لوٹنا ہے بس بھی حسب توقع گرےدرخت کے پاس آ کر رکی بگو جونہی درخت کی آوٹ سے باہر نکلا فائر کی آواز آئی اور بگو زمین پر جا گرا
  8. رائٹر کا ہوم ورک مکمل نہیں ہے کہانی چھوٹو گینگ کی ہے لیکن منظر کشی لادی گینگ کی کی جا رہی ہے وہ حالیہ واقعات کی رائٹر کا اناڑی پن اور اسکی زاتی تسکین کو حاصل کرنے کی بھونڈی کوشش ہے
  9. پیارے بھائی میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں پر مجبوری تھی کیوں کہ یہ ایک رئل کرائم سٹوری ہے جو سچے واقعات پر مبنی ہے اگے جا کر اس سین کی وجہ معلوم ہوگی کہ یہ کیوں دیا گا آپ کے کمنٹ کا میں تہ دل سے شکریا ادا کرتا ہوں آیندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا
  10. سر جی ایکسیلنٹ کمال کا پلاٹ ہی کہانی کا گراؤنڈ بہت ہی اعلیٰ ہے۔ اور اُمید کرتا ہوں ہمیں بھی کچھ سیکھنے کو مل سکے گا۔ لگے رہو جناب۔
  11. update 1 چھوٹو گینگ (ظلم کی ایک سچی داستان) جہازی سائز بیڈ پر20 سالہ خوبصورت لڑکی شلوار قمیض میں ملبوس تھی جس کے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف رسی سے بندھے ہوئے تھےبکھرے بال خوفزدہ پر نم اور سہمی نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی کمرہ کشادہ اور نفاست سے سجا ہوا تھا جگہ جگہ دیواروں پر لگی خوبصورت پنٹنگز کمرہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھیں اعلی فرنیچر کامعیار مکین کے دولت مند ہونے کی گواہی دے رہا تھااچانک ہی سائڈ سے کمرے کا دروازہ کھلا اور اور ایک لمبا ترنگا تقریباً 45 سال کا مضبوط جسامت والا اور بڑی بڑی مونچھوں والا دھوتی اور قمیض میں ملبوس شیطانی مسکراہٹ لیے لڑکی کی جانب گھورتا ہوا اس خوبصورت کمرہ میں داخل ہوا اس کی آنکھوں میں بلاکی حوس اور درندگی عیاں تھی - مونچھوں کو تاؤ دیتے کینہ طور نگاھوں سے لڑکی کی جانب بڑھا- معصوم لڑکی نے جب اس کو دیکھا تو دہشت زدہ ہو کر اور روہانسی سی صورت بنا کر گڑ گڑاناشروع کر دیا مجھے چھوڑ دو — کے لیے پلیز میرے ساتھ غلط مت کرو -میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بابا پریشان ہو رہے ہوں گےزاروقطار روتے ہوئےآپنے ہاتھوں کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی پر مضبوط رسی سے بندھا ھونے کی وجہ سے آزاد ہونےکوشش میں کامیاب نہ ہو پا رہی تھی زور لگانے اور اور آزاد ہونے کی کوشش میں اس کی نازک کلائیوں سے لال سرخ نشان اورکہی کہی سے خون رستا صاف دیکھائی دے رہا تھا پر اس شیطان صفت شخص پر کسی بھی آہو بقا کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا - شیطانی مسکراہٹ لیےلوفرانہ نگاہ اس کے بھرے بھرے جسم پر ڈالی اور کہا نوٹ (سرائیکی بیلٹ کے وڈرے آپنی مادری زبان سرائیکی کو کافی اہمیت دیتے ہیں اور وہ ہمیشہ ہی آپنی مادری زبان میں بات کرنےمیں فخر محسوس کرتے ہیں اس لیے اس سٹوری کے کرکٹر “آبا سائیں “ بھی ہر کسی سے سرائیکی میں بات کرتا ہے قارئین کی سہولتاور بات کو سمجھنے کے لیے اردو میں ترجمہ موجود ہے اب آتے ہیں سٹوری کی طرف ) کہ تو وڈی سوہنڑی ہیں (تم بہت خوبصورت ہو )آج واقعی مزا آئ ویسی تیڈی پھدی وچ لن ڈے کے (تمہاری پھدی میں لن دے کریہ کہ کر اس نے اپنی انگلیوں سے چہرے سے بالوں کی ایک لٹھ کو سائڈ کیا اور زخمی کلائیوں کو دیکھتے ہوئےلوفرانہ انداز میں بولا میڈی جان کیوں ہناں نازک کلائیاں کو درد ڈیندی پئی ہئیں میں جیویں اکھاں اوے کر وڈا مزا آ سی آج تک ایہو جی مزا کہی نے نہڈتا ہوسی تو میکوان زندگی بھر نوی بھل سکدی میڈی گال من چا یہواوڑا تے تو ہے زبردستی یہوہیسے تاں درد بہوں تھی سی اگو تیڈیمرزی (جان من کیوں ان نازک کلایئیوں کو اذیت دےرہی ہوں میں جو کہتا ہوں ویسے کرو بہت مزا آئے گا آج سے پہلے کبھی بھی ایسامزہ کسی نے نہ دیا ہو گا اور نہ ہی دے سکتا ہے تم مجھے زندگی بھر نہ بھول پاؤ گی میری بات مان لو ابھی میں پیار سے سمجھا رہا ہوںچودنا تو تمہیں ہے زبردستی چدواو گی تو تکلیف تمہیں ہی ہو گی آگے تمہاری مرضی کہ کر ) اس نے قمیض کو پکڑکر پھاڑ دیا جس سے اس کے 34سائز کے براءمیں قید سفید ممے عیاں ہوگئے لڑکی زارو قطار روئے جا رہی تھی اور اپنی برہنگی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور منت سماجت کر ہی تھی اور چیخ چیخ کر رحم کی بھیک مانگ رہی تھی پر اس شخص کو اس پر رحم نہیں آ رہا تھا اس نے شیطانی قہقہ لگایا اور ایک ہی جھٹکہ میں اس نے مموں کو براہ سے آزاد کر دیا پھر اپنی انگلیوں سے نپلز کو مسلنا شروع کیادیا لڑکی زارو قطار چیخ رہی تھی مجھے بچاو کوئی ہے مجھے بچاؤ ——-کے لیے اس سے بچاؤ کہتے ہوۓاپنے برہنہ مموں کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب کہ وہ شخص اس کی چیخوں سے خوش ہو رہا تھا کہ اچانک زور زور سے دروازہ بجنے کی آواز آئی شام کا ٹائم تھا تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان چشمہ لگائے تیز میوزک کی میں انگلشدھنوں کی آواز پر تیز رفتاری سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اچانک سے وہ چونکا اور زور دار بریک لگائی گاڑی لڑکھڑائی۔ پر اس نے بڑی مہارت سے گاڑی کو کنٹرول کیا اور گالیاں بکتا ہوا گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا آگے ایک بوڑھا موٹا چشمہ لگائے لاٹھی کے سہارے سڑک کے بیچ و بیچ گاڑی سے چندانچ کی دوری پر ٹھہراہوا ٹکٹکی باندھے گاڑی کودیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر دنیا بھر کا درد اور تکلیف عیاں تھی اگر بروقت بریک نہ لگتی تو بڑھے کی موت یقینی تھی اندھے ہو کیا مرنے کا ارادہ ہے تمہیں اتنی بڑی گاڑی نظر نہیں آ تی اگر لگ جاتی تو تمہاری ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی نوجوان نے شدید غصہ سے اور تکبر سے چیخ کر کہا بیٹا کاش کہ میں مر جاتا آج کیوں بچایا ہے مار ہی ڈالتے ایسی ذلت اور رسوا زندگی سے تو مو ت ہی اچھی بوڑھے نے بے چار گیسےکہا اور زارو قطار رونا شروع کر دیا نوجوان نے بے زاری سے بوڑھے کی بے چارگی کی پرواہ کیے بغیر ایک جانب دھکیلا اور کہا کسی اور گاڑی کے نیچے مرو جاؤ بڑبڑاتےہوئے گاڑی میں سوار ہوا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی کال رسیو کرکے غوصیلے لہجے میں بولا کیا مسلۂ ہے دوسری طرف سے جواب سن کر چہرے کے تاثرات بدلے اور بولا اچھا تم وہیں رکو اور پوری تیاری کرو میں آ رہا ہوں کال کاٹ دی اورغصہ سے بوڑھے کی جانب دیکھا اور تیز رفتاری سے گاڑی اگے کی طرف بڑھا دی پولیس سٹیشن میں اس وقت بھونچال سا آیا ہوا لگ رہا تھا پوری فورس میں اس وقت ایک خوف اور ڈر نظر آ رہا تھا ایسا لگ رہاتھا کہ کسی خطرناک بندے کے خلاف پوری فورس سے کاروائی کا ارادہ ہے اچانک سے باہر سے کانسٹیبل کی آواز آئی صاحب آ گئے باہر سے وہی کار والا نوجوان نمودار ہوا باروعب انداز میں ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب بڑھا یہ نوجوان جس کا نام انسپکٹر آصف تھا جو ڈیرہ غازی خان کے تھانے میں حال ہی میں ایس ایچ او تعینات ہوا تھا فطرط بدماغ اورمغرور سمجھا جاتا تھا آ کر کرسی پر شان بے نیازی سے بیٹھا باہر سے ایک پولیس کا جوان اندر داخل ہوا سلیوٹ کیا اور کمرہ میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا ہاں بتاؤ کیا خبر ملی ہے انسپکٹر آصف نے پوچھا پولیس کے جوانوں نے کہا کہ سر خبر یہ ہے چھوٹو گینگ نے “آبا سائیں “کے گھر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہا ہے کسی بھی وقتانہوں نے حملہ کرنا ہے اگر ہم نے ان کو زندہ پکڑنا ہے تو یہ موقع بہترین ہے انسپکٹر آصف نے کہا کہ تم لوگوں نے کیا پلان بنایا ہے اسے پکڑنے کا اور کیا “ابا سائیں “کو پتا ہے اس حملے کا ؟؟؟ پولیس کے جوان جس کا نام سب انسپیکٹر ارسلان تھا نے پر جوشیلےانداز میں کہا سر ہم پولیس کو تین لیرز میں تقسیم کریں گے تاکہ چھوٹو گینگ کسی بھی صورت بچ کر نکلنے میں کامیاب نہ ہو جایےاگر ہم سادہ کپڑوںمیں پوری حویلی میں پولیس کے جوانوں کو تعینات کر دیں گے اور کچھ حویلی کے باہر اور کچھ جوان مین روڈ پر تو ہم ان کو پکڑنے میںکامیاب ہو جائیں گے یہ لوگ کچھ دن وہاں رہیں گے آبا سائیں کے ملازموں کی جگہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار موجود ہونگے جب حملہ ہو گا تو یہ لوگ چھوٹو گینگ مقابلہ کر کے کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے گے اور سر جہاں تک “ابا سائیں “ کو بتانے کی بات ہے آپ کو تو پتہ ہے کہ وہ کسی کی بات بھی نہیں مانیں گے تو سر اپ ان کو ساری بات بتا دیں اور کوٹھی کو خالی کرا کر پولیس اہلکار تعینات کروا دیں مجھے امید ہے “ابا سائیں “ اپ کی بات کو نہیں ٹائلیں گے انسپکٹر آصف نے ان کا پلان اور باقی باتیں سن کر سر ہلایا اور کہا کہ آپ لوگ تیاری کرو میں “ابا سائیں “ سے بات کرتا ہوں انکو منانے کی کوشش کرتا ہوں سب انسپیکٹر ارسلان سلیوٹ کر کے کمرہ سے باہر چلے گیا انسپیکٹر آصف نے موبائل اٹھایا “ابا سائیں “ سے بات کرنے کیلیے نمبر ڈائل کیا فون اٹینڈ نہ ہونے پر پھر ڈائل کیا تو وہاں سے کالرسیو کی اور بولا جی سئی کون بولیندے پیئے ہوئے (کون بول رہا ہے) ابا سائیں کہا ہیں ان سے بات کرواؤ۔ انسپکٹر آصف نے تہمکانا لہجے میں کہا دوسری جانب سے کہا گیا سائیں ابا سائیں مصروف ہین گال نہیں کر سکڈے۔ (ابا سائیں مصروف ہیں بات نہیں کر سکتے) تم میری بات کرواو کہو کہ انسپیکٹر آصف بات کرنا چاہتا ہے اباسائیں کی زندگی اور مو ت کا سوال ہے جلدی کرو انسپیکٹر آصفنے غصیلے لحجے میں کہا ——نہ کرے۔ کہیوں جی گالہیں کریندے پیہیوے ایوے تھانیدار صاحب نہ اکھو سائیں میں گال کروینداں ملازم نے گھبراکر کہا (کیسی باتیں کر رہیں ہیں ایسی بات مت کریں میں بات کرواتا ہوں ) دروازہ زور زور سے بجنے کی آواز سن کر لمبا ترنگا شخص جو دراصل “ابا سائیں” تھا غصہ سے چیخ کر بو لا کون ہے؟ باہر سے جواب آیا سائیں میں تہاڈا خادم ہاں (سائیں میں آپ کا خادم ہوں ) کیا مرنا تھی گئ زور زور دی دروازہ وجیندہ پائیں نامراد گڈو دماغ ہا “ابا سائیں” نے غوصیلے لحجے میں دروازہ کھولتے ہوئےکہا (کیا مسلا ہو گیا ہے جو دروازہ بجا رہا ہے تو گدھے کے دماغ والے نامراد ) سائیں اوھ تھانیدار دا فون آیا ہے آدھا پیا ہائی تھاڈی زندگی تے موت دا مثلا ہے گال کرواو جلدی ملازم نے ڈرتے ڈرتے کہا (سائیں وہ انسپیکٹر کا فون آیا ہے بول رھا تھا کہ آپ کی زندگی اور موت کا مثلا ہے بات کرواوں ) ابا سائیں نے چونکتے ہی دوسرے روم میں موجود فون کی جانب بڑھا اور فون اٹھا کر بات کی ہاں وے تھانیدار کی تھی گے کوئی نشہ تا نہیں کیتی ودہ کندھے وچ اتنی ہمت ہے جو میڈی زندگی او موت دی گال کرے میں ہندیماں بھیںڑ تے کتے نا چڑہا ڈیسا ڈس میکوں (ہاں انسپکٹر کیا ہو گیا ہے کوی نشہ تو نہیں کیا کس ہمت ہے جو میری زندگی اور موت کی بات کرے میں اس کی ماں اور بہن پرکتے نہ چڑھا دونگا ابا سائیں دراصل بات یہ ہے انسپکٹر آصف نے پوری حملہ کی تفصیل اور پکڑنے کا پلان بتا دی جسے سن کر آبا سائی نے کہا وے کنجرا تیکو کینی پتا کہ میں آپڑنی حفاظت خود کر سکدا آہ جو سانڈ پالے ہوئے ہین آہ جت مرواونڑ دے کم اسن میکوں تیڈی پولیستے بھروسا کینی میں ھوں گانڈو کو آپ منٹ گھنسہ تیکو فکر کرنڑ دی ضرورتکینی (آوے کنجر تمہیں نہیں پتا کہ میں اپنی حفاظت خود کر سکتا ہوں یہ جو میں نے سانڈھ نما بندے رکھے ہوے ہیں وہ کیا گانڈ مروانے کےکام آیے گے اس گانڈو کی سے میں خود نپٹ لونگاتو فکر نہ کر یہ کہ کر غصہ سے فون پٹکھ دیا) جنگل میں ایک کچے کمرےمیں ایک طرف آگ جل رہی تھی جس سے تاریک کمرہ روشن تھا کمرے میں تین مسلح افراد ایکزنجیروں میں جکڑہ ہوا اور گلے میں پٹہ بندھا ہوئےایک شخص کو بری طرح لاتوں اور گھوسوں کی مدد سے پیٹ رہے تھےنوجوان کیچیخوں کی آواز پورے کمی میں گونج رہی تھی ہماری مخبری کرتا ہے ابھی بتاتا ہوں تجھے ان تینوں میں سے ایک شخص نے کہا جو ان کا سردار لگ رہا تھا نے مارتے ہوے کہا بگو جاؤ چھرا لے آ جی سردار بگو باہر کے دروازے کی طرف گیا اور کچھ ہی دیر بعد ایک بڑا پھل والا چھرا لے آیا جسے دیکھ کر نوجوان خوف زدہ ہو کر چلانے لگا ——— کے لیے مجھے چھوڑ دو جیسا تم کہو گے میں ویسے کرنے کیلیے تیار ہوں مجھے معاف کر دو مجھ سے غلطی ہو گئی ————- کے لیے مجھے چھوڑ دو آئندہ میںایسی حرکت نہیں کرونگا میں ہمیشہ تمہارا وفادار بن کے رہو گا مجھے چھوڑ دو وہ شخص گڑگڑا کے دوھایاں دیتا رہا پر سردار کو اس پر تھوڑہ بھی رحم نہ آیا بلکہ اس نے کہا تو آیندہ کی بات کرتا ہے آیندہ تو اس قابل ہو گا تو کچھ کرے گا پکڑو اس کے ہاتھ دو مسلح افراد نے اس کے ہاتھ پکڑے سردار نے لمبے پھل والی تیز دھارچھری لے کر اس کے بائیں بازو پر چلانا شروع کر دیا جیسے وہ انسان کی بجائی کسی بھیڑ بکری کوکاٹ رہا ہو اور سفاکانہ لہجہ میں کہا کہ میں پہلے تیرے بازوں کو کاٹوں گا پھر تیری زبان پھر تیرے کان اور پھر تیری ٹانگیں وہ نوجوان درد کی شدت سے بے حال ہو کر چیختا چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کا داہنا بازو بھی کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا درد کی شدت سے وہ شخص بے حوش ہو گیا خون کے فواروں سے سردار کا حاتھ خون سے سرخ ہو گیا اور خون کے چھینٹوں سے اس کا چہرہ انتہائی حیبت ناک لگ رہا تھا چھوٹے قد کا مضبوط جسامت والا اور سفاک ہیبت ناک شکل والایہ سردار کوئی اور نہیں چھوٹو گینگ کا سردار چھوٹو تھا جو اپنےچھوٹے قد کی وجہ سے چھوٹو بلایا جاتا تھا انتہائی حد درجہ سفاق اور فطرط کمینہ شخص تھا ارد گر کے گاؤں کے لوگ اس سے بہت خوف زدہ رہتے کیوں کہ یہ درندہ صفتانسان تھا انسانوں کو اذیت دے کر قتل کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا اس کے ساتھی ڈاکو تک اس کی درندگی کی وجہ سے اس سےخوف زدہ رہتے تھے اس کی دہشت کوسوں دور تک پھیلی ہوئی تھی دونوں ہاتھوں کو جسم سے الگ کر کے اس نے اپنی زبان نکالی اور الگ ہوئے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا چوسنے لگا اور قہقہ لگا کر کہتا ہے اس نا مراد کے خون کا زایقہ تو کمال ہے چلو باقی کل اس کی زبان کاٹیں گے اج کیلیے اتنا کافی ہے سفاکانہ لہجے میں کہا یہ کہہ کر سردار اس کمرہ سے باہر نکلا اور اور چلا کر بولا بگو۔ جو کمرہ میں موجود تھا باہر آیا اور کہا کہ جی سردار وہ آج چھمیاں نے انا تھا وہ کہا ہے میرا لن اس کی پھدی میں جانے کیلئے بے تاب ہے اپنے لن کو شلوار کے اندر سے ہی مسلتےہوئے کہا سردار وہ یہاں آ گئی ہے آپ مصروف تھے تو نہیں بتایا آپ ہی کا انتظار کر رہی ہے بگو نے خوشامدانا لہجے میں کہا سردار چھوٹو نے خوش ہوتے ہوئے کہا چلو پھر آج کی رات چھمیاں کا رس پیتا ہوں ارے ہاں رکو خبر ملی تھی پولیس ہمیں پکڑنے کی تیاری کر رہی ہے اس کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرو ایسا کاری وار کریںگے کہ آیندہ ہمارے بارے میں سوچ کر بھی ان کو خوف آئے گا یہ کہہ کر ایک سائڈ پر بنے کچے مکان کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف کیلے جس لہجہ میں “آبا سائیں” نے بات کی اور کال کاٹی شدید ناقابل قبول تھا جس کی وجہ غصہ سے اس کا چہرہ لالسرخ ہو گیا تھا اپنے ہی آفس میں ٹہلتے ہوئے اس نے بیل بجائی اور سب انسپیکٹر ارسلان کو بلانے کیے سپاہی کو بھیجا تھوڑی ہی دیر میں سبانسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور انسپیکٹر آصف کو یوں غصہ میں دیکھ کر سمجھ گیا کہ کیا وجہ ہے آتے ہی سلیوٹ کیا اور کہا سر آپ غصہ نہ کریں “آبا سائیں “ کی طبیعت ہی ایسی ہے اور ایسا ہی مزاج ہے کہ وہ کبھی کسی کی باتنہیں سنتے اور اپنی ہی من مانی کرتے ہیں آخر وہ ایک باآثر سیاسی شخصیت ہیں جس کہ وجہ سے ہم ان کے اگے مجبور ہو جاتے ہیںآپ دھیریج سے کام لیں سب انسپیکٹر ارسلان نے باہر ٹھہرے سپاہی کو آواز دی اور کہا صاحب کے لیے ٹھنڈا پانی لے آؤ انسپیکٹر آصف جو ارسلان کے آتے ہی کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور غور سے بات سن رہا تھا ارسلان سے مخاطب ہوا دیکھو ارسلان میں یہاں نیا ضرور آیا ہوں پر جیسا لہجہ “ابا سئیں “ کا تھا وہ میرے لیے نا قابل برداشت ہے آخر ہم ان کی جان ہیتو بچانا چاہتے تھے اس میں ان کی ہی بھلائی تھی اگر چھوٹو گینگ نے حملہ کیا اور کوئی جانی نقصان ہوا تو یہ لوگ تو اس کا موردالزامپولیس کو ہی ٹھہرائیں گے اسی دوران سپاہی پانی کا گلاس لے کر آ گیا تو انسپیکٹر آصف خاموش ہو گیا سپاہی نے گلاس رکھا اور چلا گیا جاتے ہی ارسلان نے کہا سر آپ فکر نہ کریں آپ ڈی پی او صاحب سے رابطہ کر کے انہیں خبر کریں اگر وہ ضروری سمجھیں گے تو ابا سائیں سے خود رابطہ کرلیں گے اور آپ بھی بعد میں بری الزمہ ہو جائیں گے سب انسپیکٹر ارسلان ایک زہین اور تجربہ کار جوان تھا اس تھانے میں آئے ہوئےاسے تین سال ہو گیے تھے اس لیے وہ یہاںکے ہر بااثر بندے کے بارے میں جانتا تھا اس لیے انسپیکٹر آصف نے آتے ہی اس کو اپنے ساتھ ملا لیا انسپیکٹر آصف نے بات سن کر تحسین آمیز تاثر کے ساتھ کہا ویری گڈ ارسلان تم نے تو پورہ مسلۂ ہی حل کر دیا میں تو بھول ہی گیا تھا کہ ڈی پی او صاحب کے “ابا سائیں “ سے گہرے مراسمہیں وہ یقینا بات کریں گے آگے ہمیں جو وہ ہدایت دیں گی ہم اسی اندا ز میں پولیس ریڈ کریں گے اور اس سفاق گینگ کو پکڑنے کیکوشش کریں گے اپنی ٹیبل سے موبائل اٹھا کرنمبر ملانا شروع کیا فون پٹخ کر آبا سائیں نے اونچی اوز میں کہا “بلا” کتھا مر گیا ہیں تو (بلا کہا مر گیا ہے ) بھاگتا ہوا ایک بھوری آنکھوں والا چھوٹے قد کا پہلوان ُنما شخص کمرے میں داخل ہوا اور بولا حکم کرو ابا سائیں آج میکوں اطلاع میلی ہے کہ اوہ کتے دا پتر چھوٹو اپنڑے ٹٹواں نال اتھا حملہ کرنڑ دا پروگرام بڑی ندا پے ونج تو تیاری کر سارےکنجرا کو اکٹھا کر کے اکھ کہ میں کو حندی لاش چاہی دی ہے (آج مجھے اطلاع ملی ہے (گالی دی ) چھوٹو اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے سارے لوگوں کو اکٹھا کرو مجھے اسکی لاش چاہیے ) بلا نے کہا آبا سائیں ہندی اتنی جرات میں ہندی لاش کو کتیاں کو کہویساں توسا سائیں پریشان نہ تھیوو میں سب کوں اکھیںنداسارے کاٹھے تھی تے ہندو بندو بست کریندا (آبا سائیں اس کی اتنی جرات میں اس کی لاش کو کتوں کے کھیلاوں گا اپ پریشان نہ ہوں میں سب کو اکٹھا کر کے اس کابندوبست کرتا ہوں ) میکوں کوئی پریشانی کینی تو ہوکو ماہ ماری میں اپنڑے حتھاں نال ہوکو قپیساں (مجھے پریشانی نہیں ہے میں خود اس کو اپنے ہاتھوں سے مارونگا ) یہ کہ کر “ابا سائیں دوبارہ کمرے کی طرف چلا گیا دروازہ کھول کر بندھی ہوی لڑکی سے مخاطب ہوا میڈا چندر ہن میکوں غصہ نہ ڈیواوی میں آ گیا چپ چاپ میکوں اپنی پدھی ڈے چا بندھی ہوی لڑکی کی جانب بڑھا جو پھر (میری چاند مجھے غصہ نہ دلانا اب میں آگیا ہوں چپ چاپ مجھے اپنی پھودی دے دو) یہ کہ کر اس نے پھر سے بوبز کی نپل کو مسلنا شروع کیا لڑکی گڑگڑانے لگی مجھے چھوڑ دو ——— بندھی ہوی ہونے اور تکلیف کی شدت سے جو کلائیوں زخمی تھی اس کی آواز میں درد تھاالتجا تھی پر ابا سائیں کسی بھی صورت اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ابا سائیں نے دھوتی اتاری جس سے اسکا لمبا اور موٹا نیم مردہ لن ہاتھوں میں جب لڑکی کو نظر آیا تو اس نے خوف زدہ ہو کر زورزور سے چلانا شروع کر دیا بچاو بچاو بچاو کوئی ہے دہایاں دے رہی تھی جب کہ ابا سائی کے دماغ پر اس وقت شیطان سوار تھا کسی بھی قسم کی دہائی کا کوئی اثر اس پر نہیں پڑتا دیکھائی دے رہا تھا پھر اسنے ہاتھوں سے شلوار کو کھینچا لاسٹک کی وجہ سے آسانی سے اترتی چلی گی جس سے لڑکی کی سفید پھدی عیاں ہوگئی لڑکی سٹپٹائی اور اپنے اپ کو بچانے کی کوشش میں تیزی لانے لگی اس وقت لڑکی کا بے داغ جسم بوبز اور پھدی ابا سائی کو دعوت گناہ کی شدت میں اضافہ کیے جا رہی تھی آہستہ آہستہ اس کے نیم مردہ لن میں جان دکھائی دینے لگی ابا سائیں نے پھر اس کے بے داغ جسم کے ہر حصہ کو کاٹنا شروع کیا جس سے لڑکی کی چیخوں میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور کمرہ جونہایت کشادہ ہونے کی وجہ سے گونج رہا تھا اچانک ہی زور دار چیخ کے ساتھ لڑکی نیم بے ہوشی میں چلی گئی ابا سائی نے بوبز پر زور دار کاٹا جس سے وہاں سے خون رسنا شروع ہو گیا اس پر ہی اکتفا نہ کیا اپنے لن کو ھاتھوں میں لے کر ٹانگوں کو اٹھایا اور لن کو پدھی کے لبوں پر رکھ کر ایک زور دار جھٹکا لگایا لیکن تنگ اور خشک پھودی اور موٹا اور لمبا لن ہونے کی وجہ سے صرف ٹوپی ہی اندر جا سکی لڑکی کی نیم بے ہوشی کی حالت میںدرد کی شدت سے ایک بار پھر حیبت ناک چیخ بلند ہوئی اور بیڈ کی شیٹ خون سے تر ہو گئی بے پرواہ ابا سائیں نے پھر ایک جھٹکا لگایا آدھا لن ہی اندر جا سکا پھر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا ابا سائیں مزے سےآوازیں نکال رہا تھا اچانک ہی ایک اور جھٹکے سے پورہ لن اندر تھا پھدی بھی اب چکنی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لن قدرےاسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اب کوئی بھی آواز لڑکی کی جانب سے نہیں آئی مگر ابا سائیں کو اس سے غرض نہیں تھی وہ اپنے لن کواندر باہر کر کے کنواری پدھی کی چدائی کے مزے لے رہا تھا اور ابا سائیں کی مزے سے بھرپور آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیتھی کچھ ہی دیر بعد “آبا سائی “نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کیے اس کی سانس پھولی اور آخری طاقتور جھٹکے کے ساتھ ہی اندرہی فارغ ہوگیا لڑکی کے جسم کو کاٹنے سے جگہ جگہ خون رس رہا تھا اور پورے جسم پر کاٹنے کے نشان واضح نظر آ رہے تھے جس سے لگ رہا تھاکہ ابا سائیں ازیت پسند سیکس کو پسند کرتا ہے ابا سائیں نے ہقارت کی نظر سے لڑکی کو دیکھا اور نیم مردہ لن کو لڑکی کے ہی کپڑوں سے صاف کیا اور لڑکی کو اسی حالت میں چھوڑکر کمرے سے باہر چلا گیا
  12. Afzal meri nipples SE khelte khelte neeche aye aur MERI choot ko chatna shoru Kar dia ye MERI life Ka pehla experience tha mujhe Boht ajeeb sa feel hoa lekin Boht Maza ane laga unki zaban Baar Baar MERI choot Mai jati aur Mai maze ki wadion Mai gum ho gai Afzal ne achanak se 69 ki position li aur mere oper a gae ab wo MERI choot ko chaat rahe thy aur unka Lund mere honto pe a gya aur maze ki shiddat SE bharpoor Mai ne usko choosna shoru Kar dia Mai ne apni life Mai pehle Kabhi itna Maza mehsoos Nahi Kia tha aur isi maze k doran Mai discharge ho gai discharge hote waqt Mai ne maze ki shiddat SE unka Lund poora moo Mai le Kar moo band Kar dia aur Afzal meri choot ko paglon ki tarha chat te rahe discharge hoi to hosh Aya k Afzal mere oper hain mujhe sans Lene Mai pareshani hone lagi Afzal ne BHI ye feel Kar Lia aur apna Lund mere moo se nikala aur is k sath hi Afzal BHI discharge ho gae Mera gala chest breast sab unki Mani SE Bhar gya , hum dono ne bath Lia aur so gae
  13. Meri shadi meri Pasand k larke SE Hoi Afzal mere Bhai k dost thy wo mujhe Boht Pasand Mai chup chup Kar unko dekhti thi unho ne MERI pasandedgi feel Kar li aur mere Ghar rishta bhej dia aur hum dono ek ho gae shadi k waqt Mera figure 34 32 36 tha hum dono apni married aur sexual life se mutmain thy isi waja se 2 Saal k under under Mera figure 38 34 40 ho gya Afzal k Boht close friend thy Nasir Bhai Mai ne unko Bhai Kaha tha wo BHI mujhe behen samjhte thy unki wife Afshan MERI Boht Achi dost ban gai thi Ek Raat Afzal doston se late aye ate hi mere oper a gae mujhe feel hoa k wo full sex k mood Mai hain Mai ne unka sath dia hum dono ne Apne Apne kapre utar diye Afzal mere lips ko kiss karte hoe mere boobs pe aye aur unko dabana aur nipples chosna start Kar dia Mai bechain ho gai k bss ye ab apna Lund MERI choot Mai daal den lekin us Raat Kuch ESA hoa Jo MERI life Ka pehla experience tha
  14. Admin is story ko update Karne k liye Kia karna hoga edit Ka option hota hai ya reply pe ja Kar post Karti rahon kindly help
  15. Yes and I think tomorrow is Thursday 😊😁😬😊
  16. [WARNING]Dr. Khan nw plzz update jkar b do besabri se intezar hai plz updated karo[/WARNING]

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.