Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

WO KEHTI HAI SUNO !

Featured Replies

Samait kar le jaao apne jhoote waadon ke adhure qisse….

Agli Mohabbat me tumhe phir inki zarurat pare gi..!!!

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 110
  • Views 23.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • lilPAGHLAlil
    lilPAGHLAlil

    Wo Kehti Hai “Batao Tum mujhse Kyu Ruth Jate Ho..?” May Kehta Hoon “Zara Mujh Ko Manao ... ... Acha Lagta Hay…” Wo Kehti Hai “Mera Dil Tum Say Aakhir Kyo Nahi Bharta..?” May Kehta Hoon “Mohaba

  • Young Heart
    Young Heart

    محبت کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی واہ

اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے

جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے

تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے

لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا

رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز

شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں

راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے

کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے

یاد کرنے کے لیئے عمر پڑی ہو جیسے

تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر

یہ گرہ اب کے مرے دل میں پڑی ہو جیسے

منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں

اپنے ہی پاؤں میں زنجیر پڑی ہو جیسے

آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز

چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر

کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں

رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو

سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا

یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں

جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں

یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے

ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں

نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی

سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں

یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے

سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں

ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے

ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں

بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر

چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہلِ محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا

ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پُرشش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے

اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خِواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے

اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا

اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں

ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابرِ کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں

کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے

مقتلِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فراز

ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

📢 Post Your Ad Here

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں

کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی

کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے

قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں

منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز

یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

جو غیر تھے وہ اسی بات پہ ہمارے ہوئے

کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے

کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی

بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے

اب اک ہجوم ِشکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے

جنہیں کوئی نہ ملا، ہمسفر ہمارے ہوئے

کسی نے غم تو کسی نے مزاج ِغم بخشا

سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے

بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو

اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے

وہ اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے

کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے

چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے

پہ کیا کریں ہمیں اک دوسرے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع

میں آئینہ ہوں مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا

میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

ترے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی

نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں بھی وہی ہے فراق کا عالم

کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں ہیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں

میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے

نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے

عشق ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے

ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے

عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے

اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر

نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز

یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

کبھی تڑپ اٹھا میری آہ سے

کبھی اشک سے نہ پگھل سکا

سرِ راہ ملا وہ اگر کبھی

تو نظر چُرا کے گزر گیا

وہ اتر گیا میری آنکھ سے

میرے دل سے کیوں نہ اتر سکا

وہ چلا گیا جہاں چھوڑ کے

میں وہاں سے پھر نہ پلٹ سکا

وہ سنبھل گیا تھا فراز مگر

میں بکھر کے پھر نہ سمٹ سکا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.