Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کنٹین والی لڑکی

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

!بہت عمدہ کاوش ہے 

 

بس اسکو جاری رکھنے کی درخواست ہے۔👍

  • Author

ہزار لوگوں نے یہ کہا نی پڑھی لیکن صرف ۱۰ کمنٹس 5

📢 Post Your Ad Here

بہت خوب کہانی ہے۔

اور انداز بیان بھی اچھا ہے

story to both he nice ha, kash real life main bi asi tar koi mother daughter sex k lay mail jayain 

next part ka wait ha 

  • Author

کنٹین والی لڑکی قسط  ۴ 
تھوڑی دیر بعد خرم چلا گیا  پھر  میں نے  اور امی نے مل کر کھانا بنایا، چھوٹے بہن بھائی کھانا کھانے کے فوری بعد سوگئے۔ میں اور امی کچھ دیر باتیں کرتے رہے  لیکن اس تمام گفتگو میں امی مجھ سے آنکھیں چراتی رہیں شائد انہیں احساس جرم ہورہا تھا، لیکن کبھی کبھی انکے  چہرے  پر ایک مسکراہٹ سی آجاتی۔ کوئی آدھی رات  کا وقت تھا  میں نیند کے خمار میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنی چارپائی سے جھانکا تو امی کے بستر سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی  میں نے اٹھ کر  10واٹ کا بلب جلالیا۔ امی ایک دم چپ ہوگئیں ۔ میں امی کے پاس گئی  اور انکے لحاف میں گھس گئی اور انکے چہرے پر پیا ر کیا  اور کہا  کہ  مورے ولے جاڑے (امی کیوں رو رہی ہو)  امی نے کہا کچھ نہیں بس آج تیرے ابو کی یاد بہت  آرہی ہے۔  میں نے کہا  امی ابو کی یاد تو اب مستقل آئے گی اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتے۔میرے دل میں امی کے خلاف سارے جذبات ختم ہوگئے۔ میں نے کہا   لیکن امی جان  آپ نے بڑی ہمت سے اس ساری صورتحال کا مقابلہ کیا ہے آپ نے ہم  بہن بھائیوں کو صحیح طریقے سے  سنبھالا ہے اور ۔۔ کا شکر ہے کہ ہمیں کوئی مالی محتاجی نہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امی نے اپنے آنسو پونچھے  اور مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ لیا اور کہنے لگیں بیٹا توصحیح کہہ رہی ہے ہمارا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن میری بچی تو  ابھی  چھوٹی ہے تجھے اندازہ نہیں عورتوں کو تحفظ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے  اور اس کی کتنی ضروریات صر ف مرد ہی پوری کرسکتے ہیں۔ اگریہ  بات امی نے میرے رقیہ باجی کے ساتھ پیار کرنے سے پہلے کہی ہوتی تو واقعی مجھے  اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی لیکن اب میں اس بات کو  کچھ کچھ سمجھ سکتی تھی۔ پھر  میں نے امی بڑی معصومیت سے پوچھا امی خرم نے اتنی دیر میں اسٹور دیکھا  کیا  زیادہ سامان رکھنا ہے۔ امی میرا سوال  سن کر ایک دم چونک سی گئی اور مجھے غور سے دیکھا شاید وہ اندازہ کرنا چارہی  تھیں کہ میں شام والے واقعے کے بارے کتنا جانتی تھیں لیکن میں نے کوئی تاثرات نہیں دیے۔ امی نے کہا نہیں اتنی دیر بھی نہیں لگی بس وہ اسٹور کی لمبائی  ناپ رہا تھا، میں نے دل میں کہا مجھے معلوم ہے ہے کہ وہ کیا ناپ رہا تھا اور اوپر سے کہا  جی امی، پھر امی رقیہ باجی، کنٹین کی نوکری اور پرنسپل میڈم کے بارے باتیں کرنے لگیں اور ہم لوگ باتیں کرتے کرتے سوگئے۔ 
صبح کنٹین پر پہنچی تو رقیہ باجی کافی مصروف نظر آرہی تھیں میں نے کہا کہ خیر آپ نے صبح صبح اتنا کام کرلیا کہنے لگیں کل شام میڈم کا ڈرئیوار آیا تھا کہ آج کوئی مہمان آئیں گے میڈم کے۔اس لیئے ایکسٹرا سموسے اور سینڈویچز چاہیئے۔ دوسرے  اسکولوں کی کچھ ٹیچرز بھی آرہی ہیں۔ بس اب جلدی سے کام پر لگ جا۔ پھر تفریح تک کام کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی، چھٹی تک رقیہ باجی خاصی تھک گئی تھیں اس لیے کوئی چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کی اور خاموشی سے کنٹین بند کرکے گھر چلی گئیں۔ میں بھی ان کلاسز کی طرف چلی گئی جس کی ہدایت مجھے میڈم سعدیہ نے کی تھی تاکہ میں میٹرک کرسکوں ۔ جب میں کلا س  پہنچی تو مجھے بشری ملی جو آٹھویں میں میری کلاس فیلو تھی، میں نے کہا کلاس ہورہی ہے  تو اس نے کہا کہ آج کلاس نہیں ہوئی کیونکہ پرنسپل کے دوسرے اسکولوں سے مہمان آئے تھے۔ تو لائیبریری چلی جا میڈم عفیفہ  وہاں گئی ہیں 10منٹ پہلے  تو بس انکو بتادے تاکہ انکو پتہ رہے کہ توکلاس میں آئی تھی اور پڑھائی میں سنجیدہ ہے۔ میں جب لائیبریری پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا میں جب واپس جانے لگی تو مجھے کونے میں پڑے بک شیلفوں کے پیچھے سے کسی کے بولنے کی آواز آئی میں دبے قدموں سے چلتی وہاں تک پہنچی تو آوازیں اور صاف سنائی دینے  لگیں، میں نے بک شیلفوں کے پیچھے جھانکا تو وہاں 15*15کی جگہ تھی اور ایک اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکی اور ایک برقعہ پہنے ٹیچر کھڑی تھی، میں نے پوزشین بدلی تو مجھے دونوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے۔ میڈم عفیفہ  اور  عائزہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرہے تھے۔ میڈم کے چہرے پر نہایت سختی کے تاثرات تھے انہوں نے عائزہ کو کوگھورتے ہوئے کہا لگتا ہے تم سیدھی طرح نہیں بتاو گی کہ تم اس دن کنٹین  کے اند کیا کرہی تھی لگتا ہے تمہاری امی کو بلانا پڑے گا۔ یہ سن کر میری تو جان نکل گئی کیوں کہ میں نے رقیہ باجی کو آواز لگا کر ہوشیار کیا تھا جو عائزہ نے بھی سنی تھی اگر اس نے میرا نام بھی لگادیا تو میں بھی پھنس جاوں گی۔ جوں جوں عائزہ بات کو ٹال رہی تھی میڈم عفیفہ کے چہرے پر درشتگی بڑھ رہی تھی  انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تو جا صبح تیری امی کو بلاتے ہیں۔ یہ سن کر عائزہ رونے لگی۔ پھر اس نے کہا میڈم میری امی کو نہ بتانا وہ مجھے اسکول سے اٹھا کر گھر بٹھا لیں گی، میں مرجاونگی۔ وعدہ کریں مجھے معاف کردیں گی میڈم عفیفہ نے کہا منظور ہے اب بتا کیا قصہ ہے۔ عائزہ نے میڈم کو ساری بات بتادی اور شکر ہے میرا کہیں نام نہیں لیا۔ جب میڈم نے یہ ساری بات سن لی تو کہا کہ چل وعدہ میں تیری امی کو نہیں بتاونگی لیکن مجھے تیرا معائنہ کرنا ہوگا کہ تیرے ساتھ اس کاروائی میں تیرے جسم پر کوئی داغ تو نہیں لگ گیا یا تجھے کوئی بیماری ہونے کاڈر تو نہیں ۔ عائزہ یہ انوکھی شرط سن کر حیران ہوگئی، مجھے بھی بہت حیرانی ہوئی، لیکن میں میڈم عفیفہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر وہ ہی چمک تھی جو کنٹین کے  کاونٹر کسی خوبصورت بچی کو دیکھتے ہوئے رقیہ باجی کے چہرے پر آجاتی تھی۔ میڈم عفیفہ نے بھی اپنا برقعہ اتار دیا اور برقعہ اترتے ہی انکا چست لباس سامنے آگیا، انکی چست قمیض میں  انکے بڑے ممے   نمایاں تھے۔ میڈم نے کہا عائزہ جلدی کر ان کے اس طرح گھرکنے پر عائزہ نے جلدی سے قمیض اتاردی اور کھڑی ہوگئی یہ میں پہلے بتاچکی ہوں کہ رقیہ باجی کے ساتھ سکیس کرنے والے دن بھی عائزہ نے بنیا ن پہنی تھی اور وہ برا

۔ میڈم عفیفہ جیسی نفیس اور شستہ لہجے والی زبان والی عورت کہ منہ سے گالی سن کر میں اور عائزہ دونوں دنگ رہ گئے اور عائزہ نے جلدی  سے اپنی بنیان اتار دی۔ میڈم عفیفہ آگے بڑھیں اور اس سے پہلے کہ عائزہ سنبھلتی انہوں نے عائزہ کی شلوار بھی نیچے کو کھینچ دی۔  اب عائزہ بالکل ننگی انکے سامنے کھڑی تھی  عایزہ کا خوبصورت بدن کر میڈم عفیفہ کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی سیٹی نکل گئی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ عائزہ ایک سیکسی جسم کی مالک تھا، گورا رنگ کیوٹ سے ممے پتلی کمر لمبے بال اور اسکی چوت سیاہ بالوں میں گھری ہوئی تھی بال کم تھے لیکن تھے ضرور، پھدی کلین شیو نہیں تھی۔  میڈم نے کہا کہ  تم بہت گرم ہو میری جان۔۔ میڈم نے اس کو گلے سے لگلیا اور پھرانکی  زبان عائزہ کے  گالو ں سے ہوتی ہوئی اس کے ہونٹوں پر پہنچی اور پھر انہوں  تو اس کچی کلی کے ہونٹوں کو اپنی زبان کے ساتھ ہلکا سا ٹچ کیا پھر اس کے نرم ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی اس کے ساتھ ہی عائزہ  بھی گرم ہو گئی اور اس نے میڈم کی  زبان کو اپنے منہ میں لے لیااور اسے چوسنے لگی۔ 
زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میڈم  نے  عائزہ کی  چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں دبانے لگی۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک زبان چوستی رہیں۔ عائزہ نے  لایئبریری کے  دروازے کی طرف دیکھا تو میڈم  نے اس کے گال کی پپی  لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میری جان اس وقت یہاں کوئی نہیں آئے گا یہ  بات کہتے ہی میڈم نے  نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر  میں وہ بھی  ننگی ہو گئیں۔ میڈم کے ممے بڑے تھے کم از کم بیالس کے، ان کا رنگ گندمی تھا اور جسم بہت بھر بھرا تھا وہ موٹی تو نہیں تھی مگر پتلی تو بلکل  نہیں تھی۔ انکی ٹانگوں پر ہلکے ہلکے بال تھے اور پھدی بالکل کلین شیو تھی انکے کندھے مظبوط تھے اور پیٹ نکلا ہو نہیں تھا   اب دونوں آگے بڑھیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ گئیں میڈم  عفیفہ  اپنی بھاری چھاتیوں کو  عائزہ کی  چھوٹی چھاتیوں سے رگڑتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنی دیر کیوں لگائی مجھے ملنے میں سیکسی گڑیا  اور اس کے ساتھ ہی میڈم    عائزہ کی  گردن کو بے تحاشہ چومنے لگی۔۔۔ پھر گردن سے ہوتی ہوئی وہ  عائزہ کی  چھاتیوں پر آئی اور انہیں چوسنے لگی۔۔۔ پھر وہ عائزہ کے پیٹ پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے آئی اوراسکی  پھدی پر آ کر رْک گئی میڈم   اس کام کی بہت ماہر کھلاڑی لگ رہی تھی اس نے عائزہ کو بہت جلد گرم کردیا تھا ۔میڈم نے پھر عائزہ کو اپنے بازوں میں اٹھاکر کر کونے میں پڑی میز پر لٹادیا  پھر اس کی  چوت پر جھک گئی اور زبان نکال کر چوت چاٹنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دو انگلیوں کو بھی عائزہ کی  چوت کے اندر باہر کرنے لگی۔ چوت چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اسکی  چوت نے ڈھیر ساری منی اگل دی عائزہ کے  چھوٹنے کے کچھ دیر بعد تک بھی وہ اسکی پھدی میں انگلی مارتی رہی پھر اس نے عائزہ  چوت کو ایک بوسہ دیا اور اس کی  طرف دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ میز پر لیٹ گئی۔ ۲ منٹ کے بعد میڈم نے  کروٹ لی  اور مشنری سٹائل میں لیٹی ہوئی عائزہ  کے گلابی نپلز کو اپنی انگلیوں میں پکڑ لیا۔۔اس کی بھاری چھاتیوں پر نپلز کا سرکل بلکل چھوٹا اور گول دائرے کی شکل میں تھا چنانچہ میڈم  نے بھی اسی دائیرے پر سرکل کی شکل میں زبان پھیرنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی ایک انگلی نیچے اس کے دانے پر لے گئیں اور اسے مسلنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بولی عائزہ  مزہ آ رہا ہے  عائزہ کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا بس آہ اوئی جیسی آوازیں نکلاتی رہی۔ میڈم نے اس کے مموں سے منہ نکال کر اس کی ٹانگوں کو مزید کھول کر اس کی چوت دیکھنے لگیں۔ اس کی چوت بہت موٹی اور لب اندر کی طرف مْڑ کر آپس میں جْڑے ہوئے تھے۔۔۔اور دور سے پھدی کی لکیر ایسے نظر آ رہی تھی کہ جیسے دو پہاڑی ٹیلوں کے درمیان تھوڑی بڑی سی دراڑ پڑی ہو۔۔۔۔ اور عائزہ کی اس دراڑ سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھامیڈم نے اسکی پھدی کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور  پھر  پہلے تو اس کی نرم پھدی پر جی بھر کے ہاتھ پھیرا کہ جس پرہلکے ہلکے بال تھے  پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آئی اور اس کی پھدی پر جھک کر اس کی چوت کو چاٹنے لگی۔ اس  چوت چاٹائی سے عائزہ دھیرے دھیرے کراہنے لگی اور میری حالت بھی یہ سین دیکھ کر بہت خراب ہوگئی ۔  پھر کچھ دیر بعد  میڈم  نے میز پر لیٹ کر عائزہ کو اپنے اوپر لٹالیا اور  اپنی پھدی اسکی پھدی سے رگڑنے لگیں ۲ منٹ مستقل اس رگڑائی کے بعد پہلے عائزہ نے جھٹکے مارنے شروع کئے  اور پھر میڈم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ان کی  کی چوت نے بھی ڈھیروں پانی چھوڑ دیا میں بے بھی اپنا ہاتھ شلوار میں ڈالا ہو ا تھا اور اپنی پھدی کو مسل رہی تھی مجھے اس ایسا لگا کہ میں بھی ڈسچارج ہو رہی ہوں میرا ہاتھ بک شیلف پہ تھا اور سارا زور بھی اسی پہ تھا ادھر میں ڈسچارج ہوئی ادھر بک شیلف گر گیا اور میں سیدھی دوسری طرف جا گری جہاں میز پر میڈم عفیفہ اور عائزہ ننگے پڑے ہوئے تھے۔ میڈم اور عائزہ بک شلیف گرنے کے ہلکے دھماکے سے چونک گئے اور مجھے سامنے گرے دیکھ کر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے۔ 

 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.