Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 05/03/23 in all areas

  1. ریحانہ بولی پھلے میں فریش ہو لوں علی بولا میں بھی فریش ہونا چاھتا ہوں کیوں نا مل کر ہی ہو لیں علی کی بات سن کر ریحانہ مسکرائی اور بعلی آ جاو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے علی نے جلدی سے کپڑے اتارے اور باتھ میں گھس گیا اندر کا ماحول کافی خوبصورت تھا ریحانہ کپڑے اتارے علی کا انتظار کر رہی تھی علی نے جاتے ساتھ اس کے ہونٹوں پر حملہ کر دیا اور ہاتھوں سے اس کے نرم نرم مموں کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ریحانہ بھی بھرپور ساتھ دےرہی تھی اس کا اس نے شاور کھول دیا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو خود سے ملا لیا اس کے 36 سائز کے ممے علی کی کشادہ چھاتی میں دبنے لگے پانی دو جسموں کی اگ کو مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کچھ دیر نہانے کے بعد دونوں ننگے ہی کسنگ کرتے باہر اے اور بیڈ پر لیٹ گیے علی نے دوبارہ پوزیشن سنبھالی اور اک ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ کر اس کی گرمی چیک کرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے مموں کو اور نرم کرنے لگا کچھ دیر بعد علی نے پوزیشن بدل کر 69 میں اا گیا ریحانہ کے سامنے جب علی کا لن ایا تو ریحانہ کو احساس ہوا اس نے غلط بندے کو چھیڑا ہے علی کا لن 9 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا ہے جو کسی بھی پھدی کو پھدا بنانے کے لیے کافی ہے علی کے ہونٹوں نے جیسے ہی ریحانہ کی پھدی کو چھوا تو ریحانہ کا پورا بدن کانپ گیا اور مزے کا عجیب سا نشہ محسوس ہوا ریحانہ نے علی کے لن پر زبان پھیرنا شروع کر دیا اور اس کے لن کو منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی کا لن پورا اس کے منہ میں نہیں جا رہا تھا علی نے چوس چوس کر اس کی پھدی سے پانی نکالا اور سارا پی گیا ریحانہ کی زندگی کا پہلا موقع تھا اج کسی نے اس کی پھدی کا پانی پیا تھا وہ زور زور سے لن چوسنے لگی لیکن علی فارغ نہیں ہوا اخر تھک کر بولی علی اب اور برداشت نہیں ہوتا میری پھدی کو پھاڑ دو علی نے یہ سن خر ریحانہ کو لٹا کر اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو اس کی پھدی پر رگڈنے لگا اس سے ریحانہ کی رہی سہی کسر بھی نکال گیئ اور وہ تڑپنے لگی وہ بار بار گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کے لیے ترسنے لگی اخر علی کو اس پر رحم آ گیا علی نے اپنے موٹے لن کو اس کی پھدی کے لبوں پر رکھا اس کی پھدی کے لب کپکہا رہے تھے علی موقع ضائع کیے بغیر اک دھکا لگایا علی کا لن پھسلتا ہوا ٹوپی تک اس کی پھدی میں پھنس گیا ریحانہ کی انکھیں درد کی شدت سے پھیل گئیں علی نے بنا وقت گنوائے اک دھکا لگایا علی کا لن اس کی پھدی کو چیرتا ہوا ادھا اندر داخل ہو گیا اس وقت ریحانہ کے منہ سے چیخوں کا طوفان نکل ایا اور وہ علی کو روکنے کے لیے منتیں کرنے لگی اس کے انسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے اس کے لال گالوں کو بھگو رہے تھے علی نے کچھ لمحے رکنے کے بعد پھر سے حرکت دینا چاہی مگر ریحانہ نے اس کو ہلنے نا دیا علی نے اس کے مموں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا اور اس طرح اس کو نارمل کرنے لگا علی نے کچھ دیر میں محسوس کیا کے ریحانہ کافی حد تک نارمل ہے تو علی نے اسی انداز میں پیٹھ کو تھوڑا سا ہلایا اور لن کو ٹوپی تک باہر نکالا علی کو اپنے لن کو باہر اتے ساتھ ہی کچھ گرم گرم پانی بھی باہر اتا محسوس ہوا علی نے جب نیچے دیکھا تو خون دیکھ علی اور جوش میں آ گیا علی نے ادھے لن کے ساتھ ہی ریحانہ کو چودنا شروع کیا اور ٹوپی تک لا کر ادھا لن اک آہستہ سے جھٹکے سے اندر ڈال دیتا اسی طرح چودتے علی نے محسوس کیا ریحانہ کافی حد تک نارمل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی نے اپنا انداز وہی رکھا اس طرح کرنے کے کچھ منٹ میں ریحانہ کے جسم میں اچانک تھوڑی تیزی آ گئی اور علی کے گرد اس کے ہاتھوں کی پکڑ مضبوط ہونے لگی علی اسی وقت کا انتظار کر رہا تھا اچانک ریحانہ کے جسم نے اکڑنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی وہ فارغ ہونے لگی اس بات کو محسوس کرتے ہی علی نے لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اک زور دار جھٹکے میں پورا لن اس کی پھدی میں اتار دیا علی کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی کپڑا پھٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی علی کا پورا لن ریحانہ کی پھدی میں اتر گیا اور ریحانہ اک زوردار چیخ مار کر بےہوش ہو گئی علی نے اس کے منہ پر کافی تھپڑ مارے مگر وہ دنیا سے بیگانہ ہو گئی تھی مگر بےہوشی کی حالت میں بھی ریحانہ کی انکھوں سے انسو جاری تھے اور اس کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں علی رکا نہیں اور اپنے جھٹکے اس کی ہھدی کی گہرای میں لگاتا رہا کچھ دیر بعد ریحانہ کو ہوش انھ لگا مگر وہ درد اور مزے کی ملی جلی حالت میں کچھ بولنے سے خود کو روک رھی تھی پورے کمرے میں تھپا تھپ اور مدھر اہ اہ اہ اہ اوئی ماں مار ڈلا نیکالو پلیز جیسیا آوازوں سے گونج رہا تھا اسی سب میں ریحانہ اک بار اور فارغ ہو گیئ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.