Disable Screen Capture Jump to content
EID MUBARAK ×
URDU FUN CLUB

زندگی کے کچھ حسین لمحات


Recommended Posts

اسلام علیکم دوستو میں اس فورم کا بہت پرانا قاری ہوں لیکن کبھی لکھنے کا نہیں سوچا ابھی بہت ساری کہانیاں پڑھ کر مجھے بھی شوق ہوا کہ اپنی زندگی کے کچھ پرانے لمحات آپ حضرات کے ساتھ شیر کروں دوستو میں کوئی پروفیشنل لکھاری نہیں ہوں تو اگر کوئی غلطی ہو جائے تومعاف کر دیجئے گا شکریہ ہ 

Link to comment

یکم جنوری 2022 سے نئے رولز کو لاگو کر دیا گیا ہے ۔ تمام سائلنٹ ممبرز کو فورم پر کچھ سیکشن کی اجازت نہ ہو گی ۔ فری سیکشن پر مکمل پرمیشن کے لیے آپ کو اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ کرنا ہو گا ۔ اپگریڈ کرنے کی فیس صرف 5 ڈالر سالانہ ہے ۔ آپ کو صرف 5 ڈالر کی سالانہ ادائیگی کرنا ہو گی ۔ اور آپ کا اکاؤنٹ ایک سال کے لیے ایکٹو ہو جائے گا۔

دوستو میرا نام نعمان ہے لیکن سب پیار سے نومی بلاتے ہیں میری فیملی میں میں ابو امی اور ایک بھائی ہیں ابو کا نام ریاض ہے ان کی اپنی  دوکان ہے لیڈیز کپڑوں کی ہم لوگ منڈی بہاؤ الدین کے رہنے والے ہیں لیکن ابو کے کام کی وجہ سے گجرات میں شفٹ ہونا پڑا  بھائی اور ابو دوکان سنبھالتے ہیں دوستو میری اور بھائی کی عمر میں دس سال کا فرق تھا کیونکہ بھائی کی پیدائش کے بعد میری ایک بہن ہوی جو کہ پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گی اس کے بعد ایک اور بھائی ہووا اوروہ بھی وفات پا گیا ابو امی کہتے ہیں کہ کافی زیادہ منت اور دعا کے بعد میں پیدا ہووا اس لیے میں سارے خاندان کا اور سب سے زیادہ امی کا لا ڈلہ تھا اور زیادہ پیار کا مجھے یہ نقصان ہووا کہ مجھے ہمیشہ گلی محلے کے لڑکوں سے تھڑا دور رہنے کی تلقین کی جاتی اسی لیے میں بڑا تو ہو رہا تھا لیکن سیکس ایسی سب باتو ں کا دور دور تک پتہ نہیں 

تھا 

زیادہ بور نا کرتے ہوئے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف باقی لوگوں کا انٹرو ان کی آمد پر کرواتا جاوں  گا 

دوستو بات ہے تب کی جب بھای کی شادی ہوی شروع شروع کے دن تھے سب بہت زیادہ خوش تھے کیونکہ گھر میں نیا فرد شامل ہووا تھا سب سے زیادہ میں کیونکہ بھابھی میری پھوپھو کی بیٹی تھی اور میری بہت اچھی دوست جب بھی ہمارے گھر آتی میرے لیے کافی کچھ لاتی بھابھی تتلے والی گاوں کی رہنے والی تھی گاوں کی خوبصورتی کے بھی کیا کہنے 5.8 انچ قد گورا رنگ تقریبا چھتیس کے ممے گول گول چوتڑ بہت ہی خوبصورت تھی بھابھی میں بہت خوش سارا دن ان کے پاس بیٹھا رہتا اور باتیں کرتا رہتا ایک دو بار میں کمرے میں گیا تو بھائی بھی کمرے میں تھا  اور میرے جاتے ہی بیڈ سے اٹھ بیٹھا میں نے زیادہ غور نا کیا اسی طرح ایک دن رات کے وقت سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے تھے کہ مجھے رات کو کچھ گھبراہٹ ہونے لگی میں اٹھا اور کچن میں پانی پینے گیا ہمارے گھر کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ میرے کمرے کے ایک طرف بھائی کا کمرہ ایک طرف امی ابو کا کمرہ  بھائی کے کمرے کے ساتھ کچن ہے ہمارے کمروں کے آگے برامدہ ہے اور اس کے آگے صحن تو جیسے ہی میں بھائی کے کمرے کے آگے سے گزرہ تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں آی جیسے کوئی کراہ رہا ہو میں نے ایک سائیڈ پے ہو کے بھائی کے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ کھڑا ہو کہ سننے کی کوشش کی تو وہ آواز بھابھی کی تھی مگر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بھابھی کراہ کیوں رہی ہیں میں نے ادھر اُدھر کافی جگہوں سے دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا فر میں نے کان لگا کہ سنا تو کراہنے کی آوازیں بند ہو چکی تھی البتہ بھائی کی آواز آی کہ کیوں ایسے شور مچاتی رہتی ہو کوئی سن لے گا تو بھابھی کی آواز آئی کہ کہ اتنا بڑا لن کبھی اپنی گانڈ میں لو تو تمہیں سمجھ آ جائے کیا ہو جاتا اگر دو دن رک جاتے ایک تو میرے ویسے وہ والے دن چل رہے ہیں اوپر سے تمہیں اپنی پڑی ہے بھائی بولے کیا کروں جان ابھی کچھ ہی تو دن ہوئے ہیں شادی کو اتنے سالوں کا مال جمع ہوا ہے جب تک سارا نکلے گا نہیں سکون کہاں آنا ہے 

میری سمجھ میں کچھ بھی نا آیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے ابھی بھابھی کراہ رہی تھی ابھی ایسے باتیں کر رہی ہیں اور یہ کیا باتیں کر رہی ہیں میں اسی کشمکش میں اپنے کمرے میں آ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے پہلے تو سوچا صبح بھابھی سے ہی پوچھ لو گا مگر پھر سوچا کہ وہ کیا کہیں گی کہ یہ باہر کھڑا ہو کر ہماری باتیں سنتا ہے آخر کار جب کوئی سمجھ نا آئی تو میں نے سوچا کہ صبحو باجی مونا سے پوچھو گا

 باجی مونہ کا اصلی نام میمونہ تھا لیکن سب پیار سے مونہ بلاتے تھے وہ ہماری گلی میں دو گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں رہتے تھے ان کی امی آنٹی بلقیس جو کہ ہمارے گھر میں کام کرتی تھی باجی مونہ مجھ سے 7 سال بڑی تھی ان کی عمر کچھ 22 سال کے قریب تھی باجی مونہ کی کچھ ایک سال پہلے شادی  ہوئی تھیان کا زوہر باہر ہوتا تھا شادی کے بعد صرف 4 دن وہ رکا تھا اور 5 دن وہ واپس قطر چلا گیا تھا تب سے لے کر اب تک باجی اپنی امی کے گھر پر ہی رہتی تھی آنٹی بلقیس کے شوہر کا نام انکل جواد تھا جو کہ مستری کے ساتھ مزدوری کرتا تھا کافی غریب تھے آنٹی بلقیس کا ایک بیٹا تھا جو کہ باجی مونہ سے بڑا تھا ایک دن کام پر جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اوراس کی وفات ہو گی اب گھر میں صرف آنٹی انکل اور باجی مونہ ہی تھے میں ان کا انٹرو اس لیے کروا رہا ہوں کیونکہ ان سب کا تعلق کہانی سے ہے کیونکہ  اپنے گھر کے علاوہ واحد آنٹی بلقیس کا گھر تھا جہاں مجھے جانے کی آزادی تھی 

صبح چونکہ اتوار تھا تو میں 9 بجے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کہ ناشتہ کیا تب تک آنٹی بلقیس ہمارے گھر آ گی اور میں ان کے گھر چلا گیا جا کہ دیکھا کہ باجی مونہ اڈے پر بیٹھی کام کر رہی تھی جو کہ مجھے دیکھ کہ کافی خوش ہوی وہ مجھی پیار سے نومی کی بجائے بابو بلاتی تھی مجھے دیکھتے ہی باجی بولی. 

Link to comment
2 hours ago, Mr John said:

دوستو اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجئے گا تا کہ میں اپنی کمیاں جان سکوں اور ان کو درست کر سکوں

Bro, first of all thanx for writing this story for us, secondly very good start in impressive manner, just keep writing

 

Link to comment
×
×
  • Create New...