ڈاکٹر صاحب نے بڈھے میں جوانی ڈال دی اور اتنی ڈال دی کے مولوی فارغ ہی نہیں ہوا۔
پہلی بار پڑھا ہے پینٹی سے سوچنا ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب تُسی گریٹ ہو آج تک صرف یہی سنا تھا کہ مرد ہی لن سے سوچتا ہے۔ جملے بہت زبردست لکھتے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب ویلڈن
غریب کے پاس زیادہ پیسا آجائے تو اُسے اپنی جان سے پیارا ہوتا ہے۔ یہی حال مولوی کا ہے اس وقت ۔ اچھی عکاسی کی ہے آپ نے۔
سونیا اور کشف کا چیلنج جو بھی رنگ لائے۔ مزے تو نبیل ہی کے ہوں گے۔ یونیورسٹی میں نبیل کا ذکر آگیا اس کا مطلب اور بھی بہت نبیل کے نیچے آئیں گی۔
صغریٰ کا پلان تو ٹھیک چل رہا ہے۔ لیکن ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب اتنا سادہ سا پلان بنائیں یقینا کوئی ٹوئسٹ ہوگا اس میں بھی۔
ڈاکٹر صاحب ایک درخواست ہے کہ کہانی کے شروع میں جو قتل ہوا تھا اُس سین کو تھوڑا آگے بڑھائیں تاکہ اندازے لگائیں کہ قاتل اور مقتولہ کون ہوگا ۔