December 1, 201114 yr رات کی زُلفیں مرھم مرھم درد کی لو ہے مدھم مدھم میرے قِصے گلیوں گلیوں تیرا چرچا عالم عالم پتھر پتھر عشق کی راتیں حُسن کی باتیں ریشم ریشم ایک جزا ہے جنت جنت ایک خطا ہے آدم آدم ایک عذاب ہے بستی بستی ایک صدا ہے ماتم ماتم ساری لاشیں ٹکڑے ٹکڑے ساری آنکھیں پرنم پرنم ھجر کے لمحے زخمی زخمی اس کی یادیں مرھم مرھم داد طلب اعجاز عصمت عیسی عیسی مریم مریم مُحسن ہم اخبار میں گم ھیں صفحہ صفحہ کالم کالم
December 11, 201114 yr کبھی دردِ محبت کی دوا مانگوں تو میں کافر وفا کے بدلے میں تجھ سے وفا مانگوں تو میں کافر یہ تجھ کو سوچتے رہنا، مری بے لوث چاہت ہے محبت کا کبھی تجھ سے صلہ مانگوں تو میں کافر مجھے یادیں تری ہر لمحہ تڑپاتی تو ہیں لیکن تجھے گر بھول جانے کی دعا مانگوں تو میں کافر یہ شعلہ بے رخی کا پھونکنے کو ہے مری ہستی قسم ہے، تیرے دامن کی ہوا مانگوں تو میں کافر وہی جُہل و تکبر کے صنم خانے ہیں دنیا میں میں اس بت خانے سے کوئی خدا مانگوں تو میں کافر مجھے راس آ گیا ہے گوشۂ تنہائی کچھ ایسا کہ بوئے گل یا دامانِ صبا مانگوں تو میں کافر تیری تاریکیاں رکھتی ہیں اشکوں کا بھرم اکثر شبِ ہجراں! قسم تیری، دیا مانگوں تو میں کافر مجھے جرمِ محبت میں سبھی غم ہیں سر آنکھوں پر اگر بھولے سے تخفیفِ سزا مانگوں تو میں کافر یہ مرضِ عاشقی ہی گر ہے میرا امتحاں تو پھر مجھے مرنا گوارا ہے، شفا مانگوں تو میں کافر اگر سرزد کوئی بھولے سے نیکی ہو گئی مجھ سے قبول اس کو کرے مولا، جزا مانگوں تو میں کافر گدائی خاکِ طیبہ کی مجھے سلطانی لگتی ہے خدا شاہد، پر و بالِ ہما مانگوں تو میں کافر نگاہِ بے نیازی بھی صدفؔ مجھ کو غنیمت ہے میں اس سے روٹھ جانے کی ادا مانگوں تو میں کافر
January 20, 201214 yr محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے لبوں کے کنج میں بوسوں کے آلوچے ہیں پژمردہ دلوں میں ہجر کے آزار کی شدت کا موسم ہے درندے چھپ گئے ہیں اوڑھ کر عشاق کی کھالیں دیارِ شوق ہے ویران،اور وحشت کا موسم ہے سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے جنودِ طالبانی کا یہ دینِ مدرسہ سوزی یہ کس کذاب کے پیغام کی شہرت کا موسم ہے ہوائے بے نوائی ملک بھر میں چلتی رہتی ہے مگر باغِ حکومت میں بڑی عشرت کا موسم ہے یہ ہیروں اور لیلائوں کے جھرمٹ آ گئے دیکھو نگر میں عشق کی تبلیغ اور دعوت کا موسم ہے چلو مسعود، اس کو جلوتوں سے آشنا کردیں کہ اس کے آستاں پر رات کو خلوت کا موسم ہے
Create an account or sign in to comment