February 26, 201214 yr کبھی یاد میری آئے، دل کو ستائے تو لوٹ آنا تیری آنکھیں میری یاد میں نم ہو جائیں تو لوٹ آنا مجھے معلوم ہے تیرے چاہنے والوں کی کمی نہیں یہ سارے پنچھی رفتہ رفتہ جب اڑ جائیں تو لوٹ آنا میری ہر بات پر کھلکھلا کر ہنسنا تیرا مشغلہ تھا کوئی ایسی ہی میری بات تجھ کو رلائے تو لوٹ آن
February 27, 201214 yr میں ہوں مجنوں مرا انداز زمانے والا تیری نگری میں تو پتھر نہیں کھانے والا تو نے دیکھا ہی نہیں ساتھ مرے چل کے کبھی میں ہوں تنہائی کا بھی ساتھ نبھانے والا مجھ کو تم دشتِ تحیر میں نہ چھوڑو تنہا خوف طاری ہے عجب دل کو ڈرانے والا خوف آتا ہے مجھے اپنی ہی تنہائی سے روٹھ جاتا ہے کوئی مجھ کو منانے والا دل وہ شیشہ کہ ترا عکس لیے پھرتا ہے روز آتا ہے کوئی اس کو مٹانے والا اس کی ہر بات سر آنکھوں پہ لیے پھرتا ہوں مجھ کو اچھا بھی تو لگتا ہے رلانے والا اس قدر اجنبی انداز سے کیوں دیکھتا ہے میں وہی ہوں ترا کردار فسانے والا ہر قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھانا اے دل تیرا رہبر تو نہیں راہ بتانے والا چاہے جتنی بھی سفارش کرو اس کی مالک میں تری باتوں میں ہرگز نہیں آنے والا
March 5, 201214 yr دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اُٹھا رکھا ہے روٹھ جاتے ہو تو کچھ اور حسیں لگتے ہو ہم نے یہ سوچ کے ہی تم کو خفا رکھا ہے تم جِسے روٹھا ہوا چھوڑ گئے تھے اک دن ہم نے اس شام کو سینے سے لگا رکھا ہے چین لینے نہیں دیتے کسی طور مجھے تیری یادوں نے جو طوفان اٹھا رکھا ہے جانے والے نے کہا تھا کہ وہ لوٹے گا ضرور اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے تیرے جانے سے جو اک دھول اُٹھی تھی غم کی ہم نے اس دھول کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے مجھ کو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگا دل نے مدت سے جو اک شخص بُھلا رکھا ہے آخری بار جو آیا تھا میرے نام وصی میں نے اُس خط کو کلیجے سے لگا رکھا ہے وصی شاہ Edited March 5, 201214 yr by Waniya color
Create an account or sign in to comment