Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 13/12/22 in all areas

  1. قسط نمبر2:۔ دوستوں یہاں سے کہانی سکپ کرتا ہوں سیدھے وہاں چلتے ہیں جہا ں میری ٹریننگ ختم ہوئی اور میں گھر جانے کے لیے تیار تھا۔ میرے استاد کرنل صاحب نے ایک نصیحت کی تھی کہ دماغ کو ٹھنڈا رکھوگے کبھی بھی ہارو گے نہیں جہاں تم نے جلد بازی اور گرم دماغ سے کام لیا وہاں تم ہار جاؤگے باقی تم اب ہر طرح تیار ہو۔ ان پندہ ماہ میں میرا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ تھا کیوں کہ ہم جنگلات میں ٹریننگ کرتے تھے۔ میں کبھی اپنی بہن نمرہ سے اور باقی سب سے اتناعرصہ جدا نہ رہا تھا لیکن روزانہ ٹریننگ 20گھنٹوں کی ٹریننگ نے مجھے سب کچھ بھلا رکھا تھا لیکن جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا تو سب کی یا د آئی وہ ماں کا اپنے ہاتھ سے کھانہ کھیلانا، چھوٹی ماں کی گود میں سر رکھنا، نمرہ کے ساتھ مستی کرنا سب یا د آنا شروع ہوگیا۔ جب گھر پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا سب گھر والے اکھٹے تھے اور کچھ رشتہ دار بھی تھے۔میں سب سے ملا لیکن مجھے نمرہ نظر نہ آئی میری بے چین نظریں نمرہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن وہ نظر نہ آئی میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب سے تم گئے ہو وہ بیمار رہنے لگی ہے اپنے کمرہ میں ہوگی میں وہاں بھاگا نمر ہ کے کمرہ میں وہا ں دیکھا تو نمرہ لیٹی پڑی تھی لیکن وہ نمرہ نہ تھی جس کو میں یہاں چھوڑ گیا تھا بہت بیمار لگ رہی تھی اور جیسے میں کمرہ میں گیا تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی میں تڑپ گیا میری جان مجھ سے بات نہ کرے ایسا تو کبھی نہ تھا میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے صرف اتنا کہا کہ افی تم مجھے کیوں چھوڑ گئے تھے پھر ہم دونوں رونے لگ پڑے میں نے اس کو کھینچ کر گلے لگایا اور کافی دیر اس کو اپنے آپ سے چپکائے رکھا پھر باقی گھر والے بھی آگئے تو چھوٹی امی نے کہا کہ تم کے جانے کا اتنا اثر لیا کہ اتنا بیمار ہوگئی چل پھر بھی نہ سکتی ہے میں نے بولا اب میں آگیا ہوں نہ اب یہ ٹھیک ہوجائے گی جلد ہی۔ پھر سب کو دھیان آیا کہ میرے میں کتنا چینج آگیا ہے ان پندہ ماہ میں میرا قد تو پہلے ہی 6فٹ تھا اور باڈی مضبوط تھی لیکن اب میرے باڈی کی الگ ہی لک تھی بھرا جسم 6پیک مضبوط بازو اور لمبی مضبو ط ٹانگیں سرخ و سفید رنگ لمبے اور گھنے بال جو کہ ایک خاص ترتیب میں تھے۔ اس وقت میں ٹراؤز ر میں تھا۔ اور فٹنگ والی شرٹ پہن رکھی تھی جو کہ میری باڈی سے چپک رہی تھی جس وجہ سے میری باڈی نمایا ں لگ رہی تھی اور الگ ہی لک دے رہی تھی۔ امی نے بولا میرا بیٹابہت پیارا لگ رہا کسی کی نظر نہ لگے۔پھر رات کو جشن منایا گیا نیاز بانٹی گئی اور صدقے کے بکرے ذیبہ کیے گیے۔ اب مقابلہ کا دن قریب آرہا تھا تو میرا زیادہ تر وقت ٹریننگ میں ہی گزرتا تھا اب نمرہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی اس کے چہرہ پر زندگی کی رونک لوٹ آئی تھی جب میں ٹریننگ سے فری ہوتا تو زیادہ وقت ہم ساتھ گزارتے آخر وہ دن بھی آگیا جس کا لوگ 25سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بڑے میدان میں انتظام کیا گیا اور انتظام سابقہ سربراہ کی طرف سے ہوتا جو نیا سربراہ ہوتا اس پر اپنی دستار رکھ کر اس کو سارے اختیار سونپتا۔سب سے پہلے جو لوگ اہل تھے ان کی چھانٹی کی گئی جو کہ کیوں بڑے خاندانوں کے لوگ ہی حصہ لے سکتے تھے اور ان کی عمر اور باقی سب چیزوں کی پڑیا ل کی گئی تو مقابلے پر 51امیدوار بنے۔ اب ان کے درمیان تین مقابلہ جات ہونے تھے 1۔ نشانہ بازی 2۔ تیراکی 3۔لڑائی۔ مقابلے شروع ہوچکے تھے سب سے پہلے نشانہ بازی کا مقابلہ ہوا جس میں پہلے نمبر پر آیا تھا میری بچپن سے ہوئی ٹریننگ اور ماہر استاتذہ بہت کام آیا۔ دو سرا مقابلہ تیراکی کا ہوا جس میں تیسری نمبر پر آیا پہلے ان مقابلوں کا مقصد تھا کہ آخری مقابلہ میں کم امیدوار ہوں اب 20 امیدوار رہ گئے تھے جن کے درمیان مقابلہ ہونا باقی تھا ایک سابقہ سربراہ کا بیٹا شیر خان بھی تھا جو کہ تیراکی میں پہلے نمبر پر اور نشانہ بازی میں دوسرے نمبرپرآیا تھا اور وہ بھی اچھا اور طاقتور امیدوار تھا۔ ا سکے اور میرے نمبروں میں 2نمبر کا فرق تھا۔ پھر دوسرے دن مقابلہ شروع ہوئے اور میں جیتتا رہا اب آخری مقابلہ میرا اورشیر خان کا تھا جو کہ دوسرے دن ہونا تھا۔ گھر واپس آیا تو سب نے بہت مبارک دی نمرہ میرے گلے لگی۔ سب بہت خوش تھے۔ میرے جسم پر کافی ضربات آئیں تھیں کیونکہ مقابل بھی پتہ نہیں کیسی کیسی تیار ی کے ساتھ آئے تھے۔ لیکن مجھے ان ضربات کا کوئی اثر نہ تھا میرا جسم پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔ اگر یہ ضربات کسی دوسرے کو لگتی تو وہ شاہد زندہ بھی نہ رہتا۔ لیکن مجھے اتنا مسئلہ نہ تھا۔ میں سونے چلاگیا صبح اُٹھا نماز پڑھی اور اپنے لیے دعا کی۔ اور سکون سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگ پڑا کیونکہ کچھ دیر میں مقابلہ تھا۔ میرا حریف بھی بہت طاقتور تھا گھر میں سب سے ملا اور دعا لی سب نے بولا کہ ہم تب تک دعا کریں گیں جب تک تم جیت نہیں جاتے میری سب بہنیں اور دونوں مائیں تھیں۔ ہم جلوس کی شکل میں میدان میں گئے اور میں نے سجدے میں گر کر د عا کی میرے ابو نے کہا بیٹا آج مجھے یہ خوشی دے دے پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ میں کہا ابومیں اپنی پوری کوشش کروں گاابو بولے کوشش نہیں تم نے جیتنا ہے میں تم کا مقابلہ نہیں دیکھوں گامجھے جیت کا ڈھول سننا ہے۔ (یہ روایت تھی کہ جس خاندان کا امیدار جیتتا اس کی ایک خاص دھن بجائی جاتی) پھر میں اور شیر خان مقابلہ میں اُترے وہ واقع شیر خان تھالیکن میں نے بھی بتادیا کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں شروع شروع میں تو لوگوں میں جوش خروش رہا لیکن ہمارے لڑائی لمبی ہوتی گئی۔ ہمیں لڑتے ہوئے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن آخر شیر خان غصہ میں آگیا اور یہی اس کی غلطی تھی آخر مجھے موقع مل ہی گیا اس نے مجھے راؤنڈ ہاوس کک ماری لیکن میں پہلے ہی پہلو کے بل ہوگیا میں نے اس کو گھوم کر نی لاک لگایا جو کہ میرا سپیشل تھا اس سے موت تو چھڑا سکتی تھی لیکن اور کوئی نہیں شیر خان نے بہت کوشش کی لیکن آخر کا ر اس کو ہار ماننا پڑی اور میں جیت گیا پہلے تو سب پر سکتہ ہوگیا کیونکہ شاہد کسی کو امید نہیں تھی کہ شیر خان ہارے گا۔ لیکن میں جیت گیا اور سجدے میں گرگیا اور رو رو کر شکر ادا کیا ادھر بہت شور و غل تھا آواز سنائی نہ دے رہی تھی فائرنگ آتش بازی ڈھول پتہ نہیں ابونے کیا کیا انتظام کیا ہوا تھا سب نے مجھے کندھوں پر اُٹھالیا اور میرے ارد گرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگ گئے۔ آج رات میری دستار بندی تھی اور جشن تھا میں جلوس کی شکل میں حویلی پہنچے ہمار ا ڈیرہ جس کو ہمارے علاقہ میں بیٹھک بولتے ہیں گھر سے ساتھ ہی ہے اور تین کنال پر مشتمل ہے جس میں گھاس کے تین لان ہیں اور کئی کمرے ہیں مہمانوں کے لیے اور بیٹھنے کے لیے چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور کرسیاں بنی ہوئی ہیں درمیان میں جگہ خالی ہے۔ وہاں پر ڈھول پر ناچ ہو رہا تھا فائرنگ ہورہی تھی ہر طرف جشن کا ماحول تھا میں کچھ دیر کے لیے رخصت لے کر حویلی گیا اور جیسے ہی حویلی داخل ہوا سب میری طرف دوڑے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے سب نے بہت بہت مبارک باد دی۔ قسط نمبر3:۔ رات اسی بڑے میدان میں سب جمع تھے اور جشن کا سماں تھا مجھے کسی طرح دلہے کی طرح سجایا گیا تھا مطلب بہت بہترین لباس خوچی پٹھانوں کا خاص لباس ہے پہنایا گیا اور تیار کیا گیا۔ بہت بڑا مجمع تھا کیونکہ 25گاؤں کے لوگ اکٹھے تھے۔ پھر میری دستا ر بندی شروع ہوئی اور سابقہ سربروہوں نے میرے والد سے دستار لے کر میرے سر بر رکھی اور جیسے ہی رکھے بہت شور ہوا بہت فائرنگ ہوئی۔ پھر بڑے خاندانوں نے تحائف دیے۔ میرے والد نے ایک بہت ہی خوبصورت خنجر جس کی دستہ سونے کا اور میٹل پلاٹینم تھا جس سے لوہے کو بھی کات سکتے ہیں اور اس کی دھار اتنی تیز تھی کہ گلے پر رکھنے کی دیر ہے گلہ الگ۔ اور سابقہ سردار نے ایک بہت ہی خوبصورت پسٹل دیا جو کہ اس نے شیر خان کے لیے رکھا تھا لیکن جیت میں گیا تو اس نے کہا کہ یہ تحفہ سردار کے لیے رکھا تھا اب آپ سردار ہیں تو تحفہ آپ کا ہوا۔ اسی طرح رات تک تقریب جاری ہی اور جشن رہا ناچ گانا چلتا رہا اور بہت سے رقاسائیں ناچتی رہی۔ آخر کار میں اپنے ابو کے ساتھ واپس حویلی آگیا کیونکہ تین دن سے مقابلہ جات کی وجہ سے تھگ گیا تھا اور شیر خان کے ساتھ مقابلہ نے تھکا دیا تھا وہ واقع شیر تھا۔ لیکن میں بھی شیر کی سواری کر ہی ڈالی۔ جیسے ہی حویلی داخل ہوا وہاں کا ماحول بھی جشن کا تھا سب رشتہ دار عورتیں ناچ گا رہی تھی اور جشن چل رہا تھا۔ وہاں پر بھی مجھے بیٹھایا گیا اور سیپشل رقس پیش کیا گیا۔ پھر سب نے مجھے تحفے دیے۔ میرے چچا نے مجھے پراڈو کی چابی دی۔ میری امی نے مجھے ایک لاکٹ دیا جس میں ہیروں سے۔۔۔۔لکھا تھا جو میں نے چوم کر گلے میں ڈال لیا۔ چھوٹی امی نے مجھے آئی فون دیا۔ نور آپی نے مجھے ایک لیپ ٹاپ دیا۔ عائشہ نے مجھے ایک گولڈ واچ گفٹ کی۔ نمرہ نے مجھے ایک ہیوی بائیک کی چابی دی۔ آخر کار میں تھک ہا ر کر تین بجے کمرے میں پہنچا ا ور سوگیا۔ صبح اٹھا اورصرف دو گھنٹے ہی سو پایا تھا کیونکہ بچپن سے عادت تھی جلدی اٹھنے کی پھر جم میں گیا کیونکہ اس کے بغیر تو ایک دن بھی نہیں رہا جاتا اب بچپن کی عادت ہے پھر اب میں سردار بن گیا تھا تو اپنے آپ کو فٹ رکھتا اور بھی ضروری تھا بچپن سے ابو اور میں مل کر ہی اٹھتے اور جم جاتے پھر شوٹنگ پریکٹس کرتے ہیں پھر سوئمنگ کرتے اور پھر گھر جاتے۔ آج بھی یہی کیا۔ میرے ابو مجھ سے بہت خوش تھے۔ کیونکہ ان کا خواب میں نے پورا کردیا تھا۔ ابو نے کہا کہ آج سے تم اپنی مرضی کی زندگی جیو ہر پابندی ختم ہے جو قسم دی ہوئی تھی وہ بھی ختم اب تم ہرقسم کی پابند ی سے آزاد ہو جیسے چاہو مرضی کرو۔ آج رات ایک تحفہ میری طرف سے ہے سردار بننے کی خوشی میں اور وہ تم کو وہ تعلیم دے گی جس سے تم عورت سے کبھی مات نہیں کھاؤ گے میں نے سرجھکا لیا اور وہ ہنس پڑے بولے اسی لیے یہ تعلیم ضروری ہے کہ تم عورت سے بھی آشنا ہوجاؤ۔ خیر ناشتے کی ٹیبل سب موجود تھے اور سب ہی مجھ سے ٹریٹ مانگ رہے تھے۔ تو میں نے بولا آپ لوگ پروگرام بنا لو جہاں بولوگے لے چلوں گا۔ دوستوں ایک بات اور بتاتاچلوں کے شروع میں سٹوری کی ٹیمپو تیز رکھی ہے تاکہ بیگ گراؤنڈ آپ کی سمجھ میں آجائے اب سٹوری نارمل چلے گی۔ دن میں بیٹھک میں ہی رہا جوہ کے گھر سے ساتھ ہی ہے وہاں سارا دن مہمان آتے رہے اور مبارک با د دیتے رہے جن میں اس علاقہ کے ایم این اے، وزیر، اور پولیس آفسران بھی شامل تھے کیونکہ میں اب سردار تھا اور 25گاؤں کا سربراہ تھا جن کی آباد 15سے 20لاکھ تھی جو میرے ایک اشارے پر کچھ پر کر سکتے تھے۔ خیر رات ہوگئی میں حویلی واپس آگیا اور کھانے کی ٹیبل پر سب میرا انتظار کرر ہے تھے ہم سب نے کھانہ کھایا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں ابھی کمرے میں ہی پہنچا تھا کہ نمرہ میرے کمرے میں آگئی وہ ایسے ہی آجاتی تھی کبھی ناک نہیں کرتی تھی۔ بولی افی تم جب سے آئے ہو میرے ساتھ وقت نہیں گزار رہے میں نے کہا یا ایسی کوئی بات نہیں تم کے سامنے ہی ہے کہ جب سے آیا ہوں مجھے وقت ہی نہیں ملا اب وقت ہی وقت ہے تم کے ساتھ ہی گزاروں گا۔ بولی افی اب تو تم پر لاکھوں لڑکیاں مرے گی میں نے بولا کیوں میں زہر ہوں جو مجھ پر مریں گے وہ ہنس پڑی اور بولی نہیں یار اب تم سردار ہو اور ویسے بھی تم بہادر،خوبصورت او ر ایک آئیڈئل بن چکے ہو تو لڑکیاں تم پر مریں گی ہی میں نے کہا اور تم نے کون سے لڑکیوں کو میرے پاس آنے دینا ہے جیسے پہلے نہیں آنے دیا کیا مجھے پتہ نہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کو تم میرے پاس نہیں آنے دیتی تھی تو نمو نے کچھ نہ کہا اور ہنس دی بولی اب تم کہاں رکو گے وہ تو تم ابو کی قسم کی وجہ سے روکے ہوئے تھے میں نے بولا اب میرا بنتا بھی ہے اتنے سال تو انتظار کیا محنت کی اور پھل کھانے کی باری ہے بولی افی کہیں پھل کھاتے کھاتے مجھ سے دور تو نہیں ہوجاؤ گے میں نے بولا یا کیسی باتیں کرتی ہو ایسا ہوسکتا ہے کہ تم سے دور ہوجاؤں بولی میں تو بہن ہوں اب تم مجھے کہاں گھاس ڈالو گے کہاں وقت دو گے ا ب تو رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگو گے میں نے بولا نمو تم مجھے ایسا سمجھتی ہو بولی نہیں میں تم کو بچپن سے جانتی ہوں تم ایسے نہیں ہو لیکن تم کو آج کل کی لڑکیوں کا پتہ نہیں ہے وہ ایسے گھماتی ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا میں نے بولا تو تم میری گارڈ ہو نا مجھے کس کا ڈر میں سب گاؤں کا گارڈ اور کھوالا ہوں تم میری گارڈ ہو تو نمو ہنس پڑی پھر بولی اچھا میں چلتی ہوں رات بہت ہوگئی ہے اب تم اچھے بچوں کی طرح سوجاؤ میں بھی جاتی ہوں اور ہاں گارڈ والی بات یاد رکھنا تم نے ہی مجھے اپنا گارڈ بنایا ہے میں نے بولا یاد رہے گا قسط نمبر4:۔ وہ چلی گئی اور میں سونے کی تیاری کرنے لگا تھوڑی دیر بعد میرے کمرے میں گلناز آئی وہ ہماری ہیڈ ملازمہ ہے مطلب گھر میں جتنی بھی عورتیں اور لڑکیا ں ملازم ہیں ان کی ہیڈ تھی اور سب کی کنٹرولر تھی اس کی عمر تقریباً35سال تھی لیکن لگتی وہ 25کی تھی بھرا بھرا جسم لمبا قد بھاری سینہ باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ پتلی کمر غرض کے چلتا پھرتا آئٹم بمب تھی۔بولی چھوٹے صاحب مجھے بڑے صاحب نے آپ کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔تو میں بولا کون سی خدمت اس وقت تم نے کرنی ہے میں تو اب سونے لگا تھا وہ جی وہ صاحب نے بولا آپ کو تعلیم دینی ہے میں بولا اچھا تو تم میری ٹیچر ہو جو مجھے عورت کی تعلیم دے گی وہ بولی جی مجھے بڑے صاحب نے ڈیوٹی دی ہے کہ میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں اور آپ کو مرد بناؤں میں نے بولا کیا میں مرد نہیں ہوں بولی آپ مرد ہو لیکن لڑکے ہو مرد تو میں آج کی رات آپ کو بناؤں گی میں بولا ٹھیک ہے مجھے بتاؤ میں کیا کروں پھر میں بولا تم کو کیسے پتہ کہ میں ابھی تک لڑ کا ہوں مرد نہیں بنا کنوارہ ہوں بولی میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک تو آپ کو قسم دی گئی تھی دوسرا آپ کی نظروں میں کبھی بھی حوس نہیں دیکھی حالانکہ گھر میں ایک سے ایک ملازمہ ہیں اور گاؤں کی لڑلیاں بھی ایک سے ایک ہیں لیکن آپ کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں بولا ابھی میں جس حالت میں کھڑی ہوں کوئی دوسرا ہوتا تو مجھے آتے ہی مجھ پر ٹوٹ پڑتا واقع ہی میں نے کبھی کچھ نہیں کیا صرف ٹریننگ پر دھیان ہی دیا تھا کبھی کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا نہ خیال آیا اور وہ اس وقت فل آئٹم بنی کھڑی تھی اس نے سلک کا فل فٹنگ والا جوڑا پہنا تھا جس سے اس کے جسم کے تمام حصے نمایاں تھے ایک ایک کٹ واضح نظر آرہا تھالیکن میں نے دھیان ہی نہیں دیا میں اس کو دیکھ رہا تھا تو گلناز بولی میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں گی آپ کو اتنا ماہر بنادوں گی کہ آپ عورت کے دل کی ہربات آپ جان سکتے ہیں اس کی خواہش کیا ہے کیسے پوری کرسکتے ہیں وہ آپ سے کیا چاہتی ہے آپ کیسے جان سکتے ہیں۔ عورت کو سکون کیسے دیا جاتا اور کیسے تڑپایا جاتا ہے کیسے اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گلناز کو میں اب ناز لکھوں گا کیوں کہ ہم اسے ناز ہی کہتے تھے۔ میں شرمانے لگ گیا کیونکہ پہلی بار کسی عورت سے ایسی باتیں سن رہا تھا تو ناز بولی تم کی یہی شرم تو اُتارنی ہے بولی جس نی کی شرم اس کے پھوٹے کرم شرمانا نہیں اگر تم شرماؤ کے کچھ بھی نہیں کرپاؤ گے لڑکیاں اس کو پسند کرتی ہیں جو شرماتا نہیں شرمانا تو لڑکیوں کا کام ہے اور صاحب جی آپ شرمانے لگے میں نے بولا تم اب میری ٹیچر ہو مجھے صاحب جی مت بولو تم مجھے افی کہہ سکتی ہو۔ ہم م م م کیا بولی فریش ہونا ہے یا ہوچکے ہو میں بولا ہوچکا ہوں۔ بولی آؤ تم کو عورت سے روشنا س کراؤں اور تم کو مرد بناؤں میں جھجھک رہا تھا اس نے میرا ہاتھ پکڑا تو میرے جسم میں کرنٹ دوڑنا شروع ہوگیا یہ نہیں کہ پہلی بار کسی عورت یا لڑکی نے ہاتھ پکڑا تھا امی نے نمرہ نے چھوٹی ماں نے کئی بار پکڑا ان کے گلے بھی لگا پر یہ کچھ اور ہی تھا ناز بولی لگتا ہے مجھے پہل کرنی پڑے گی اور تم کی شرم اُتانی پڑے گی میں بولا جی صرف اتنا ہی کہہ پایا۔ اس نے مجھے گلے لگا یا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میرے جسم میں سنسنی شروع ہوچکی تھی ایسا پہلی بار ہو رہا تھا اس نے میرے گالوں کو چومنا شروع کردیا میرے پورے منہ کو چومنا شروع کردیا میں اس وقت لوز ٹراؤزر میں تھا اور بنیان پہنی ہوئی تھی کیوکہ رات کا میرا یہی لباس تھااس نے میرے میرے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا بولی واہ کیا سینہ ہے کمال کی باڈی ہے میں حیران تھا کہ اس کا قد پانچ فٹ سے کچھ اوپر ہے اور وہ میرے برابر کیسے ہے نیچے دیکھا تھا تو وہ چھوٹی ٹولی پر کھڑی تھی کیونکہ میرا قدچھ فٹ تین انچ تھا۔ اس نے میری بنیان اتارنا شروع کردی اور میری بنیان اتار دی اب میں صرف ٹراؤزرمیں تھا میں نے بھی آہستہ سے ہاتھ اس کے کمر پر رکھ لیے اور پھیرنا شروع کردیے جیسے ہی ہاتھی اس کی کمر پر لگے تو اس نے مجھے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ میرے ہاتھ اس نے پکڑ کر اپنی باہر کو نکلی ہوئی گانڈپر رکھ دیے او ر میرے سنیے اور بازؤوں کو چومنا شروع کردیا پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن کچھ دیر بعد میں بھی اس کا ساتھ دینا ناز میرے نیچے والے ہونٹوں کو چوسنا شروع کرچکی تھی اور میں نے اس کے اوپر والے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا اور میں نے ناز کی گانڈ پر پکڑ سخت کرد ی میرے ہاتھ اب لوہا بن چکے تھے تو ناز نے میرے ہونٹ چھوڑے اور بولی افی آرام سے تم کے ہاتھ بہت سخت ہیں آرام سے اور پیار سے دباؤ میں نے بولا سوری سب پہلی دفعہ ہے نا تو تھوڑا مسئلہ تو گا بولی کوئی بات نہیں سب سیکھ جاؤ گے۔ میں نے پکڑ اب ڈھیلی کر دی تھی۔ اور آرام سے ناز کی گانڈ مسل رہا تھا نیچے میرا لن اب سر اٹھا رہا تھا ناز نے میرے سینے سے ہوتے ہوئے نیچے میرے پیٹ کی طرف آنا شروع کردیا اور اور میرے پیٹ کو چومنا شروع کردیا تھا اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھے ہوئے تھے مجھے یہ سب بہت عجیب لگ ر ہا تھا سب پہلی بار ہورہا تھا۔ ناز نے میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے تو ایکدم مجھے کرنٹ لگا پہلی بار تھا کسی عورت کے سینہ پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔ میں نے ناز کے سینے کو مسلنا شروع کردیا اور پھر ناز کی قمیض کو اتارنا شروع کردیا لیکن وہ بہت تنگ تھی اس کے مموں کے پاس آکر پھنس گئی تو ناز بولی روکو میں خود اُتارتی ہوں اس طرح پھاڑ دو گے میں واپس کیسے جاؤں گی تو میں رک گیا ناز نے قمیض سے پہلے ایک مما نکالا اور پھر دو سرا نکالااور قمیض کو سرسے باہر نکالا اور قمیض اتار دی جیسے ہی میری نظر اس کے سینہ پر مموں پر پڑی تو ایکدم ساخت ہوگیا اس نے بلیک کلر کی برا پہنی تھی اور اس میں سے اس کے 38سائز کے ممے جو کہ سائز مجھے اس نے بعد میں بتایا تھا باہر آنے کو بیتاب تھے میں فوراً کسی چھوٹے بچے کی طرح ان پر جھپٹ پڑا اور ہاتھوں سے مسلنا شروع کردیا اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہوگئی بولی آرام سے میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی تم کے ہاتھ بھی بہت سخت ہیں اس طرح تو کوئی لڑکی تم کے ساتھ راضی نہیں ہوگی پیار سے کرو عورت کو جتنا مزا دو گے اتنی ہی تمہارے غلام بنے گی اس کو درد دو گے تو وہ تم سے دور بھاگے گی میں بولا پہلی بار ہے اس لیے شاہد ایسا ہوا آئندہ احتیاط کروں گا بولی میں تم کی ٹیچر ہوں میں تم کو سکھانا چاہتی ہوں اس لیے بار بار ٹوک رہی ہوں تاکہ تم ایکس پرٹ بن جاؤ۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسلنا شروع کردیا لیکن اب کی بار آرام سے اور پیار سے بولی ان سے کھیلو گے میں بولا ہاں تو اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر برا کی ہک کھول دی اور ممے اچھل کر باہر آگئے میں ان کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلناشروع کردیا اس کے منہ سے سکاریاں نکلنا شروع ہوچکی تھیں ڈر گیا شاہد کے در د ہورہا ہے ہاتھ ہٹالیے تونا ز بولی ہاتھ کیوں ہٹالیے بولا تم کو درد ہورہا تھابولی یہ درد نہیں یہی تو مزا ہے جب عورتوں کو مزا آتا ہے تو منہ سے ایسی ہی آوازیں نکالتی تھیں۔دوستوں مجھے پتہ نہ تھا کیونکہ نہ تو کبھی چودائی کی تھی نہ دیکھی تھی۔پھر میں نے دوبارہ ناز کے خربوزے سائز مموں کو مسلنا شروع کردیا کبھی ایک پکڑتا کبھی دوسرا پکڑتا اور مسلتا میں ناز کے مموں میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ نیچے میرا لن فل کھڑا تھا میں اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا میرے ٹراؤزر کے سامنے بڑا سا تمبو بنا ہوا تھا جب ناز نے ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لن پر ہاتھ رکھا تو ایک بار تو پیچھے ہٹ کر میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے ٹراؤزر نیچے کر کے ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا میر ا لن فل کھڑا تھا اور پتھر بنا ہوا تھا اور اوپر نیچے جھٹکے کھا رہا تھا ناز کی آنکھو ں میں عجیب سی چمک تھی چہرہ سرخ ہو رہا تھا اس نے بازو جب میرے لن کے ساتھ لگایا ناپنے کے لیے تو اس کی بازو میں اورمیرے لن میں اور اس کے بازو میں کوئی فرق نہ تھا میرا لن تقریباً11انچ لمبا اور 4انچ موٹا تھا بولی اتنا بڑا کیسے ہوگیا پھر چونکی اور بولی ہاں جس تیل سے تم کی جسم کی مالش ہوتی تھی اس نے اس کی نشوونما اچھی کی ہے بچپن سے جو تیل کی مالش ہوتی تھی پورے جسم پر ہوتی تھی لن پر بھی ہوتی تھی اپنے ہاتھ کو میرے لن پر آگے پیچھے کیا تو میں پاگل ہونے والا ہوگیا تھا عجیب سا مزا تھا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا بولی یہ تو میرا کباڑا کر دے گا میرے ہاتھ ابھی اس کے مموں پر ہی تھے بولی ان سے کھیلوں جتنا کھیلو گے عورت کو اتنا مزا آئے گا ان کو چوسو،ہلکے ہلکے کاٹو میں نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اس کا ہاتھ میرے لن پر آگے پیچھے ہورہا تھا اور میں اس کے مموں کو چوس رہا تھا بولی میں تھک گئی ہوں بیڈ پر چلتے ہیں تو ہم بیڈ پر آگئے میں فل ننگا تھا اس نے پاجامہ پہنا ہوا تھا اوپر سے ننگی تھی وہ لیٹ گئی اورمجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا میں پھر اوپر آگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا لیکن پیار سے کبھی ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا کبھی چوستا کبھی کاٹتا اور ناز مزے سے سسکتی اور عجیب عجیب آوازیں نکالتی پھر اچانک اس کی سسکیوں میں اور آوزوں میں تیزی آتی گئی پھر ایک بار اچھلی اور پرسکون ہوتی گئی میں ایسے ہی اس کے مموں سے کھیل رہا تھا لیکن وہ ایسے پڑی تھی جیسے مردہ پڑے ہوتے ہیں بولی رک جاؤمیں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہوچکی ہوں تم نے میرے مموں ایسا کھیلا کے برداشت نہ کرسکی سب سمجھ جاؤ گے اور سیکھ جاؤ گے۔ جیسے تم لڑکے فارغ ہوتے ہو ویسے ہی عورتیں بھی فارغ ہوتی ہیں جس سے سکون حاصل ہوتا ہے عورت فارغ نہ ہو یا مرد فارغ نہ ہو تو کیسا سکون اسی سکون کے لیے تو دنیا مرتی ہے۔ اب مجھے میرے لن میں جو کہ کافی دیر سے اکڑا ہوا تھا درد ہونا شروع ہوچکی تھی میں نے ناز کو بتایا تو بولی اب میں اس کا علاج کرتی ہوں پھر اُٹھ کر مجھے بولا لیٹ جاؤ میں حکم مانتے ہوئے لیٹ گیا اس نے پہلے تو میرے لن پر تھوک پھینکا پھر ہاتھ سے میرے لن پر ملا پھر میرے لن کو چوم لیا جب ناز نے چوما تو مجھے کرنٹ لگا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی پھر اس نے میرے ٹوپے کو منہ میں لینے کی کوشش کی کیونکہ میرا لن موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں صرف ٹوپا بھی پورا نہ جاسکا لیکن میرے لیے یہ مزا نیا تھا ناز بولی ہر لڑکی منہ میں نہیں لیتی میں تو تم کو ہر مزے سے روشناس کروانا چاہتی ہوں یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سردار کو میں مرد بناؤ گی اور اس کا کنوارہ پن ختم کروں گی پھر اس نے پورا منہ کھول کر جتنا ہوسکتا تھا منہ میں لے کر آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کیونکہ چوس تو سکتی نہیں تھی موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھر تھوڑی دیر منہ میں لینے کے بعد اٹھی اور شلوار اتاردی اور پوری ننگی ہوگئی زندگی میں پہلی بار میں نے ایک عورت کو پورا ننگا دیکھا تھا میری عجیب حالت تھی لن تھا کہ جھٹکے پر جھٹکے لے رہا تھا بولی کیا دیکھ رہے ہو میں بولا پہلی بار کسی کو ننگا دیکھا ہے اس نے بولا آؤ میں تم کو دوسرے جہاں کی سیر کراؤں تم نے عورت کا اوپر والا جسم تو دیکھ لیا اور سیر کر لی اب نیچے والی سیر بھی کراؤں جس کے لیے دنیا پاگل ہے اور جس سے دنیا بڑھی ہے اور قائم ہے۔ اس کی پھدی کلین شو تھی ہلکی سے پنکش تھی لیکن اس کے ہونٹ تھوڑے کھلے تھے بولی ویسے یہ تم سے زیادتی ہے کہ تم کنوارے ہو اور میں کنواری نہیں ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا کنواری لڑکی سے جو کچھ کرنا ہے تم نے کرنا ہے لیکن چدی ہوئی تم کو مزادے گی اور لے گی اور میری عمر کی پکی عورت تم کو اصل مزا دے گی۔ ویسے تم کے ہتھیار کے حساب سے تو تم کو تقریباً سب ہی کنواری لگیں گیں۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ لیے بولی جس طرح سے میرے مموں سے کھیلے ہو اسی طرح اس سے بھی کھیلو پھر اس میں گھوڑا دڑاؤ۔ پھر میں نے ناز کی پھدی پر ہاتھ رکھا تو میرے ہاتھ پر سفید اور گاڑھا لیس دار پانی لگ گیا جو کہ ناز نے بتایا تھا کہ یہ عورت کا پانی ہوتا ہے پھر میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی پھیری تو اس نے سسکاری بھر ی میری انگلی اس کے پھدی کے پانی سے تر ہوچکی تھی میں انگلی پھر رہا تھا کہ میری انگلی نے ایک سوراخ پایا اور میں نے دباؤ ڈالا تو اند ر چلی گئی ناز بولی کیس لگا میں بولا انکوکھا مزا ہے یہ تو پھر بولی اب تم بھی مجھے پیار کروں جیسے میں نے کیا ہے اپنے منہ سے تمارے ہتھیار پر مجھے کوفت ہوئی لیکن مجھے سب سیکھنا تھا تو زبان نکال کر میں نے پھدی کو چوما اور سونگھا تو عجیب سی خوشبو آئی پھر زبان جیسے ہی ناز کی پھدی سے ٹچ ہوئی تو ناز ایک دم سسکی اور مجھے ضائقہ نمکین سالگا اور عجیب سا لگا پھر میں نے برابر زبان چلانا شروع کردی جیسے جیسے ناز بتاتی گئی وہ بے خود سی ہوگئی تھی پھر کچھ دیر بعد اس کا جسم اکڑ گیا میں اب سمجھ گیا تھا کہ پھر فارغ ہوگئی ہے لیکن میں نے اس کی پھدی کو چاٹنا جاری رکھا کیوں کہ میری استاد نے مجھے ابھی تک نہیں روکا تھا جب فری ہوئی تو فوارا میرے منہ میں گیا جو میں پی گیا اب مجھے اچھا لگ رہا تھا میں نے نا ز سے بولا یا ر میرے اس میں بہت درد ہو رہی ہے بولی کس میں میں آہستہ سے بولا لن میں بولی شرمانا چھوڑ دو تو کامیاب رہو گے میں بولا آہستہ آہستہ اتار دوں گا آج پہلی بار ہے تم جیسی استا د ملی ہے تو جلد ہی سب سیکھ جاؤں گا۔ بولی فکر نہ کروں تم کو اتنا ماہر کردوں گی کہ تم ایک ماہر کھلاڑی بن جاؤ گے جیسے کہ تم دوسری چیزوں میں ہو۔ تو بولا میرے لن میں درد ہوگئی ہے۔ بولی اس کا قصور نہیں ہے تم اتنی دیر سے ہارڈ ہو مطلب تم کا اتنی دیر سے کھڑا ہے تو ددر تو کرے گا اب تم کا گھوڑا سواری کرنے چاہتا ہے تاکہ اپنی منزل پر پہنچ جائے آؤ تم کو سواری کرواؤں۔ بولی کوئی آئل ہے میں نے بولاہاں ناریل کا تیل پڑا ہے بولی لے آؤ میں گیا اور تیل لے آیا اس نے بولا اچھی طرح سے اپنے لن پر لگاؤ میں نے لگا لیا اور پھر بولی تم نیچے لیٹ جاؤ تم اناڑی ہو کہیں مجھے مار ہی نہ دو جیسا تم کا ہتھیار ہے۔ میں لیٹ گیا اور وہ میرے اوپر آگئی پھر میرے ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا او ر میرے لن کو پکڑ کر اپنی گیلی پھدی کے منہ پر رکھ لیا اور اس پر پھیرنے لگی مجھے بہت مزا آرہا تھا میں ہواؤں میں اُڑ رہا تھا ایسا مزا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن کسی تنگ جگہ میں جا رہا ہے میں نے ناز کے منہ سے سی سی سی سنی بولی بہت موٹا ہے لیکن وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی تھوڑا تھوڑا کر کے میرا آدھا لن اپنی پھدی میں ڈال لیا اور رک گئی پھر اوپر ہوئی اور پھر نیچے آئی جب نیچے آئی تو میں نے نیچے سے جھٹکا مارا جھٹکا زور کا تھا اس کی اور میری چیخ ایک ساتھ نکلی لیکن ناز کی چیخ اتنی زور دار تھی کہ میں ڈر گیا تھا اگر میرا کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو شاہد پورے علاقہ میں اس کی چیخ سنی جاتی مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا لن کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہوا ہے۔ ناز میرے اوپرلیٹی ہانپ رہی تھی اور میرا پورا لن ناز کی پھدی میں گھس چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ناز نازمل ہوئی اور غصے سے میری طرف دیکھامیں شرمندہ سا منہ بنا کر نیچے کرلیا۔ میں نے بولا ناز سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے اتنا مزا آیا تھا کہ جوش میں آکر جھکا مار بیٹھا ناز بولی شکر کرو کوئی جوان لڑکی نہیں تھی ورنہ اس کا کام تمام ہوجاتا۔ میں بہت شرمندہ تھا کہ واقع مجھ سے غلطی ہوئی۔ ناز بولی تم کا ہتھیار بہت موٹا اور لمبا ہے اگر تم ایسے کسی کے ساتھ کرو گے تو کوئی بھی تم کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔میں نے دوبارہ معافی مانگی ناز نے بولا کوئی بات نہیں مجھے ہی بتانا چاہیے تھا کہ جھٹکا نہ مارنا تم کے لیے تو یہ سب نیا تھا۔ میرا لن اب ناز کی پھدی میں بری طرح غصہ ہوا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی گرم بھٹی میں ہے اور کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہو اہے۔ اب ناز نے بڑے آرام سے آہستہ آہستہ باہر نکالا ساتھ سی سی کرتی جارہی تھی بولی تم نے میری بینڈ بجادی ہے جب میرا لن باہر نکلا تو اس پر خون لگا ہوا تھا بولی دیکھ لو میرے ساتھ تم نے کیا کیا ہے۔ میں خاموش رہا پھر اس نے مجھ کو کس کی کہتی کوئی بات نہیں معاف کیا خیر اس نے پھر سے تیل لگایا اور اوپر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ پورا اندر لے لیا ساتھ میں کسنگ جاری رکھی بولی میرے مموں سے کھیلو اس طرح مجھے درد کم ہوگا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے ناز کے خربوزے سائز کے مموں سے کھلینا شروع کردیا۔ اب ناز اوپر نیچے ہوتی رہی آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے پانی کی وجہ سے اور آئل کی وجہ سے پھدی میں جگہ بن گئی تھی اب وہ پورا لن اند ر لیتی اور پھر ٹوپی اندر کھ کر باقی باہر نکالتی پھر اند ر لیتی اس کا سانس پھول رہا تھا اور میں مزے کی گہرائیوں میں تھا۔ پھر مجھے ناز کی پھدی کا گرم گرم پانی اپنے لن کے ساتھ محسوس ہواور ناز میرے اوپر گر گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کچھ دیر بعد بولی کیسا لگا میں بولا ایس لگ رہاتھا کہ آسمانوں پر اُ ڑ رہا ہوں بولی میں تین بار فارغ ہو چکی ہوں لیکن ابھی تک تم کا ایک بار بھی نہیں ہو ا اسے کیا پتہ تھا تمام مقابلے میں نے سٹیمنے کی وجہ سے جیتے تھے پھر وہ نیچے لیٹ گئی بولی اوپر آؤ میں اس کو پکڑا میرا لن اس کی پھدی کے اندر ہی رہا اور میں گھوم گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں اس کے اوپر بولی اب آہستہ آہستہ گھسے مارو میں نے سلوسپیڈ میں گھسے مارنے شروع کردیے جب میں ا سکے اند ر کرتا تو اس کی سسکی نکل جاتی اب وہ جوش میں آگئی او ر بولی تیز دھکے مارو میں نے سپیڈ تیز کردی اس نے ٹانگے اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دی میں نے ٹانگوں کو پکڑلیا اور سپیڈ سے دھکے مارنے لگ پڑا جب میں دھکا مارتا تو وہ اپنی گانڈ پیچھے کرتی جس سے دھک دھک کی آواز آتی اب میں طوفانی دھکے مارنے شروع کردیے تھے تو ناز نے چیخنا شروع کردیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی اسکوپوری طرح قابو کر کے دھکامارتا جارہا تھا اچانک ناز کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور گرم گرم پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا۔ لیکن میں نے اسی رفتار سے چودائی جاری رکھی۔ ناز اب بے جان ہوگئی تھی اور شاہد بے ہوش ہوگئی تھی جب ناز بے ہوش ہوئی تو میں نے لن باہر نکال لیا اور ٹیبل پر پڑے پانی سے چھنٹے مارے تو ناز کو ہوش آیا اور جیسے ہی میرے لن پر نظر پڑی تو سہم گئی بولی شاہد میری زندگی کی آخری رات ہے تم مجھے جان سے مار کر چھوڑو گے میں نے بولا میں نے کیا کیا ہے بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے جیسے میں ہورہی ہوں میں نے بولا مجھے کیا پتہ بولی تم کا کتنا سٹمینا ہے میں نے کہا پہلی بار ہے مجھے کیا پتہ بولی کچھ محسوس ہورہا میں نے کہا ہونے لگتا ہے لیکن تم روک دیتی ہو۔ بولی اب جو بھی ہو جب تک فارغ نہ ہو رکنا نہیں میں نے کہا تم بے ہوش ہوگئی تھی تو میں ڈر گیا تھا بولی مجھے کچھ نہیں ہوتا زیادہ سے زیادہ بے ہوش ہی ہوں گی میں بولا ٹھیک ہے پھر وہ گھوڑی بنی میں اس کے پیچھے آگیا اور اپنا لن اس کے پھدی کے منہ پر رکھا جو کہ اب سوج چکی تھی اور ایک جاندار دھکا مارا تو ناز چیخ پڑی پھر میں لگاتار دھکے پر دھکا رتا رہا اور آخر کار مجھے میری جان لن کی طرف آتی محسوس ہوئی میں نے ناز کو بولا مجھے کچھ ہورہا ہے ناز بولی تم قریب آرہے ہو لگے رہو میں پورے زور سے دھکے لگارہا تھا پھر مجھے ناز کی پھدی کا پانی محسوس ہوا ساتھ مجھے بھی محسو س ہوا تو ناز نے جلدی سے پلٹی کھائی اور منہ کر کے بیٹھ گئی بولی میرے منہ پر فارغ ہونا پہلا پانی میں پینا چاہتی ہوں پھر میرے لن سے پہلی فوار نکلی جو کہ سدھے اس کے منہ پرپڑی پھر تو برسات شروع ہوگئی جو کہ ناز کے جسم کو بھیگو گئی اور میں جب آخری قطرہ بھی نکل گیا تو وہی بیڈ پر گر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ پڑا۔
  2. دوستو میرا نام نعمان ہے لیکن سب پیار سے نومی بلاتے ہیں میری فیملی میں میں ابو امی اور ایک بھائی ہیں ابو کا نام ریاض ہے ان کی اپنی دوکان ہے لیڈیز کپڑوں کی ہم لوگ منڈی بہاؤ الدین کے رہنے والے ہیں لیکن ابو کے کام کی وجہ سے گجرات میں شفٹ ہونا پڑا بھائی اور ابو دوکان سنبھالتے ہیں دوستو میری اور بھائی کی عمر میں دس سال کا فرق تھا کیونکہ بھائی کی پیدائش کے بعد میری ایک بہن ہوی جو کہ پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گی اس کے بعد ایک اور بھائی ہووا اوروہ بھی وفات پا گیا ابو امی کہتے ہیں کہ کافی زیادہ منت اور دعا کے بعد میں پیدا ہووا اس لیے میں سارے خاندان کا اور سب سے زیادہ امی کا لا ڈلہ تھا اور زیادہ پیار کا مجھے یہ نقصان ہووا کہ مجھے ہمیشہ گلی محلے کے لڑکوں سے تھڑا دور رہنے کی تلقین کی جاتی اسی لیے میں بڑا تو ہو رہا تھا لیکن سیکس ایسی سب باتو ں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا زیادہ بور نا کرتے ہوئے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف باقی لوگوں کا انٹرو ان کی آمد پر کرواتا جاوں گا دوستو بات ہے تب کی جب بھای کی شادی ہوی شروع شروع کے دن تھے سب بہت زیادہ خوش تھے کیونکہ گھر میں نیا فرد شامل ہووا تھا سب سے زیادہ میں کیونکہ بھابھی میری پھوپھو کی بیٹی تھی اور میری بہت اچھی دوست جب بھی ہمارے گھر آتی میرے لیے کافی کچھ لاتی بھابھی تتلے والی گاوں کی رہنے والی تھی گاوں کی خوبصورتی کے بھی کیا کہنے 5.8 انچ قد گورا رنگ تقریبا چھتیس کے ممے گول گول چوتڑ بہت ہی خوبصورت تھی بھابھی میں بہت خوش سارا دن ان کے پاس بیٹھا رہتا اور باتیں کرتا رہتا ایک دو بار میں کمرے میں گیا تو بھائی بھی کمرے میں تھا اور میرے جاتے ہی بیڈ سے اٹھ بیٹھا میں نے زیادہ غور نا کیا اسی طرح ایک دن رات کے وقت سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے تھے کہ مجھے رات کو کچھ گھبراہٹ ہونے لگی میں اٹھا اور کچن میں پانی پینے گیا ہمارے گھر کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ میرے کمرے کے ایک طرف بھائی کا کمرہ ایک طرف امی ابو کا کمرہ بھائی کے کمرے کے ساتھ کچن ہے ہمارے کمروں کے آگے برامدہ ہے اور اس کے آگے صحن تو جیسے ہی میں بھائی کے کمرے کے آگے سے گزرہ تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں آی جیسے کوئی کراہ رہا ہو میں نے ایک سائیڈ پے ہو کے بھائی کے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ کھڑا ہو کہ سننے کی کوشش کی تو وہ آواز بھابھی کی تھی مگر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بھابھی کراہ کیوں رہی ہیں میں نے ادھر اُدھر کافی جگہوں سے دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا فر میں نے کان لگا کہ سنا تو کراہنے کی آوازیں بند ہو چکی تھی البتہ بھائی کی آواز آی کہ کیوں ایسے شور مچاتی رہتی ہو کوئی سن لے گا تو بھابھی کی آواز آئی کہ کہ اتنا بڑا لن کبھی اپنی گانڈ میں لو تو تمہیں سمجھ آ جائے کیا ہو جاتا اگر دو دن رک جاتے ایک تو میرے ویسے وہ والے دن چل رہے ہیں اوپر سے تمہیں اپنی پڑی ہے بھائی بولے کیا کروں جان ابھی کچھ ہی تو دن ہوئے ہیں شادی کو اتنے سالوں کا مال جمع ہوا ہے جب تک سارا نکلے گا نہیں سکون کہاں آنا ہے میری سمجھ میں کچھ بھی نا آیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے ابھی بھابھی کراہ رہی تھی ابھی ایسے باتیں کر رہی ہیں اور یہ کیا باتیں کر رہی ہیں میں اسی کشمکش میں اپنے کمرے میں آ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے پہلے تو سوچا صبح بھابھی سے ہی پوچھ لو گا مگر پھر سوچا کہ وہ کیا کہیں گی کہ یہ باہر کھڑا ہو کر ہماری باتیں سنتا ہے آخر کار جب کوئی سمجھ نا آئی تو میں نے سوچا کہ صبحو باجی مونا سے پوچھو گا باجی مونہ کا اصلی نام میمونہ تھا لیکن سب پیار سے مونہ بلاتے تھے وہ ہماری گلی میں دو گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں رہتے تھے ان کی امی آنٹی بلقیس جو کہ ہمارے گھر میں کام کرتی تھی باجی مونہ مجھ سے 7 سال بڑی تھی ان کی عمر کچھ 22 سال کے قریب تھی باجی مونہ کی کچھ ایک سال پہلے شادی ہوئی تھیان کا زوہر باہر ہوتا تھا شادی کے بعد صرف 4 دن وہ رکا تھا اور 5 دن وہ واپس قطر چلا گیا تھا تب سے لے کر اب تک باجی اپنی امی کے گھر پر ہی رہتی تھی آنٹی بلقیس کے شوہر کا نام انکل جواد تھا جو کہ مستری کے ساتھ مزدوری کرتا تھا کافی غریب تھے آنٹی بلقیس کا ایک بیٹا تھا جو کہ باجی مونہ سے بڑا تھا ایک دن کام پر جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اوراس کی وفات ہو گی اب گھر میں صرف آنٹی انکل اور باجی مونہ ہی تھے میں ان کا انٹرو اس لیے کروا رہا ہوں کیونکہ ان سب کا تعلق کہانی سے ہے کیونکہ اپنے گھر کے علاوہ واحد آنٹی بلقیس کا گھر تھا جہاں مجھے جانے کی آزادی تھی صبح چونکہ اتوار تھا تو میں 9 بجے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کہ ناشتہ کیا تب تک آنٹی بلقیس ہمارے گھر آ گی اور میں ان کے گھر چلا گیا جا کہ دیکھا کہ باجی مونہ اڈے پر بیٹھی کام کر رہی تھی جو کہ مجھے دیکھ کہ کافی خوش ہوی وہ مجھی پیار سے نومی کی بجائے بابو بلاتی تھی مجھے دیکھتے ہی باجی بولی.
  3. 1 like
    اب آتے ہیں کہانی کی طرف یہ اس وقت کی بات ہے جب میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا. ہمارے اسکول میں کوایجوکیشن تھی میری کلاس میری کلاس کی ایک لڑکی جس کا نام نتاشا تھا مجھے بہت پسند تھی میں ایک لائق سٹوڈنٹ تھا جبکہ نتاشا کو کچھ نہیں اتا تھا اس لئے سے پڑھائی میں میری ہیلپ چاہیے ہوتی تھی اس کی مدد کر کے مجھے خوشی محسوس ہوتی تھی مجھے یہ بتانےمیی ںشرم آتی تھی کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے مجھے اس کا چہرہ بہت کیوٹ لگتا تھا دل کرتا تھا کبھی ہم دونوں اکیلے ہوں اور میں اسے کس کروں لیکن اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی میرا اتنا اچھا مقدر تھا کہ ہم کبھی اکیلے ہوتے۔ ایک دن بارش کی وجہ سے سکول میں بہت کم بچے آئے اور میری قسمت کہ اج نتاشابھی آئی ہوئی تھی ہم دونوں کے علاوہ دو تو طالبعلم اور تھے اور وہ بھی جلد ہی واپس چلے گئے کیونکہ ان کا گھر قریب تھا نتاشاہ کو لینے کوئی نہیں آیا میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ آج کچھ تو ضرور کروں گا اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہہ پاتا اس کے گھر والے اسے لینے آ گئے اور ایک دفعہ پھر میں کچھ بھی نہ کر سکا میرا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام تھا ولید اس نے مجھے بتایا آپ کے اس کے پاس ایک ایسی کتاب ہے جس میں لوگوں کے سکینڈل ہیں کہ کس طرح انہوں نے کس گل سے سیکس کیا اور کیسے کیا میں نے اس سے کہا کہ مجھے وہ کتاب دکھانا تو وہ بولا کہ میں کل وہ کتاب لیتا ہوگا کتاب کا نام گلیمر میگزین تھا جو کراچی سے شائع ہوتا تھا اس میں مزے مزے کی سیکسی کہانیاں تھی میں نے اس گلیمر بک کو اپنی بیالوجی کی کتاب میں رکھ لیا کہ کے گھر جا کر سکون سے پڑھوں گا ہم دو بھائی ہیں میرا دوسرا بھائی مجھ سے بڑا ہے مجھے کرکٹ دیکھنے کا بہت شوق ہے جب کہ میرے بھائی کو کرکٹ کا شوق نہیں ہے اس لئے میں ٹی وی روم میں جا کے ٹیسٹ میچ دیکھنے لگ گیا اکیلا تھا اس لئے ساتھ ہی ساتھ ہی گلیمر بک بھی پڑھنے لگ گیا میں پڑھنے سیکسی کہانیاں پڑھنے میں اتنا بزی تھا کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میرا بھائی بھی کمرے میں آیا ہوا تھا یہ تو شکر ہے کہ وہ میچ دیکھنے میں بزی ہو گیا حالانکہ اسے کرکٹ میچ پسند بھی نہیں تھا میں نے جلدی سے میگزین کو بیڈ کے نیچے پھینک دیا اور شکر ادا کیا کہ آج بچ گیا صبح میں نے ولید کو وہ میگزین واپس کر دیا سیکسی کہانیاں پڑھنے کی وجہ سے میرے اندر سیکس سیکس کا شوق پیدا ہوگیا میں چاہتا تھا کوئی ایسا مل جائے کہ بس میں اس سے سیکس کر سکوں لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں میں نے ولید سے بات کی یار مجھے کسی سے سیکس کرنا ہے ولید نے کہا یہ تو مسئلہ ہی نہیں ہے ایک سٹوڈنٹ جس کا نام فیصل ہے میں اس کے ساتھ کئی بار سیکس کر چکا ہوں میں حیران ہوا کہ بوائز سے کیسے سیکس کرنا ہے ولید نے کہا جس طرح لڑکیوں کی چوت مارتے ہیں اس طرح بوائز کی گانڈ ہوتی ہے تم نے تو اپنا پانی نکالنا ہے چاہے وہ کسی لڑکی کی چوت ہو یا کسی لڑکے کی گانڈ تمہیں اس سے کیا مطلب میں نے کہا دیکھ لو کہیں مروا نہ دینا اس نے کہا کچھ نہیں ہوتا فیصل چتولڑکا ہے وہ تھوڑے سے پیسوں کے لیے تم سے گانڈ مروا لے گا اگلے دن اس نے کسی طرح فیصل کو راضی کر لیا ہمارے گھر کے ساتھ ہی ایک مکان بنا ہوا تھا جس میں کوئی رہائش پذیر نہیں تھا ہم نے سیکس کرنے کے لئے اس جگہ کو منتخب کیا پہلے کمرے میں فیصل کے ساتھ ولید گیا پھر اس نے مجھے بھیجا جب میں کمرے میں داخل ہوا تو فیصل کی شلوار اتری ہوئی تھی اور مجھے اس کی گانڈ نظر آرہی تھیی میں بہت کنفیوز تھا کہ کس طرح سیکس کرتے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے لن کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جو اس وقت تقریبا پانچ کا تھا اور جب لنک کھڑا ہوگیا تو میں نے اسے فیصل کی گانڈمیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن اناڑی پن کی وجہ سے لنڈ اندر نہیں گیا فیصل نے کہا آپ کے پہلے تھوک لگاؤ پھر جائے گا پھر میں نے لنڈ پر تھوک لگایا اور اسے فیصل کی گاںڈ میں ڈالنے کی کوشش کی فیصل کی گانڈ میں لن چلا گیا لیکن مجھے اتنا مزا نہیں آیا جتنا کے میں سوچتا تھا کہ سیکس کے دوران آئے گا میں نے فیصل سے کہا کہ وہ پر چلا جائے پھر میں نے نتاشا کو یاد کرکے مٹھ لگائیں مجھے اس دن ہی احساس ہوگیا کیسے سیکس میں اس وقت مزہ آتا ہے جب آپ کی سوچ میں کوئی اچھی سی پیار کی فیلنگ ہوں پھر میں باہر آیا تو ولید میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگا مجھے پتہ لگ گیا کہ فیصل نے ولید کو سب بتا دیا ہوگا اگلے دن جب ولید سے اسکول میں اکیلے میں بات ہوئی تو ولید نے کہا کہ یہ تمہیں کیا ہوگیا تھا فیصل کے ساتھ۔ میں نے انجان بننے کی کوشش کی تو ولید نے کہا کہ یار مجھ سے کچھ مت چھپاؤ میں نے ولید سے کہا کہ دیکھو یار سچی بات ہے کہ مجھے مزہ نہیں آیا تولید بولا کے بتاؤ یار تمہیں کیا پسند ہے میں نے کہا ابھی چھوڑو وقت آنے پر بتاؤں گا ولید نے کہا دیکھو یار میرے پاس ایک لڑکی کا نمبر ہے اگر تم اپنا موبائل خرید لو تو وہ نمبر میں تمہیں دے دوں گا اور پھر تم مزے سے اس لڑکی سے بات کر سکوں گے میں نے گھر جا کر اپنے ابو جان سے بات کی کہ مجھے موبائل خرید کے دیں انہوں نے کہا کہ ابھی تم دسویں میں ہو جب تم ایف ایس سی میں جاؤ گے تو پھر موبائل لے کے دوں گا میں نے کہا مجھے ابھی موبائل چاہیے اس وقت تک مجھے موبائل چلانے کا طریقہ آجائے گا اور میری ایف ایس سی کی پڑھائی میں حرج نہیں ہوگا تقریبا ایک ہفتے بعد میرا نیا موبائل آگیا جو کہ نوکیا گیارہ سو تھا میں بات کر رہا ہوں سال 2002 کی اس زمانے میں یہ ایک اچھا موبائل تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں سانپ والی گیم بڑے شوق سے کھیلا کرتا تھا ہمارے علاقے میں اس وقت ایک ہی نیٹ ورک تھا یوفون کا میں نے اپنے موبائل میں یوفون کی سم ڈالی اور اپنے بڑے بھائی سے اسے چلانے کا طریقہ سیکھا اس کے پاس پہلے سے ہی موبائل تھا جب میں اسکول گیا تو بہت خوش تھا اور ولید کو بتایا کہ اب مجھے اس کا نمبر دو کیونکہ میں نے اپنا موبائل خرید لیا ہے ولید نے مجھے اس کا لڑکی کا نمبر دیا میں نے ایس ایم ایس پیکج کراکے اس لڑکی کو میسج کیے اور لڑکی کا رپلائی بھی آگیا اس طرح ہماری موبائل پے بات ہونے لگی لڑکی کا نام اقرا تھا اور وہ عمر میں مجھ سے دو سال بڑی تھی موبائل بھی اس کا اپنا نہیں تھا بھر کے گھر میں رکھا ہوا تھا اسے جب وقت ملتا تو وہ مجھے میسج کر دیتی تھی پتہ نہیں ولید کے پاس اس کا نمبر کیسے آیا تھا اور نہ ہی میں نے ولید سے اس بارے میں پوچھا ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک ایزی لوڈ شاپ تھی جس سے میں یوفون کا لوڈ کرایا کرتا تھا دکاندار کا نام اکرم تھا اور نہایت سخت طبیعت کا لگتا تھا ایک دن میں ایسے ہی بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے اپنی کال آئی میں نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف اکرم بات کر رہا تھا اس نے مجھ سے کہا کہ تم نعمان ہونا جو میری شاپ سے ایزی لوڈ کرا کے جاتے ہو میں نے کہا جی ہاں اس نے کہا اچھا تو پھر رات کو میری بیٹی سے ایس ایم ایس پر بات کرتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی میں تو حیران رہ گیا دراصل اقرا اکرم کی بیٹی تھی جس سے میں بات کیا کرتا تھا اکرم نے مزید کہا کہ میں تمہارے کرتوت تمہارے باپ اور تمہارے بھائی کو بتاؤں گا میں ڈر گیا اور ڈر کی وجہ سے میں نے کال کاٹ دی میں بہت پریشان تھا کہ وہ جب میرے بھائی اور میرے والد کو بتائے گا تو وہ میرا کیا حشر کریں گے میں نے اقرا کو میسج کرنا بھی چھوڑ دیا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اگلے دن قربانی والی عید تھی سب گھر والے بہت خوش تھے لیکن میں پریشان تھا جب بھی میرے ابو مجھے کوئی بات کرنے کے لیے بلاتے تھے تو میں ڈر جاتا تھا کہ کہیں اکرم نے بتایا ہی نہ دیا ہو میری یہ عید بڑی مشکل سے کٹی میں نے اسی دن سے عہد کرلیا کہ آئندہ علاقے کی کسی بھی لڑکی کو میسج نہیں کروں گا اور شکر ہے کے اکرم نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی اور میری بچت ہوگی میں نے دسویں جماعت پاس کر لی لیکن نتاشا کو اپنے دل کی بات نہ بتا سکا اب سوچتا ہوں تو مجھے عجیب لگتا ہے کہ مجھے اسے کچھ تو بتانا چاہیے تھا لیکن شاید اس وقت میرے اندر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ میں اس سے کوئی بات کر سکوں پھر میں نے ایک اقامتی ادارے میں ایف ایس سی کی ایف ایس سی کے دوران کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جو کہ قابل ذکر ہو پھر میں نے بی ایس کمپیوٹر سائنس میں ایڈمیشن لیا آپ تو جانتے ہیں کہ یونیورسٹیز میں کو ایجوکیشن ہوتی ہے اس وجہ سے میرا بی ایس کا دور بڑا مزے کا گزرا میں نے پہلے سمسٹر میں بہت محنت کی اور میری جی پی اے سب سے زیادہ تھی دوسرے سمسٹر میں گرلز اور بوائز مجھ سے پڑھتے تھے اس لئے میرے پاس کلاس کی لڑکیوں کے نمبر آگئے میں نے دوسرے سمسٹر میں بڑی ٹرائی کی کی کسی لڑکی کو سیٹ کر لو لیکن ناکام رہا

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.