Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 28/12/22 in all areas

  1. 1 like
    I AM new member
  2. چھوٹو گینگ نے کہانی لکھنے والے کو اغوا کر لیا ہے۔ ایف آئی آر شروع کر دی گئی ہے۔ جلد ریلیز کیا جائے گا۔
  3. اپڈیٹ نمبر 4 چھوٹو گینگ کے ظلم کی داستاں انسپیکٹر آصف گھر پہنچا ملازم جس کا نام بختو اور عمر تقریباً 50 سال کا تھا کو آواز دی بابا کھانا لگاؤ خود واش روم گھس گیا کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر نائٹ ڈریس پہن کر واش روم سے باہر نکلا اتنی دیر میں بختو بابا کھانا لے کر آ گیا اور انسپیکٹر آصف نے کھانا کھایا کھانا کھانے کے بعد بابا بختو چاۓ کا کپ دیتے ہوے انسپیکٹر آصف سے کہا بیٹابڑی بی بی کا فون آیا تھا آپ کا پوچھ رہی تھی آپ کے بارے میں کافی فکر مند تھی تو میں نے ان کو تسلی دی کہ آپ ٹھیک ہیں پر وہ کافی دل برداشتہ تھی اور بار بار بول رہی تھی کہ تمہیں سمجھاؤں کہ تم اپنی پوسٹنگ یہاں سے کسی دوسری جگہ کروا لو بختو بابا نے کہا اماں کو میری فکر ہے مجھے پتہ ہے ان کو جب میری یہاں پوسٹنگ کا پتہ چلا وہ کافی ڈر گئی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہاں ڈاکو راج ہے اور ان ڈکووں کی دہشت کی وجہ سے وہ کافی خوفزدہ تھی پر بابا میری سرکاری نوکری ہے میں یہاں جرائم کی روک تھام کے لیے آیا ہوں افسران کو پورا اعتماد ہے کہ میں ان درندوں کا مقابلہ کر کے کرار واقع سزاہ دیلواؤنگا آپ تو سمجھتے ہیں انسپیکٹر آصف نے کہا بیٹا مجھے پورا یقین ہے تم پہ کہ تم ان درندوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں چلو بیٹا آرام کرو کافی تھک گئے ہو گے ادھی رات گزر چکی ہے بختو بابا نے پر خلوص لہجہ میں کہا انسپیکٹر آصف نے سر ہلا کر اپنے بیڈ پر سونے کیلیے لیٹ گیا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک موبائل بج اٹھا آصف نے ناگواری سے موبائل اٹھا کر بات کی اور ایک دم سے چونک آٹھا اور جلدی سے کہا میں آتا ہوں تم وہاں باقی کے کام نپٹاؤ انسپیکٹر آصف ٹراوزر اور شرٹ پہنے باہر موجود گاڑی کی طرف گیا اور گھر سے روانہ ہو گیا کچھ ہی دیر بعد وہ جب متعلقہ جگہ پہنچا تو وہاں پولیس کی نفری اور ایمبولینس کی گاڑیاں موجود تھی انسپیکٹر آصف کو دیکھ کر ایک نوجوان فوری اس جانب آیا اور انسپیکٹر آصف کو سلیوٹ کیا مسافربس اور وین پر چھوٹو گینگ کی ڈکیتی اور قتل کے بارے میں رپورٹ دینے لگا انسپیکٹر آصف اس نوجوان کو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ موبائل بجا موبائل نکال کر بات سنی اور جی سر میں موقع پر موجود ہوں جلد رپورٹ تیار کر کے آپ کو صبح تک پیش کرونگا جی سر آپ بے فکر رہیں ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے اوکے سر دوسری طرف سے سن کر آصف نے گہراہ سانس لیتے ہوئے موبائل بند کیا اور کہا کہ ارسلان یہ کاروئی پولیس کو چیلنج دینے کے مطرادف ہے میں اس گینگ کو نہیں چھوڑوں گا انھوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے ڈی پی او صاحب بہت غصہ میں ہیں اور وہ اس گینگ کے خلاف کاروائی کا حکم دہے ہیں اب جلد ہی ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے انسپیکٹر آصف نے جوشیلے انداز میں کہا اور جواب میں ارسلان نے کہا جی سر ان مسافروں خصوصا خواتین اور بچے کافی خوف زدہ ہیں ان بے رحم لوگوں نے جس طرح گارڈ کا قتل اور لوٹاہے لوگ کو بہت خوفزدہ کر دیا ہے آپ بے فکر رہیں ہم جلد ہی ان ظالموں کو کیفریکردار تک پہنچائیں گے خواتین سے تو انہوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی انسپیکٹر صدف نے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے نہ میں سر ہلایا اوکے ان لوگوں کا بیان ریکارڈ کر لو اور ان سب کے ایڈریس لے کر قانونی کاروائی مکمل کرو اور پولیس پروٹیکشن میں یہاں سے روانہ کرو اور نعش کو پوستمارٹم کے لیے ہسپتال بھیجو اور رات کو پولیس کا گشت اور موثر کرو اور اس جیسا گھنونہ واقع دوبارہ نہ ہونے پائے اس کے بارے میں انتظام کرو اور تم خود اب اس کی نگرانی کرو گے انسپیکٹر آصف نے کہا اور واپس گاڑی کی جانب آ کر گھر کی جانب روانہ ہو گیا سردار چھوٹو لیٹا ہوا چھمیہ سے بہت پیار سے بولا کہ آج مزاج آ گیا کیا کمال کا چدی ہے تو گانڈ بھی تیری سیل بند تھی سردار میرا تو تکلیف سے برا حال ہو گیا ہے گانڈ میں ایسا لگ رہا ہے کہ لال مرچ ڈال دی ہو اور تیری ضد کی وجہ سے ادھ منہ کر دیا ہے میری گانڈ کو تھوڑہ بھی رحم نہیں آیا سردار تجھے تو چھمیہ نے تکلیف دہ آواز میں کرہاتے ہوے جواب دیا سردار نے قہقہ لگا کر کر کہا چھو ڑ او چھمیہ تو توخوش قسمت ہے کہ تیری پھدی اور گانڈ سردار چھوٹو نے کھولی ہے وہ بھی پیار سے ابھی تو تو نے سردار چھوٹو کا غصہ دیکھا نہیں چل اب اٹھ اور جا کل پھر آ جانا تہمکانا لہجہ میں کہا اور سردار چھوٹو کپڑے پہن کر کمرے سے باہر آگیا اور آواز دی بگو کہا گیا ہے اس کو بلا لا باہر کھڑے مسلح شخص سے کہا تو اس نے جواب دیا سردار وہ بندوں کے ساتھ کہی گیا ہے اچھا چل میں سونے جارہا ہوں تو اس چھمیہ کو گھر چھوڑ آ اور سن کوئی حرکت نہ کرنا جی سردار جو حکم مسلح شخص نے کہا (ریڈرز کی پرزور ریکوسٹ پر سرائیکی کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا ) کمرے میں پہنچ کر اب سائیں نے نیلی سے کہا جانو آؤ نہ میرے پاس کیوں غصہ کرتی رہتی ہو تم جیسی حسینہ تو بس صرف مسکراتی ہوئی ہی پیاری لگتی ہے تمہیں پتہ ہے نہ کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تم تو میری جان ہو ابا سئیں نے اپنی باہوں میں لے کر نیلی سے کہا اور اپنے ہونٹ نیلی کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور آرام آرام سے چوسنا شروع کر دیے پہلے اوپر والا ہونٹ چوسا اور مدہوش ہو کر کہا تمہارے ہونٹوں کا رس جب تک نہ پیؤں مجھے سکون ہی نہیں آتا کیا لزت ہے ان میں اور پھر نیچے والے ہونٹ کو چوسنا شروع کیا جی سائیں مجھے پتہ ہے کہ مجھے تڑپانے میں آپ کو مزہ آتا ہے میں بھی اپ کے بغیر نہی رہ سکتی اس بات کا اپ کو تو پتہ ہی ہے اور آپ اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں نا نیلی نے ابا سائیں کا چہرے کو پکڑ کر ایک سائڈ پر کرتے ہوئے کہا نیلی میری جان تو میں کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا بس کام بھی تو کرنا ہوتا ہے تو سمجھا کر آخر تو نہیں سمجھے گی تو اور کون سمجھے گا بس تو منہ نہ بنایا کر میرے دل کو کچھ ہوتا ہے جب میں تمہیں غصہ میں دیکھتا ہوں اب سئیں نے کہا اور پھر ہونٹوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی پر نیلی بھی تڑپانا خوب جانتی تھی اس نے منہ پھیر لیا اور کہا میں سب سمجھتی ہوں سائیں اپ کے مسکوں کو میں اگر آپ آیندہ سے وقت پر نہ ایے تو آپ نیلی کو چھو بھی نہ سکو گے یہ آپ کی سزا ہو گی اب سائیں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا نہ میری جان ایسا نہ کہوں میں وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ میں جلد آیا کروں گا اب جلدی سے اپنے ہونٹوں کا جام پینے دو بس کرو نہ تڑپا و ابا سائیں نے التجائیا لہجہ میں کہا نیلی ہنس پڑی حاضر میرے راج کمار اور اپنے ہونٹ ابا سائیں کے ہونٹوں پر رکھ دیا کافی دیر کسنگ کے بعد ابا سائیں نے اپنی قمیض اتاری اور اور نیلی کی بھی قمیض اتار دی جس سے اس کا دودھیا خوبصورت بدن اور بلیک برا میں قید ممے ابا سئیں کو دعوت پیار دے رہے تھے واقعی نیلی کا جسم ایک دوشیزہ کے جسم کی طرح خوبصورت اور کمال کا کسہ ہوا تھا پیٹ اندر کو اور مموں کا سائز 38 پتلی کمر اور گانڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی جو کسی بھی کو بھی بے قابو کرنے کے لیے کافی تھی ابا سائیں نے جب حوس زدہ نگاہوں سے نیلی کے خوبصورت بدن کو دیکھا تو دیکھاتا ہی رہ گیا اور کہا آج بھی تم پہلی رات کی دلہن کی طرح حسین و جمیل اور کچی کلی لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے حسن کے سہر میں جکڑ سا گیا ہوں نیلی میری جان واقع ہی تم بہت ہی خوبصورت ہو نیلی نے شرما کر کہا سائیں اپ ہر بار یہی کہتے ہیں میں نہیں آپ کی نگاہیں خوبصورت ہیں جن کو ہر چیز خوبصورت لگتی ہے ابا سئیں نے ایک قہقہ لگایا اور اپنے ہونٹوں کو نیلی کی گردن پر رکھا اور پوری گردن پر اپنی زبان پھیرنے لگا نیلی مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی سائیں آپ کے پیار کرنے کا انداز مجھے بے قرار کر دیتا ہے اور اپنے حاتھوں کی انگلیوں سے ابا سئیں کے سینے کی نپلز کو مسلنے لگی جس سے ابا سئیں کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی اور اسی دوران نیلی نے اپنی زبان سے سینے پر موجود نپلز پر پھیرنا شروع کیا ابا سئی کپکپا اٹھے نیلی ابا سئیں کے نپلز چوستی جا رہی تھی اور ابا سئیں آنکھیں بند کیے مزے سے آوازیں نکال رہے تھے ابا سئیں اپنے ہاتھوں 38 سائز کےنیلی کے گول مٹول مموں کو دبا رہے تھے اباسئیں نے اپنے نپلز چوستی نیلی کے چہرے کو اپنی انگلی سے اپ کیا اور ہونٹوں کو چوسنے لگا کمر پر موجود برا کا ہک کھولنے لگا اور مموں کو برا سے آزاد کر دیا ہونٹوں کو چھوڑ کر اباسئیں آزاد مموں پر ایسے ٹوٹا جیسے دیر ہو گئی تو ان کا رس چوسنے سے محروم نہ ہو جائے جہاں جہاں مموں پر ابا سائیں چوستہ وہاں وہاں پیار کے سرخ نشان پڑتے جا رہے تھے جو اس کی پتلی اور نرم و ملائم جلد کی نشان دہی کر رہے تھے اباسئیں نے مموں کا نپل چوستااور انگلی پھودی کی لکیر پر پھیر رہا تھا جس سے نیلی گانڈ اٹھا آٹھا کر انگلی کو اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی پر ابا سئیں تو انگلی شلوار کے اوپر اوپر سے ہی پھیر کر تڑپا رہا تھا نیلی اچانک سے ابا سائیں کو دھکیلا اور اب سائیں کی شلوار اتار کر لن کو دونوں ھاتھوں سے مٹھ مارنے کے انداز میں ہلانے لگی اس وقت اباسئیں کا لن پورے جوبن پر تھا لمبا اور موٹا لن نیلی کے دونوں ہاتھوں میں پورہ نہیں آ رہا تھا پھر نیلی نے لن پر اپنے گرم ہونٹ رکھے تو ابا سائیں کے منہ آہ آہ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی مداحوش آواز آنے لگی نیلی لن کو ایسے چوس رہی تھی جیسے بچے لولی پاپ مزے سے چوستے ہیں چوپہ لگاتے لگاتے ابا سئیں نے اچانک ہی نیلی کو روکا اور نیلی کی شلوار اتار کر اس کی پھودی میں اپنی انگلی ڈال کر دانے کو چھیڑتا رہا اور اپنی زبان کو نیلی کے مموں اور پھر پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیتا جس سے نیلی کی سرور سے بھری آوازیں کمرے میں گونج رہی تھی جب بھی انگلی پھدی کے دانہ سے رگڑ کھاتی جس سے نیلی کے جسم میں سرور کی سی کیفیت ہوتی اور سیکسی آوازنکلتی اباسئیں نے نیلی کو نیچے لٹا کر اپنا لن اس کی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور آہستہ آہستہ لن کو اندر ڈالنا شروع کیا لن نیلی کی ٹائٹ پھودی میں مشکل سے جا رہا تھا نیلی کمال کی سیکسی جسم کی مالک تھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے جسم کا خاص خیال رکھتی ہے ابا سائیں نے ایک ہلکا سا جھٹکا لگایا جس سے لن پدھی کی دیوروں کو مسلتا ہو آدھا اندر چلا گیا جس سے نیلی کے گلے سے ایک مسحورکن آہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی جان من تمہیں پتا نہیں میں کتنا بےتاب ہوتا ہوں تمہاری پھدی میں لن ڈالنے کیلیے سئیں نے ایک زور دار جھٹکا لگایا جس سے پورہ لن جڑہ تک پھدی کے اندر چلا گیا اور مزے سے نیلی کی چیخ نکل گئی اور کہا سئیں آرام سے ڈالو اس کی آوازمیں سرور تھا لگ رہا تھا کہ وہ سیکس کو انجوائے کر کے کرنا چاہتی ہے ابا سئیں نے کہا حا ضر سائیں جو میری رانی کا حکم میں آرام سے ہی ڈالوں گا اگلی بار اور ہنسنا شروع کر دیا اس وقت ابا سئیں لن کو اندر باہر کرنے میں مشغول اور ساتھ ساتھ ہی وہ دونوں مزے سے بھرپور سیکسی آوازیں نکال رہے تھے اور گھپ گھپ کو آوازوں اس بات کی گوئی دے رہی تھی کہ پھودی مزے سے پوری طرح گیلی ہو چکی ہے دونوں کے مسرور کن اوازیں نکل رہی تھی اندر باہر کرتے ابا سئیں ایک دم رک گیا لن کو باہر نکال کر نیلی کو کہا کہا جانو! ڈاگی سٹائل میں کرتے ہیں نیلی مسکرائی اور ابا سئیں کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا اور لن پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا جو حکم میری سرکار لن کو دیکھتے اور ہلاتے ہوئے کہا اور اگے کو جھک گی ابا سئیں نے جب باہر کو ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھا اور اس پر انگلیاں پھیرنے لگا تو نیلی نے فورا کہا سئیں پھدی نہیں ہے یہ جلدی ڈالو پدھی میں گانڈ کو کچھ مت کرو حاضر سئیں جو میری رانی کہے میں تابع دار اور اپنا لن حاتھوں سے پکڑ کر ڈوگی سٹائل بنی نیلی کی پھودی کے سراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر کی طرف دباؤں دینے لگا اور اپنے ہاتھوں سے مموں کو پکڑ لیا اور جھٹکے مارنے لگا جھٹکوں سے نیلی کے ممے اگے پیچھے ہورہے تھے نیلی نے مزے سے کہا سئیں اور زور سے زور سے زور سے جھٹکوں کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی ہر جھٹکے پر دونوں کی ایک الگ سی مدہوش آواز نکلتی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ نیلی کا جسم اکڑا اور ساتھ ہی پدھی کے اندر سیلاب سا آ گیا ابا سئیں نے بھی جھٹکوں کی رفتار کو بڑھایا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی پھدی کے اندر ہی ریلیز ہو گیا اور اس کی سانس پھولی ہوئی تھی پدھی سے لن نکال کر ایک سائیڈ پر لیٹ گیا جبکہ نیلی الٹی ہی لیٹ گی اب سائیں نے کہا میری جان آج تو تو نے مجھے تھکا دیا ہے تیری پدھی کمال کی ہے میرے جسم کا سارہ پانی نچوڑ لیتی ہے سائیں اپ کا ہتھیار بھی کمال کا ہے میری جان نکال لیتا ہے پر مزہ بہت آتا ہے نیلی نے بند آنکھوں سے ہی پر سرور لہجہ میں جواب دیا یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک نوجوان پینٹ شرٹ میں ملبوس تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ اچانک سے وہ لڑکھڑیا اور اور زمین پر گرا وہاں ایک سائڈ پر موجود لڑکی جو کہ موبائل پر چیٹ کر رہی تھی اچانک سے اس لڑکے کو گرتے دیکھ کر گھبرا گئی بھائی چوٹ تو نہیں لگی اس لڑکی نے کہا چوٹ تو نہیں لگی بچ گیا ہوں ویسے میں گرتا تو نہیں ہوں آج پتہ نہیں کیسے لوڑک گیا ڈاکٹر ٹھیک کہتا تھا آج مجھے اس کی بات کی سمجھ آئی ہے اس نوجوان للڑکے نے کہا ڈاکٹر کیا کہتا تھا بھائی اس لڑکی نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا جی ڈاکٹر کہتا تھا کہ تم کافی کمزور ہو گئے ہو اپنی جان بناؤ ٹھیک ہو جاؤ گے پہلے تو مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا پر آج مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ ٹھیک بول رہا تھا لڑکے نے کہا لڑکی نے کہا بھائی ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں تاکہ اس طرح دوبارہ نہ گر پڑیں اور چوٹ لگ جائے جی وہ نا دراصل مجھے شرم آتی ہے لڑکے نے کہا لڑکی حیران ہو کر بولی کہ بھائی اس میں شرم کی کیا بات ہے تو لڑکے نے جھٹ سے کہا کہ جی وہ نہ آپ میری جان بنیں گی لڑکی یہ بات سن کر ایک دم شاک ہوئی بھائی کیا مطلب اس کا جی وہ میں ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی تو عمل کر رہا ہوں تاکہ میں دوبارہ نہ گر سکوں لڑکے نے کہا بھائی ڈاکٹر نے آپ کو اپنی جان مطلب کھانے پینے کا بولا ہے اور اپ یہ کیا بات کر رہے ہیں لڑکی نے غصیلے لہجہ میں کہا جی جی میں تو سمجھا تھا کہ وہ مجھے کسی کو اپنی جان بنانے کو بول رہے تھے جو باوجود کوشش کے مجھ سے نہیں بن سکی ویسے اپ سے ایک سوال پوچھوں اگر اپ ناراض نہ ہوں لڑکے نے ہکلاتے ہوے کہا جی بھائی پوچھیں لڑکی نے بے چارگی کے انداز میں کہا کیا میں خوبصورت نہیں ہو کیا مجھے اپنی جان بنانے کا کوئی حق نہیں ہے کیا میں اس طرح اکیلا ہی رہوں گا لڑکے نے افسردہ سے لہجہ میں کہا کیوں نہیں ہے حق اپ خوبصورت اور اچھی پرسنیلٹی کے حامل لڑکے ہوں ایسی تو بظاہر آپ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لڑکی نے جواب دیا تو پھر آپ کیوں نہیں میری جان بن رہی ہیں اگر اپ کو مجھ میں یہ سب کچھ اچھا نظر آ رہا ہے تو لڑکے نے معصومانہ لحجہ میں کہا بھائی میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آج پہلی بار اپ کو دیکھا ہے یہ کچھ زیادہ نہیں ہو رہا اتنا سٹیٹ فارورڈ آپ نے کہ دیا ایسا کیسے ممکن ہے بھائی لڑکی نے گھبرائے ہوے جواب دیا اور جانے کیلے اٹھ کھڑی ہوئی لڑکے نے ایک دم لڑکی کو اٹھتے دیکھا تو فورا ہی کہا جی میں آپ کو ٹائم دیتا ہوں آپ سے اس بارے میں کل بات کرونگا ٹھیک ہے آپ باقی دن اور پوری رات اس بارے میں زرور سوچیں لڑکے نے معصومانہ انداز میں کہا اور جواب سنے بغیر ایک جانب چل پڑا
  4. تیسری طرف نبیل کی لاٹری لگ رہی کہ اسے بھی اپنے ابا حضور کی طرح ایک پہ ایک کے بجائے دو،دو مل رہی ہیں اور نبیل کا لالچ کم نہیں ہو گا ان دو پہ وہ گزارہ نہیں کرے گا وہ اور منہ مارے گا حتی کہ بہن کو دیکھے گا یہ محض قیاس آرائی ہے باقی ڈاکٹر صاحب کے قلم پر منحصر ہے
  5. تاحال پلان یہی ہے کہ اس کو پیڈ کر دیا جائے،کسی مرحلے پہ۔ مگر نظرثانی کی جا سکتی ہے مگر اس کا وعدہ نہیں کر سکتے۔
  6. Awesome attractive amazing applaude doctor sb kamal ki update hai
  7. Group roleplay k liye koi ha?
  8. کیا یہ فل سٹوری ہے۔یا بس ابھی شروع ہوئی ہے ۔ اور اگر فل ہے تو کتنے کی ملے گی۔۔۔؟
  9. Tu kasi or writer ko de day na
  10. 1 like
    aik dopata apny sir pr achy sy lya or dhadkty hoy dil ky saath apny flat ka darwaza khola or bahir dekha. Garmyon ki dophar thi to bahir koi bhi nahi tha sub log apny apny kaam pr thy ya gharon main araam kr rhy thy. Saba ny apny flat ky gate sy bahir pair rakha or apny flat ko lock kr ky apni bechaini ko control krty hoy qadam barhaay or Major ky darwaazy ky saamny ja kr khari ho gai. Yaha tak to woh aa chuki hoi thi lakin ab uski himmat nahi ho rahi thi ky woh kaisy knock kry darwazy pr. usky saans buhat phool rhy thy........ or dil ki dharkan taiz ho rahi thi......., aik traf usy major ky paas jaany ka khouf tha to doosri traf yeh bhi dar tha ky koi dekh na ly usy. jub us ki himmat na hoi to wapis palat aai. lakin do qadam barhaa kr hi phir palti or aik baar phir Major ky darwazy pr thi. Is baar kaanmpty huy haath uthy or us ny bell daba hi di. Bell ky dabaany ky baad lamhy ghantoon ki trah guzarny lagy. aisy lag rha tha jaisy pata nahi kitni dair ho gai hai usy bell dye hoy or koi khol hi nhi raha darwaza. Dobara bell dainy ki us main himmat nahi thi. abhi woh palatny ka soch hi rahi thi ky darwaza khul gya or usky saamny Major sb ky jawan or taqatwar jism khara nazar aany laga......... or jaisy hi Saba ki nazar Major ky ooperi nangy jism pr pari to to uski tagain kaanmpny lagin........... uski nazar ab siraf usky jisam pr hi thi.......sanwala rang lakin buhat hi mazboot jisam...... woh bus usky jisam ko taky jaa rahi thi.......... Jaisy hi Major sb ny Saba ko apny darwazy pr or phir apny nangy jisam ko ghoorty hoy dekha to khud ba khud hi usky chehry pr muskrahat phail gai. Major: haan kya baat hai........ kya krny aai hai...... abhi to main ny tape chalai bhi nahi hai........... phir ku aagai hai.......... ab kis kaam sy bhej dya hai tujhy tery us bhadway ny............. Saba: plz Major sb........ aisa na kahain.......... woooo........ wooo.... muuuujjj.....hyyyyy............ aap sy khuch baat krni thi...... Saba jaisy hosh main aaty hoy boli Maor ki pahli baat ny hi aik Major: haan kr jaldi meri neend kharab na kr......... Major ny doputty main lipty hoy Saba ky khoobsorat to gudaaz jism ko dekhty hoy kaha............ Saba bari hi bechaini ky saath apny haathy ki unglyon ko aik doosry main pewast kr rahi thi or khool rahi thi....or apny flat ki keys ky ring ko mazbooti sy pakry hoy thi. Saba: ny idhar udhar dekha............ or boli, ... nhi wo yaha nahi.......... koi dekh ly ga............... Major: yahan nahi to phir kya mujhy kisi hotel main ya park main milny ka kahny aai hai.............. yeh rundyon waly kaam kub sy shuru kr dye tu ny...... tujhy to tery us shouhar ny bari koi shareef bana kr paish kya hua hai sub ky saamny. Saba: plz major sb........ aisa mat bolain....... andar ja kr baat ho sakti hai kya aap sy sirf chand minute.....Saba ko buhat be izzati mahsos ho rahi thi lakin usy pata tha ky Major usy zaleel kye bina nahi rah sakta.......... Major ki baton sy zaleel hony pr woh khud ko buhat hi bebus mahsoos kr rahi thi ............. usy khayal aa rha tha ky woh aakhir kyun dobara isky saamny aagai thi............. Major: lakin agar tery shouhar ny tujhy mery flat main dekh lya to??????? khalaf e twaqu is baar Major khuch narmi sy bola tha... Saba ghabra kr: nahi plz bus thori dair baat krni hai aap sy.......... Saba ny minnat samajat ki uski......... Major ny bhi idhar udhar dekha or muskra dya or phir thora raasta daity hoy bola.................. theek hai to phir aajao andar ........andar aa ky baat kr lo..... lakin jaldi krna...... mery paas time nahi hai..... Saba ny aik nazar phir sy corridor main daali or buhat hi teiz dhadakty hoy dil ky saath Major ky flat main qadam rakh dya. Major darwazy main hi khara raha or Saba ko guzarny ky lye thora sa raasta dya.... aik lamhy ky lye to Saba ko Major ki yeh baat bhi buhat buri lagi lakin phir waqat ki nazakat ko dekhty hoy wo aagy barh gai jo woh haasil krny aai thi usky lye usy khuch to bardasht krna hi tha na...... or phir wohi hua jo Major chahta tha........ Saba ka jisam usky jisam sy choo kr aagy gya..........usky andar aany ky baad Major ny bhi apna darwaza band kr lya................ Saba aagy aagy chal rahi thi or Major usky peechy peechy aata hua us ki sudool kamar or khoobsorat motty motty hips ko dekh rha tha. Saba ko yahi khouf dil main aa rha tha ky ...........abhi yeh wahshi janwar mujhy peechy sy daboch ly ga or aik baar phir sy wohi khail shuru kr dy ga...... Saba kisi bhi lamhy usky hathon ka lams apny jisam or gaand pr mahsoos krny ky lye khud ko tyaar kr chuki thi..............lakin Major ny aisi koi harkat na ki jis sy Saba ko thora hosla hua or ky shayad baat ban jaay........... kya mast gaand hai..........Major ny socha....... usy yaqeen nahi ho rha tha ky yeh usky flat main aai hai........... chahy baat krny ky lye hi aai ho.sitting room main aakar Major ny switch board sy pankhy ka button dabaya or aik do button or bhi on kr dye. lakin is baat ka ilm Saba ko nahi hua ku ky woh aagy aagy chal rahi thi. Major ky flat ky sitting room main pohnchi to dekha ky buhat hi betarteeb sa kamra hai har traf kapry or saaman bikhra para hai. farsh pr idhar udhar cigrette ky tukdy or machis ki teelyan bikhri pari hoi thi. aik corner main balcony ki khidki ky paas hi Major ny apna exercise ka samaan rakha hua tha. kitchen ka bhi bura haal lag rha tha. aik traf aik couch para hua tha jis pr aik gool takya rakha hua tha Major ny bethny ky lye. flat main usy cigrette or sharab ki badboo bhi aa rahi thi........ mili juli hoi........Major ky haath main is waqt bhi cigrette moujood thi. aik traf aik sofa bhi para hua tha. Major seedha jaa kar us couch pr beth gya lakin us ny Saba ko bethny ky lye nahi bola. or Saba bhi khamoshi sy saamny khari rahi us ny bhi sofy pr bethna pasand nahi kya. Saba dekh rahi thi ky Major ny us waqt aik bermuda pehna hua tha cotton ka jo ky usky knees sy just neechy khatam ho rha tha. uska ooperi jism bilkul nanga tha. usky seeny or pait ky muscles buhat achi shape main thy. usky bazooun ky biceps bhi achy khaasy phooly huy thy. Neechy uski legs bhi kaafi mazboot or solid lag rahi thi. gehra sanwla rang tha Major ky jism ka jisy kaala bhi nahi kaha jaa sakta. body builders ki trah Major ka seena bhi baloon sy bilkul paak tha. Usky seeny gardan or jism pr paseena bilkul saaf behta hoa nazar aarha tha jaisy abhi abhi bhi woh execise krty hoy gate kholny aaya ho. Saba ki nazron main usky jism ky jism ky poory utaar charhaao saaf thy or usky jism ki taqat ka andaza usy ho rha tha. usky jism ka foran hi Saba ny muqabla Ashraf ky jism ky saath kya to usy ahsaas hoa ky Ashraf to us sy kaafi kamzoor hai or woh us sy hargiz bhi larai nhi kr sakta. Major ka jism usy kaafi taqatwar lag rha tha Major ky seeny or shoulders pr usy lamby lamby bareek sy bilkul patli lakeeron ki trah ky zakhmon ky nishaan nazar aarhy thy. Saba foran hi samjh gai ky yeh usky nails ky nishan hai jo ky us din us ny Major ky jism pr daaly thy khud ko bachaaty hoy. Yeh baat yaad aaty hi us din ka waqa dobara kisi recording ki trah sy usky dimagh main chalny laga jub Major ka yahi mazboot taqatwar jism Saba ky goory nazuk jism ky ooper tha or woh usy buhat hi buri trah sy ragad rha tha................. us din ky hoy apny rape or buhat hi wahshyana andaz ki chudaai ko yaad kr ky Saba ky dil ki dhadkan be tarteeb hony lagi..... or usy apni tangain kamzoor parti hoi mahsoos hony lagin....... jaisy uski tangoon sy jaan nikal rahi ho......... abhi woh Major ky jism ko dekhty hoy us din ki batoon ko hi yaad kr rahi thi ky Major ki awaz ny usy chounka dya. Major: haan jaldi bol ab kya baat krni hai tujhy mery saath. Major ny cigrette ka dhoona udaaty hoy kaha. Saba: wo... main is lye aai thi ky ........... app.............. plz........... meri woh video................ Major: hahahahahah.............. acha acha apni nangi movie dekhny ky lye aai hai tu............ ly abhi dekhaa daita hoon...... Saba: jaldi sy boli........nahi nahi...... mera yeh matlb nahi tha...... main yeh kahna chahti thi...... ky aap.............. wo video...... delete kr dain....... Major: hahahahahah........ delete kr doon.......?????????? kyun kr doon bhi....... ary us video main tery nangy jism ko dekh dekh ky to main muth maarta hoon har rooz........... or tu kahti hai ky main usy delete kr doon.......... pagal ho gai hai kya......... Saba ka Major ki baat sun kar chehra sharam sy surkh ho gya........... usy yeh umeed nahi thi ky Major aisi giri hoi baat bhi kr sakta hai us sy........ us ny aajtak aisi zubaan main kisi sy baat nahi suni thi or kabhi Ashraf ny bhi us sy koi ghalat qisam ki guftugu nahi ki thi.. jo bhi baat Major krta tha woh Saba ky lye nai hi hoti thi...... woh jis mahool main bari hoi thi...........jis family background sy taluq rakhti thi waha pr aisi sub batoon ko bura samjha jaata tha......... or aagy bhi ab woh jis family main beyaah kr aai thi......Ashraf ky saath woh family bhi kaafi mazhabi or shareef thi....... waha bhi usy hamesha pardy or sharam ka hi mahool mila tha............Major saisy ghaleez zehan ky shahaks sy khuch bhi umeed ki jaa sakti thi. ......... usy Major pr gussa bhi aya lakin woh apna gussa apny chehry pr laaye bina andar hi pee gai..........pata nahi kyun usy apni yeh beizzati or Major ki gandi batain buhat ziada ajeeb ya buri nahi lag rahi thin........shayad is lye ky usy pata tha ky yeh shakhs aisy hi bolta hai........... lakin thora ajeeb yeh tha ky aisi gadni batain pahli baar sun kr usky jisam main ajeeb si sansanahat hony lagi thi......... jaisy ky woh aik kanwari larki ho or uski kisi dost ny us sy sex ky baary main koi baat pahli pahli baar ki ho..........us pehly pehly mouky pr har larki ko apni sahaili ki woh batain gandi or buri bhi lag rahi hoti hain or usky saath hi larki ky jisam main aik ajeeb sa nasaha bhi paida kr daiti hain............ or woh yeh faisla krny ky qabil nahi rahti ky uski dost ny jo baat ki hai woh usky lye theek bhi hai ya nahi......... is waqt uski wohi kaifyat thi............ Major: us waqt to teri gaand buhat hi uchal rahi thi ky tu meri video sub ko dekhaa ky mujhy zaleel kry gi to ab jaati ku nahi ho dekhaany ky lye Saba: Major sb woh meri ghalti thi main aap sy maafi maangti hoon. main aap ki video aap ko dy doon gi lakin....... plz aap wo video mujhy dy dain.......... agar woh kisi ny dekh li to meri shaadi shuda zindagi tabah ho jay gi...............plzzzzzzzz Major: ari rundi agar main ny wo video tujhy dy di or phir wo tery us thookuu ny dekh li to phir to teri mout pakki.......... ya phir woh tujhy ghar sy nikaal dy ga...... or ghar sy nikaal dya tujhy to kya kry gi phir............... siway isky ky tu aik rundi ban jay........ isi lye kahta hoon ky wo video mery paas hifazat sy pari rahny dy............ isi main hum dono ki bhalaai hai... chul shaabash ab nikal yaha sy or apny ghar jaa....................... mera time khooti na kr.... Saba ny khuch dair or Major ki minnat samajat ki lakin Major usi trah sy uska mazak uraata raha usy zaleel krta raha....... Saba pahly to bardasht krti rahi lakin ahista ahsita usky sabar ka paimaana bhi labraiz hony laga usky andar gussa intehaa ko pohnch raha tha............ uska bus nahi chal raha tha ky woh kisi cheez sy us kameeny pr hamla kr dy.......... is waqt ab usky dimagh main siwaay apni humiliation ky khuch nahi tha........ woh apni awaaz ko thora oounchi krti hoi gussy sy boli...... Saba: Major sb mery sabar ka imtehaan na lain......... tum ko to koi bhi tameez nahi hai........ kameeny aadmi ho tum........ seedhi trah sy wo video mujhy dy do...... Major takye ky saath take laga kr hansty hoy, kya kr ly gi tu mera.........itny din ho gy hain tujhy chody huy agar tery main koi ghairat hoti to ya tery us dully shouhar main khuch ghairat or himmat hoti to mera gala ghoont daity aaky........ lakin tu to hai hi rundi......... or woh tera shouhar tera pimp hai....... isi lye us din sy dono chup ho.... Saba sy ab bardasht krna mushkil ho gya tha us ny gussy sy idhar udhar dekha to uski nazar table pr pary hoy paani ky jug pr pari..... Saba ny usy uthaya or zoor sy Major ko dy maara or boli...... kameeny tu hai hi ghatya or zaleel ............ aaj tujhy zinda nahi choroon gi....... ab jo bhi cheez Saba ky haath main aati woh usy uthaati or Major pr kheench maarti......... aik traf usy Major ki hi pari hoi army wali patli stick pari nazar aai............. Saba ny lapak kr usy uthaaya or gussy sy bhapri hoi Major pr toot pari...........woh bhool chuki thi ky woh aik aurat hai or Major ky aik mazboot mard..... uska nazuk jisam uska koi bhi muqabla nahi kr sakta lakin gussy sy woh pagal ho rahi thi........doosri traf....... abhi bhi Major zoor zoor sy hans rha tha..........usy Saba ki in harkaton sy jaisy maza aarha ho.........jaisy woh Saba ki bebasi pr hans raha ho...... uski yahi ghinouni hansi hi to Saba ka gussa or barhaa rahi thi. .. jaisy hi Saba stick ly kar Major ki traf barhi to Major bhi couch pr sy uth gya or khud ko Saba ky zoor daar waar sy bachaany ki koshish krny laga. Major ny couch sy uth kr Saba ko dabochna chaha or apni traf barhy hoy Saba ky haath ko yakdum sy pakar lya or haath maro rny laga lakin yakdum sy hi Saba uski is harkat ky matlb ko samjh gai or achanak sy apna haath chudwaya or darwazy ki traf bhaagi................. abhi main gate pr pohnch ko wo darwazy ko khol bhi nahi paai thi ky Major jo usky peechy hi lapka tha us ny Saba ki kamar main haath daal kr usy peechy hi pakar lya or zoor sy peechy ki traf kheenchny laga Saba: ........... nahi nahi........... aaj phir sy nahi................ aisa nahi hony doon gi main............ naheeeeeeeeeeeeeeeee............ plz nahi.............jaany do mujhy........... Baat cheet krny tak ki baat to theek thi lakin Major pr hamla kr ky Saba ny buhat bari ghalti kr li thi...........or Major ko jaisy gussa dilaa dya tha............or Saba ka us wahshi ky haathon bach paana aasan nahi lag raha tha........ Saba ky andar ka kouf poori trah sy saamny aachuka hua tha or usy pata lag gya tha ky woh aik baar phir sy Major ki grift main hai woh buri trah sy tarap rahi thi........haath pair maar rahi thi lakin Major ki mazboot grift usy kaha nikalny dainy wali thi............... Saba ko apni ghalti ka ahsaas ho gya tha ky us ny usky flat main aakr ghalti ki hai........... buhat bari ghalti......... jiska jurmana usy pata nahi kitna bharna pary ga......................... kisi doll ki trah sy Major ny Saba ky machalty or mazahimat krty hoy jism ko apni mazboot bazooun main utaa lya or wapis couch ki traf barhny laga....... Saba ny apny hathon ky taiz nakhoono sy Major ky jism ko zakhmi krna chaha...... lakin uska Major ky lohy jaisy jisam pr kya asar hona tha........... jaaty jaaty Saba ny Major ky kandhy pr apna monh rakha or apny daant usky shoulder main gaarh dye........... Major ky jisam sy nikal raha hua uska paseena Saba ky monh main namkeen sa zaiqa chorny laga.......... lakin is waqt Saba ko khuch parwah nahi thi........ siway is baat ky ...........k woh khud ko or apni izzat ko is baar Major ky haathon lutny sy bachaa ly............lakin............ filhaal to Major ka hi palla bhaari tha........us ny laa kar couch pr patakh dya

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.