Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus Launched ×
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

#محبت 
از :دلآویزراجپوت
 مکمل کہانی 

رات کے 2 بجے کا وقت تھا میرے شوہر میرے برابر میں گہری نیند سو رہے تھے اور ساتھ ہی ہمارا پانچ سالہ بیٹا بھی باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی آج موسم بہت خراب تھا طوفانی بارش ہو رہی تھی میرے شوہر اور بیٹا دونوں گہری نیند میں تھے رات کا خاصا پہر گزر چکا تھا مگر نیند میری آنکھوں سے کو سوں دور تھی اس کی وجہ یہ طوفانی بارش نہیں بلکہ وہ طوفان تھا جو آج سے تقریبا 6 سال پہلے میری زندگی میں آ یا تھا میں لیٹے لیٹے اس جگہ جا پہنچی جہاں سے وقت سالوں پہلے گزر کر جا چکا تھا ۔یعنی کہ جب میں 22 سال کی ہوئی تھی میرا نام حبا ہے زندگی بہت حسین تھی غم کیا ہوتا نہیں جانتی تھی والد صاحب گورنمنٹ ٹیچر تھے ہم دو ہی بہنیں تھیں آپس میں بہت محبت تھی ہمیں زندگی اچھی گزر رہی تھی میری تو پڑھائی مکمل ہو چکی تھی فائزہ کالج جاتی تھی میں گھر کے کاموں میں امی کا ہاتھ بٹاتی 
ایک دن امی پڑوس گئی ہوئی تھیں دو بج رہے تھے فائزہ کے کالج سے آنے کا وقت ہو گیا تھا میں باورچی خانے میں کھانا بنانے میں مصروف تھی مجھے فکر ہو رہی تھی کیوں کہ آج فائزہ کالج سے لیٹ ہو گئی تھی اتنے میں دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک نہایت ہی خوش شکل نوجوان کھڑا تھا اس نے چشمہ اتارا اس کی آنکھیں کالی تھیں نہ جانے ان کالی آنکھوں میں ایسی کیا بات تھی جو یوں ایک ہی پل میں مجھے اس کی طرف کھنچ رہی تھی نہ جانے یہ کون سا جذبہ تھا جو پل بھر میں ہم دو اجنبیوں کو یوں لگا جیسے ہم ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہیں خیر ایک بیش قیمت گاڑی کھڑی تھی ایسی گاڑی ہمارے محلے میں یہ ذرا ہٹ کے بات تھی السلام و علیکم وہ بولا اس کی آواز بہت خوبصورت اور سحر انگیز تھی بلکل اس کی شخصیت کی طرح اس کے بولنے پر میں جیسے ہوش میں آ گئی اور اگلے ہی پل مجھے خود پر غصہ آ نے لگا یہ میں ہوں یقین نہ ہوا ایک غیر مرد کی طرف خود کو مائل ہوتا دیکھ مجھے خود پر شرمندگی ہوئی ۔در اصل کالج سے نکلتے ہوۓ فائزہ کا پیر پهسل گیا تھا اور گرنے کی وجہ سے اس کی ٹانگ میں چوٹ آ گئی تھی ایسے میں ان صاحب نے اس کی مدد کی اور اس کو گھر تک پہنچایا
میں ان کی بیحد مشکور ہوئی اندر بلانا مناسب نہ لگا مجھے کیوں کہ امی بھی گھر پر نہ تھیں مگر فائزہ نادان اس کو زور دے کر اندر لے ہی ای مگر میں جا کر اسی وقت امی کو بلا لائی تھی امی ان کی بہت مشکور ہوئیں ۔ وہ دیکھنے سے ہی شریف لگتا تھا اور تھا بھی اس کی موجودگی میں میں بہت غیر محفوط سا محسوس کر رہی تھی کیوں کہ وہ بات تو فائزہ سے کر رہا تھا مگر اس کی چور نگاہ مجھ ہی پر تھی جیسے میں اس کی طرف دیکھتی تو وہ شرم سے سرخ ہو جاتا اور نظر جھکا لیتا شاید یہ سب اس کے بھی بس میں نہ رہا تھا وہی کشش اسے بھی میری طرف بری طرح کھنچ رہی تھی مگر اس کی حیا میرے دل کو ایسی بھائی کہ پل وہ اس اجنبی کی ہو گئی  شرم سے پانی تو میں بھی ہوئی جا رہی تھی بیٹا تمہارے والد کا نام کیا ہے امی نے بغور ان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا جی شہاب علی مگر کیوں آنٹی ؟؟ ان کے جواب پر امی کا چہرہ ایک دم خوشی سے کھل اٹھا سعدیہ کے بیٹے ہو ؟؟؟؟ جی مگر ۔۔۔۔ارے بیٹا جب تم لوگ بہت چھوٹے تھے تب ہمارے پڑوسی ہوا کرتے تھے ان ابو سے تمہارے والد کی اچھی دوستی تھی اہ یہ تو بہت اچھی بات ہے وہ خوشی سے بولے جیسے مجھ تک پہنچنے کے لئے اس کے رستے هموار ہو گئے ہوں  کچھ ہی پل وہ بیٹھے تھے پھر چل دیے ۔وہ رات میرے 22 سالوں کی تمام تر راتوں سے الگ تھی مهكتی ہوئی زندگی کو نئے موڑ پر لے جانے والی دل میں بہت ہلچل تھی مگر میں اس ہلچل کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی جو میں چاہ کر بھی نہ کر سکی کچھ ہی دن میں وہ میرے دل پر راج کرنے لگے ان کی آنکھ میں چھپی حیا ان کا انداز گفتگو ان کا اخلاق میں تو بس انہی کی ہو کر رہ گئی یہی حال ان کا بھی تھا
ان کے اور میرے والد پورانے جاننے والے نکلے شاید یہ قسمت تھی جو ہم دونوں کو ملانے کے سبب پیدا کر رہی تھی بتا نہیں سکتی ابو نے ان کا کھانا کیا تھا جب وہ اور ان کی بہن بھی آئی تھی  مسكان تو ان کے لبوں پر سے جا ہی نہیں رہی تھی کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد میں برتن سمیٹ کر چائے تیار کر رہی تھی کہ مجھے اچانک ان کے وجود کی خوشبو محسوس ہوئی ایک گلاس پانی ملے گا میں ان کو یہاں دیکھ سٹپٹا سی گئی ج جی ۔۔۔پانی پینے کے بعد وہ گویا ہوۓ حبا مجھے آپ بہت پسند ہیں جب سے آپ کو دیکھا ہے آپ ہی کا ہو گیا ہوں یہ میری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ ہے اگر آپ بھی مجھے پسند کرتی ہیں تو اس کو پہن کر باہر آ جائیں اگر نہیں پہنی تو بھی میں آپ کی مرضی سمجھ جاؤں گا یہ بول کر وہ ایک انگوٹھی وہاں رکھے چلے گئے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا مگر پھر میں نے وہی کیا جو دل نے مجھ سے کروا دیا میں نے شاہ زیب کی محبت کی یہ نشانی اپنے وجود کا حصہ بنا لی اور چائے لے کر مہمانوں کے پاس چل دی شاہ زیب بہت بے چین لگ رہے تھے مگر جیسے ہی میری انگلیمیں اپنی محبت کا اقرار دیکھا تو خوشی سے جھوم گئے پہلی بار انہوں نے نظر بھر کر میرے چہرے کی طرف دیکھا ان کی نظر سے میں پانی پانی ہو گئی ایک خاموش مسكان دونوں کے لبوں پر تھی  ان دنوں کتنی خوش تھی یوں لگتا جیسے ہواؤں میں ہوں پھر انکل نے ہمیں ایک رات کھانے پر بلایا میں نے جی بھر کر سنگهار کیا تھا اس دن جب ہم ان کے گھر پہنچے میری نظر مسلسل شاہ زیب کو تلاش رہی تھی مگر وہ نہ دکھے تھے  اچانک ہی میں ایک مضبوط نوجوان سے ٹکرائی خود کو سمبھال نہ سکی گر تے گرتے انہی نے سمبهالا غلطی بھی اپنی تھی مگر ایک غیر کا ہاتھ میری کمر کو چھوا تھا مجھے غصہ آنے لگا تو اچھی خاصی سنا دی ان کو کافی دیر سنانے کے بعد بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ ہاتھ باندھے تابعداری کے ساتھ میری ڈانٹ سن رہے تھے مجھے شرمندگی سی ہوئی میں وہاں سے چل دی وہ بہت وجیہ تھا بڑی بڑی آنکھیں ان میں شوخی تھی مگر مجھے وہ شوخی بلکل نہ بھائی تھی خیر اس کے بعد وہ مجھے نہ دکھا شاہ زیب اس دن کام کے سلسلے میں باہر تھے میں اداس سی ہو گئی تھی خیر ۔۔۔۔کچھ عرصہ کے بعد ایک دن شاہ زیب کی امی اور بہن آئی تھیں اسی رات امی نے مجھ سے بات کی کہ شہاب انکل اور ان کی بیوی تم کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں ہمیں تو پسند ہے لڑکا تمہیں کوئی اعترض تو نہیں مجھے بھلا کیا اعترض ہو سکتا تھا میں تو خوشی سے کھل اٹھی جیسا آپ مناسب سمجھیں امی یہ بولتی میں وہاں سے چل دی آج وہ لوگ رسم کرنے آئے  تھے شاہ زیب بھی ساتھ تھے وقت رسم ہوا میرے چہرے پر حیا دمکنے لگی شاہزیب کی والدہ نے مجھے انگوٹھی ڈالی جس کی وجہ سے میرے ہاتھ سے وہ انگوٹھی اتار لی گئی جس کو میں نے پہلے ہی اس انگلی میں پہن رکھا تھا یہ شاہ زیب ہی کی محبت کی نشانی تھی میں سمجھ نہ سکی تھی کہ اس انگوٹھی کے اترتے وقت مجھے اس قدر تڑپ سی کیوں محسوس ہوئی تھی خیر مجھے انگوٹھی ڈال دی گئی میں نے  شاہ زیب کے چہرے کی طرف دیکھا مگر وہ بے تاثر کھڑے رہے اگلے ہی پل مجھ پر قیامت برپا ہو گئی جب میری ساس نے کہا کہ آج سے تم میرے بیٹے زوہیب کی امانت ہوئی ۔۔۔
در اصل جس لڑکے سے میں اس دن ٹکرای تھی وہ ان کا دوسرا بیٹا شاہ زیب کا چھوٹا بھائی زوہیب تھا اس نے مجھے پہلی بار دیکھ کر ہی پسند کر لیا تھا پسند کیا اسے نے مجھ سے عشق کیا تھا اور پھر اسی کے کہنے پر یہ رسم کی گئی شاہ زیب بھائی کی محبت میں چپ ہو رہے میں ٹوٹ گئی سمجھ نہ آیا کیا کروں شاہ زیب نے آنکھ کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا تو میں سمجھ گئی کہ اب انکار کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا اگر میں اپنی محبت اور حق کی خاطر ابھی کھڑی بھی ہو جاؤں تو وہ محبوب ہی مجھے اپنانے سے انکار کر دے گا ۔پل میں خوشیاں بر باد ہو گئی میں بے جان مورت بن گئی میری زوہیب سے منگنی کے بعد شاہ زیب کبھی ہمارے گھر نہ آئے ۔زوہیب کی کزن کی شادی تھی ہم لوگ ہی مدعو تھے گھر میں کافی گہما گہمی تھی میں ان کے لان میں گم صم بیٹھی تھی ٹهند بہت تھی مگر مجھے اس کی پرواہ نہ تھی اچانک مجھ پر کسی نے پیچھے سے گرم جیکٹ ڈال دی میں نے چونک کر دیکھا تو وہ زوہیب تھا اس کی شکل دیکھتے ہی مجھے غصہ آنے لگتا تھا میں غصے سے اٹھ کر جانے لگی تو اس نے میری کلای تھام لی میں نے چھڑانی چاہی تو اس نے مجھ کو کھنچ کے خود کے قریب کیا جس سے میں اس کے کشاده سینے سے جا لگی اس کا چہرہ میرے چہرے کے بلکل نزدیک تھا ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں دیکھ رہے تھے اس کی سانس تک میں اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی ایک پل کے لئے وہ مجھے بہت بھلا لگا اس کی اس بے باکی نے مجھے اندر تک جهنجھوڑ دیا تھا شاہ زیب کا انداز ایسا بلکل نہ تھا مگر وہ بس ایک پل ہی تھا میں نے غصے اور نفرت سے خود کو اس کی بانہوں سے چھڑانا چاہا مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی میں بے بس ہو گئی وہ مسلسل مجھے تکے جا رہا تھا ۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔میں غصے سے بولی اب اور انتظار نہیں ہوتا جلد ہی میری دلہن بن کر آجاؤ نہ جانتی ہو میری بہت خواہش ہے  تمہیں اپنی دلہن بنے دیکھنا 
وہ شوخی سے مسکرایا پھر اس نے مجھے آزاد کر دیا مجھے وہ زہر لگا میں نے اس کو کھری کھری سنا دی مگر وہ مسلسل مسکراتا ہی رہا میں وہاں سے چل دی مگر اس کے وجود کی مہک ابھی تک میرے انگ انگ میں بسی تھی اتنے قریب آج تک میرے کوئی نہ ہوا تھا وہ پہلا شخص تھا ۔۔ 
بس پھر یہ سلسلہ یوں ہی رہا وہ پیار لٹاتے نہیں تهکتا تھا اور میں اسے ذلیل کرتے نہ تهکتی وہ بیچارہ تو ایسا کرنے کی وجہ بھی نہ جانتا تھا اس نے میری ہر بد تمیزی ہر بد سلوکی کا جواب بس نرمی اور محبت سے دیا میں ان دنوں بہت تکلف میں تھی قسمت کا سارا غصہ اس پر اتار دیتی چھ ماہ یوں ہی گزر گئے ۔اب ہماری شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی

زوہیب تو خوشی سے پاگل تھے ان دنوں اور میں زندہ لاش بن گئی تھی اپنے محبوب کو ساری عمر اب جیٹھ کی شکل میں دیکھنا تھا میں بہت دعا کرتی تھی کہ کوئی راستہ پیدا ہو جو مجھے اور شاہ زیب کو ایک کر دے وقت  پر لگا کر ا ڑتا  رہا اور میں زوہیب کی دلہن بن گئی بارات بہت دھوم دھام سے آئی تھی بہت شاندار بارات تھی کتنے چاہت  سے زوہیب مجھے بياه نے آیا تھا وہ رات اس کے ارمانوں سے سجی تھی اس کا چہرہ تو چاند کی طرح دمک رہا تھا مسکراہٹ اک پل کو بھی چہرے سے غائب نہ ہوئی آخر ہمارا نکاح ہو گیا اب میں پوری طرح  سے زوہیب کی ہو گئی اب تو مجھ پر صرف اور صرف اس کا حق تھا یہاں تک کہ میرے خیالوں پر بھی اپنی بے بسی پر میں خون کے آنسو رو رہی تھی وقت رخصت آ گیا میں نے ارادہ کر لیا میں اب بھی شاہ زیب کی جگہ کسی کو نہ دوں گی مجھے اس پل زوہیب کے وجود سے نفرت محسوس ہونے لگی عمر بھر میں نے اس کو اس نفرت کی آگ میں جلانے کا فیصلہ کر لیا ۔
میں عروسی لباس پہنے گھونگھٹ اوڑھے زوہیب کی سیج پر بیٹھی تھی کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور میری ساس پهپپھو  زو ہیب کی پھپھو بوکھلائی ہوئی سی کمرے میں داخل ہوئی سنو بیٹا زوہیب کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے وہ بہت زخمی ہے مگر ہوسپٹل  نہ جانے کی ضد بچو کی طرح کر رہا ہے ہم نے پوری کوشش کی مگر وہ بلکل نہ مانا بولتا ہے جیسا سب کچھ چل رہا تھا ویسا ہو ہونا چاہیے تو بیٹا تم بہت دھیان رکھنا اور بس کسی طرح سے اس کو ہوسپٹل کے لیے تیار کر لو فلحال تو ہم نے اس کی بات رکھ لی ہے اور ہوش میں ہے خطرے کی کوئی بات بھی نہیں پریشان نہ ہو بچے ٹھیک ہے نہ یہ بول کر وہ چلی گئیں مگر میں نے جتنا سنا  مجھ پر بجلی گرا گیا کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ ایک بار پھر کھلا زوہیب اندر داخل ہوئے تھے
ان کا بدن جگہ جگہ سے زخمی تھا اور خون رس رہا تھا نیلی شیروانی خون خون ہو گئی تھی چوٹیں معمولی نہ تھی میں پریشن بہت ہوئی مگر ظاہر نہ کیا اور بے رخی سے بیٹھی رہی وہ بیڈ پر قریب آ کر بیٹھ گئے تکلیف سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا ان کی دو پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں مگر میں اس بات سے بے خبر تھی ۔۔
ہماری بیگم سے صبر نہیں ہوا کیا گھونگھٹ خود ہی اٹھا لیا وہ حسب عادت گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولے میں آپ کی بیگم نہیں ہوں یہ بات ذہن نشین کر لیں ۔۔میں غصے سے بولی وہ ہمیشہ کی طرح ہنس دیے تھے
اچھا ؟؟ نکاح کیا ہے تم سے میں نے بیگم م م وہ بغور میرے چہرے کا جائزہ لیتے ہوے مجھے ستانے کے انداز سے بولے 
میں نے ان کی طرف جب نظر اٹھا کر دیکھا تو محسوس ہوا وہ خاصی تکلیف میں تھے 
آپ آرام کریں زیادہ بات آپ کے لئے ٹھیک نہیں ہے اس وقت لیٹ جائیں زوہیب میں نے زندگی میں پہلی بار ان سے نرمی سے بات کی تھی جس پر وہ مجھے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگے اور پھر مسکرا کر بیڈ کے تاج سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے انہوں نے تکلیف سے آنکھیں بھینچی تھیں مگر میرے محبت بھرے رویہ کی  ان کے چہرے پر چمک بھی ضرور تھی میں نے اٹھ کر ان کا تکیہ درست کیا اور ان کو ٹھیک سے بٹھایا آج مجھے احساس ہو رہا تھا وہ مجھ سے کس شدت کی محبت کرتے ہیں میرا دل یک دم ہی نرم پڑ گیا یا پھر یہ نکاح کی طاقت تھی شاید میں خاموش بیٹھی رہی وہ کافی دیر میری خوبصورتی کی تعریف کرتے رہے تھے پھر مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا میرے چہرے پر آئی ایک لٹ کو انہوں نے بہت پیار سے میرے چہرے پر سے ہٹایا میری نظر اچانک بیڈ شیٹ پر پڑی تو وہ خون سے بھری ہوئی تھی زو ہیب ب ۔۔۔۔
آپ کیا بچپنہ کر رہے ہیں آپ کو ہوسپٹل جانا چاہیے ابھی کے ابھی میں غصے سے بولی وہ بس بیٹھے مجھے دیکھ کر مسکرا تے رہے
ایک بار سینے سے نہیں لگو گی ؟؟؟ انہوں نے بازو پھیلایا وہی پل تھا جب ہر محبت مانند پڑ گئی اور نکاح کا تقدس مضبوط ثابت ہوا ایک ہی پل میں دل اس مہربان کو جیون ساتھی ماننے پر تسلیم ہو گیا یوں لگا میری محبت پر صرف میرے شوہر کا حق ہے کسی غیر کا خیال اک گناہ کے علاوه اور کچھ نہیں اس پل میں نے اپنا ماضی بھلا کر سچے دل سے خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے  زوہیب کے سپرد کر دیا تھا اور روتے ہوئے ان کے سینے سے لگ گئی بلکل پاگل ہیں آپ زوہیب چھوٹے بچو کی طرح میں کہیں بھاگ جاتی کیا ؟؟ جو یوں اس حالت میں بھی آپ ۔۔۔ش ش ۔۔۔۔انہوں نے میرے ھونٹٹو پر انگلی رکھ دی تم نہیں جانتی میری جان یہ پل میرے لئے کیا اهميت رکھتے ہیں اس وقت کے لئے میں نے کتنا انتظار کیا ہے یاد ہے نہ میں نے تم سے کہا تھا کہ میری خواہش ہے تمہیں اپنی دلہن بنے بیٹھے دیکھنا
تو کیسے جانے دیتا ان پلوں کو  ۔۔یہ بولتے ہوۓ ان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں کاش تم میری ہوتی حبا ۔۔۔۔۔
پہلی بار میں نے زوہیب کی آنکھوں میں آنسو اور مایوسی دیکھی تھی میں کہنا چاہتی تھی کہ میں آپ ہی کی ہوں مگر کہہ نہ سکی ۔۔۔انہوں نے مجھے ایک چین منہ دکھای پہنائی پھر میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے آنکھیں بند کر کے سکون سے لیٹ گئے زوہیب زیادہ باتیں نہ کریں آپ آرام کریں میں بولی مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا زو ہیب ۔۔۔؟؟؟ میں نے زور سے بلایا جواب نہ پا کر میرے ہاتھ پیر پھولنے لگے زوہیب ب ب ؟؟ اب میں نے ان کو پوری طرح جھجھوڑ دیا تو ان کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی مجھ پر قیامت ٹوٹ گئی میں چیخ اٹھی میری چیخ سن کر وہاں گھر والے بھی آ گئے اور بس پھر کچھ ہی دیر میں  گھر میں کہرام مچ گیا
نہیں ں ں ۔۔۔میں بے اختیار زو ہیب کے سینے سے لپٹ گئی مگر آج انہوں نے حسب عادت شرارت کے ساتھ مجھے اپنے بازوں کی گرفت میں نہیں لیا میرے کانوں میں اپنے ہی الفاظ گونجنے لگے میں آپ کی بیگم نہیں ہوں اور قدرت نے مجھے میرے کہے الفاظ کی ایسی سزا دی کہ بس کچھ ہی دیر میں واقعی اب میں زوہیب کی بیگم سے ان کی بیوہ ہو گئی تھی ۔۔۔۔

زوہیب کے چلے جانے کے بعد گھر والوں نے شاہ زیب اور میری شادی کر دی وہی جس سے شادی کے میں خواب دیکھتی تھی اسی سے شادی کے لئے میرا دل بلکل تیار نہ تھا خود کو زوہیب کی امانت سمجھتی تھی ان کے چلے جانے کے بعد ان کی باتوں سے محبت کی میں نے جو وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے میں بار بار بیہوش ہو جاتی تھی حالت بہت خراب ہو گئی تھی یوں لگتا جیسے زو ہیب ابھی آ جائیں گے دل ان کی موت کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہ تھا  میں خود کو اب ہمیشہ زو ہیب ہی کی اما نت بنا کر رکھنا چاہتی تھی مگر گھر والوں کے زور دینے پر میری شاہ زیب کی  شادی ہو ہی گئی مجھے شاہ زیب نے اپنی محبت کے سہارے نئی زندگی دی ورنہ میں تو زو ہیب کے ساتھ ہی چلی جاتی 
ہاں میں نے چاہا تھا کہ کوئی ایسا راستہ بنے کے میں اور شاہ زیب ایک ہو جائیں مگر وہ د عا اس صورت پوری ہو گی یہ میں نے نہ سوچا تھا ۔مجھے شک تھا کہ جیسے ان کی موت کی ذمہ دار میں ہی ہوں مگر پھر ایک دن وہ شک یقین میں بدل گیا جب ہمارے ڈرائیور سے اس رات کے بارے میں میری تفصالی بات ہوئی جب اس نے بتایا کہ بارات جب واپس لوٹ رہی تھی تب زوہیب صاحب نے بہانے سے مجھے اور گاڑی میں بیٹھی ان کی امی اور پھپھو کو دوسری گاڑی میں بھیج دیا پھر کچھ ہی دیر بعد ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا تھا ۔۔ڈرائیور کی بات نے مجھے بے چین کر دیا تو کیا زو ہیب نے جان بوجھ کر مگر کیوں ۔۔۔۔وہ تو بہت خوش تھے ۔۔اور جلد ہی مجھے میرے اس سوال کا بھی جواب مل گیا جب شاہ زیب نے مجھے بتایا کہ تمہارے نکاح کے بعد جو تم مجھ سے ملنے آئی تھی اور مجھ سے شکوه کر رہی تھی وہ سب کچھ زوہیب نے سن لیا تھا اور وہ حقیقت جان گیا تھا تب وہ میرے گلے لگ کر بہت رویا تھا بار بار خود کو ہم دونوں کا  قصور وار ٹھہرانے لگا مگر میرے سمجھانے پر وہ سمجھ گیا تھا کیوں کہ نکاح ہو چکا تھا اب کوئی راستہ نہ تھا میں نہیں جانتا تھا کہ اس کی خاموشی کے پیچھے یہ وجہ تھی ۔۔
 آج زو ہیب کو اس دنیا سے گئی 6 سال گزر چکے ہیں مگر وہ شادی کی  رات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے ۔۔آج بھی مجھے ان کی یاد آ تی ہے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا وہ محبت تھی جو میں نے شاہ زیب کو پہلی نظر دیکھتے ہی کی یا وہ محبت تھی جو نکاح کے بعد میں نے زو ہیب کے لئے محسوس کی 

ختم شد

Link to comment

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...