اج توبا ہاتھ نہیں روک رہی تھی مجھ کو پوری أزادی تھی۔
لیکن أج میرا کچھ بھی کرنے کودل نہیں کر رہا تھا۔
میں بھی توبا کے پیار کو محسوس کر رہا تھا۔
لیکن تھوڑا بہت مزہ تو کر ہی رہا تھا۔
کافی دیر توبا کو اپنی بانہوں میں ہی رکھا۔
اتنی بار کس کیا کہ کوئی یاد نہیں اب۔
اس کے بعد میں أنٹی واپس أ گی۔
اور میں گھر واپس أ گیا۔
رات کو میں جب اپنی چارپائی پر تھا ۔
تب بھی میرے خیال میں توبا کا پیار ہی
أ رہا تھا
اس کہ بعد میں سو گیا ۔
کب سو گیا یہ نہی یاد۔
کیوں کہ جب انسان کسی کے پیار میں پڑتا ھے ۔
تو ساری دنیا بھول جاتی ھے۔
ایسا ہی حال تھا میرا بھی۔
پھر کچھ دن ایسا نہیں ھوا جس کا ذکر ادھر کیا جاۓ۔
توبا کہ گھر ڈیلی جاتا تھا ۔
لیکن کس سے ذیادہ کچھ نہی ھو رھاتھا۔ایک دن موقع۔ ملا
ھوا کچھ یوں کہ چھت پر ہمسایٔ سے ملاقات ھو گی۔