November 1, 201114 yr سُن لی خُدا نے وہ دُعا تم تو نہیں ہو دروازے پہ دستک کی صدا تم تو نہیں ہو سمٹی ہوئی شرمائی ہوئی رات کی رانی سوئی ہوئی کلیوں کی حیا تم تو نہیں ہو محسوس کیا تم کو تو گیلی ہوئیں پلکیں بھیگے ہوئے موسم کی ادا تم تو نہیں ہو ان اجنبی راہوں میں نہیں کوئی بھی میرا کِس نے مجھے یوں اپنا کہا ، تم تو نہیں ہو
November 2, 201114 yr تتلیوں کا مجھے ٹوٹا ہوا پر لگتا ہے دل پہ وہ نام بھی لکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے رات آئی تو ستاروں بھری چادر تانی خوبصورت مجھے سورج کا سفر لگتا ہے یہ بھی سوتے ہوئے بچے کی طرح ہنستا ہے آگ میں پھول ، فرشتوں کا ہنر لگتا ہے زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں پاؤں پھیلاؤ تو دیوار میں سر لگتا ہے میں تیرے ساتھ ستاروں میں گزر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمنِ جانی میرا خُود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے بُت بھی رکھے ہیں ،نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں دِل ، مرِا دل نہیں، خُدا کا گھر لگتا ہے
November 2, 201114 yr جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سُلگتی ہے یُوں پیار نہیں چھپتا ، پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے دن آئے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں جب برف پگھلتی ہے شہرت کی بُلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
November 11, 201114 yr لمحے رُوٹھ بھی جاتے ہیں بوجھل بوجھل، سُندر سُندر، گہری گہری آنکھوں میں رات کی چنچل سکھیوں میں، اپنی ریشمی پلکوں سے کوئی خواب کبھی مت بُننا سپنے ٹُوٹ بھی جاتے ہیں جیون ایک سفر ہے ایسا، جس کی منزل تنہائی ہے جو بھی آس لگائے اس سے، پگلا ہے سودائی ہے کسی کو بھی اپنا مت کہنا ساتھی چُھوٹ بھی جاتے ہیں مُٹھی میں جو لمحے ہیں، سارے تتلیوں جیسے ہیں رنگوں کی صورت میں آخر ہاتھوں پر رہ جائیں گے جانے والے ہر اک پل کو پلکوں بیچ چھپا لو تم ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے لمحے رُوٹھ بھی جاتے ہیں
Create an account or sign in to comment