Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 14/03/16 in Posts

  1. کوئی رائے نہیں۔شاید ابھی کافی ممبرز کو بات ٹھیک سے سمجھ ہی نہیں آئی ایک رائے مزید کون کون سے ممبرز اور رائٹر اردو فن کلب کے لیئے لکھنا چاہتے ہیں۔نئے لکھنے والوں کو مکمل سپورٹ دی جائے گی۔اور اچھا لکھنے والوں کو مالی سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔
  2. بھارت میں کالج کے ایک پروفیسر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی بیوی اور بیٹی کو فروخت کرنے کی پوسٹ کرنے پر حراست میں لے لیا گیا، بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق 30 سالہ دلیپ مالے اور ان کے شاگرد کملیش مہرا کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، پروفیسر دلیپ مالے نے اپنے فیس بک اکائونٹس پر یہ پوسٹ کی تھی کہ کچھ لوگوں کا مقروض ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور دو سالہ بیٹی کو فروخت کرنا چاہتا ہے اس پوسٹ کے ساتھ اپنی بیوی اور بیٹی کی تصویر بھی شیئر کی تھی، تحریر میں پروفیسر نے لکھا تھا کہ اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے وہ اپنی بیوی کو ایک لاکھ روپے کے عوض فروخت کرنا چاہتا ہے جو بھی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے اس فون نمبر پر رابطہ کرے، جب اس کی بیوی نے یہ پوسٹ پڑھی تو فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا جس پر پولیس نے اس کے شوہر کو حراست میں لے لیا، دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ یہ پوسٹ پروفیسر نے نہیں بلکہ اس کے شاگرد نے اس کے اکائونٹس سے کی ہے۔
  3. چھوڑ ادھر کی ادھر جا نکلا میرا لوڑا بھی چوتیا گیا کتنی بد خواہیوں کے بعد وصال ہو بھی پایا تو خواب سا نکلا میں نے سمجھا تھا جس کو اک معشوق وہ تو عاشق کوئی ترا نکلا جو بھی نکلا قریب سے تیرے تیرے جوبن کو دیکھتا نکلا میں نے ڈالا جو ہاتھ محرم میں خوب سینہ بھرا بھرا نکلا وہ غرارہ سنبھالتی اٹھی میں پجامے سے پونچھتا نکلا چوت پیش آئی مہربانی سے لنڈ ہی بر سر جفا نکلا ایک بھی کُس نہ ہوسکی سیراب ایک بھی کَس نہ کام کا نکلا رہ گئے دل کے حوصلے دل میں لنڈ یاروں کا پلپلا نکلا کُس نے جب آنکھ کھول کر دیکھا ایک لوڑا کھڑا ہوا نکلا اس کا انڈرویئر نہ کھل پایا کیر نیکر سے رہ گیا نکلا ابھی بیٹھے ابھی کھڑا ہوجائے لنڈ بھی ایک چلبلا نکلا زندگی بھر میں تو ہی اک معشوق ٹھیک میرے خیال کا نکلا ہو بہو شکل بھوسڑی کی یہ تھی جیسے جوتے کا ہو تلا نکلا کام بھی تجھ سے اک کُس کمبخت کسی خانہ خراب کا نکلا
  4. ہاہاہاہا۔۔یہ تو مزا ہی آ گیا۔ ایک بار اپنے سکول کے دنوں میں ہم نے اپنے سکول کے پرنسپل کے انتقال کا اعلان جامعہ مسجد میں کرا دیا۔ اس پر سکول میں بڑے دن تک ہنگامہ برپا رہا اور ایک دن پرنسپل نے برملا کہا کہ یار جس کسی نے یہ شرارت کی ہے اس کا مجھے نام پتا چل جائے تو میں اس نے دو ہزار روپے وصول کروں جو ان لوگوں کی خاطرمدارت میں استعمال ہوا ہے جو تعزیت کو آتے تھے۔
  5. بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا اس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو
  6. سوناکشی سنہا بالی ووڈ کی دبنگ اداکارہ مانی جاتی ہیں اور اب انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے سوناکشی نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں بیک وقت سب سے زیادہ تعداد میں ناخنوں کو رنگنے کا ریکارڈ بنایا گیا۔ اس مقابلے میں تمام خواتین نے بیک و قت ناخنوں کو رنگنا تھا اور کامیابی کے بعد دیگر خواتین کے ساتھ سوناکشی سنہا کا نام بھی اس مقبول کتاب میں شامل کرلیا گیا۔ ا س حوالے سے سوناکشی کا کہنا تھا میں بچپن سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کروانا چاہتی تھی اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص ہے۔
  7. G bilkul hona chaiye, or yeh aik buhat acha idea hai asia hona chaiye, beshak small amount hi sahi , is se writers hazraat ki hosla afzai ho gai, i think aik asia system bnaya jaye jis se jab koi user koi story purchase kry tu us main se small amount story writer ki account main add ho jaye. or jahan tak likhny ka sawal hai tu i think main aik acha writer nai hon or na hi kabhi likha hai.
  8. It is a good idea, i think that a small amount from all members can be of some help.
  9. bilkul huna chahye....! ye aik acha hal hy form par activities ko barhane k liye. Admin ko jo story is qabil lage us ko download section main dalna chahye aur jo b price munasib hu wo de kar download hu sake. agr possible hu tu new novels(adventure/horror/action) b scan kr k upload hu sakte hey jo nominal payment k bad download hu sake.
  10. بہت ہی بہترین اور کمال نظم ہے فحش الفاظ میں حقائق بیان ہوئے ہیں اسی کا ایک ورژن میرے پاس بھی ہے یہ عالم بہ زور علم چودتے ہیں یہ حاکم بہ زور حکم چودتے ہیں یہ تاجر بہ زور رقم چودتے ہیں مصیبت ہماری تمہاری ہے بھائی نہ تم چودتے ہو نہ ہم چودتے ہیں
  11. چودنے دو کسی کو کسی کے غم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے خم چودتے ہیں۔ کسی کو کسی کے زعم چودتے ہیں کسی کو کسی کے صنم چودتے ہیں کسی کو کسی کے بلم چودتے ہیں یہ شرفا بنا کر بھرم چودتے ہیں سیاست دان نامِ وطن چودتے ہیں صحافی بزور ِقلم چودتے ہیں، لونڈے جو دکھا کر فلم چودتے ہیں پھر یار بنا کر فلم چودتے ہیں کئی تو بنا کر بہن چودتے ہیں جو سب چودتے ہیں تو انکار کیوں ہے کہ نہ آپ چودتے ہیں نہ ہم چودتے ہیں۔
  12. تیر میں ہے نہ تلوار میں ہے جو کچھ بھی ہے شلوار میں ہے
  13. کیا بات ہے جی سوناکشی کی کہ اس نے ایک ورلڈ ریکارڈ بنا لیا۔ بھلے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔
  14. شعر کہیں شاعری کہیں یا گائیں کوئی گانا تیری نانی ٹانگ اٹھائے تو چودے میرا نانا
  15. میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر چوتیے ملتے گئے اور کارواں وڑتا گیا
  16. دلبر کے جو پیار سے بُبے دبا دیے ماں کی لوڑی نے لات مار کے ٹٹے سجا دیے
  17. بے درد زمانہ کیا جانے کیا چیز جدائی ہوتی ہے ہم لنڈ پکڑ کر بیٹھے ہیں گھر گھر میں چدائی ہوتی ہے
  18. شوق ہے یونہی چھیڑ خانی کا کون عاشق ہے کس مرانی کا آتشک ہوگئی ہے لوڑے کو خوب چرکا لگا ہے پانی کا اس زمانے میں گانڈ کا مرنا ہو گیا واقعہ کہانی کا حسن نے امتحان دل کے لیے روپ دھارا ہے مہترانی کا وہ بھی رکھتے ہیں گالیوں سے شوق یہ بھی عاشق خوش بیانی کا ہو اجازت تو بانہہ کھسکا لیں لو یہ تکیہ ہے شیروانی کا اس کی آب رواں کی چولی پر کیا دوپٹہ ہے کامدانی کا میرے دادا کے وقت میں کیا کیا نام چمکا ہے ان کی نانی کا
  19. چلتی ہو ہلا ہلا کے کیا مار ڈالو گی مجھے نہیں دو گی تو کیا اچار ڈالو گی
  20. تجھ پہ الفاظ نہیں واریں گے اب تیری خاموشی سے ماریں گے
  21. دھوپ جس کو کہ ہم ترستے ہیں یہی گرمی میں گانڈ مارے گی
  22. بن چدی چوت جو مل جائے کسی گانڈو کو اس بہن چود کو قسمت کا دھنی کہتے ہیں
  23. قسمت کی ماں کی چوت میں لوڑا نصیب کا ہر سال فیل ہوتا ہے بچّہ غریب کا
  24. دوستو! ہے فرج وہ زندہ شہید جس کے مرنے پر منا کرتی ہے عید فرج کو ہر چند کیجے مستفید گانڈ کو یکسر نہ رکھیے نا امید ہاتھ رکھتے ہی کیا چانٹا رسید ’کم نظر بے تابی جانم ندید‘ کیا کہوں اس کی انانیت کا حال ہے یہ لوڑا دوسرا سرمد شہید نامرادی اس کس بے کس کی ہائے ’منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید‘ فرج کو برسوں گل حکمت کیا تب ہوا ہے بادۂ عشرت کشید تھام کے رکھتی اگر لوڑے کو فرج یوں نہ ہوتی گانڈکی مٹی پلید سخت گیری کون کافر کی نہ پوچھ لنڈ کیا لونڈا ہے گویا زر خرید ہجر میں صابن کا استعمال بھی نسخۂ ارزاں ہے اور خاصا مفید نام لیجے اور یہ استادہ ہوا بھوسڑی مرشد ہے اور لوڑا مرید
  25. تھوک سے مٹھ نہ لگا اے مرے اچھے فنکار ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے صابن لا دوں
  26. ابھی تو جوان ہوں ابھی تو میں جوان ہوں بہار کا سمان ہوں اٹھاؤ بوتل تیل کی سرحدوں کے میل کی اپنی مٹھی اپنا لن ڈزن ڈزن ڈزن ڈزن گاؤں کی یہ چھوکریاں چدی چدائی رنڈیاں کھلے ہوئے ہیں بھوسڑے ان سے تو کنارہ کر مٹھ پہ گذارہ کر کالج کی یہ لڑکیاں ہلاتی ہیں جب چھاتیاں کھلے ہوئے ہیں بھوسڑے ان سے تو کنارہ کر مٹھ پہ گذارہ کر لڑکی کی آواز میں ویڈیو ملاحظہ ہو
  27. پاجامے کے روزن سے کھڑا جھانک رہا تھا لوڑے کو ترے دور سے پہچان گئی میں
  28. یہ نظم میں نے آج سے کچھ پندرہ سولہ سال پہلے سنی تھی آپ سے کیا پردہ باجی میں سب بتا دیتی ہوں شب عروسی کی کہانی میں سب سنا دیتی ہوں رات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسے دو جواں دل تھے دونوں ہی تھے پیاسے کس پیار سے وہ میرے پاس آیا باجی دونوں ہاتھوں سے میرا گونگھٹ اُٹھایا باجی میرے ہونٹوں کو ہونٹوں سے دبایا باجی باغ نشیمن پہ بھی ہاتھ لگایا باجی لرزتے جسم میں ایک بجلی سی کود گئی اُس نے بوسہ جو سینے پہ لگایا باجی ناف تک رینگ گئ ہائے اک کھڑی سی چیز ظالم نے دھکا جو زور سے لگایا باجی درد لطف سے اک ہائے تو نکلی لیکن دھیرے دھیرے مجھے بھی چین آیا باجی پھر تو رگ رگ میں آنے لگی سرور و مستی اس نے چپو جو روانی سے چلایا باجی اک چشمہ سا ابلتا ہوا محسوس ہوا آخری جھٹکا جو ظالم نے لگایا باجی آڈیو ملاحظہ ہو
  29. بیچ کی انگلی کیا چیز ہے اے نام خدا بیچ کی انگلی کرتی ہے ہر اک عقدے کو وا بیچ کی انگلی رکھتی ہے تماشوں کی ہوا بیچ کی انگلی پاتی ہے تلاشوں کا مزا بیچ کی انگلی خویوں کو بھی خوش رکھتی ہے، خایوں کو بھی خور سند کرتی ہے بروں کا بھی بھلا بیچ کی انگلی مت پوچھیے اس فتنۂ دوراں کی حقیقت لوڑے سے بھی گز بھر ہے سوا بیچ کی انگلی کرتی ہے سر آغاز ہتھیلی کو دبا کر اور کھولتی ہے بند قبا بیچ کی انگلی آہٹ نہ ہواور دم میں درعیش پہ پہنچے رفتار میں ہے مثل صبا بیچ کی انگلی کردیتی ہے جا کر کس خوابیدہ کو بیدار آنکھوں کو پلاتی ہے نشا بیچ کی انگلی ازبر ہیں اسے جملہ مقامات حریری چھو آئی ہے سب زیر قبا بیچ کی انگلی گو ہوتی ہے ہت پھیر میں پانچوں مری گھی میں لیتی ہے مگر خاص مزا بیچ کی انگلی جس طرح سے ماتھے پہ لگاتی ہے وہ بندیا ہاتھ آئیں تو دوں یونہی چڑھا بیچ کی انگلی بھرتی ہے کبھی جا کے غرارے میں غرارہ انگیا میں کبھی کرتی ہے ’’تا‘‘ بیچ کی انگلی ہے بیچ کی انگلی بھی مرے لوڑے سے بڑھ کر اور غیر کا لوڑا بھی نرا بیچ کی انگلی سن سن کے میری بیچ کی انگلی کے کرشمے کیوں لیتے ہو ہونٹوں میں دبا بیچ کی انگلی گر تم مجھے انگشت شہادت سے نہ ٹوکو دے غنچۂ امید کھلا بیچ کی انگلی تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشت لوڑے کو بھی نامے میں لکھا بیچ کی انگلی کرتا ہوں میں اس شوخ سے اس طرح شروعات دیکھوں مری پکڑو تو بھلا بیچ کی انگلی ملتا ہے کبھی غیر تو کر کے ’ٹلی لی جھر‘ مفعول کو دیتا ہوں دکھا بیچ کی انگلی وہ آئیں گے، وہ آئیں، وہ آئیں پر آئیں لی بیچ کی انگلی سے ملا بیچ کی انگلی
  30. تعریف کراں کی لنڈ دی جیرا پھدیاں دا سردار اے پھدی مار کے انج سو جاندا اے جینویں صدیاں دا بیمار اے ---------- شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی گُلی نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُلی شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگیا پھل نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُل شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگا وٹّا نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا ٹٹا شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی تھالی بُبے تیرے رنگ برنگے پھدی تیری کالی ----------------- کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھل تے مار غلیلا لُل تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا کھوئی تے مار غلیلا ٹوئی تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھٹے تے مار غلیلا ٹٹے تے آڈیوملاحظہ ہو
  31. شوخیاں ان کی کیا کہوں جیسے اب غرارہ اٹھا کے جھانکی چوت غیر آیا ہے لے کے سوکھا منہ جیسے بیمار نیم جاں کی چوت کیوں نہ اغیار ہی کو دے ڈالی ہائے کیوں نے رائگاں کی چوت میرے عاشق مزاج لوڑے سے یاد کرتی ہے اک جہاں کی چوت ہائے اس خوش ادا کے تیکھے کچ ہائے اس نازنیں کی بانکی چوت تنگ کرتی ہے مجھ کو خلوت میں اک معشوق بے نشاں کی چوت خود کشی کرکے چین پاتی ہے پردہ داران بے زباں کی چوت جب بھی لوڑا بپھر گیا،اس نے صلح جوئی کو درمیاں کی چوت
  32. بوقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر مسلمانی میں طاقت خون کے بہنے سے آتی ہے
  33. تُو چلتی ہے تو سارے عالم کے ٹھرکی تری گانڈ کے زیروبم دیکھتے ہیں
  34. بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب اس پسندیدگی اور پذیرائی کا
  35. کیا بات ہے جناب۔۔بہت ہی عمدہ ۔۔تمام کی تمام بہترین ہیں۔
  36. کون کرتا ہے گانڈ میں انگلی آپ جو ہر گھڑی اچھلتے ہیں
  37. گوری رنگت پہ نہ جا اے غالب جائے مخصوصہ سب کی کالی ہے
  38. یہ نظم تو پیروڈی ہے اصل نظم بہت خوبصورت ہے اب میرے پاس تُم آئی ہو ، تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اِک پیکرِ رعنائی ہو چمنِ دہر میں روحِ چمن آرائی ہو طلعتِ مہر ہو ، فردوس کی برنائی ہو بِنتِ مہتاب ہو ، گردوں سے اُتر آئی ہو مجھ سے مِلنے میں اب اندیشہءِ رُسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں، آہ، ملائ ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے شہرِ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے حُسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے میرے پیمانِ محبت نے سِپر ڈالی ہے اُن دِنوں مُجھ پے قیامت کا جُنوں طاری تھا سَر پے سرشاری و عِشرت کا جُنوں طاری تھا مہ پاروں سے محبت کا جُنوں طاری تھا شہر یاروں سے رقابت کا جُنوں طاری تھا بِسترِ مخمل و سنجاب تھی دُنیا میری ایک رنگین و حسیں خواب تھی دُنیا میری کیا سُنو گی میری مجروح جوانی کی پُکار میری فریادِ جِگر دوز میرا نالاءِ زار شِدتِ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گُفتار میں کہ خود اپنے مذاقِ طرب آگیں کا شِکار وہ گُدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لائوں؟ اب میں وہ جذبہءِ معصوم کہاں سے لائوں؟ اب میرے پاس تُم آئی ہو، تو کیا آئی ہو مجاز لکھنوی اس خوبصورت نظم کو جگجیت نے بھی گایا ہے
  39. ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن رس بھرے رس داررسیلے جوبن جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا اور اے دوست !!! اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی لیکن اے دوست اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور پیشاب کی دھار مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو آڈیو ملاحظہ ہو
  40. کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سرِ بازار کسی لڑکی نے غالب کو نامرد اور بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا جس پر غالب کا ردّعمل تھا کون کہتا ہے کہ غالب کا کھڑا نہیں ہوتا سربازار جو نہ دوں تا غالب نہ کہیو
  41. کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے
  42. رات اک دم کسی نے سسکی لی نہیں معلوم کس نے کس کی لی
  43. ہاہاہاہاہا بہت خوب ڈاکٹر صاحب بہن کے چڈ کو پنجابی میں غالباََ یوں کہیں گے کہ جو بھی ملا ہے پین لن ملا ہے
  44. زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔
  45. مانا کہ تیری چوت کے لائق نہیں ہوں میں تو میرا لنڈ دیکھ میرا اعتماد دیکھ
  46. بہت شکریہ اس پذیرائی کا کچھ تو گندے گندے شعر آپ نے بھی سنے ہونگے بچپن یا لڑکپن میں تو شئر کیجیے
  47. سلسلے توڑ گیا وہ سبهی جاتے جاتے گانڈ دے دیتا تها وہ بهی ہمیں آتے جاتے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.