Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 28/04/23 in all areas

  1. یہ بندے اس نے کراچی سے ہی آپ کے پیچھے لگائے تھے جو دن رات آپ کی ریکی کر رہے تھے اور کل رات موقع مناسب جان کر انہوں نے حملہ کر دیا۔۔۔مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میرے اک برسوں پرانے ساتھی نے دغا کی اور میں اسے پہچان ہی نہیں پایا۔۔۔ساری بات بتا کر حنیف نے غمزدہ انداز میں اپنا سر جھکا لیا۔ ************************ (74) میں نے پوچھا اب سردار علی کہاں ہے تو اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے کہا کہ اسے میں کل رات ہی میں نہر میں ڈال چکا ہوں۔۔۔چونکہ پانی کا بہاؤ تیز تھا تو پتہ نہیں کہاں تک پہنچ چکا ہو گا۔۔۔کل اس سے ساری معلومات لینے کے بعد میں نے دو گولیاں اس کی کھوپڑی میں اتاریں اور فوراً آپ کی مدد کو پہنچا۔۔۔کیونکہ اس کے مطابق اس کے ساتھی آپ کے گھر پر حملہ کر چکے ہوں گے اور قدرت کی کرنی دیکھیے کہ میں عین وقت پر پہنچ گیا۔ میں اٹھا اور حنیف خان کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا!!!حنیف تم نے جو کیا سہی کیا اور میں اس پر تمہارا شکر گزار ہوں۔۔۔آج سے تم میرے لیے کام کرنے والے تنخواہ دار نہیں بلکہ دوست اور بھائی کی حیثیت سے رہو گے۔۔۔کچھ دیر اسی طرح کی باتوں میں گزر گئی پھر ہم دونوں نے اسے آج حویلی میں ہونے والی بات چیت سے مطلع کیا تو وہ بھی پرجوش ہو گیا۔۔۔سر اس طرح تو ہمیں اور کھل کھیلنے کا موقع ملے گا ہم ان کے اندر رہ کر ہی ان کی جڑیں کاٹیں گے۔۔۔میں نے حنیف کو بولا بس تم اپنی آنکھیں کھلی رکھنا اور چوکس رہنا کسی بھی وقت تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر میں اور نادر وہاں سے نکل کر گھر پہنچ گئے۔۔۔اگلے چار پانچ دن آرام میں گزر گئے۔۔۔پولیس والے دوبارہ ایک دفعہ آئے اور ہمارے بیانات لینے کے بعد کھانا کھا کر اور نظرانہ لیکر چلے گئے۔۔۔نادر اب روٹین سے حویلی جا رہا تھا۔۔۔چار پانچ دن میں میرا زخم بھی بھر چکا تھا تو پھر ایک دن نادر مجھے بھی حویلی لے گیا۔۔۔ایک بات بتاتا چلوں شمسہ کو بڑی مشکل سے رام کیا تھا وہ نہیں مان رہی تھی کہ میں بھی حویلی والوں کی ملازمت کروں۔۔۔لیکن یہ تو مجھے کرنا تھا کیونکہ میرے سامنے ایک مقصد تھا۔۔۔شمسہ کو جب یہ کہانی سنائی کہ حویلی والوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے دوبارہ کبھی کوئی واردات نہیں ہو گی تو شمسہ نیم راضی ہو گئی۔ حویلی میں میرا پہلا دن تھا۔۔۔مجھے ایک کرولا کار دی گئی۔۔۔ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد میں اسی اچھی طرح چیک کر چکا تھا۔۔۔تھوڑی دیر بعد مجھے اندر سے ایک ملازمہ نے بتایا کہ چھوٹی بی بی کو لاہور کسی کام سے جانا ہے تو میں تیار رہوں۔۔۔میں گاڑی کے پاس ہی موجود تھا کہ اندر سے شبینہ سیال آتی دکھائی دی۔۔۔جیسے کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جمیل کے چہرے پر مردانہ وجاہت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔اس لیے شبینہ نے مجھے دیکھا تو جیسے ایک لمحے کیلئے اس کی نگاہیں مجھ سے چپک سی گئیں۔۔۔پھر اس نے اپنی نگاہیں بدلیں اور چپ چاپ آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔میں جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا مڑ کر دیکھا تو اتنے عرصے بعد چھیمو کو اپنے سامنے پایا۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر شبینہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چپ چاپ گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی سے باہر نکل آیا۔۔۔تقریباً دس منٹ بعد ہم لوگوں گاؤں سے نکل رہے تھے جب شبینہ کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ گاڑی ماڈل ٹاؤن لے چلو۔۔۔میں سیدھا گاڑی بھگاتا ہوا ماڈل ٹاؤن کی طرف چل پڑا۔۔۔ماڈل ٹاؤن میں ایک کوٹھی کے آگے شبینہ نے گاڑی رکوائی اور اتر کے چھیمو کو ساتھ لیکر کوٹھی میں داخل ہو گئی جبکہ میں نے وہیں ہلکا سا نیم دراز ہو کر سگریٹ سلگائی اور سوچنے لگا کہ یہ شبینہ کی کایا کیسے پلٹ گئی یہ تو انتہائی نک چڑھی اور مغرور لڑکی ہے پھر چھیمو جیسی ملازمہ کے ساتھ ایسے آنا وہ بھی دونوں ایک ہی سِیٹ پر بیٹھ جائیں۔بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔چھیمو کا خیال آتے ہی سوچوں کا رخ خود بخود چھیمو کے ساتھ گزرے وقت کی طرف ہو گیا اور اس کو سوچتے ہی میرا لن آہستہ سے سر اٹھانے لگا۔ ************************* (75) چھیمو پہلے کی نسبت تھوڑی صحت مند ہو چکی تھی اور اس کے جسم کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوا تھا۔۔۔اس کے ساتھ بیتا ہوا وقت یاد آ گیا کہ کیسے میں نے چھیمو اور راجی کی ایک ساتھ مل کر پھدی ماری تھی۔۔۔میں ابھی ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ مجھے گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں چونک کر سیدھا ہوا دیکھا تو وہ چھیمو تھی۔۔۔میں بیک مرر میں اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ میری طرف دیکھ کر بولی چھوٹی بی بی کو یہاں ابھی دو گھنٹے لگیں گے ہمیں ایک اور کم جانا ہے اچھرہ۔ تم گاڑی گھماؤ اور اچھرہ کی طرف چلو وہاں ہمیں چھوٹی بی بی کے کچھ کپڑے درزن سے اٹھانے ہیں۔۔۔راستے میں میرا بہت دل کیا کہ میں اس سے کوئی بات کروں لیکن فلحال میں اپنے کمال ہونے کا راز کھولنا نہیں چاہتا تھا اس لیے چپ رہا۔۔۔اچھرہ سے ابھی واپس نکلے ہی تھے کہ راستے میں وہ بولی۔۔۔شاید تم مجھے اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے جو اب تک خاموش ہو۔۔۔اسٹیرنگ سے میرے ہاتھ ہلکے سے ڈگمگائے اور گاڑی تھوڑا لہرا گئی لیکن میں نے مہارت سے گاڑی کو قابو کیا اور بولا یہ تم کیا کہہ رہی ہو میں سمجھ نہیں پایا تو وہ بولی اب بس کرو کمال۔۔۔اور کتنا چھپاؤ گے کتنے جھوٹ بولو گے۔۔۔مانا کہ بہت سارے مردوں نے مجھے اپنے نیچے لٹایا ہے مگر عورت اسے کبھی نہیں بھولتی جس کے نیچے وہ اپنی مرضی سے لیٹتی ہے۔۔۔کیونکہ وہ اسے اپنا مرد سمجھتی ہے اور اپنا مرد کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ اور تم نے مجھ جیسی رانڈ کی خاطر جو کیا وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔پھر تمہارے ساتھ جو ہوا جیسے ہوا اک اک لمحے کی خبر ہے مجھے۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اور اسے اگلی سِیٹ پر آنے کو کہا۔۔۔وہ چپ چاپ اتر کر میرے ساتھ والی سِیٹ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور نسبتاً ایک سنسان جگہ پر درختوں کے جھنڈ میں روک لی۔۔۔چھیمو کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں کمال ہوں۔۔۔وہ بولی گاؤں میں جو چار لوگ تمہارے زندہ ہونے کے بارے میں جانتے تھے میں ان میں سے ایک ہوں اتنا تو تمہیں پتہ ہی ہو گا پھر چھیمو بولی یاد ہے تم نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ جمیل کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر چکا ہے مجھے یہ بات بینا نے بتائی تھی کیونکہ وہ میری پیاری سہیلی تھی اور نادر کی تمہارے ساتھ یاری بھی مجھ سے چھپی نہیں تھی۔۔۔اس لیے جب جمیل کو زندہ جاوید اپنے سامنے دیکھا تو اسی وقت مجھے شک ہوا۔۔۔چند دن پہلے باتوں ہی باتوں میں نارمل انداز میں تمہاری اس چھیمو نے ہی نادر کو یہ خبر دی تھی کہ حویلی میں کوئی بڑی میٹنگ ہونے والی ہے۔ پھر راجو کے بعد صفدر سیال کی بھی گانڈ میں گولیاں لگیں اور یہ قدر مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی۔۔۔لیکن مجھے پکا یقین اس دن ہوا جب میں نے تمہیں دوپہر کے وقت اپنے تباہ شدہ گھر میں گھٹنوں کے بل بیٹھے روتے دیکھا۔۔۔میں بہت للچائی کہ بھاگ کر تمہارے پاس آ جاؤں اور تمہیں اپنی آغوش میں سمیٹ لوں پر میں نہیں کر پائی کیونکہ تم تم نہیں جمیل بن چکے ہو کیسے میں نہیں جانتی۔۔۔دنیا بہت بڑی ہے ہو سکتا ہے تم نے کوئی چکر چلایا ہو لیکن تم کمال ہو میرے کمال ہو وہ جزباتی لہجے میں بولتی گئی۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ پر رکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے رخ موڑ کر میری طرف دیکھا تو اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ہاں چھیمو میری جان میں کمال ہی ہوں۔۔۔وہ چیخ مار کر مجھ سے لپٹ گئی اور دیوانہ وار میرے چہرے کو چومنے لگی۔۔۔کمال۔کمال ہائے تم پھر سے مل گئے تو میرا سیروں خون بڑھ گیا۔میں نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا چھیمو یہ جگہ مناسب نہیں ہم پھر ملیں گے۔۔۔کسی اور جگہ پر بیٹھ کر بات کریں گے تسلی سے بات کریں گے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے اچھی طرح چہرہ صاف کرنے کے بعد وہ نارمل ہو گئی تو میں نے گاڑی جھنڈ سے باہر نکالی اور روڈ پہ آگے بڑھا دی۔۔۔چھیمو یہ راز اپنے تک ہی رکھنا کہ میں کمال ہوں۔۔۔اور جمیل کیسے بنا۔۔چھیمو میری بات کاٹ کر بولی مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم جمیل کیوں اور کیسے بنے بس تم مجھے مل گئے اتنا کافی ہے اور رہ گئی بات کسی کو نہ بتانے والی تو کمال راجی کو یہ بات لازماً بتانا پڑے گی کیونکہ وہ تمہارے لیے وہ کام کر سکتی ہے جو شاید میں بھی نہ کر پاؤں۔۔۔میں نے پوچھا کہ وہ ایسا خاص کیا کر سکتی ہے جو اسے میرے بارے بتانا ضروری ہے تو چھیمو بولی کہ ابھی نہیں یہ بتاؤ دوبارہ کب اور کہاں ملو گے تب ساری بات تفصیل سے بتاؤں گی تو میں نے اسے رات آٹھ بجے میرے پرانے گھر پر ملنے کو کہا تو وہ بولی بس ٹھیک ہے رات کو میں ٹائم پہ گھر پر ملوں گی اور ساری تفصیل بتاؤں گی۔۔۔میں بھی چپ کر گیا کیوں کہ ہم لوگ ماڈل ٹاؤن پہنچ چکے تھے۔۔۔کوٹھی پہنچنے سے پہلے ہی میں نے گاڑی روک کر چھیمو کو احتیاطاً پچھلی سیٹ پر جانے کو کہا اور یہ چیز تھی بھی سہی آخر کو میں ڈرائیور جو تھا۔ ************************ (76) تھوڑی دیر بعد ہم تینوں واپس حویلی کی طرف جا رہے تھے۔۔۔راستے میں کسی نے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے ہم لوگ حویلی پہنچ گئے۔۔۔باقی کا سارا دن ایسے ہی گزر گیا شام کو ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد میں وہاں سے اکیلے ہی نکل آیا کیونکہ نادر کسی کام سے نور سیال کے ساتھ گوجرانولہ گیا ہوا تھا۔۔۔گھر پہنچا تو شمسہ ماسی کے ساتھ گپیں لڑا رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھ کر ماسی نے اجازت چاہی اور اٹھ کر چلی گئی۔۔۔شمسہ میرے لیے شام کے کھانے کے تیاری میں جت گئی۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ نادر گوجرانولہ گیا ہوا ہے اور لیٹ آئے گا ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ مجھے کسی کام سے رات کو لاہور جانا ہے تو وہ ساتھ والی ماسی کے گھر چلی جائے۔ میرے جانے کی بات سن کر شمسہ نے شاکی نظروں سے مجھے دیکھا تو میں نے کہا میری جان بس چند گھنٹوں کا کام ہے پھر میں واپس آ جاؤں گا شاید صبح سے پہلے ہی آ جاؤں۔۔۔اس نے ذیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی اور چپ چاپ کھانا تیار کرنے لگی۔۔۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں اور میں شمسہ کو پیار سے بہلاتا پھسلاتا رہا پھر ٹائم دیکھا تو آٹھ بجنے والے تھے۔۔۔میں شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر خود گھر سے نکلا اور چکراتا ہوا نظریں بچا کر اپنے پرانے گھر میں گھس گیا۔۔۔میرا کمرہ ابھی تک سہی سلامت تھا۔۔۔توڑ پھوڑ تو یہاں بھی بہت ہوئی تھی لیکن ایک سائیڈ پر ہونے کیوجہ سے جلنے سے بچ گیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی در و بام نے مجھے اپنی فیملی کی یاد دلا دی اور میں بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ کمرے کی اچھی طرح صفائی کی ہوئی ہے۔۔۔میرے دل میں پہلا خیال ہی چھیمو کا آیا۔۔۔ہو نہ ہو وہی آ کر صفائی ستھرائی کر گئی ہو جو کہ بعد میں چھیمو کے آنے پر ثابت بھی ہو گیا کہ کچھ دیر پہلے ہی وہ صفائی ستھرائی کر گئی تھی۔۔۔میرا بیڈ صحیح سلامت تھا چادریں میلی لیکن گرد سے پاک تھیں۔۔۔میں سیگریٹ سلگا کر لیٹ گیا اور چھیمو کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی دروازے پہ آہٹ ہوئی تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا چھیمو دروازہ کھول کر اندر داخل ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی تیزی سے وہ میری طرف بڑھی اور گلے کا ہار بن گئی۔۔۔اس کے گداز مموں کا لمس اپنی چھاتی پہ محسوس کرتے ہی میرا لن ہوش پکڑتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے درمیان ہی اکڑنے لگا۔۔۔اس اکڑاہٹ کو چھیمو نے بھی محسوس کر لیا۔۔۔میرے لن کو محسوس کرتے ہی چھیمو نے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر دیوانہ وار انہیں چوسنے لگی۔۔۔چند لمحوں کی کسنگ کے بعد چھیمو اکڑوں زمین پر بیٹھ گئی اور میری شلوار اتار کر لن اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔وہ بڑے پیار سے میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی ہائے میں تو ترس گئی تھی اپنے اس شہزادے لن کو دیکھنے،چھونے،محسوس کرنے اور چوسنے کیلئے۔ پھر اس نے اپنی زبان نکال کر میرے لن کی ٹوپی پر اچھی طرح سے چاٹ لیا اور ٹوپی کو منہ میں لیکر لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔۔۔چوستے چوستے جیسے اس نے غوطہ مارا اور میرے لن کو پورا اپنے منہ میں غائب کر لیا اس انداز سے میرے لن کی ٹوپی اس کے حلق میں پہنچ گئی جہاں اس نے اپنے حلق کو دباتے ہوئے میری ٹوپی کو گھونٹ مارا تو میں مزے سے ایک جھٹکا کھا گیا۔۔۔ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر میں نے اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑتے ہوئے تیزی سے اس کے حلق کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے منہ سے غاں غاں کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ مگر میں ہر چیز سے بے نیاز اس کے حلق کو چودتا گیا۔۔۔یہاں تک کہ چھیمو کی حالت بری ہو گئی۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے اپنا منہ پیچھے کیا اور کھانستی ہوئی دہری ہو گئی۔۔۔تب مجھے ہوش آئی اور لگا کہ میں نے اس کے ساتھ ذیادتی کی ہے۔۔۔لیکن میں کچھ بولا نہیں چند لمحوں کے بعد جب چھیمو نارمل ہوئی تو میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔یہ چیز میرے شہزادے"ساتھ ہی اس نے اٹھ کر میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ایک زبردست چوپہ لگانے کے بعد اٹھ کر اپنے کپڑے اتار دیے۔ ساتھ ہی اس نے مجھے لٹاتے ہوئے میری ٹانگوں پر دوزانو بیٹھ کر میری لن کی ٹوپی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پھدی کا نشانہ لیا اور غڑاپ سے اس کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔میرا پورا لن ایک جھٹکے سے چھیمو کی پھدی میں غائب ہو گیا اور اس کے منہ سے ایک لمبی سسسییییییییییییییییی نکلی۔۔۔چھوٹتے ہی وہ تیزگام کی طرح اپنی گانڈ کو زور زور سے اچھالنے لگی۔۔۔اس کی ہر اچھال پر میرا لن جھٹکے سے اس کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہو رہا تھا۔ دو منٹ میں ہی وہ تھک گئی اور مجھ پر ڈھے سی گئی۔۔۔اب میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔وہ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔شہزادے کیا اپنی چھیمو کا دودھ نہیں پیو گے۔۔۔دیکھو کیسے میرے نپلز تڑپ رہے ہیں۔۔ان مموں کا تو میں عاشق تھا۔۔۔میں نے چھیمو کو تھوڑا اوپر کھینچا تو اس کے بڑے بڑے ممے عین میرے منہ کے سامنے آ گئے۔۔۔آج بھی ان مموں کی اٹھان ویسے ہی برقرار تھی لگتا تھا کہ زمانے کے نرم و گرم "اتار چڑھاؤ" نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔۔۔میں نے اس کا ایک نپل منہ میں لیکر چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کی گول مٹول اور خوب ابھری ہوئی گانڈ کو زور زور سے دبانے لگا۔۔۔میری اس حرکت نے جیسے چھیمو میں پھر جنون سا بھر دیا وہ ایک مرتبہ پھر اٹھی اور اپنے پاؤں کے بل بیٹھ کر میرے لن پر پوری جان سے جمپنگ کرنے لگی۔ ************************ (77) ہم دونوں کے جسم آپس میں ٹکرانے سے کمرے میں چھپ چھپ کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈز میں وہ پھر تھک گئی اس بار میں نے اسے اپنے اوپر سے اٹھاتے ہوئے سائیڈ پر کیا اور اٹھ کر اپنے پورے کپڑے اتار دیے۔۔۔پھر میں نے چھیمو کو لٹاتے ہوئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور حقیقتاً اس کے گوڈے اسی کے مونڈھوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے پوری رفتار سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔اس کی گیلی پھدی میں میرا لن بنا رکاوٹ کھدائی کر رہا تھا۔۔۔اب چھیمو کی سسکاریاں پورے عروج پر تھیں اور اس کے منہ سے افففف۔۔میری جان کمال کررر رہے ہو۔۔۔کب سے میں ترس رہی تھی۔۔۔آہ ظالم۔۔اففف۔۔۔آہہہ۔آہہہ اور زور سے جیسی آوازیں نکل رہی تھیں۔ چند گھسوں کے بعد چھیمو کا جسم لرزہ اور وہ کانپتے ہوئے جھڑتی چلی گئی۔۔۔اس کے منی سی اس کی پھدی لبالب بھر چکی تھی اور مجھے لتھڑی ہوئی پھدی مارنے کا مزہ نہیں آتا تھا اس لیے میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا اور چھیمو کی سائڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔۔چھیمو کو یوں سانس چڑھا ہوا تھا جیسے وہ میلوں دوڑتی ہوئی آئی ہو۔۔۔دو منٹ بعد جب اس کا سانس بحال ہوا تو وہ اٹھی اور میرے مرجھاتے ہوئے اسی کی منی سے لتھڑے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔میرا لن گرتے گرتے پھر سے جی اٹھا۔۔۔چند جاندار چوپوں کے بعد ہی میرا لن پھر سے پوری طرح اکڑ چکا تھا۔ میں نے اس کو کھینچ کر بیڈ کے کنارے کیا اور خود زمین پہ کھڑا ہو کر اسی گھوڑی سٹائل میں الٹا کیا اور خاص انداز میں اس کی ٹانگیں آپس میں جوڑ کر اس کے گھٹنے فولڈ کیے اور اس کو نیچے کی طرف دبا دیا۔۔۔اس کنڈیشن میں اس کے پاؤں اور اس کی گانڈ بیڈ سے باہر تھی۔۔۔میں نے اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر زوردار گھسہ مارا تو بھک کی آواز کے ساتھ میرا لن بڑی آسانی سے اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔چونکہ چھیمو کی پھدی اور گانڈ لگاتار متواتر بجتی رہی تھی اس لیے اس کی کھلی گانڈ میں میرا لن بنا کسی رکاوٹ کے جڑ تک اترتا چلا گیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ ہلنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی گانڈ اندر سے آج بھی بہت ذیادہ گرم تھی۔ چونکہ بڑے مموں کے ساتھ ساتھ بڑی گانڈ بھی میری کمزوری تھی تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں ذیادہ دیر ٹھہر نہیں پاؤں گا اس لیے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کولہے تھامتے ہوئے ایک دم سپیڈ پکڑی اور تیزی سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔چھیمو کی گول مٹول گانڈ میری ناف کے ساتھ ٹکرا کر کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔۔۔اسی پوزیشن میں لگاتار فل سپیڈ میں دو منٹ تک گھسے مارتا رہا۔۔۔میرے گھسے اب آخری دموں پر تھے۔۔۔میرا فارغ ہونے کا ٹائم قریب ہی تھا۔۔۔چھیمو اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی میلی چادر کو جھکڑے۔۔۔سسکیاں بھرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔آہ آہ افففف کی آوازوں کے ساتھ چھیمو کی گانڈ آگے پیچھے ہو رہی تھی نیچے سے وہ مسلسل اپنی پھدی میں دو انگلیاں اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔پھر یکدم اس نے ایک لمبی سسکاری بھری اور پانی چھوڑ دیا۔ میں نے بھی دو گھسے اور مارے اور اس کی گانڈ میں پورا لن گھسا کر منی کی پچکاریاں مارنے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے بازوؤں میں لپٹے بیڈ پر پڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا!!! چھیمو دوپہر میں تم کچھ کہہ رہی تھیں کہ راجی میرے کسی کام آ سکتی ہے اس بات کے متعلق بتاؤ۔۔۔چھیمو بولی شہزادے سب سے پہلے تو یہ تیرا میرا چھوڑ دو اب ہمارا تمہارا دشمن سانجھا ہے اس لیے اب تیری میری نہیں ہماری بات کیا کرو۔ تمہارے چلے جانے کے بعد ایک دن کی بات ہے کہ میں اور راجی سیکس کیلئے بڑا خوار ہو رہی تھیں۔۔۔کیونکہ ہم حویلی میں ہی تھیں اور سیال زادوں میں سے کسی نے بھی ہمیں نہیں بلایا تھا پھر اوپر سے تم بھی غائب تھے تو ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ لگ گئیں۔۔۔یہ وہ کمرہ تھا جو خادماؤں کیلئے مخصوص تھا چونکہ اس وقت وہاں کوئی بھی نہیں تھا اس لیے ہم بے فکری سے ایک دوسرے کی تسکین پوری کر رہی تھیں۔۔۔راجی نیچے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں اس کے اوپر تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں تبھی ایک تیز کڑک سنائی دی۔ او کنجریو یہ کیا کر رہی ہو۔ ہم دونوں ہڑبڑا کر سیدھی ہوئیں اور دیکھا تو ہمارے ہوش رخصت ہو گئے کیونکہ۔ وہ۔ وہ۔ وہ۔
  2. سر جلدی سے اٹھیں اور آپ کی وائف کو میں اٹھا لیتا ہوں گھر میں کوئی اور بیڈ روم ہے تو اس میں فوری شفٹ ہو جائیں۔۔۔کیونکہ کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ گاؤں میں سنی گئی ہو گی لازمی کوئی نہ کوئی نکلے گا اس سے پہلے کہ لوگوں کو اس چیز کا ادراک ہو کہ گڑبڑ کہاں ہے ہمیں اس کمرے کو سیٹ کرنا ہو گا اور ان لاشوں کو غائب کرنا ہو گا۔ اتنا کہہ کر اس نے شمسہ کو اٹھایا۔میں آگے بڑھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر نادر کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مجھے تشویش ہوئی میں تیزی سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ نادر بیڈ پر ہی آڑا ترچھا انٹا غفیل پڑا ہوا تھا اس کے سر پر ایک گھومڑ بھی موجود تھا لازماً گن سے اس کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر نادر کو جھنجھوڑا تو میرے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔اسی وقت حنیف خان شمسہ کو اٹھائے اندر داخل ہوا اس نے شمسہ کو بیڈ پر لٹانے کے بعد ایک چادر اس پر ڈال کر نادر کو دیکھا اور بولا سر پریشانی کی کوئی بات نہیں نادر بھائی کو سر پر ضرب لگا کر بیہوش کیا گیا ہے اور میڈم تھوڑی دیر بعد خود بخود ہوش میں آ جائیں گی۔۔۔پھر اس نے نادر کی ناک کو چٹکی میں پکڑا اور اس کے منہ کو دباتے ہوئے اس کا سانس روک دیا چند ہی لمحوں میں نادر کے جسم میں حرکت محسوس ہوئی تو وہ اس کو جھنجھوڑنے لگا۔۔۔اس کے جھنجھوڑنے پر نادر کو ہوش آ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔سانس رکنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا۔ نادر نے میری طرف دیکھا تو فوراً تشویش سے بولا کمالے کیا ہوا یہ خون؟ حنیف نے مختصراً اسے سارے حالات بتائے تو وہ فوراً اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا مجھے وہیں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے وہ نیچے چلے گئے۔۔۔تقریباً پندرہ منٹ بعد نادر اوپر آیا تو اس کے ہاتھ میں اسپرٹ کی بوتل اور کاٹن پکڑی ہوئی تھی۔۔۔اس نے کپڑا ہٹا کر میرا زخم دیکھا تو اس کے منہ سے سیٹی سی نکل گئی۔۔۔کمالے یار!!! تیرے تو کاندھے کا بیڑہ غرق ہو گیا۔۔۔اس چمار کی اولاد نے استرا مار کر اچھا خاصا ٹک لگا دیا ہے۔ ************************ (70) خون بہنے کی وجہ سے میرا رنگ زرد ہو چکا تھا اور کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہرحال نادر نے میرا زخم اسپرٹ سے دھونے کے ساتھ ساتھ مجھے بتایا کہ حنیف اور نادر نے ملکر کمرے سے دو لاشیں غائب کر کے پیچھے سٹور روم میں ڈال دی ہیں۔۔اور حنیف خان بظاہر چلا گیا ہے۔۔۔ابھی سب لوگ باہر اکٹھے ہو رہے ہیں تو ہمیں اٹھ کر باہر نکلنا چاہیے اور کمرہِ واردات میں چلنا چاہیے۔ میرے زخم کو دھو کر نادر نے کاٹن رکھ کر پھر سے کپڑا باندھ دیا اور ہم دونوں اٹھ کر نیچے چل دیے۔۔۔نیچے اس استرے والے بدمعاش کی لاش موجود تھی ساتھ ہی کلاشنکوف بھی پڑی ہوئی تھی اور اس کا استرا لاش سے چند قدم کے فاصلے پر المارے کے ساتھ کھلی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔۔۔پیسے موجود نہ دیکھ کر میں نے نادر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پیسے ہٹا دیے ہیں۔ چند منٹوں بعد گاؤں کے چند لوگ گھر میں داخل ہوئے اور نادر ان کو سیدھا کمرے میں لے آیا۔۔۔کیونکہ رات کا وقت اور گاؤں کا ماحول تھا تو کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ صورِ اسرافیل کی طرح گونجی تھی اس لیے آس پاس کے لوگوں کو اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ کہاں فائرنگ ہوئی ہے اس لیے چند منٹ انہیں لگے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں اس کے بعد وہ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔نادر نے انہیں مختصراً حالات بتائے کہ یہ دو ڈاکو تھے اور جمیل یعنی مجھے لوٹنے کی غرض سے آئے تھے جمیل اوپر والے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا مگر نادر کی آنکھ کھلنے پر اس نے ڈاکوؤں کو للکارا تو اسی وقت انہوں نے فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ میں نادر نے کلاشنکوف والے ڈاکو اپنے پستول سے مار گرایا جبکہ دوسرا ڈاکو نادر سے گتھم گتھا ہو گیا۔ اسی وقت شور سن کر جمیل بھی نیچے آیا اور نادر کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس ڈاکو نے پتہ نہیں کہاں سے استرا نکالا اور گھما دیا جس سے جمیل کو زخم آیا اور وہ گر گیا۔۔۔نادر نے ٹانگ مار کر ڈاکو کو پرے دھکیلا تو وہ اٹھ کر فوراً بھاگ نکلا۔۔۔چونکہ جمیل کو زخم بھی آیا تھا اور شمسہ کی بھی فکر تھی اس لیے ہم ڈاکو کا پیچھا نہیں کر پائے۔۔۔لوگ ہم سے اظہارِ افسوس کرنے لگے اور ایک نے تو واضح کہا کہ چونکہ جمیل باہر کے ملک سے آیا ہے تو لازمی ڈاکو اس کی کمائی لوٹنے آئے ہوں گے۔نادر نے کسی کو ڈاکٹر امتیاز کی طرف بھیج دیا حالات بتا کر کہ وہ آتے ہوئے ضروری سامان لے آئے۔۔۔اسی وقت باہر کہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی۔۔۔تو سب لوگ ایک دم چوکنا ہو گئے میں نے نادر کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ دبا کر اشارہ کیا میں کچھ کچھ سمجھ گیا۔ ابھی سب لوگ باہر نکل کر جائزہ لینے کی سوچ ہی رہے تھے کہ حنیف خان باہر سے اندر آیا اور کسانوں کی طرح پھولی ہوئی سانسوں میں بولا۔۔۔بھایا جی وہ باہر گلی میں بھی دو لاشیں پڑی ہیں۔سب لوگ باہر کی طرف بھاگے تو نادر نے مجھے آہستہ سے بتایا یہ سب طے شدہ ہے چونکہ ہمارے پاس تمہیں بتانے کا ٹائم نہیں تھا اور لاشیں غائب کرنے کا اس سے اچھا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سارا گاؤں جاگ چکا تھا کچھ ہی دیر میں امتیاز بھی اپنے بریف کیس کے ساتھ آ گیا۔۔۔گاؤں میں رہنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ گاؤں کے ڈاکٹر ہمیشہ اپنے پاس ایک اٹیچی نما بریف کیس رکھتے ہیں جس میں ایمرجنسی ضرورت کی اہم اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔امتیاز نے میرا زخم چیک کیا اور ٹانکے لگانے شروع کر دیے۔ میں نے نادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔نادر!!! بھائی اب اس مصیبت کا کیا کریں جو سامنے پڑی ہے یہ کہہ کر میں نے لاش کی طرف اشارہ کیا تو نادر چپ چاپ میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔۔۔پھر جیسے اس کے دماغ میں کوئی اچھوتا خیال آیا ہو وہ بولا کرنا کیا ہے جمیل بھائی میں ابھی وڈے چوہدری صاحب کو اطلاع کرواتا ہوں ان کا بہت اثر و رسوخ ہے وہ اس معاملے کو اچھی طرح سے دیکھ لیں گے۔ ************************ (71) میں چپ ہی رہا کیونکہ نادر سارے حالات جانتے ہوئے بھی یہ کر رہا تھا تو اس میں کوئی تو خاص بات ہو گی۔۔۔نادر نے کسی ذریعے حویلی اطلاع کرواتا دی تھی۔۔۔تبھی آدھے گھنٹے بعد باہر دو گاڑیاں رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔آواز سن کر نادر باہر نکل گیا چند لمحوں بعد نور سیال اور وڈے چوہدری کا خاص ٹٹو شاہنواز اور نادر پولیس کے لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔۔ان کو دیکھتے ہی میرا خون کھول اٹھا پر حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ میں فلحال وقت کی چال دیکھوں۔ نادر نے انہیں ساری کہانی بلا جھجک بتائی اور اس لاش کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیسے اس نے ایک ڈاکو کو مار گرایا۔۔۔پھر لوگوں سے باہر والی لاشوں کا سنا تو سارے سپاہی لوگوں کے ساتھ باہر نکل گئے جبکہ نور سیال اور انسپکٹر میرے پاس کھڑے رہے۔۔۔نور سیال نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر تم جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے بس اتنا یاد رکھنا کہ نادر چوہدری صاحب کا خاص آدمی ہے اس کو اس معاملے میں ذیادہ نہیں گھسیٹنا۔۔۔اب جاؤ باہر جا کر اپنی ضروری کاروائی کرو اور اس لاش اور ڈکیتوں کا اسلحہ کو بھی یہاں سے اٹھواؤ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔۔۔جمیل باؤ تم بے فکر رہو تم نادر کے بھائی ہو تو مطلب اپنے خاص آدمی ہو۔۔۔کوئی تم لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا یہ میرا یعنی نور سیال کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔پھر وہ نادر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔نادر کل اپنے بھائی کو ساتھ لیکر حویلی آ جانا بیٹھیں گے کچھ بات چیت کریں گے۔ ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔اگلے ایک گھنٹے میں پولیس کے لوگ ہمارے بیانات لینے کے بعد لاشوں کو اٹھا کر جا چکے تھے۔۔۔گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔تب حنیف خان اور نادر میرے سامنے بیٹھ گئے اور حنیف خان نے بتانا شروع کیا کہ کیسے اس نے لاشیں گھر کی پچھلی دیوار سے باہر گرائیں اور اٹھا کر گلی میں ڈال کر چند ہوائی فائر کر دیے اور اسی طرح لاشوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔۔۔اسی وقت اوپر سے کسی کے تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی تو نادر تیزی سے اٹھ کر باہر نکلا چند لمحوں بعد شمسہ کو لیے ہوئے اندر داخل ہوا۔ شمسہ کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا اور اس کے بھرپور اٹھان کے ممے اس کی سسکیوں کے سبب اوپر نیچے ہو رہے تھے شمسہ کمرے میں داخل ہوتے ہی تیر کی طرح میری طرف آئی جبکہ حنیف خان منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔نادر نے فوراً الماری سے چادر نکال کر شمسہ کو دی شمسہ نے چادر سے اپنا آپ کور کیا اور میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی میں نے اور نادر نے ملکر اسے تسلی دی اور بتایا کہ وہ لوگ ڈاکو تھے ہمیں لوٹنے آئے تھے مگر خود لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔۔۔اب سب ٹھیک ہے پولیس آ کر جا چکی ہے۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری باتیں سن کر شمسہ کی ڈھارس بندھی مگر میرے کاندھے پر بندھی ہوئی پٹی دیکھ کر اسے تشویش ہوئی تو میں نے فوراً اسے تسلی دی کہ صرف تھوڑی سی چوٹ لگی ہے باقی سب ٹھیک ہے۔۔۔مجھے تجسس تو تھا کہ حنیف خان سے سارے حالات جان لوں کہ وہ کیسے یہاں پہنچ گیا لیکن شمسہ بری طرح سے سہمی ہوئی تھی اس لیے میں حنیف خان کو کہ صبح ملاقات کا کہہ کے شمسہ کو لیکر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔۔۔پھر کافی دیر تک شمسہ کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار وہ سو ہی گئی۔۔۔میں نے رات کا بقیہ حصہ سوتے جاگتے نکال دیا۔ ************************* (72) اگلے دن صبح نادر نے ناشتے کے بعد ساری بات بتائی کہ کیوں اس نے اس معاملے میں سیالوں کی مدد لی ہے۔۔۔پہلی بات تو یہ کہ ہم اس وقت فلحال اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اکیلے اس مسئلے سے نجات حاصل کر سکتے۔۔۔اس لیے وڈے چوہدری کا پولیس میں اثر ورسوخ کام آیا اور ہم باآسانی اسے مسئلے سے نکل آئے۔ دوسری بات کمالے میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اسی بہانے تھوڑا سیالوں کے نزدیک ہو جائیں اور ان کے اندر رہ کر سرنگ لگاتے ہوئے اپنا کام کریں۔۔۔ہم دونوں نہیں جانتے کہ سیال فیملی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ان سے کیسے نبٹنا ہے۔۔۔تو اپنا کام آسان کرنے کیلئے ہمیں ان کے اندر گھس کر ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہیں سے ابتدا کرنی ہو گی اگر صرف سیالوں کو مار ڈالنا ہو تو وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں آج ہی کرائے کے بندوں کا انتظام کرتے ہیں اور دو چار دن میں ان پر متواتر حملے کرنے شروع کر دیتے ہیں آخر کب تک جئیں گے مر ہی جائیں گے لیکن میرے بھائی کیا اس سے ہمارا بدلہ پورا ہو جائے گا نہیں کمالے نہیں۔۔۔ہم سیالوں کے اندر گھس کر انہیں ایسے نقصان پہنچائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی کسی سے پنگا لیتے وقت دس ہزار بار سوچیں۔۔۔اسی لیے تم سے بنا پوچھے میں اس معاملے میں سیالوں کو لے آیا۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا!!! نادر یار وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن ایک چیز مجھے تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے کہ یہ رات کو کنجر کے پتر ڈاکو کہاں سے آ گئے اور مانا کہ چلو آ ہی گئے تو وہ رقم لوٹنے کے بعد ہمیں مارنا کیوں چاہتے تھے اور عین وقت پر حنیف خان کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔نادر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا کہ یار توں ٹھنڈ رکھ سارے حالات میں جان گیا واں تے تینوں سب کچھ دس دیواں گا فلحال فٹافٹ نکل اور وڈی حویلی چل میرے نال۔۔۔میں نے کندھے اچکائے اور کپڑے بدل کر اس کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہو گیا۔۔۔میرے کاندھے کی سوجن اب رات کی نسبت کافی کم تھی۔۔۔ڈاکٹر امتیاز کی دی ہوئی دوائیں اور انجکشن اپنا اثر دکھا رہے تھے۔ شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر میں اور نادر باہر نکلے اور لوگوں سے ملتے ملاتے سیدھا وڈی حویلی پہنچ گئے۔۔۔حویلی میں داخل ہوتے وقت میرے دل میں کھد بد ہو رہی تھی پر میں سمجھتا تھا کہ مجھے اب ہوش سے کام لینا ہو گا۔۔۔حویلی کے مہمان خانے میں ہمیں بٹھایا گیا اور نادر اٹھ کر باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد نادر اندر داخل ہوا اور مجھے مخاطب کیا! چلو جمیل بھائی چوہدری صاحب ہمارے منتظر ہیں۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ نادر مجھے جمیل کہہ کر کیوں بلا رہا ہے وجہ صرف یہی تھی کہ ہم دشمنوں کی کچھار میں موجود تھے۔۔۔ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر جا پہنچے۔۔۔نادر نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔میں بھی اس کی پیروی میں اندر داخل ہو گیا۔ یہ ایک شاندار کمرہ تھا اعلیٰ بیش قیمت فرنیچر کے ساتھ مزین۔۔۔بہترین صوفے، سامنے موجود ٹی وی اور وی سی آر دیکھ کر دماغ میں ایک مشعل سی جل اٹھی اور مجھے چھیمو کی داستان یاد آ گئی۔۔۔یہی وہ کمرہ تھا جہاں چوہدری نے چھیمو اور راجی کی پھدی ماری تھی۔۔۔میں دل ہی دل میں بولا۔۔۔چوہدری کب تک آخر میرے ہاتھ سے بچے گا۔۔۔ایک دن تو آئے گا ناں جب تو میرے سامنے زمین پر پڑا کتوں کی طرح گھگھیا رہا ہو گا۔ کمرے میں دونوں بھائی ظفر سیال اور مظفر سیال موجود تھے جبکہ نور سیال بھی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ان کے سامنے میز پر شراب اور دیگر لوازمات موجود تھے۔ دعا سلام کے بعد نادر نے میرا تعارف کروایا اور کل کے سارے واقعات دوبارہ چوہدری کے سامنے دہرانے شروع کر دیے۔۔۔سارے واقعات سننے کے بعد چوہدری نے ہممم کیا اور اپنی مادری زبان (گالی گلوچ کرنے) کے انداز میں بولا۔۔۔ان ڈاکوؤں کی بہن کو لن یہ ہمارے گاؤں میں کہاں سے آ گئے کتی کے پتر۔۔۔تبھی نور سیال بولا! پاپا آپ بے فکر رہیں میں نے پولیس کو بول دیا ہے وہ تفتیش کر رہی ہے۔۔۔جلد ہی نتائج سامنے آ جائیں گے۔۔۔چوہدری دھاڑتے ہوئے بولا ویسے ہی جیسے کراچی سے نتائج آ رہے ہیں۔۔پھر میری موجودگی کا خیال کرتے ہوئے چوہدری چند لمحے خاموش رہا پھر مجھ سے بولا۔۔جمیل تم نادر کے بھائی ہو اور نادر میرا خاص آدمی ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے پاس کام کرو۔ ************************ (73) اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ تم ہمارے آدمی ہو پھر کوئی تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو اچانک جیسے اس کے بھائی ظفر سیال کو کچھ یاد آیا تو وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا جمیل کیا تم ڈرائیونگ کرنا جانتے ہو تو اس سے پہلے کہ میں بولتا نادر نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب جمیل بھائی سعودیہ میں کمپنی کی گاڑیاں ہی تو چلاتے تھے۔۔۔تو بس ٹھیک ہے پھر طے ہوا کہ آج سے تم میری بیٹی شبینہ کے محافظ ہو گے بظاہر تم اس کیلئے گاڑی چلاؤ گے۔۔۔لیکن اصل میں تم اس کی حفاظت کرو گے۔۔۔دراصل اس نے اندر باہر آنا جانا ہوتا ہے تو اس کیلئے ایک محافظ کم ڈرائیور کی ضرورت ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔راستے میں نادر مجھے موڑ کر ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے پر حنیف خان سے ملاقات ہوئی تو حنیف نے دعا سلام کے بعد ہمیں بیٹھنے کی جگہ دی۔۔۔میں نے پوچھا ہاں بھئی حنیف خان کیسے ہو۔؟تو وہ نظریں جھکائے بولا!!! میں ٹھیک ہوں سر لیکن میں کل رات والے واقعے پر بہت شرمندہ ہوں اس سب میں میری اپنی غفلت ہے جو میں وقت پر آگاہ نہیں ہو سکا تو میں حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔میں سمجھا نہیں تو کس غفلت کی بات کر رہے ہو۔۔۔بھائی میں تو تمہارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں اور تم ہو کہ مجھے عجیب ہی کہانی سنا رہے ہو۔ حنیف نے الجھن زدہ نظر سے نادر کی طرف دیکھا تو نادر نے کہا نہیں حنیف ابھی تک اس کو کسی بات کی خبر نہیں۔۔۔میں سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے اکتاہٹ سے بولا ارے یار کیا پہلیاں بجھا رہے ہو صاف اور سیدھی بات کرو ناں کہ مسئلہ کیا ہے تو نادر نے کہا حنیف تم خود ہی بتاؤ۔۔۔حنیف ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولنا شروع ہوا۔۔۔سر رات کو جو ڈاکو آپ کے گھر آئے تھے وہ دراصل کراچی سے ہی آپ لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔۔۔بے شک ان کا مقصد آپ کو لوٹنا ہی تھا۔۔۔مگر وہ کوئی نئے بندے نہیں اپنے ہی بھیدی تھے۔ میں خاموشی سے نظریں سکوڑے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔کل شام آپ لوگوں کے جانے کے بعد سردار علی تھوڑی دیر کیلئے غائب ہو گیا۔۔۔میں سمجھا یہیں کہیں ہو گا آ جائے گا۔۔۔کیونکہ پہلے بھی دو چار دفعہ وہ چہل قدمی کا کہہ کر آگے پیچھے نکل جاتا تھا۔۔۔اس لیے میں نے ذیادہ تردد نہیں کیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ لوٹا تو کچھ بے چین سا لگ رہا تھا میرے پوچھنے پر اس نے ٹال دیا۔۔۔پھر ہم لوگ سونے کیلئے چارپائیوں پر لیٹ گئے۔۔۔تھوڑی دیر بعد سردار علی چپکے سے اٹھا اور دبے پاؤں اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں چونکہ ابھی سویا نہیں تھا لیکن اس کی یہ حرکت مشکوک سی لگی اس لیے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔ دو منٹ بعد ہی وہ کمرے سے برآمد ہوا تو مجھے اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور نظر آیا۔۔۔اس نے میرے پاس آ کر ریوالور کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔اس کی آنکھوں میں ایک اجنبیت بھری چمک تھی میں نے فوراً حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا اور لیٹے ہی لیٹے اپنی داہنی ٹانگ اٹھا کر زور سے ریوالور والے ہاتھ پر ماری تو ریوالور اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں دوسری طرف جا گرا اور میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا۔۔۔چند منٹ کی مشقت کے بعد میں نے اس پر قابو پا لیا اور اس کو باندھنے کے بعد تفتیش شروع کی۔۔۔پہلے پہل تو وہ اڑی کرتا رہا پھر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں کٹوانے اور تھوبڑا سجھوانے کے بعد وہ بول پڑا۔۔۔کل آپ پر حملہ اسی خبیث نے کروایا تھا۔۔۔حالانکہ کراچی میں اسے اس کا حصہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی نظر ان روپوں پر تھی جو آپ کراچی سے لائے تھے۔ظاہری سی بات ہے کہ اس بارے انہیں سردار علی نے ہی بتایا تھا۔
  3. part 23 ab main medam cat nay aik teabal pay beth kar computer say kuch cheek kar rahi thi main nay zara close up kiya aur saath saath main bahi dekhnay laga ab us nay apni meail open kein aur phir un ko parhnay lagi main bhi saath saath ab parhta ja raha tha wa kisi aur hi zaban main thein lekan yeh meri star mashein ka kamal tha mujhy sab urdu ya english main hi sunaii bhi deta aur dikhaii bhi phir aik msg main apny watan kay baaray main parh kay chonk sa giya us main humary mulik main dehsaht gardi ka aik mansooba tha jo usay mosaad kay mean head kawater say aaya tha main ab israili mansooba parhny laga aur jon jon main parhta ja raha tha mery rongthay khary ho gaay ab mera jism ghusay say kanp raha tha haram zadon nay aany waly dinon main aik din main koii das jaga aik hi waqat akathy dimakhay karny ka palan banaya howa tha ab sath main wa sari detail thi yeh sab kis nay karna hai aur wa kahan kahan rahein gay sab kuch hi tha mainnay ab apni mashein say aik batan dabaya aur pahlay to koi aik chalees sekand tak shor sa raha phir leeza ki aawaaz aaii yes baas main aap ko sun rahi haon aur deekh bhi rahi haon hukam main nay usay sari detail bata di wa boli baas aap aisa kiya karein jo khas kaam ki chees ho usay ap jab rekard ker rahy haon to sath main copy wala batan bhi daba diya klarein phir yahan mery pas khud ba khud copy ho jaya kary gai main nay usay bataya kay medam cat ki sainsii tarqai kay baaray main wa ab khush ho kar boli ap ais akarein main aap ko bata deti haoin wa batan daba deina ur phir us nay mujhy aik saath koi teen batan dabany ko kaha agay peechy ab wo boli lo baas ab aap nay aik kemra paka us kay sath laga dena hai aur baqi aik aik yahan ki her amarat main kisi tarah beejh dein main ab khus hi sab dekh lon gai main ab poray do din bas ap kay saath haon sab kaam chor kay ab mainnay kaal band ki aur medam cat ko dekhnay laga wa ab mery baaray main malomaat hasal kar rahi thi us nay apny mulak kay khilaii siyaray say rabta kar rakha tha aur mery baaray main jan,nay ki koshish kar rahi thi lekan wa bees mint tak kuch na jaan paaii kyun kay mery baaray main koii rekard nahi tha kisi kay paas phir us nay halky say burbhara kay kaha heerat hai yeh asmi aaj tak kahan tha kuch pata hi nahi chal raha phir wa thak haar kay uthi aur us nay apnay samny wali dewar ki jar main paon mar kay usay open kiya aur ander dakhil ho gai mainnay donon kemray us kay peechy hi lagay rakhay ab wa aik bhat baray haal main dakhil hoii aur wahan pay her taraf mashein lagi thein wa mujhy koi lebartary lag rahi thi ab us nay wahan pay aik tarf bhat bari sakreen ki tarf gaii aur us nay wahans ay aik batan dabaya ab wa sakreen jo pori dewar kay jitni thi open hoii aur us pay aik borahy admi ki shakal nazar aayii wo sar say ganja tha us nay kaha haan meri beti kiya baat hai ab ki baar medam cat nay kaha papa mujhy aiok admi ki malomaat chahaiye main us kay baaray main jan,na chahati haon phir us nay meri sari histrii ab tak jo us nay dekha wa bata di us ka father bola yeh to aik nayab admi lagtahai mujhy isay apna dost banaii rakhoo wa kahny lagi ji main nay koshish ki hai ab wa borha bola beta aisa karo usay yahan ki mean breen mashein main dalo aur apna ghualam bana lo aisi bara kiya baat hai phir wa boli lekan papa wa mashein to kuch kharab thi na ab ki baar us kay father nay kaha ab wo theek ho gaii hai yahan pay reboot din raat kaam kertyhain aur main nay un ki memoori ko aisay seat kar diya hai ab koi masla nahi ho ga kabhi bhi ab meadm cat kafi khush thi us nay ab kaha theek hai papa main aisa hi karti haon ab us kay papa nay usay kuch keys bataein us brean mashein ki aur wa ab wahan say baahir aa gai main nay aik kemra waha hi chor diya tha aur aik us kay sath hi rakha wa ab jaisay hi wash room ki tarf aayi mainnay mashein ko auto pay kiya aur ghari ka batan daba kay usay ghaib kiya ab main aankhein band kar kay leat giya medam nay aaty hi kaha uf zalim tumhary jism main itha zeher hai main to behosh ho gai thi wash room ja kar phir mujhy khamosh dekh kar boli aabiiiiii aabiiiiiiiiii mainnay koi jawab na diya ab wo samjh gai main madhosh ho kar so raha haon ab wo mery sath hi aa kar leat gaii ab mujhy waqaii main nend aa rahi thi aur main ab masti main so raha tha phir koii paanch ghanty baad us nay mujhy uthaya aur kaha janu uth jaoo khana nahi khana kiya ab main nay munh haath dhoya us kay saath aik aur room main dakhiol howa wahan pay tebal main khana laga tha mainnay bhuni hoii machlii ko pasand kiya aur khanay laga wa bari mazay daar buni ho thi main nay kafi kha li ab main us kay saath baahir aaya aur wahan pay ghomnay lagy wahan pay ab hum dono hi thy us us nay kaha jaan aaj mujhy wa maza diya tum nay main bata nahi sakti mujhy abhi tak chaker aa rahy hain yaar hum koii aik ghanta tak wahan pay chehl qadmi karty rahy ab hum aik tarf banay hoye swiming pol ki tarf aaye aur milker dono nay wahan kafi deer tak swiming ki ab wa baahir a agai aur boli tum na qabl shakast insan ho main to thak gai haon main ab baahir aaya aur us ki tarf barha wa ik banch pay leeti thi ji ki donon tarf huks banay hoy thy jin main nay ab us ki tangein aik dam say aagy barh kay utha lein wa chikh uthi aur kaha kiya hai janu main nay us ki dono tangon ko daien baein phela kar us huk kay sath laga diya aur phir aik jhatky say us ki shart phaar di aur us ka aik paon band diya huk say ab main nay us ki peant utari aur dosri tarf baand diya paon ab wa is pozeshan main thi us ki donon taangein daein baein hony ki waja say us ki gaand kuch oper uth gai thi banch say aur usay ab main nay apna libas utara aur apy lan ko aik hi jhatkay say medam cat ki chot main dal diya wa aik dam say tarpi aur zizk uthii aaoiiii siiiiiii aabiii uffffffffffffff kitany zalimana andaz say lan dalty hao zalim main nay ab khara ho kar hi usay chodna sharuu kar diya mery her dhaky say us ki tangonmain aur khanchao peeda hota aur wao dard say chiala uthtii aaaaaaah oooooooooooh ufffffffffffffffff aabiiiiiiiiiiiii main nay ab us kay donon mammy apny hathon main liye aur dabany laga ab main us pay kuch jhuk sa aaya tha yun mera lan ab jar tak us ki chot kay aander baahir ho raha tha aur wa mazay say tarp rahi thi aaoiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii dear bohat maza milta hai tumhara lun ander lay kar ab main nay apna lun bahir nikala aur aik hi jhatky say ander kiya waab zor say chila uthii uffffffffff aaaaaaaaaaaaah aram say jaan main nay ab baar baar apna lan bahir nikalata aur aik hi jhatkay say us ki chot main dal deta wa aik dam say sans rook leeti aur jab main lun baahir nikalta wa zor say hanp si jati main ab kafi shidat say usay chod raha tha sath main ab main nay uski niplz ko bhi apni ungliyon main maslnay laga tha wa aur bhi ziyada mazay say be taab ho rahi thi main nay jab usay isi tarah say koi bees mint tak choda wa jhar gai aur boli aabii kuch deer ruk jao janu main bina rukay hi zor zor say dhaky marnay laga ab kuch deer wa apny hont bhanchy leeti rahi phir us ki aahein zor pakarnay lagein phir wa waqat bhi aaya wa zor zor say dard say chila rahi thi mery lan nay ab us ki chot kay dany ko baar baar ragr kar jaisay zakhmi sa kar diya tha wa ab dard ki shidat say tarp rahi thi aur main to mazay say pagal ho giya tha main aur zor say dhaky marny laga aabii please yaar aram say karo ab aaaaaah ufffffffffffffffff sissssssssssss aabii main mar gai hihayyyyyyyyyyyyyy hayyyyyyyyyyyyyy ufffff main nay ab ki baar apny haath say us ki gaand ko kuch aur oper kiya aur us ki tangein to jaisay cheernay wali ho gaein wa aik teez awaz say chiekh uthii aabiiiiii meri tangein phat jaein gaein uffffffffffff ab main nay apny lan ko zor say ander kiya aur apny kolhay ghumanay laga main mar gaii aabiii hihaaaaaaaaaaaaaaaay ufffffffffffffffffffffff aabiiiiiiiiiii jaaanu sakon say karo marna hai mujhy ufffffffffffffffffffffffff hihayyyyyyyyyyyyyyyyyy ohhhhhhhhhhhh mmmmmmmmm main nay ab us ky oper jhuk kar us kya mamy apny munh main bhar liye aur un ko chosnay lag wa mery wazan ko apny oper pa kar to jaisay marnay wali ho gai thi aaah main mar gaiiiiiiiiiiiiiiiiiii aabiiiiiiiiiiiiii meri nikal rahi hai dard say uth jao oper ab main nay apna lan baahir nikala aur medam cat ki gand main dakhil kar diya wa ab zor zor say dikrany lagi dard say aabiiiiii kay bachy main mat gaiiiiiiiii ufffffffffffffff bahir nikalo isay yahan say aabiiiiiiiiiiiiiiiiiiii please nikalo yahan say main nahi bardasht kar pa rahi main nay us ki kisi baat ki taraf dhiyaan na kiya aur usay mazay say chodnay main laga raha wa tarpti rahi sssssssssssss aabii ab bas karo yaar chot main dal lo yaha na karo main nahi seh pa rahi main nay ab dobara say us ki gand ko hath say oper uthaya aur wa mery lan kay samny aa gai main ab sara lun baahir nikal kay ander karny laga medam cat mazay say ab ki baar to chila kay boli uffffffffffff kiya cheez hao tum bhi aabiiiiiiiiiiiiiiiiii kabhi itna maza aur kabhi itnaa dard main nay ab us gand main lan ko dal kar aik hi zafhkay say us ki dono tangein jo bandhi hoii thein ko khola aur wa beechy banch pay giri mera lan us ki gaand main tha wa to ab ki baar dard say yunh tarpi jaisay main nay kisi khanjer say us ki chot ko cheer diya hai us ki tangein ab hil tak nahi rahi thein khon jam jany ki waja sy main nay ab mazeeed kuch dhaky maary wa aik dam say tarpi aur kanp kar us nay apni chot say pana baha diya abmain nay bhi lun us ki gaabd main say nikala aur chot main dla aur zor zor say dhaky marny laga koi panch mint baad main bhi ab medam ki chot mnain hi jhar giya aur aik lambii sans chori us nay mujhy piyar say dekh aur kaha bara maza aata hai tum ko larki pay yun zulm kar kay phir wo thori deer wahan hi leeti rahi aur baad main hum wahans ay apni rahaish ki tarf aa gay hum dono hi nangy thy hum nay apny apny kaprey haath main pakr rakhy thy uski to shart mainnay phaar di thi wo usay wahein pheenk aayii thi main nay usay ab jaisay hi kamrey main dakhil hoii usy aik zor say dhaka diya bed pay aur dobara say us ki gaand main apna lun ghusa diya wo boli aabiiiiiiii kuch deer thehr jao yaar main nay kaha nahi aisay hi theek hai ab main nay usay dobara say chodna jari kar diya aur wo mazay say siskariyan bharny lagi ab main nay ab usay us din main koi panch dafa waqfay waqfay say choda sham tak wo buray haal main thi mera bhi thakawat say jaisay jism toot raha tha hum dono hi ab be sudh ho kar so gay thy meri aankh ab khuli to din kay aath baj rahy thy aur wo mery saath nahi thi main nay main jaldi say utha wash room main giya wo wahan bhi nahi thi main nay ab apni star mashien ko open kiya aur dekha wo abdooz ki tarf ja rahi thi ab main nay jaldi say char titli kemray us ki tarf beejy wo teezi say parwz kerty hoye us ki tarf jany lagy aur phir wo abdooz ka darwaza band kar rahi thi aur sirf panch sekand main hi wo kemray us main dakhil ho gay mainnay ab aik lamba sans liya ager yeh panch sekand guzer jaty kemray ander na ja paty main nay ab usay dekhnay laga phir main utha wash room giya aur naha kay baahir aaya baahir kichan main ja kar taza faroot kafi sary liye aur aa giya kamray main ab wo abdoz say neechy uter rahi thi bleak cat waly head qawater main mery kemray us kay saath saath thy ab wo apny dafte rmian aayi aur us nay wahan pay great master ko bulwaya aur us say wo sari baat diskis karny lagi mery watan main damakhon wali aur phir wo donon hi aik sath aik kamrey main aaye aur wahan say aik khufa darwaza khola aur ab wo mery wali rahaish gaah main aaye wahan pay unhon nay chaar log aaur bala liye aur aik meeting ki js main fainal kiya wo charon hi is aapreshan ki nagrani karein gay phir wo charon boly hum khud hi apni marzi kay loog chun leety hain medam aur wo charon baahir ki tarf jany lagu main nay un k saath do kemray kiye ab wo dono mukhtalif amarton main ja kar apni marzi kay larkoon ko samjhany lagy koi tees 30 logon ko unhon nay sab samjhaya aur kaha redy ho jao aaj raat ko jana hai mery kamrey nay un sab ki tasver bana li thi ab koi aik ghnaty baad wo sab dobara say aik haal main dakhil hoye aur wo dono mil kar un tees larkon ka meak up karny lagy un sab ki naii shaklein bhi ab humary samnay aa gaein thein main nay ab medam cat ko dekha wa apnay saath koii teen inthaaiii khobsorat larkiyan liye hoye yahan hi aa rhi thi main nay ab aikkemra great master kay sath kiya aur aik medam cat kay sath ab main apni mashein ko band karny say pahly lizza say kaha ab tum khud hi deekho sab wo boli sir main dekh rahi haon uf kitnay zalim hain aap sath hi us nay aik siskii li main samjh giya us nay chodaii ka sab kheel deekh liyahai mainnay kaha aty hi tumhary sath aik pori raat guzaron ga janu wo aik mazy ki aah barh kay boli main us raat ka intezar karon gai sir main ab usay samjh kay khud aram say dobara leat giya kyun kay mujhy aaj phir usay chodna tha aur ho sakta hai wo teen larkiyan bhi mery liye hi la rahi hao main yehi sochta howa so giya dobara say
  4. اس سے جواب نہیں بن پا رہا تھا۔ سوکھتے ہوئے گلے سے اس نے کہا۔ ’’ اماں وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ ‘‘ ’’ ابے وہ وہ کیا لگا رکھی ہے، بکتا کیوں نہیں ‘‘ وہ روہانسا ہو کر بولا۔ ’’ وہ اماں میری۔۔۔ میری چڑیا سے نکلتا ہے پانی۔‘‘ ماں قدرے حیران ہوئی۔ پہلے تو سمجھ نہ پائی۔ پھر سمجھ لگی تو مبہوت ہو کر لگی تکنے منھ اس کا۔ اک ذرا توقف کے بعد بولی۔ ’’ ہے، ہے۔۔ یہ کیا بات ہوئی؟ تیری چڑیا سے ایسا میٹھا پانی نکلے گا کیا ؟ ‘‘ پھر اچانک یہ یاد آنے پر کہ بے خبری میں وہ کیا بول گئی، ذرا گڑبڑائی، اور جلدی سے جملہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔ ’’مم ۔۔۔۔۔ میرا مطلب کہ ایسا مشک دار پانی نکلے گا کیا ؟‘‘ ’’اب مجھے کیا پتا اماں۔ بس نکلتا ہے، میں کیا کروں۔‘‘ اس کا لہجہ خجالت آمیز تھا۔ اس کی ماں کو ابھی بھی یقین نہ آتا تھا۔ بالآخر اس نے کہا۔ ’’ اچھا اچھا ٹھیک ہے جا ، جا کے اپنا کام کر۔ ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ وہ سو رہا تھا کہ ایک دم اسے کچھ احساس ہوا۔ کوئی اس کے بدن کو چھو رہا تھا۔ اور وہ بھی ٹانگوں کے ناف والے حصے کو۔ پھر اسے یہ بھی معلوم پڑ گیا کہ ناف والے حصے پر چھونے کا اصل مقصد ناڑا کھولنا تھا۔ کوئی ہاتھ ایک ذرا درمیانی رفتار سے اپنے کام میں مصروف تھا۔ اخیر کو ناڑے کا سِرا ہاتھ میں آگیا اور پھر اُس میں کھینچ پیدا ہونے لگی۔ اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اس کا ذہن ابھی تک یہی سوچنے میں کُھباہوا تھا کہ آخر یہ ہے کون، جو ایسی حرکت کر رہا ہے۔ گرہ میں سے کھنچتا ہوا آخر ناڑا کھل ہی گیا۔ جو بھی تھا اسے اِس کھینچا تانی کا مزا بہت آیا تھا اور چوں کہ چڑھتی جوانی تھی تو اسے یہ چھیڑ چھاڑ بری نہیں لگ رہی تھی، بل کہ جس جگہ یہ چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی تھی، اس سے ہی اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کے آلت کو چھیڑا جانے والا ہے۔ پھر ہوا بھی یہی۔ اُس ہاتھ نے جوں ناڑا کھولا، ہاتھ اندر گھسا ناف کے بالوں کو انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جا آلت پکڑا۔ اس کے بدن میں مستی سے جھرجھری سی پیدا ہوئی، ایک خفیف سے لرزش، جسے اس نے اپنے اندر ہی دبانے کی بھرپور کوشش کی، مگر اس تجربہ کار ہاتھ کو اس کا اندازہ ہو گیا۔ اس لیے وہ فٹا فٹ لنگی سے باہر نکل گیا۔ ہاتھ کے باہر نکل جانے پر اُسے خود پر غصہ آیا کہ وہ کیوں ہِلا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ آنے والا جس مقصد سے آیا ہے وہ اس پر واضح ہو جائے۔ پھر اسے مزا بھی خوب مل رہا تھا۔ اس نے خواہش کی کہ وہ ہاتھ پھر اسے پکڑے۔ اور یہ خواہش اُسی سمے پوری بھی ہو گئی۔ ہاتھ پھر سے شلوار میں گھسا اور اس کے آلت کو جا لیا۔ اب کے اُس ہاتھ کے ساتھ ساتھ اُسے خود بھی محسوس ہوا کہ خاصا لامبا ہو گیا ہے وہ۔ وہ ہاتھ اُسے دھیرے سے اپنی موٹھ میں لیے سہلانے لگا اور اُسے خوب مزا آنے لگا۔ یہ پہلی لذت تھی جو اس کو چڑھتی جوانی میں میسر آرہی تھی۔ نئی لذت میں وہ دیوانہ ہونے کے قریب تھا اور ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔ اُس ہاتھ کو بھی محسوس ہو چکا تھا کہ اس وقت وہ پوری مستی میں ہے، چناں چہ بے خوفی سے اپنا کام کیے جا رہا تھا۔ پھر اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے آلت کو بوسے دے رہا ہے کوئی۔ اُسے بوسےلینے کی دھیمی دھیمی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.