بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا اس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو