Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus Launched ×
URDU FUN CLUB

عشق دیندا ہے رولا


Recommended Posts

اسلام و علیکم دوستو ں میرا نام آفتاب خان ہے اور میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میں نے بہت سے سٹوری پڑھی ہیں اور کئی سالوں سے پڑھ رہا ہوں تو سوچا کیوں نہ میں بھی کوشش کروں تو دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے اس لیے کوئی غلطی ہوجائے تو درگزر کرئیے گا یہ پوری سچی تو نہیں کہہ سکتے لیکن اکثر کافی کچھ سچ بھی ہے سٹوری لازمی مکمل ہوگی اور ہفتے میں دو یا تین اقساط پوسٹ کروں گا۔ 
قسط نمبر1:۔ 
اب آتا ہوں سٹوری پر سب سے پہلے تعارف کروا دوں جیسا کہ آپ کو بتایا کہ میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میرے والد نام عثمان خان ہے ا ن کی عمر تقریباً47سال ہے صحت مند اور ہٹے کٹے اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ہیں اور وہ ایک بڑے زمیندار ہیں گاؤں کی تقریباً تین حصے زمین کے مالک میرے والد ہیں اور ساتھ ہی فلور ملز اور کئی کاروبار کے مالک ہیں میری ماں صائمہ جن کی عمر 40سال ہے ایک گھریلو عورت ہیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ایک بڑے زمیندار گھرانے کی ہیں حالانکہ گھر میں کئی نوکر اور نوکرانیاں ہونے کے باوجود خود سب کچھ سنبھالتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بالکل صحت مندسمارٹ اور ایکٹو ہیں۔سدرہ میرے والد کی دوسر ی بیوی اور ہماری چھوٹی ماں ہیں جن کی عمر 35سال ہے وہ شہر کی پڑھی لکھی تعلیم یافتہ اور ایک بڑے گھر کی ہیں اور ان سے میری ایک بہن نوشے ہے جو کہ 19سال کی ہے۔نورمیری بڑی بہن جن کی عمر22سال ہے انہوں نے انگلش میں ماسٹر کیا ہے  وہ ایک سنجیدہ ٹائپ لڑکی ہیں زیادہ شور شرابہ ان کو پسند نہیں۔ پھر میری بہن عائشہ جن کی عمر20سال ہے وہ ابھی کیمسٹری میں ماسٹر کررہی ہے وہ شوخ چنچل اور باتونی ہیں ان کی باتیں ختم نہیں ہوتی ہیں۔ پھر میری بہن نمرہ جس کی عمر18سال ہے اور میں ہم دونوں جڑواں ہیں اور بچپن سے ہی بہت قریب رہے ہیں میری سب سے زیادہ نمرہ سے ہی بنی ہے ہم دونوں اب ایک ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہے تھے ہم نے ایک ہی سکول سے اور ایک ہی کالج سے میٹرک اور انٹر کیا تھا تقریباً ہمارا وقت ساتھ ہی گزرتا جن کو معلوم نہ ہوتا ان کو یہی لگتا ہے ہم کپل ہیں ہماری کبھی لڑائی نہ ہوئی تھی۔ میں نمرہ کو پیار سے نمو کہتا اور وہ اِفی۔ ہمارا سارے گھر میں بہت پیار تھا حالانکہ ابو نے دوسری شادی کی تھی لیکن پھر بھی ہمارے گھر میں کبھی کسی بات پرلڑائی نہیں ہوئی کیونکہ چھوٹی ماں میرے ابو کے ایک دوست کی بیٹی تھی وہ بہت بیمار تھے جاتے وقت ان سے وہ نکاح کر گئے تھے پہلے ہمیں تھوڑی مشکل ہوئی پھر چھوٹی ماں کے پیار نے سب کو ہی پیار کرنے پر مجبور کردیا وہ ہم پر سب سے زیادہ جان دیتی تھیں۔ہم سب خوش تھے سب ایک دوسرے کو بہت خیال رکھتے تھے اور میں اکلوتا لڑکا تھا گھر میں اس لیے میری تو ہربات فوراً پوری کی جاتی لیکن میں نے کبھی بھی بے جا فرمائش نہیں کی تھی یہ ہمارا گھر تھا۔ اور میرا ایک ہی چچا تھا سلیمان جو کہ ساتھ والے گاؤں میں رہتے تھے ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔ 
ہمارا گھر 8کنال کی حویلی پر مشتمل ہے جس میں 40کمرے ہیں دس کمرے ایک ہی قطار میں ان کے آگئے برآمدہ۔ پھر ایک طرف ٹی لاؤنچ، سوئمنگ پول، کچن، باتھ سب آگے تھے باقی دس کمرے دوسرے منزل پر اور دس کمرے تیسری منزل پر تھے جن میں جو ماسٹر روم تھے ان کے ساتھ اٹیچ باتھ تھے ایک بڑی جم اور شوٹنگ جم بھی تھی جہاں پر ہر روز میں اور میرے ابو ٹریننگ کرتے تھے۔ اور میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے تھے۔  باقی کمرے ملازموں کے لیے ایک طرف بنے تھے جن میں اکثر میں پوری فیملی رہتی اور عورتیں اور مرد رہتے تھے۔جو پکے ملازمین تھے باقی کے گاؤں سے آتے تھے۔  
ہمارے گاؤں کی صدیوں سے ایک پرانی روایت تھی کہ ہر 25سال بعدعلاقہ کی سربراہی نئے سربراہ کو سونپ دی جاتی جس میں تقریباً25گاؤں آتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا۔ تمام بڑے خاندان اس میں حصہ لیتے اور جو جیت جاتا وہ اگلے 25سال کے لیے ان تمام گاؤں کے سربراہ بن جاتے تھے ہرگاؤں کا ایک چھوٹا سربراہ ہوتا لیکن ان سب کے اوپر ایک بڑا سربراہ ہوتا جس کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا۔ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تین شرائط پر ہونا لازمی تھا چونکہ پٹھانوں کا علاقہ تھا تو اس لیے 1۔ عمر زیادہ سے زیادہ 25سال ۔2۔ جسمانی لڑائی میں ماہر ہو  3۔ نشانہ بازی میں ماہر ہو۔  4۔ تیراکی میں ماہر ہو۔ مقابلہ اس لیے کروایا جاتا کہ سربراہ کو طاقت ور ہونا چاہیے اگر خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تو سربراہی کیسے سنبھالے گا۔
یہ سب آپ کو بتانے کا مقصد آپ سٹوری کو آسانی سے سمجھ سکیں میرے والد اس وقت سربراہ تھے اور ان کی خواہش تھی کے اگلاسربراہ میں بنوں تو اس لیے چھوٹے ہوتے ہی انہوں نے اس کی تیاری شروع کروا دی صبح نماز کے بعد فوراً میدان میں جاتا جہاں پر چار اُستاد تھے جن میں دو لڑائی کے ماہر تھے اور دو نشانہ بازی کے اُستاد تھے جنہوں نے باقاعدہ باہر کے کئی ملکوں سے ٹریننگ کی تھی دو گھنٹے ان کے ساتھ گزارتا پھر ایک خاص تیل کی مالش کرتا جو کہ خاص کر میرے لیے تیار کروایا گیا تھا جس سے میرا جسم مضبوط ہو اور نشوو نما اچھی ہو اور ہرقسم کی چھوٹ براداشت ہوسکے۔ کیونکہ بچپن سے ہی تیاری کررہا تھا اس لیے لڑائی میں، تیراکی میں اور ہرقسم کے نشانے میں ماہر ہوچکا تھا خالی ہاتھ یا ہتھیار کے ساتھ کسی بھی مشکل حالات میں لڑ سکتا تھامیں بہت محنت کرتا لیکن میرے والد پھر بھی مطمئن نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم کو بہترین ہونا چاہیے مقابلہ میں ایک سے ایک ماہر ہوگا کیونکہ ہر ماہ ابو میری گارکردگی چیک کرنے کے لیے مجھ سے مقابلہ کرتے لیکن میں ان سے کبھی جیت نہ پاتا وہ آج بھی ماہر تھے کیونکہ وہ ہرروز مشق کرتے تھے اب بھی انہوں نے میری خاص نگرانی یہ رکھی کہ میں لڑکیوں کی طرف نہ دھیان دوں انہوں نے کہا تھا کہ ایک بار تم مقابلہ جیت جاؤ پھر جو چاہے کرنا تب تک انہوں نے مجھے ایک قسم میں باندھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو کہ آرمی میں کرنل ریٹائر تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا تھا مقابلہ میں ایک سال اور تین ماہ تھے مطلب 15ماہ تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور ٹریننگ کرواؤن گا یہاں پر گھر میں رہ کر یہ ٹھیک طرح سے ٹریننگ نہ ہو سکے گی۔ جب گھر سے رخصت ہو رہا تھا تو سب سے زیادہ نمر ہ روئی میں نے اس کو تسلیاں دیں اور کہا کہ میں جلد آجاؤں گا۔ باقی سب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے لیکن ابو نے کہا کہ بہادر لوگ نہیں روتے۔ پھر وہاں سے روانہ ہوگئے اور گلگت بلقستان کی وادیوں میں چلے گئے اور پھر میری ٹریننگ شروع ہوئی کرنل صاحب نے مجھے کہا کہ لڑائی یا کسی بھی معاملہ میں سب سے اہم چیز ہوتی ہے سٹیمنا ہوتا ہے جتنا سٹیمنا اتنا انسان طاقتور ہوتا ہے تم سٹیمنا اچھا ہے لیکن بہترین ہونا چاہیے تم گھنٹوں تک لڑو تب بھی تم کو تھکنا نہیں چاہیے تم گھنٹو ں بھاگوں تم کو تھکنا نہیں چاہیے باقی تم بچپن سے ٹریننگ کرتے آرہے ہو تم سب میں بہترین ہو لیکن میں تم کا سٹیمنا بڑھانے کی ٹریننگ دوں گا۔ پھر انہوں نے سخت ٹریننگ سے گزارہ مجھے ٹریننگ کا مطلب سمجھ آیا کہ پاکستانی آرمی کیسی ٹریننگ کرتی ہے نشانہ بازی میں تو میں بچپن سے ماہر تھا ہرقسم کا ہتھیار چلانا اور نشانہ لگانا سنائپر گن تک میں نے ٹریننگ کی تھی۔ اب میرا اتنا سٹیمنا تھا کہ گھنٹوں لڑ سکتا تھا گھنٹوں بھاگ سکتا ہے گھنٹو تیر سکتا تھا۔ ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرسکتا تھا۔اگر مجھ سے زیادہ کوئی طاقتور ہو تو کیسے لڑسکتے ہیں اس کی توانائی اس کے خلاف استعمال کرنا ہر چیز سیکھتا گیا۔کرنل صاحب نے مجھے یوگا بھی سکھایا جو کہ میری توانائی کو بہت آگے لے گیا۔ لیکن ایک چیز بتاتا چلوں کے دوستوں میں تھا انسان ہی کسی قسم کا سپرپاور ہیرو نہ تھا۔ لیکن اب میں اتنا ماہر تھا کہ کئی لوگوں سے کئی گھنٹے لڑ سکتا تھا دو ہزار میٹر تک ٹھیک نشانہ لگا سکتا تھا۔تیس منٹ سانس روک سکتا تھا۔ میرا جسم اتنا مضبو ط ہوچکا تھا کہ بڑی سے بڑی چوٹ کو برداشت کرسکتا تھا۔

 

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

  • Replies 38
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Top Posters In This Topic

قسط نمبر2:۔  
دوستوں یہاں سے کہانی سکپ کرتا ہوں سیدھے وہاں چلتے ہیں جہا ں میری ٹریننگ ختم ہوئی اور میں گھر جانے کے لیے تیار تھا۔ میرے استاد کرنل صاحب نے ایک نصیحت کی تھی کہ دماغ کو ٹھنڈا رکھوگے کبھی بھی ہارو گے نہیں جہاں تم نے جلد بازی اور گرم دماغ سے کام لیا وہاں تم ہار جاؤگے باقی تم اب ہر طرح تیار ہو۔ ان پندہ ماہ میں میرا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ تھا کیوں کہ ہم جنگلات میں ٹریننگ کرتے تھے۔ میں کبھی اپنی بہن نمرہ سے اور باقی سب سے اتناعرصہ جدا نہ رہا تھا لیکن  روزانہ ٹریننگ 20گھنٹوں کی ٹریننگ نے مجھے سب کچھ بھلا رکھا تھا لیکن جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا تو سب کی یا د آئی وہ ماں کا اپنے ہاتھ سے کھانہ کھیلانا، چھوٹی ماں کی گود میں سر رکھنا، نمرہ کے ساتھ مستی کرنا سب یا د آنا شروع ہوگیا۔ جب گھر پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا سب گھر والے اکھٹے تھے اور کچھ رشتہ دار بھی تھے۔میں سب سے ملا لیکن مجھے نمرہ نظر نہ آئی میری بے چین نظریں نمرہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن وہ نظر نہ آئی میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب سے تم گئے ہو وہ بیمار رہنے لگی ہے اپنے کمرہ میں ہوگی میں وہاں بھاگا نمر ہ کے کمرہ میں وہا ں دیکھا تو نمرہ لیٹی پڑی تھی لیکن وہ نمرہ نہ تھی جس کو میں یہاں چھوڑ گیا تھا بہت بیمار لگ رہی تھی اور جیسے میں کمرہ میں گیا تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی میں تڑپ گیا میری جان مجھ سے بات نہ کرے ایسا تو کبھی نہ تھا میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے صرف اتنا کہا کہ افی تم مجھے کیوں چھوڑ گئے تھے پھر ہم دونوں رونے لگ پڑے میں نے اس کو کھینچ کر گلے لگایا اور کافی دیر اس کو اپنے آپ سے چپکائے رکھا پھر باقی گھر والے بھی آگئے تو چھوٹی امی نے کہا کہ تم کے جانے کا اتنا اثر لیا کہ اتنا بیمار ہوگئی چل پھر بھی نہ سکتی ہے میں نے بولا اب میں آگیا ہوں نہ اب یہ ٹھیک ہوجائے گی جلد ہی۔ پھر سب کو دھیان آیا کہ میرے میں کتنا چینج آگیا ہے ان پندہ ماہ میں میرا قد تو پہلے ہی 6فٹ تھا اور باڈی مضبوط تھی لیکن اب میرے باڈی کی الگ ہی لک تھی بھرا جسم 6پیک مضبوط بازو اور لمبی مضبو ط ٹانگیں سرخ و سفید رنگ لمبے اور گھنے بال جو کہ ایک خاص ترتیب میں تھے۔ اس وقت میں ٹراؤز ر میں تھا۔ اور فٹنگ والی شرٹ پہن رکھی تھی جو کہ میری باڈی سے چپک رہی تھی جس وجہ سے میری باڈی نمایا ں لگ رہی تھی اور الگ ہی لک دے رہی تھی۔ امی نے بولا میرا بیٹابہت پیارا لگ رہا کسی کی نظر نہ لگے۔پھر رات کو جشن منایا گیا نیاز بانٹی گئی اور صدقے کے بکرے ذیبہ کیے گیے۔ اب مقابلہ کا دن قریب آرہا تھا تو میرا زیادہ تر وقت ٹریننگ میں ہی گزرتا تھا اب نمرہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی اس کے چہرہ پر زندگی کی رونک لوٹ آئی تھی جب میں ٹریننگ سے فری ہوتا تو زیادہ وقت ہم ساتھ گزارتے آخر وہ دن بھی آگیا جس کا لوگ 25سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بڑے میدان میں انتظام کیا گیا اور انتظام سابقہ سربراہ کی طرف سے ہوتا جو نیا سربراہ ہوتا اس پر اپنی دستار رکھ کر اس کو سارے اختیار سونپتا۔سب سے پہلے جو لوگ اہل تھے ان کی چھانٹی کی گئی جو کہ کیوں بڑے خاندانوں کے لوگ ہی حصہ لے سکتے تھے اور ان کی عمر اور باقی سب چیزوں کی پڑیا ل کی گئی تو مقابلے پر 51امیدوار بنے۔ اب ان کے درمیان تین مقابلہ جات ہونے تھے  1۔ نشانہ بازی  2۔ تیراکی  3۔لڑائی۔ مقابلے شروع ہوچکے تھے سب سے پہلے نشانہ بازی کا مقابلہ ہوا جس میں پہلے نمبر پر آیا تھا میری بچپن سے ہوئی ٹریننگ اور ماہر استاتذہ بہت کام آیا۔ دو سرا مقابلہ تیراکی کا ہوا جس میں تیسری نمبر پر آیا پہلے ان مقابلوں کا مقصد تھا کہ آخری مقابلہ میں کم امیدوار ہوں اب 20 امیدوار رہ گئے تھے جن کے درمیان مقابلہ ہونا باقی تھا ایک سابقہ سربراہ کا بیٹا شیر خان بھی تھا جو کہ تیراکی میں پہلے نمبر پر اور نشانہ بازی میں دوسرے نمبرپرآیا تھا اور وہ بھی اچھا اور طاقتور امیدوار تھا۔ ا سکے اور میرے نمبروں میں 2نمبر کا فرق تھا۔ پھر دوسرے دن مقابلہ شروع ہوئے اور میں جیتتا رہا  اب آخری مقابلہ میرا اورشیر خان کا تھا جو کہ دوسرے دن ہونا تھا۔ گھر واپس آیا تو سب نے بہت مبارک دی نمرہ میرے گلے لگی۔ سب بہت خوش تھے۔ میرے جسم پر کافی ضربات آئیں تھیں کیونکہ مقابل بھی پتہ نہیں کیسی کیسی تیار ی کے ساتھ آئے تھے۔ لیکن مجھے ان ضربات کا کوئی اثر نہ تھا میرا جسم پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔ اگر یہ ضربات کسی دوسرے کو لگتی تو وہ شاہد زندہ بھی نہ رہتا۔ لیکن مجھے اتنا مسئلہ نہ تھا۔ میں سونے چلاگیا صبح اُٹھا نماز پڑھی اور اپنے لیے دعا کی۔ اور سکون سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگ پڑا کیونکہ کچھ دیر میں مقابلہ تھا۔ میرا حریف بھی بہت طاقتور تھا گھر میں سب سے ملا اور دعا لی سب نے بولا کہ ہم تب تک دعا کریں گیں جب تک تم جیت نہیں جاتے میری سب بہنیں اور دونوں مائیں تھیں۔ ہم جلوس کی شکل میں میدان میں گئے اور میں نے سجدے میں گر کر د عا کی میرے ابو نے کہا بیٹا آج مجھے یہ خوشی دے دے پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ میں کہا ابومیں اپنی پوری کوشش کروں گاابو بولے کوشش نہیں تم نے جیتنا ہے میں تم کا مقابلہ نہیں دیکھوں گامجھے جیت کا ڈھول سننا ہے۔ (یہ روایت تھی کہ جس خاندان کا امیدار جیتتا اس کی ایک خاص دھن بجائی جاتی) پھر میں اور شیر خان مقابلہ میں اُترے وہ واقع شیر خان تھالیکن میں نے بھی بتادیا کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں شروع شروع میں تو لوگوں میں جوش خروش رہا لیکن ہمارے لڑائی لمبی ہوتی گئی۔ ہمیں لڑتے ہوئے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن آخر شیر خان غصہ میں آگیا اور یہی اس کی غلطی تھی آخر مجھے موقع مل ہی گیا اس نے مجھے راؤنڈ ہاوس کک ماری لیکن میں پہلے ہی پہلو کے بل ہوگیا میں نے اس کو گھوم کر نی لاک لگایا جو کہ میرا سپیشل تھا اس سے موت تو چھڑا سکتی تھی لیکن اور کوئی نہیں شیر خان نے بہت کوشش کی لیکن آخر کا ر اس کو ہار ماننا پڑی اور میں جیت گیا پہلے تو سب پر سکتہ ہوگیا کیونکہ شاہد کسی کو امید نہیں تھی کہ شیر خان ہارے گا۔ لیکن میں جیت گیا اور سجدے میں گرگیا اور رو رو کر شکر ادا کیا ادھر بہت شور و غل تھا آواز سنائی نہ دے رہی تھی فائرنگ آتش بازی ڈھول  پتہ نہیں ابونے کیا کیا انتظام کیا ہوا تھا سب نے مجھے کندھوں پر اُٹھالیا اور میرے ارد گرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگ گئے۔ آج رات میری دستار بندی تھی اور جشن تھا میں جلوس کی شکل میں حویلی پہنچے ہمار ا ڈیرہ جس کو ہمارے علاقہ میں بیٹھک بولتے ہیں گھر سے ساتھ ہی ہے اور تین کنال پر مشتمل ہے جس میں گھاس کے تین لان ہیں اور کئی کمرے ہیں مہمانوں کے لیے اور بیٹھنے کے لیے چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور کرسیاں بنی ہوئی ہیں درمیان میں جگہ خالی ہے۔ وہاں پر ڈھول پر ناچ ہو رہا تھا فائرنگ ہورہی تھی ہر طرف جشن کا ماحول تھا میں کچھ دیر کے لیے رخصت لے کر حویلی گیا اور جیسے ہی حویلی داخل ہوا سب میری طرف دوڑے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے سب نے بہت بہت مبارک باد دی۔

 

 

قسط نمبر3:۔ 
رات اسی بڑے میدان میں سب جمع تھے اور جشن کا سماں تھا مجھے کسی طرح دلہے کی طرح سجایا گیا تھا مطلب بہت بہترین لباس خوچی پٹھانوں کا خاص لباس ہے پہنایا گیا اور تیار کیا گیا۔ بہت بڑا مجمع تھا کیونکہ 25گاؤں کے لوگ اکٹھے تھے۔ پھر میری دستا ر بندی شروع ہوئی اور سابقہ سربروہوں نے میرے والد سے دستار لے کر میرے سر بر رکھی اور جیسے ہی رکھے بہت شور ہوا بہت فائرنگ ہوئی۔ پھر بڑے خاندانوں نے تحائف دیے۔ میرے والد نے ایک بہت ہی خوبصورت خنجر جس کی دستہ سونے کا اور میٹل پلاٹینم تھا جس سے لوہے کو بھی کات سکتے ہیں اور اس کی دھار اتنی تیز تھی کہ گلے پر رکھنے کی دیر ہے گلہ الگ۔ اور سابقہ سردار نے ایک بہت ہی خوبصورت پسٹل دیا جو کہ اس نے شیر خان کے لیے رکھا تھا لیکن جیت میں گیا تو اس نے کہا کہ یہ تحفہ سردار کے لیے رکھا تھا اب آپ سردار ہیں تو تحفہ آپ کا ہوا۔ اسی طرح رات تک تقریب جاری ہی اور جشن رہا ناچ گانا چلتا رہا اور بہت سے رقاسائیں ناچتی رہی۔ آخر کار میں اپنے ابو کے ساتھ واپس حویلی آگیا کیونکہ تین دن سے مقابلہ جات کی وجہ سے تھگ گیا تھا اور شیر خان کے ساتھ مقابلہ نے تھکا دیا تھا وہ واقع شیر تھا۔ لیکن میں بھی شیر کی سواری کر ہی ڈالی۔ جیسے ہی حویلی داخل ہوا وہاں کا ماحول بھی جشن کا تھا سب رشتہ دار عورتیں ناچ گا رہی تھی اور جشن چل رہا تھا۔ وہاں پر بھی مجھے بیٹھایا گیا اور سیپشل رقس پیش کیا گیا۔ پھر سب نے مجھے تحفے دیے۔ میرے چچا نے مجھے پراڈو کی چابی دی۔ میری امی نے مجھے ایک لاکٹ دیا جس میں ہیروں سے۔۔۔۔لکھا تھا جو میں نے چوم کر گلے میں ڈال لیا۔  
  چھوٹی امی نے مجھے آئی فون دیا۔ نور آپی نے مجھے ایک لیپ ٹاپ دیا۔ عائشہ نے مجھے ایک گولڈ واچ گفٹ کی۔ نمرہ نے مجھے ایک ہیوی بائیک کی چابی دی۔ آخر کار میں تھک ہا ر کر تین بجے کمرے میں پہنچا ا ور سوگیا۔ صبح اٹھا اورصرف دو گھنٹے ہی سو پایا تھا کیونکہ بچپن سے عادت تھی جلدی اٹھنے کی پھر جم میں گیا کیونکہ اس کے بغیر تو ایک دن بھی نہیں رہا جاتا اب بچپن کی عادت ہے پھر اب میں سردار بن گیا تھا تو اپنے آپ کو فٹ رکھتا اور بھی ضروری تھا بچپن سے ابو اور میں مل کر ہی اٹھتے اور جم جاتے پھر شوٹنگ پریکٹس کرتے ہیں پھر سوئمنگ کرتے اور پھر گھر جاتے۔ آج بھی یہی کیا۔ میرے ابو مجھ سے بہت خوش تھے۔ کیونکہ ان کا خواب میں نے پورا کردیا تھا۔ ابو نے کہا کہ آج سے تم اپنی مرضی کی زندگی جیو ہر پابندی ختم ہے جو قسم دی ہوئی تھی وہ بھی ختم اب تم ہرقسم کی پابند ی سے آزاد ہو جیسے چاہو مرضی کرو۔ آج رات ایک تحفہ میری طرف سے ہے سردار بننے کی خوشی میں اور وہ تم کو وہ تعلیم دے گی جس سے تم عورت سے کبھی مات نہیں کھاؤ گے میں نے سرجھکا لیا اور وہ ہنس پڑے بولے اسی لیے یہ تعلیم ضروری ہے کہ تم عورت سے بھی آشنا ہوجاؤ۔ خیر ناشتے کی ٹیبل سب موجود تھے اور سب ہی مجھ سے ٹریٹ مانگ رہے تھے۔ تو میں نے بولا آپ لوگ پروگرام بنا لو جہاں بولوگے لے چلوں گا۔    
دوستوں ایک بات اور بتاتاچلوں کے شروع میں سٹوری کی ٹیمپو تیز رکھی ہے تاکہ بیگ گراؤنڈ آپ کی سمجھ میں آجائے اب سٹوری نارمل چلے گی۔ 
دن میں بیٹھک میں ہی رہا جوہ کے گھر سے ساتھ ہی ہے وہاں سارا دن مہمان آتے رہے اور مبارک با د دیتے رہے جن میں اس علاقہ کے ایم این اے، وزیر، اور پولیس آفسران بھی شامل تھے کیونکہ میں اب سردار تھا اور  25گاؤں کا سربراہ تھا جن کی آباد 15سے 20لاکھ تھی جو میرے ایک اشارے پر کچھ پر کر سکتے تھے۔ خیر رات ہوگئی میں حویلی واپس آگیا اور کھانے کی ٹیبل پر سب میرا انتظار کرر ہے تھے ہم سب نے کھانہ کھایا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں ابھی کمرے میں ہی پہنچا تھا کہ نمرہ میرے کمرے میں آگئی وہ ایسے ہی آجاتی تھی کبھی ناک نہیں کرتی تھی۔ بولی افی تم جب سے آئے ہو میرے ساتھ وقت نہیں گزار رہے میں نے کہا یا ایسی کوئی بات نہیں تم کے سامنے ہی ہے کہ جب سے آیا ہوں مجھے وقت ہی نہیں ملا اب وقت ہی وقت ہے تم کے ساتھ ہی گزاروں گا۔ بولی افی اب تو تم پر لاکھوں لڑکیاں مرے گی میں نے بولا کیوں میں زہر ہوں جو مجھ پر مریں گے وہ ہنس پڑی اور بولی نہیں یار اب تم سردار ہو اور ویسے بھی تم بہادر،خوبصورت او ر ایک آئیڈئل بن چکے ہو تو لڑکیاں تم پر مریں گی ہی میں نے کہا اور تم نے کون سے لڑکیوں کو میرے پاس آنے دینا ہے جیسے پہلے نہیں آنے دیا کیا مجھے پتہ نہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کو تم میرے پاس نہیں آنے دیتی تھی تو نمو نے کچھ نہ کہا اور ہنس دی بولی اب تم کہاں رکو گے وہ تو تم ابو کی قسم کی وجہ سے روکے ہوئے تھے میں نے بولا اب میرا بنتا بھی ہے اتنے سال تو انتظار کیا محنت کی اور پھل کھانے کی باری ہے بولی افی کہیں پھل کھاتے کھاتے مجھ سے دور تو نہیں ہوجاؤ گے میں نے بولا یا کیسی باتیں کرتی ہو ایسا ہوسکتا ہے کہ تم سے دور ہوجاؤں بولی میں تو بہن ہوں اب تم مجھے کہاں گھاس ڈالو گے کہاں وقت دو گے ا ب تو رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگو گے میں نے بولا نمو تم مجھے ایسا سمجھتی ہو بولی نہیں میں تم کو بچپن سے جانتی ہوں تم ایسے نہیں ہو لیکن تم کو آج کل کی لڑکیوں کا پتہ نہیں ہے وہ ایسے گھماتی ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا میں نے بولا تو تم میری گارڈ ہو نا مجھے کس کا ڈر میں سب گاؤں کا گارڈ اور کھوالا ہوں تم میری گارڈ ہو تو نمو ہنس پڑی پھر بولی اچھا میں چلتی ہوں رات بہت ہوگئی ہے اب تم اچھے بچوں کی طرح سوجاؤ میں بھی جاتی ہوں اور ہاں گارڈ والی بات یاد رکھنا تم نے ہی مجھے اپنا گارڈ بنایا ہے میں نے بولا یاد رہے گا 

 

 

قسط نمبر4:۔ 
 وہ چلی گئی اور میں سونے کی تیاری کرنے لگا تھوڑی دیر بعد میرے کمرے میں گلناز آئی وہ ہماری ہیڈ ملازمہ ہے مطلب گھر میں جتنی بھی عورتیں اور لڑکیا ں ملازم ہیں ان کی ہیڈ تھی اور سب کی کنٹرولر تھی اس کی عمر تقریباً35سال تھی لیکن لگتی وہ 25کی تھی بھرا بھرا جسم لمبا قد بھاری سینہ باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ پتلی کمر غرض کے چلتا پھرتا آئٹم بمب تھی۔بولی چھوٹے صاحب مجھے بڑے صاحب نے آپ کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔تو میں بولا کون سی خدمت اس وقت تم نے کرنی ہے میں تو اب سونے لگا تھا وہ جی وہ صاحب نے بولا آپ کو تعلیم دینی ہے میں بولا اچھا تو تم میری ٹیچر ہو جو مجھے عورت کی تعلیم دے گی وہ بولی جی مجھے بڑے صاحب نے ڈیوٹی دی ہے کہ میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں اور آپ کو مرد بناؤں میں نے بولا کیا میں مرد نہیں ہوں بولی آپ مرد ہو لیکن لڑکے ہو مرد تو میں آج کی رات آپ کو بناؤں گی میں بولا ٹھیک ہے مجھے بتاؤ میں کیا کروں پھر میں بولا تم کو کیسے پتہ کہ میں ابھی تک لڑ کا ہوں مرد نہیں بنا کنوارہ ہوں بولی میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک تو آپ کو قسم دی گئی تھی دوسرا آپ کی نظروں میں کبھی بھی حوس نہیں دیکھی حالانکہ گھر میں ایک سے ایک ملازمہ ہیں اور گاؤں کی لڑلیاں بھی ایک سے ایک ہیں لیکن آپ کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں بولا ابھی میں جس حالت میں کھڑی ہوں کوئی دوسرا ہوتا تو مجھے آتے ہی مجھ پر ٹوٹ پڑتا واقع ہی میں نے کبھی کچھ نہیں کیا صرف ٹریننگ پر دھیان ہی دیا تھا کبھی کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا نہ خیال آیا اور وہ اس وقت فل آئٹم بنی کھڑی تھی اس نے سلک کا فل فٹنگ والا جوڑا پہنا تھا جس سے اس کے جسم کے تمام حصے نمایاں تھے ایک ایک کٹ واضح نظر آرہا تھالیکن میں نے دھیان ہی نہیں دیا میں اس کو دیکھ رہا تھا تو گلناز بولی  میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں گی آپ کو اتنا ماہر بنادوں گی کہ آپ عورت کے دل کی ہربات آپ جان سکتے ہیں اس کی خواہش کیا ہے کیسے پوری کرسکتے ہیں وہ آپ سے کیا چاہتی ہے آپ کیسے جان سکتے ہیں۔ عورت کو سکون کیسے دیا جاتا اور کیسے تڑپایا جاتا ہے کیسے اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گلناز کو میں اب ناز لکھوں گا کیوں کہ ہم اسے ناز ہی کہتے تھے۔ میں شرمانے لگ گیا کیونکہ پہلی بار کسی عورت سے ایسی باتیں سن رہا تھا تو ناز بولی تم کی یہی شرم تو اُتارنی ہے بولی جس نی کی شرم اس کے پھوٹے کرم شرمانا نہیں اگر تم شرماؤ کے کچھ بھی نہیں کرپاؤ گے لڑکیاں اس کو پسند کرتی ہیں جو شرماتا نہیں شرمانا تو لڑکیوں کا کام ہے اور صاحب جی آپ شرمانے لگے میں نے بولا تم اب میری ٹیچر ہو مجھے صاحب جی مت بولو تم مجھے افی کہہ سکتی ہو۔ ہم م م م  کیا بولی فریش ہونا ہے یا ہوچکے ہو میں بولا ہوچکا ہوں۔ بولی آؤ تم کو عورت سے روشنا س کراؤں اور تم کو مرد بناؤں میں جھجھک رہا تھا اس نے میرا ہاتھ پکڑا تو میرے جسم میں کرنٹ دوڑنا شروع ہوگیا یہ نہیں کہ پہلی بار کسی عورت یا لڑکی نے ہاتھ پکڑا تھا امی نے نمرہ نے چھوٹی ماں نے کئی بار پکڑا ان کے گلے بھی لگا پر یہ کچھ اور ہی تھا ناز بولی لگتا ہے مجھے پہل کرنی پڑے گی اور تم کی شرم اُتانی پڑے گی میں بولا جی صرف اتنا ہی کہہ پایا۔ اس نے مجھے گلے لگا یا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میرے جسم میں سنسنی شروع ہوچکی تھی ایسا پہلی بار ہو رہا تھا اس نے میرے گالوں کو چومنا شروع کردیا میرے پورے منہ کو چومنا شروع کردیا میں اس وقت لوز ٹراؤزر میں تھا اور بنیان پہنی ہوئی تھی کیوکہ رات کا میرا یہی لباس تھااس نے میرے میرے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا بولی واہ کیا سینہ ہے کمال کی باڈی ہے میں حیران تھا کہ اس کا قد پانچ فٹ سے کچھ اوپر ہے اور وہ میرے برابر کیسے ہے نیچے دیکھا تھا تو وہ چھوٹی ٹولی پر کھڑی تھی کیونکہ میرا قدچھ فٹ تین انچ تھا۔ اس نے میری بنیان اتارنا شروع کردی اور میری بنیان اتار دی اب میں صرف ٹراؤزرمیں تھا میں نے بھی آہستہ سے ہاتھ اس کے کمر پر رکھ لیے اور پھیرنا شروع کردیے جیسے ہی ہاتھی اس کی کمر پر لگے تو اس نے مجھے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ میرے ہاتھ اس نے پکڑ کر اپنی باہر کو نکلی ہوئی گانڈپر رکھ دیے او ر میرے سنیے اور بازؤوں کو چومنا شروع کردیا پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن کچھ دیر بعد میں بھی اس کا ساتھ دینا ناز میرے نیچے والے ہونٹوں کو چوسنا شروع کرچکی تھی اور میں نے اس کے اوپر والے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا اور میں نے ناز کی گانڈ پر پکڑ سخت کرد ی میرے ہاتھ اب لوہا بن چکے تھے تو ناز نے میرے ہونٹ چھوڑے اور بولی افی آرام سے تم کے ہاتھ بہت سخت ہیں آرام سے اور پیار سے دباؤ میں نے بولا سوری سب پہلی دفعہ ہے نا تو تھوڑا مسئلہ تو گا بولی کوئی بات نہیں سب سیکھ جاؤ گے۔ میں نے پکڑ اب ڈھیلی کر دی تھی۔ اور آرام سے ناز کی گانڈ مسل رہا تھا نیچے میرا لن اب سر اٹھا رہا تھا ناز نے میرے سینے سے ہوتے ہوئے نیچے میرے پیٹ کی طرف آنا شروع کردیا اور اور میرے پیٹ کو چومنا شروع کردیا تھا اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھے ہوئے تھے مجھے یہ سب بہت عجیب لگ ر ہا تھا سب پہلی بار ہورہا تھا۔ ناز نے میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے تو ایکدم مجھے کرنٹ لگا پہلی بار تھا کسی عورت کے سینہ پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔ میں نے ناز کے سینے کو مسلنا شروع کردیا اور پھر ناز کی قمیض کو اتارنا شروع کردیا لیکن وہ بہت تنگ تھی اس کے مموں کے پاس آکر پھنس گئی تو ناز بولی روکو میں خود اُتارتی ہوں اس طرح پھاڑ دو گے میں واپس کیسے جاؤں گی تو میں رک گیا ناز نے قمیض سے پہلے ایک مما نکالا اور پھر دو سرا نکالااور قمیض کو سرسے باہر نکالا اور قمیض اتار دی جیسے ہی میری نظر اس کے سینہ پر مموں پر پڑی تو ایکدم ساخت ہوگیا اس نے بلیک کلر کی برا پہنی تھی اور اس میں سے اس کے 38سائز کے ممے جو کہ سائز مجھے اس نے بعد میں بتایا تھا باہر آنے کو بیتاب تھے میں فوراً کسی چھوٹے بچے کی طرح ان پر جھپٹ پڑا اور ہاتھوں سے مسلنا شروع کردیا اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہوگئی بولی آرام سے میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی تم کے ہاتھ بھی بہت سخت ہیں اس طرح تو کوئی لڑکی تم کے ساتھ راضی نہیں ہوگی پیار سے کرو عورت کو جتنا مزا دو گے اتنی ہی تمہارے غلام بنے گی اس کو درد دو گے تو وہ تم سے دور بھاگے گی میں بولا پہلی بار ہے اس لیے شاہد ایسا ہوا آئندہ احتیاط کروں گا بولی میں تم کی ٹیچر ہوں میں تم کو سکھانا چاہتی ہوں اس لیے بار بار ٹوک رہی ہوں تاکہ تم ایکس پرٹ بن جاؤ۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسلنا شروع کردیا لیکن اب کی بار آرام سے اور پیار سے بولی ان سے کھیلو گے میں بولا ہاں تو اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر برا کی ہک کھول دی اور ممے اچھل کر باہر آگئے میں ان کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلناشروع کردیا اس کے منہ سے سکاریاں نکلنا شروع ہوچکی تھیں ڈر گیا شاہد کے در د ہورہا ہے ہاتھ ہٹالیے تونا ز بولی ہاتھ کیوں ہٹالیے بولا تم کو درد ہورہا تھابولی یہ درد نہیں یہی تو مزا ہے جب عورتوں کو مزا آتا ہے تو منہ سے ایسی ہی آوازیں نکالتی تھیں۔دوستوں مجھے پتہ نہ تھا کیونکہ نہ تو کبھی چودائی کی تھی نہ دیکھی تھی۔پھر میں نے دوبارہ ناز کے خربوزے سائز مموں کو مسلنا شروع کردیا کبھی ایک پکڑتا کبھی دوسرا پکڑتا اور مسلتا میں ناز کے مموں میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ نیچے میرا لن فل کھڑا تھا میں اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا میرے ٹراؤزر کے سامنے بڑا سا تمبو بنا ہوا تھا جب ناز نے ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لن پر ہاتھ رکھا تو ایک بار تو پیچھے ہٹ کر میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے ٹراؤزر نیچے کر کے ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا میر ا لن فل کھڑا تھا اور پتھر بنا ہوا تھا اور اوپر نیچے جھٹکے کھا رہا تھا ناز کی آنکھو ں میں عجیب سی چمک تھی چہرہ سرخ ہو رہا تھا اس نے بازو جب میرے لن کے ساتھ لگایا ناپنے کے لیے تو اس کی بازو میں اورمیرے لن میں اور اس کے بازو میں کوئی فرق نہ تھا میرا لن تقریباً11انچ لمبا اور 4انچ موٹا تھا بولی اتنا بڑا کیسے ہوگیا پھر چونکی اور بولی ہاں جس تیل سے تم کی جسم کی مالش ہوتی تھی اس نے اس کی نشوونما اچھی کی ہے بچپن سے جو تیل کی مالش ہوتی تھی پورے جسم پر ہوتی تھی لن پر بھی ہوتی تھی اپنے ہاتھ کو میرے لن پر آگے پیچھے کیا تو میں پاگل ہونے والا ہوگیا تھا عجیب سا مزا تھا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا بولی یہ تو میرا کباڑا کر دے گا میرے ہاتھ ابھی اس کے مموں پر ہی تھے بولی ان سے کھیلوں جتنا کھیلو گے عورت کو اتنا مزا آئے گا ان کو چوسو،ہلکے ہلکے کاٹو میں نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اس کا ہاتھ میرے لن پر آگے پیچھے ہورہا تھا اور میں اس کے مموں کو چوس رہا تھا بولی میں تھک گئی ہوں بیڈ پر چلتے ہیں تو ہم بیڈ پر آگئے میں فل ننگا تھا اس نے پاجامہ پہنا ہوا تھا اوپر سے ننگی تھی وہ لیٹ گئی اورمجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا میں پھر اوپر آگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا لیکن پیار سے کبھی ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا کبھی چوستا کبھی کاٹتا اور ناز مزے سے سسکتی اور عجیب عجیب آوازیں نکالتی پھر اچانک اس کی سسکیوں میں اور آوزوں میں تیزی آتی گئی پھر ایک بار اچھلی اور پرسکون ہوتی گئی میں ایسے ہی اس کے مموں سے کھیل رہا تھا لیکن وہ ایسے پڑی تھی جیسے مردہ پڑے ہوتے ہیں بولی رک جاؤمیں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہوچکی ہوں تم نے میرے مموں ایسا کھیلا کے برداشت نہ کرسکی سب سمجھ جاؤ گے اور سیکھ جاؤ گے۔ جیسے تم لڑکے فارغ ہوتے ہو ویسے ہی عورتیں بھی فارغ ہوتی ہیں جس سے سکون حاصل ہوتا ہے عورت فارغ نہ ہو یا مرد فارغ نہ ہو تو کیسا سکون اسی سکون کے لیے تو دنیا مرتی ہے۔ اب مجھے میرے لن میں جو کہ کافی دیر سے اکڑا ہوا تھا درد ہونا شروع ہوچکی تھی میں نے ناز کو بتایا تو بولی اب میں اس کا علاج کرتی ہوں پھر اُٹھ کر مجھے بولا لیٹ جاؤ میں حکم مانتے ہوئے لیٹ گیا اس نے پہلے تو میرے لن پر تھوک پھینکا پھر ہاتھ سے میرے لن پر ملا پھر میرے لن کو چوم لیا جب ناز نے چوما تو مجھے کرنٹ لگا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی پھر اس نے میرے ٹوپے کو منہ میں لینے کی کوشش کی کیونکہ میرا لن موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں صرف ٹوپا بھی پورا نہ جاسکا لیکن میرے لیے یہ مزا نیا تھا ناز بولی ہر لڑکی منہ میں نہیں لیتی میں تو تم کو ہر مزے سے روشناس کروانا چاہتی ہوں یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سردار کو میں مرد بناؤ گی اور اس کا کنوارہ پن ختم کروں گی پھر اس نے پورا منہ کھول کر جتنا ہوسکتا تھا منہ میں لے کر آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کیونکہ چوس تو سکتی نہیں تھی موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھر تھوڑی دیر منہ میں لینے کے بعد اٹھی اور شلوار اتاردی اور پوری ننگی ہوگئی زندگی میں پہلی بار میں نے ایک عورت کو پورا ننگا دیکھا تھا میری عجیب حالت تھی لن تھا کہ جھٹکے پر جھٹکے لے رہا تھا بولی کیا دیکھ رہے ہو میں بولا پہلی بار کسی کو ننگا دیکھا ہے اس نے بولا آؤ میں تم کو دوسرے جہاں کی سیر کراؤں تم نے عورت کا اوپر والا جسم تو دیکھ لیا اور سیر کر لی اب نیچے والی سیر بھی کراؤں جس کے لیے دنیا پاگل ہے اور جس سے دنیا بڑھی ہے اور قائم ہے۔ اس کی پھدی کلین شو تھی ہلکی سے پنکش تھی لیکن اس کے ہونٹ تھوڑے کھلے تھے بولی ویسے یہ تم سے زیادتی ہے کہ تم کنوارے ہو اور میں کنواری نہیں ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا کنواری لڑکی سے جو کچھ کرنا ہے تم نے کرنا ہے لیکن چدی ہوئی تم کو مزادے گی اور لے گی اور میری عمر کی پکی عورت تم کو اصل مزا دے گی۔ ویسے تم کے ہتھیار کے حساب سے تو تم کو تقریباً سب ہی کنواری لگیں گیں۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ لیے بولی جس طرح سے میرے مموں سے کھیلے ہو اسی طرح اس سے بھی کھیلو پھر اس میں گھوڑا دڑاؤ۔ پھر میں نے ناز کی پھدی پر ہاتھ رکھا تو میرے ہاتھ پر سفید اور گاڑھا لیس دار پانی لگ گیا جو کہ ناز نے بتایا تھا کہ یہ عورت کا پانی ہوتا ہے پھر میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی پھیری تو اس نے سسکاری بھر ی میری انگلی اس کے پھدی کے پانی سے تر ہوچکی تھی میں انگلی پھر رہا تھا کہ میری انگلی نے ایک سوراخ پایا اور میں نے دباؤ ڈالا تو اند ر چلی گئی ناز بولی کیس لگا میں بولا انکوکھا مزا ہے یہ تو پھر بولی اب تم بھی مجھے پیار کروں جیسے میں نے کیا ہے اپنے منہ سے تمارے ہتھیار پر مجھے کوفت ہوئی لیکن مجھے سب سیکھنا تھا تو زبان نکال کر میں نے پھدی کو چوما اور سونگھا تو عجیب سی خوشبو آئی پھر زبان جیسے ہی ناز کی پھدی سے ٹچ ہوئی تو ناز ایک دم سسکی اور مجھے ضائقہ نمکین سالگا اور عجیب سا لگا پھر میں نے برابر زبان چلانا شروع کردی جیسے جیسے ناز بتاتی گئی وہ بے خود سی ہوگئی تھی پھر کچھ دیر بعد اس کا جسم اکڑ گیا میں اب سمجھ گیا تھا کہ پھر فارغ ہوگئی ہے لیکن میں نے اس کی پھدی کو چاٹنا جاری رکھا کیوں کہ میری استاد نے مجھے ابھی تک نہیں روکا تھا جب فری ہوئی تو فوارا میرے منہ میں گیا جو میں پی گیا اب مجھے اچھا لگ رہا تھا میں نے نا ز سے بولا یا ر میرے اس میں بہت درد ہو رہی ہے بولی کس میں میں آہستہ سے بولا لن میں بولی شرمانا چھوڑ دو تو کامیاب رہو گے میں بولا آہستہ آہستہ اتار دوں گا آج پہلی بار ہے تم جیسی استا د ملی ہے تو جلد ہی سب سیکھ جاؤں گا۔ بولی فکر نہ کروں تم کو اتنا ماہر کردوں گی کہ تم ایک ماہر کھلاڑی بن جاؤ گے جیسے کہ تم دوسری چیزوں میں ہو۔ تو بولا میرے لن میں درد ہوگئی ہے۔ بولی اس کا قصور نہیں ہے تم اتنی دیر سے ہارڈ ہو مطلب تم کا اتنی دیر سے کھڑا ہے تو ددر تو کرے گا اب تم کا گھوڑا سواری کرنے چاہتا ہے تاکہ اپنی منزل پر پہنچ جائے آؤ تم کو سواری کرواؤں۔ بولی کوئی آئل ہے میں نے بولاہاں ناریل کا تیل پڑا ہے بولی لے آؤ میں گیا اور تیل لے آیا اس نے بولا اچھی طرح سے اپنے لن پر لگاؤ میں نے لگا لیا اور پھر بولی تم نیچے لیٹ جاؤ تم اناڑی ہو کہیں مجھے مار ہی نہ دو جیسا تم کا ہتھیار ہے۔ میں لیٹ گیا اور وہ میرے اوپر آگئی پھر میرے ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا او ر میرے لن کو پکڑ کر اپنی گیلی پھدی کے منہ پر رکھ لیا اور اس پر پھیرنے لگی مجھے بہت مزا آرہا تھا میں ہواؤں میں اُڑ رہا تھا ایسا مزا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن کسی تنگ جگہ میں جا رہا ہے میں نے ناز کے منہ سے سی سی سی سنی بولی بہت موٹا ہے لیکن وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی تھوڑا تھوڑا کر کے میرا آدھا لن اپنی پھدی میں ڈال لیا اور رک گئی پھر اوپر ہوئی اور پھر نیچے آئی جب نیچے آئی تو میں نے نیچے سے جھٹکا مارا جھٹکا زور کا تھا اس کی اور میری چیخ ایک ساتھ نکلی لیکن ناز کی چیخ اتنی زور دار تھی کہ میں ڈر گیا تھا اگر میرا کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو شاہد پورے علاقہ میں اس کی چیخ سنی جاتی مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا لن کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہوا ہے۔ ناز میرے اوپرلیٹی ہانپ رہی تھی اور میرا پورا لن ناز کی پھدی میں گھس چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ناز نازمل ہوئی اور غصے سے میری طرف دیکھامیں شرمندہ سا منہ بنا کر نیچے کرلیا۔ میں نے بولا ناز سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے اتنا مزا آیا تھا کہ جوش میں آکر جھکا مار بیٹھا ناز بولی شکر کرو کوئی جوان لڑکی نہیں تھی ورنہ اس کا کام تمام ہوجاتا۔ میں بہت شرمندہ تھا کہ واقع مجھ سے غلطی ہوئی۔ ناز بولی تم کا ہتھیار بہت موٹا اور لمبا ہے اگر تم ایسے کسی کے ساتھ کرو گے تو کوئی بھی تم کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔میں نے دوبارہ معافی مانگی ناز نے بولا کوئی بات نہیں مجھے ہی بتانا چاہیے تھا کہ جھٹکا نہ مارنا تم کے لیے تو یہ سب نیا تھا۔ میرا لن اب ناز کی پھدی میں بری طرح غصہ ہوا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی گرم بھٹی میں ہے اور کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہو اہے۔ اب ناز نے بڑے آرام سے آہستہ آہستہ باہر نکالا ساتھ سی سی کرتی جارہی تھی بولی تم نے میری بینڈ بجادی ہے جب میرا لن باہر نکلا تو اس پر خون لگا ہوا تھا بولی دیکھ لو میرے ساتھ تم نے کیا کیا ہے۔ میں خاموش رہا پھر اس نے مجھ کو کس کی کہتی کوئی بات نہیں معاف کیا خیر اس نے پھر سے تیل لگایا اور اوپر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ پورا اندر لے لیا ساتھ میں کسنگ جاری رکھی بولی میرے مموں سے کھیلو اس طرح مجھے درد کم ہوگا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے ناز کے خربوزے سائز کے مموں سے کھلینا شروع کردیا۔ اب ناز اوپر نیچے ہوتی رہی آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے پانی کی وجہ سے اور آئل کی وجہ سے پھدی میں جگہ بن گئی تھی اب وہ پورا لن اند ر لیتی اور پھر ٹوپی اندر کھ کر باقی باہر نکالتی پھر اند ر لیتی اس کا سانس پھول رہا تھا اور میں مزے کی گہرائیوں میں تھا۔ پھر مجھے ناز کی پھدی کا گرم گرم پانی اپنے لن کے ساتھ محسوس ہواور ناز میرے اوپر گر گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کچھ دیر بعد بولی کیسا لگا میں بولا ایس لگ رہاتھا کہ آسمانوں پر اُ ڑ رہا ہوں بولی میں تین بار فارغ ہو چکی ہوں لیکن ابھی تک تم کا ایک بار بھی نہیں ہو ا اسے کیا پتہ تھا تمام مقابلے میں نے سٹیمنے کی وجہ سے جیتے تھے پھر وہ نیچے لیٹ گئی بولی اوپر آؤ میں اس کو پکڑا میرا لن اس کی پھدی کے اندر ہی رہا اور میں گھوم گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں اس کے اوپر بولی اب آہستہ آہستہ گھسے مارو میں نے سلوسپیڈ میں گھسے مارنے شروع کردیے جب میں ا سکے اند ر کرتا تو اس کی سسکی نکل جاتی اب وہ جوش میں آگئی او ر بولی تیز دھکے مارو میں نے سپیڈ تیز کردی اس نے ٹانگے اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دی میں نے ٹانگوں کو پکڑلیا اور سپیڈ سے دھکے مارنے لگ پڑا جب میں دھکا مارتا تو وہ اپنی گانڈ پیچھے کرتی جس سے دھک دھک کی آواز آتی اب میں طوفانی دھکے مارنے شروع کردیے تھے تو ناز نے چیخنا شروع کردیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی اسکوپوری طرح قابو کر کے دھکامارتا جارہا تھا اچانک ناز کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور گرم گرم پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا۔ لیکن میں نے اسی رفتار سے چودائی جاری رکھی۔ ناز اب بے جان ہوگئی تھی اور شاہد بے ہوش ہوگئی تھی جب ناز بے ہوش ہوئی تو میں نے لن باہر نکال لیا اور ٹیبل پر پڑے پانی سے چھنٹے مارے تو ناز کو ہوش آیا اور جیسے ہی میرے لن پر نظر پڑی تو سہم گئی بولی شاہد میری زندگی کی آخری رات ہے تم مجھے جان سے مار کر چھوڑو گے میں نے بولا میں نے کیا کیا ہے بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے جیسے میں ہورہی ہوں میں نے بولا مجھے کیا پتہ بولی تم کا کتنا سٹمینا ہے میں نے کہا پہلی بار ہے مجھے کیا پتہ بولی کچھ محسوس ہورہا میں نے کہا ہونے لگتا ہے لیکن تم روک دیتی ہو۔ بولی اب جو بھی ہو جب تک فارغ نہ ہو رکنا نہیں میں نے کہا تم بے ہوش ہوگئی تھی تو میں ڈر گیا تھا بولی مجھے کچھ نہیں ہوتا زیادہ سے زیادہ بے ہوش ہی ہوں گی میں بولا ٹھیک ہے پھر وہ گھوڑی بنی میں اس کے پیچھے آگیا اور اپنا لن اس کے پھدی کے منہ پر رکھا جو کہ اب سوج چکی تھی اور ایک جاندار دھکا مارا تو ناز چیخ پڑی پھر میں لگاتار دھکے پر دھکا رتا رہا اور آخر کار مجھے میری جان لن کی طرف آتی محسوس ہوئی میں نے ناز کو بولا مجھے کچھ ہورہا ہے ناز بولی تم قریب آرہے ہو لگے رہو میں پورے زور سے دھکے لگارہا تھا پھر مجھے ناز کی پھدی کا پانی محسوس ہوا ساتھ مجھے بھی محسو س ہوا تو ناز نے جلدی سے پلٹی کھائی اور منہ کر کے بیٹھ گئی بولی میرے منہ پر فارغ ہونا پہلا پانی میں پینا چاہتی ہوں پھر میرے لن سے پہلی فوار نکلی جو کہ سدھے اس کے منہ پرپڑی پھر تو برسات شروع ہوگئی جو کہ ناز کے جسم کو بھیگو گئی اور میں جب آخری قطرہ بھی نکل گیا تو وہی بیڈ پر گر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ پڑا۔ 

 

Link to comment

    قسط نمبر5:۔  
ناز نے بستر سے اٹھنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑی میں نے اُٹھ کر اسے سنبھالہ اور کمرے کے اٹیچ واش روم تک لے گیا کیونکہ میرا گاڑھا مال اس کے پورے جسم پر تھا کیونکہ اس نے پینے کی کافی کوشش کی لیکن سارا نہ پی سکی تو باقی اس کے جسم پر مموں پر، پیٹ پر گرا۔ تھوڑی دیر بعد ناز لنگڑاتی ہوئی باتھ سے ننگی ہی باہر آئی اور اپنے کپڑے اٹھا کر پہننے لگی بولی آج کے لیے اتنی تعلیم بہت ہے تم نے میرا برا حال کردیا آج تو پہلی بار تھا پتہ نہیں تم کے ہاتھ کوئی لڑکی لگی تو اس کی کیا حالت ہو گی اس کو دیکھ کر میرا لن پھر سے کھڑا ہونے لگا جس کو دیکھ کر ناز بولی یہ تو پھر کھڑا ہوگیا اب شیر کے منہ خون لگ گیا ہے یہ کہاں سکون سے رہنے والا ہے لیکن اب مجھ میں اتنی جان نہیں بچی باقی تعلیم کل دوں گی اور ویسے بھی صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو صبح کے چار بج رہے تھے اور رات تقریباً 12بجے ناز آئی تھی۔خیر صبح اٹھا اور جم گیا وہاں پر ابو پہلے ہی موجود تھے بولے کیسی رہی رات میں نے سرجھکا لیا تو ابو بولے تم کی شرم نہیں اتاری اس نے میں بولا ایسی بات نہیں آپ میرے ابو ہیں اس لیے آپ سے ایسی بات کرتے ہوئے عجیب لگ رہا ہے تو بولے ہم دوست بھی تو ہیں نا اس لیے تو دوست نے تحفہ دیا ہے تم کی جیت کا پھر ہم ہنسنے لگے جم سے فارغ ہو کر میں نے یوگا کیا اور پھر سٹیمنا بڑھانے والی مشقیں کیں پھر جسم پر مالش کی اور آج لن پر تیل لگاتے ہی کھڑا ہوگیا پہلے کبھی کبھی ایسا ہوتا لیکن آج تو تیل لگتے ہی لن تیر کی طرح سیدھا ہوگیا خیر میں نے ایسے ہی واش روم گیا نہایا اور ایک فارمل شلوار قمیض پہن کر باہر ناشتے کی ٹیبل پر اگیا نہانے سے لن میں سختی ختم ہو گئی سب ناشتے میں موجود تھے۔نور آپی بولی افی تم ٹریٹ کب دے رہے ہو میں بولا آپی جب آپ بولوں عائشہ بولی تم تو ہروقت نمرہ کے ساتھ رہتے ہو ہم تو جیسے تم کی بہنیں ہی نہ ہو وہ ایک تم کی بہن ہو میں بولا ایسا نہیں آپ بھی میری اتنی ہی بہنیں ہو تو عائشہ بولی آج کا پورا دن ہمارا تم سرداربن گئے ہو لیکن گھر میں ہمارے وہی افی ہو میں بولا ڈن چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں کافی عرصہ ہوگیا کہیں گھومے ہوئے ٹریننگ کی وجہ سے کہیں گھومنے نہیں جاسکے۔ ابھی ہم یہ بات کرہی رہے تھے کہ پتہ نہیں جو ملازمہ کھانہ ٹیبل پر رکھ رہی تھی سلپ ہوئی اور اس کا ہاتھ پانی کے بھرے ہوئے جگ پر پڑا اور سارا پانی چھوٹی ماں پر گر گیا پانی گرنے کی وجہ سے چھوٹی ماں کے سارے کپڑے گیلے ہوگئے اور ان کی بھاری مموں پر کالی برا واضح نظر آنے لگ پڑی میرے نظر جیسے ہی ان کے گیلے جسم پر پڑی تو میرے لن نے سر اٹھانہ شروع کردیا وہ بھی مجھے بتائے بغیر میں چور نظروں سے چھوٹی ماں کے گیلے جسم کو دیکھی جارہا تھا کہ اچانک ہمارے نظریں ٹکرائی میں نے فوراً نظر جھکا لی نیچے دیکھا تو لن تمبو بنا ہوا تھا۔ مجھے بہت سخت شرم آئی کہ وہ میری چھوٹی ماں ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو لیکن پہلے ایسا کبھی خیال کیا بھی نہیں لیکن کل رات ناز کے ساتھ گزاری رات نے میری دنیا ہی بدل دی تھی جو چیز مجھے سے 22سال دور رہی اب اچانک ملنے پر مجھے پر قابو نہ رہا تھا میں نے خود کو بہت کوسا کہ وہ میری چھوٹی ماں ہیں ایک بار پھر نظر اٹھائی تو چھوٹی ماں مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگیا اور بیڈ پر لیٹ گیا کہ چھوٹی ماں میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوں گی۔ خیر تھوڑی دیر گزری تو نور آپی اور عائشہ آگئی میں نور کو آپی بولتا لیکن عائشہ کو عائشہ ہی بولتا اور نمرہ کو تو نمو بولتا تھا لیکن گھر میں سب مجھے افی کہتے تھے۔ ہم نے اسلام آبا د جانے کا پروگرام بنایا جو کہ ہمارے گاؤں سے 70کلو میٹر دور تھا سب کو تیار ہونے کا بول کرخود بھی تیار ہوگیا لیکن میں نے ایک پنڈلی میں وہ ٹاٹینیم والا خنجر جو ابو نے دیا تھا اور دوسری میں پسٹل جو شر خان کے والد نے دیا تھاباند ھ لیا۔ یہ اب میری زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔  میں نے گاڑی نکالی تو گارڈبھی گاڑیاں نکالنے لگے مجھے ڈرائیو کرنے کا شوق تھا اس لیے میں اپنی گاڑی خود چلاتا تھا میں نے گارڈ کو رکنے کو بولا تو جو گارڈ کا انچارج تھا بولا صاحب ہمیں ہماری ذمہ داری پوری کرنے دیں اب آپ سردار ہیں میں نے بولا میں اپنے پرائیوٹ کام سے جارہا ہوں فیملی کے ساتھ اس لیے گارڈ کی ضرورت نہیں لیکن وہ بولا بڑے صاحب نے خاص حکم جاری کیا ہے کہ اب آپ کو اکیلے کہیں جانے نہ دیں میں بولا میں سردار ہوں تم کا میں حکم دیتا ہوں کہ رک جاؤ وہ سب واپس چلے گئے میں نے پراڈو نکالی جو کہ چاچو نے گفٹ کی تھی  اتنے میں سب بہنیں آگئیں نور، عائشہ، اور نوشے، نمرہ لیکن ساتھ چھوٹی ماں بھی تھیں جنہوں نے ایک ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھیں انہوں نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا بڑی امی اتنی پرھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ بہت پڑھی لکھی اور ماڈرن تھیں سوٹ انہوں نے فٹنگ والا پہنا ہوا تھا۔ جن کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں نیچے ہل چل ہونے لگی میں نے جلدی سے سامنے کی طرف دیکھنا شروع کرددیا باقی سب پیچھے بیٹھ گئے اور چھوٹی ماں آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی انکے جسم سے گوچی پرفیوم کی خوشبوآرہی تھی خیر ہم نکلے میں نے درمیانی سپیڈ ہی رکھی کیونکہ اتنی جلدی تو تھی نہیں ایک گھنٹے تک ہم شہر پہنچے وہاں سارا دن ہلہ گلہ کیامیں سردار تھا لیکن تھا تو میں بھی ابھی جوان ہوا خیر سب نے شاپنگ کی جو کہ اسلام آباد کے ایک بڑے مال سے کی جو کہ ہمارا ہی تھامینجر نے خود سامان گاڑی میں رکھوایا پھر ایک ریسٹورینٹ میں کھانا کھایا ہم سب نے بہت انجوائے کیا لیکن جب بھی میری اور چھوٹی امی کی نظریں ملتی تو میری ڈھرکن تیز ہوجاتی پتہ نہیں کیابات تھی رات کا اثر تھا یا ان کے دیکھنے کا یا ان کے جسم کا حالانکہ میں نمرہ سے جتنا فری تھا اس کو کبھی ایسی نظر سے نہیں دیکھا یا دوسری کسی لڑکی کو ایسی انظر سے نہیں دیکھا۔ جب کھانہ کھارہے تھے تو مجھے صبح والا منظر بار باریاد آرہا تھا۔ میری نظر بار بار چھوٹی امی کی طرف جارہی تھی۔جب بھی چھوٹی امی سے میری نظر ملتی تو میری نظریں جھک جاتی۔ خیر ہم واپس آگئے اور میں اپنے کمرے میں اگیا۔جب کے سب اپنی اپنی شاپنگ دیکھ رہی تھیں۔ کچھ مہمان آئے مبارک باد ینے اور کچھ شکایت لے کر آئے جس کو میں نے سنا جتنی بھی شکایتں ہوتی سن کر جمعہ والے دن شام کے وقت ان کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ یہ وہ فیصلہ جات ہوتے جو گاؤں کے سربراہ نہ کرسکتے یا کوئی بڑا مسئلہ ہوتا۔ رات کھانا کھایا پھر کمرے میں جم میں جا کر واک کرنا میری روٹین میں شامل تھیں پھر میں روم میں آگیا آج صبح سے میں نے ناز کو نہیں دیکھا تھا۔ حالانکہ وہ ہیڈ تھی خیر میں نے نہا کر سونے کے لیے لیٹا تھا کہ دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو ناز آگئی اور دروازہ بندکرتے ہوئے میرے پا س آگئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی آج تو قیامت بن کر آئی تھی بہت ہی ٹائیٹ فٹنگ والا سوٹ پہناتھا جس سے اس کے ابھار واقع ہورہے تھے۔ اس کو دیکھتے ہی میرے لن میں حرکت ہوئی۔ ناز بولی آج تم کی باقی تعلیم پوری کروں گی میں ہنس دیا میں بے بولا آج سارادن نظر نہیں آئی بولی کل جو حالت تم نے میری کی تھی توکیسے نظر آتی سارادن آرام کیا بخار رہا اب بھی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن تم کے کو تعلیم دینے کی ذمہ داری میری ہے تو میں آگئی میں بولا کوئی بات نہیں تم کل آجانا بولی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ بڑے صاحب نے اتنے لوگوں میں مجھے چنا اور آپ کا کنوارہ پن مجھے ملاپھر بولی آج جو کل میں نے سکھایا تھا تم کرو مجھے پتہ چلے کہ تم کتنا سیکھ چکے ہو میں فوراً اٹھا اور اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگادیا اور کسنگ کرنا شروع کردی اور ساتھ ہی ہاتھ اس کی باہر کی نکلی ہوئی گانڈ پر رکھدیااور زور سے کسنگ کرنے لگے کبھی اوپر والے ہونٹ کو چوستا کبھی نیچے والے کو وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی پھر میں نے اس کی قیمض کو پکڑا کر اوپر اٹھانا شروع کردیا تو انے بازو اوپر کردیے میر اقد لمبا تھا اس لیے میں نے قیمیض پکڑ کر باہر نکالنے لگا لیکن قمیض بہت ٹائیٹ تھی اس کے مموں پر اٹک گئی لیکن میں نے زور لگا کر گلے سے نکال لی اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ پھر میں اس کے 38سائز کے مموں پر ٹوٹ میں نے برا کو بھی اتار دیااور اس کے مموں کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ ناز نے بھی سسکنا شروع کردیا میرا لن پورا کھڑا ہو کر اس کے پیٹ پر لگ رہا تھا کیونکہ میرا قداس سے لمبا تھا۔ میں نے پکڑ اس کو گھمایا اور اس کی کمر اور کندھوں کو چومنا شروع کردیا اس نے ہاتھ میرے لن پر رکھ لیا اور ٹراؤز ر کے اوپر سے ہی آگے پیچھے کرنا شروع کردیا میں نے اس کی شلوار بھی اتاردی اور اس کے پاؤں سے نکال دی اب وہ پوری ننگی تھی میں نے بھی اپنے کپڑے اتارے اور اس کو لے کر بیڈ پر آگیا اور اس کے اوپر لیٹ کر چومنا شروع کردیا پھر مموں کو پکڑ کر چوستا کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو پھر میں نیچے آگیا اور اس کی پھدی پر زبان پھیر ی پھر اس کو چوسنا شروع کردیا جس سے وہ بار بار اچھل جاتی پھر اس کی سسکیاں بلند ہوگئی پھر ایک بار اچھلی و ساخت ہوگئی اس کی پھدی نے گرم گرم پانی بہانا شروع کردیا جو میں نے پی لیا اس کو سانس لینے دیا پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا وہ پھر سے گرم ہوگئی میں نے اپنے لن کو اس کے منہ کے قریب کیا جو اس نے منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کردیا آج اس نے ٹوپی پوری منہ میں لے لی تھی اور اس کو چوم رہی تھی زبانی کی نوک سے سوراخ میں داخل کررہی تھی میں مزے کی بلندیوں پر تھا پھر جب براداشت نہ ہوا تو میں نے اس کو بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی پھدی پر لن کی ٹوپی پھیر جو کہ لیس دار مادے سے چکنی ہوگئی کچھ پہلے ہی اس کے تھوک سے چکنی تھی میں نے اس کی پھدی پر لن رکھا تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا فکر نہ کرو آج میں تم کو زرا بھی درد نہیں ہونے دوں گا۔  میں نے ایک گھسا ہلکا مارا میرے لن کی ٹوپی اندرگھس گئی اس کے منہ سے لمبی سی سسکاری نکلی میں نے پھر ایک گھسا مارا تو میرا آدھا لن اند ر گھس گیا اس کے منہ سے چیخ نکلی میں وہیں رک گیا اور اس کے مموں کو چوسنے لگا اور کسنگ کرنے لگا اور آہستہ آہستہ لن اتنا ہی اند ر باہر کرنے لگا اس کو بھی جو ش آنے لگا اور وہ بھی مزے سے انجوائے کرنے لگی بولی تیز کرو میں نے سپیڈ بڑھا دی اور تیزی سے اندر باہر کرنے لگا اس کے بڑے خربوزے سائز کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے جس سے میر ا جوش بڑھ رہا تھا پھر اس کا جسم اکڑنے لگا اور میں نے اپنے لن پر گرم گرم پانی محسوس کیا تو لن اندر پوری روانی سے چلنے لگا میں نے باہر نکا ل کر زور سے گھسا مار ا تو میرا پورا لن ناز کے اند ر تھا اوراس کے پیٹ کے اندر کسی چیز سے ٹکرایا ناز نے زور سے چیخ ماری لیکن میں رکا نہیں اسی سپیڈ سے لگا رہا اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تو میں رک گیا اور باہر نکا ل لیا اور اس کے منہ کے قریب لن کیا اس نے فوراً منہ میں بھر لیا اور چوسنا شروع کردیا پھر میں اس کے برابر لیٹ گیا تو ناز بولی تم تو اب کافی ماہر ہوچکے ہو آج سب تم نے کیا میں ہنس دیا کہ استا د اتنی اچھی ہو تو کیسے نا سیکھتا میں پھر اس کے اوپر آگیا ایک ہی گھسے میں آدھے سے زیادہ اس کے اندر کردیا اور دوسرے گھسے میں سارا اند ر وہ زور سے چیخی بولی تم میری جان لے کر رہو گے تم کا میرے اند ر کسی چیز سے ٹکراتا ہے مجھے بہت در د ہوتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا اس کو پھر جوش آنے لگا میں نے سپیڈبڑھا دی میں زور سے دھکے لگانے لگا۔ اس نے چیخنا شروع کردیا میں نے پرواہ نہ کی پھر اس کا جسم اکڑ گیا اور وہ فارغ ہوگئی لیکن میں ابھی فارغ نہ ہوا تھا میں نے دھکے جاری رکھے اور تیزی سے دھکے مارتا رہا وہ چیختی رہی مجھے اس پر ترس آگیا میں رک گیا مجھے خود پر کنٹرول تھا۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی میں نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پیااور اس کو پیار سے سہلایا تھوڑی دیر بعد بولی اب آخری راستہ بچا ہے منہ کا بھی استعمال سیکھ لیا اور پھدی کا بھی اب گانڈ کی باری ہے گانڈکا نام سن کر میرے لن نے جھٹکا گیا کیونکہ اس کی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی تھی اور پٹھانوں میں گانڈ نہ ماری جائے یہ تو ہونہیں سکتا۔ وہ بولی بات تو مرنے والی ہے لیکن کیا کروں بڑے صاحب سے وعدہ کیا ہے کہ اب مروں یا جیوں بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا ٹھیک ہے پھر اس نے بولا تیل اُٹھا لاؤ میں سائیڈ ٹیبل پر پڑا تیل اٹھایا اور اپنے لن پر لگایا جو کہ پھدی کے پانی سے پہلے ہی گیلاتھا پھر اس الٹی ہو کر لیٹ گئی اور پھدی کے نیچے تکیہ رکھ لیا جس سے اس کی گانڈ واضح ہوگئی اس کی گانڈ کا سوراخ ہلکا براؤن تھا میں نے سائیڈ پر چوما اورپھر  اس کی گانڈ میں تیل لگایا اور انگلی سے تیل اند ر کیا اور انگلی داخل کی تو چکنی انگلی آرام سے داخل ہوگئی جس کا مطلب تھا اس کی گانڈ کافی لوز تھی میں نے اچھی طرح تیل لگایا پھر میں نے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کی سوراخ رکھی اور ایک ہلکا سا کھسا مارا جس سے میرے لن کی ٹوپی اندر چلی گئی اس کے منہ سے سسکی نکلی پھر دوسرا گھسا مارا تو آدھا لن اندر گھس کیا اس نے ہلکی سی چیخ ماری لیکن کوئی خاص حرکت نہ کی میں نے یہ دیکھتے ہوئے ایک جاندار گھسا مارا میرا سارا لن اس کے گانڈ میں گھس گیااس نے زور سے چیخ ماری لیکن اس کو اتنا در د نہ ہوا اور میرا لن آرام سے اندر جانے لگا اور میں زور سے دھکے لگانے لگا وہ بھی اپنی گانڈ کو پورا میرے لن کی طرف کرتی لگتا ہے پھدی سے زیادہ اس کی گانڈ بجی ہے میں نے بھی جان دار گھسے مارنے شروع کردیا اور اس کو گھوڑی بنا لیا اور اس کی کمر سے پکڑ کر اس کی گانڈ مارنے لگا اور وہ بھی جوش میں مروانے لگی لگتا ہے پھدی سے زیادہ گانڈ شوق سے مرواتی ہے۔ آخر کار مجھے اپنے لن میں پورے جسم کی جان محسوس ہوئی اور میں اس کی گانڈ میں فارغ ہونے لگا ساتھ ہی اس کا جسم بھی اکڑا اور وہ بھی فارغ ہو گئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور وہ میرے نیچے میرے لن سے منی اس کے اندر خارج ہورہی تھی پھر میں سائیڈ پر ہوا تو لن پھک کی آواز سے باہر نکلااور میرا مال اس کی گانڈ سے بہنے لگا۔ اس کے جسم میں جان ہی نہ بچی تھی میں اٹھا اس کو پانی پلایا اور واش روم لے گیا اور صاف کیا کپڑے پہنائے اس کو جوس کا گلاس دیا فریج سے نکا ل کر میرے کمرے میں چھوٹی فریج تھی جس میں فروٹ اور جوس اور پانی وغیرہ ہوتا میرا اس طرح اس کا خیال کرنا اچھا لگا اس کو میں نے ناز کو بولا تم پہلی عورت ہو جو میری لائف میں آئی اور مجھے مرد بنایا میرا کنوارہ پن ختم کیا میں تم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس نے مجھے چوم لیا بولی میں تم کی خادم ہوں جب بولا حاضر ہو جاؤں گی۔ پھر ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے جب گھڑی نے 5بجائے تو وہ جانے لگی بولی اب تم عورت کے جسم سے آشنا ہوچکے ہو اور تم کے نیچے ایک بار جو آگئی وہ پاگل ہوجائے گی عورتوں کو ظالم مرد زیادہ پسند آتے ہیں تم تو جان نکال دیتے ہو میں نہایا اور کپڑے پہنے اور جم میں چلا گیا۔    

Link to comment

قسط نمبر6۔ 
جم پہنچا ابو پہلے سے موجود تھے اور ایکسرسائز کر ررہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور بولے تم کا چہرہ رات کا حال بیاں کررہا ہے میں ہنس کیا کہ آپ کی ہی کرم نوازی ہے بولے کیسا لگا میرا تحفہ میں بولا بہت اچھا بولے ہاں اب تو مرد بن گئے ہو میں ہنس دیا پھر ہم نے ساتھ ہی نشانہ بازی کی پریکٹس کی اور گھر چلے گئے ناشتے پر سب بیٹھے تھے سب نے ناشتہ کیا میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا ناک کیا بولی آجاؤ میں اندر داخل ہوا وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیڈ کے بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں میں نے سلام کیا انہوں نے لان کا فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا اور تنگ پاجامہ تھا لیکن آج عجیب بات ہوئی پہلے جب میں ان کمرے میں آتا تھا تو وہ ڈوپٹہ پہن لیتی تھیں آج ان کا ڈوپٹہ اُترا ہوا تھا میرے نظر سیدھے ان کے سینے پر پڑی تو دھیان دیا کہ ان کی چھاتی بہت بھاری ہے کم سے کم 38تو ہوگی پہلے کبھی ایسا خیال ہی نہ آیا تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا ناز کا اثر تھا یا شاہد پہلے ایسا کچھ کیا نہ تھا خیر انہوں نے بھی میری نظروں کا پیچھا کیا کہ میری نظریں کہا ں ہیں لیکن کچھ کہا نہیں بس مسکرا دی۔ بولی خیر ہے آج صبح ہی میرے پاس آگئے پہلے تو کبھی نہیں آئے میں بولا کیوں نہیں آسکتا چھوٹی ماں بولی آسکتے ہوپہلے تم نمرہ کے پاس جاتے ہو پھر کہیں اور میں بولا آج وہ گھر پر نہیں ہے سہلیوں کے ساتھ باہر گئی ہے۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میری نظر ناجانے کیوں بار بار ان کے بھاری سینہ پر جاتی کئی بار انہوں نے محسوس کیا بولی لگتا ہے لڑکا اب جوان ہوگیا ہے میں شرمندہ سا ہو کر منہ نیچے کرلیا اور کچھ نہ بولا وہ ہنس پڑی میرے ٹراؤزر میں بھی حرکت شروع ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ دیکھ لیتی وہاں سے رخصت لے لی۔وہاں سے نکلا تو نور اور عائشہ باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا وہ چپ ہوگئی ناجانے کیا بات تھیں ان سے حال چال پوچھی اور پھر بیٹھک میں چلاگیا جو حویلی کے ساتھ تھی وہاں پر ایک مسئلہ آیا ہوا تھا ایک گاؤں کی لڑکی کو دوسرے گاؤں کے لڑکے نے بھگا لیا تھا کچھ دن اس کے ساتھ رہا پھر اس کو چھوڑ دیا اور شادئی نہ کی جس کی وجہ سے دونوں گاؤں میں کافی تناؤ تھا یہ میرا پہلا معاملا تھا ابوبھی میرے ساتھی ہی تھے ان کو کئی فیصلہ کرتے دیکھا تھا آج میں نے فیصلہ کرنا تھا خیر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکے کا نام زمان خان تھا اور لڑکی کا نام پلوشے تھا لڑکا بھی ٹھیک تھا لیکن لڑکی تو کمال تھی پانچ فٹ قد تھا بھاری سینہ سرخ و سفید رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ جو کہ ڈوپٹہ میں بھی گانڈ اور سینہ محسوس ہورہا تھا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے تو اس کے والد نے بولنا شروع کیا تو میں نے بولا آپ سے جب پوچھا جائے تو بولیں میں نے آواز زرا سخت رکھ جس سے آواز گونجی لڑکا بولا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں یہ بھی مجھ سے پیار کرتی تھی ہم بھاگ گئے وہاں ایک دوست کے گھر رہے تو ایک ہفتہ بعد دیکھا تو یہ میرے دوست کے ساتھ ناجائز حالت میں تھی پیار کا دعویٰ یہ مجھ سے کرتی ہے اور بھاگی میرے ساتھ سو میرے دوست کے ساتھ رہی تھی۔ میں نے بولا تم نے اس سے شادی کی تو وہ بولا کرنی تھی اس لیے تو بھاگایا تھا تو میں بولا کی کیوں نہیں۔تو بولا جب کسی اور کیساتھ سورہی تھی تو کیوں کرتا۔ میں بولا ایک ہفتہ کیا کرتے رہے ہو۔ وہ چپ پھر میں نے لڑکی سے پوچھا ہاں تم بولو وہ بولی سردار صاحب میں اس سے پیار کرتی تھی اور پیار میں ہی اپنے ماں پاب کی عزت کی پرواہ کیے اس کے ساتھ چلی گئی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا مجھ سے شادی نہ کی لیکن باقی سب کرتا رہا۔ جب وہ یہ بول رہی تھی تو میری اور اس کی نظریں ٹکرائی تھی میں نے بہت بار کہا شادی کرلو اس نے کہا کر لیں گے مجھے اس کی نیت میں شعبہ پتہ لگ گیا کہ یہ صرف مجھے استعمال کرے گا اور کہیں بیچ جائے گا۔ تو میں نے اس کے دوست کے ساتھ سیٹنگ کر لی اور وہاں نے جانے کا پلان بنا لیا لیکن جب میں اس کی قیمت ادا کررہی تھی تو یہ اوپر سے آگیا پھر ان دونوں نے مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا میں وہاں کسی طرح بھاگ نکلی گاؤں والے بھی ہماری تلاش میں تھے بس میں بیٹھنے لگی تو گاؤں کے لوگ بھی اڈے پر کھڑے تھے جو ٹھونڈ رہے تھے انہوں نے دیکھ لیا اور پکڑ لیا پھر انہوں نے زمان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر یہ گاؤں لے آئے۔وہ چپ ہوگئی۔ میں نے لڑکی کو بولا کہ ایک ہفتہ میں تم کا پیار اتر گیا اور تم نے ایک ہفتہ میں شادی کیوں نہ کی۔ تم دونوں ایک ہفتہ تک شادی کے بغیر رہے تم کی سزا تو یہ ہے کہ تم کو سنسار کردیا جائے لیکن میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔ کیا تم دونوں شادی کرنے کو تیارہو لڑکا بولا میں نہیں کروں گا یہ میرے دوست کے ساتھ سوتی رہی ہے میں بولا تو تم کیا کرتے رہے ہولڑکی بولی میں تیار ہوں جی۔ میں بولا زمان خان کو گنجا  کر کے منہ کا لا کر کے گدے پر بیٹھا کر گاؤں گھمایا جائے اور بچوں کو اس کو پتھر مارنے کو بولا جائے۔ اور پلوشے جرم میں تم بھی برابر کی شریک ہو اس لیے تم کو چالیس ہنٹر لگائے جائیں۔ اور پھر چالیس روز تک آٹے والی چکی چلاؤ گی۔ (ہاتھ والی چکی جس سے آٹا پیستے ہیں)دونوں کو سزا سناتے ہی میں اٹھ گیا۔ کیونکہ کہ سزا پر عمل تو لشکر نے کروانا تھا جو میرے گارڈ وغیرہ کہہ لیں۔وہاں سے فارغ ہو کر میں گاڑی میں بیٹھا اور تمام گاؤں کی سیر کرنے نکل گیا مختلف گاؤں میں گھومتا رہا جہاں بھی جاتا سردار زندہ باد نے نعرے لگنے لگ جاتے۔حویلی واپس آیا کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے ناز کھانہ سرو کروا رہی تھی۔ جب وہ جارہی تھی لنگڑا کر چل رہی تھی امی بولی پتہ نہیں ناز کو کیا ہو ا صبح سیٹرھیوں سے گر گئی او ر چوٹ لگوا بیٹھی میں نے بولا بھی ریسٹ کرے لیکن بولی سارا دن ریسٹ کیا اب کام کروں گی۔ ناز کی جیسے ہی نظر ملی تو ہلکی سے سمائل پاس کی میں بھی مسکرا دیا یہ سب چھوٹی ماں دیکھ رہی تھی۔ میری ان سے نظر ملی تو میں شرمندہ ہوگیا اور نظریں جھکا لیں۔ پھر جلدی جلدی کھا نا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا نمرہ بھی میرے پیچھے آگئی صبح سے وہ بھی باہر تھی سہیلیوں کے ساتھ اب گھر آئی تھی اس نے ایک تنگ چوڑی دار پاجامہ اور لانگ شرٹ پھولوں والی پہنی تھی کاسنی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا دوستوں بتا دوں کہ نمو کا قد پانچ فٹ اورچار انچ ہے ممے اتنے بڑے نہیں ہیں 32کے ہونگے لک پتلا سا ہے اور سفید رنگ ہلکا کلابی پن ہے لمبے بال ہیں گانڈتھوڑی باہر کو نکلی ہوئی جس کی وجہ سے کمر میں خم سا لگتا ہے  چلتی پھرتی بوم ہے تھوڑی دیر پہلے بولی کیسا رہا آج کا دن میں بولا اچھا گزرا میں نے اس سے پوچھا تم کا کیسا گزرا بولی اچھا گزرا کافی عرصہ بعد سب دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک دوست کی سالگرہ تھی تو سب وہاں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے بولا آج تم نے کیا کیا میں بولا کچھ نہیں گھومتا رہا اور آج ایک فیصلہ کیا پھر میں نے سب بتایا بولی کتنے ظالم ہو لڑکی کو اتنی سخت سزا دی ایک تو بیچاری کی عزت لوٹی گئی میں بولا گئی کیوں تھی بولا جب پیار ہوتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا میں نے بولا تم کو پیار کا بڑا پتہ ہے کہیں کیا تو نہیں تو پہلے تو تھوڑا گبھرا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو پھر بولی میں نے کس سے کرنا ہے تم نے کبھی کسی کو میرے ساتھ دیکھا ہے میں بولا میں تو سوا سال یہاں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا تھا ہوسکتا ہے کسی کے ساتھ ہو گیا بولی ماروں گی ایسی بات بولی میں بولا کیوں پیار کرنا جرم ہے بولی جرم ہی ہے آج ایک پیار کرنے والی کو خود ہی سزادے کر آرہے ہو میں بولا میں بولا جب تم پیار کروں گی تو تم کو سزا نہیں دوں گا بس مجھے بتا دینا اس کو تمارا بنادوں گابولی یاد رکھنا جس پر میں ہاتھ رکھوں گی اس کو میرا بنا دو گے میں بولا ہاں۔ پھر بولی یہ ناز کا کیا چکر ہے آج تمیں غور رہی تھی میں تھوڑا سا گھبرا گیا بولا مجھے کیا پتہ بولی تم نے مجھے گارڈ بنایا ہے اپنا یاد رکھنا میں بولا یا ہے۔ اتنے میں میرے نظر اس کے کھلے گلے پر پڑی تو اس کی مموں کی لکیر نظر آرہی تھی میرے جسم میں چنونٹیاں دوڑنے لگ پڑی حالانکہ کئی بار اس کو ایسے دیکھا تھا لیکن اب میری نظر شاہد بدل چکی تھی مجھے ہر لڑکی میں ناز نظر آنے لگ پڑی تھی دل میں سوچا کاش ناز کے ساتھ رات نہ گزارتا تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔ خیر پھر وہ چلی گئی جاتے وقت اس کی گانڈمٹک رہی تھی اور میں سونے کے لیے لیٹ گیا۔ تو دروازہ پر ناک ہوئی میں بولا آجاؤ تو دروازے پر چھوٹی ماں تھیں۔ وہ آگئی اور میرے بیڈ پر میرے ساتھ بیٹھ گئی۔بولی کیسے ہو میں بولا ٹھیک ہوں بولی ناز کیسی لگی میرے تو ایک بار سانس ہی خشک ہوگیا میں بولا جی کیا مطلب بولی زیادہ نہ بنو یہ جو اس کی حالت ہے نہ سیٹرھی سے نہیں گری تمہاری وجہ سے ہے میری تو آنکھوں کے آگے اندھیراسا چھا گیا میری حالت ایسی ہو گئی جیسے جان ہی نا ہو وہ ہنس پڑی بولی بدھو میں سب جانتی ہوں اور خان جی کو میں نے ہی ناز کا تم کے لیے بولا تھا چھوٹی اور بڑی امی ابو کو خان جی ہی بولیتں ہیں۔وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپاتے انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ناز کا نام بولا کہ وہ ایک تو عرصہ سے ہمارے گھر میں ہے اور وہ راز ہی رکھے گی اور تم کو پسند بھی آئے گی۔ میں اب ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا وہ بولی ادھر میری طرف دیکھو صبح تو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مجھے میں جھینپ گیا بولی یاد رکھنا عورت پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جان جاتی ہے مرد کی نگاہ کیسی ہے بولی مجھ سے کیوں شرما رہے ہو میں تم کی چھوٹی ماں ہو میں نے ہی تم کا پالا یاد کرو میں بولا جی آپ نے ہی پالا ہے لیکن بس وہ بولی بس کیا میں بولا آپ سے ایسی بات کرتے اچھا نہیں لگتا بولی دیکھتے اچھا لگتا ہے۔میرا رنگ سرخ ہوگیا میں سردار تھا لیکن ان کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا بولی فکر نہ کرویہ راز۔راز ہی رہے گا۔ اگر دوبارہ بھی طلب ہو تو اس کو بلا لینا منع نہیں کرے گی میں بولا مجھے ضرورت نہیں ہنس پڑی بولی تم کی ضرورت تو میں جان چکی ہوں ایک رات گزارنے کے بعد تم کی نظریں اب بھٹکنے لگ پڑی ہیں بولی تھوڑا احتیاط کروں اور جیسے مرضی عیش کرو تم نے بہت محنت کی ہے اب پھل کھانے کا وقت ہے۔ مجھے دوست بنا لو فائدہ میں رہو گے میں بولا جی  آپ کو کیسے دوست بنا لوں آ پ ایک تو مجھ سے بڑی ہیں اوپر سے ہمارا رشتہ ایسا ہے بولی میں تم کی چھوٹی ماں ہوں میں نے تم کو پالاآج سے ہم دوست ہیں  دوسری بات دوستی میں رشتہ داری یا عمرنہیں دیکھی جاتی دوستی دیکھی جاتی ہے میں نے ہاتھ آگے کیا انہوں نے بھی کیا اور ہمارے ہاتھ مل گئے بولی یاد رکھنا دوستی کو میں بولا جی بولی دوستی کا مطلب پتہ ہے نا میں بولا جی بولی کہ جو بھی ہو مجھ سے مت چھپانا میں تم کا ہرطرح سے ساتھ دوں گی۔ پھر پوچھا ناز کیسی لگی میں چپ رہا بولی اب تو ہم دوست ہیں میں نے دھیرے سے بولا اچھی لگی بولی کھل سے بولا نا کیسی لگی مجھ سے مت شرماؤ میں بولا بہت مست تھی بولی ہاں یہ ہوئی نہ بات۔ بولی کچھ بھی چاہیے تو مجھے بولنا میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر وہ جانے لگی دروازے کے ساتھ جا کر بولی میں ناز کو بھیجتی ہوں کہ تم کی تھکان اتارے اور ہنس کر باہر چلی گئی۔

 

Link to comment

قسط نمبر6۔ 
جم پہنچا ابو پہلے سے موجود تھے اور ایکسرسائز کر ررہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور بولے تم کا چہرہ رات کا حال بیاں کررہا ہے میں ہنس کیا کہ آپ کی ہی کرم نوازی ہے بولے کیسا لگا میرا تحفہ میں بولا بہت اچھا بولے ہاں اب تو مرد بن گئے ہو میں ہنس دیا پھر ہم نے ساتھ ہی نشانہ بازی کی پریکٹس کی اور گھر چلے گئے ناشتے پر سب بیٹھے تھے سب نے ناشتہ کیا میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا ناک کیا بولی آجاؤ میں اندر داخل ہوا وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیڈ کے بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں میں نے سلام کیا انہوں نے لان کا فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا اور تنگ پاجامہ تھا لیکن آج عجیب بات ہوئی پہلے جب میں ان کمرے میں آتا تھا تو وہ ڈوپٹہ پہن لیتی تھیں آج ان کا ڈوپٹہ اُترا ہوا تھا میرے نظر سیدھے ان کے سینے پر پڑی تو دھیان دیا کہ ان کی چھاتی بہت بھاری ہے کم سے کم 38تو ہوگی پہلے کبھی ایسا خیال ہی نہ آیا تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا ناز کا اثر تھا یا شاہد پہلے ایسا کچھ کیا نہ تھا خیر انہوں نے بھی میری نظروں کا پیچھا کیا کہ میری نظریں کہا ں ہیں لیکن کچھ کہا نہیں بس مسکرا دی۔ بولی خیر ہے آج صبح ہی میرے پاس آگئے پہلے تو کبھی نہیں آئے میں بولا کیوں نہیں آسکتا چھوٹی ماں بولی آسکتے ہوپہلے تم نمرہ کے پاس جاتے ہو پھر کہیں اور میں بولا آج وہ گھر پر نہیں ہے سہلیوں کے ساتھ باہر گئی ہے۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میری نظر ناجانے کیوں بار بار ان کے بھاری سینہ پر جاتی کئی بار انہوں نے محسوس کیا بولی لگتا ہے لڑکا اب جوان ہوگیا ہے میں شرمندہ سا ہو کر منہ نیچے کرلیا اور کچھ نہ بولا وہ ہنس پڑی میرے ٹراؤزر میں بھی حرکت شروع ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ دیکھ لیتی وہاں سے رخصت لے لی۔وہاں سے نکلا تو نور اور عائشہ باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا وہ چپ ہوگئی ناجانے کیا بات تھیں ان سے حال چال پوچھی اور پھر بیٹھک میں چلاگیا جو حویلی کے ساتھ تھی وہاں پر ایک مسئلہ آیا ہوا تھا ایک گاؤں کی لڑکی کو دوسرے گاؤں کے لڑکے نے بھگا لیا تھا کچھ دن اس کے ساتھ رہا پھر اس کو چھوڑ دیا اور شادئی نہ کی جس کی وجہ سے دونوں گاؤں میں کافی تناؤ تھا یہ میرا پہلا معاملا تھا ابوبھی میرے ساتھی ہی تھے ان کو کئی فیصلہ کرتے دیکھا تھا آج میں نے فیصلہ کرنا تھا خیر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکے کا نام زمان خان تھا اور لڑکی کا نام پلوشے تھا لڑکا بھی ٹھیک تھا لیکن لڑکی تو کمال تھی پانچ فٹ قد تھا بھاری سینہ سرخ و سفید رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ جو کہ ڈوپٹہ میں بھی گانڈ اور سینہ محسوس ہورہا تھا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے تو اس کے والد نے بولنا شروع کیا تو میں نے بولا آپ سے جب پوچھا جائے تو بولیں میں نے آواز زرا سخت رکھ جس سے آواز گونجی لڑکا بولا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں یہ بھی مجھ سے پیار کرتی تھی ہم بھاگ گئے وہاں ایک دوست کے گھر رہے تو ایک ہفتہ بعد دیکھا تو یہ میرے دوست کے ساتھ ناجائز حالت میں تھی پیار کا دعویٰ یہ مجھ سے کرتی ہے اور بھاگی میرے ساتھ سو میرے دوست کے ساتھ رہی تھی۔ میں نے بولا تم نے اس سے شادی کی تو وہ بولا کرنی تھی اس لیے تو بھاگایا تھا تو میں بولا کی کیوں نہیں۔تو بولا جب کسی اور کیساتھ سورہی تھی تو کیوں کرتا۔ میں بولا ایک ہفتہ کیا کرتے رہے ہو۔ وہ چپ پھر میں نے لڑکی سے پوچھا ہاں تم بولو وہ بولی سردار صاحب میں اس سے پیار کرتی تھی اور پیار میں ہی اپنے ماں پاب کی عزت کی پرواہ کیے اس کے ساتھ چلی گئی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا مجھ سے شادی نہ کی لیکن باقی سب کرتا رہا۔ جب وہ یہ بول رہی تھی تو میری اور اس کی نظریں ٹکرائی تھی میں نے بہت بار کہا شادی کرلو اس نے کہا کر لیں گے مجھے اس کی نیت میں شعبہ پتہ لگ گیا کہ یہ صرف مجھے استعمال کرے گا اور کہیں بیچ جائے گا۔ تو میں نے اس کے دوست کے ساتھ سیٹنگ کر لی اور وہاں نے جانے کا پلان بنا لیا لیکن جب میں اس کی قیمت ادا کررہی تھی تو یہ اوپر سے آگیا پھر ان دونوں نے مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا میں وہاں کسی طرح بھاگ نکلی گاؤں والے بھی ہماری تلاش میں تھے بس میں بیٹھنے لگی تو گاؤں کے لوگ بھی اڈے پر کھڑے تھے جو ٹھونڈ رہے تھے انہوں نے دیکھ لیا اور پکڑ لیا پھر انہوں نے زمان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر یہ گاؤں لے آئے۔وہ چپ ہوگئی۔ میں نے لڑکی کو بولا کہ ایک ہفتہ میں تم کا پیار اتر گیا اور تم نے ایک ہفتہ میں شادی کیوں نہ کی۔ تم دونوں ایک ہفتہ تک شادی کے بغیر رہے تم کی سزا تو یہ ہے کہ تم کو سنسار کردیا جائے لیکن میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔ کیا تم دونوں شادی کرنے کو تیارہو لڑکا بولا میں نہیں کروں گا یہ میرے دوست کے ساتھ سوتی رہی ہے میں بولا تو تم کیا کرتے رہے ہولڑکی بولی میں تیار ہوں جی۔ میں بولا زمان خان کو گنجا  کر کے منہ کا لا کر کے گدے پر بیٹھا کر گاؤں گھمایا جائے اور بچوں کو اس کو پتھر مارنے کو بولا جائے۔ اور پلوشے جرم میں تم بھی برابر کی شریک ہو اس لیے تم کو چالیس ہنٹر لگائے جائیں۔ اور پھر چالیس روز تک آٹے والی چکی چلاؤ گی۔ (ہاتھ والی چکی جس سے آٹا پیستے ہیں)دونوں کو سزا سناتے ہی میں اٹھ گیا۔ کیونکہ کہ سزا پر عمل تو لشکر نے کروانا تھا جو میرے گارڈ وغیرہ کہہ لیں۔وہاں سے فارغ ہو کر میں گاڑی میں بیٹھا اور تمام گاؤں کی سیر کرنے نکل گیا مختلف گاؤں میں گھومتا رہا جہاں بھی جاتا سردار زندہ باد نے نعرے لگنے لگ جاتے۔حویلی واپس آیا کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے ناز کھانہ سرو کروا رہی تھی۔ جب وہ جارہی تھی لنگڑا کر چل رہی تھی امی بولی پتہ نہیں ناز کو کیا ہو ا صبح سیٹرھیوں سے گر گئی او ر چوٹ لگوا بیٹھی میں نے بولا بھی ریسٹ کرے لیکن بولی سارا دن ریسٹ کیا اب کام کروں گی۔ ناز کی جیسے ہی نظر ملی تو ہلکی سے سمائل پاس کی میں بھی مسکرا دیا یہ سب چھوٹی ماں دیکھ رہی تھی۔ میری ان سے نظر ملی تو میں شرمندہ ہوگیا اور نظریں جھکا لیں۔ پھر جلدی جلدی کھا نا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا نمرہ بھی میرے پیچھے آگئی صبح سے وہ بھی باہر تھی سہیلیوں کے ساتھ اب گھر آئی تھی اس نے ایک تنگ چوڑی دار پاجامہ اور لانگ شرٹ پھولوں والی پہنی تھی کاسنی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا دوستوں بتا دوں کہ نمو کا قد پانچ فٹ اورچار انچ ہے ممے اتنے بڑے نہیں ہیں 32کے ہونگے لک پتلا سا ہے اور سفید رنگ ہلکا کلابی پن ہے لمبے بال ہیں گانڈتھوڑی باہر کو نکلی ہوئی جس کی وجہ سے کمر میں خم سا لگتا ہے  چلتی پھرتی بوم ہے تھوڑی دیر پہلے بولی کیسا رہا آج کا دن میں بولا اچھا گزرا میں نے اس سے پوچھا تم کا کیسا گزرا بولی اچھا گزرا کافی عرصہ بعد سب دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک دوست کی سالگرہ تھی تو سب وہاں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے بولا آج تم نے کیا کیا میں بولا کچھ نہیں گھومتا رہا اور آج ایک فیصلہ کیا پھر میں نے سب بتایا بولی کتنے ظالم ہو لڑکی کو اتنی سخت سزا دی ایک تو بیچاری کی عزت لوٹی گئی میں بولا گئی کیوں تھی بولا جب پیار ہوتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا میں نے بولا تم کو پیار کا بڑا پتہ ہے کہیں کیا تو نہیں تو پہلے تو تھوڑا گبھرا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو پھر بولی میں نے کس سے کرنا ہے تم نے کبھی کسی کو میرے ساتھ دیکھا ہے میں بولا میں تو سوا سال یہاں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا تھا ہوسکتا ہے کسی کے ساتھ ہو گیا بولی ماروں گی ایسی بات بولی میں بولا کیوں پیار کرنا جرم ہے بولی جرم ہی ہے آج ایک پیار کرنے والی کو خود ہی سزادے کر آرہے ہو میں بولا میں بولا جب تم پیار کروں گی تو تم کو سزا نہیں دوں گا بس مجھے بتا دینا اس کو تمارا بنادوں گابولی یاد رکھنا جس پر میں ہاتھ رکھوں گی اس کو میرا بنا دو گے میں بولا ہاں۔ پھر بولی یہ ناز کا کیا چکر ہے آج تمیں غور رہی تھی میں تھوڑا سا گھبرا گیا بولا مجھے کیا پتہ بولی تم نے مجھے گارڈ بنایا ہے اپنا یاد رکھنا میں بولا یا ہے۔ اتنے میں میرے نظر اس کے کھلے گلے پر پڑی تو اس کی مموں کی لکیر نظر آرہی تھی میرے جسم میں چنونٹیاں دوڑنے لگ پڑی حالانکہ کئی بار اس کو ایسے دیکھا تھا لیکن اب میری نظر شاہد بدل چکی تھی مجھے ہر لڑکی میں ناز نظر آنے لگ پڑی تھی دل میں سوچا کاش ناز کے ساتھ رات نہ گزارتا تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔ خیر پھر وہ چلی گئی جاتے وقت اس کی گانڈمٹک رہی تھی اور میں سونے کے لیے لیٹ گیا۔ تو دروازہ پر ناک ہوئی میں بولا آجاؤ تو دروازے پر چھوٹی ماں تھیں۔ وہ آگئی اور میرے بیڈ پر میرے ساتھ بیٹھ گئی۔بولی کیسے ہو میں بولا ٹھیک ہوں بولی ناز کیسی لگی میرے تو ایک بار سانس ہی خشک ہوگیا میں بولا جی کیا مطلب بولی زیادہ نہ بنو یہ جو اس کی حالت ہے نہ سیٹرھی سے نہیں گری تمہاری وجہ سے ہے میری تو آنکھوں کے آگے اندھیراسا چھا گیا میری حالت ایسی ہو گئی جیسے جان ہی نا ہو وہ ہنس پڑی بولی بدھو میں سب جانتی ہوں اور خان جی کو میں نے ہی ناز کا تم کے لیے بولا تھا چھوٹی اور بڑی امی ابو کو خان جی ہی بولیتں ہیں۔وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپاتے انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ناز کا نام بولا کہ وہ ایک تو عرصہ سے ہمارے گھر میں ہے اور وہ راز ہی رکھے گی اور تم کو پسند بھی آئے گی۔ میں اب ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا وہ بولی ادھر میری طرف دیکھو صبح تو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مجھے میں جھینپ گیا بولی یاد رکھنا عورت پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جان جاتی ہے مرد کی نگاہ کیسی ہے بولی مجھ سے کیوں شرما رہے ہو میں تم کی چھوٹی ماں ہو میں نے ہی تم کا پالا یاد کرو میں بولا جی آپ نے ہی پالا ہے لیکن بس وہ بولی بس کیا میں بولا آپ سے ایسی بات کرتے اچھا نہیں لگتا بولی دیکھتے اچھا لگتا ہے۔میرا رنگ سرخ ہوگیا میں سردار تھا لیکن ان کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا بولی فکر نہ کرویہ راز۔راز ہی رہے گا۔ اگر دوبارہ بھی طلب ہو تو اس کو بلا لینا منع نہیں کرے گی میں بولا مجھے ضرورت نہیں ہنس پڑی بولی تم کی ضرورت تو میں جان چکی ہوں ایک رات گزارنے کے بعد تم کی نظریں اب بھٹکنے لگ پڑی ہیں بولی تھوڑا احتیاط کروں اور جیسے مرضی عیش کرو تم نے بہت محنت کی ہے اب پھل کھانے کا وقت ہے۔ مجھے دوست بنا لو فائدہ میں رہو گے میں بولا جی  آپ کو کیسے دوست بنا لوں آ پ ایک تو مجھ سے بڑی ہیں اوپر سے ہمارا رشتہ ایسا ہے بولی میں تم کی چھوٹی ماں ہوں میں نے تم کو پالاآج سے ہم دوست ہیں  دوسری بات دوستی میں رشتہ داری یا عمرنہیں دیکھی جاتی دوستی دیکھی جاتی ہے میں نے ہاتھ آگے کیا انہوں نے بھی کیا اور ہمارے ہاتھ مل گئے بولی یاد رکھنا دوستی کو میں بولا جی بولی دوستی کا مطلب پتہ ہے نا میں بولا جی بولی کہ جو بھی ہو مجھ سے مت چھپانا میں تم کا ہرطرح سے ساتھ دوں گی۔ پھر پوچھا ناز کیسی لگی میں چپ رہا بولی اب تو ہم دوست ہیں میں نے دھیرے سے بولا اچھی لگی بولی کھل سے بولا نا کیسی لگی مجھ سے مت شرماؤ میں بولا بہت مست تھی بولی ہاں یہ ہوئی نہ بات۔ بولی کچھ بھی چاہیے تو مجھے بولنا میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر وہ جانے لگی دروازے کے ساتھ جا کر بولی میں ناز کو بھیجتی ہوں کہ تم کی تھکان اتارے اور ہنس کر باہر چلی گئی۔

 

Link to comment
×
×
  • Create New...