Leaderboard
Popular Content
Showing most liked content on 12/06/25 in all areas
-
مڈل کلاسیئے
1 likeپاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے‘ یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیاہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔ ۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔یہ مڈل کلاسیاکون ہوتاہے؟ یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔ اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔ گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔ گھرمیں یو پی ایس ہوتاہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔اس کے گھر میں ہر ہفتے پتلے شوربے والی مُرغی بنتی ہے۔یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔ اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتاہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرزمیں ہی بھگت جاتی ہے۔یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔ یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔ اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔ اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔ پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اُس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خ +دا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔ ۔ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ زکوٰۃ غریبوں کو جاتی ہے بھیک کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔ فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پالیں۔ بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟ یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘ نہ فطرہ نہ بھیک۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے۔1 like
-
منصور نگر کا خزانہ - مکمل
1 likeفرخ ریل کی کھڑکی سے باہر تیز تیز دوڑتے ہوئے درخت، میدان، کھیت دیکھ رہا تھا۔ اس کا ریل سے یہ پہلا سفر تھا۔ دوڑتے بھاگتے منظر اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ’’بھیا ! یہ پیلے پیلے کیا سرسوں کے کھیت ہیں ؟‘‘ اس نے پرویز سے پوچھا۔ پرویز اس کا بڑا بھائی کتاب پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بھیا بھی خوب ہیں۔ اس نے سوچا، ہر وقت پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ فرخ خاصا شرارتی اور پیارا لڑکا تھا، کوئی دس سال کا ہو گا۔ کسی وقت نچلانہ بیٹھتا ۔ابو امی کے بغیر پہلی دفعہ یہ لوگ گھر سے دور جارہے تھے۔ فرخ اپنے آپ کو خاصا بڑا محسوس کر رہا تھا۔ اس لئے وہ بہت خوش تھا اور چاہ رہا تھا کہ بھائی بھی اسی طرح خوش ہوں۔ اچانک اسے یاد آیا کہ امی نے ریل میں پڑھنے سے منع کیا تھا۔ ’’مت پڑھیں بھیا۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔ ــ’’اونہہ نہہ۔ کیا ہوا؟‘‘ پرویز نے اب بھی کتاب سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں ۔ ’’ریل میں پڑھنا آنکھوں کے لئے مضر ہے۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’ چپ ر ہو۔‘‘ پرویز نے ڈانٹا۔ اور پھر پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ پرویز، فرخ سے پانچ برس بڑا تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، پرویز خاصا سنجیدہ تھا اور پڑھنے کا بے حد شوقین بھی۔ یہ اپنے بھائی کے مقابلے میں خاصا تندرست تھا۔ کتابیں پڑھنے سے اس کی عام معلومات میں بھی کافی اضافہ ہوا تھا۔ پرویز کی طرف سے مایوس ہو کر فرخ اپنی بڑی بہن سائرہ کی طرف مڑا۔ ’’سائرہ باجی! یہ منصور نگر کتنی دور ہو گا۔ ہم وہاں کب پہنچیں گے۔ ‘‘ سائرہ مسکرائی۔ ’’ ابھی تو ہم نے سفر شروع کیا ہے ،کیا تم تھک گئے؟ ‘‘ ’’ نہیں تو۔‘‘ ’’ابو نے بتایا تھا کہ منصور نگر ڈھائی سو کلو میٹر ہے۔ ہم تقریباً پانچ گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے ۔ ‘‘ ’’اف ،بھائی کتنا مزا آئے گا۔ ہم لوگ قلعے میں رہیں گے۔ ابو نے تو یہی بتایا تھا کہ وہ بچپن میں منصور نگر کے قلعے میں رہتے تھے۔ــ‘‘ فرخ کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ ’’ نہیں، ابو تو شیش محل میں رہتے تھے۔ قلعے میں تو وہ بہت پہلے رہتے تھے۔ جب ابو کے دادا نے شیش محل بنوایا تو یہ لوگ وہیں رہنے لگے ۔‘‘ ’’آپ نے شیش محل دیکھا ہے؟ ‘‘ سائرہ نے کہا ۔’’نہیں! میں کیسے دیکھ سکتی تھی۔ ابو شادی کے بعد کبھی بھی منصورنگر نہیں گئے ۔‘‘ ’’ کیوں کیا انہیں منصور نگر پسند نہیں تھا؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’کیوں نہیں، انہیں اپنے گھر سے بہت محبت تھی۔ مگر دادا جان ان سے ناراض تھے کیوں کہ انہوں نے ان کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ انہوں نے امی کو منصور نگر آنے سے منع کر دیا تھا اسی وجہ سے ابو پھر کبھی واپس اپنے گھر نہیں گئے۔‘‘سائرہ نے بتایا۔ ’’ اور دادا جان نے بھی کبھی انہیں نہیں بلایا ؟‘‘ فرخ کو افسوس ہوا۔ ’’ نہیں، حالانکہ ابو ان کے اکیلے بیٹے ہیں اور ان کی ساری جائیداد کے وارث بھی وہی ہیں ۔‘‘سائرہ نے کیا۔ ’’ کیا دادا جان بہت امیر ہیں ؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’ ہاں، ان کے پاس بہت ساری زمینیں ہیں۔ لوگ تو ان کو کنور صاحب کہتے ہیں۔ ابو نے منصور نگر کے بارے میں مجھے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کتناز بر دست محل تھا ،بے شمار نوکر چاکر تھے ،بہت سے گھوڑے تھے، ایک ہاتھی بھی تھا۔ اتنی شان دار زندگی گزارتے تھے وہ۔‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’مگر پھر وہ ابو سے کیوں ناراض ہو گئے؟ کیا وہ امی کو پسند نہیں کرتے تھے؟ میرے خیال میں تو امی دنیا میں سب سے اچھی ہیں۔ ‘‘ ’’ نہیں، یہ بات نہیں۔ امی‘ ابو کے خاندان کی نہیں ہیں۔ ابو اس خاندان سے ہیں جو صدیوں سے اس علاقے پر حکمرانی کرتارہا ہے۔ دادا جان کو اپنے نسب پر بڑا فخرہے۔ گوامی کا تعلق ایک بڑے عزت دار علمی گھرانے سے ہے، لیکن دادا جان چاہتے تھے کہ ابو کی شادی ان کے خاندان میں ہو۔ــ‘‘ ’’ تو کیا ہوا؟‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟‘‘ ’’ صدیوں سے ہمارے خاندان کے لوگ دوسرے خاندان میں شادی نہیں کرتے تھے۔ جب دادا جان کو پتہ چلا کہ ابو غیر خاندان میں شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بہت خفا ہوئے۔ مگر پھر ابو نے چھپ کر امی سے شادی کر لی۔ اور اس کے بعد سے دادا جان ابو سے کبھی نہیں ملے۔ نہ ابوان سے ملنے گئے اور نہ انہوں نے ابو کو بلایا۔ اور اب دادا جان کی طبیعت بہت خراب ہے ایسا لگتا ہے کہ ان کا آخری وقت آگیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے ابو کو خط لکھا کہ وہ ان کے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں ان کے پاس بھیج دیں۔ انہوں نے اب بھی امی اور ابو کو نہیں بلایا۔ اسی وجہ سے ہم اکیلے جارہے ہیں ۔ــ‘‘ سائرہ نے فرخ سے کہا۔ ــ’’ دعا کرو اسٹیشن پر کوئی ہمیں لینے آئے ۔‘‘ سائرہ نے پرویز سے کہا۔ ’’ اور اگر کوئی لینے نہ آیا تو ہم خود ہی شیش محل چلے جائیں گے اور وہ لوگ ہمیں دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہر گز نہیں! امی نے کہا تھا کہ شیش محل، منصور نگر کے اسٹیشن سے کافی دور ہے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ کنور صاحب کی پوتی کو یقینا پیدل نہیں چلنا چاہئے۔ ان کے لئے شاہی بگھی آنی چاہئے ۔ ‘‘پرویز نے مذاق اڑایا۔ ’’ہاں ہاں تم پیدل چلے جانا۔ ہم تو گاڑی پر ہی جائیں گے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ٭٭٭٭٭ پانچ گھنٹے اسی طرح باتوں میں گزر گئے۔ پھر منصور نگر آگیا اور گاڑی رک گئی۔ یہ چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ پرویز نے سوٹ کیس اٹھایا، سائرہ نے اپنا بیگ ہاتھ میں لیا۔ فرخ کے ہاتھ میں بھی ایک بیگ تھا اور تینوں ڈبے سے باہر آگئے۔ شام ہو چلی تھی، چراغ جل گئے تھے، انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی ایسا نظر نہ آیا جوانہیں لینے آیا ہو۔ ’’ چلو اسٹیشن سے باہر چلتے ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ابھی یہ باہر نکلے ہی تھے کہ ایک جیپ تیزی سے چلتی ہوئی ان کے قریب آکر رکی اور ایک نوجوان لڑکا نیچے اترا۔ ’’میں راشد ہوں، تمہارا چچا زاد بھائی۔ تمہارے پر دادا اور میرے پر دادا سگے بھائی تھے، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘ اس نے ان تینوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ’’دادا جان کیسے ہیں ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’ان کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔ پھر وہ تینوں جیپ میں بیٹھ گئے۔ راشد ان کو لے کر شیش محل روانہ ہو گیا۔ جیپ ہچکولے کھاتی کچی سڑک پر جارہی تھی کہ سامنے ایک قلعہ نظر آیا۔ ’’کتنا بڑا قلعہ ہے؟ یہاں کون رہتا ہے ــ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ ہم رہتے ہیں۔‘‘ راشد نے کہا۔ تینوں حیرت سے اس کا منہ دیکھنے لگے۔ ’’ہاں، ہم لوگ اس قلعے میں رہتے ہیں ۔ بڑے ابا بھی پہلے یہیں رہتے تھے، پھر وہ اپنے نئے محل میں چلے گئے۔ ہمارے دادا جان یہیں رہتے رہے، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو ہم بھی یہیں رہے۔‘‘ ’’ قلعے میں رہنا بڑا عجیب سا لگتا ہے۔ میں تو کبھی نہیں رہ سکتا ۔‘‘ فرخ بولا۔ . ’’میں بھی نہیں رہ سکتی ۔‘‘ سائرہ بولی۔ ’’لیکن مجھے تو قلعہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کیا میں اسے اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’کیوں نہیں۔ ایک طرح سے تو یہ تمہارا بھی گھر ہے، لیکن ابھی نہیں۔ بڑے ابا تمہارا انتظار کر رہے ہیں پہلے ان سے مل لو۔‘‘ ’’ تم وہ سوراخ دیکھ رہے ہو؟ ‘‘ راشد نے قلعہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے بڑے سے لکڑی کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں، یہ کیا ہے؟ ‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’یہ گولیوں کے نشانات ہیں جو 57ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی فوج نے اس قلعے پر چلائی تھیں ۔‘‘ ’’اچھاـ، کیوں؟ ‘‘ ’’ ہمارے خاندان کے لوگ بھی آزادی کی جنگ میں انگریزوں سے لڑرہے تھے۔ بعد میں اس کی سزا بھی ہمارے خاندان کو بھگتنا پڑی۔ ہماری ریاست ختم کر دی ۔‘‘ کچھ ہی دیر کے بعد جیپ ایک بڑے سے لوہے کے گیٹ کے آگے رک گئی۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا اور جیپ بجری سے بنے رستے پر اندر داخل ہو گئی۔ شیش محل نئے طرز کی عمارت تھی، جس میں پرانی طرز کی محرابیں اور در یچے تھے۔ یہ بہت خوبصورت عمارت تھی اور اتنا ہی خوبصورت باغ تھا، جس کے درمیان میں ایک فوارہ لگا تھا۔ سب لوگ جیپ سے اتر کر دروازے تک پہنچے۔ ایک بوڑھے سے آدمی نے دروازہ کھولا۔ یہ کنور صاحب کا پرانا خدمت گار فیاض تھا۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہی اس نے آواز دی۔ ’’چھٹن، بچے آگئے ،ان کا سامان اندر لے جاؤ ۔‘‘ یہ آواز سن کر ایک نو کر باہر آیا۔ اور اس نے پرویز کے ہاتھ سے سوٹ کیس اور سائرہ کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔ اور یہ لوگ اندر ایک بڑے کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ کمرہ کافی بڑا تھا۔ کم از کم ان تینوں نے تو اتنا بڑا کمرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ’’واؤ، کتنا بڑا کمرا ہے ۔‘‘ فرخ نے آہستہ سے کہا۔ کمرے میں دیواروں پر بارہ سنگھے اور شیر کے سر ،مختلف قسم کی ٹرافیاں اور تلواریں لٹکی ہوئی تھیں اور فرش پر ایک بڑا سا قالین بچھا تھا۔ بچوں کو یہ سب چیزیں دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا۔ سائرہ کو اس طرح جانوروں کے سر دیواروں پر لٹکے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگے ۔اسے ان سے خوف سا آرہا تھا۔ یہ سب لوگ کمرے میں پڑے ہوئے ایک آرام دہ صوفے پر بیٹھ گئے۔ ٭٭٭٭٭ ’’آپ لوگ آگئے ؟‘‘ ایک لمبا سا آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ ’’میں ڈاکٹر امجد ہوں۔ آپ لوگوں کا سفر کیسا گزرا؟‘‘ ’’السلا م علیکم ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’میں سائرہ ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں پرویز اورفرخ۔‘‘ ’’دادا جان کا کیا حال ہے ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’وہ خاصے بیمار ہیں۔ بہت دیر سے تمہارا انتظار کر رہے تھے، اب سو گئے ہیں۔ میں نے انہیں نیند کی دوا دی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔ ’’تو ہم آج ان سے نہیں مل سکیں گے؟ ‘‘سائرہ نے کہا۔ اسے یہ آدمی کچھ اچھا نہیں لگا۔ ’’ان کو جگانا ٹھیک نہیں۔ کل صبح ہی آپ ان سے ملیں ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ــ ’’اچھا پرویز میں اب چلتا ہوں ،کل پھر آؤں گا۔ــ‘‘ راشد نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’اچھا ---حافظ ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ’’ صابرہ کہاں ہے! اس سے کہو کہ کھانا لگائے ۔‘‘ فیاض نے صابرہ کو آواز دی اور تھوڑی دیر میں ایک چودہ پندرہ برس کی لڑکی کمرے میں آئی۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں بہت ساری چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں اور گلے میں کالے مصنوعی موتیوں کی مالا تھی۔ ’’سلام صاحب جی ، سلام بی بی جی۔‘‘ صابر ہ نے ان لوگوں کو سلام کیا۔ ’’ صابرہ، چھٹن کی بیٹی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔ پھر صابرہ سے بولے۔ ’’ ان کو ان کے کمروں میں لے جاؤ۔ اور پھر کھانا لگاؤ۔ یہ سفر کر کے آئے ہیں۔ انہیں آرام کرنا چاہئے ۔‘‘ ’’اچھا جی۔ ‘‘ صابرہ ان کو لے کر کمروں کی طرف چل دی۔ پرویز اور فرخ کے لئے ایک کمرہ تھا اور دوسرا کمرا سائرہ کے لئے۔ صابرہ منہ دھونے کے لئے گرم پانی لے آئی۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد سائرہ نے بسترپر بیٹھتے ہوئے صابرہ سے پوچھا۔ ’’ تم یہاں رہتی ہو ؟‘‘ ’’ نہیں جی! اباجی اور اماں یہاں رہتے ہیں ۔‘‘ ’’ تم کہاں رہتی ہو۔ کیا ان کے ساتھ نہیں رہتیں؟‘‘ سائزہ نے تعجب سے پوچھا۔ ’’ نہیں جی ۔ میں اپنے گھر رہتی ہوں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’اپنے گھر! کیا تمہاری شادی ہو گئی ہے؟‘‘ ’’ہاں جی ایک سال ہو گیا ۔‘‘ ’’اچھا بڑی جلدی تمہاری شادی ہو گئی۔‘‘ ’’ہاں جی ۔‘‘صابرہ نے شرماتے ہوئے کہا۔ اتنے میں چھٹن نے آکر اطلاع دی کہ کھانا میز پر لگ گیا ہے۔ اور صابرہ انہیں کھانے کے کمرے میں لے آئی۔ کھانے کی خوشبو نے سائرہ کو احساس دلایا کہ وہ بھی بہت بھوکی ہے۔ کھانا بہت مزے کا تھا اور سبھی نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ کھانا کھا کر یہ لوگ اپنے کمروں میں آکر سو گئے۔ ٭٭٭٭٭ (4) چڑیوں کے چہچہانے سے فرخ کی آنکھ کھل گئی۔ آج امی نے آواز نہیں دی ،اس نے سوچا ،ارے اسے جلد ہی یاد آگیا، وہ تو دادا جان کے محل میں ہے۔ ــ’’کون اٹھا؟‘‘ سائرہ نے برابر والے کمرے سے آواز دی۔ ’’ میں۔ ‘‘ پرویز نے کہا ۔’’میں تو نماز کے لئے ہمیشہ ہی پہلے ،اٹھتا ہوں ۔‘‘ ’’جی نہیں، میں‘‘۔ فرخ نے کہا۔ ’’اچھا یہ تو غیر معمولی بات ہے۔ تم خود کہاں اٹھتے ہو تمہیں تو اٹھایا جاتا ہے ـ۔‘‘ وہ منہ دھو کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ صابرہ آگئی۔ اس نے بتایا کہ ناشتہ تیار ہے۔ یہ تینوں کھانے کے کمرے میں آئے۔ ڈاکٹر صاحب ناشتہ کر چکے تھے، اور اٹھنے ہی والے تھے۔ وہ کنور صاحب کے علاج اور دیکھ بھال کے لئے مستقل شیش محل میں ہی رہتے تھے۔ ’’تمہارے دادا جان اٹھ گئے ہیں، تم ناشتہ کر تو ان کے پاس چلو ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب ان کو دیکھ کر بولے۔ تینوں بچوں کو اپنے دادا سے ملنے کا بڑا شوق تھا، انہوں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دادا جان کے کمرے کی طرف چل دئیے۔ یہ ایک خوبصورت سجا سجا یا کمرا تھا۔ اس میں ایک بڑی سی مسہری بچھی تھی جس پر کنور صاحب آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔ ایک طرف صوفہ سیٹ رکھا تھا۔ فرش پر عمدہ قالین بچھا تھا۔ ’’ کنور صاحب بچے آگئے ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر امجد نے مسہری کے قریب جا کر کہا۔ ’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ دادا جان نے کمزورسی آواز میں کہا۔ تینوں دادا جان کے قریب آگئے۔ دادا جان بہت بوڑھے اور کمزور تھے۔ ان کے سر اور مونچھوں کے سارے بال سفید تھے ۔چہرے پر ایک وقار تھا۔ پرویز دادا جان کے قریب گیااورا دب سے انہیں سلام کیا۔ ’’ تم کون ہو؟ ‘‘انہوں نے نظریں اٹھا کر نقاہت سے پوچھا۔ ’’ میں پرویز ہوں دادا جان۔ ‘‘ دادا جان نے غور سے پرویز کو دیکھا ۔ــ’’ اچھا تم پر ویز ہو۔ تم سب سے بڑے ہو ۔‘‘ ــ ’’جی نہیں! سائرہ باجی مجھ سے بڑی ہیں ۔‘‘ پرویز نے سائرہ کو آگے کرتے ہوئے کہا ۔’’اور یہ فرخ ہے۔ َ‘‘ ــ’’تم سب سے چھوٹے ہو؟ ‘‘ ’’جی! ‘‘ فرخ نے جواب دیا۔ دادا جان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’’میرے قریب آؤ۔ ‘‘انہوں نے فرخ کو اشارہ کیا۔’’ آؤ تم بھی قریب آجاؤ۔‘‘ انہوں نے پرویز اور سائرہ سے کہا۔ تینوں قریب آگئے تو کنور صاحب پرویز سے بولے ۔’’میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ ان کی آواز بہت ہلکی تھی، مشکل سے سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو اور نوکر کو کمرے سے چلے جانے کا اشارہ کیا ۔جب وہ چلے گئے تو انہوں نے پرویز سے کہنا شروع کیا۔ ’’دیکھو بیٹے… سرخ کمرے میں …مخمل کا ہر ابکس… خاندانی ورثہ …خفیہ …کسی کو معلوم نہ ہو… تم لے جا نا…اپنے باپ کو دے دینا…میں شاید اب نہ جیوں۔‘‘ وہ بہت مشکل سے بول رہے تھے اور اتنے آہستہ کہ یہ چند الفاظ ہی پرویز کی سمجھ میں آسکے ۔اتنا بولنے سے ہی وہ تھک گئے اور تکیہ پر گر گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ فرخ نے گھبرا کر انہیں دیکھا۔ ’’ارے دادا جان کو کیا ہوا؟ ‘‘وہ بولا۔ پرویز بھی گھبرا گیا اور کمرے سے باہر نکل کر اس نے ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ــ’’ ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب! جلدی آئیے، شاید دادا جان بے ہوش ہو گئے۔ ‘‘سب لوگ ایک دم کمرے میں آگئے۔ ’’کیا ہوا ؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔ ’’یہ ہم سے باتیں کر رہے تھے کہ ایک دم سے خاموش ہو گئے ، شاید بے ہوش ہو گئے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ انہوں نے کیا کہا تھا ؟ ‘‘ڈاکٹر نے پوچھا۔ پرویز نے کہا۔ ’’کچھ بھی نہیں بس یہ کہ وہ ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہیں اور بس ایسی ہی باتیں کر رہے تھے۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جھک کر کنور صاحب کا معائنہ کیا۔ وہ ٹھیک تھے۔ نقاہت اور کمزوری اور کچھ جذبات نے انہیں چپ کر دیا تھا۔ ’’ آپ لوگ اب جائیں اور کنور صاحب کو آرام کرنے دیں۔ یہ ٹھیک ہیں۔ کمزوری ہے۔ ‘‘ڈاکٹر نے پرویز سے کہا۔ کمرے سے باہر آکر سائرہ نے کہا۔ ’’مجھے تو بتاؤ پرویز! دادا جان نے کیا کہا تھا۔‘‘ ’’شش! شش! باہر چلو وہاں بتاؤں گا۔‘‘ پرویز نے آہستہ سے کہا۔ باغ میں جا کر یہ تینوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ پرویز نے بتایا کہ دا دا جان پوری طرح تو کچھ نہیں کہہ سکے مگر میں یہ سمجھا ہوں کہ قلعہ میں ایک سرخ کمرا ہے، اس میں ایک ہرابکس ہے جس میں خاندانی زیورات ہیں ،یہ ابو کے ہیں، ہمیں یہ زیورات وہاں سے نکال لینے ہیں۔‘‘ ’’ مگر یہ چھپے کہاں ہیں۔‘‘ سائرہ نے بے تابی سے پوچھا۔ ــ ’’ مجھے علم نہیں ہیں۔‘‘پرویز نے بتایا۔ ’’ چلو پہلے سرخ کمرے کو ڈھونڈتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہرا بکس اسی کمرے میں ہو ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’۔ٹھیک ہے چلو ۔‘‘یہ لوگ بینچ سے اٹھے ہی تھے کہ سامنے سے راشد آتا دکھائی دیا۔’’ہیلو کیا ہو رہا ہے ۔‘‘ ’’ راشد بھائی۔ ہم لوگ خزانے کی تلاش میں جارہے ہیں خزانہ یہیں ہے، کیا آپ چلیں گے ؟‘‘ فرخ نے جوش میں آکر کہا۔ ــ’’کیسا خزانہ ؟‘‘ اسی وقت جھاڑی کے پیچھے سے سائرہ نے انگلی ہونٹ پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ ’’کچھ نہیں بھائی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ سائرہ اور پرویز بھی ہنسنے لگے مگر راشد بالکل خاموش رہا۔ وہ حیرانی سے ان تینوں کو دیکھتا رہا۔ ’’فرخ تمہیں یہ سب کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘کمرے میں آکر پرویز نے ڈانٹا۔ ’’خبردار جو تم نے آئندہ ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا۔‘‘ ’’معاف کر دیں بھیا! اب خاموش رہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد پرویز نے سوچا کہ صابرہ سے سرخ کمرے کے بارے میں پوچھے۔ ’’ کیا شیش محل بہت بڑا ہے؟ ‘‘ اس نے صابرہ ہے پوچھا۔ ’’ہاں جی!‘‘ فیاض نے جواب دیا ۔’’ اب تو جی یہاں کچھ نہیں رہا۔ پہلے آپ اس کی شان دیکھتے۔ جب بیگم صاحب زندہ تھیں۔ ہر روز شام کو خوشبوئیں چھڑ کی جاتیں۔ گلدانوں میں گلاب لگتے۔ بڑے بڑے لوگوں کی دعوتیں ہوتیں۔ لاٹ صاحب تک محل میں آئے ہیں۔ کیا زمانہ تھا۔ ‘‘ ’’پھر یہ سب کیسے ختم ہو گیا ؟‘‘ ’’ بس جی، بیگم صاحب ---- کو پیاری ہو گئیں۔ چھوٹے کنور صاحب نے اپنی مرضی سے شادی کر لی، وہ بھی محل سے چلے گئے۔ بس میں ہی رہ گیا ہوں۔ میں ان کو چھوڑ کر کہاں جاؤں ؟‘‘ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سارا محل دیکھوں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہاں صاحب۔ جاؤ صابرہ بیٹا کو بھی محل دکھا لاؤ۔ یہ سب تمہارا ہی تو ہے ۔‘‘ فیاض نے کہا۔ ’’چلو سائرہ اور فرخ تم بھی چلو… تمہیں بھی محل دیکھ کے بڑی خوشی ہوگی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ صابرہ نے سب سے پہلے ایک بڑا ہال دکھایا۔ یہ خاصا بڑا ہال تھا، جس کے چاروں طرف کمرے تھے ۔فرش پر قیمتی قالین بچھے تھے۔ دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں۔ باہر گیلری میں بہت خوبصورت تصویر یں تھیں۔ اس سے آگے ایک کمرہ تھا جس میں الماریاں تھیں جن میں بے شمار کتابیں، ڈائریاں وغیرہ تھیں۔ یہ دادا جان کی لائبریری تھی۔ تین چار بڑے بڑے کمرے اور تھے۔ ایک گیلری کے سرے پر چکر کھاتی سیڑھیاں تھیں۔ ’’اوپر کیا ہے ؟ ‘‘فرخ نے پوچھا۔ ’’بہت سے کمرے ہیں۔ جن میں ایک کمرہ ہے جس کی دیواروں اور چھت پر بہت سارے شیشے لگے ہوئے ہیں۔ دادا جان او پر اس کمرے میں اکثر بیٹھ کر چائے وغیرہ پیتے تھے۔ اس کمرے کی بالکونی سے پورا منصور نگر نظر آتا ہے۔ انہیں یہ کمرہ بہت پسند تھا۔ شام کو اکثروہ یہاں آجاتے تھے اور رات تک یہیں رہتے ۔‘‘ اوپر جا کر تینوں بہت حیران ہوئے۔ اوپر والی منزل بھی خاصی بڑی تھی اور اس میں بھی کافی کمرے تھے۔ یہ لوگ دادا جان کے اس کمرے میں گئے۔ جس کے بارے میں صابرہ نے بتایا تھا۔ کمرے میں جا کر یہ تینوں حیران رہ گئے۔ کمرے کی چھت سرخ تھی۔ فرش پر گہرا سرخ قالین بجھا تھا۔ دروازوں کھڑکیوں پر سرخ پھولوں کے پردے پڑے تھے۔ صوفہ سیٹ پر بھی سرخ کشن تھے۔ دو بڑی بڑی الماریاں دیوار کے ساتھ رکھی تھیں جن میں کتابیں بھری تھیں۔ یقینا یہی ’’ سرخ کمرہ ‘‘تھا۔ ٭٭٭٭٭ (5) ’’تو یہ ہے وہ کمرہ! جس کا دادا جان نے ذکر کیا تھا۔ کتنا شاندار کمرہ ہے اور کتنی ساری کتابیں ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’واقعی بہت شاندار کمرہ ہے ۔‘‘ سائرہ نے تعریف کی۔ ’’بھئی میں تو یہ کتابیں ضرور پڑھوں گا۔ فرخ تم کھیلو گے یا ہمارے ساتھ یہ کتابیں دیکھو گے ؟ــ‘‘پرویز نے پوچھا۔ ’’ چھوڑیں بھیـ، ایسی موٹی موٹی کتابیں کون دیکھے۔ میں تو باغ میں جا رہا ہوں۔ آؤ صابرہ تم بھی چلو ۔‘‘ ان کے جانے کے بعد پرویز نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اب ہم آرام سے ہراڈبہ ڈھونڈ سکیں گے۔ سائرہ تم اس الماری میں ڈھونڈو۔ میں سامنے والی میز د یکھتا ہوں دونوں بڑے انہماک سے ڈبہ ڈھونڈنے لگے۔ ــ ’’تو بہ ہے کتنی مٹی ہے ۔‘‘ سائرہ نے الماری سے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔ میز کی درازوں کو ڈھونڈنے کے بعد پرویز دوسری الماری کی طرف آیا۔’’ اف واہ! کس قدر زبر دست کتابیں ہیں ۔‘‘اس نے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو سائرہ! تاریخ کی یہ کتنی زبر دست کتاب ہے۔ ‘‘اور اس نے صفحے پلٹ کر ادھر ادھر سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ’’ پرویز یہ کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ جلدی سے ڈبہ ڈھونڈو کوئی آنہ جائے …کوئی آرہا ہے… ‘‘ سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ ’’چلو صوفے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں ۔‘‘وہ دونوں جلدی سے صوفے کے پیچھے چھپ گئے۔ کوئی کمرے میں آیا ادھر ادھر جائزہ لیا اور چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دونوں چپکے چپکے صوفے کے پیچھے سے نکلے۔ اور دروازے کی جھری سے جھانک کر دیکھا اب وہاں کوئی نہ تھا۔ دونوں نے پھر ہرے بکس کی تلاش شرع کر دی۔ خاصی دیر ڈھونڈنے کے بعد پرویز نے عام معلومات کی ایک بہت موٹی سی کتاب الماری سے نکالی ۔’’ارے…یہ رہا!! ‘‘ اس نے جلدی سے الماری کے اندر کتابوں کے پیچھے والی جگہ پر ہاتھ ڈالا۔ ہرے بکس کا کو نا خالی جگہ سے نظر آرہا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر پرویز نے ڈبہ نکال لیا۔دونوں نے گھبراہٹ کے عالم میں اسے کھولا۔ اس کے اندر ایک تہ کیا ہوا کاغذ تھا اور ایک لفافہ تھا جس پر مہر لگی ہوئی تھی۔ ٭٭٭٭٭ (6) لفافہ اور کاغذ لے کر یہ دونوں اپنے کمرے میں آئے۔ پرویز کو خط پڑھنے کی جلدی تھی۔ ’’میں اندر آجائوں۔ ‘‘فرخ اب کھیل کر واپس آچکا تھا۔ ’’ہاں!مگر جو کچھ بھی دیکھو اور سنوا سے کسی سے مت کہنا۔ پکی بات۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’سائرہ باجی وعدہ۔ کسی سے نہیں کہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔ پرویز نے خط کھولا۔ یہ اس کے باپ کے نام لکھا تھا۔ ’’ پیارے بیٹے۔ ہو سکتا ہے جب یہ خط تمہیں ملے ،میں اس دنیا میں نہ ہوں۔ میں بہت کمزور اور بوڑھا ہوں، نہ معلوم کب مرجاؤں ۔میں ساری زندگی اپنے بیٹے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر شاید مالک کو یہ منظور نہ تھا کہ تم ہم سے ملو۔ تمہاری ایک امانت میرے پاس ہے، یہ ہمارے خاندانی جواہرات ہیں اور تمہاری ماں کے زیورات جو انہوں نے تمہاری دلہن کو دینے کے لئے رکھے تھے۔ یہ جواہر اور زیور ایک ڈبے میں بند ہیں جو میں نے قلعے کے عروسی کمرے میں چھپا دیئے ہیں تاکہ محفوظ رہیں۔ تم ڈھونڈو گے تو مل جائیں گے ۔اس لفافے میں ڈبے کی کنجی ہے۔ بہت احتیاط سے کام لینا کیوں کہ دوسرے لوگ بھی ان جواہرات کی تلاش میں ہیں۔ مالک تمہارا مدد گار ہو۔‘‘ تمہارا ابا جانی۔ ’’بیچارے داداجان ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’بھائی کیا آپ یہ ڈباڈھونڈلیں گے؟با با جان تو ہیں نہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’ہاں کیوں نہیں۔ دادا جان مجھ سے یہی کہ رہے تھے۔ ہم کوشش تو ضرورکریں گے۔‘‘ پرویز نے کیا۔ ’’کیسا عجیب سالگ رہا ہے، بالکل کہانیوں جیسا ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ ہم لوگوں کو کل ہی قلعے جانا چاہئے ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’اور ابو امی اس خزانے کو پا کر کتنے خوش ہوں گے۔ خاص طور پر جب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ ہم نے خود ڈھونڈاہے۔ ‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ ہمیں ان جواہرات کو جلد نکال لینا چاہئے۔ دیکھا نہیں دادا جان نے لکھا ہے کچھ اور لوگ بھی ان کی تلاش میں ہیں ۔‘‘ ’’کون ہو سکتا ہے؟ ‘‘ ’’ شاید راشد بھائی ہوں۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ نہیں وہ نہیں ہو سکتے۔ وہ تو بہت اچھے آدمی ہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’پھر شاید فیاض ہو ۔‘‘ سائرہ نے خیال ظاہر کیا۔ ’’ وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو دادا جان کا پرانا نوکر ہے اور وفادار بھی، تبھی تو دادا جان کو چھوڑ کر بھی نہیں گیا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ پھر کون ہو سکتا ہے۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ میرا خیال ہے ہمیں قلعے کے عروسی کمرے کو دیکھنا چاہئے ۔‘‘ ’’ہاں کل ہی قلعے چلیں گے ۔‘‘ اتنے میں چھٹن نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی اور یہ تینوں کھانے کے کمرے میں چلے گئے۔ اگلے روز یہ لوگ صابرہ کے ساتھ قلعے گئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ قلعے کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا باغ تھا۔ د ا ہنی طرف والا حصہ ایک بھائی کے پاس تھا اور بائیں طرف والا دوسرے بھائی کے پاس۔ دائیں ہاتھ والے حصے کی طرف صابرہ نے اشارہ کیا۔’’ ادھر کنور صاحب رہتے تھے۔ اور دوسری طرف راشد بھائی کا خاندان رہتا ہے۔‘‘ ابھی وہ اندر آئے ہی تھے کہ راشد آگیا۔ اس نے ان سب کو اپنے دادا جان ،دادی جان، امی ابو اور باجی سے ملوایا۔ راشد کی امی نے بڑے پیار سے ان لوگوں کو چائے پلوائی۔ اس کے ساتھ سموسے ، رس ملائی ،رس گلے اور نمک پارے کھلائے۔ چائے سے فارغ ہو کر وہ سب بڑے کمرے میں آگئے۔ راشد کی دادی نے بچوں کو قلعے کی پوری تاریخ سنائی۔ وہ کہنے لگیں۔ ’’بیٹے وہ بھی کیا دن تھے۔ جب تمہارے دادا کی شادی ہوئی تھی۔ بہت شاندار دعوت ہوئی۔ سارا قلعہ تیل کے چراغوں اور مومی شمعوں کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ شہنائی بج رہی تھی، بارات بھی کیا شان دار تھی۔ تمہارے دادا دولہا بنے ایک سجے سجائے ہاتھی پر بیٹھے آئے تھے۔ ان کے ساتھ بے شمار لوگ گھوڑوں اور پالکیوں پر سوار تھے۔ مہینوں پہلے سے مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔ عام دعوت تھی۔ تمہیں کیا بتا ئیں کہ تمہارے دادا کی کیا شان تھی؟ ‘‘ ’’ ---- کتنا اچھا لگ رہا ہو گا؟ کتنا مزا آیا ہو گا۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔ تینوں بچے حیرت سے یہ باتیں سن رہے تھے۔ ’’ پھر بیٹے ۔ ‘‘راشد کی دادی نے کہا۔ ’’تمہارے ابو پیدا ہوئے۔ تمہارے دادا کی خواہش تھی ،ان کی شادی بھی اسی شان و شوکت سے ہو۔ پھر اچانک تمہاری دادی کا انتقال ہو گیا اور پھر یہاں کی خوشیاں غم میں بدل گئیں۔ تمہارے ابو باہر پڑھنے چلے گئے پھر کنور صاحب کی مرضی کے خلاف غیر خاندان میں شادی کرلی۔ کنور صاحب اس قدر غصے ہوئے کہ انہوں نے ساری عمر اپنے بیٹے سے نہ ملنے کا عہد کر لیا ۔‘‘ ’’ تو کیا ہوا۔ ابو نے اگر شادی کر لی تھی تو دادا جان کو اس قدر ناراض ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘پرویز نے کچھ ناگواری سے کہا۔ ’’پرویز! ‘‘ سائرہ نے بھائی کو ٹو کا۔ پرویز خاموش ہو گیا۔ پھر راشد نے پرویز سے سے کہا ’’آؤ تمہیں قلعے کی سیر کرائیں۔ ‘‘ ’’ چلئے ۔‘‘ پرویز اٹھ کھڑا ہوا۔ سائرہ اور فرخ بھی اٹھ گئے۔ قلعے کا وہ حصہ جس میں پرویز کے دادا جان رہتے تھے۔ اب ویران پڑا تھا۔ لوہے کے دروازوں پر زنگ لگا تھا۔ جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے تھے ۔یہاں چھوٹے بڑے کافی کمرے تھے، جن میں سامان بھی تھا۔ مگر لگتا تھا جیسے برسوں سے صفائی نہیں ہوئی ہو۔ گھومتے پھرتے یہ لوگ اس کمرے میں آگئے جسے عروسی کمرا کہا جاتا تھا۔ ’’یہاں دادا جان کی دلہن بیاہ کر آئی تھیں۔ ‘‘ راشد نے بتایا کہ یہ ہماری خاندانی روایت ہے کہ شادی کے بعد دولہا دولہن اس کمرے میں رہتے تھے جب شادی کی تقریبات ختم ہو جاتی تھیں تو یہ نیچے قلعے میں اپنے کمرے میں آجاتے تھے۔ ’’ اچھا۔‘‘ پرویز نے سوچا تو یہ وہ کمرہ تھا جس کی طرف دادا جان نے اشارہ کیا تھا۔ کچھ دیر اور یہ لوگ قلعے کی سیر کرتے رہے پھر اپنے محل میں واپس آگئے۔ رات کو گرمی تھی۔ مچھر بھی تھے۔ صابرہ ،سائرہ کے کمرے میں زمین پر چٹائی بچھائے منہ تک چادر تانے لیٹی تھی تاکہ اسے مچھر نہ ستائیں۔ سائرہ اپنے بستر پر لیٹی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ ’’سائرہ باجی کیا آپ پڑھ رہی ہیں ؟‘‘ صابر ہ نے پر چھا۔ ’’ہاں‘‘ ’’آپ کو سب کچھ پڑھنا آتا ہے ۔‘‘ ‘‘ہاں ۔ کیوں نہیں، میں تو کالج میں پڑھتی ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’ کیا آپ مجھے پڑھنا سکھا دیں گی۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’ہاں ضرور ۔ تمہیں شوق ہے پڑھنے کا ؟‘‘ ’’ ہاں جی! بہت ۔‘‘ ’’اچھا تو میں تمہیں پڑھاؤں گی۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ صابرہ جلدی سے اٹھ کر سائرہ کے بستر پر آگئی۔ ’’ سچ سائرہ باجی آپ مجھے پڑھائیں گی۔ آپ کتنی اچھی ہیں۔‘‘ سائرہ نے کتاب بند کر لی۔ اور میز سے کاغذ پنسل نکال کر اسے پڑھانے لگی۔ یہ دیکھو یہ الف ہے اور یہ بے ہے۔ صابرہ خاصی تیز تھی ذرا سی دیر میں اس نے الف بے یاد کرلی۔ پہلا سبق سکھا کر سائرہ سونے کو لیٹ گئی۔ اگلی صبح صابرہ ،سائرہ کو لے کر محل سے باہر آئی۔ تھوڑی دور آم کا ایک باغ تھا۔ ایک جگہ پہنچ کر و ہ رک گئی۔ اور بولی۔ ’’ میں آپ کو ایک چیز دکھاؤں۔ یہ میرا راز ہے۔‘‘ اور پھر وہ زمین سے دو بڑے بڑے پتھر ہٹانے لگی جوپتوں سے ڈھکے تھے۔ یہ ایک تہہ خانہ ساتھا۔ سائرہ نے حیرانی سے دیکھا۔ ’’باجی ! یہ میرا راز ہے۔ یہ ایک جگہ ہے جب بابا مجھ پر خفا ہوتے ہیں تو میں اس میں چھپ جاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جھک کر اندر چلی گئی۔ ’’ آئیے باجی اندر آئیے۔‘‘ سائرہ بھی اندر چلی گئی۔ چند سیڑھیاں تھیں اور اس سے آگے ایک تنگ سا راستہ تھا۔ جس میں ایک دری اور کچھ پرانے برتن وغیرہ تھے۔ ایک چھوٹی سی لالٹین بھی تھی۔ ــ’’یہ میرا محل ہے۔‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’اوہو۔ یہ تو بڑی اچھی جگہ ہے۔ تم یہاں اکثر آتی ہو؟؟‘‘ ’’ ہاں جی جب بھی بابا مجھ پر غصے ہوتے ہیں۔ ‘‘ ’’صابر ہ یہ تو ایک زمین دوز راستہ ہے۔ تمہیں پتہ ہے یہ کہاں تک جاتا ہے ؟؟‘‘ ’’ہاں جی۔ یہ بہت لمبا راستہ ہے اور قلعے تک جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اس راستہ سے اندر گئی تھی۔ دوسری طرف قلعے کا وہ حصہ ہے۔ جہاں آپ کے دادا رہتے ہیں۔ پتہ نہیں جی۔ یہ کس نے بنا یا تھا اور کیوں۔ــ‘‘ ’’پہلے قلعوں میں ایسے خفیہ راستے بنائے جاتے تھے۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے۔‘‘ صابرہ بولی اور یہ لوگ تہہ خانے سے باہر نکل آئے۔ سائرہ نے سب سے پہلے پرویز کو اس راستے کے بارے میں بتایا۔ قلعے تک پہنچنا اب کتنا آسان تھا۔ (7) فرخ شیش محل کے باغ میں حوض کے کنارے بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر امجد آگئے۔ ’’ بیٹے کیا کر رہے ہو؟؟‘‘ ’’جی بس ایسے ہی بیٹھا ہوں۔ سائرہ باجی اور پرویز بھیا کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ ’’ تمہیں شیش محل کیسا لگا؟ــا چھا ہے ؟ ‘‘ ’’جی ہاں۔ ‘‘ ’’چاکلیٹ کھاؤ گے؟ ‘‘ ڈاکٹر صاحب نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر فرخ کو دیتے ہوئے کہا۔ ــ’’جی! شکریہ! ‘‘ فرخ نے چاکلیٹ لے لی۔ چاکلیٹ ویسے بھی اس کی کمزوری تھی۔ ’’ تمہارے دادا تو تم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔ ’’جی ہاں۔ مجھے وہ بہت اچھے لگے ۔کیا وہ بہت بیمار ہیں؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔ ’’ہاں بیٹے وہ بہت بیمار ہیں۔ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور شاید زیادہ دن تک نہ جی سکیں گے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔ پھر وہ کچھ سوچ کر بولے۔ ’’ہاں یہ تو بتاؤ۔ پرویز سے انہوں نے کیا باتیں کیں؟ ‘‘ ’’دادا جان نے انہیں بہت سی باتیں بتائیں۔ وہ کسی خفیہ چیز کا ذکر کر رہے تھے۔جو سرخ کمرے میں ہے۔‘‘ فرخ نے کہا ۔ ’’ لو یہ ایک اور چاکلیٹ لو۔ تم بہت سمجھ دار لڑکے ہو۔ اچھا تو کنور صاحب نے اور کیا کہا ؟‘ ‘ ڈاکٹرا مجد نے دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔ ’’بس یہی۔ پھر۔ پرویز بھائی اور سائرہ باجی سرخ کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ ‘‘ ’’ا نہیں وہاں کچھ ملا؟‘ ’’ہاں ایک خط تھا۔ ابا جان کے نام ۔‘‘ ’’کیا لکھا ہے اس خط میں؟ ‘‘ ڈاکٹر نے بے تابی سے پوچھا۔ ’’اس میں کچھ ہیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو قلعے میں رکھے ہیں ۔‘‘ فرخ نے بتایا۔ مگر وہ سوچنے لگا ڈا کٹر امجد یہ سب باتیں کیوں پوچھ رہے ہیں ۔انہیں کیا مطلب خط سے اور چابیوں سے۔ میں نے کچھ زیادہ تو نہیں بتا دیا۔ ’’لویہ اور چاکلیٹ کھاؤ۔‘‘ڈاکٹر کی آواز نے اسے چونکادیا۔ ’’جی نہیں، شکریہ۔ اب میں جاتا ہوں ۔‘‘ فرخ اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن ڈاکٹر امجد کے چہرے پر جو خاص قسم کی مسکراہٹ تھی وہ اسے نہیں سمجھ سکا۔ فرخ کمرے میں آیا تو سائرہ اور پرویز کمرے میں باتیں کر رہے تھے۔ اس نے سنا سائرہ کہہ رہی تھی۔ ’’میں بھی تمہارے ساتھ سرنگ میں جاؤں گی۔‘‘ ’’ نہیں تم یہیں ٹھہرنا میں اکیلا ہی جاؤں گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’میں تم سے بڑی ہوں۔ اس لئے مجھے بھی تمہارے ساتھ جانا چاہئے ۔‘‘ ’’ دیکھو سائرہ۔ اس میں خطرہ ہے اور ایسی جگہوں پر لڑکیوں کو نہیں جانا چاہئے۔ جہاں خطرہ ہو ۔‘‘ ’’ ٹھیک ہے مگر امی نے چلتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ میں تم دونوں کا خیال رکھوں۔ خطرہ ہے تو تمہارے لئے بھی ہے میں تو ضرور جاؤں گی۔‘‘ ’’اچھا بھئی ٹھیک ہے مگر فرخ نہیں جائے گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ہاں فرخ کو نہیں لے جائیں گے ۔‘‘ ’’میں جانا بھی نہیں چاہتا ۔‘‘ فرخ بولا۔ ’’کل ہم سرنگ کے ذریعے جائیں گے اور کھانے کے وقت تک واپس آجائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘ سائرہ نے جواب دیا۔ فرخ نے ڈاکٹر امجد سے ملاقات کے بارے میں پرویز کو کچھ نہیں بتا یا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں ڈانٹ نہ پڑے۔ (8) اگلے دن صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر پرویز اور سائرہ چپکے سے سرنگ میں گھس گئے۔ پہلے تو انہیں اندھیرے میں اندر جاتے ہوئے بہت ڈر لگا۔ مگر ہمت سے کام لے کر وہ آگے بڑھتے ہی گئے۔ یہ خاصی لمبی سرنگ تھی اور دونوں بہن بھائی کافی دیر میں قلعے تک پہنچ سکے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے یہ دونوں بہن بھائی جب دوسرے سرے پر قلعے کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے مالک کا شکر ادا کیا۔ تھوڑی دیر ٹھنڈی ہوا میں لمبے لمبے سانس لینے کے بعد دونوں کچھ تازہ دم ہوئے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے یہ لوگ عروسی کمرے کے پاس پہنچ گئے۔ سرنگ قلعے کے باغ میں اس دالان کے قریب کھلتی تھی، جہاں سے گزر کر اوپر جانے کے لئے زینے کا راستہ تھا۔ وہ ابھی زینے کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ انہوں نے سامنے سے ایک شخص کو ہاتھ میں ڈنڈالئے آتے دیکھا اس نے ان دونوں کو دیکھ لیا تھا اور وہ ان پر حملہ کرنے کی نیت سے ان کی طرف بڑھا۔ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے باغ کی طرف بھاگے۔ وہ آدمی ان کے پیچھے بھاگا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی اور تھا۔ بھاگتے بھاگتے سائرہ نے ٹھوکر کھائی اور وہ گر پڑی۔ پرویز سے اٹھانے کو جھکا۔ سائرہ کا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرا یا تھا اور اس کے انگوٹھے میں چوٹ لگ گئی۔ ’’ ---- کیا کروں۔ ‘‘آنسو اس کی آنکھوں میں بھر آئے ۔ ’’ ارے کیا ہوا؟ چوٹ لگ گئی ہے؟‘‘ پرویز نے اس کا بازو تھام کر اٹھانے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ پائی۔ اتنے میں دونوں آدمی وہاں پہنچ گئے اور ایک نے پرویز کو اور دوسرے نے سائرہ کو پکڑ لیا۔ اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھسیٹتے ہوئے ایک طرف کو لے چلے۔ ’’ چھوڑو مجھے۔‘‘ پرویز نے اس آدمی کو دھکا دیا۔ مگر وہ شخص خاصا صحت مند تھا اس نے اور زور سے پرویز کو پکڑ لیا۔ اور اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا۔ پرویز نے غصہ میں آکر زور سے اس آدمی کو دھکا دیا مگر اس نے دونوں کو زبر دستی پکڑ کر ایک کمرے میں جہاں فرش پر گھاس پڑی تھی ڈال دیا۔ پھر رسی سے دونوں کے ہاتھ باندھ دیئے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اور دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی اس طرف آ رہا تھا۔ دروازہ آہستگی سے کھلا اور ایک لمبا سا آدمی نقاب پہنے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے داخل ہوا۔ ’’اے لڑکے چابیاں کہاں ہے؟ ‘‘اس آدمی نے پرویز سے کہا۔ پرویز نے سر ہلایا۔ ’’ اس کے منہ سے کپڑا نکالو۔‘‘ اس نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پرویز کے منہ سے کپڑا نکال دیا۔ ’’جلدی بتاؤ چابیاں کہاں ہیں؟ ‘‘ ’’کون سی چابیاں؟ میرے پاس کوئی چابی نہیں۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔ ’’ وہ جو کنور صاحب نے تمہیں دی ہیں ۔‘‘ ’’ مجھے نہیں معلوم تم سے کس نے کہا کہ دادا جان نے مجھے چابیاں دی ہیں؟ ‘‘ ’’اس کی تلاشی لو ۔‘‘ نقاب پوش نے اپنے آدمی کو حکم دیا۔ اس نے آگے بڑھ کر پرویز کی ساری جیبیں ٹٹول لیں ۔ چابیاں نہیں تھیں۔ سائرہ ڈری ہوئی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ ’’اس کے پاس چابیاں نہیں ہیں ۔‘‘ وہ ہٹا کٹا آدمی بولا۔ ’’ اس لڑکی کی تلاشی لو۔‘‘ سائرہ نے زور سے سر ہلایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے ۔مگر اس شخص نے سائرہ کی تلاشی لی۔ چابیاں اس کے پاس بھی نہیں تھیں۔ ’’ ان کو بند کر دو اور بھوکا پیاسا پڑا رہنے دو۔ جب بھوک لگے گی تو خود ہی قبول دیں گے کہ چابی کہاں ہے، چلو۔ ‘‘نقاب پوش نے کہا اور دونوں دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔ سائرہ کو نقاب پوش کی آواز جانی پہچانی لگی اور وہ سوچنے لگی۔ ’’ یہ آواز میں نے کہاں سنی ہے؟ ‘‘ دماغ پر زور ڈالا تو یاد آگیا کہ ارے یہ تو ڈاکٹر امجد کی آواز ہے۔ اس نے دل میں کہا۔ (9) کئی گھنٹے گزر گئے اور سائرہ اور پرویز واپس نہ آئے تو فرخ پریشان ہو گیا۔ اس کا نہ کھیلنے میں دل لگ رہا تھا، نہ صابرہ سے باتیں کرنے میں۔ ایک بجے صابرہ نے آکر کہا ۔’’سائرہ باجی اور پرویز بھائی کہاں ہیں؟ کھانا تیار ہے ۔‘‘ ’’وہ تو راشد بھائی کے پاس گئے ہیں اور وہ کھانا بھی وہیں کھالیں گے ۔‘‘ فرخ نے کیا۔ ’’ انہوں نے تو بتا یا نہیں۔ ابو نے پرویز بھائی کی پسند کے کوفتے اور پلاؤ بنایا ہے ۔‘‘ ’’راشد بھائی نے ان کو بلالیا تھا ۔‘‘ ’’ تم کیوں نہیں گئے ؟‘‘ صابرہ نے پوچھا۔ ’’ میرا جی نہیں چاہا ۔‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’اچھا تو چلو تم تو کھانا کھالو ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ کھانا کھا کر یہ دونوں باغ میں جا کر کھیلنے لگے۔ مگر فرخ، سائرہ اور پرویز کی وجہ سے پریشان تھا اور اس کا کھیل میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ ’’ کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان ہو ۔‘‘ صابرہ نے پوچھا۔ ’’ہاں‘‘ فرخ نے کیا پھر اس نے سرخ کمرے ،ہرے ڈبے اور عروسی کمرے کے بارے میں صابرہ کو سب کچھ بتا دیا۔ ’’ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ صبح کے گئے ہوئے ہیں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ ’’چلوا نہیں چل کر دیکھیں۔ کوئی گڑبڑ تو نہیں ہے ۔ــ‘‘ صابرہ نے فرخ کا ہاتھ پکڑا اور سرنگ کے راستے قلعے کی طرف چل پڑی۔ (10) پرویز اور سائرہ کے ہاتھ پاؤں بندھے بندھے تھک گئے تھے۔ بھوک سے بھی ان کا برا حال تھا۔ پکڑے جانے کے خوف سے پرویز نے بھاگتے بھاگتے دالان کے اندر محراب کے قریب دیوار میں ایک طاق میں چابیاں چھپادی تھیں۔ مگر اب ان کے یہاں سے نکلنے کا کوئی آسرا نہ تھا۔ سائرہ کو رونا آرہا تھا۔ اچانک قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ دونوں چونک پڑے۔ ایسا کون ہے؟ شاید ڈاکٹر امجد پھر آیا ہو۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور صابرہ اندر آگئی۔ اس کے ساتھ فرخ بھی تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو حیرانی سے دیکھا۔ پھر صابرہ نے ایک چھوٹے سے چاقو سے ان کی رسیاں کائیں۔ پرویز بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کا نہ تو وقت تھا نہ موقع۔ چاروں دبے پاؤں باہر نکلے ’’جلدی کرو ۔‘‘ صابرہ نے سرگوشی کی۔ آہستہ آہستہ یہ لوگ باہر سرنگ کے پاس پہنچ گئے۔ ’’ میں جواہرات کا ڈبا لئے بغیر نہیں جاؤں گا ۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’ پرویز یہاں سے نکل چلو۔ وہ تم کو مار ڈالیں گے ۔‘‘ سائرہ بہت خوف زدہ تھی۔ ’’ تم اور فرخ شیش محل واپس چلے جاؤ۔ میں بعد میں آؤں گا ۔‘‘ ’’ میں تمہارے ساتھ رہوں گی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔ پرویز کے اصرار پر سائرہ فرخ کو لے کر سرنگ کے راستے شیش محل واپس چلی گئی اور پرویز تیزی سے دالان میں آیا۔ چابیاں طاق میں موجود تھیں۔ صابرہ اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ چابی لے کر پرویز عروسی کمرے میں پہنچا۔ ’’ صابرہ۔ تم باہر رہو۔ میں اندر جاتا ہوں۔ تم باہر سے دروازہ بند کرے چھپ جانا اور تھوڑی دیر بعد آکر دروازہ کھول دینا۔ ٹھیک ہے ۔‘‘ پرویز نے اسے سمجھایا۔ صابرہ نے پرویز کے کمرے میں جاتے ہی باہر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی اور ایک محراب کے اندر در کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہو گئی۔ عروسی کمرے میں اندھیرا تھا۔ پرویز نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ جب اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ پورے کمرے میں کوئی الماری یا بکس نہیں تھا جس میں چابی لگ سکے۔ پریشان سا ہو کر وہ فرش پر بیٹھ گیا۔ اب کیا کروں۔ اچانک اس کی انگلیاں کسی چیز سے ٹکرائیں۔ یہ تو تالا تھا اس نے جلدی سے ایک چابی اس میں گھمائی ۔اتفاق سے وہی چابی اس تالے کی تھی ۔تالا کھل گیا اور فرش میں چھوٹا ساڈھکنا کھل گیا۔ پرویز نے اندر ہاتھ ڈالا ایک بڑا سا سبز مخملی بکس اندر رکھا تھا۔ یہی وہ بکس تھا جس کی اسے تلاش تھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پھر دروازہ کھولنے کی آواز آئی۔ یہ صابرہ تھی۔ ’’کیا آپ کو مل گیا ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔ ’’ہاں چلو۔ جلدی سے یہاں سے نکل جائیں ۔‘‘ یہ لوگ تیزی سے کمرے سے نکلے۔ اپنی خوشی اور جوش میں پرویز نے یہ بھی نہ دیکھا کہ سامنے سے تین آدمی آرہے ہیں اور ان میں سے ایک ڈاکٹرا مجد ہے۔ (11) سائرہ اور فرخ سرنگ سے باہر نکلے تو شیش محل کے باغ میں راشد کو ٹہلتے پایا۔ وہ ان ہی لوگوں سے ملنے آیا تھا اور ان کو محل میں نہ پا کر یہاں باغ میں آگیا تھا۔ ’’ کیا ہوا ہے ؟‘‘راشد سائرہ کے مٹی سے اٹے کپڑے اور چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر گھبرا گیا۔ راشد کو دیکھ کر سائرہ کو بھی اطمینان ہوا اور اس نے جلدی جلدی ساری کہانی راشد کو سنادی۔ راشد سمجھ گیا کہ کیا قصہ ہے۔ اس نے اپنی ٹار چ سا تھ لی اور اپنے پالتو کتے کی زنجیرپکڑی ۔’’ چلو…‘‘اور وہ تینوں جیپ میں بیٹھ کر قلعے میں پہنچے۔ قلعے کے مغربی حصے میں جاکر راشد نے پرویز کو زور زور سے آواز یں دیں۔ کتے نے بھی زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا۔ مگر پرویز کا کوئی پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ عروسی کمرے میں گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ فرش پر ایک خفیہ خانہ ہے جس کا ڈھکنا کھلا ہے اور اندر دیکھا تو خانہ خالی تھا۔ اچانک کتا ایک طرف کو بھونکتا ہوا دوڑا۔ یہ تینوں بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے۔ گیلری میں صابرہ کے دوپٹے کا پھٹا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔ ’’دیکھئے ۔‘‘سائرہ نے وہ ٹکڑا اٹھا لیا۔ ’’یہ صابرہ کے دوپٹے کا ٹکڑا ہے۔ وہ نیلا دوپٹہ اوڑھے تھی۔‘‘ ’’ تمہیں یقین ہے کہ یہ اسی کا دوپٹہ ہے ۔‘‘ راشد نے پوچھا۔ ’’ہاں بالکل میں اچھی طرح پہچانتی ہوں ۔‘‘ یہ لوگ اسی راستے پر آگے چل دیئے ۔آگے جاکر انہیں ایسے ہی دو ٹکڑے اور ملے۔ اس کا مطلب ہے ان کو کوئی زبر دستی ساتھ لے گیا ہے۔ سائرہ نے سوچا۔ یہ سب کیسے ہوا۔ یہ کم بخت چوکیدار کہاں گئے۔ راشد کو سخت غصہ آرہا تھا اور وہ پریشان سا تھا۔ ’’ راشد بھائی۔ ہو سکتا ہے چوکیدار ڈاکٹر کے ساتھ ملے ہوئے ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کیا۔ ’’ہاں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر قلعے میں اکثر آتا جاتا رہتا ہے ۔‘‘ راشد نے کہا قلعے سے باہر دور تک کوئی نہ تھا۔ راشد نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ ’’ یہ تو جیب کے پہیوں کے نشانات ہیں۔ ‘‘اس نے کہا۔ ’’ہاں ایسا لگتا ہے۔ یہ لوگ جیپ میں یہاں سے گئے ہیں ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔ ’’ چلوان کا پیچھا کرتے ہیں ۔‘‘ اتنے میں راشد کا ڈرائیور بھی کتے کے بھونکنے کی آواز سن کر آچکا تھا۔ ’’کیا بات ہے صاحب جی ۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’جلدی کرو۔ جیپ نکالو ۔‘‘ یہ چاروں جیپ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ ’’ تیز چلاؤ… اور تیز…‘‘ راشد نے ڈرائیور کو حکم دیا۔ دور سے انہیں جیب کی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ ’’اب ہم انہیں پکڑ لیں کے ۔‘‘ فرخ نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ہاں ان شاء ---- ۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔ (12) صابرہ اور پرویز کو ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں نے زبر دستی قلعے سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ جب یہ لوگ باہر آئے تو انہوں نے زبر دستی انہیں جیپ میں ڈالا۔ بیش قیمت زیورات و جواہرات کا بکس ڈاکٹر کے ہاتھ میں تھا اور یہ لوگ نا معلوم طرف روانہ ہو گئے۔ سب کی آنکھ بچا کر صابرہ اپنا دوپٹہ پھاڑ پھاڑ کر اس کے ٹکڑے راستے میں پھینکتی گئی۔ تاکہ ان کو ڈھونڈنے والوں کو آسانی ہو۔ ڈاکٹر نے پیچھے سے آتی جیپ کی بتیاں دیکھ لی تھیں۔ جو اب کافی قریب آچکی تھیں۔ ’’تیز چلاؤ۔‘‘ وہ چیخا۔ ڈرائیور نے جیپ ایک کچے راستے پر اتار دی۔ کچی سڑک پر جیب اچھلتی جارہی تھی ،اچانک جیپ جھٹکے سے رک گئی۔’’ کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر نے غصے سے پوچھا۔ ’’ شاید کوئی بڑا پتھر اگلے پہیوں میں آگیا۔ پہیے جام ہو گئے ہیں۔ــ‘‘ ڈاکٹر نے ڈانٹ کر کہا ۔’’جلدی کرو۔ اتر کر دیکھو کہ کیا ہوا ہے۔‘‘ ڈرائیور نیچے کو دا اور اس کے ساتھ پرویز کے پاس بیٹھے ہوئے آدمی بھی نیچے اتر کر ڈرائیور کی مدد کرنے لگے۔ پرویز نے صابرہ کو اترنے کا اشارہ کیا اور دونوں ایک دم جیپ سے کود کر بھاگے۔ ’’ پکڑو۔‘‘ ڈاکٹر چلایا۔ یہ دونوں اس طرف بھاگے جدھر سے دوسری جیپ آرہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں جیپ ان کے پاس آکر رک گئی۔ ’’پرویز یہ تم ہو ۔‘‘ راشد خوشی اور حیرت سے چلایا۔ سائرہ بھی کود کر جیپ سے باہر آگئی۔’’ ٹھیک تو ہو پرویز ۔‘‘ ’’ باتیں کرنے کا وقت نہیں راشد ۔‘‘ پرویز نے جلدی سے کہا ’’ جلدی کرو۔ زیوارت کا بکس ڈاکٹر کے پاس ہے ۔‘‘ راشد نے کہا اور پرویز اور صابرہ جلدی سے جیپ میں بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر اور اس کے ساتھی جیپ کو دھکیل کر پتھر کو ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے ۔اچانک ڈاکٹر نے جیب میں سے زیورات کا بکس اٹھایا اور ایک طرف کو بھاگ نکلا ۔اس کے ساتھی بھی جیپ آتی دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ گئے۔ راشد نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ جیپ کے آس پاس کوئی نہ تھا۔ اس نے اپنے کتے کو اشارہ کیا اور وہ جھپٹ کر ڈا کٹرا مجد کے پیچھے دوڑا۔ ڈاکٹر بھاگ رہا تھا مگر جلد ہی کتے نے اسے پکڑ لیا۔ ڈاکٹر زور سے چیخا۔’’ بچاؤ! بچاؤ ۔‘‘ تھوڑی دیر میں یہ سب ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ راشد نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے جواہرات کا بکس لے لیا۔ اور یہ لوگ ڈاکٹر کو جیپ میں بٹھا کر پولیس اسٹیشن روانہ ہو گئے۔ (13) اگلی صبح تینوں بہت دیر تک سوتے رہے۔ خاصا دن چڑھ آیا تو چھٹن نے آکر انہیں آواز دی۔ ’’پرویز بابو! اٹھیے کنور صاحب آپ سب کو بلارہے ہیں ۔‘‘ پرویز ایک دم اٹھ گیا۔’’ دادا جان کی طبیعت کیسی ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔ ’’وہ اب بہت بہتر ہیں ۔‘‘ چھٹن نے جواب دیا۔ چھٹن کی آواز سن کر سائرہ اور فرخ کی بھی آنکھ کھل گئی۔ اچانک ان کے ابو اور امی کمرے میں داخل ہوئے۔ بچے انہیں دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑے۔فرخ دوڑ کر امی سے لپٹ گیا۔ ’’ آپ کب آئے؟‘‘ پرویز نے باپ سے پوچھا۔ ’’ہم ابھی پہنچے ہیں۔ تمہارے جانے کے بعد ہمارا دل بھی چاہنے لگا کہ ہم بھی یہاں آئیں۔ ابا سرکار سے ملے ہوئے کتنے دن ہو گئے تھے۔ نجانے ان کا کیا حال ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا۔ پھر وہ چھٹن کی طرف مخاطب ہو کر بولے۔ ’’کیا ابا سر کار کو ہمارے آنے کی خبر ہو گئی؟ ‘‘ ’’جی چھوٹے سرکار، اور وہ آپ سب کو یاد کر رہے ہیں ۔‘‘ پرویز نے پھر جلدی سے اپنی امی کو جواہرات کا بکس دکھایا۔’’ امی ! دادا جان نے ہمیں قلعے سے یہ لانے کو کہا تھا۔ ---- کا شکر ہے ہم اس کو لانے میں کامیاب ہو گئے۔دادا جان کے ڈاکٹر نے ہی تو ہم کو پکڑ لیا تھا ۔وہ ان زیوارت کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے را شد بھائی کی مدد سے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔‘‘ ’’شاباش بیٹے! تم نے تو بہت بہادری دکھائی ۔‘‘ ابو مسکرائے۔ پھر سب دادا جان کے کمرے میں گئے۔ مسہری کے قریب پہنچ کر پرویز نے کہا۔ ’’داداجان آنکھیں کھولئے۔ دیکھئے تو کون آیا ہے ۔‘‘ ’’کون آیا ہے، بیٹے ؟‘‘ انہوں نے آنکھیں کھول کر کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ ابو دادا جان کے قریب آگئے۔’’ ابا جان! میں ہوں مجھے معاف کر د یجیے ۔‘‘ ابو ان پر جھک گئے دادا جان نے اپنا لرزتا ہوا ہا تھ ان کے سر پر رکھ دیا۔ ’’ بہو کہاں ہیں ؟‘‘ امی بھی ان قریب آگئیں۔ دادا جان نے ان کے سر پر بھی ہاتھ رکھا۔ ’’ پرویز بیٹے۔ جواہرات مل گئے۔ ‘‘ ’’جی دادا جان۔ ‘‘ پرویز نے بکس انہیں دیا۔ ’’ یہ لیجئے۔‘‘ ’’اسے کھولو۔‘‘ پرویز نے ڈبہ کھولا۔ سب کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ اس بکس میں ایک خزانہ تھا۔ ہیرے جواہرات کا۔ ’’لو بیٹے !یہ ورثہ ہے تمہارے خاندان کا۔ اس کی حفاظت کرنا ۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ ڈبا انہوں نے پرویز کے ابا کو دے دیا۔ پھر وہ پرویز کی طرف مخاطب ہوئے۔ ’’تم بہت بہادر ہو۔ آخر تو ہو نہ ہمارے پوتے ۔1 like
-
حملوں کا مقابلہ اور فورم کی سالمیت
آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر ویب سائٹ کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سات دن سے "اردو فن کلب" فورم پر بھی غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے بعض ممبرز کو یہ لگ رہا ہوگا کہ انہیں اچانک بلاک کر دیا گیا۔ حقیقت میں، اس وقت ہمارا فورم ایک انتہائی خطرناک "ڈی ڈوس لیئر 7 حملے" کی زد میں ہے۔ یہ حملہ اتنا شدید اور منظم ہے کہ کئی بڑے فورمز بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس حملے کی شدت اور تسلسل کے باعث ہمیں اپنی ویب سائٹ کی حفاظت کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنا پڑے۔ اس میں ہزاروں آئی پی ایڈریسز کے پیٹرن کو بلاک کرنا اور بعض ممالک کی ٹریفک عارضی طور پر روک دینا اور مزید ضروری اقدامات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ صارفین کو بلاک محسوس ہو رہا ہے۔ اس حملے کی نوعیت یہ ہے کہ یہ بظاہر عام یوزر کی طرح نظر آنے والی درخواستوں کے ذریعے ویب سروسز کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے پیچھے کسی فرد کا ہاتھ نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اربوں بوٹس ہیں، جو لمحہ بہ لمحہ اپنا آئی پی اور لوکیشن بدلتے ہیں۔جن کو حملہ آور کنٹرول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم دنیا بھر کی ٹریفک بلاک کر کے کسی ایک ملک کو اجازت دیتے ہیں تو یہ بوٹس نیٹ ورک فوراً اس ملک کی آئی پی اور لوکیشن بنا کر وہیں سے حملہ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ سات دن سے مسلسل جاری ہے اور ہم ابھی تک مضبوطی سے اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ حملہ دراصل ویب ایپلیکیشن کی اس لیئر کو نشانہ بنا رہا ہے جو سب سے زیادہ حساس ہوتی ہے۔ حملے کا مقصد ویب سائٹ کے صفحات اور وسائل کو بار بار لوڈ کر کے سرور کو اتنا مصروف کر دینا ہے کہ وہ عام صارفین کو جواب دینا چھوڑ دے یا مکمل طور پر رک جائے۔ اس سے سرور کریش ہو جاتا ہے اور وہاں پر موجود ڈیٹا بھی ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری ویب سائٹ پر پچھلے سات دن سے روزانہ اربوں درخواستیں بھیجی جا رہی ہیں، جو کسی عام ویب سائٹ کے سرور کے بس کی بات نہیں۔ یہ حملے صرف ہمارے فورمز پر نہیں ہو رہے بلکہ اور بھی بہت سے ویب اور فورمز پر کیئے جا رہے ہیں ۔ ان حملوں کی وجہ سے کئی چھوٹے فورمز مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ان کا ڈیٹا بیس ضائع ہو گیا اور وہ دوبارہ نئے سرے سے اپنی کمیونٹی کو قائم کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، خوش قسمتی سے، ہمارا فورم ان حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہا ہے۔ ہم نے فرنٹ ڈومین پر ان حملوں کا دفاع کیا اور بیک ڈور لنک سے تمام ممبرز کو محفوظ رسائی فراہم کی۔ ال ح م دل ل ہ، ہماری ویب سائٹ کی کوئی پوسٹ یا ڈیٹا ضائع نہیں ہوا۔ فورم کی مین ڈومین بھی فعال ہے اور فورم کے سرورز کی مکمل حفاظت کی جا رہی ہے۔ہماری فورم ٹیم ان حملوں کا جواب دینے کے لیے ہروقت تیار ہے۔ یہاں کچھ اقدامات بیان کیے جا رہے ہیں جو پسِ پردہ آپ کی سہولت کے لیے اٹھائے گئے ہیں غیر ضروری اور مشکوک درخواستوں کی فوری شناخت اور روک تھام۔ مشکوک یوزر ایجنٹس اور آئی پی پیٹرنز کی مستقل نگرانی اور بلاکنگ۔ ویب سائٹ کی حفاظتی پرتیں جدید طریقے سے مضبوط کی گئی ہیں۔ ویب ایپلیکیشن فائر وال کی حساسیت کو وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے، تاکہ فورم کی رفتار برقرار رہے۔ خودکار تجزیاتی نظام جو حملے کی نوعیت کو پہچان کر ردعمل دیتا ہے۔ سرور کے وسائل کو متحرک طریقے سے تقسیم کرنے کا نظام تاکہ اصل صارفین کے لیے ویب سائٹ کی رفتار بہتر رہے۔ ڈیٹا بیس اور ویب سروسز کی مسلسل نگرانی اور تحفظ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ حملے ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ہر روز حملہ آور اپنی حکمتِ عملی بدل کر نئی تکنیک آزماتے ہیں، لیکن ہم پرُاعتماد ہیں کہ جیسے آپ کا تعاون ہمارے ساتھ ہے، اور جیسے ہماری ٹیم نے ان خطرات کا سامنا کیا ہے، ہم اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوں گے۔ ہمارا فورم ہر خطرے کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کے لیے ایک محفوظ، پُرامن اور فعال جگہ فراہم کرتا رہے گا، ان شاء ال ل ہ۔ آپ کا صبر، اعتماد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر آپ کو کبھی کوئی معمولی تاخیر یا مسئلہ محسوس ہو تو یہ یاد رکھیں کہ پسِ پردہ ہم آپ کی سہولت اور تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔1 like
-
حملوں کا مقابلہ اور فورم کی سالمیت
بہت شاندار.. جس خوبصورتی سے آپ نے حملوں کا مقابلہ کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے اور ہم اس میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں شروع میں پریشانی ضرور ہوئی لیکن امید تھی کہ کوئی گڑبڑ ہے اور آپ سنبھال لیں گے ہمیں آپ کی صلاحیتوں پہ پورا بھروسہ ہے ویلڈن سر1 like
-
آرزوؤں کی فصل - مکمل
1 likeوقت کے ساتھ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ آنے والے کل کے بارے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دادا، دادی کے فوت ہوتے ہی ہمارے پیار کی دنیا میں بھی بھونچال آ گیا، گویا جن دھاگوں میں رشتوں کے موتی پروئے ہوئے تھے وہ ٹوٹ گئے اور خاندان کا شیرازہ بکھر گیا۔ اب جائیداد کے تنازعے نے سر اٹھایا۔ والد صاحب اور چچا جان میں تبھی جدائی پڑ گئی اور ہمارا گھر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ صحن کے بیچ دیوار اٹھا دی گئی۔ بڑوں کے اختلاف کی سزا ہم بچوں کو ملنے لگی۔ ہم جو بچپن سے ایک صحن میں کھیل کر جوان ہوئے تھے ، جدا کر دیئے گئے۔ جائیداد کا تنازعہ برسوں چلا۔ اس دوران میں ، شمل بھائی اور نازو، دکھ اور اذیت کی سولی پر لٹکتے رہے۔ ہمیں آپس میں بات کرنے تک کی اجازت نہ تھی۔ بھائی شمل کی منگنی نازو سے ہو چکی تھی۔ تنازعے کو سولہ سال ہو گئے تو والدہ نے بیٹے کی شادی کسی اور لڑکی سے کرنا چاہی، مگر بھائی کسی صورت راضی نہ ہوئے۔ ہمیں ایک کر دینے کے منصوبے بھی بزرگوں نے بنائے تھے اور اب ہمارے پیار کی جوت کو بجھانے میں بھی وہی پیش پیش تھے۔ نازو نے گھر والوں کی ہر زیادتی جبر اور دبائو کو برداشت کیا لیکن ہتھیار نہ ڈالے ، وہ کسی اور سے شادی پر آمادہ نہ ہوئی۔ اسے یقین تھا کہ تنازعہ ختم ہو جائے گا اور ہم ایک ہو جائیں گے۔ ہماری دعائیں قبول ہوئیں ، سارے جھگڑے سمٹ گئے۔ قدرت نے خود ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ٹوٹے ہوئے رشتے تجدید پاگئے اور ناز و اور شمل بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ سوکھے دھانوں پانی پڑ گیا۔ امیدوں کی خزاں رسیدہ کھیتی لہلہانے لگی۔ نازو بھا بھی بن کر ہمارے گھر آگئی۔ برسوں کی اذیت ختم ہوئی اور بھائی کی زندگی خوبصورت سپنے میں ڈھل گئی۔ نازو کی قسمت اچھی تھی کہ اس سے شادی ہونے کے بعد شمل بھائی کے کاروبار میں خوب ترقی ہوئی۔ ہم نے بنگلہ بنالیا اور گاڑیاں بھی خرید لیں۔ نازو کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں، کوئی کمی تھی تو بس یہ کہ ہمارا آنگن کسی معصوم بچے کی کلکاریوں کے بغیر سونا سونا تھا لیکن ہم قدرت سے نا امید نہ تھے کہ پروردگار کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ چار سال تو انتظار میں نکل گئے۔ اب امی بہو کو لے کر ڈاکٹروں کے پاس پھرنے لگیں، علاج معالجے ہوئے، سبھی ڈاکٹر ز کہتے کہ ان میں کوئی طبی نقص نہیں ہے۔ قدرت کی طرف سے دیر ہے۔ کسی نہ کسی دن آپ لوگوں کی امید بر آئے گی اور ان کی گود ہری ہو جائے گی۔ہم بھی اسی امید پر جی رہے تھے ، یہاں تک کہ بھائی کی شادی کو سات برس گزر گئے اور آرزوؤں کی فصل خشک ہی رہی۔ نازو بھابھی نے بھی امید کا دامن چھوڑ دیا۔ کہتیں، انعم اتنے برس اولاد نہ ہوئی تو اب کیا ہو گی۔ شاید یہ خوشی ہماری قسمت میں نہیں… اس نے علاج معالجہ کرانا بھی ترک کر دیا۔ جب سے وہ ناامید ہوئی، اس کو گھُن لگ گیا۔ ہر وقت چپ چپ رہتی۔ اولاد کی کمی تو بھائی بھی محسوس کرتے تھے لیکن وہ مرد تھے ، ان کے لئے باہر کی بھری پُری دنیا موجود تھی۔ وہ سارا دن باہر گزار کر گھر آتے ، کھانا کھاتے اور نیند کی آغوش میں چلے جاتے لیکن نازو گھر میں اکیلی رہنے کی وجہ سے تنہائی کے عذاب سے دوچار تھی۔ وہ اب گھر کی دیواروں سے باتیں کرتی تھی۔ میری شادی ہو گئی تھی میں اپنے گھر اور بال بچوں میں مصروف تھی۔ اولاد کی پیاس بھی کیا چیز ہے یہ تو کوئی ممتا سے پوچھے جبکہ امی جان کو بھی آنگن کا سونا پن کا کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ نازو کو گھل گھل کر مرتے دیکھ شمل بھائی بھی فکر مند رہنے لگے۔ سوچا اس کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔ میں نے کہا۔ آپ لوگ کسی بچے کو گودے لے لیں۔ اس پر ناز و بولی۔ کس کا بچہ ؟ کون ماں ہو گی جو اپنی گود خالی کر کے میری جھولی بھر دے۔ اس کا کہنا درست تھا۔ ہم کافی دن تک اسپتالوں، یتیم خانوں اور لاوارثوں کے نشیمن میں مارے مارے پھرے مگر ہمیں کوئی ایسا بچہ نہ ملا جس کو ہم گود لے سکتے۔ اس روز ہم نازو کی خالہ کے گھر جارہے تھے، جنہوں نے نویں بچی کو جنم دیا تھا۔ ان کے میاں کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ وہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں کھلا سکتی تھیں۔ غربت کے سبب آدھے پیٹ بھو کے رہتے تھے۔ یہ قدرت کی شان کہ جہاں بچوں کی ضرورت نہ تھی، وہاں یہ نعمت برس رہی تھی اور ایک ہم تھے کہ ہمارے بھائی اور بھا بھی ایک بچے کو ترس رہے تھے۔ صبح کا وقت تھا۔ ٹریفک کا ہلکا ہلکارش تھا۔ ہماری گاڑی آہستہ رفتار سے چل رہی تھی۔ نازو میرے ساتھ بیٹھی تھی۔ اچانک سامنے والی گلی سے دو بچے نکلے اور سڑک پر آگئے۔ صبح کے وقت ہر کسی کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے لیکن اس ویگن والے کو کچھ زیادہ جلدی تھی، اس نے ہماری گاڑی کو اوور ٹیک کیا اسی لمحے بچے دوڑتے ہوئے ویگن کے عین سامنے آگئے۔ میری بھابھی ان بچوں کی معصوم صورتوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ان کی معصومیت میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک ان کی خوفزدہ چیخیں فضا میں بلند ہوئیں۔ نازو نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لئے۔ وہ یہ نظارہ نہیں دیکھ سکیں ۔ ویگین ان پھولوں کو روند کر جا چکی تھی اور اب سڑک پر خون ہی خون بکھر اہوا تھا۔ لمحہ بھر کو شمل بھائی نے گاڑی روکنا چاہی مگر اطراف سے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تو انہیں گاڑی آگے بڑھانا پڑی۔ میں جانتی تھی کہ نازو اس معاملے میں کتنی حساس ہے لہذا بھائی نے یہی مناسب سمجھا کہ جائے حادثہ کے قریب رکنے سے بہتر ہے ، گاڑی کو آگے لے جائیں۔ وہ وہاں ٹھہر جاتے تو یقین تھا نازو ہی کو اسپتال میں داخل کروانا پڑتا۔ اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بڑ بڑارہی تھی۔ آہ! کتنے پیارے بچے تھے ، کتنے پیارے ، خوبصورت تھے۔ ماں نے چائو سے ، بال سنوار کر اور اجلے یونیفارم پہنا کر انہیں اسکول روانہ کیا تھا۔ اس روز ہم خالہ کے گھر جانے کی بجائے رستے سے ہی مڑ کر واپس آگئے کیونکہ اس بھیانک حادثے کو دیکھ کر ہم لوگوں کی حالت نارمل نہ رہی تھی۔ ناز و تو گھر آتے ہی بستر پر گر گئی تھی۔ اس کے بعد بھی کافی دن افسردہ رہی۔ اس کی نگاہوں میں انہی بچوں کی شکلیں گھومتی رہتی تھیں۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ اس روز چھٹی تھی۔ میں نے پوچھا۔ تم خالہ کی بچی کو گودے لے رہی تھیں ، اس پروگرام کا کیا بنا؟ وہ بولی۔ چلو آج چلتے ہیں، ہم سب تیار ہو کر خالہ کے گھر چل دیئے۔ ان کی پیاری سی منی کو گود میں بھر کر وہ اتنی مسرور ہوئی کہ دنیا کا ہر غم بھول گئی۔ خالہ آپ کیا کہتی ہیں، میں آج لے جائوں اس کو ؟ آج نہیں نازو۔ آج اس کو بخار چڑھا ہے ، اس کی طبیعت اچھی نہیں، تم سے سنبھالی نہ جائے گی۔ ذرا اس کی طبیعت ٹھیک ہو جائے پھر لے جانا۔ نازو بجھ گئی۔ اس نے پوچھا۔ پھر کب خالہ ! ایک ماہ بعد ۔ خالہ نے جواب دیا۔ واپسی میں نازو ٹوٹے ہوئے لہجے میں مجھ سے پوچھ رہی تھی۔ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کہیں تو اتنے بچے کہ ماں باپ انہیں پیٹ بھر کھلا نہیں سکتے اور نہیں ہم جیسے ترس رہے ہیں۔ نازو صبر کرو۔ پروردگار بہتر کرے گا۔ بس دعا کرو کہ وہ ہم کو کسی آزمائش میں نہ ڈالے۔ ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں۔ میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ ہیں اس کے دل کی کسک کو محسوس کر سکتی تھی۔ میں نے کہا۔ تم افسردہ مت رہا کرو۔ میں تم کو اداس دیکھ کر بے چین ہو جاتی ہوں۔ وہ بولی۔ میں چھوٹی سی تھی، تب بھی اداس رہتی تھی۔ تم بہنیں آپس میں کھیلتیں، تو سوچتی تھی کہ کاش میری بھی کوئی بہن ہوتی۔ تب ہی سے میری اداس رہنے کی عادت بن چکی ہے۔ میں تب بھی تنہا تھی اور آج بھی تنہا ہوں۔ چھوٹے بہن بھائی کو وہی جھولا جھلانے کی آرزو ہے جو نہیں ملتی۔ نازو چچی کی اکلوتی بچی تھی وہ شروع سے تنہا رہی اور اب اس کا کڑھنا بجا تھا۔ پہلے میں ، پھر شمل بھائی اس کی تنہائی کے ساتھی بنے لیکن اس کے ممتا بھرے ارمانوں کی تسکین ابھی باقی تھی۔ میں نے اس کی جانب دیکھا وہ آنچل سے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی شاید خالہ کے گھر سے خالی ہاتھ لوٹ آنے کا اس کو بہت دکھ پہنچا تھا۔ میں نے کہا۔ ناز و میری جان! اس قدر دل شکستہ نہ ہو،مالک سے اچھی امید رکھو۔ یہ دنیا امید پر قائم ہے۔ اس واقعہ کے پندرہ دن بعد خالہ اور خالو منی کو لے کر ہمارے گھر آ گئے۔ اس روز نازو کتنی خوش ہوئی تھی کیا بتائوں، جیسے اس کے لئے عید کا دن ہو۔ وہ خوشی سے پھولی نہیں سماتی تھی۔ منی کو اپنی بانہوں میں بھر کے سارے گھر میں ایسے گھوم رہی تھی، جیسے تمام جہان کی نعمتیں اسے مل گئی ہوں۔ خالہ کچھ ہدایتیں اور بیٹی نازو کے حوالے کر کے چلی گئیں ۔ اب نازو بیگم کو ہماری پرواہ کب رہی تھی۔ سارا دن وہ منی میں کھوئی رہتی۔ اس کا نام اس نے جانم رکھ دیا تھا۔ یہ گڑیا تھی چھوٹی سی ، مگر آفت کی پر کالا تھی۔ نازو فیڈر دھو کر دودھ بناتی، اس کے منہ کو لگاتی وہ دو گھونٹ لے کر فیڈر پرے کر دیتی اور زور زور سے چلانے لگتی، جیسے اسے پتا چل جاتا ہو کہ یہ ہاتھ اس کی ماں کے نہیں ہیں۔ تمام دن وہ نازو کے ساتھ یو نہی آنکھ مچولی کھیلتی اور بھا بھی جی کی سمجھ میں کچھ نہ آتا کہ اس بچی کو بھوک لگی ہے یاں پیٹ درد سے بے حال ہے منٹ منٹ پر نیپکن گیلے کر دیتی جانے ، دن میں کتنے کپڑے گندے کرتی۔ کبھی الٹی کر دیتی، کبھی کبھی تو نازو کو ابکائیاں آجاتیں لیکن کیا کرتی، جب بچی گود لی تھی تو اس کو پالنا ہی تھا۔ کوئی اچھی ، کام کی آیا بھی نہ مل رہی تھی۔ ایک ماہ اسی طرح گزر گیا خالہ بچی کو دیکھنے آگئیں۔ آتے ہی ہائے ہائے کرنے لگیں۔ ارے یہ کیا کر دیا اور یہ کیا کر رہی ہو۔ بچے ایسے پالے جاتے ہیں بھلا؟ غرض خالہ تو ٹھہریں بچوں کے معاملے میں ایکسپرٹ ، انہوں نے بچاری اناڑی بھانجی کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ وہ شام تک رہیں، جب تک کہ نازو کا ان کی ہدایتوں سے سانس نہیں پھول گیا۔ اب خالہ دوسرے تیسرے دن کسی انسپکٹر کی طرح معائنہ کرنے اچانک ہی ہمارے گھر وارد ہونے لگیں۔ ایک تو سارے کھر کا کام ، اوپر سے اس ننھی منی سی جان کی پرورش اور خالہ کی چیکنگ، نازو چند ماہ میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ اس کی پہلی جیسی صورت نہ رہی۔ رات بھر بچی کے ساتھ جاگتی تو صبح آنکھوں میں حلقے پڑے ہوتے۔ شمل بھائی بھی اپنی بیوی کے بارے پریشان رہنے لگے لیکن نازو گڑیا سے اتنی مانوس ہو چکی تھی کہ اس سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ رات کو سونے کے لئے لیٹتی تو جوڑ جوڑ دکھ رہا ہوتا۔ صبح چار بجے ہی بچی جاگ پڑتی اور رونا شروع کر دیتی۔ اس دن تو غضب ہو گیا۔ خالہ کے سامنے ہی منی کسی طرح کھسکتی کھسکتی پلنگ سے نیچے لڑھک گئی۔ ہلکی سی ٹھاہ ہوئی اور منی کی فلک شگاف چیخ بلند ہو گئی۔ نازو بھابھی باورچی خانے میں خالہ کے لئے چائے بنارہی تھی۔ حالانکہ خالہ گڑیا سے چند قدم کے فاصلے پر ہی براجمان تھی مگر گرتے ہوئے بچی نے کسی کو مہلت ہی نہ دی۔ خالہ نےلپک کر بچی کو قالین پر سے اٹھایا کلیجے سے لگایا اور دھاڑنے لگیں۔ تم میری پھول کی بیٹی کی کیسی پرورش کرتی ہو۔ یہ تک تم کو خبر نہیں کہ اتنے چھوٹے بچوں کو پلنگ۔ ک کے کنارے پہ نہیں لٹاتے ۔ ہائے روزانہ یہ معصوم جانے کتنی بار کرتی ہو گی۔ منی بھی ایسی استاد کہ گلا پھاڑ کر چلارہی تھی حالانکہ قالین پر گرنے سے چوٹ کم لگتی ہے مگر اس بچی کا مزاج بھی شاید اپنی ماں پر گیا تھا، جو رائی کو پہاڑ بنانے میں استاد تھیں۔ خالہ یہ روز تو نہیں گرتی ، بس آج ہی گری ہے۔ وہ بھی میں آپ کی خاطر چائے لینے گئی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ آپ کمرے میں موجود ہیں ورنہ میں اس کو یوں اکیلا تو نہیں چھوڑتی۔ نازو کسی مجرم کی طرح صفائی پیش کر رہی تھی۔ اس نے لاکھ سمجھایا لیکن خالہ کسی طرح نہ مانیں۔ میں کچھ نہیں جانتی ،اب میں اپنی بچی کو لے کر ہی جائوں گی۔ اس کے بہن بھائی بھی اس کو یاد کرتے ہیں۔ ایسا غضب نہ کیجئے خالہ ، اگر آپ نے اس کو واپس ہی لینا تھا تو دیاہی کیوں تھا۔ بہن غلطی ہو گئی ، بس معاف کر دو، غربت امارت تو پروردگار کی دین ہے مگر اپنی اولاد کو کوئی اس طرح نہیں پھینک دیتا۔ جس نے بچی دی ہے ، وہی اس کا رزق بھی دے گا۔ خالہ نے اک ذرا مہلت نہ دی اور بچی کو کلیجے سے لگائے چلتی بنیں۔ نازو بیچاری منہ دیکھتی رہ گئی۔ جب شمل بھائی گھر آئے تو فیڈر گود میں رکھے بھابھی نازو زار و قطار رو رہی تھیں۔ خالہ بچی لے گئیں۔ وہ دھاڑیں مارنے لگیں۔ بھائی نے تسلی دی سمجھایا کہ خالہ بڑی سیانی عورت ہے۔ چھ ماہ بچی کو تم سے پلوایا، صحت مند ہو گئی تو بیٹی کو لے گئیں۔ ان کا ارادہ شروع سے ہی ایسا تھا۔ تم رومت، صبر کرو ۔ کب تک صبر کروں ؟ اس نے رونا بند نہ کیا تو انہوں نے بھی اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ خوب رو دھو لے گی تو جی ہلکا ہو جائے گا پھر یہ خود ہی چپ ہو جائے گی۔ آخر کار نازو چپ ہو گئی ۔ شاید اُس کا جی ہلکا ہو گیا تھا مگر دل کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ اب اس کی صحت تیزی سے گرنے لگی اور وہ بیمار رہنے لگی تب شمل بھائی ایک روز زبردستی اس کو اسپتال لے گئے ۔ لیڈی ڈاکٹر نے خوش خبری سنائی کہ آپ کی مسز امید سے ہیں، تاہم ان کو کافی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا کیس غیر معمولی نوعیت کا ہو گا جس میں بعض دفعہ عورت کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اب نازو کے ماں بننے کی خوشی سے زیادہ سب کو اس بات کی فکر تھی کہ پروردگار اس کی جان کو سلامتی دے کیونکہ اسے یکدم بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا تھا۔ نازو البتہ بہت خوش تھی اور پھولے نہیں سماتی تھی اس کا چہرہ ، ان دنوں آفتاب کی طرح چمکتا تھا۔ وہ دن بھی آگیا جس کا سارے خاندان کو انتظار تھا۔ ہمارے آنگن میں طویل اور تر سا دینے والی مدت کے بعد خاندان بھر کی آرزو کا پھول کھلنے والا تھا۔ نازو کو ایک ہفتہ پہلے ہی ڈاکٹر ز نے اسپتال میں داخل کر لیا تھا۔ وہ کسی قسم کا رسک لینا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اس کو زیر نگرانی رکھے ہوئے تھے۔ تمام تر نگہداشت کے باوجود قدرت نے میرے بھائی کو منتوں مرادوں کے بعد بیٹے جیسی نعمت سے نوازا مگر میری جان سے پیاری بھابی نازو کو ہم سے چھین لیا۔ وہ بچے کو جنم دینے کے بعد چل بسی۔ میرے بھائی کی محبت کا تاج محل چور چور ہو گیا۔ جس نعمت کا اس نے اتنی شدت سے انتظار کیا وہ اس کو ملی بھی تو کس طرح کہ وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لینے سے پہلے اس دنیا سے چل بسی۔ نرس نے مجھے اور میرے بھائی کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو دی۔ قدرت کے کھیل نیارے ہوتے ہیں۔ آج سوچتی ہوں شاید اسی لئے پروردگار نے ہمیں اتنے عرصے تک اولاد نہیں دی تھی کہ ناز و کچھ عرصہ اور جی لے پھر تو اس کو چلے ہی جانا تھا۔ اس کی موت شاید اس کی زچگی میں واقع ہو نا تھی ، اسی لئے قدرت نے اس کے نصیب کی اولاد دینے میں تاخیر سے کام لیا تھا۔ دعا کرتی ہوں پروردگار میرے اکلوتے بھتیجے اور نازو کی نشانی کو سلامت رکھے ، جسے میں نے گود لے لیا تھا کیونکہ اس کی سوتیلی ماں اسے بہت دکھ دیتی تھی۔ شمل بھائی ہر ہفتہ آتے ہیں اور اپنے بیٹے سے مل جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ میری محبوب بیوی کی نشانی ہے۔ مجبورا والدین کے لئے دوسری شادی کی ہے ورنہ میں تو نازو کے بعد سے خود کو اکیلا ہی محسوس کرتا ہوں۔ مالک ا سے جنت میں جگہ دے وہ یہاں بھی اکیلی تھی اور کیا جانوں کہ وہاں بھی اکیلی ہو۔ (ختم شد)1 like
-
خوشحال ازدواجی زندگی کے لیے ایک آرٹ
ازدواجی زندگی ایک فن ہے جسے سیکھنا ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے ضروری ہے۔ اس فن کو نہ سمجھنے یا نظرانداز کرنے سے نہ صرف نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ تعلقات میں بے اطمینانی کے باعث نوبت خلع تک پہنچ سکتی ہے۔ عورت کی فطرت کو سمجھنا عورت کی فطرت محبت، پیار اور جذباتی تعلق کی متقاضی ہے۔ اگر ایک بیوی کو فیزیکل ٹچ یا جذباتی رابطہ کچھ دن نہ ملے تو وہ بے سکونی اور پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ بات سمجھنا ہر شوہر کے لیے ضروری ہے کہ محبت صرف الفاظ یا جسمانی تعلق تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ جذباتی اور روحانی وابستگی کا بھی اہم کردار ہے۔ ایک سبق آموز واقعہ ایک شخص نے مجھ سے مشورہ طلب کیا: "میری بیوی مجھ سے ناراض ہے، اور میں اسے منانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں، لیکن وہ مان نہیں رہی۔" میں نے کہا: "گھر جاؤ اور اسے محبت سے گلے لگاؤ۔" وہ حیرت زدہ ہو کر بولا: "وہ تو مجھ سے بات تک نہیں کر رہی، یہ کیسے ممکن ہے؟" میں نے اسے صبر سے کام لینے اور پیار سے گلے لگانے پر زور دیا۔ کچھ گھنٹوں بعد اس کی دوبارہ کال آئی: "جیسے ہی میں نے اسے گلے لگایا، وہ رونے لگی اور ہم نے دل کھول کر بات کی۔ اس کے بعد سب ناراضگی ختم ہوگئی۔" میں نے جواب دیا: "یہ جادو نہیں بلکہ عورت کی فطرت ہے۔ محبت اور جذباتی تعلق اسے پرسکون کر دیتا ہے۔" ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نکات 1️⃣ محبت کو زندگی کا محور بنائیں محبت کے الفاظ اور عمل دونوں ضروری ہیں۔ صرف جسمانی تعلق کو مردانگی نہ سمجھیں۔ بیوی کے جذبات، خواہشات اور سکون کو سمجھنا زیادہ اہم ہے۔ 2️⃣ پیار بھرے الفاظ کا جادو روزانہ اپنی بیوی کی تعریف کریں۔ چھوٹے پیار بھرے جملے، جیسے کھانے کی تعریف کرنا یا اس کی محنت کو سراہنا، بیوی کے دل کو سکون بخشتے ہیں اور ناراضگی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ 3️⃣ بیوی کی روح کو تسکین دیں عورت کے جذبات کو سمجھنا اور اس کی ضروریات کو پورا کرنا ازدواجی زندگی کو خوشحال بناتا ہے۔ جسمانی تعلق کے ساتھ جذباتی وابستگی کو بھی اہمیت دیں۔ 4️⃣ فیزیکل ٹچ کی اہمیت بیوی کے لیے فیزیکل ٹچ صرف جسمانی تعلق کا حصہ نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے۔ اگر یہ محبت مسلسل نہ ملے تو وہ بے سکون رہنے لگتی ہے۔ آخری بات ازدواجی زندگی ایک نازک تعلق ہے جسے محبت، خلوص، اور سمجھداری کے ساتھ نبھایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف شوہر اور بیوی کی خوشیوں کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مطمئن اور پر سکون خاندان کی بنیاد ہے۔ 🌟۔1 like
-
بیوی کے اپنے شوہر سے چند خوبصـــورت تعلقات
1️⃣ محبت بھرے گلے لگانا: اپنے شوہر کو اکثر گلے لگائیں، کیونکہ یہ عمل اس کی بے چینی اور غصے کو کم کرتا ہے۔ جب وہ بستر پر لیٹا ہو، آہستہ سے اس کے قریب جائیں، اس کی آغوش میں سمانے کی کوشش کریں، اور محبت بھرے لہجے میں کہیں: "مجھے یہ گرمجوش آغوش بہت پسند ہے۔" 2️⃣ پیشانی پر محبت بھرا بوسہ: نرمی سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیں، اس کی پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیں، اور اس کے لیے ایک خوبصورت دعا کریں۔ یہ عمل اسے سکون اور اطمینان بخشتا ہے۔ 3️⃣ اس کی گود بنیں: اس کے قریب بیٹھیں اور اسے کہیں کہ وہ آپ کی گود میں سر رکھ کر آرام کرے۔ پھر نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کریں اور محبت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی رہیں۔ 4️⃣ محبت بھری نظروں سے دیکھنا: جب وہ آپ سے پوچھے کہ آپ اس کی طرف اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں، تو مسکرا کر سادگی سے جواب دیں: "مجھے تمہارا خوبصورت چہرہ دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے!" 5️⃣ محبت کے چھوٹے اشارے: کبھی اس کی پیٹھ پر آہستہ سے تھپکی دیں، اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھیں، یا اپنا سر اس کے سینے پر جھکا دیں۔ اسے یہ محسوس ہونے دیں کہ وہ آپ کی دنیا کا مرکز ہے۔ 6️⃣ ہاتھ پکڑنا: موقع ملتے ہی اس کا ہاتھ تھامیں اور نرمی سے دبا دیں۔ یہ عمل اس کے دل میں محبت اور تحفظ کا احساس پیدا کرے گا۔ 7️⃣ مشترکہ خوشی: کسی میٹھی چیز کا مزہ لیتے ہوئے اسے بھی کھلائیں اور ایک محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہیں: "یہ کتنی مزے کی ہے، تم بھی چکھو۔" 8️⃣ خوشبو کی تعریف: جب وہ کوئی خاص خوشبو لگائے، اس کے قریب جا کر اس کی خوشبو کو محسوس کریں اور کہیں: "یہ خوشبو تم پر بہت جچ رہی ہے!" 9️⃣ روانگی کے وقت کی محبت: جب وہ گھر سے نکلنے لگے، تو اس کے کپڑوں کو ٹھیک کریں، اس کی قمیص کا کالر درست کریں اور خوش ہو کر کہیں: "اب تم بہت اچھے لگ رہے ہو!" 🔟 بچوں کے ذریعے محبت کا اظہار: اپنے بچوں کو اس کے قریب لائیں اور محبت سے کہیں: "تم اپنے والد کی طرح ہو، نہایت پیارے اور ذہین!" 1️⃣1️⃣ نرم لہجے میں بات چیت: اپنے شوہر سے ہمیشہ محبت اور مہربانی سے بات کریں۔ ایک میٹھی بات صدقہ ہے، تو اپنی زبان کو محبت کے اظہار کے لیے استعمال کریں۔ 1️⃣2️⃣ چھوٹے لمحات کی اہمیت: یہ چھوٹے چھوٹے محبت بھرے لمحات آپ کے شوہر کے دل کو نرم اور قریب کر سکتے ہیں۔ یہ وہ محبت ہے جو آپ اسے سکھا رہی ہیں، اور اسے محبت کے جذبات سے روشناس کروا رہی ہیں۔ 1️⃣3️⃣ محبت کا بیج بونا: اگر آپ محبت بھرے اعمال کا آغاز کریں، تو یقین رکھیں کہ آپ کے شوہر کے دل میں محبت کا بیج بو دیا جائے گا، جو ہمیشہ قائم رہے گا، چاہے وہ فوری جواب نہ دے۔ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے ان خوبصورت اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہ محبت کے تعلق کو مضبوط بنانے اور دلوں کو قریب کرنے کا ایک بہترین راستہ ہیں۔ ❤️1 like
-
شادی کے بعد........لڑکیاں
1 likeجب بہو کو گھر لے کے آئیں تو خدارا اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی امید مت کریں جیسے گھر میں بیٹھی آپ کی بیٹی آپ کو بچی لگتی ہے بہو کو بھی بچی سمجھ کے اسکی نادانیوں کو نظر انداز کر دیا کریں آج جس لڑکی سے آپ ایک بیوی بہو بھابھی کی ساری زمہ داریاں پوری کرنے کی امید رکھتے ہیں وہ بھی اپنے والدین کے لیے بچی ہی تھی ساس ماں نہیں بن سکتی تو کیا ہوا اپنی بہو کی دوست بننے کی کوشش کریں کبھی کبھی اسے بولیں آجا بیٹا تیرے سر میں مالش کرتی ہوں وہ کام سے فارغ ہو تو اسکا ماتھا پیار سے چوم کے اتنا کہہ دیں میری بیٹی بہت تھک گئی ہوگی کھانا کھانے لگے تو بہو کو آواز دے کر اپنے پاس بیٹھائیں بیٹے کے سامنے بہو کی تعریف کر دیا کریں میں یقین سے کہتا ہوں ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو کر وہ دل و جان سے آپکی بن جائے گی اسکی حوصلہ افزائی کریں اس سے گھر کے معاملات میں مشورہ کریں احساس دلائیں کہ اسکے بنا اپکا گھر ادھورا ہے خوش رہیں خوشیاں بانٹیں.۔۔شیر کرے تاکہ بڑوں کے نظر سے یہ پوسٹ گزرے ۔1 like
-
ضمیر فروش
1 likeیہ کہانی ایک ایسے وطن کے سپاہی کی ہے جو اپنے وقت کے ناخدا سے الجھ بیٹھا۔ ایسے آفیسر کی کہانی جس کے خمیر میں جان فروشی گوندھی ہوئی تھی، جو وطن فروشوں سے اپنی سرزمین کو پاک دیکھنا چاہتا تھا۔ امید ہے دوستوں کو رمضان کے اس مقدس میں یہ کہانی پسند آئے گی اور اپنے وطن کے ان گمنام سپاہیوں سے محبت میں گوناگوں اضافہ ہو گا۔1 like
-
جہیز
1 likeابا میں کہہ رہی ہوں مجھے ادھر شادی نہیں کرنی۔ ماہین یہ بات اپنے ابا سے دسویں بار کہہ رہی تھی !!۔ "تو بیٹا میں کیا تمہیں ساری زندگی گھر ہی رکھوں"؟ احمد صاحب کا ضبط بھی جواب دے گیا، ۔ ماہین ایک دم سے ڈر کے پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی!! ۔ "لیکن ابا آپ ان کی جہیز کی اتنی لمبی لسٹ کیسے پوری کریں گے، ابا میں ابھی اتنی بے ضرف نہیں ہوں کہ آپ پر مزید قرض چڑھا دوں میری وجہ سے پہلے ہی آپ قرض لے چکے ہیں۔"۔ ماہی نے اپنے آنسو ایک طرف دھکیلے!! ۔ آحمد صاحب بھی اپنی شہزادی جیسی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر نرم پڑھ گئے، آخر وہی واحد اِن کی آنکھ کا تارا تھی،!! ۔ "دیکھو ماہی بیٹا میں زیادہ قرض نہیں لے رہا، تم یہ سمجھو سارا کچھ ہوچکا ہے، بس کھانے کا رہ گیا ہے اور دیکھو بیٹا کوئی رشتہ ایسا نہیں ملے گا جو سامان کے بغیر بیاہ لے جائے۔ مجھے پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا پھر کیا ہوا جو اُن لوگوں نے لسٹ دے دی ہے اور بیٹا تمہاری ماں زندہ ہوتی تو اُن کی بھی یہی خواہشِ ہوتی کہ میری رانی میری ماہی اچھے سے رخصیت ہو جائے"۔ احمد صاحب نے ماہی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اُس کے آنسو صاف کیے۔ "ابا دنیا سہی کہتی ہے بیٹیاں بوجھ ہوتیں ہیں اور ابا کیا پتہ میں بعد میں خوش رہ سکوں یا نہ"۔ احمد صاحب نے ایک دم سے اپنے دل پر ہاتھ رکھا "نہ میری ماہی ایسے مت کہو"میری چندا چلو شاباش جاؤ اور صبح شاپنگ کر آنا بیٹی اب تو تھوڑے دن پڑے ہیں "۔ احمد صاحب سوچتے رہے کیسے انہوں نے بیٹی کو شادی کے پندرہ سال بعد پایا اور اپنی جان سی پیاری بیوی کو کھو دیا تھا!!! ۔ ماہی کی رخصتی کا وقت ہوا تو وہ اپنے باپ کے گلے لگ کے بے حد روئی "کیونکہ وہ برات میں آنے والوں خواتین اور اپنی ساس کی باتیں سن چکی تھی کہ ایک بیٹی اور اس کو بھی اتنا سامان دیا بس نہ کھانا ڈھنگ کا تھا"میرے بیٹے کو کون سا کمی تھی میں تو بس اکلوتی کی وجہ سے رشتہ کیا تھا "۔ ماہی اپنی دہلیز سے دوسرے گھر میں داخل ہوئی تو سوچتی رہی میرا مقدر کیا ہوگا، ۔ "امی یہ لڑکی دیکھی تھی میرے لئے جو نہ کار لائی نہ اے سی آپ تو کہہ رہی تھی اکلوتی ہے سب لے کر آئے گی"۔ ماہی نے اپنے شوہر کو دیکھا جس کے لئے اُس نے سب چھوڑا تھا اور اس کے سامنے اپنے باپ کا چہرہ آگیا روتی انکھیں "ہاں بیٹا مجھے کیا پتہ تھا یہ کنگال ہے تم اسے طلاق دے دو میں تمارے لئے اب امیر گھر سے بہو لاؤں گی، ہم تو اسے بیاہ لائے تھے سامان لائے گی لیکن یہ تو نہ ہونے کے برابر سامان ہے، گاڑی مانگی تھی اور موٹر سائیکل لے آئی ہے"۔ ماہی تقدیر کا کھیل سمجھنے سے قاصر اپنے باپ کہ دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے احمد صاحب کا سوچ رہی تھی کہ احمد صاحب سامنے دروازے پر گرے سوچ رہے تھے انہوں نے تو ماہی کے لئے چھت بھی نہ چھوڑی۔ اور ماہی دلہن کے لباس میں اپنے باپ کی لاش پر رو رہی تھی۔1 like