January 25, 201214 yr Author یاد آتے ہیں آج اف گناہ کیا کیا پہلا یہ کہ محبت کرلی، آخری یہ کہ تجھ سے کرلی
January 31, 201214 yr ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں تیرے لوٹ آنے کی دن رات دعا کرتے ہیں اب کوئی ہونٹ نہیں ان کو چرانے آتے میری آنکھوں میں اگر اشک ہوا کرتے ہیں تیری تو جانے ،پر اے جان تمنا ہم تو سانس کے ساتھ تجھے یاد کیا کرتے ہیں کبھی یادوں میں تجھے بانہوں میں بھر لیتے ہیں کبھی خوابوں میں تجھے چوم لیا کرتے ہیں تیری تصویر لگا لیتے ہیں ہم سینے سے پھر ترے خط سے تری بات کیا کرتے ہیں گر تجھے چھوڑنے کی سوچ بھی آئے دل میں ہم تو خود کو بھی وہیں چھوڑ دیا کرتے ہیں Edited January 31, 201214 yr by Waniya font setting
February 13, 201214 yr جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سُلگتی ہے یُوں پیار نہیں چھپتا ، پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں جب برف پگھلتی ہے شہرت کی بُلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
Create an account or sign in to comment