Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 24/01/23 in all areas

  1. *`~`*اردو فن کلب فورم رولز*`~`* اردو فن کلب میں ایک وقت میں ایک سے زیادہ آئی ڈیز بنانے کی قطعی اجازت نہیں۔ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہونے پر تمام اکاؤنٹ کو بین کر دیا جائے گا۔ اور نئے اکاؤنٹ پر فیس چارج کی جائے گی۔اگر اپنے یوزر نیم میں تبدیلی چاہتے ہیں یا پاسورڈ بھول گئے ہیں۔تو نیو اکاؤنٹ بنانا اس کا حل نہیں۔آپ کسی بھی وقت نیچے دیئے گئے ای میل پر ایڈمن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ admin@urdufunclub.org فورم میں آنے والے تمام نئے ممبرز کو خوش آمدید کہتے ہوئے، ان کی توجہ فورم سےمتعلقہ چند چیدہ چیدہ اہم نقاط کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اگرچہ جو بھی ممبر فورم میں رجسٹر ہوتا ہے، اس نے فورم کی تمام شرائط کوپہلے ہی تسلیم کیا ہوتا ہے۔ ان کی یاد دہانی کے لیے میں فورم رولز کو یہاں پھر سے لکھ رہا ہوں۔ ٭ چونکہ یہ ایک بنیادی طور پر اردو فورم ہے، اس لیے یہاں صرف اردو میں کی گئی پوسٹ ہی اپروول ہو گی ۔کسی بھی کہانی یا کمنٹ کا اردو میں ہونا لازمی ہے ۔رومن یا انگلش میں کیا جانے والا کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم میں ہمیشہ نئی اور میعاری پوسٹنگ کو ہی اپروو کیا جائے گا۔ غیر میعاری اورفورم میں پہلے سے موجود مواد /تھریڈ کوپوسٹ کرنا منع ہے۔ایسے تمام تھریڈ کو فوری کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے گا۔ ٭ اس فورم میں اسلام/مذہب اور سیاست پرکسی بھی طریقے سے بات نہیں ہو سکتی۔ ایسا کرنے والے ممبر کو بھی لائف ٹائم کے لیئے بین کر دیا جائے گا۔ ٭فورم میں کسی بھی کہانی میں مخصوص مقدس نام کوکسی کردار سے منسلک کرنا منع ہے۔ایسا کرنے والے ممبر کی کہانی اور آئی ڈی دونوں کو فورم سے ہٹا دیا جائے گا۔تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی کہانی یا کمنٹ کو اگر فورم میں دیکھا جائے تو اسے فوری رپورٹ کیا جائے تاکہ فورم انتظامیہ اسے فورم سے ہٹا سکے۔ ٭فورم میں کسی ایسی پوسٹ کی ہرگز اجازت نہیں جس سے کسی بھی قسم کے اختلاف کا پہلو نکلتا ہو یا وہ کسی مخصوص فرقے کے عقائد یا نشر و نشاعت پر مبنی ہوفرقہ ورانہ تھیرڈز یا مواد سے پرہیز کریں۔ تمام کمنٹس ممبرز کی ذاتی رائے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔فورم ایسے کسی معاملات کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ٭ اس فورم میں (INCEST) سیکس (ماں ،بیٹا،بہن بھائی وغیرہ) کی قطعی اجازت نہیں ،الہذا ایسے کسی ٹاپک پر مشتمل تھریڈ کو پوسٹ مت کیا جائے،بصورت دیگر اس تھریڈ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم میں کسی دوسری سائیٹ /فورم / بلاگ / گروپ /موبائل نمبر / ای میل کی تشہیر ممنوع ہے۔چاہے وہ کسی تھریڈ میں ہو، رپلائی پوسٹ میں ہو یا ممبر کے اپنے سائن میں ہو۔ یا پرائیویٹ میسج میں ہو۔ ایسا کرنے والے ممبر کو بغیر کسی وارننگ کےفوری طور پر لائف ٹائم بین کر دیا جائے گا۔کسی ممبر کو پرسنل میسیج / پرائیویٹ میسج کے ذریعے کسی دوسرے سائٹ یا گروپ کی طرف راغب کرنا بھی فوری لائف ٹائم بین کا باعث بنے گا۔ اگر کسی ممبر کو ذاتی میسج میں کسی دوسری سائیٹ کی طرف راغب کیا جائے تو اس ممبر پر لازم ہے کہ وہ فوری فورم انتظامیہ کو اس ممبر کی نشان دہی کرے بصورت دیگر اسے بھی اسپیمنگ میں شامل سمجھا جائے گا۔ اور اس کو بھی بین کیا جا سکتا ہے پریمیم ممبران کو پرائیویٹ میسج کی سہولت حاصل ہے۔ مگر اس کا استعمال ذاتی گپ شپ کے لیئے کیا جا سکتا ہے۔مگر پرائیویٹ میسج میں بھی ذاتی موبائل نمبر اور ای میل یا کسی دوسری سائیٹ اور گروپ کی تشہیر کرنا منع ہے ۔ ایسا کرنے والے ممبر کا پریمیم اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا۔ اور کسی قسم کا ری فنڈ نہیں کیا جائے گا۔ ٭ اگر کسی تصویر یا دوسرے مواد پر کسی دوسرے فورم کا لوگو نمایاں ہو گا۔یا کسی پی ڈی ایف فائل میں دوسری سائیٹ کا واٹر مارک موجود ہو گا۔اس تصویر یا فائل کو بھی اس فورم میں پوسٹ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ ان لوگو / واٹر مارک کو ریموو کر کے پھر پوسٹ کر سکتے ہیں۔اگر ہو سکے تو فائل پر فورم کا واٹر مارک اور اپنا یوزر آئی ڈی بھی ضرور ایڈ کریں۔تاکہ آپ کی پوسٹ کو چوری نہ کیا جا سکے۔ ٭ فورم کےتمام سیکشن میں کوئی بھی نئی تھریڈ / رپلائی موڈریٹ کیے جاتے ہیں۔اور وہ اس وقت تک ممبر کو آن لائن نظر نہیں آتے۔ جب تک متعلقہ سیکشن موڈیریٹر، اسے اپروو نہیں کر دیتا۔جس کی وجہ سے کچھ دیر کی تاخیرکے بعد ہی نیو تھریڈ یا پوسٹ فورم میں نظر آتی ہے۔اگر نیو تھریڈ یا پوسٹ فورم کی پالیسی / رولز کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی، تو وہ لازمی اپروو ہو جائے گی۔ اور جو فورم کے رولز کے مطابق نہیں ہو گی،اسے فورم سے ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم انتظامیہ اس بات کی پابند نہیں ہے۔ کہ ہر ایک ممبر کو اسکی ہر ایک منسوخ شدہ تھریڈ کی وجہ بھی بتلائے۔ ہاں اگر کسی کو یہ شک ہو۔ کہ اس کی میعاری ،فورم کے اصولوں پربنائی گئی تھریڈ بھی فورم میں اپروو نہیں ہوئی ہے، تو وہ اپنی تھریڈ کا نام، اور سیکشن کا نام، جہاں تھریڈ پوسٹ کی گئی تھی، لکھ کر مجھے ای میل کے ذریعے مطلع کر سکتا ہے۔مگر ایسا تھریڈ پوسٹ ہونے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، پہلے نہیں۔اس پر نظر ثانی کر کے ممبر کو ریپلائی کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم کے دوستوں سے یہ بھی درخواست ہے، کہ وہ کسی بھی تھریڈ میں رپلائی پوسٹ کرتے وقت اس بات کا خاص دھیان رکھیں، کہ ان کا رپلائی صرف اور صرف تھریڈ سے متعلقہ ہی ہو۔کسی ممبر کی تھریڈ کو اپنی ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اور نہ ہی اسے گپ شپ کے لیے استعمال کریں۔ ایسی تمام پوسٹ کو آئیندہ سے فورم سے ڈیلیٹ کریا جائے گا۔ اور کوئی عذر نہیں سنا جائے گا۔ ٭ فورم میں قسط وار کہانیاں لکھنے والوں سے عرض ہے۔ کہ وہ اپنی کہانی کی اگلی قسط ایک ہفتے کے اندر اندر ضرور پوسٹ کردیں ۔ بصورت دیگر، ایسی پوسٹ /تھریڈ کو اس وقت تک کے لیے ان کمپلیٹ کے سیکشن میں بھیج دیا جائے گا۔جب تک اگلی قسط پوسٹ نہیں ہو گی۔ ٭ کوئی بھی ممبر کسی دوسرے ممبر سے کسی بھی وجہ سےگالی گلوچ نہیں کرے گا، اور نہ ہی ایسی گھٹیا زبان استعمال کرے گا۔ جو متعلقہ ممبر کی دل آزاری کا سبب بنتی ہو ۔ ایسا کرنے والے ممبر کوبھی کسی وارننگ کے بغیر فوری طور پر فورم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بین کر دیا جائے گا۔ ٭فورم میں کسی قسم کی ذاتی معلومات اور ای میل / موبائل نمبر ۔ فیس بک یا سوشل میڈیا کے لنکس اور کسی بھی قسم کے گروپس کو شیئر کرنا یا کسی بھی سے کوئی لنک یا کنٹکٹ انفارمیشن طلب کرنا سختی سے منع ہے۔فورم کا سٹاف آپ کو ہدایات کرتا ہے کہ براہ کرم اپنی کسی قسم کی ذاتی معلومات جیسے کہ اپنا پتا/ ای میل یا فون نمبر کسی بھی ممبر سے شیئر مت کریں۔ جس سے تمام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ان معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن طور پر احتیاط کریں۔ اگر کوئی ممبر آپ پر ذاتی معلومات کے لیے دباؤ ڈالے۔ تو فورا کو-ایڈمنسٹریٹر یا پھر مجھ سے رابطہ کریں۔ ٭ فورم کے سٹاف (کو-ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹرز) کو کسی پیغام میں ردوبدل اور اسے ڈیلیٹ کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔ اور اس بارے میں وہ کسی کو جوابدہ نہیں سوائے ایڈمنسٹریٹر کے۔ اگر آپ محسوس کریں کہ کسی موڈریٹر نے آپ سے زیادتی کی ہے تو آپ مجھے اس سے آگاہ کریں۔آپ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ہو سکتا ہے۔ابھی آپ کو یہ اصول بہت سخت محسوس ہوں۔مگر ان کی پاسداری ضروری ہے۔اور ان کا خوشگوار اثر آپ کو بہت جلد محسوس ہو گا۔اور اس فورم میں آپ خود کو بہت محفوظ محسوس کریں گے۔ مزید مدد یا معلومات کے لیے مجھ سے رابطہ کیجیے۔ شکریہ
  2. 1 like
    #محبت از :دلآویزراجپوت مکمل کہانی رات کے 2 بجے کا وقت تھا میرے شوہر میرے برابر میں گہری نیند سو رہے تھے اور ساتھ ہی ہمارا پانچ سالہ بیٹا بھی باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی آج موسم بہت خراب تھا طوفانی بارش ہو رہی تھی میرے شوہر اور بیٹا دونوں گہری نیند میں تھے رات کا خاصا پہر گزر چکا تھا مگر نیند میری آنکھوں سے کو سوں دور تھی اس کی وجہ یہ طوفانی بارش نہیں بلکہ وہ طوفان تھا جو آج سے تقریبا 6 سال پہلے میری زندگی میں آ یا تھا میں لیٹے لیٹے اس جگہ جا پہنچی جہاں سے وقت سالوں پہلے گزر کر جا چکا تھا ۔یعنی کہ جب میں 22 سال کی ہوئی تھی میرا نام حبا ہے زندگی بہت حسین تھی غم کیا ہوتا نہیں جانتی تھی والد صاحب گورنمنٹ ٹیچر تھے ہم دو ہی بہنیں تھیں آپس میں بہت محبت تھی ہمیں زندگی اچھی گزر رہی تھی میری تو پڑھائی مکمل ہو چکی تھی فائزہ کالج جاتی تھی میں گھر کے کاموں میں امی کا ہاتھ بٹاتی ایک دن امی پڑوس گئی ہوئی تھیں دو بج رہے تھے فائزہ کے کالج سے آنے کا وقت ہو گیا تھا میں باورچی خانے میں کھانا بنانے میں مصروف تھی مجھے فکر ہو رہی تھی کیوں کہ آج فائزہ کالج سے لیٹ ہو گئی تھی اتنے میں دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک نہایت ہی خوش شکل نوجوان کھڑا تھا اس نے چشمہ اتارا اس کی آنکھیں کالی تھیں نہ جانے ان کالی آنکھوں میں ایسی کیا بات تھی جو یوں ایک ہی پل میں مجھے اس کی طرف کھنچ رہی تھی نہ جانے یہ کون سا جذبہ تھا جو پل بھر میں ہم دو اجنبیوں کو یوں لگا جیسے ہم ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہیں خیر ایک بیش قیمت گاڑی کھڑی تھی ایسی گاڑی ہمارے محلے میں یہ ذرا ہٹ کے بات تھی السلام و علیکم وہ بولا اس کی آواز بہت خوبصورت اور سحر انگیز تھی بلکل اس کی شخصیت کی طرح اس کے بولنے پر میں جیسے ہوش میں آ گئی اور اگلے ہی پل مجھے خود پر غصہ آ نے لگا یہ میں ہوں یقین نہ ہوا ایک غیر مرد کی طرف خود کو مائل ہوتا دیکھ مجھے خود پر شرمندگی ہوئی ۔در اصل کالج سے نکلتے ہوۓ فائزہ کا پیر پهسل گیا تھا اور گرنے کی وجہ سے اس کی ٹانگ میں چوٹ آ گئی تھی ایسے میں ان صاحب نے اس کی مدد کی اور اس کو گھر تک پہنچایا میں ان کی بیحد مشکور ہوئی اندر بلانا مناسب نہ لگا مجھے کیوں کہ امی بھی گھر پر نہ تھیں مگر فائزہ نادان اس کو زور دے کر اندر لے ہی ای مگر میں جا کر اسی وقت امی کو بلا لائی تھی امی ان کی بہت مشکور ہوئیں ۔ وہ دیکھنے سے ہی شریف لگتا تھا اور تھا بھی اس کی موجودگی میں میں بہت غیر محفوط سا محسوس کر رہی تھی کیوں کہ وہ بات تو فائزہ سے کر رہا تھا مگر اس کی چور نگاہ مجھ ہی پر تھی جیسے میں اس کی طرف دیکھتی تو وہ شرم سے سرخ ہو جاتا اور نظر جھکا لیتا شاید یہ سب اس کے بھی بس میں نہ رہا تھا وہی کشش اسے بھی میری طرف بری طرح کھنچ رہی تھی مگر اس کی حیا میرے دل کو ایسی بھائی کہ پل وہ اس اجنبی کی ہو گئی شرم سے پانی تو میں بھی ہوئی جا رہی تھی بیٹا تمہارے والد کا نام کیا ہے امی نے بغور ان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا جی شہاب علی مگر کیوں آنٹی ؟؟ ان کے جواب پر امی کا چہرہ ایک دم خوشی سے کھل اٹھا سعدیہ کے بیٹے ہو ؟؟؟؟ جی مگر ۔۔۔۔ارے بیٹا جب تم لوگ بہت چھوٹے تھے تب ہمارے پڑوسی ہوا کرتے تھے ان ابو سے تمہارے والد کی اچھی دوستی تھی اہ یہ تو بہت اچھی بات ہے وہ خوشی سے بولے جیسے مجھ تک پہنچنے کے لئے اس کے رستے هموار ہو گئے ہوں کچھ ہی پل وہ بیٹھے تھے پھر چل دیے ۔وہ رات میرے 22 سالوں کی تمام تر راتوں سے الگ تھی مهكتی ہوئی زندگی کو نئے موڑ پر لے جانے والی دل میں بہت ہلچل تھی مگر میں اس ہلچل کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی جو میں چاہ کر بھی نہ کر سکی کچھ ہی دن میں وہ میرے دل پر راج کرنے لگے ان کی آنکھ میں چھپی حیا ان کا انداز گفتگو ان کا اخلاق میں تو بس انہی کی ہو کر رہ گئی یہی حال ان کا بھی تھا ان کے اور میرے والد پورانے جاننے والے نکلے شاید یہ قسمت تھی جو ہم دونوں کو ملانے کے سبب پیدا کر رہی تھی بتا نہیں سکتی ابو نے ان کا کھانا کیا تھا جب وہ اور ان کی بہن بھی آئی تھی مسكان تو ان کے لبوں پر سے جا ہی نہیں رہی تھی کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد میں برتن سمیٹ کر چائے تیار کر رہی تھی کہ مجھے اچانک ان کے وجود کی خوشبو محسوس ہوئی ایک گلاس پانی ملے گا میں ان کو یہاں دیکھ سٹپٹا سی گئی ج جی ۔۔۔پانی پینے کے بعد وہ گویا ہوۓ حبا مجھے آپ بہت پسند ہیں جب سے آپ کو دیکھا ہے آپ ہی کا ہو گیا ہوں یہ میری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ ہے اگر آپ بھی مجھے پسند کرتی ہیں تو اس کو پہن کر باہر آ جائیں اگر نہیں پہنی تو بھی میں آپ کی مرضی سمجھ جاؤں گا یہ بول کر وہ ایک انگوٹھی وہاں رکھے چلے گئے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا مگر پھر میں نے وہی کیا جو دل نے مجھ سے کروا دیا میں نے شاہ زیب کی محبت کی یہ نشانی اپنے وجود کا حصہ بنا لی اور چائے لے کر مہمانوں کے پاس چل دی شاہ زیب بہت بے چین لگ رہے تھے مگر جیسے ہی میری انگلیمیں اپنی محبت کا اقرار دیکھا تو خوشی سے جھوم گئے پہلی بار انہوں نے نظر بھر کر میرے چہرے کی طرف دیکھا ان کی نظر سے میں پانی پانی ہو گئی ایک خاموش مسكان دونوں کے لبوں پر تھی ان دنوں کتنی خوش تھی یوں لگتا جیسے ہواؤں میں ہوں پھر انکل نے ہمیں ایک رات کھانے پر بلایا میں نے جی بھر کر سنگهار کیا تھا اس دن جب ہم ان کے گھر پہنچے میری نظر مسلسل شاہ زیب کو تلاش رہی تھی مگر وہ نہ دکھے تھے اچانک ہی میں ایک مضبوط نوجوان سے ٹکرائی خود کو سمبھال نہ سکی گر تے گرتے انہی نے سمبهالا غلطی بھی اپنی تھی مگر ایک غیر کا ہاتھ میری کمر کو چھوا تھا مجھے غصہ آنے لگا تو اچھی خاصی سنا دی ان کو کافی دیر سنانے کے بعد بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ ہاتھ باندھے تابعداری کے ساتھ میری ڈانٹ سن رہے تھے مجھے شرمندگی سی ہوئی میں وہاں سے چل دی وہ بہت وجیہ تھا بڑی بڑی آنکھیں ان میں شوخی تھی مگر مجھے وہ شوخی بلکل نہ بھائی تھی خیر اس کے بعد وہ مجھے نہ دکھا شاہ زیب اس دن کام کے سلسلے میں باہر تھے میں اداس سی ہو گئی تھی خیر ۔۔۔۔کچھ عرصہ کے بعد ایک دن شاہ زیب کی امی اور بہن آئی تھیں اسی رات امی نے مجھ سے بات کی کہ شہاب انکل اور ان کی بیوی تم کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں ہمیں تو پسند ہے لڑکا تمہیں کوئی اعترض تو نہیں مجھے بھلا کیا اعترض ہو سکتا تھا میں تو خوشی سے کھل اٹھی جیسا آپ مناسب سمجھیں امی یہ بولتی میں وہاں سے چل دی آج وہ لوگ رسم کرنے آئے تھے شاہ زیب بھی ساتھ تھے وقت رسم ہوا میرے چہرے پر حیا دمکنے لگی شاہزیب کی والدہ نے مجھے انگوٹھی ڈالی جس کی وجہ سے میرے ہاتھ سے وہ انگوٹھی اتار لی گئی جس کو میں نے پہلے ہی اس انگلی میں پہن رکھا تھا یہ شاہ زیب ہی کی محبت کی نشانی تھی میں سمجھ نہ سکی تھی کہ اس انگوٹھی کے اترتے وقت مجھے اس قدر تڑپ سی کیوں محسوس ہوئی تھی خیر مجھے انگوٹھی ڈال دی گئی میں نے شاہ زیب کے چہرے کی طرف دیکھا مگر وہ بے تاثر کھڑے رہے اگلے ہی پل مجھ پر قیامت برپا ہو گئی جب میری ساس نے کہا کہ آج سے تم میرے بیٹے زوہیب کی امانت ہوئی ۔۔۔ در اصل جس لڑکے سے میں اس دن ٹکرای تھی وہ ان کا دوسرا بیٹا شاہ زیب کا چھوٹا بھائی زوہیب تھا اس نے مجھے پہلی بار دیکھ کر ہی پسند کر لیا تھا پسند کیا اسے نے مجھ سے عشق کیا تھا اور پھر اسی کے کہنے پر یہ رسم کی گئی شاہ زیب بھائی کی محبت میں چپ ہو رہے میں ٹوٹ گئی سمجھ نہ آیا کیا کروں شاہ زیب نے آنکھ کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا تو میں سمجھ گئی کہ اب انکار کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا اگر میں اپنی محبت اور حق کی خاطر ابھی کھڑی بھی ہو جاؤں تو وہ محبوب ہی مجھے اپنانے سے انکار کر دے گا ۔پل میں خوشیاں بر باد ہو گئی میں بے جان مورت بن گئی میری زوہیب سے منگنی کے بعد شاہ زیب کبھی ہمارے گھر نہ آئے ۔زوہیب کی کزن کی شادی تھی ہم لوگ ہی مدعو تھے گھر میں کافی گہما گہمی تھی میں ان کے لان میں گم صم بیٹھی تھی ٹهند بہت تھی مگر مجھے اس کی پرواہ نہ تھی اچانک مجھ پر کسی نے پیچھے سے گرم جیکٹ ڈال دی میں نے چونک کر دیکھا تو وہ زوہیب تھا اس کی شکل دیکھتے ہی مجھے غصہ آنے لگتا تھا میں غصے سے اٹھ کر جانے لگی تو اس نے میری کلای تھام لی میں نے چھڑانی چاہی تو اس نے مجھ کو کھنچ کے خود کے قریب کیا جس سے میں اس کے کشاده سینے سے جا لگی اس کا چہرہ میرے چہرے کے بلکل نزدیک تھا ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں دیکھ رہے تھے اس کی سانس تک میں اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی ایک پل کے لئے وہ مجھے بہت بھلا لگا اس کی اس بے باکی نے مجھے اندر تک جهنجھوڑ دیا تھا شاہ زیب کا انداز ایسا بلکل نہ تھا مگر وہ بس ایک پل ہی تھا میں نے غصے اور نفرت سے خود کو اس کی بانہوں سے چھڑانا چاہا مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی میں بے بس ہو گئی وہ مسلسل مجھے تکے جا رہا تھا ۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔میں غصے سے بولی اب اور انتظار نہیں ہوتا جلد ہی میری دلہن بن کر آجاؤ نہ جانتی ہو میری بہت خواہش ہے تمہیں اپنی دلہن بنے دیکھنا وہ شوخی سے مسکرایا پھر اس نے مجھے آزاد کر دیا مجھے وہ زہر لگا میں نے اس کو کھری کھری سنا دی مگر وہ مسلسل مسکراتا ہی رہا میں وہاں سے چل دی مگر اس کے وجود کی مہک ابھی تک میرے انگ انگ میں بسی تھی اتنے قریب آج تک میرے کوئی نہ ہوا تھا وہ پہلا شخص تھا ۔۔ بس پھر یہ سلسلہ یوں ہی رہا وہ پیار لٹاتے نہیں تهکتا تھا اور میں اسے ذلیل کرتے نہ تهکتی وہ بیچارہ تو ایسا کرنے کی وجہ بھی نہ جانتا تھا اس نے میری ہر بد تمیزی ہر بد سلوکی کا جواب بس نرمی اور محبت سے دیا میں ان دنوں بہت تکلف میں تھی قسمت کا سارا غصہ اس پر اتار دیتی چھ ماہ یوں ہی گزر گئے ۔اب ہماری شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی زوہیب تو خوشی سے پاگل تھے ان دنوں اور میں زندہ لاش بن گئی تھی اپنے محبوب کو ساری عمر اب جیٹھ کی شکل میں دیکھنا تھا میں بہت دعا کرتی تھی کہ کوئی راستہ پیدا ہو جو مجھے اور شاہ زیب کو ایک کر دے وقت پر لگا کر ا ڑتا رہا اور میں زوہیب کی دلہن بن گئی بارات بہت دھوم دھام سے آئی تھی بہت شاندار بارات تھی کتنے چاہت سے زوہیب مجھے بياه نے آیا تھا وہ رات اس کے ارمانوں سے سجی تھی اس کا چہرہ تو چاند کی طرح دمک رہا تھا مسکراہٹ اک پل کو بھی چہرے سے غائب نہ ہوئی آخر ہمارا نکاح ہو گیا اب میں پوری طرح سے زوہیب کی ہو گئی اب تو مجھ پر صرف اور صرف اس کا حق تھا یہاں تک کہ میرے خیالوں پر بھی اپنی بے بسی پر میں خون کے آنسو رو رہی تھی وقت رخصت آ گیا میں نے ارادہ کر لیا میں اب بھی شاہ زیب کی جگہ کسی کو نہ دوں گی مجھے اس پل زوہیب کے وجود سے نفرت محسوس ہونے لگی عمر بھر میں نے اس کو اس نفرت کی آگ میں جلانے کا فیصلہ کر لیا ۔ میں عروسی لباس پہنے گھونگھٹ اوڑھے زوہیب کی سیج پر بیٹھی تھی کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور میری ساس پهپپھو زو ہیب کی پھپھو بوکھلائی ہوئی سی کمرے میں داخل ہوئی سنو بیٹا زوہیب کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے وہ بہت زخمی ہے مگر ہوسپٹل نہ جانے کی ضد بچو کی طرح کر رہا ہے ہم نے پوری کوشش کی مگر وہ بلکل نہ مانا بولتا ہے جیسا سب کچھ چل رہا تھا ویسا ہو ہونا چاہیے تو بیٹا تم بہت دھیان رکھنا اور بس کسی طرح سے اس کو ہوسپٹل کے لیے تیار کر لو فلحال تو ہم نے اس کی بات رکھ لی ہے اور ہوش میں ہے خطرے کی کوئی بات بھی نہیں پریشان نہ ہو بچے ٹھیک ہے نہ یہ بول کر وہ چلی گئیں مگر میں نے جتنا سنا مجھ پر بجلی گرا گیا کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ ایک بار پھر کھلا زوہیب اندر داخل ہوئے تھے ان کا بدن جگہ جگہ سے زخمی تھا اور خون رس رہا تھا نیلی شیروانی خون خون ہو گئی تھی چوٹیں معمولی نہ تھی میں پریشن بہت ہوئی مگر ظاہر نہ کیا اور بے رخی سے بیٹھی رہی وہ بیڈ پر قریب آ کر بیٹھ گئے تکلیف سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا ان کی دو پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں مگر میں اس بات سے بے خبر تھی ۔۔ ہماری بیگم سے صبر نہیں ہوا کیا گھونگھٹ خود ہی اٹھا لیا وہ حسب عادت گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولے میں آپ کی بیگم نہیں ہوں یہ بات ذہن نشین کر لیں ۔۔میں غصے سے بولی وہ ہمیشہ کی طرح ہنس دیے تھے اچھا ؟؟ نکاح کیا ہے تم سے میں نے بیگم م م وہ بغور میرے چہرے کا جائزہ لیتے ہوے مجھے ستانے کے انداز سے بولے میں نے ان کی طرف جب نظر اٹھا کر دیکھا تو محسوس ہوا وہ خاصی تکلیف میں تھے آپ آرام کریں زیادہ بات آپ کے لئے ٹھیک نہیں ہے اس وقت لیٹ جائیں زوہیب میں نے زندگی میں پہلی بار ان سے نرمی سے بات کی تھی جس پر وہ مجھے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگے اور پھر مسکرا کر بیڈ کے تاج سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے انہوں نے تکلیف سے آنکھیں بھینچی تھیں مگر میرے محبت بھرے رویہ کی ان کے چہرے پر چمک بھی ضرور تھی میں نے اٹھ کر ان کا تکیہ درست کیا اور ان کو ٹھیک سے بٹھایا آج مجھے احساس ہو رہا تھا وہ مجھ سے کس شدت کی محبت کرتے ہیں میرا دل یک دم ہی نرم پڑ گیا یا پھر یہ نکاح کی طاقت تھی شاید میں خاموش بیٹھی رہی وہ کافی دیر میری خوبصورتی کی تعریف کرتے رہے تھے پھر مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا میرے چہرے پر آئی ایک لٹ کو انہوں نے بہت پیار سے میرے چہرے پر سے ہٹایا میری نظر اچانک بیڈ شیٹ پر پڑی تو وہ خون سے بھری ہوئی تھی زو ہیب ب ۔۔۔۔ آپ کیا بچپنہ کر رہے ہیں آپ کو ہوسپٹل جانا چاہیے ابھی کے ابھی میں غصے سے بولی وہ بس بیٹھے مجھے دیکھ کر مسکرا تے رہے ایک بار سینے سے نہیں لگو گی ؟؟؟ انہوں نے بازو پھیلایا وہی پل تھا جب ہر محبت مانند پڑ گئی اور نکاح کا تقدس مضبوط ثابت ہوا ایک ہی پل میں دل اس مہربان کو جیون ساتھی ماننے پر تسلیم ہو گیا یوں لگا میری محبت پر صرف میرے شوہر کا حق ہے کسی غیر کا خیال اک گناہ کے علاوه اور کچھ نہیں اس پل میں نے اپنا ماضی بھلا کر سچے دل سے خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زوہیب کے سپرد کر دیا تھا اور روتے ہوئے ان کے سینے سے لگ گئی بلکل پاگل ہیں آپ زوہیب چھوٹے بچو کی طرح میں کہیں بھاگ جاتی کیا ؟؟ جو یوں اس حالت میں بھی آپ ۔۔۔ش ش ۔۔۔۔انہوں نے میرے ھونٹٹو پر انگلی رکھ دی تم نہیں جانتی میری جان یہ پل میرے لئے کیا اهميت رکھتے ہیں اس وقت کے لئے میں نے کتنا انتظار کیا ہے یاد ہے نہ میں نے تم سے کہا تھا کہ میری خواہش ہے تمہیں اپنی دلہن بنے بیٹھے دیکھنا تو کیسے جانے دیتا ان پلوں کو ۔۔یہ بولتے ہوۓ ان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں کاش تم میری ہوتی حبا ۔۔۔۔۔ پہلی بار میں نے زوہیب کی آنکھوں میں آنسو اور مایوسی دیکھی تھی میں کہنا چاہتی تھی کہ میں آپ ہی کی ہوں مگر کہہ نہ سکی ۔۔۔انہوں نے مجھے ایک چین منہ دکھای پہنائی پھر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے آنکھیں بند کر کے سکون سے لیٹ گئے زوہیب زیادہ باتیں نہ کریں آپ آرام کریں میں بولی مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا زو ہیب ۔۔۔؟؟؟ میں نے زور سے بلایا جواب نہ پا کر میرے ہاتھ پیر پھولنے لگے زوہیب ب ب ؟؟ اب میں نے ان کو پوری طرح جھجھوڑ دیا تو ان کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی مجھ پر قیامت ٹوٹ گئی میں چیخ اٹھی میری چیخ سن کر وہاں گھر والے بھی آ گئے اور بس پھر کچھ ہی دیر میں گھر میں کہرام مچ گیا نہیں ں ں ۔۔۔میں بے اختیار زو ہیب کے سینے سے لپٹ گئی مگر آج انہوں نے حسب عادت شرارت کے ساتھ مجھے اپنے بازوں کی گرفت میں نہیں لیا میرے کانوں میں اپنے ہی الفاظ گونجنے لگے میں آپ کی بیگم نہیں ہوں اور قدرت نے مجھے میرے کہے الفاظ کی ایسی سزا دی کہ بس کچھ ہی دیر میں واقعی اب میں زوہیب کی بیگم سے ان کی بیوہ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ زوہیب کے چلے جانے کے بعد گھر والوں نے شاہ زیب اور میری شادی کر دی وہی جس سے شادی کے میں خواب دیکھتی تھی اسی سے شادی کے لئے میرا دل بلکل تیار نہ تھا خود کو زوہیب کی امانت سمجھتی تھی ان کے چلے جانے کے بعد ان کی باتوں سے محبت کی میں نے جو وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے میں بار بار بیہوش ہو جاتی تھی حالت بہت خراب ہو گئی تھی یوں لگتا جیسے زو ہیب ابھی آ جائیں گے دل ان کی موت کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہ تھا میں خود کو اب ہمیشہ زو ہیب ہی کی اما نت بنا کر رکھنا چاہتی تھی مگر گھر والوں کے زور دینے پر میری شاہ زیب کی شادی ہو ہی گئی مجھے شاہ زیب نے اپنی محبت کے سہارے نئی زندگی دی ورنہ میں تو زو ہیب کے ساتھ ہی چلی جاتی ہاں میں نے چاہا تھا کہ کوئی ایسا راستہ بنے کے میں اور شاہ زیب ایک ہو جائیں مگر وہ د عا اس صورت پوری ہو گی یہ میں نے نہ سوچا تھا ۔مجھے شک تھا کہ جیسے ان کی موت کی ذمہ دار میں ہی ہوں مگر پھر ایک دن وہ شک یقین میں بدل گیا جب ہمارے ڈرائیور سے اس رات کے بارے میں میری تفصالی بات ہوئی جب اس نے بتایا کہ بارات جب واپس لوٹ رہی تھی تب زوہیب صاحب نے بہانے سے مجھے اور گاڑی میں بیٹھی ان کی امی اور پھپھو کو دوسری گاڑی میں بھیج دیا پھر کچھ ہی دیر بعد ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا تھا ۔۔ڈرائیور کی بات نے مجھے بے چین کر دیا تو کیا زو ہیب نے جان بوجھ کر مگر کیوں ۔۔۔۔وہ تو بہت خوش تھے ۔۔اور جلد ہی مجھے میرے اس سوال کا بھی جواب مل گیا جب شاہ زیب نے مجھے بتایا کہ تمہارے نکاح کے بعد جو تم مجھ سے ملنے آئی تھی اور مجھ سے شکوه کر رہی تھی وہ سب کچھ زوہیب نے سن لیا تھا اور وہ حقیقت جان گیا تھا تب وہ میرے گلے لگ کر بہت رویا تھا بار بار خود کو ہم دونوں کا قصور وار ٹھہرانے لگا مگر میرے سمجھانے پر وہ سمجھ گیا تھا کیوں کہ نکاح ہو چکا تھا اب کوئی راستہ نہ تھا میں نہیں جانتا تھا کہ اس کی خاموشی کے پیچھے یہ وجہ تھی ۔۔ آج زو ہیب کو اس دنیا سے گئی 6 سال گزر چکے ہیں مگر وہ شادی کی رات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے ۔۔آج بھی مجھے ان کی یاد آ تی ہے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا وہ محبت تھی جو میں نے شاہ زیب کو پہلی نظر دیکھتے ہی کی یا وہ محبت تھی جو نکاح کے بعد میں نے زو ہیب کے لئے محسوس کی ختم شد
  3. لالچی باپ بیٹا اور جنات کی بستی ایک سبق آموز کہانی ماموں یونس چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کررکھی تھی باقی بہن بھائی اَن پڑھ تھے گاؤں کے لوگ ماموں کو چوہدری کہتے تھے علاقے میں بھی ان کا کافی اثرور سوخ تھا۔ ناظم سے ان کی دوستی تھی نانا کی چالیس ایکڑاراضی تھی جونانا کی وفات کے بعد انہوں نے پٹواری اور تحصیلدار سے ساز باز کرکے اپنے نام کروائی جب دوسرے بہن بھائیوں کو پتہ چلا تو وہ اپنے حصے کی زمین مانگنے لگے۔ ماموں نے زمین دینے سے انکار کردیا اور کہا۔ ”والد صاحب نے مرنے سے پہلے ہی زمین میرے نام کرادی تھی۔“چاچو گاؤں کے چند بڑوں کو لے کر اس کے پاس گئے انہوں نے ماموں کو بہت سمجھایا۔ ”یہ آپ کے سگے بہن بھائی ہیں آپ کے والد کی زمین میں آپ سب کا برابر کا حصہ بنتاہے اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین دے دو یہ بھی خوش ہو جائیں گے اور اللہ بھی راضی ہو جائے گا۔ “مگر کوشش کے باوجود ماموں نے مانے اپنی ضد پر قائم رہے۔ یہاں سے مایوس ہو کر انہوں نے عدالت کو دروازہ کھٹکھٹا یا اپنے اثرورسوخ کی بنا پر وہ عدالتی جنگ بھی جیت گئے اب وہ چالیس ایکڑزرعی زمین کے تنہا مالک تھے ماموں کا ایک ہی بیٹھا تھا جو شہر میں تعلیم حاصل کررہا تھا ایک منشی رکھا تھاجو ہونے والی آمدنی کا حساب کتاب کرتا تھا۔ زمینوں سے اچھی خاصی آمدنی ہورہی تھی۔چالیس ایکڑ زمین میں دو ایکڑزمین غیر آباد تھی یہاں ایک پرانی قبر تھی لوگوں کا خیال تھا اس قبر میں اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے جس وجہ سے چوہدری یونس کی فصل دوسرے لوگوں سے زیادہ اوسط دیتی ہے۔ زندگی صبر اور شکر کی آزمائش ہے جو اس آزمائش میں کامیاب رہتے ہیں زندگی بس ان کی ہے۔جو صبر اور شکر کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں وہ اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی ناکام رہتے ہیں۔لالچ عقل کو اپنا غلام بنا دیتی ہے ماموں کو بھی زیادہ سے زیادہ کی لالچ رہتی تھی اس نے کئی بار سوچا اس غیر آباد زمین کو بھی آباد کیا جائے تاکہ اسے کاشت کے قابل بنایا جا سکے اس طرح آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا ایک دن اس نے اپنے منشی لیاقت کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا منشی نے کہا۔ ”ٹھیک ہے چوہدری صاحب ہم صبح کام شروع کردیں گے آٹھ دس دن میں یہ زمین ہموار ہو جائے گی دوسرے دن جب قبر والی زمین کو ہموار کرنے کا کام شروع ہونے لگا تو گاؤں کے بزرگ ماموں کے پاس آئے انہوں نے کہا۔ ”اس زمین کو ہموار نہ کریں یہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے ان کو تنگ نہ کرو اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ آپ نے اگر ان کو بے گھر کیا تو یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہو گا۔“انہوں نے بڑوں کا کہنا مان کر کام روک دیا۔رات کو ایک نادیدہ قوت ماموں کے پاس آئی جسے دیکھ کر وہ ڈر گئے۔ ”آپ کون ہیں اورکیا چاہتے ہیں۔“ ”میں کوئی بھی ہوں آپ کو اس سے کیا غرض آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کی غیر آباد اور بنجر زمین ہمارا مسکن ہے آپ نے جواسے ہموار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اسے اپنے ذہن سے نکال دیں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا بہت نقصان ہو گا‘آپ کی زمینوں کی آمدنی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ “یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکلا اور فضا میں تحلیل ہوکر ماموں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔صبح ماموں نے منشی کو اپنے پاس بلوایا رات والا واقعہ سنایا اور قبر والی زمین کو ہموار کرنے سے منع کر دیا۔وقت گزرتا رہا ایک دن ماموں کو فالج کا اٹیک ہوا وہ بستر کے ہو کر رہ گئے زمینوں کی دیکھ بھال اب ان کے بس کا کام نہیں تھا لہٰذا ان کا بیٹا حارث تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس گاؤں آگیا اب وہ زمینوں کی نگرانی کرتا اپنے باپ کی طرح حارث نے بھی غیر آباد زمین کو ہموار کرکے اسے قابل کاشت بنانے کا ارادہ کرلیا اس سلسلے میں جب اس نے منشی سے بات کی تو اس نے کہا۔ ”پہلے بڑے چوہدری سے بات کرلیں انہوں نے یہ زمین آباد کرنے سے منع کیا ہے۔“حارث نے اپنے والد صاحب سے بات کی ماموں نے بتایا۔ ”یہاں غیر مرئی مخلوق رہتی ہے اور اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی بیان کیا ۔“ ”یہ جن بھوت والی باتیں سب جھوٹی ہوتی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہم نے اپنی زمین آباد کرنی ہے کسی کی زمین پر قبضہ تو نہیں کررہے جو ہمارا نقصان ہو گا اگر یہاں نادیدہ قوتیں یا جن بھوت وغیرہ رہتے ہیں تو وہ کہیں دوسری جگہ جا کر آباد ہو جائیں گے۔ “حارث کی باتیں سن کر ماموں پریشان ہو گئے ۔انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا منشی نے بھی اس کا حوصلہ بڑھایا پھر جیسے ہی ٹریکٹروں نے کام شروع کیا مغرب کی طرف سے کالی گھٹا اٹھی دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہم طرف گردوغبار اور اندھیرا چھانے لگا اس طوفان سے صرف مسجد محفوظ تھی پھر قبر والی جگہ پر زور دار دھماکہ ہوا کام کرنے والے ٹریکٹر قلا بازیں کھاتے خشک پتوں کی طرح دور جاکر گرے یہی حال ڈرائیوروں اور کام کرنے والے مزدوروں کا تھا۔ ”ہم آج کسی کو نہیں چھوڑیں گے ہم تمہارا نام و نشان مٹادیں گے تم نے ہمارا آرام وسکون برباد کیا ہمارے بچوں کو مارا ہم تمہاری نسل کو مار ڈالیں گے۔“یہ آوازیں اس قدر خوف ناک اور کرخت تھیں کہ ہر ذی روح کو خوف آنے لگا ہر طرف آہ وبکار اور قیامت صغریٰ برپاتھی ایک نادیدہ قوت حارث کو اٹھا کر چھت تک لے گئی اور پھر ایک دم ہی چھوڑ دیا وہ دھڑم سے فرش پر کمر کے بل گرا اس کو کافی چوٹیں آئیں بھلا ہواس موذن کا جس نے اللہ اکبر کہہ کر ظہر کی اذان شروع کی اذان کے کلمات سنتے ہی ہر طرف سکون ہو گیا۔ گاؤں کے لوگ مسجد کی طرف دوڑے۔ مسجد کا صحن زیادہ وسیع نہیں تھاکہ گاؤں کے سارے لوگ اس میں سماجاتے لوگ امام مسجد سے دعا کی اپیل کرنے لگے امام مسجد نے دعا کرائی۔ ”اے مخلوق خدا ان غریب لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں یہ چوہدری کے ہاں مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں آج بھی یہ لوگ وہاں مزدوری کرنے گئے تھے یہ لوگ آپ کی بستی سے بے خبر تھے انجانے میں جو غلطی کربیٹھے ہیں اس غلطی کی معافی چاہتے ہیں ہوسکے تو چوہدری صاحب کو بھی معاف کردیں یہ سب شرمندہ ہیں آئندہ کبھی آپ کو بستی کی طرف نہیں جائیں گے۔ “پھر اچانک سفید لباس پینے ایک بزرگ سامنے آئے۔ ”اے آدم کی اولاد ہم بھی آپ کی طرح خدائے بزرگ وبرتر کی پیداوار ہیں ہم اپنے آپ میں گم رہنے والی مخلوق ہیں ہم بے وجہ کسی کو پریشان نہیں کرتے اور نہ ہی ہم نے کبھی آپ کا برا سو چاہے اگر ہم نے کسی کے ساتھ برا سلوک کیا تو وہ سامنے آئے ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ اپنے گریبانوں میں جھانکوں آپ کا دین اسلام تو امن وشانتی کا درس دیتا ہے بردباری اور تحمل اس کے اصول ہیں صراط مستقیم اس کی راہ ہے اور سچائی اور انصاف جذبہ ایمان ہے چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کا کردار سب کے سامنے ہے لالچ کی ہوس نے ان کو انسان سے حیوان بنا دیا ہے۔ جھوٹی شان وشوکت بڑھانے کے لیے انہوں نے اپنوں کا حق مارا ہے۔بہن بھائیوں کی زندگی عذاب بنا دی جاؤ ہم نے تمہیں معاف کیا پھر کبھی بھول کر بھی ہماری بستی کی طرف مت آنا دوبارہ غلطی کی تو ہم معاف نہیں کریں گے ۔یاد رکھو اس وقت ہم خوف خدا سے آپ لوگوں کو معاف کررہے ہیں مگر چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ان کو ہم تڑ پا تڑپا کر ماردیں گے ہم ان کو ضرور سبق سکھائیں گے۔انہوں نے اپنوں کے ارمانوں کا خون کیا ہماری بستی کو گرایا یہ معافی کے حقدار نہیں ان کو معافی اسی صورت مل سکتی ہے اگر یہ اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین واپس کردیں اور دوبارہ کبھی ہماری بستی کا رخ نہ کریں۔ “سب لوگ گردنیں جھکائے اُن بزرگ کی باتیں سن رہے تھے اور ان کی دہشت سے ہر کوئی کانپ رہا تھا۔ ”اب میں جارہاہوں اگر چوہدری صاحب نے ہماری بات نہ مانی تو ہم اس کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔“وہ بزرگ چند قدم پیچھے کی طرف اور پھر غائب ہو گئے۔ امام مسجد نے لوگوں کو مخاطب کیا۔ ”ہم سے غلطی ہو گئی ہے اس غلطی کے ازالے کے لیے ہمیں دوبارہ اسی مخلوق کی منت سماجت اور قبر والی جگہ پر خیرات کرنا ہو گی ہمیں ہر حال میں اس مخلوق کو راضی کرنا ہو گا اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ “اسی وقت گاؤں کے ہر بندے نے اپنی حیثیت کے مطابق امام مسجد کو پیسے جمع کرائے اور شام کو قبر والی جگہ پر خیرات کی گئی۔ماموں یونس نے اپنے بہن بھائیوں کو وہاں بلوا کر ان کے حصے کی زمین دے دی۔ گاؤں کی رونق پھر سے بحال ہونے لگی لیکن ماموں کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو چکی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ماموں کا آخری وقت قریب آچکا ہے گاؤں کے بڑے عیادت کے لیے آتے تو وہ مشورہ دیتے۔ ”چوہدری صاحب اپنے بہن بھائیوں کو راضی کرلو اُن سے معافی مانگ لو۔“بڑوں کی بات مان کر ماموں نے بہن بھائیوں کو اپنے پاس بلوایا اپنے کیے کی معافی مانگی سب بہن بھائیوں نے اسے معاف کردیا ایک بار پھر جنات کی بستی میں خیرات بانٹی گئی لوگ خیرات کے چاول کھارہے تھے کہ ایک دم ایک لمحے کے لیے سب کچھ روشن ہو گیا۔ امام مسجد نے کہا۔ ”جنوں نے دل سے چوہدری صاحب کو معاف کردیا ہے۔“دوسرے دن حارث نے اپنے والد کو شہر کے ایک ہسپتال میں داخل کروادیا اب وہ آہستہ آہستہ تندرست ہونے لگے ایک ماہ ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ گھر آگئے ماموں اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔ عروج کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پھولوں کے بیج پھینکنے چاہیئے زوال کا سفر پر سکون رہے گا اگر کانٹے بچھا کر جائیں گے واپسی پر خار دار جھاڑیاں ملیں گی اور واپسی کا سفر تو ہر صورت طے کرنا ہوتاہے ہماری زندگی میں بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو لاکھ کوشش کے باوجود ہم بھلا نہیں پاتے ایسا ہی ایک ناقابل فراموش واقعہ آپ قارئین کے لیے بیان کررہا ہوں جو امید ہے آپ کو مدتوں یاد رہے گا ایسے واقعات لکھنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ شاید کوئی نصیحت پکڑے اور لکھنے کا حق ادا ہو جائے۔
  4. کیا کہانی Khatam ہو Gayi کیا؟
  5. Yes! Rules of the games to be described first before the start of game.
  6. well Noted Sir or me is baat k lie aap ka shuker guzar hoon k aap ne INCEST Stories ko allow nahi kia.
  7. noted sir ji! thnx for approving my rule also. Incest is totally banned in this forum. in future incest is not allow. thnx alots
  8. Thankss dear Admin.. Noted.. aur aap k rules buhat hi fitt hein.. Again Thanks
  9. Noted Admin Sir.... 100% Agreed With U...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.