Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کنٹین والی لڑکی

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

admin sir aek bar phir convertor ka link behjean 

 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

کنٹین والی لڑکی قسط نمبر ۳
میں کچھ دیر اپنا سانس بحال کرتی رہی لذت آمیز تھکن سے میرا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا، جونہی میری بے ترتیب سانسیں درست ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ میری قمیض اور بنیان اتری ہوئی ہے  اور شلوار بھی گھٹنوں تک آگئی ہے اور رقیہ باجی اپنی شلوار پہن چکی تھیں لیکن انکا سینہ ابھی تک عریاں تھا۔ میں نے دیکھا کہ رقیہ باجی مسکرا رہی ہیں اور اور انکی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں مجھے بہت شرم آئی۔ پھر رقیہ باجی نے کھونٹی سے میری قمیض اور بنیان اتار کر  مجھے دی اور کہا میری جان کیا اس طرح رہوگی میں نے پھر شرم سے سر جھکا لیا۔ رقیہ باجی نے ایک بار پھر مجھے چوم کر کہا کہ تم شرماتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رقیہ باجی کو کہا کہ آج مجھے جلدی جانا ہے اگر آپ اجازت دے دیں۔ رقیہ باجی ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں نہانے کی اتنی جلدی ہے میری جان کو، پھر مسکرا کر کہنے لگیں اچھا جا، لیکن کل ٹائم پر پہنچ جانا۔ دوستو میں اپنے گھر تک 5منٹ کے مختصر فاصلے میں بھی پسینہ پسینہ ہوگئی۔ دل کا چور جو  تھا ہر وقت یہ خیال آتا تھا کہ جو بھی لڑکی یا عورت مجھے دیکھتی مجھے خیال آتا ہے کہ جیسے اسے سب خبر ہے۔ گھر پہنچ کر سکون آیا، اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ امی پرنسپل میڈم کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھیں اور تمام چھوٹے بہن بھائی ابھی اسکول میں ہی تھے۔ میں نے جلدی سے پہلے شلوار دھوکر دھوپ میں ڈالی اور پھر نہانے چلی گئی جتنی دیر میں نہا کر آئی تو شلوار سوکھ چکی تھی میں نے شکر ادا کیا کہ امی کے آنے سے پہلے شلوار سوکھ گئی تھی کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا اور امی یا بہنوں سے کوئی بھی چیز چھپانی مشکل تھی۔ ایک بجے چھوٹے بہن بھائی واپس آگئے اور 2بجے امی واپس آگئی۔ امی کو ہمیشہ ڈرائیور چاچا سرکاری سوزوکی ڈبے میں واپس چھوڑنے آتا تھا اس کا نام شفیق تھا اور ایبٹ آباد کا رہنے والا تھا اسکی عمر 50سال کی تھی اور وہ بابا کا دوست تھا اور انکے مرنے کے بعد ہمارا بہت خیال کرتاتھا۔ شفیق چاچا اسکو کے بالک ساتھ اور ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر سرکاری کوارٹر میں رہتا تھا۔ اسکی بیوی صغریٰ چاچی بھی بہت اچھے دل کی عورت تھی اور میری امی کی واحد دوست تھی۔  شفیق چاچا نے مجھے دیکھا تو پہلے امی کو گاڑی تھیلا اتار کردیا جو شائد میڈم سعدیہ نے امی کو دیا تھا پھر میرے سر پر  ہاتھ پھیر کر بولا بیٹا اگلے مہینے عائشہ (شفیق چاچاکی بیٹی) کی شادی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے، میں نے کہا کہ چاچا امی کہاں کہیں جانے دیتی ہے، تو  شفیق چاچا ہنس کر بولا بیٹا یہ کہیں اور نہیں تمہارے گھر کی شاردی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے۔ میں نے تمہاری امی سے بات کرلی ہے میں نے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ 
رات کو جب میں سونے کے لیے اپنی چارپائی پر لیٹی تو رقیہ باجی کے ساتھ گزارا ہوئے دن کا ایک  ایک پل یاد آنے لگا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ میں نے یہ سب کچھ کر لیا ہے کیونکہ اس وقت تک میری زندگی کے کسی بھی دریچے سے سیکس کی ہوا تک نہیں آتی تھی۔ آج جو بچیاں 15سال کی ہیں وہ ہماری زندگی کا تصور تک نہیں کرسکتیں، نہ موبائل نہ کمپیوٹر نہ ہی انٹر نیٹ اور نہ ہی کیبل۔ صرف پی ٹی وی اور ہمارے گھر میں وہ بھی نہیں تھا تو میرا جنسی تلذذ کا تجربہ مکمل طور پر خالص تھا اس میں کسی خارجی عوامل کا دخل نہیں تھا۔ اگلے چند دن بغیر کسی اہم واقعے کے گذر گئے رقیہ باجی نے بھی صرف ہلکی ہلکی چیٖھڑ چھاڑ پر اتفاق کیا کونکہ وہ بہت محتاط تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ کہیں پرنسپل میڈم اچانک چھاپہ نہ ماردیں اور پرنسپل میڈم سے رقیہ باجی کی  جان نکلتی تھی۔ پہلے تجربے کے بعد میری طلب میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ لیکن سچی بات ہے کہ ڈر بھی بہت لگتا تھا۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے بعد میری زندگی میں سیکس ایسے داخل ہو ا کہ آج تک نہیں نکلا۔ 
اگر کوئی اسلام آباد کو میرا ہم عمر یہ اسٹوری پڑھ رہا ہے تو اسے یاد ہوگا کہ اسلام آباد میں 80اور90 کی دہائی میں لوڈ شیڈنگ صر ف سردیوں کے مہینے میں ہوتی تھی اور اسکی وجہ راوال اور سملی ڈیم میں پانی کی کمی ہونا تھی۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی  شام کو ہم سب لوگ گھر پہ تھے دونوں بہنیں اور بھائی سرای کی وجہ سے دورے کمرے میں لحاف میں دبکے پڑے تھے اور میں اور امی ایک کمرے میں تھے کہ رات کو 6بجے دروازے پر دستک ہوئی جی ہاں 1980میں دسمبر شام کے 6بجے کا مطلب رات ہی تھا۔ امی کی ٹانگ میں شام سے درد تھا اور بستر میں لیٹی ہوئی تھی کیونکہ میں اس کی ٹانگیں دبا رہی تھی دونوں بھائی چھوٹے تھے تو انہیں دروازہ کھولنے سے منع کیا تھا۔ دستک کی آواز سن کر امی نے مجھے کہا کہ پوچھو کون ہے میں دروازے کے پاس جا کر بولی کون ہے، باہر سے ایک مردانہ آواز آئی جی میں خرم ہوں، میں نے کہا کہ کون خرم تو اس نے کہا جی میں شفیق ڈرائیور کا بیٹا، مجھے امینہ خالہ سے ملنا ہے۔ میں نے امی کو بتایا تو انہوں نے پہلے حیرت کا اظہار کیا اور پھر ماتھے پر ہاتھ مار کر  کہنے لگیں ہا ں آج صغری نے کہا کہ وہ خرم کو بیھجے گی اسٹور دیکھنے۔ ہمارا گھر چونکہ اسکول کی دیوار کے ساتھ پرنسپل میڈم کے کہنے پر بنایا گیا تھا تو کمرے تو صرف 2تھے مگر بابا نے اسٹور اچھا بڑا بنایا تھا تاکہ بعد میں اسکو بھی کمرا بناسکیں لیکن زندگی نے ان کو مہلت نہ دی۔ خرم وہ ہی اسٹور دیکھنے آیا تھا تاکہ اگلے ماہ اسکی بہن عائیشہ کی شادی کو کچھ سامان وہاں رکھا جاسکے۔ میں نے امی کی بات سن کر دروازہ کھول دیا اور سے کہا کہ وہ اندر آجائے۔ ہمارے گھر میں دروازے کے ساتھ ہی کچا صحن تھا خرم جونہی اندر آیا تو ایکدم لڑکھڑا گیا میں نے فورا اس کو تھام لیا جونہی میں نے اسکو پکڑا اس نے بھی فوا مجھے پکڑ لیا پھر 10سیکنڈ میں وہ سنبھل گیا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا لیکن اس لمحات لمس سے میرے پورے جسم میں سنسنسی دوڑ گئی۔  ہم اندر کمرے میں داخل ہوئے تو خرم نے امی کے پاس جا کر سر کو نیچے جھکایا تو امی نے اس کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا کہ اتنے اندھیرے میں کیوں آگیا بیٹا، خرم نے کہا خالہ جب گھر سے چلا تھا تو بجلی تھی یہاں پہنچا تو چلی گئی پہلے سوچا کہ واپس چلا جاوں لیکن پھر سوچا کہ اسٹور تو بعد میں بھی دیکھ سکتا ہوں لیکن وہ بام آپ کو دینا ضروری تھا جو امی نے آپکی ٹانگوں کے درد کے لیے بھجوایا ہے، امی یہ سن کر صغری چاچی کو دعائیں دینے لگے اور مجھے کہا کہ بھائی کو کرسی لادے میں نے پاس پڑا موڑھا آگے رکھ دیا  اور خود امی کے ساتھ چارپائی پہ بیٹھ گئی۔ کمرے مں لالٹین جل رہی تھی اور خرم بالکل اس کی روشنی تلے بیٹھا ہو ا تھا۔ تب میں اس کو پہلی بار دیکھا۔ خرم کی ستواں ناک تھی اور بڑی بھوری آنکھیں، اس کا رنگ سرخ و سفید تھا اور ہونٹوں پر  باریک سی براون مونچھیں اس کا قد بھی خاصا لمبا تھا ، اسنے پہلے بام نکال کر امی کو دیا، پھر جیب سے ایک تھرمامیٹر نکالا او امی کو کہا کہ میری امی نے کہا تھا کہ آپ کا ٹمپریچر لے کر آنا ہے۔  امی نے کہا کہ صغری تو وہم کرتی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں  لیکن خرم نے امی کی ایک نہ سنی اور تھرما میٹر امی کے منہ میں ڈال دیا۔ خرم لاکھ امی کی دوست کا بیٹا تھا لیکن تھا تو مرد اور امی کو بیوہ ہوئے 4برس گزر چکے تھے امی اس کے اتنے قریب آنے پر جھینپ  گئیں۔ میں نے بھی امی کو پہلی بار کسی غیر مرد یا جوان لڑکے سے بغیر پردہ کے بات کرتے دیکھا تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی بات عجیب نہیں لگ رہی تھی امی کا ٹمپریچر بالکل نارمل تھا، خرم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا بڑے عرصے بعد ہمارے گھر میں ایک مردانہ آواز گونج رہی تھی اور مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 10منٹ کے بعد لائٹ آگئی۔ امی نے کہا کہ صندل جا بھائی کو اسٹور دکھا دے۔ میں خرم کو لے کر باہر نکلی تو صحن عبور کرکے  ہم اسٹور پہنچ گئے۔ جب میں نے اسٹور کا بلب جلانے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے میں نے خرم کو کہا کہ تم رکو میں اندر سے لالٹین لے کر آتی ہوں، میں دوبارہ اندر آئی تو امی نے کہا کہ اب کیا ہوا میں نے کہا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے امی نے کہا کہ تو ٹھہر اندھیرے میں تیرا جانا مناسب .اور مجھے کہا کہ جلدی سے ایک کپ چائے بنادے اس کے لیے، میں کچن چلی گئی اور اسٹور کی طرف، جب میں نے چائے کا پانی رکھا اور کپ دھو کے رکھے تو دیکھا کہ چائے کی پتی نہیں ہے میں نے سوچا امی سے پوچھتی ہوں کہ قہوہ بنادوں؟ میں اسٹور کی طرف گئی تو مجھے اندر سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آنے لگیں، میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی اور درز سے اند جھانکا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں نے دیکھا کے  خرم نے امی کو پیچھے سے جکڑا ہو ا ہے اور امی اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زور لگار رہی ہیں میرے دل میں آیا کہ ابھی اندر گھسوں اور خرم کو 2تھپڑ لگادوں لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ امی نے خرم کو کہا کہ شرم کرو میں تمہاری خالہ ہوں تمہاری امی کی دوست ہوں اور یہ کیا حرکت کر رہے ہو۔ خرم نے امی کا گال کو چومتے ہوئے کہا کہا کہ آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہو آپ بہت خوبصورت ہو میں کافی دن سے آپ کو یہ کہنا چارہا تھا لیکن موقع نہیں ملا۔ امی نے اپنی گلابی اردو میں خرم سے کہا بچہ باز آجاو، ہم تمہاری امی کی عمر کا عورت ہے امارا5بچہ ہے شرم کر لو اب مجھے چھوڑ دہ ابھی صندل آجائے گا امرا کتنا بے عزتی ہوگا جوان بیٹی کے سامنے۔ خرم امی کی ساری باتیں سنی ان سنی کرتا رہا پھر اس نے امی کا چہرہ اپنی طرف کیا اور کہا کہ اچھا میں چھوڑ دوں گا  لیکن آپ میری دو باتیں سن لو ورنہ پھر جو مرضی ہو میں نہیں ڈرتا اچھا  ہے سب کو پتہ چل جائے۔ امی تھی تو ایک گھریلو عورت اس کی باتوں میں آگئی۔ امی نے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر خرم کو کہا بولو  اس نے امی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم ہے جو میں پوچھوں اس کا سچ سچ جواب دینا ہے  یہ کہ کر اس امی کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور امی کے ہاتھ لالٹین لے کر ایک کنڈے کے ساتھ ٹانگ دی۔ اب لالٹین کی روشنی امی کے منہ پر پڑ رہی تھی  اور خرم بالک ان کے سامنے کھڑا تھا خرم نے دونوں ہاتھ امی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور اس کا جسم تقریباً امی کے جسم کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا۔ خرم نے امی سے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے امی نے ایک سیکنڈ سوچا اور کہا 34سال خرم نے کہا یہ تو کچھ عمر نہیں۔ پھر خرم نے کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم سچ سچ بتانا میری شکل کیسی ہے امی نے کوئی جواب نہیں دیا خرم نے کہا امینے جلدی کرو بچے آجائیں گے جب اس نے امینے کہا تو میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر بالکل سرخی دوڑ گئی کیونکہ بابا پیار سے امی کو امینے کہتے تھے۔ امی نے کہا تم بہت خوبصورت ہو بیٹا تمہیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی،پھر میں نے دیکھا کہ نیم تاریکی میں خرم نے اپنا نچلا دھڑ امی کے ساتھ پیوست کردیا۔ میں نے دیکھا کہ امی کے منہ سے ہلکی سی  سسکی نکل گئی، خرم نے کہا کہ امینے تم بہت خوبصورت ہو میں نے اپنی زندگی میں تم سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی۔ امی کا رنگ پہلے ہی سرخ تھا مزید گلنار ہوگیا۔ خوبصورتی کی تعریف دنیا کی ہر عورت کی کمزوری ہے خرم نے نے پھر امی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور امی کی دونوں آنکھیں چوم لیں۔ میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر اب مزاحمت کم ہو رہی تھی کہ خرم نے بڑی آہستگی سے امی کے دونوں ممے قمیض کے اوپر سے دبانے شروع کردئے اور امی کو کہا کہ تم اتنی پیاری اور جوان ہو مرد کے بغیر کیسے زندگی  گزاروگی امی نے کہا کہ میرے 5بچے ہیں اور ہمارے علاقے میں بچوں والی بیوہ شادی نہیں کرتی۔ لیکن اب کی امی کی آواز اور لہجے سے غصہ بالکل غایب ہوچکا تھا۔ خرم نے امی کی ناک سے اپنی ناک رگڑی اور کہا امینے جان آئی لو یو۔ امی نے سر جھکا کر کہا بے شرم اب جاو تم نے میرا سارا محنت ختم کر دیا ہے امی کے منہ سے یہ سن کر خرم نے امی کو زور سے جپھی ڈال دی۔خرم  نیامیکو جپھی ڈالی ھوئی تھی اور خرم  امی  کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر چوس رھے تھے اور امی  کی آگے سے قمیض اوپرکردی تھی  اب امی کے  دونوں بڑے بڑے  گول مٹول چٹے سفید چھتیس سائز کے ممے بریزئیر سے آزاد تھے اور امی کی آنکھیں شرم سے مکمل طور پر بند تھیں۔  خرم کا ایک ھاتھامی کے ایک مْمے پر تھا اور دوسرا ھاتھ امی کی بْنڈ پر رکھا ہو تھا  وہ اسے اوپر نیچے پھیر رہا تھا۔خرم  مسلسلامی  کے ہونٹ چوس رہا تھا  پھرخرم نے امی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کیے تو میں نے دیکھا کہ امی   کی آنکھیں  ابھی بند تھیں بند تھی اور وہ شائد 4سال بد ہونے والے اس جنسی مزے  میں کھوئی ھوئی تھی  اب خرم نے   کی گالوں کو چومنا شروع کردیاوہ  کبھیامی کے گالوں کو چومتا  تو کبھی ان کے گال کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتا۔امی کا رنگ تو پہلے ھی  چٹا سفید تھا اب بلکل  سیب  کی طرح لال  ہوچکا تھا۔خرم نے  اب زبان کا رخ امی  کے کان کی لو کی طرف کیا جیسے جیسیخرم  کی زبان امی  کے کان کی لو سے ھوتی ھوئی کان کے پیچھے کی طرف جاتی تو وہ  ایک جھرجھری سی لیتی اور اپنی پھدی والے حصہ  کو خرم کے لن والے حصہ  کے ساتھ جوڑ دیتی  اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتی  پھر خرم نے  تھوڑا نیچے ھوتے ہوئے امی کا  نپل منہ میں لے کر اس چوسناشر وع کر دیا۔خر م  مسلسل اپنی زبان سے نپل چوس رہا تھا۔  خرم  اب اپنا ایک ھاتھامی  کے پیٹ پر پھیر رہا  تھا اور کبھی اپنی انگلی انکی ناف کے سوارخ میں پھیرنے لگ جاتا۔   پھر خرم نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ امی کی پھدی پر شلوار کے اوپر پھیرنا شروع کر دیا اور امی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔امی کا ھاتھ مسلسل خرم کے بالوں  کو مٹھی میں لیے ھوے تھا۔ پھر خرم نے اپنا ھاتھ امی  کے ازاربند  پر رکھ لیا اور انگلیوں سیاسکا سرا تلاش کرنے لگ گیا۔  امی نے ایک دم کہا نہیں نہیں بس کو اب کوئی آجائے گا، خرم نے یہ بات بھانپ لی کہ ا امی کو جنسی عمل پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ کسی کے آنے کا ڈر ہے تو وہ اور شہر ہوگیا۔ اس نے امی کو کہا امینے جان ابھی کوئی نہیں آتا اور کہا کہ آپ آواز لگاو کہ صندل چائے کمرے میں رکھ دو ہم وہیں آرہے ہیں۔ امی بھی اس کے ایسے ٹرانس میں تھی کہ انہوں نے آواز لگائی صندل بیٹا چائے کمرے میں رکھ دینا میں پیٹی ہٹوا کر آرہی ہوں۔ میں نے دروازے سے ذرا دور جا کر آواز لگائی جی امی پہلے چولہا تھوڑا خراب تھا اب دوبارہ پانی رکھا ہے  15منٹ لگے گیں، میں دربارہ کچن آئی اور نئے سرے سے چائے کا پانی رکھا اور دہ بارہ اسٹور روم کی طرف چلی گئی۔ 
اس وقت تک خرم امی کی شلوار اتار چکا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اب امی  کی گوری گوری موٹی بھری بھری ننگی ٹانگیں اور گولڈن رنگ کے بالوں میں ڈھکی انکی پھولی ھوی پْھدی تھی یہ سین دیکھتے ھی میرا ھاتھ خود ھی اپنیپھدی پر چلا گیا جو پتہ نھی کتنی گرم تھی  اور میں نے اس مسلنا شروع کردیا۔ خرم  نے اپنا ایک ھاتھامی  کی پھدی پر رکھا ہو ا تھا  اور ھاتھ کی درمیانی انگلی کو پھدی کے اوپر نیچیکر رہا تھا  امی اب بہت گرم ہوچکی تھی اور اپنے  ھاتھ سے خرم کے ہاتھ کو اپنی پھدی پر دبارہی تھی۔  اب امی  اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کرخرم کے  کے ھاتھ کو آگے پیچھے جانے کا راستہ دے رھی تھی۔ اچانک امی  کی آنکھیں نیم بند ھونے لگ گئی اور منہ اور انہوں نے تیز آواز میں سسکیا ں بھرنی شروع کردین۔ خرم نے اپنے ھاتھ کی سپیڈ اور تیز کردی اچانک امی  نے اپنی دونوں ٹانگوں کوخرم  کے ھاتھ سمیت ذور سے آپس میں بھینچ لیا  اور نیچے کی طرف جھکتی گئی اتنا جھکتی گئی کہ نیچے ھی پاوں کے بل پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی خرم بھی امی کے ساتھ ہی جھک گیا۔ پھر امی کے جسم نے ایک زور سے جھٹکا لیا اور ایک دم پرسکون ہوگیا۔ اب امی اور خرم دو منٹ یونہی لیٹے رہے اور پھر امی جلد ہی اٹھ گئی اور کہا جلدی کرو صندل آگئی ہوگی میں بھی جلدی سے کچن چلی گئی اور جتنی دیر میں امی اور خرم کپڑے پہن کر آتے میں بھی قہوہ لے آئی۔ امی نے کمرے میں آتے ہی صفائیاں دینی شروع کردین کہ مشکل سے جگہ نکل آئی ہے اور کل پر سوں خرم آکر سامان رکھ دے گا۔ امی اور خرم ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے، اور سچی بات ہے کہ مجھے امی پہ تو غصہ آرہا تھا لیکن خرم اور پیارا لگ رہا تھا۔ 
نہیں یہ کہہ کر امی ہمت کرکے اٹھیں  اور لالٹین اٹھا کر اسٹور کی طرف چل دیں 

Start tau bohat acha ha agar dosri stories ki Tarha ye b bech me hi na choot جائے.... 

2nd part is more interesting then the 1st one. Keep it up. Story lambi chaly gi agar koi masla na hua tau👌❤️

بہت خوب لکھ رہے ہیں 

  • Author

بہت  شکریہ آپکے کمنٹس نے حوصلہ بڑھادیا 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.