Leaderboard
-
Javaidbond
Previous Members9Likes65Posts -
athra jutt
Darmat Members5Likes430Posts -
Jutt ch
Active Members4Likes66Posts -
udas punchi
Cloud Premium3Likes281Posts
Popular Content
Showing most liked content on 26/07/19 in all areas
-
پہلی چودائی
3 likesاگلی قسط میں گھبرا کر فوراً انعم سے الگ ہوا... لنڈ اسکی پھدی سے باہر کھینچا تو..... انعم کی ٹائٹ پھدی کی پکڑ سے رگڑتا ہوا باہر نکلا تو انعم کی پھر... سسکی بھری دبی چیغ نکلی جو اس نے فوراً منہ پر ہاتھ رکھ کر روکی.... مجھے مزہ تو بہت آیا لیکن.... یہ وقت ابھی کچھ اور سوچنے کا تھا.... ابھی میں یہ فیصلہ کر ہی رہا تھا کہ... علی) زین).... کی آواز آئی... اوے.... جلدی کر........ ہم دونوں نے سکھ کا سانس لیا.... پھدی اور میرے لن سے منی بہہ رہی تھی... میں نے فوراً پینٹ اوپر کی... اور چھت والے کمرے سے باہر نکلا..... زین اپنی چھت پر تب تک آ چکا تھا.... ہم دونوں نیچے اترنے لگے تو سیڑھیوں پر... بینا آتی دکھائی دی.... میں زین سے آگے تھا.... بینا مجھے اور. میں اس کو دیکھ کر رک گیا.... میری پینٹ لنڈ کے پاس سے گیلی ہوئی تھی.... چونکہ میں اپنا انڈرویر اسی کمرے میں چھوڑ آیا تھا..... میرا لن پینٹ گیلی ہونے کی وجہ سے تھوڑا نظر آرہا تھا... بینا کی نظر مجھ پر پڑی تو لن پر رک گی.... اسی ایک لمحہ میں میری نظر جب بینا کے چہرے کی طرف گی... تو اس نے شرما کر سر جھکا لیا.... مگر زین کی آواز سن کر وہ تو جیسے ہوش میں آگئی..... آپی.... آپ.... بینا مجھے نظر انداز کرتی ہوئ بولی.... زین... مجھے دہی تو لا دو.... اور تم لوگوں نے چھت پر اتنا ٹائم لگا دیا.... تو میں بولا... آپی... وہ ہمیں کھیلتے ہوئے پتہ نہیں چلا..... زین دہی لینے بازار نکل گیا تو میں اسکے گھر سے نکل کر اپنے گھر کی راہ لی..... راستہ میں انعم کی پھدی کے بارے میں سوچتا رھا... اور دل میں مزہ لیتے رھا... گھر گھسا... تو اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی نہانے گھس گیا.... لنڈ پر پانی بہاتے ہوے... مجھے بینا کا ویسے دیکھنا نہیں بھول رہا تھا.... اسکو سوچتے ہوے ہا تھ بے اختیار لنڈ پر چلا گیا.... انعم کی ٹائٹ پھدی چودنے کے بعد لنڈ کی جلد پر سرخی تھی..... میری آہ نکل گئی.... بینا کی عمر تو انعم سے زیادہ تھی مگر اسکا جسم.... تھوڑا پتلا تھا.... ممے چھوٹے اور گانڈ چھوٹی تھی.... مگر آنکھوں میں ایک نشہ تھا... جو دیکھنے والے کو اپنے سحر میں قید کر لیتا تھا.... اور میں اب اسکی آنکھوں کا اسیر ہو چکا تھا..... جسم پتلا اور کئی سال کے کنوارے پن نے اسکے جسم میں عرق کشید کر لیا تھا.... یکایک مجھے انعم کا خیال آیا کہ جلدی اور مزہ کے چکر میں.... میں تو اسکی پھدی میں چھوٹ گیا تھا اگر کچھ ہو گیا.... تو...... یہ سوچتے ہی میرا دل زور سے دھڑکنے لگا..... مجھے اپنی حالت خراب نظر آنے لگی تھی..... اسکا حل سوچنا تھا..... اب میرا انعم سے دوبارہ ملنا بہت ضروری تھا.... لیکن اب کل ہی ملاقات ہوسکتی تھی... سکول سے واپسی پر گھر پہنچا... کھانا کھایا... اور زین کے گھر کی طرف نکل پڑا..... گھر کی بیل بجائی بینا نے دروازہ کھولا.... وہ... زین کدھر ھے... بینا بولی وہ اب اپنے انکل کی شاپ پر جانا شروع ہو گیا ہے.... امی اور آپی بازار گئی ہیں.... آجاؤ اندر.... میں فرش دھو لو... تم دروازہ بند کر لو.... میں اندر آگیا.... بینا نے اپنا دوپٹہ تار پر ڈالا ہوا تھا.... اور فرش پر پانی کھولا چل رہا تھا.... ساتھ ساتھ وہ وائپر لگاتی جا رھی تھی... اسکو ادب کا بہت شوق تھا... کچھ مجھے بھی ا ب کا پتہ تھا تو اسی وجہ سے وہ میری سے بہت خوش ہوتی تھی..... ڈائری لکھنے کا اسکو بہت شوق تھا.... فرش دھوتے ہوے اسکے کپڑے گیلے ہو چکے تھے.... وہ جھاڑو پکڑنے کے لیے جھکی.... اس کے لٹکتے ہوے مموں پر فوراً نظر پڑی.... اسکے لٹکتے ہوے مموں کو دیکھ کر مجھے ڈوگی پوزیشن میں جھکی لڑکی کی xxx مووی کلپ یاد آیا لن نے ٹراوزر نے تمبو بننا شروع کیا وہ مجھ سے بے خبر.... اپنے کام میں مشغول اور باتیں کرتی رہی اور میں اسکے مموں سے نظر ٹھنڈی کر رہا تھا... مجھے اب بس ایک اچھے موقع کا انتظار تھا... ایک تو وہ دوست کی بہن... دوسرا محلے داری بھی تھی اگر وہ شور مچا دیتی تو اسکی پھدی پھٹتی یا نہیں میری گانڈ کا سوراخ کھل جانا تھا..... ابھی میں یہ سب سوچ رہا تھا اسکے مموں کو دیکھتے ہوئے... بینا بولی... وجی اس دن تم چھت پر کیا کر رھے تھے.... اچانک وہ میری طرف دیکھ کر بولی...... میں گڑبڑا گیا..... وہ میں نہیں کچھ نہیں کرکٹ کھیل رھے تھے..... اچھا....... وہ بولی..... تو وہ تمہادی پینٹ پر وہاں داغ کیسا تھا............ میں لاجواب سا ہو گیا..... بینا بولی دیکھوں تم. اور میں اچھے دوست ھیں.... ہم میں کچھ سیکرٹ نہیں ہونا چاہیے......... میں سر گھومنے لگا.... کہ مارے گیے اب یہ میرے گھر میں سبکو بول دے گی اور انعم کی عزت کا فالودہ نکل جاے گا...... میں دل کرے میں بھاگ جاؤں..... لنڈ بھی اب سکڑ کر سہم گیا تھا..... اچانک اس نے......3 likes
-
اتار چڑھاو
1 likeآگے بہت کچھ ملے گا ۔ اگر کہانی کا ٹیمپو تیز کر دیا جائے تو اس کو سنبھالنا مشکل ہے ۔ اور ویسے بھی یہ میری اپنی سچی آپ بیتی ہے ۔ تو امید ہے کہ آپ اب سمجھ گے ہوں گے آپ بیتی بھی اس وقت کی جب مجھے خاص ان چیزوں کا اندازہ نہیں تھا کچھ تو مجھے پہلی مسرت سے سیکھنے کو ملا ۔ باقی ایک کردار آئے گا نورین کا اس کے بعد اصل کہانی کا ٹیمپو بنے گا1 like
-
اتار چڑھاو
1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeالسلام علیکم۔ کیسے ہیں سب دوست۔ یارو سب ٹھیک ٹھاک ہے میں بھی فٹ فاٹ ہوں۔ میں سمجھ رہا ہوں کہ اپڈیٹ کافی لیٹ ہو رہی۔۔۔لیکن کیا کروں یار۔ آفس میں ایک کافی بڑا پراجیکٹ چل رہا ہے۔۔۔ مجھے پچھلے کئی دنوں سے ایک بھی لفظ لکھنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ دن کی ڈیوٹی ہے تو کبھی سگریٹ پیتے وقت دو چار لفظ سوچتا ہوں لیکن بارآور نہیں ہوتے۔۔۔ میرے ساتھ تو یہ ہو رہا کہ الفاظ یاد آتے تو لکھنے کو ٹائم نہیں ۔۔۔اور اگر دس منٹ مل جائیں تو کچھ ذہن میں نہیں آتا۔۔۔ ایک اپڈیٹ جلدی جلدی لکھی بھی تھی لیکن اس میں مجھے خود ہی مزہ نہیں آیا تو ڈیلیٹ مار دی۔ بہرحال اتنا انتظار کیا وہاں چار دن اور دے دیں۔۔۔پھر میری نائٹ ڈیوٹی شروع ہو جانی۔۔۔اس وقت میں تھوڑا ریلکس ہوں گا تو چار لفظ لکھ بھی پاؤں گا۔۔۔ امید ہے کہ میں چار دن بعد اپڈیٹ دے دوں گا۔ شکریہ۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeللکار ایک اچھا ناول تھا جو مجھے بہت پسند تھا۔ باقی ناول شروع میں تو اچھے تھے بعد میں یکسانیت اور بےجا طولت کا شکار ہو جاتے تھے۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeآپ کا۔شکریہ جناب کہ یہاں تک تشریف لائے اور مجھے سمت بتائی۔۔۔ اب میں بھرپور کوشش کروں گا کہ سٹوری کو اسی سمت چلایا جائے۔۔۔ باقی جب ہیرو نے پہلا قتل کیا تو اس وقت وہ جوش اور جنون میں کر تو گیا لیکن حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پایا اور ویسے بھی پہلا کارنامہ تھا اس لیے مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے چلاؤں تو یہ سب لکھ ڈالا۔ بہرکیف!!!۔ فلحال تو ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں لکھ پایا کیوں کہ یہاں کمپنی میں کچھ ایمرجنسی یا ہنگامی حالات چل رہے ہیں تو ٹائم بلکل نہیں مل رہا بس چار پانچ دن کی بات ہے پھر کچھ حالات نارمل ہوں گے تو میں اگلی اپڈیٹ لکھنا شروع کر دوں گا۔۔اور امید ہے کہ توقع کے مطابق ہی لکھ پاؤں گا۔ ویسے بھی میرے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ تو ہے نہیں اس لیے موبائل پر ہی لکھ کر سیو کرتا جاتا ہوں اور ایک جامع اپڈیٹ بنانے کے بعد موبائل سے ہی اپلوڈ کر دیتا ہوں۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeجاوید بانڈ صاحب! آج ایک ہی نشست میں مکمل کہانی پڑھ ڈالی۔ دراصل وقت کی کمی کی وجہ سے میں کہانی تفصیل سے پڑھ نہیں پا رہا تھا، جو وقت ملتا وہ پڑھنے کی بجائے لکھنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ خیر، دیرآید درست آید۔ کہانی میں سب سے پہلی چیز اس کا پلاٹ ہے، دیہاتی پس منظر میں لکھی گئی کہانی کا پلاٹ واقعی عمدہ ہے۔ ہیرو کا رول بھی اچھا ہے، اس کا ہر لحاظ سے مضبوط ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے۔ کہانی کے ثانوی کردار جیسے کہ وہ لڑکیاں جو سیالوں کے ظلم کا شکار ہوئیں ان کا کردار روایتی ہے،اس میں مزید جدت لائی جا سکتی ہے کہ اگلے جو بھی کردار ہوں ان کا ہیرو کا ماضی یکساں نہ ہو۔ ایکشن اچھا ہے اور حقیقی ہے۔ایک جگہ مجھے ہیرو کی طرف سے حالات کی سنگینی کو بھانپنے میں غلطی محسوس ہوئی۔ اس نے سیالوں کا ایک بندہ قتل کر دیا اور اسے یہ احساس نہ ہوا کہ اس کا خمیازہ اس کے خاندان کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نے اس کو قدرے لاپروائی سے لیا۔ قتل کا معلوم ہوتے ہی وہ اس کے گھر جائیں گے اور انتقامی کاروائیاں کریں گے۔ اس کی نسبت ایسا ہوتا کہ وہ روپوش ہونے کی بجائے ان کا دلیری سے استقبال کرتا،تصادم ہوتا،ماں باپ بہن کو بچانے کی کوشش کرتا مگر ناکام ہوتا اور ان کے ساتھ ظلم وہ ہوتے دیکھتا تو بہت بہتر منظرنگاری ہو سکتی ہے۔کہانی میں ایک دردناک موڑ آ جاتا اور قارئین بھی ویسا ہی غصہ محسوس کرتے جیسا ہمارا ہیرو محسوس کر رہا ہے۔ بہرحال یہ بھی مناسب طریقہ تھا۔ اب آخری مرحلہ جو شائع ہوا ہے کہ اب نئی شناخت کے ساتھ ہیرو کیسے آگے بڑھتا ہے تو یہ سسپنس ہو گا۔ بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس بار جوش کی بجائے چالبازی اور ہوش سے کام لے کر دشمنوں کا خاتمہ کرے۔ کیونکہ شناخت بار بار نہیں مل سکتی۔ کہانی لکھنے کے لیے بہت بہت شکریہ اور ہم اس کے لیے آپ کے مشکور ہیں۔ ساتھ ہی ایک اعلان بھی میں یہاں کر دوں کہ جو رائیٹر صرف ہمارے لیے لکھے گا اس کا الگ سیکشن بنایا جائے گا اور اس سیکشن کی جو بھی آمدن ہو گی وہ اسے ملے گی۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیوں سے آزاد کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کوئی دو تین اقسام کے لوشن مکس کر کے ان سے میرے چہرے پر مساج کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت جلدی تھی کہ دیکھوں تو سہی ڈاکٹر کی کارگزاریوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔۔۔پر میں صبر اور تحمل سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے میرے چہرے کو کپڑے سے اچھی طرح صاف کیا اور مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے باہر کامن روم میں لا کر صوفے پر بٹھا دیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر کھنکھارتے ہوئے بولا۔۔۔میرے ویر ہن اکھاں کھول لے۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں تو نادر کو اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے دیکھا۔ نادر کے ساتھ والے ڈبل صوفے پر ڈاکٹر اور اس کی پٹاخہ بیوی شبنم بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میں نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک فخر اور خوشی کا احساس دیکھا۔۔۔شبنم مبہوت میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ نادر کی آنکھوں میں ایک عجیب احساس تھا۔۔۔اس احساس کو میں کوئی بھی نام نہیں دے پایا۔ میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا نادر کیا ہوا۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔تو نادر بولا میری جان میں جو تجھ میں دیکھ رہا ہوں وہ تجھے شیشہ دیکھنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔لیکن شیشہ تم گھر میں جا کر ہی دیکھو گے۔۔۔میں نے اچنبے سے پوچھا کیوں یہاں آئینہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے تو نادر بولا۔۔۔میرے ویر اتنی سی بات مان لے۔۔۔سمجھ لے اس میں میری خوشی ہے۔ میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ یار نادر کیسی بات کرتا ہے بھائی تیری وجہ سے تو میں ہوں۔۔۔تو بولے تو ساری زندگی آئینہ مت دیکھوں۔۔۔ہماری باتیں سن کر شبنم اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: ویل مسٹر کمال!!!مبارک ہو آپ کو آپ کا چہرہ صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔۔۔پھر وہ چونکتے ہوئے بولی۔۔۔اوہ سوری میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔مجھے مسِز رحمان کہتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میری طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔۔میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور وہ پھر پلٹ کر اندرونی کمروں کی طرف چلی گئی۔ اسی وقت ڈاکٹر نے پاس پڑی میز سے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بولا کہ یہ میرا تیار کردہ لوشن ہے۔۔۔تین دن تک اس کا مساج چہرے پر کرنا ہو گا۔۔۔تا کہ چہرے کی ملائمیت قائم رہ سکے۔۔۔ورنہ جِلد خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے نایاب خان کے گھر واپس جا رہے تھے۔۔۔نایاب کے گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔۔۔نادر نے چابی سے تالا کھولا اور ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد ہم دونوں خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی شکل تکتے رہے۔۔۔پجر نادر ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔کمال میرے دوست!!!میں نے ایک کام تم سے پوچھے بنا کر ڈالا ہے۔۔۔میں خاموش رہا تو وہ بولا لیکن یہ کام میں نے کیوں کیا ہے وہ پہلے ان لو اس کے بعد جو دل چاہے بولنا میں چپ چاپ مان جاؤں گا۔۔۔میں پھر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔نادر نے دو سگریٹ سلگائے۔۔۔ایک سگریٹ مجھے دینے کے بعد دوسرا وہ اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے بولا:یار کمالے ایک دن جب میں گھر گیا تو میں نے شمسہ کو عجیب حالت میں دیکھا۔ میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ آنکھیں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ دوسری طرف گھماتے ہوئے بولا۔۔۔میں گھر گیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔پہلے بھی اکثر یہی ہوتا تھا کیونکہ ہمسائے والی ماسی سارا دن شمسہ کے پاس بیٹھی رہتی ہے تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اس لیے میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنی ہی دھن میں چلتا ہوا اندرونی کمروں کی طرف چلا گیا۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔ جبکہ میں سوچ رہا تھا کہ آج پہلی بار نادر خلافِ توقع اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ اپنی عادت کے برخلاف پنجابی چھوڑ کر اردو میں بات کر رہا ہے۔۔۔پر میں منہ سے کچھ نہیں بولا اور دھیان سے نادر کی بات سننے لگا۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔ کمالے جمیل بھائی کے جانے کے بعد بھی شمسہ اکیلی ہی اپنے کمرے میں سوتی تھی یا کبھی کبھار ماسی اس کے ساتھ سو جاتی تھی۔۔۔تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں ذیادہ تر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔اور کیسے ہم دونوں نے مل کر آج تک جمیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔خیر میں بتا رہا تھا کہ اس دن جب میں اس کے کمرے کے پاس پہنچا تو مجھے عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آوازیں میرے لیے انجان نہیں تھیں۔۔۔یہ آوازیں کوئی لڑکی یا عورت اس وقت حلق سے نکالتی ہے جب وہ کیف و سرور کی منزل سے گزر رہی ہو۔۔۔میں ٹھٹھک گیا کیونکہ یہ آوازیں شمسہ کے کمرے سے ہی آ رہی تھیں۔۔۔پہلے تو میں ایک دم غصے میں آ گیا اور سوچا کہ اندر داخل ہوتے ہی شمسہ اور اس کے ساتھ جو بھی ہو ان دونوں کو گولی سے اڑا دوں۔ میں نے اپنا پستول بھی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے سوچا کہ پہلے دیکھوں تو سہی کہ یہ کون خنزیر کا پتر ہے جو میرے ہی گھر میں نقب لگا رہا ہے۔۔۔میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو وہیں پتھر ہو گیا۔۔۔اندر شمسہ۔۔۔شمسہ اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔۔۔میں نے نہایت دھیمی آواز میں پوچھا!!!نادر اندر ایسا تم نے کیا دیکھا کہ تم وہیں پتھر کے ہو گئے۔۔۔بھائی مناسب سمجھو تو مجھے بتاؤ۔۔۔نادر آہستگی سے بولا کہ اندر شمسہ ننگی لیٹی ہوئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ایک کھیرا پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ میں ڈال کر زور زور سے ہلاتے ہوئے سسکیاں بھرتے ہوئے جمیل بھائی کو یاد کر رہی تھی۔ ************************* (49) اسی وقت مجھے لگا کہ جیسے وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے کھیرا نکال کر باہر پھینک دیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر روتے ہوئے جمیل بھائی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔جمیل میری زندگی۔۔۔مجھے یہاں اکیلا تڑپنے کیلئے چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔یہ پہاڑ جیسے زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔کمالے مجھ میں اور سننے،دیکھنے یا سہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔میں چپ چاپ وہاں سے نکلا اور کافی دیر بعد گھر واپس گیا۔۔۔اگلے مہینوں میں بھی کئی دفعہ میں نے شمسہ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا۔ پر میں سوائے اپنا دل جلانے کے اور کیا کر سکتا تھا۔۔۔پھر اس دن میں نے تمہیں دیکھا تمہارے چہرے کی حالت دیکھی تو میں نے اپنے دل میں اندر ہی اندر ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے گاؤں سے آتے وقت گھر سے جمیل کی چند تصاویر اٹھائی تھیں۔۔۔وہ تصاویر میں نے ڈاکٹر کو دے دیں۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ کر گیا۔۔۔لیکن میں کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں پوچھ بیٹھا!!!یار نادر ان تصویروں سے میرا کیا تعلق۔ نادر آگے گیا اور دیوار پر ٹنگا ہوا شیشہ لا کر میرے سامنے کرسی پر رکھا اور چپ چاپ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے شیشہ اٹھایا اور اس میں اپنا منہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ہکلاہٹ کے مارے میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔۔۔نن۔نادر یہ یہ جمیل۔میرا چہرہ۔۔۔اسی وقت نادر جھکتے ہوئے میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔میرے یار میری اس خود غرضی کو معاف کر دینا۔۔۔مجھ سے شمسہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیے میں نے تمہیں جمیل کا روپ اور شکل و صورت دے دی ہے تاکہ۔۔۔تاکہ تم جمیل بن کر شمسہ کو سنبھالو۔۔۔اسے سہارا دو،شمسہ کے حصے کی خوشیاں اسے دے دو میرے بھائی۔ میں سکتے کی کیفیت میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔پر نادر مم۔مم۔میں کیسے جمیل۔۔۔شمسہ۔۔۔اف فف میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔نادر نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہہ اٹھا۔۔۔نہیں نہیں میرے ویر پریشان مت ہو۔۔۔چنگی طرح سوچ لے۔۔۔پر یاد رکھنا اس کے علاوہ میرے پاس ایک ہی حل ہے کہ میں شمسہ کو گولی مار کر خودکشی کر لوں۔۔۔میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ نادر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر سر پکڑے بیٹھا رہا۔۔۔پھر میں نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو اچانک ایک انوکھی بات میرے ذہن میں آئی کہ اب میرا چہرہ میرا نہیں تھا جمیل کا تھا اور سب کو یہی پتہ ہے کہ جمیل سعودی میں بیمار ہے۔۔۔صرف میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور وہ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔تو مطلب اب اس راز کو جاننے والے میں اور نادر تھے۔ میں اس شکل کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جا سکتا تھا اور وہاں سیالوں کے سامنے رہ کر ان کے سینوں پر مونگ دل سکتا تھا۔۔۔ویسے بھی میرا اپنا چہرہ تو بری طرح سے جل گیا تھا اور اب نادر کی مہربانی سے مجھے جمیل کی وجاہت ملی تھی۔۔۔چاہے اس میں نادر کی خود غرضی چھپی ہوئی تھی پر نادر کا خلوص اور اس خود غرضی کے پیچھے ایک معصوم لڑکی کی مدد یہ سب باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں۔۔۔میں وہاں سے اٹھا اور چلتے ہوئے باہر نکل آیا۔ نادر باہر صحن میں بیٹھا ہوا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر نادر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نےبھاگ کر نادر کو گلے لگا لیا اور شوخی بھرے لہجے میں بولا۔۔۔نادر تو وڈا حرامی ایں۔۔۔اینا کجھ کر لیا پر مینوں خبر وی نہ ہون دتی۔۔۔نادر نے ایک دم مجھے خود سے علیحدہ کیا اور جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب تجھے اس سارے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں؟تو میں نے گردن جھکاتے ہوئے کہا:یارا آج میں جو بھی ہوں تیری وجہ سے ہوں۔ میں تیرے خلوص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔میرے یار تو جو بھی کرے گا چنگا ہی کرے گا۔۔۔میں ہر طرح سے تیرے ساتھ ہوں۔۔۔نادر نے میری بات سن کر مجھے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا۔۔۔او جی خوش کیتا ای جواناں۔۔۔بس ہن فٹافٹ میں شمسہ نوں ایتھے لیان دا بندوبست کردا واں تے توں اپنی ٹریننگ آپ شروع کر لے کہ اودے نال کی گل کریں گا کداں اونوں سنبھالیں گا۔۔۔باقی جمیل الوں سارے خط تے توں اونوں اپنے ہتھ نال ای لکھدا ریا ایں نا۔۔۔اس لئی مینوں یقین اے کہ سارے حالات جاندے ہوئے تو اونوں چنگی طرح سنبھال لویں گا۔ میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا!!!یار نادر شمسہ کو یہاں لانے کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ گاؤں بھی تو جا سکتے ہیں نا۔۔۔اب میں،میں نہیں ہوں اب میں جمیل ہوں۔۔۔نادر چند لمحے تو میری بات سمجھ نہیں پایا پھر جیسے ہی میری بات اس کی سمجھ میں آئی وہ ایک دم جوش میں میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا"ایتھے رکھ،،یار ایہہ گل تے میرے ذہن وچ ای نہیں آئی۔ پھر وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔کمالے یار گاؤں جانے سے پہلے کچھ اہم کرنے باقی ہیں۔۔۔سیالوں کی طرف سے ہم پر بہت بھاری قرض ہے جو کہ ہمیں بہت اچھے انداز میں چکانا ہے۔۔۔سیالوں کے ساتھ جو کچھ کرنا ہے اس کیلئے ابھی ہمیں بہت طاقت درکار ہے۔۔۔جسمانی طاقت نہیں،کچھ اور ہی طرح کی طاقت۔۔۔ایسی طاقت جس کے ذریعے ہم ان کتی کے پتروں کے سامنے چٹان کی طرح جم کے کھڑے ہو سکیں۔۔۔بولتے بولتے نادر کے جبڑوں کی رگیں تن گئیں اور میں خوشی سے سرشار سوچنے لگا کہ پتہ نہیں یہ میری کس نیکی کا صلہ ہے جو قدرت نے مجھے نادر جیسا جانثار دوست عطا کیا ہے۔۔۔پھر نادر بولا:میں اتنے دن خالی نہیں بیٹھا۔۔۔کچھ بھاگ دوڑ کی ہے جس سے کافی کام کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ************************* (50) پھر وہ چند لمحے کچھ سوچ کر بولا:بلکہ تو ایسا کر ابھی میرے ساتھ چل میں تجھے کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔میں اس کے ساتھ وہاں سے نکلا۔۔۔نادر نے ایک ٹیکسی کو روک کر کوئی ایڈریس بتایا پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔۔۔بیس منٹ بعد ہم لوگ ایک درمیانے درجے کی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔۔۔ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ کرنے کے بعد ہم لوگ سیدھا اندر چلے گئے۔ اندرونی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دفتر نما کمرہ تھا۔۔۔نادر مجھے لیے ہوئے سیدھا اس کمرے میں گھستا چلا گیا۔۔۔اندر ایک بڑی سی میز کے پیچھے کرسی پر ایک مارواڑی سندھی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔علیک سلیک کے بعد ہم لوگ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔نادر کو دیکھ کر سندھی کی باچھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔آؤ جی نادر صاحب کیسے مزاج ہیں۔۔۔آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔۔۔نادر نے جواب دیا سیٹھ تمہارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔ہمیں کچھ اسلحہ چاہیے جو کہ فارن میڈ ہو۔ وہ سندھی ہمیں لیکر اندرونی حصے میں موجود ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔۔۔تہہ خانے میں ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار موجود تھے۔۔۔تہہ خانہ کیا بلکہ یہ تو کسی آرمی بٹالین کا اسلحہ خانہ لگتا تھا۔۔۔میں نے اپنے لیے ایک جرمن لیوگر ہی پسند کیا جس کے ساتھ ایک چھوٹے سائز کا نہایت نفیس قسم کا سائلنسر تھا۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر نے بھی ایک جرمن لیوگر ہی اٹھا لیا۔ اس کے بعد نادر نے دو نہایت اعلیٰ قسم کی سٹین گنیں پسند کیں۔۔۔میں نے ایک تیز دھار خنجر،جو کے چمڑے کی ایک پیٹی میں بند تھا وہ پسند کیا۔۔۔تسمے کی مدد سے یہ خنجر میں نے اپنی داہنی پنڈلی کے ساتھ باندھ لیا۔۔۔سیٹھ کو پیمنٹ کرنے کے بعد سٹین گنیں اور سارے ہتھیاروں کا ایمونیشن دو دن بعد گاؤں والے ایڈریس پر پہنچانے کا کہہ کر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔ گھر پہنچ کر اپنے پاس موجود گنز ہم نے ایک الماری میں رکھیں اور نادر مجھے لیکر پھر گھر سے نکل پڑا۔۔۔اب کی بار ہم لوگ ایک بینک پہنچے جہاں جا کر نادر نے بینک مینجر سے میرا تعارف اپنے بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا۔۔۔پھر نادر نے اپنے اکاؤنٹ پر میرا نام بھی لکھوایا تا کہ نادر کی غیر موجودگی میں رقم نکالتے وقت مجھے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔بینک سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو نادر نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور دوسرا خود اپنے ہونٹوں سے لگا کر جلاتے ہوئے بولا:لالے دی جان ایتھے آلے تے سارے کم مک گئے۔۔۔ہن دس پنڈ واپسی دا کی پروگرام اے۔ میں دھواں اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں نادر ابھی ایک کام باقی ہے یار۔۔۔پھر بنا نادر کو کچھ بتائے میں نے ایک پی سی او سے ڈاکٹر رحمان کے نمبر پر کال ملائی تو شومئی قسمت شبنم نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے مدعے کی بات شروع کی۔ شبنم!!!تمہیں یاد ہے اس رات میں نے تم سے کہا تھا کہ ہو سکتا مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو شبنم نے جواب دیا:کیوں نہیں میری جان سب یاد ہے تم بتاؤ تو سہی کیا کام ہے۔۔۔میں نے کہا شبنم میری ساری کہانی تو تم سن ہی چکی ہو۔۔۔اب مجھے ایک دو ایسے جانثاروں کی ضرورت ہے جو کہ پورے خلوص سے میرے ساتھ مل کر کام کریں۔۔۔تم ڈاکٹر کے ذرائع استعمال کر کے پتہ چلاؤ کہ ایسے لوگ کہاں سے ملیں گے۔۔۔چونکہ ڈاکٹر کرنل بھی ہے تو وہ لازمی ایسے لوگوں کو جانتا ہو گا۔ شبنم کہنے لگی یار اتنے سے کام کیلئے ڈاکٹر کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں بذاتِ خود ایسے دو آدمیوں کو جانتی ہوں جو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔۔۔اور زندہ رہنے کے تمام گر سیکھ چکے ہیں۔۔۔جرائم کی دنیا کی ساری اونچ نیچ سے واقف ہیں۔۔۔باقی تم ان دونوں سے مل لو خود ہی معلوم پڑ جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔تم اپنا ایڈریس مجھے بتاؤ میں ان کو بھیج دیتی ہوں۔ ************************* (51) میں نے ایڈریس اسے بتایا تو اس نے دو گھنٹے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔نادر چپ چاپ میری شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے نادر کو اس رات کی ساری داستان سنائی تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:جیو شہزادے کہاں ہاتھ مارا ہے۔۔۔علاج کے دوران ہی ڈاکٹر کی بیوی چود ڈالی۔۔۔او کمالے تو واقعی کمال ہے۔۔۔اسی طرح ہنستے کھیلتے،باتیں کرتے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔دو گھنٹے بعد گھر کے صدر دروازے پر دستک ہوئی تو نادر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔دروازے پر دو نوجوان موجود تھے۔ نادر ان کو لیکر اندر کمرے میں آ گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہم لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔رسمی باتوں کے بعد میں نے ان کا ماضی جاننے کی استدعا کی تو انہوں نے اپنا ماضی الضمیر کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔واقعی یہ زمانے کے ستائے ہوئے جوان تھے۔۔۔ایک کا نام سردار علی اور دوسرے کا نام حنیف خان تھا۔۔۔سردار علی جسامت میں حنیف خان سے کافی تگڑا تھا۔۔۔جبکہ حنیف خان لمبوترے قد کے ساتھ سانپ جیسی آنکھیں رکھتا تھا۔۔۔حنیف خان کے گھر والے کسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔۔۔دشمنوں نے اس کے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا تھا۔ اس وقت حنیف خان کمزور تھا۔۔۔کچھ کر نہیں پایا لیکن وہ اپنے دشمن کو شکل سے پہچانتا تھا۔۔۔بعد میں حنیف خان نے چن چن کر مخالفوں کو قتل کر کے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا بدلہ لیا۔۔۔میں حنیف خان کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوا کیونکہ میں بھی تو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا تھا۔ سردار علی لاولد تھا۔۔۔مطلب اس کو اپنے والدین بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ایک یتیم خانے میں پل کر بڑھا ہوا۔۔۔اور معمولی چوری چکاری کرتے کرتے ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔۔۔اسے جیل ہو گئی اور پھر جیل سے وہ جرائم کی دنیا کے تمام قوانین سیکھ کر باہر نکلا۔۔۔شبنم کے ان لوگوں سے تعلقات بارے یہ پتہ چلا کہ حنیف خان تو شبنم کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔شبنم چونکہ حنیف کے سارے حالات جانتی تھی اس لیے اکثر شبنم اسے کہیں نہ کہیں کام دلوا دیا کرتی تھی۔۔۔اور حنیف کے توسط سے ہی سردار کو کام مل جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی تھے اس لیے آپس میں تعلقات تھے۔ میرے پاس آنے سے پہلے وہ ایک اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔لیکن وہ اسمگلر چند مہینے پہلے ہی اپنے گروہ کے چیدہ چیدہ کارندوں سمیت قانون ساز اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تو اس لیے آج کل یہ دونوں فارغ البال تھے۔۔۔چنانچہ شبنم کے کہنے پر میرے پاس چلے آئے۔۔۔میں جسے معمولی لڑکی سمجھتا رہا وہ تو بڑی توپ قسم کی شے نکلی۔۔۔شبنم کا کریکٹر مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔۔بہرحال میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اس کا کریکٹر سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے۔ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔ مجھے اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے۔۔۔مجھے حنیف خان کی آنکھوں میں بجلیاں سی دوڑتی نظر آئیں۔۔۔آنے والے وقتوں میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ بظاہر منحنی اور مجہول نظر آنے والا یہ شخص بے مثل صلاحیتوں کا مالک تھا۔۔۔اسے دیکھ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا پھرتیلا اور طاقتور ہے۔۔۔اژدھے کی طرح وہ اگر کسی کو ایک بار اپنی گرفت میں جھکڑ لیتا تو پھر جان سے مار کر ہی چھوڑتا۔۔۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں،ذہنی طور پر بھی بہت پھرتیلا اور مستعد تھا۔۔۔کسی بھی صورتحال میں فوری فیصلہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا اس کی خصوصیت تھی اور عام طور پر وہ فیصلہ درست ہی ثابت ہوتا تھا۔ میں نے ان دونوں ہر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں شروع سے لیکر آخر تک اپنی ساری رام لیلا سنائی۔۔۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد وہ دونوں بہت متاثر ہوئے اور میرے لیے کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔پھر ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں واپس گاؤں جانا چاہیے۔۔۔اسلحہ کے نام پر دونوں کے پاس ریوالور موجود تھے۔۔۔ہم لوگوں نے اگلے دن وہاں سے گاؤں کوچ کرنے کا قصد کیا۔ ************************ (52) میں کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ میرے دماغ میں کراچی کے حوالے سے کوئی چیز کھٹک رہی ہے۔۔۔لیکن بہت زور دینے پر بھی میں اپنے دماغ کو کلئیر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ابھی اچانک جب واپسی کا قصد کیا تو اچانک میرے دماغ میں دو نام گونجے۔ رضیہ عرف راجی۔ چوہدری صفدر سیال۔ حالانکہ میری براہِ راست صفدر سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔لیکن صفدر کا وڈے چوہدری کے خاندان کا حصہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔اوپر سے راجی کے کہنے کے مطابق وہ راجی کا مجرم بھی تھا اور سفاکیت میں اپنی مثال آپ۔۔۔راجی کے خاندان کو قتل کرنے والا صفدر سیال۔۔۔جیسے جیسے میں اس بارے سوچتا گیا۔۔۔میرے دماغ میں جیسے پارہ بھرتا گیا۔۔۔میرے ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی ، میرے وجود میں کہیں کوئی چنگاری سی پھوٹی تھی اور شعلہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔میں سر تا پا مبتلائے اذیت تھا۔۔۔میرا رواں رواں جل رہا تھا۔۔۔جسم کا ہر مسام آگ اگل رہا تھا۔ مجھے یوں مٹھیاں بھینچ تے ہوئے دیکھ کر نادر نے مجھے آواز دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔لالے دی جان کی گل خیر تے ہے۔۔۔میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔نادر ہم لوگ یہاں سے جا تو رہے ہی ہیں۔۔۔کیوں نہ جاتے جاتے وڈے چوہدری کیلئے ایک تحفہ ہی چھوڑ جائیں۔۔۔تحفہ؟ نادر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے پھنکارتے ہوئے کہا:وڈے چوہدری کا ایک تخم یہاں کراچی میں بھی تو موجود ہے نا۔ نادر نے سرسراتے انداز میں کہا:کہیں تم صفدر سیال کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔میرے سر ہلانے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔صفدر سیال جب بھی کہیں باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ محافظوں کا پورا دستہ ہوتا ہے۔۔۔راستے میں اس پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل کام ہے البتہ ہم لوگ رات کے اندھیرے میں ان کو غفلت میں دبوچیں تو ذیادہ بہتر رہے گا۔۔۔تو کیا خیال ہے دوستو کام کی ابتدا کی جائے؟ یہ بات نادر نے سردار علی اور حنیف خان کو دیکھتے ہوئے کہی تھی۔۔۔حنیف خان بولا:سر جیسے آپ کہیں۔۔۔میں تو خود معاشرے کے اس ناسور کو مٹانے کیلئے بہت بیتاب ہوں۔ نادر نے مجھے مخاطب کیا:یار ایک مسئلہ ہے اس کنجر کے تخم کو ڈھونڈیں گے کیسے؟ کیونکہ میں صفدر سیال کی رہائش گاہ کے بارے میں نہیں جانتا۔۔۔البتہ ایک دفعہ وڈے چوہدری کے کسی کام سے مجھے صفدر کے ایک گودام میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔۔۔اس گودام کا ایڈریس مجھے معلوم ہے بس۔۔۔میں نے چونک کر پوچھا گودام۔کس چیز کا گودام؟ نادر نے بتایا کہ صفدر نے کسی انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں کراچی میں چھوٹے سائز کی جیپ بنانے کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو کہ بہت منافع میں جا رہا ہے۔۔یہ بہت ہی منافع بخش یونٹ ہے۔ کراچی کے مضافات میں انہوں نے بڑے بڑے گودام بنا رکھے ہیں، جہاں وہ تیار شدہ جیپں اسٹور کرتے ہیں۔۔۔انہیں وہ پوائنٹ ون کے نام سے پکارتے ہیں۔۔۔اس پوائنٹ ون اور گوداموں کا انچارج ایک جبار باری نام کا بندہ ہے جو کہ عرفِ عام میں جے باری کہلاتا ہے۔۔۔یہ جے باری ان گوداموں کا انچارج بھی ہے اور ویسے یہ ایک چلتا پھرتا پرزہ ہے۔۔۔درجنوں قتل کر چکا ہے اور عادتاً انتہائی سفاک ہے۔۔۔جب میں وہاں گیا تھا تو اسی سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔پھر اس کی جنم کنڈلی نکالی تو اس کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل ہوئیں۔ ************************ (53) میں سر جھکائے کچھ سوچ رہا تھا تبھی حنیف خان گلا کھنکھارتے ہوئے بولا:سر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ ان گوداموں کے مالک کو گھیرا چاہتے ہیں۔۔۔تو اس کا ایک سیدھا سادھا حل میرے پاس ہے۔۔۔پہلے ان گوداموں کے بارے میں مکمل معلومات نکالتے ہیں۔۔۔پھر موقع دیکھ کر وہاں کوئی بڑی کاروائی کرتے ہیں۔۔۔اب ظاہری سی بات ہے کہ گودام کی تباہی پر مالک تو ضرور آئے گا نا۔ میں نے تحسین بھرے انداز میں حنیف خان کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔واہ میرے دوست تم نے تو ایک منٹ میں انتہائی آسان حل بتا دیا۔۔۔چلو پھر لگ جاؤ کام پر اور جتنی جلدی ہو سکے ان گوداموں کا مکمل بائیو ڈیٹا اکٹھا کر لو تا کہ ان کتی کے بچوں پر ایک کاری ضرب لگا کر جنگ کا آغاز کریں۔ حنیف خان نے سردار علی کو اٹھاتے ہوئے کہا سر مجھے صرف چند گھنٹے درکار ہیں۔۔۔امید ہے کہ کل صبح تک پوری معلومات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔اس کے بعد وہ دونوں نادر سے گوداموں کا ایڈریس معلوم کر کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔یہ رات نایاب خان کی معیت میں بڑی اچھی گزری۔۔۔یہ خان بھی یاروں کا یار تھا۔۔۔وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہم لوگ کسی دشمنی کا شکار ہوئے ہیں اور میں اپنا چہرہ تبدیل کرنے کراچی آیا ہوں۔۔۔اس سے ذیادہ نہ ہم نے اسے بتایا اور نہ ہی اس سیدھے سادے انسان کو بتانے کی ضرورت تھی۔ رات کو آتے وقت وہ بازار سے فرائی چکن اور گرما گرم تندوری روٹیاں لے آیا۔۔۔ہم تینوں نے مل کر خوب مزے سے کھانا کھایا۔۔۔پھر ہم لوگوں نے نایاب کو بتایا کہ ہم لوگ کل صبح واپس چلے جائیں گے تو ہمارے جانے کا سن کر وہ تھوڑا غمگین ہوتے ہوئے بولا بھائیو!!!تم لوگوں کے ساتھ تو ٹھیک سے بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر پایا اور تم لوگوں نے واپسی کی نوید سنا دی۔۔۔بہرحال اس کو کوئی میٹھا پپلو سنا کر ہم لوگوں نے اپنی واپسی بارے میں رام کیا اس کے بعد کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے۔ اگلے دن صبح نو بجے حنیف خان اور سردار کی آمد ہوئی۔۔۔اس وقت نایاب خان کسی کام سے باہر نکلا تھا۔۔۔نایاب خان کو ہم نے یہی بتایا تھا کہ گیارہ بجے ہم لوگ گھر سے نکلیں گے تو وہ اس سے پہلے پہلے واپس آنے کا کہہ کر کسی ضروری کام سے چلا گیا۔۔۔چند لمحوں بعد میں اور حنیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔حنیف کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک محسوس کر کے میں پوچھے بغیر رہ نہ سکا۔۔۔کیا بات ہے حنیف بہت پرجوش لگ رہے ہو تو وہ بولا:سر بات ہی خوشی کی ہے۔۔۔ہم نے کل رات پورا بائیو ڈیٹا نکال لیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق پانچ سو کے قریب تیار شدہ جیپیں وہاں موجود شیڈز میں منتقل کی جا چکی ہیں۔۔۔پروڈکشن کا خام مال بھی کافی مقدار میں سٹور کیا ہوا ہے۔۔۔دھڑا دھڑ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور جیپ کے ٹینک میں پٹرول ڈال کر جیپ کو شیڈ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھ پر یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان جڑواں گوداموں میں سیال اینڈ کمپنی کی پانچ سو تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔میری ذہن میں موجود چنگاری شعلہ بن کر ابھرنے لگی۔۔۔میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانی ہے۔ ان کی ماں کی پھدی۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور میں بھی اس وقت سیالوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تن تنہا ان گوداموں میں گھسوں گا اور ان گشتی کے بچوں سیالوں کو یادگار نقصان پہنچاؤں گا۔۔۔میرا ٹارگٹ گوداموں میں موجود وہ بڑے شیڈز تھے جہاں کمپنی کی تیار شدہ پانچ سو جیپیں موجود تھیں۔ میں نے حنیف اور نادر دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس بھلے مانس نایاب خان کو چکر دینا ہے۔۔۔اس بابت میں نے ساری بات حنیف کو سمجھائی تو وہ بولا اس بات کی آپ فکر مت کریں۔۔۔آپ لوگ یہاں سے سیدھے ریلوے اسٹیشن جائیں اور میں آپ لوگوں کو ریلوے سٹیشن سے گیارہ بجے اٹھا لوں گا۔۔۔اس کے بعد باقی کا پروگرام میرے ٹھکانے پر بیٹھ کر طے کریں گے۔ پروگرام فائنل ہونے کے بعد سردار اور حنیف وہاں سے نکل گئے۔۔۔کچھ دیر بعد ہی نایاب خان گھر پہنچ گیا۔۔۔ٹھیک ساڑھے دس بجے نایاب خان خود ہمیں ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آیا۔۔۔اس کو دکھانے کیلئے ہم نے باقاعدہ لاہور والی گاڑی کے ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔گاڑی کے وصل دیتے ہی وہ سادہ لوح آدمی ہمیں الوداع کہہ کر واپس چلا گیا اور ہم اگلے ڈبے سے ہو کر گاڑی سے اتر کے محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے سٹیشن سے باہر نکل آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق حنیف خان ایک سرمئی رنگ کی فوکسی میں موجود تھا۔ ************************ (54) ہم گاڑی میں بیٹھے تو حنیف خان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔میں نے پوچھا حنیف یہ گاڑی کہاں سے لائے ہو تو وہ بولا:سر یہ ایک دوست کی ورکشاپ سے لایا ہوں۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے گاڑی سے اتر رہے تھے۔۔۔سردار علی دروازے پر ہی موجود تھا۔۔۔ہم لوگ اندر چلے گئے یہ دو کمروں کا مکان تھا۔۔۔کمرے میں موجود کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے آگے کا پلان ڈسکس کرنا شروع کر دیا۔ میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے سمجھائی۔۔۔اس کام کیلئے ہمیں ایک بڑی گاڑی کی ضرورت تھی۔۔۔اس کی حامی سردار علی نے بھر لی کہ عین وقت پر وہ کسی پارکنگ لاٹ سے گاڑی اڑا لائے گا بقول اس کے یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔کاروائی کرنے کے بعد گاڑی کہیں بھی چھوڑی جا سکتی تھی۔۔۔نادر نے سردار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔بقیہ وقت ہم لوگوں نے کچھ ضروری خریداری میں گزارا۔۔۔پھر اپنے پروگرام کے مطابق رات تقریباً دس بجے سردار علی ایک نئی کالے رنگ کی تاریک شیشوں والی کرولا کار اڑا لایا۔ ہم چاروں اس تاریک شیشوں والی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے اور اس شخص کی کوٹھی پر پہنچ گئے جو کہ ان گوداموں کا کرتا دھرتا تھا۔۔۔جی ہاں میں جے باری کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں نے اور نادر نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو کہ سپیشل آج ہی اسی مقصد کیلئے خریدے گئے تھے۔اسلحے کے نام پر ہم دونوں کے پاس جرمن لیوگر موجود تھے۔۔۔حنیف پروگرام کے مطابق کوٹھی سے تھوڑے فاصلے پر اتر گیا جبکہ سردار ڈرائیور کی حیثیت سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا۔۔۔حنیف کو اتارنے کے بعد ہم سیدھا باری کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔۔۔ہماری نئی نویلی کار دیکھ کر اس کے گارڈز بڑی تعظیم سے پیش آئے۔ میں نے جے باری کو پیغام بھجوایا کہ میں ایک ابھرتا ہوا صنعتکار ہوں اور کاروباری حوالے سے ہمارا باری صاحب سے ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔اسی ضمن میں پہلے سے تیار کردہ ایک فرضی کارڈ بھی اندر بھجوایا۔۔۔تھوڑی سی مدوکدر کے بعد جے باری کے کارندے مجھے اور نادر کو ڈرائنگ روم میں لے گئے۔۔۔ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے تھے کہ چند منٹ بعد جے باری بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔اس کو آتے دیکھ کر اس کا کارندہ جو ہمیں وہاں لیکر آیا تھا تعظیم دیتے ہوئے واپس چلا گیا۔ جے باری سانولی رنگت اور چست جسم والا چونتیس، پی تیس سالہ شخص تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی۔۔۔خوش شکل لڑکی نے جزبات بھڑکانے والا ایسا لباس پہن رکھا تھا کہ دیکھتے ہی لن سر اٹھانے لگے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خمار تھا صاف دکھتا تھا کہ وہ شراب پیتے ہوئے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت"اونچے درجے کی گاہک"پھانسنے والی رنڈی ہے۔۔۔آج ہفتے کی رات تھی اور غالباً جے باری اس ویک اینڈ پر گشتی کی پھدی مارنے کیلئے اس کو لایا تھا۔ پر جے باری کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک اینڈ اس کے سر پر کیا قیامت توڑنے والا ہے۔۔۔میرے دل کا موسم عجیب ہو رہا تھا۔۔۔سیالوں اور ان سے وابستہ کسی بھی فرد کیلئے میرے دل میں رحم کی رمق نہیں تھی۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔ٹرالی ہر شراب کی بوتل اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔ملازم نے ہم سب کیلئے شراب کے جام بنائے اور الٹے قدموں واپس کمرے سے باہر چلا گیا۔ میں نے جے باری سے پوچھا"کیا ہم یہاں پورے تحفظ کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔،، دوسرے لفظوں میں میرا مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری بات چیت کے درمیان یہ لڑکی یہاں ہی موجود رہے گی؟ جے باری نے کہا" ہاں آپ پورے اعتماد سے بات کر سکتے ہیں یہ کمرہ ہر طرح سے محفوظ ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی ملازم بھی اندر قدم نہیں رکھے گا۔۔۔وہ ہمارے بیش قیمت لباسوں سے خاصا مرعوب نظر آ رہا تھا۔ ************************ (55) باری کی بات سن کر میں نے اور نادر نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہم دونوں نے سائلنسر لگے لیوگر باہر نکال لیے تو جے باری اور اس کی ساتھی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔پہلے تو جے باری نے فٹافٹ اٹھنے کی کوشش کی پھر گن کا رخ اپنی جانب دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ کون ہو تم؟،، اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کے اندیشے سمٹ آئے۔ میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔تیری ماں کا ٹھوکو ہوں۔۔۔میرا نام کمال ہے اور اگر میرا موڈ ہو تو میں بلاوجہ ہی بندہ مار دیا کرتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر جے باری کی آنکھوں میں خوف کی لہر ابھر آئی۔۔۔اس نے اپنا شراب کا جام ٹرالی پر رکھا اور خود کو سنبھال کر بولا،، میں کسی کمال کو نہیں جانتا۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں چھ مسلح گارڈ موجود ہیں۔تم کسی بری نیت سے آئے ہو تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔ اس دوران نادر اٹھ کر دروازے کے پاس چلا گیا اور دروازہ کور کر لیا مباداً کوئی آ نہ جائے۔۔۔میں نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا،، تیرے جیسے نامرد کتوں کی فوج کے سہارے حرامی پن کر سکتے ہیں۔۔۔یہ میرے ہاتھ میں جو گن موجود ہے اس پر بڑا نفیس سائلنسر لگا ہوا ہے۔۔۔تمہیں گولی ماروں گا تو شاید ساتھ والے کمرے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔یہ نمونہ دیکھو۔،، میں نے گولی چلائی تو ٹھس کی آواز نکلی اور گولی سیدھا لڑکی کی آنکھوں کے بیچوں بیچ ماتھے پر جا لگی اور کھوپڑی کو توڑتی ہوئی پیچھے سے نکل گئی۔ وہ گشتی باری کے پہلو میں بیٹھی تھی اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی وہ ایک دم جھکی اور اوندھے منہ قالین پر گر گئی۔۔۔اس کے خون سے سرخ قالین سرخ تر ہونے لگا۔۔۔جے باری جیسے سکتے کی حالت میں رہ گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپتے رہ گئے مگر آواز،، ندارد،، تھی۔۔۔میں نے زہریلے لہجے میں کہا:دیکھا بلکل بھی آواز نہیں آئی۔۔۔پانچ دس سیکنڈز تک قیامت خیز سناٹا جاری رہا۔ کک۔کیا چاہتے ہو تم؟" جے باری نے رندھے ہوئے گلے سے پوچھا۔ میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن فلحال تم بنا چوں چراں کیے میرے ساتھ پوائنٹ ون کے گوداموں پر چلو گے۔۔۔جہاں صفدر سیال اینڈ کمپنی کی تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔اس نے سر گھما کر لڑکی کی طرف دیکھا تو اس گشتی کی لاش تھوڑی دیر جنبش کرتی نظر آئی پھر ساکت ہو گئی۔۔۔جے باری نے ایک نہایت دہشت زدہ نظر لاش پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے جے باری کو گن دکھا کر اسے نشانہ پر رکھتے ہوئے لیوگر جیب میں ڈال لیا۔ یہاں شاید دوستوں کو مجھ سے اختلاف ہو کہ میں نے بے رحمی سے ایک بے قصور لڑکی کو مار دیا۔۔۔دشمنی کے اس انداز کو یقیناً آپ لوگ غیر اخلاقی قرار دیں گے لیکن سیالوں نے جس بے رحمی سے میری فیملی کو قتل کیا اور میری معصوم بہن کی عزت لوٹی اس کو پامال کیا تھا اس نے میرے اندر نفرت کا ایک ایسا الاؤ بھڑکا دیا تھا کہ اب میرے اندر اخلاقی اور غیر اخلاقی کی اہمیت بلکل بھی باقی نہ رہی تھی۔ میں سیالوں کے ساتھ جڑے ہر شخص کو بے رحمی سے ہی قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب جو میں کرنے جا رہا ہوں یہ کروڑوں کا نقصان ہو گا لیکن یہ سب ایک ایسے دشمن کا نقصان تھا جس کا ہر فائدہ اس کی کالی طاقت میں اضافہ کرتا۔۔۔اور اس کی طاقت میرے جیسے بے ضرر لوگوں کو مجرم بناتی۔۔۔چھیمو جیسی لڑکیوں کی زندگیاں اجیرن کرتی۔۔۔راجی جیسی لڑکیوں کو اس کے عیش کدے کی زینت بناتی۔۔۔میری فیملی جیسے بے قصور لوگوں کا خون پیتی۔۔۔یہ طاقت ایک کالی شکتی تھی۔۔۔یہ کسی بھی حالت میں ہوتی تو اسے تباہ کرنا میرے نزدیک نیکی ہی ہوتی،، بہت بڑی نیکی۔ ******************** (56) ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم پوائنٹ ون میں اس طرح داخل ہو رہے تھے کہ جے باری اپنی شاندار ٹیوٹا جیپ چلا رہا تھا اور میں اس کے پہلو میں اس طرح بیٹھا تھا کہ لیوگر میرے ہاتھ میں اور اس کی نال باری کی طرف تھی۔۔۔جبکہ نادر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے بیک مرر میں دیکھا تو حنیف اور سردار گاڑی میں پیچھے پیچھے آتے نظر آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق اگر ہم اندر کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو سائلنسر نکال کر ایک فائر کر دیتے۔۔۔جسے سنتے ہی وہ دونوں ہماری مدد کو اندر آ جاتے۔۔۔ پوائنٹ ون میں داخل ہوتے وقت میں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ تم مجھے اچھی طرح جان چکے ہو اور ابھی تازہ تازہ میری کارکردگی بھی دیکھ چکے ہو۔۔۔تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ کوئی بھی چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ سیکورٹی کے ایک دو مراحل سے گزر کر ہم پوائنٹ ون کے گوداموں کے قریب پہنچ گئے۔۔۔یہ گودام چھ عدد وسیع و عریض شیڈز پر مشتمل تھے۔۔۔یہاں تیار شدہ جیپیں قطار در قطار پارک کی گئی تھیں۔۔۔جے باری کو ابھی تک کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ہم گاڑی سے اتر کر ایک وسیع و عریض شیڈز میں داخل ہو گئے۔۔۔یوں لگتا تھا کہ کسی اسٹیڈیم پر چھت ڈال دی گئی ہے۔۔۔اس شیڈ میں کم و بیش ڈیڑھ سو گاڑیاں موجود تھیں۔ دوسرے تین شیڈز بھی بلکل ساتھ ساتھ واقع تھے۔۔۔یہ ہفتے کی رات تھی۔۔۔گودام پر صرف ایک تہائی عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔۔میں نے جے باری کو ہدایت کی کہ وہ کسی مناسب بہانے سے عملے کے ارکان کو پندرہ بیس منٹ کیلئے کسی دوسرے شیڈ کی طرف بھیج دے۔۔۔تھوڑی سی پش و پیش کے بعد باری نے میری ہدایت پر عمل کیا۔۔۔تاہم میں نے محسوس کیا کہ عملے کے انچارج کو باری کی یہ ہدایات کچھ پسند نہیں آئیں۔۔۔اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور وہ میری اور نادر کی طرف سے بھی شک کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ بہرحال اس نے عملے کے تین چار افراد کو باہر بھیج دیا۔۔۔میں اور نادر باری کے ساتھ شیڈ کے آفس میں کھڑے تھے جب انچارج اندر آگیا۔۔۔اس نے باری سے کہا:کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟ تم نے جو کہنا ہے یہیں کہہ دو۔" باری نے مری مری آواز میں کہا۔۔۔انچارج بولا" گستاخی معاف سر! یہ رولز کے خلاف ہے کہ ہم سب دوسرے شیڈ میں چلے جائیں۔۔۔اس کے علاوہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ نادر کی بے آواز گن سے ایک گولی نکلی جو کہ انچارج کی کھوپڑی توڑ کر نکل گئی۔۔۔وہ لہرا کر زمین کی طرف آیا۔ میں نے اسے ایک ہاتھ سے سنبھالا اور آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔۔۔گولی چلنے سے جو ٹھس کی آواز نکلی تھی اس نے ایک بدقسمت پہرے دار کو اندر کھینچ لیا۔۔۔باہر کھٹکے کی آواز سنتے ہی میں لپک کر آفس کے دروازے کے پیچھے گیا تھا اور جیسے ہی پہرے دار اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے لیوگر کی ایک زوردار ضرب اس کی گدی پر لگائی اور وہ بھی لہرا کر نیچے آ رہا۔۔۔جے باری کا انتہائی زرد رنگ کچھ اور بھی زرد ہو گیا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گا۔ تھوڑی ہی دیر بعد باری عملے کے دوسرے ارکان کو کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے شیڈ کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔اب وہ بلا چوں چراں میری ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔۔۔آفس میں بس ایک ٹیلی فون سیٹ تھا جس کی تار میں نے کاٹ دی اور فون سیٹ اٹھا کر باہر پھینکتے ہوئے نادر کو اشارہ کیا تو اس نے جیب میں موجود ایک رسی کے ساتھ فٹافٹ جے باری کے ہاتھ باندھے اور اسے آفس میں دھکیل کر آفس کو باہر سے بند کر دیا۔۔۔میں جانتا تھا کہ شیڈز میں موجود گاڑیوں کے اندر کافی مقدار میں پٹرول ہو گا۔۔۔یہ پٹرول کمپنی کی طرف سے گاڑیوں کو آگے پیچھے حرکت دینے کیلئے گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ میں نے نادر کو اشارہ کیا اور خود ایک طویل قطار میں موجود چند گاڑیوں کے بونٹ اٹھائے اور ان کی فیول لائنیں ایک پلاس کی مدد سے کاٹ دیں۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر بھی ایک دوسری قطار میں گھس کر یہی کاروائی دہرانے لگا۔۔۔جونہی ہم فیول لائن کاٹتے تھے پٹرول ایک باریک دھار کی شکل میں فرش پر بہنے لگتا تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم لوگوں نے اس شیڈ میں موجود کم از کم بیس مختلف جیپوں کی فیول لائنز کاٹ دیں۔ پٹرول تیزی سے فرش پر بہنے لگا۔۔۔پٹرول کی بو یقیناً جے باری تک بھی پہنچ گئی ہو گی۔۔۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی سوال کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔آفس کے قریب ہی مجھے موبل آئل سے بھرے ہوئے چند ڈرم بھی نظر آ گئے۔۔۔میں نے ان ڈرمز کے کیپ ہٹائے اور انہیں بھی فرش پر لڑھکا دیا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ موبل آئل بھی فرش پر پھیلتا گیا۔۔۔اب فقط ایک دیا سلائی دکھانے کی دیر تھی۔۔۔میں نے لیوگر ہاتھ میں سنبھالا اور آفس کا دروازہ کھولا۔۔۔جے باری کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے لیوگر باری کی طرف سیدھا کرتے ہوئے کہا:سوری باری،، تم نے مجھ سے تعاون کیا ہے لیکن میں تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتا۔ ************************ (57) پپ۔پلیز۔۔۔فار گاڈ سیک مجھے معاف کر دو۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور جو وعدہ جو تم کر رہے ہو یہ تو ویسے ہی بڑا نا پائیدار ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ جاتے جاتے تم ایک نا پائیدار وعدہ کرو۔ ،،خدا حافظ میں نے ٹرائیگر دبا دیا۔گولی اس کی شہہ رگ چیرتی ہوئی سر کے عقب سے نکل گئی۔۔۔وہ الٹ کر ریوالونگ چئیر پر گرا اور زمین بوس ہو گیا۔۔۔اسے گولی مار کر میں نے اس کی موت کو آسان بنا دیا تھا۔۔۔ورنہ اسے بھی وسیع شیڈ اور اس میں موجود گاڑہوں کے ساتھ زندہ نظرِ آتش ہو جانا تھا اور یہ بڑی دردناک موت ہوتی۔۔۔شیڈ کے مین دروازے کے بلکل قریب کھڑے ہو کر میں نے دیا سلائی روشن کی۔۔۔پٹرول کی ایک لکیر بہتی ہوئی میرے بلکل قریب چلی آئی تھی۔۔۔میں نے دیا سلائی اس لکیر پر پھینک دی۔۔۔آگ بڑی تیزی سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈز میں ہی قطار در قطار کھڑی جیپوں کے نیچے پھیل گئی۔ شعلے تیزی سے بلند ہوئے تو میں اور نادر جلدی سے مین گیٹ سے سلپ ہو کر باہر نکل گئے۔۔۔آگ دیکھتے ہی ایک دم ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور ہم نے درجنوں باوردی کارکنوں کو آگ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ افراتفری بھاگنے کیلئے بے حد موزوں تھی۔۔۔ہم احتیاط سے پیچھے ہٹتے گئے۔۔۔چند منٹ میں ہم آتشزدگی کے مقام سے دور محفوظ مقام تک پہنچ چکے تھے۔۔۔تبھی ہم نے ان گِنت دھماکوں کی آوازیں سنیں۔۔۔یہ ٹائر برسٹ ہونے اور پٹرول ٹینک پھٹنے کی آوازیں تھیں۔۔۔شیڈ میں بھڑکنے والے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے چالیس پچاس فٹ کی بلندی تک چلے گئے تھے۔۔۔جے باری کی ٹیوٹا جیپ کی چابی اس کے اگنیشن میں ہی موجود تھی۔۔۔ہم فٹافٹ جیپ میں بیٹھے نادر نے جیپ سٹارٹ کی اور بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان سے ڈرائیو کرتا ہوا بڑی سڑک کی طرف نکل گیا۔ کچھ دیر بعد ہم ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گئے۔۔۔ہمیں ٹھکانے پر پہنچانے کے بعد حنیف خان اور سردار علی گاڑیاں ٹھکانے لگانے چلے گئے۔۔ اگلے روز کے اخبارات میں پوائنٹ ون میں ہونے والی آتشزدگی کی خبریں شہہ سرخیوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔گودام میں موجود چار شیڈز جل کر بلکل راکھ ہو چکے تھے۔۔۔ان میں موجود باقی اشیاء بھی راکھ کا ڈھیر ہو گئیں۔۔۔اس آگ نے کم و بیش چار سو گاڑیوں کو اسکریپ میں بدل دیا تھا۔۔۔ان خبروں کے ساتھ تین ہلاکتوں کی خبر بھی چھپی تھی۔۔۔اور پولیس کی طرف سے اس آتشزدگی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جا رہا تھا۔ پوائنٹ ون کے عملے نے بیان دیا تھا کہ دو شخص رات گئے جے باری کے ساتھ گودام میں آئے تھے جن کے عادات و اطوار مشکوک تھے۔۔۔مخاطب امکان ہے کہ وہ دونوں شخص ہی اس المیے کے ذمے دار ہوں۔۔۔مجھے کامِل یقین تھا کہ اس المیے کے بعد صفدر سیال اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر پوائنٹ ون کا رخ کرے گا اور یہی میں چاہتا تھا اس کاروائی کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق اگلے روز صبح سویرے صفدر سیال اپنے پانچ عدد باڈی گارڈز کے ساتھ پوائنٹ ون پر موجود تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ وہاں پہنچے تھے جو کہ نقصان کا جائزہ لینے آئے تھے۔ میں نے سردار اور حنیف خان کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ صفدر کی آمد و رفت اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل حساب رکھیں اور مجھے صورتحال سے آگاہ کریں۔۔۔صفدر کے پوائنٹ ون پہنچتے ہی انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔حنیف نے وہاں کسی کے ساتھ یاری گانٹھ لی تھی تا کہ صفدر کے آنے پر وہ اس کو پہچان کر اس کی تصدیق کر سکے۔۔۔اتنا تردد صرف اسی لیے کہ حنیف خان پہلے صفدر سیال کو نہیں جانتا تھا۔ ************************ (58) رات گئے تک وہ دونوں واپس نہیں آئے تو میں اور نادر کھانا کھانے کیلئے باہر نکل گئے۔۔۔ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ٹیکسی کی تلاش میں باہر فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔اسی وقت میں نے ہوٹل کے گیٹ سے کچھ دور ہوٹل کی دیوار کے ساتھ پھیلی ہوئی سبزے کی پٹی پر ایک انتہائی بوڑھے اور آٹھ دس سال کے بچے کو بیٹھے دیکھا۔۔۔ان کے جسموں پر میلے کچیلے جیتھڑے جھول رہے تھے۔۔۔وہ ہوٹل کے گیٹ سے نکلنے والی ہر گاڑی کے سامنے پر امید انداز میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔۔۔مگر ہر گاڑی ان کے قریب سے گزرتی چلی جاتی تھی۔ ہم بھی ان کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔وہاں سے گزرتے وقت میں نے اس معصوم سے بچے کی آنکھوں میں جس طرح امید کے ستارے ٹوٹتے دیکھے اس نظارے نے یکلخت ہی گویا مجھے کسی اونچی چوٹی سے دھکیل دیا۔۔۔اگر وہ پیشہ ور بھکاری تھے تب بھی قابلِ رحم تھے۔۔۔رات کا پچھلا پہر اور شہر کا یہ کنارہ۔۔۔ان کے جسموں پر جھولتے ہوئے چیتھڑے،، پھر ان کی عمریں بھی تو کیسی تھیں۔۔۔ایک اتنا معصوم اور کم سن کہ ابھی اس کی آنکھوں نے محرومی اور آسودگی پر افسردہ ہونا بھی نہیں سیکھا تھا۔۔۔دوسرا اتنا ضعیف کہ زندگی کی مزید نا انصافیوں کو سہنے کی سکت اس میں منقعود تھی۔۔۔مگر جانے وہ کس قرض کو چکانے کیلئے اپنی آپ کو ایسے گھسیٹ رہا تھا۔ ان تمام سوچوں اور ساری کیفیت نے ایک لمحے میں مجھ پر غلبہ پا لیا اور مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ کب میں نادر سے پیچھے ہٹ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ان کے چہروں کی لجاجت اور بے بسی دیکھ کر میرا جسم جیسے مزید سرد پڑ گیا۔۔۔عجیب بات یہ تھی کہ مجھے ان پہ ترس نہیں آ رہا تھا بلکہ میں ان سے اپنے آپ کو خوفزدہ محسوس کر رہا تھا جیسے میں ان کا مجرم ہوں۔۔۔میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو والے دو نوٹ نکال کر بوڑھے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ نوٹ لو اور فوراً یہاں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔۔۔دو منٹ بعد میں تم لوگوں کو یہاں نہ دیکھوں۔۔۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھامے،، بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا" اتنے پیسوں میں تو پورا مہینہ آرام سے گزر جائے گا جی۔۔۔اب مجھے یہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔لیکن کیا آپ واقعی یہ رقم مجھے دے رہے ہیں۔ ہاں۔ہاں تمہیں ہی دے رہا ہوں۔۔۔شاید میں تمہارا مقروض ہوں۔جن آسائشوں پر میرا قبضہ ہے،، شاید ان میں کچھ تمہارا بھی حصہ تھا۔۔۔میں نے تیزی سے کہا،، اب فوراً یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔۔۔اتنا کہہ کر میں پیچھے ہٹ آیا۔نادر فٹ پاتھ پر کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں بوجھل قدموں سے نادر کے پاس پہنچا اور بنا کچھ بات کیے ہم لوگ آگے چلنے لگے۔۔۔اسی وقت ایک خالی ٹیکسی نظر آ گئی۔نادر نے اشارے سے اسے روکا۔۔۔اگلے ہی منٹ میں ہم لوگ وہاں سے نکل رہے تھے۔ ہم لوگ گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں بھی واپس آ کر کھانا کھا چکے تھے۔۔۔حنیف خان نے رپورٹ دی کہ صفدر سیال اپنے پانچ باڈی گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ گاڑیوں میں بھر کر وہاں پہنچے تھے۔۔۔انتظامیہ کے بھی کافی لوگ تھے۔۔۔اب یہ تو نہیں جانتا کہ وہ تفتیش کو کس رخ پر چلا رہے ہیں۔۔۔لیکن صفدر بہت غصے میں بولتے ہوئے بات بات پر چلا رہا تھا۔ صفدر کی روانگی کے وقت وہ دونوں انتہائی احتیاط سے اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی رہائش گاہ دیکھ آئے۔۔۔کراچی کے ایک پوش ایریا گلشنِ اقبال ٹاؤن میں اس کی رہائش گاہ ہے۔۔۔یہ ایک کوٹھی نما مکان ہے جہاں ہر وقت گھریلو ملازمین کے علاوہ چار پانچ مسلح محافظ موجود ہوتے ہیں۔۔۔چونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی کہ صفدر پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم چاروں نے بنا ٹائم ضائع کیے پوری طرح مسلح ہو کر دو گھنٹے بعد ہی صفدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے ایسی رہائشوں میں صدر دروازے کے آس پاس ہی سکیورٹی کا کیبن بنایا ہوتا ہے۔۔۔جہاں ہر وقت ایک یا دو محافظ موجود ہوتے ہیں۔حنیف کے ذمہ دروازہ کھلوانے کا کام لگایا گیا اور ہمارے اندر داخل ہو کر گاڑی سے باہر آنے تک ہمیں کور بھی اسی نے مہیا کرنا تھا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم لوگ صدر دروازے پر پہنچ گئے۔۔۔میں اور نادر گاڑی میں پچھلی سیٹوں پر دبکے ہوئے تھے جبکہ حنیف نے کال بیل بجانے کی بجائے آہستہ سے دروازہ بجایا تو توقع کے عین مطابق ایک منٹ بعد ہی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلی اور ایک غنڈہ ٹائپ آدمی نے سر باہر نکالا۔۔۔میں آہستہ سے سر اٹھائے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔حنیف نے باہر نکلنے والے منہ پہ اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک زور دار پنچ مارا تو وہ سر ایک دم اندر غائب ہو گیا۔۔۔گمان غالب یہی تھا کہ وہ بندہ اس زوردار پنچ کہ تاب نہ لاتے ہوئے الٹ کر اندر جا گرا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی حنیف اندر داخل ہو گیا۔عین اسی وقت نادر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور تقریباً اڑتے ہوئے گیٹ تک پہنچا اور غڑاپ سے اندر غائب ہو گیا حالانکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے نیچے اترنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اسی وقت صدر دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا تو سردار نے گاڑی بڑھائی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔۔۔اندر دو عدد محافظ اوندھے پڑھ ہوئے تھے جن کو حنیف اور نادر ساتھ موجود کیبن کی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔میں بنا کوئی وقت ضائع کیے گاڑی سے اترا اور اندرونی کمروں کی طرف بھاگا۔۔سامنے راہداری میں آمنے سامنے بلکل ہوٹل طرز کے کئی کمرے تھے۔۔۔ایک کمرے کے دروازے سے مجھے دو گارڈز نکلتے دکھائی دیے تو میں نے لگاتار دو بار ٹرائیگر دبایا ایک تو سر میں گولی کھا کر پٹ سے گرا جبکہ دوسرے کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی۔۔۔جو کہ لازماً اندر دوسروں کمروں تک سنی گئی ہو گی۔چنانچہ مجھے اس پر ایک گولی اور ضائع کرنی پڑی۔۔۔ سائلنسر لگے ریوالور کی گولیوں سے ان دو گارڈز کو مار گراتے ہوئے چند منٹ میں ہی مختلف کمروں میں جھانکتا ہوا ایک عالیشان کمرے تک پہنچ گیا۔۔۔یہ کمرہ اندر سے لاک تھا۔میں نے دروازے کے لاک پر لیوگر کی نال رکھ کر ٹرائیگر دبایا تو لاک کے پرخچے اڑ گئے اور میں دروازے کو دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ ************************ (59) اندر ایک اٹھائیس تیس سال کا نوجوان لڑکا جو کہ لازماً صفدر ہی تھا کیونکہ اس کے خباثت بھرے چہرے کے نین نقش بلکل اپنے باپ مظفر سیال سے ملتے تھے۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے یوں گن اٹھائے اندر گھستے دیکھ کر وہ وہیں ساکت ہو گیا۔۔۔اس کی آنکھیں میں ابھی تک نیند کا خمار موجود تھا۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ میرے اندر داخل ہونے پر اس کی آنکھ کھلی ہے۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ چلایا،، اوئے کون ہو تم۔۔۔اس وقت تک میں کمرے کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔۔۔ابھی بتاتا ہوں کتے کے بچے،، میرا لہجہ دھیما تھا لیکن مجھے امید تھی کہ وہ اس لہجے کی تہہ میں سرسراتی ہوئی سفاکی کی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔ اتنی دیر تک میں جو کہ بیڈ کے پاس پہنچ چکا تھا میں نے اپنا ہاتھ گھمایا اور لیوگر کا دستہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پر مارا تو وہ تیورا کر وہیں گر گیا۔۔۔صفدر کو بدستور لیوگر کی زد میں رکھتے ہوئے میں نے تنبیہہ کی۔ اپنی جگہ سے ہلنا مت۔ یہ کہہ کر میں نے نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا کہ صفدر کی آنکھوں میں موجود کینہ اسے چین نہیں لینے دے گا وہ لازمی قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔عین اسی وقت صفدر یکلخت ٹوٹ جانے والے اسپرنگ کی طرح اچھل کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔۔۔لیکن دوستو میں وہاں چھولے بیچنے تو نہیں گیا تھا کہ اس سے غافل ہو جاتا۔۔۔میں کاوا کاٹ کر گھوم گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچ پاتا میں نے ایڑھی پر گھومتے ہوئے ایک زور دار ٹھوکر اس کی ناف پر رسید کی۔۔۔اس کے منہ سے اوغ،، کی آواز نکلی اور وہ ابکائی لیکر دہرا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ میں خود بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ لیوگر کے دستے نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ اسی جگہ کو بوسہ دیا جہاں چند لمحے پہلے ایک دفعہ وہ اپنی مہر لگا چکا تھا۔ اسی وقت نادر اور سردار علی اندر داخل ہوئے۔۔۔اندر کی سچویشن دیکھ کر سردار علی تو مطمئن ہوتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن نادر میرے پاس ہی کھڑا ہو کر بولا۔۔۔ہٹ جا کمالے اینوں میں ویکھدا آں۔۔۔میں نے اسی وقت اس کو روکتے ہوئے کہا:نہیں نادر تم نہیں اس سے تو مجھے خود ہی حساب چکتا کرنا ہے۔۔۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔۔۔صفدر اب بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی۔۔۔الماری کے ایک خانے میں کافی رقم اور سونے کی چند اینٹیں نظر آ گئیں۔۔۔یہ دیکھ کر نادر نے تکیے کا غلاف اتارا اور یہ سب غلاف میں ڈال لیا۔۔۔ہمارا مقصد چوری نہیں تھا بلکہ جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان تھا۔ آخرکار مجھے اپنی ضرورت کی چیز مل ہی گئی۔۔۔ایک قلم اور راٹنگ پیڈ۔میں وہاں سے پلٹ کر واپس آیا۔۔۔صفدر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے میں نے بلکل راجو کی طرح ہی لیوگر کی نال اس کی گانڈ میں گھسائی اور ٹرائیگر دباتا چلا گیا۔۔۔ہر گولی کے ساتھ اس کے جسم کو جھٹکے لگتے گئے اور وہ شعور میں آنے سے پہلے ہی عدم بالا کو روانہ ہو گیا۔ آخرکار لیوگر سے ٹرچ ٹرچ کی آواز نکلی تو میں ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔میرا دل اس وقت نفرت سے لبریز تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کنجر کا انفرادی طور پر کوئی حصہ تھا یا نہیں لیکن میری نفرت کو دوچند کرنے کیلئے یہی احساس کافی تھا کہ یہ اسی موذی سانپوں کا بیٹا ہے جن کا نام میں اپنے دشمنوں کی مختصر سی فہرست میں لکھ چکا تھا۔ صفدر کے جسم کو بیہوشی کے عالم میں ہی چند جھٹکے لگے تھے اور پھر وہ ساکت ہو گیا۔ ************************ (60) سوری ڈئیر صفدر۔۔۔،، میں نے زیرِ لب کہا:تمہارا قصور میری نظر میں صرف اتنا تھا کہ تم چوہدری مظفر سیال کے خاندان سے ہو۔۔۔لیکن تم نے ایک معصوم لڑکی اور اس کی ماں کو زبردستی داغدار کرنے کے بعد اسے اس کی کے ماں باپ کے ساتھ قتل کر دیا۔۔۔میں اگر تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا تو ایک نہ ایک روز تم کسی اور کے ہاتھوں مارے جاتے۔ پھر میں دل ہی دل میں بولا:راجی تیرا بدلہ پورا ہوا۔ اس کے بعد میں نے ایک کرسی کھینچ کر میز کے پاس کی اور بیٹھ کر نہایت توجہ اور انہماک سے لکھنے لگا۔ چوہدری مظفر سیال!!! اپنے ایک نادیدہ دشمن کی طرف سے یہ تحفہ قبول کرو۔۔۔تم اپنے ایک بے ضرر دشمن کو مار کر بہت خوش ہوئے تھے نا۔۔۔تو سوچا کہ اسی خوشی کے موقع پر ہم بھی تھوڑی خوشی منا لیں۔ اس طرح تھوڑا حساب بھی ہلکا ہو جائے گا۔۔۔ بہت جلد میں تم تک پہنچوں گا اور میرا وعدہ رہا اس دفعہ تجھے ایسی ہستی کی لاش پیش کروں گا جو کہ تمہیں جان سے ذیادہ پیاری ہو گی۔۔۔اپنی حفاظت کیلئے تم جو کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا چاہو۔۔۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔میں اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تم تک پہنچوں گا ضرور۔۔۔!!! منتظر رہنا۔ اب تم شاید سمجھ نہ پاؤ کہ میں ہوں کون۔۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔میری طرف سے جو بھی لاش کا تحفہ ملے گا اس میں کوئی نیا سوراخ نہیں ہو گا۔۔۔پورے جسم پر صرف ایک ہی جگہ گولیوں کے نشان ہوں گے۔۔۔امید ہے کہ تم سمجھ چکے ہو گے کہ میں کون ہوں۔ خط لکھ کر میں نے تنقیدی زاویہ نظر سے ایک دفعہ خط کو پڑھا۔۔۔ٹھیک ہی لکھا گیا تھا۔۔۔اس خط سے وڈے چوہدری پر یقیناً وہی اثر ہوتا جو کہ میں چاہتا تھا۔۔۔وہ ورق میں نے پیڈ سے اتار کر صفدر کی لاش کے گریبان میں پھنسایا۔۔۔پھر ہم لوگ نہایت اطمینان بھرے انداز میں صفدر کی ہی ایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔۔۔راستے میں ایک پبلک فون بوتھ میں کھڑے ہو کر میں نے وڈے چوہدری کا نمبر ملایا تو چند گھنٹیوں بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔۔۔ہیلو کون ہے بھئی؟ وڈے چوہدری صاحب کیلئے ایک پیغام ہے!!! میں نے آواز بدلنے اور لہجہ حتیٰ الامکان سپاٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وڈے چوہدری صاحب کو جب تم میرا پیغام دو گے تو وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ میں کون ہوں۔" میں نے سرد مہری سے کہا۔،، ان سے کہنا کہ کراچی میں صفدر سیال کی رہائش گاہ پر ان کیلئے ایک تحفہ موجود ہے۔۔۔جس قدر جلد ممکن ہو اسے وصول کر لیں۔۔۔اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچے۔۔۔چوہدری صاحب کم از کم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔۔۔کک۔کک کیا مطلب آگے سے وہ ہکلایا لیکن میں نے کال کاٹ دی۔ پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور گھر کے پاس پہنچ کر ہم سب اتر گئے جبکہ سردار اس گاڑی کو کسی انسان جگہ پر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔تاریک رات تھی اس لیے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر ہم لوگ سلامتی سے گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر آتے ہی نادر نے پیسوں اور سونے کی اینٹوں والا غلاف میری طرف کر دیا۔۔۔میں نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اس میں سے نقد رقم نکال کر اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی اینٹیں حنیف خان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ حنیف یہ سب تم اور سردار آپس میں بانٹ لینا۔ حنیف خان نے شکریہ کہہ کر وہ اپنے پاس رکھ لیا اور سردار کے واپس آنے پر میرے سامنے ہی اس مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ سردار کے حوالے کر دیا۔۔۔اتنا سونا اور پیسے دیکھ کر سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری جسے میں کوئی خاص نام نہیں دے سکا۔۔۔بہرحال ہم لوگوں نے آگے کا پروگرام سیٹ کیا اور اس کے بعد ہم سو گئے۔۔۔اگلی صبح دس بجے میں اور نادر وہاں سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ************************1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeسٹوری پڑھنے کے بعد اپنی اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔۔۔مطلب سٹوری کا ٹیمپو یہاں سے گر گیا۔۔۔یا پھر یہاں سے ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تھا۔ مطلب کچھ تو۔ اگر کوئی کچھ کہے گا تو پتہ چلے گا ناں کہ کیا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا پھر کھچیں مارتے ہوئے اپنا اور آپ سب لوگوں کا ٹائم ضائع کر رہا ہوں۔ منتظر۔ جاوید بانڈ1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeمجھ سے ٹکرانے والا بھی پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔وہ چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو وہ حیرت سے چلایا۔۔۔اوئے کمالے تو؟؟ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنے نیفے کی طرف بڑھا۔۔۔میرے ہاتھ میں بھی لیوگر پکڑا ہوا تھا میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ آگے کیا اور ٹرائیگر دبا دیا۔۔۔ارے یہ کیا۔گولی نکلنے کی بجائے ٹرچ کی آواز نکلی۔ ************************ (36) مجھ سے ایک سنگین غلطی ہو چکی تھی۔۔۔الماری سے ایمونیشن تو اٹھا لیا لیکن جلدی جلدی میں گولیاں بھرنا بھول گیا۔۔۔اب میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں تھا کہ میں ڈب سے اپنا ریوالور نکالتا۔۔۔میرے پاس ایک آخری راستہ تھا جس پر میں نے فوری عمل کیا۔۔۔میں نے میکانکی انداز میں اپنے ٹانگ چلائی اور ایک ٹھوکر شاہنواز کے پیٹ میں ماری۔۔۔وہ اوغ کی آواز کے ساتھ اوندھا ہوا تو میں نے اس کی طرف چھلانگ لگائی لیکن وہ ایک دم سنبھل کر چیختے ہوئے داہنی طرف بھاگا۔۔۔اس کے چلانے کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی کسی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔لازمی سی بات تھی کہ اس کی آواز پہرے داروں نے سن لی تھی اور اب میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اس کے پیچھے بھاگتا۔۔۔چنانچہ میں نے اس کا خیال چھوڑا اور بھاگتے ہوئے صحن کراس کر کے باہر والی دیوار کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں دیوار کے پاس پہنچا تو ایک دھماکہ میرے سر پر ہوا۔۔۔میں وہیں زمین پر گر گیا۔۔۔یہ دھماکہ گولی کا تھا جو کہ نوشاد نے چلائی تھی۔۔۔وہ وہیں سے بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔ بھایا جلدی کرو۔ میں دو قدم پیچھے ہوا اور پھر بھاگتے ہوئے جمپ مار کر دونوں ہاتھوں کے بل دیوار کے کنارے پر لٹک گیا۔اسی وقت نوشاد نے ایک مرتبہ پھر گولی چلائی اور چیخا بھایا نکلو۔۔۔میں نے ہاتھوں کے زور پر اپنا پورا جسم اٹھایا اور دیوار پر لیٹ کر دوسری طرف کود گیا۔۔۔اس طرف زمین ذرا نیچی تھی لیکن نرم ہونے کیوجہ سے میں کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔۔۔اتنی دیر میں نوشاد بھی درخت سے نیچے اتر آیا۔۔۔میں نے بھی لیوگر ڈب میں ڈالا اور اپنا ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیا۔ حویلی میں ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کماد میں داخل ہو گئے۔ہمارے پیچھے لوگوں کے چلانے اور بھاگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔چند ایک گولیاں چلنے کی بھی آواز سنائی دی لیکن ہم لوگ رکے بغیر کھیتوں کے اندر اندر سے ہی بھاگتے ہوئے اپنے ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر جا کر میں نے نوشاد کو ساری بات بتائی اور لیوگر بھی دکھایا۔۔۔ہیروں والا قصہ دانستہ گول کر گیا۔۔۔راجو کی موت کا سن کر نوشاد خوشی سے بولا:بھایا اچھا کیا جو دھرتی کے اس بوجھ کو کم کیا۔ لیکن شاہنواز والے ٹکراؤ کا سن کر وہ پہلے تھوڑا سا پریشان ہوا پھر کندھے جھٹک کر بولا جو ہو گا دیکھا جائے گا فلحال وہ لوگ کھلے عام کوئی انتقامی کاروائی کرتے وقت لاکھوں بار سوچیں گے اور ہم اتنی دیر تک کوئی نا کوئی ترکیب سوچ لیں گے۔۔۔۔فلحال آپ یہاں آرام کرو آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ہم لوگ کافی دیر تک ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔پھر نوشاد بولا:بھایا میں گاؤں جاتا ہوں اور وہاں کے حالات دیکھ کر تھوڑی دیر بعد واپس آؤں گا۔ میرے سر ہلانے پر وہ اٹھا اور پستول ڈب میں لگا کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔میں کچھ دیر تو چارپائی پر لیٹا رہا۔۔۔پھر اچانک مجھے ہیروں کی یاد آئی تو میں اٹھ بیٹھا۔۔۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے ایک محفوظ جگہ سوجھ گئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے بیلچہ اٹھا کر کھیتوں میں نکل گیا۔۔۔کھیت میں جا کر ادھر ادھر جگہ ڈھونڈے لگا۔ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں نہر کی طرف چل پڑا۔۔۔نہر کے ساتھ ساتھ کیکر کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہ درخت بہت پرانے تھے میں ایک کافی پرانے لیکن نسبتاً مضبوط درخت کے پاس گیا اور بیلچے سے درخت کی جڑوں کے پاس ہی زمین کھودنے لگا۔۔۔کافی گہرا گڑھا مار کے میں نے ایک شاپر میں اچھی طرح لپیٹ کر ہیروں کی تھیلی،لیوگر اور اس کا ایمونیشن احتیاط سے گڑھے کے اندر رکھے پھر اس کے اوپر کافی سارا گھاس پھونس ڈال کر دوبارہ مٹی ڈال کے گڑھا بند کر دیا۔۔۔اس درخت کو ترتیب کے حساب سے نمبر لگا کر میں نے ذہن نشین کر لیا۔۔۔اور تازہ کھدے ہوئے گڑھے پر اس انداز میں تھوڑی پرانی مٹی اور گھاس وغیرہ ڈال دی کہ کسی کو شک نہ ہو یہاں زمین کی تازہ کھدائی ہوئی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر میں دوبارہ جا کر سگریٹ سکھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔۔۔کافی دیر گزر گئی تقریباً دو گھنٹے گزر گئے تھے مگر نوشاد واپس نہیں آیا۔۔۔اب رات کا تقریباً ایک بج چکا تھا۔۔۔میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے نوشاد اپنے گھر چکر لگانے چلا گیا ہو۔۔۔آخر وہ بھی تو پوری رات سے غائب تھا نا۔۔۔سوچتے سوچتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ ابھی میری آنکھ لگے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دھپ دھپ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنا ریوالور چیک کیا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔دھپ دھپ کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی بھاگتا ہوا میری طرف ہی چلا آ رہا ہے۔۔۔چند لمحوں بعد ہی آنے والا میری نظروں کے سامنے تھا۔ ************************ (37) وہ نوشاد کا چھوٹا بھائی ٹونی تھا جو کہ نوشاد سے ایک سال چھوٹا تھا۔۔۔ٹونی بھاگتا ہوا ڈیرے کی طرف ہی آ رہا تھا اسے دیکھ کر میں اوٹ سے باہر نکل آیا وہ مجھے دیکھتے ہی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔کمال بھائی وہ وہ وڈے چوہدری اور اس کے گماشتے آپ کے گھر میں گھس گئے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سب کو مار رہے ہیں۔۔۔پھر روتے ہوئے بولا ان کو روکنے کیلئے نوشاد بھائی آگے گیا لیکن انہوں نے نوشاد بھائی کو مار ڈالا۔ ٹونی کی بات سن کر میری آنکھوں کے آگے جیسے سرخ چادر سی تن گئی۔ مجھے نہیں یاد کہ میں کیسے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلا اور کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا گاؤں کی آبادی تک پہنچا۔۔۔راستے میں دو تین جگہ میں نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے گرا۔۔لیکن جیسے ہی میری آنکھوں کے سامنے گھر والوں کے چہرے آتے میں پھر سے اٹھ کر بھاگ پڑتا۔۔۔یوں ہی گرتے پڑتے پندرہ منٹ میں آبادی میں پہنچ گیا۔۔۔دور سے ہی مجھے اپنے گھر کی طرف سے آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی دیں۔ میں بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ میرا پورا گھر آگ میں جل رہا تھا اور وڈے چوہدری کے دو بیٹے ہاشم اور کامران اپنے تین چار گماشتوں کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر تیزی سے نکل رہے تھے۔۔۔میں نے بھاگتے بھاگتے ریوالور نکالا لیکن اس سے پہلے کہ میں گولی چلاتا وہ میری رینج سے دور نکل گئے۔۔۔انہوں نے مجھے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ مجھ سے وہیں ٹکرا جاتے۔ جیسے ہی میں گھر کے دروازے پر پہنچا اور اندر جانے کی کوشش کی۔۔۔تبھی ایک سائیڈ سے چھیمو کی ماں اور نوشاد کی ماں نکلیں اور انہوں نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔نہیں نہیں پتر!!!ہم تمہیں اندر نہیں جانے دیں گے۔۔۔میں نے سرخ انگارہ آنکھوں سے انہیں دیکھا اور زور لگا کر ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور بھاگتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ویسے تو سارے گھر کو آگ لگی ہوئی تھی لیکن امی اور بینا کا کمرہ بری طرح جل رہا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ایک کمبل نظر آیا جو کہ امی نے کل سے دھو کر دیوار پر خشک ہونے کیلئے ڈالا ہوا تھا۔۔۔میں نے پھرتی سے اپنے اوپر لپیٹا۔۔۔خاص طور پر اپنے سر چہرے اور گردن کو چھپایا اور ایک چھلانگ مار کر آگ میں سے ہوتا ہوا کمرے کے دروازے پر جا پڑا۔۔۔دروازہ پہلے ہی کافی جل چکا تھا۔۔۔میرا بوجھ برداشت نہ کر پایا اور ایک چرچراہٹ کے ساتھ ٹوٹ کر اندر گرتا چلا گیا۔۔۔اندر جاتے ہی میں نے کمبل اتار کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے ابو،اور بینا دونوں نظر آ گئے۔ ابو کا جسم تو بری طرح سے جل رہا تھا۔۔۔بینا کا جسم بھی جل چکا تھا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان دونوں کے اوپر باقاعدہ پٹرول ڈال کر آگ لگائی گئی ہو۔۔۔وہ دونوں اپنی سانسیں پوری کر چکے تھے۔۔۔میں نے روتی انگارہ آنکھوں سے امی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو امی کو کہیں نہ پا کر زور سے چیخا۔ امی جان،امی جان۔ میں جتنی شدت سے چیخا تھا اتنی شدت سے دھواں میرے پھیپھڑوں تک پہنچ گیا اور میں بری طرح سے کھانستا ہوا لڑکھڑا کر جلتے ہوئے دروازے پر گرا۔۔۔آگ کی لپٹیں میرے چہرے پر لگیں۔۔۔تکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔۔۔میرے چہرے پر یوں جلن ہو رہی تھی جیسے کھلے زخموں پر مرچیں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے چھلانگ مار کر باہر نکلا۔۔۔باہر آتے ہی کھانستے کھانستے میں حلق کی پوری شدت سے چلایا۔امییییی،تبھی اچانک مجھے جیسے ایک کمزور سی آواز سنائی دی۔ میں نے سر گھما کر دیکھا تو مجھے اپنے کمرے کی طرف سے دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔میں واضح طور پر امی کی آواز پہچان گیا۔۔۔میں اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو امی راستے میں ہی دیوار کی اوٹ میں زمین پر پڑی دکھائی دیں۔۔۔میں وہیں ان کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ان کا پورا جسم بھی بری طرح سے جلا ہوا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیسے وہ گھسٹتے ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچی تھیں۔۔۔شاید مجھے ہی ڈھونڈتے ہوئے ادھر گئی ہوں گی۔۔۔امی کی حالت بہت خراب تھی ان کا سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔ میں نے احتیاط سے ان کا سر اپنے زانو پر رکھا اور روتے ہوئے بولا امی یہ کیا ہو گیا۔۔۔تو امی نے جیسے کچھ کہنے کی کوشش کی۔۔۔میں نے فوراً سر جھکا کر اپنے کان ان کے لبوں کے پاس کیے تو امی کی مدھم سی آواز سنائی دی۔۔۔کمال پتر!!!وڈے چوہدری کے سب لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے بینا کی بے حرمتی کی۔۔۔اس کی عز۔ز۔ز۔عزت لو۔و۔ٹ لی۔۔۔اتنا کہتے ہی امی کو ہچکی آئی اور وہ ہچکی ان کی سانس کی ڈور کاٹ گئی۔ میرا سینہ غم اور غصے سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر تکلیف اور غم دونوں کی شدت برداشت نہ کر پایا اور وہیں بے ہوش ہو کر امی کے ساتھ ہی گرتا چلا گیا۔ پتہ نہیں کب تک میں بیہوش پڑا رہا۔ ************************ (38) جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک بیڈ پر موجود پایا۔۔۔میرے چہرے پر چاروں طرف پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جسم پر بھی جا بجا پٹیاں چڑھی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو کوئی انجان سا کمرہ تھا لیکن سارے آلات بلکل کسی ہسپتال کی طرح لگتے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ لگا ہوا اسٹینڈ اور اس پر لٹکتی ہوئی بوتل اور کمرے کے اندر موجود سفید چادریں اس امر کا واضح اشارہ تھیں کہ میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر ہی پڑا ہوا ہوں۔۔۔پر مجھے یہاں لیکر کون آیا۔۔۔ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ دروازہ کھلا اور ایک نہایت خوبصورت لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔مجھے ہوش میں دیکھ کر بولی اوہ تو آپ کو ہوش آ گیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔ میں نے کمزور سی آواز میں اسے پکارا۔۔۔رکو:میری بات سنو تو وہ پلٹ کر میری طرف آئی اور بولی:ہاں کہو تو میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ اس ٹائم لاہور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ہیں اور میں نہیں جانتی کہ آپ کو کون لایا ہے۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ آپ آج پورے چار دن بعد ہوش میں آئے ہیں۔۔۔اب ذیادہ باتیں مت کریں بولنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔۔۔اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ امی ابو اور بینا کو یاد کر کے میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔چند منٹ بعد ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ڈاکٹر نے اچھی طرح میرا چیک اپ کیا اور مجھ سے چند باتیں کر کے میری ذہنی حالت چیک کرنے کے بعد واپس جانے لگا تو میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر مجھے یہاں کون لے کر آیا ہے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے بیہوشی کی حالت میں ٹونی نام کا ایک جوان لایا تھا۔ ابھی وہ باہر ہی ہے میں اس کو بھیج دیتا ہوں لیکن دوست ذیادہ باتیں مت کرنا۔۔۔تمہیں ابھی ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔میرے اثبات میں سر ہلانے پر ڈاکٹر نرسوں سمیت باہر چلا گیا۔۔۔صرف دو منٹ بعد ہی ٹونی اندر آ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ میرے پاس بیٹھ کر بولا کمال بھائی اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔میں نے کہا ٹونی یہ سب باتیں چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے یہاں کیسے لے کر آئے اور وہاں کیا کیا ہوا۔۔۔ٹونی نے بتانا شروع کیا:بھائی اس دن رات کو نوشاد بھائی گھر آیا تو اس نے آتے ہی امی سے دو آدمیوں کا کھانا بنانے کو کہا۔۔۔شاید وہ کھانا اپنے اور آپ کیلئے ہی بنوا رہا تھا۔۔۔اسی وقت گھر کے باہر کچھ لوگوں کی موجودگی اور کھٹ پٹ کی آواز سن کر نوشاد بھائی بھاگتے ہوئے گھر سے باہر نکلا۔ (نوشاد میرا ہمسایہ تھا اور اس کا گھر میرے گھر کی داہنی سائیڈ پر تھا۔) باہر وڈے چوہدری کے دو بیٹے اور اس کے چند آدمی دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس رہے تھے۔۔۔جتنی دیر تک نوشاد بھائی وہاں پہنچا انہوں نے گھر میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔۔ان لوگوں کے پاس اسلحہ اور بڑے بڑے چاقو تھے۔ نوشاد بھائی گھر کا دروازہ بند دیکھتے ہی اپنی سائیڈ سے دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں کودا۔۔۔جیسے ہی اس کے پاؤں اندر لگے انہوں نے نوشاد پر حملہ کر دیا۔۔۔ان کتوں نے چاقو کے ساتھ نوشاد کی آنتیں ادھیڑ ڈالیں اور اسے مردہ سمجھ کر دیوار کے اوپر سے واپس پھینک دیا۔۔۔میں بھاگ کر نوشاد کے پاس گیا تو اس نے اٹکتے ہوئے آخری سانسوں میں بس چند الفاظ کہے۔۔۔باؤ کمال ڈیرے پر ہے۔ اتنا کہہ کر اس کی گردن ڈھلک گئی۔۔۔میں وہاں سے بھاگتا ہوا نکلا اور آپ کے پاس پہنچ گیا۔۔۔باقی کی کاروائی آپ کو معلوم ہے۔۔۔جب میں بھاگتا ہوا واپس پہنچا تو لوگ آپ کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکال کر چارپائیوں پر ڈال رہے تھے۔۔۔نوشاد،چاچا، اور بینا کی لاشیں دیکھ کر میری اپنی حالت خراب تھی۔ میں احتیاطاً اندر جھانکنے چلا گیا دیوار کی اوٹ سے جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے آپ کو اور چاچی کو اس حالت میں دیکھا۔۔۔چاچی کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ آپ زندہ ہیں تو میں چھیمو کی مدد سے آپ کو دیوار سے گزار کر چھیمو کے گھر لے گیا۔۔۔اس کے سارے گھر والے اس وقت باہر تھے۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ چاچی کو کوئی نہ کوئی تو ڈھونڈ ہی لے گا۔۔۔اس لیے میں آپ کو فوراً آپ کی ہی گاڑی جو کے احاطے میں کھڑی تھی ڈال کر ڈسپنسری لے گیا۔۔۔وہاں سے ڈاکٹر امتیاز کو ساتھ بٹھایا اور ہم لوگ آپ کو سیدھا یہاں لے آئے۔۔۔آپ کی حالت بہت خراب تھی اس لیے آپ کو علاج کے دوران مسلسل بیہوش رکھا گیا۔ اب ڈاکٹر امتیاز سے ڈسپنسری کے نمبر پر رابطہ کرتا رہا ہوں میں اور وہاں کے حالات معلوم کرتا رہا ہوں۔۔۔میں نے نم آنکھوں کے ساتھ پوچھا کہ ٹونی میرے امی ابو،بینا اور نوشاد۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بوجھل لہجے میں بتایا:بھائی ان کو اسی دن گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ چاہے میرا دکھ بڑا تھا لیکن بھائی تو اس کا بھی مرا تھا۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنکھوں کے آنسو پینے کی کوشش کرنے لگا۔ ************************* (39) اگلے بیس بائیس روز تک اسی کلینک میں رہا۔۔۔ٹونی نے دن رات میرا خیال رکھا۔۔۔اب میری جلن ختم ہو چکی تھی لیکن زخموں پر کھرنڈ ابھی باقی تھا۔۔۔ان دنوں میں ڈاکٹر امتیاز کی وساطت سے صرف اتنا پتہ چلا کہ سیالوں کے خیال میں وہ مجھے مار چکے تھے۔ وہ نوشاد کو ہی کمال سمجھ بیٹھے تھے۔۔۔میرے بارے میں صرف ڈاکٹر امتیاز کے علاوہ ٹونی،چھیمو اور ان دونوں کی مائیں جانتی تھیں۔۔۔مگر انہوں نے اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔۔ویسے گاؤں میں پولیس گئی تھی اور اس سارے کیس کو ڈاکوؤں کی کارستانی کہہ کر معاملہ نِبٹا دیا تھا۔۔۔گاؤں والے سب جانتے تھے لیکن سیالوں کے ڈر سے کسی نے اپنا منہ نہیں کھولا۔۔۔حتٰی کہ چوہدری رحمت علی کڑیال نے بھی اس معاملے میں ذیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔پتہ نہیں کیوں! حالانکہ وہ ابو جان کے ساتھ کافی دفعہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی۔۔۔پولیس بعد میں بھی ایک دو بار وہاں گئی۔۔۔پھر کیس داخل دفتر کر دیا۔۔۔میں دل ہی دل میں قسم کھا چکا تھا کہ میری دنیا تو لٹ ہی گئی۔۔۔پر اب سیالوں کے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔ چاہے مرد ہو یا عورت سب کو اذیت ناک موت ماروں گا۔۔۔میری بینا کا کیا قصور تھا۔۔۔ہر وقت ماں کی کہی ہوئی آخری بات یاد آتی کہ انہوں نے والدین کے سامنے بینا کی عزت لوٹ لی۔ کافی دن اسی اذیت کے ساتھ گزار دیے پھر ایک دن جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو رات کے وقت میں چھپتے چھپاتے کلینک سے نکل آیا۔۔۔اس وقت ٹونی گاؤں گیا ہوا تھا اس نے صبح واپس آنا تھا۔۔۔آتے وقت میں نے کلینک کے ہی ایک مریض کا مفلر اٹھا کر اچھی طرح چہرے پر لپیٹا اور باہر نکل گیا۔۔۔میری جیبوں میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔۔۔یہ لاہور کا ہی ایک پوش علاقہ تھا۔۔۔میں عام راستوں سے ہٹ کر چلتا ہوا رائے ونڈ روڈ کی طرف جانے لگا۔ راستے میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے سے لفٹ لی جو کہ اینٹیں لیکر پتوکی جا رہا تھا۔۔۔مطلب وہ میرے گاؤں کے باہر والے روڈ سے گزرتا۔۔۔ایک گھنٹے بعد میں اپنے گاؤں والے سٹاپ پر اتر گیا اور سست روی سے چلتا ہوا گاؤں کے اندر جانے والی سڑک پر چل پڑا۔۔۔میں نے ذہن میں یہ سوچا ہوا تھا کہ اگر کسی کو سڑک پہ آتے دیکھوں گا تو راستے سے ہٹ کر کھیتوں میں چھپ جاؤں گا۔ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔۔۔کیونکہ رات اندھیری ہو چکی تھی اس لیے سارا گاؤں سو رہا تھا۔۔۔میں چلتے چلتے گاؤں کی سائیڈ سے ہوتا ہوا سیدھا اپنے ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر میں سیدھا نہر کے ساتھ والے کیکر کے درختوں کی طرف گیا جہاں میں نے ہیرے اور گن چھپائی تھی۔۔۔ڈیرے کے کمرے سے میں نے بیلچہ اٹھایا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگا۔ کھدائی کے درمیان لگنے والے جھٹکوں سے میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے جلن ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن میں ہمت سے لگا رہا۔۔۔پھر تھوڑی سی محنت کے بعد میں گڑھے سے وہ شاپر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔گن نکالنے کے بعد میں نے اچھی طرح سے اسے چیک کیا۔۔۔گولیاں بھرنے کے بعد ایک بے آواز فائر بھی کر کے دیکھا۔ لیوگر پوری طرح ورکنگ آرڈر میں تھا۔۔۔ہیروں کی تھیلی میں نے واپس گڑھے میں ڈالی اور گڑھا پر کرنے کے بعد تیز تیز قدموں سے وڈی حویلی جانب چل پڑا۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ حویلی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔اسلحہ تو ظاہر ہے ان کے پاس خوب ہو گا۔۔۔لیکن مجھے اپنے گھر والوں کی موت اور بینا کی بے حرمتی کا بدلہ لینا تھا۔۔۔اس لیے بلا تھکان اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حویلی کی طرف قدم اٹھاتا گیا۔ میں اپنے سلگتے ہوئے دماغ کے زیرِ اثر ہاتھ میں لیوگر لیے مرنے یا مار دینے کا عہد دل میں لیے حویلی کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا کہ تبھی ایک موڑ کراس کرتے ہی میرے بائیں پہلو کماد کی فصل سے ایک سایہ برآمد ہوا اور مجھے لیتے ہوئے کھیت میں جا پڑا۔ میں گرتے ہوئے یکدم پلٹا اور لیوگر والا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اپنے سامنے نادر کو دیکھ کر ششدد رہ گیا۔۔۔نادرے کو دیکھتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے اور میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔۔سچ کہتے ہیں جب بھری دنیا میں آپ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہوں اور ایسے میں کوئی اپنا مہربان مل جائے تو یوں لگتا ہے کہ انسان تیز کڑک دھوپ سے ایک دم مہکتے ہوئے گلزار کے سائے میں آ گیا ہو۔ روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی اور میں ٹوٹے ہوئے الفاظ میں نادر کو سب بتانے کی کوشش کرنے لگا تو نادر نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ناں سجن ناں مرد دیاں اکھاں اچوں اتھرو نئیں وگنے چائیدے۔۔۔میں سب جان گیا آں۔۔۔تیرے اتے کی مصیبت آئی کی کی ہویا۔۔۔کنے کیتا،مینوں سب پتہ لگ گیا۔۔۔پر کمالے:ہجے اور ویلا نئیں آیا کہ اسی اوناں نال ٹکر لئیے۔۔۔مناسب وقت دا انتظار کر۔۔۔تے اونی دیر تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر۔۔۔ویکھ میرے سوہنے ویر توں اپنا کی حال کیتا ہویا اے۔۔۔میں نے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو نادر سے الگ کیا اور بولا نہیں نادرے آج مجھے مت روک۔ میں تو اپنے پیاروں کو تو دفنا نہیں سکا پر قسم کھاتا ہوں کہ ان کنجری کے بچوں کو بھی دفن ہونے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔نادر نے سختی سے میرا بازو پکڑ کر لیوگر چھینتے ہوئے کہا۔۔۔کمالے کی ہو گیا۔۔۔کی گل تینوں اپنے نادر تے یقین نئیں۔۔۔میرا ویر میں ہر طرح تیرے نال آں۔۔۔موت وی آؤ گی تے تیرے توں پہلے میں اونوں ٹکراں گا پر میری گل من جا۔۔۔ہجے او وقت نئیں آیا۔ چل ایتھوں کسے مناسب جگہ تے بیٹھ کے ساری گل تینوں سمجھاندا واں۔۔۔نادر کے مجبور کرنے پر میں اس کے ساتھ واپس چل پڑا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی ہم لوگ ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نادر نے چارپائی پر بیٹھتے ہی مجھے بتانا شروع کیا۔۔۔کمالے مجھے تین دن پہلے یہ ساری خبریں ملیں تو میں تبھی کراچی سے واپسی کیلئے چل پڑا۔۔۔یہاں پہنچ کر سارے حالات معلوم کیے۔۔۔پتہ چلا کہ سیال اپنی سمجھ میں تجھے مار چکے ہیں۔۔۔پر ایہہ تقدیر دا ہیر پھیر اے۔۔۔توں بچ گیا۔۔۔مینوں امتیاز کولوں ہی پتہ لگیا کہ ٹونی اور امتیاز تینوں لاہور اک پرائیویٹ کلینک تے رکھ کے تیرا علاج کروا رئے نیں۔۔۔میں سیالاں دی کھوج اچ لگ گیا۔ کافی کچھ معلوم کیتا تے اوناں خبراں دے مطابق ہن اسی فلحال اوناں تے حملہ نئیں کر سکدے۔۔۔وڈے چوہدری نے سکیورٹی فل ٹیٹ کر چھڈی اے۔۔۔میں ہن گھر بیٹھا روٹی کھا ریا سی کہ مینوں امتیاز دا پیغام ملیا کہ بہت ضروری کم اے۔۔۔میں فٹافٹ ہر شے چھڈ کے اونوں ملیا تے اونے دسیا کہ کمال کلینک توں پج گیا اے۔۔۔میں فوری سمجھ گیا کہ توں کتھے جاویں گا۔۔۔اس لئی میں پچھلے دو گھنٹے توں اوتھے کماد کولے تیرا انتظار کر ریا سی۔ ہن میری گل دھیان نال سن۔۔۔فلحال سانوں موقع توں ہٹ جانا چاہیدا تے اپنی طاقت بڑھانی چائیدی۔۔۔ہجے تیرا علاج وی تے باقی ریندا ناں۔۔۔اس سارے کم واسطے سانوں ایتھوں جانا پینا۔۔۔توں اپنا علاج پوری توجہ نال کرواویں تے میں اپنی طاقت بڑھاواں گا۔۔۔فیر موقع محل ویکھ کے سیالاں دی ٹِگنی ٹیٹ کر دیواں گے۔۔۔میں نے بہت ضد کی لیکن نادر آخر نادر تھا اور بلا آخر مجھے اس کے خلوص کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ************************ (40) اس رات میں نے چھپ کر شمسہ کی لاعلمی میں نادر کے گھر میں پناہ لی۔۔۔اگلے دن نادر مجھے گھر میں رہنے کا کہہ کر باہر جانے لگا تو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ شمسہ کو چند مہینے کیلئے کراچی میں نوکری کا عذر کر کے اس کے گاؤں چھوڑنے جا رہا ہے۔۔۔کیونکہ اپنی واپسی کا تو پتہ نہیں کب آئیں گے اس لیے اگر اسے اکیلی کو چھوڑ گئے تو بعد میں پریشانی ہوتی رہے گی۔ جانے سے پہلے میں نے نادر کو نہر والے کیکر کے نیچے موجود ہیروں کی تھیلی بارے بتایا تو میری بات سن کر نادر بولا چل کوئی گل ناں اودا وی کچھ کرنے آں۔۔۔ تو فکر نا کر بس گھروں باہر مت نکلیں۔۔۔میرے وعدہ کرنے پر نادر شمسہ کو لیکر چلا گیا اور شام ڈھلے واپس آ گیا۔۔۔آتے ہی اس نے ہیروں کی تھیلی میرے حوالے کی اور کہا فلحال اپنے پاس رکھو پھر سوچتے ہیں۔ شام کے وقت نادر نے ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی کو گھر بلایا اور ان کو ساری بات سمجھا کر کہا کہ تم لوگ اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔۔۔ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں لیکن کہاں جائیں گے یہ نہیں بتا سکتا۔حالات کے مطابق دیکھا جائے گا۔۔۔سچ پوچھو تو میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔اور نہ ہی میں نے نادر سے کچھ پوچھا کیونکہ جتنا وہ میرے لیے کر رہا تھا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے اس بارے میں کچھ استفسار کروں۔ جاتے جاتے میں ڈاکٹر امتیاز اور ٹونی سے گلے ملا اور رندھے ہوئے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان دونوں نے دوستی اور لحاظ داری کا صحیح رشتہ نبھایا۔۔۔اس کے بعد میں اور نادر رات کے وقت وہاں سے چل پڑے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے نادر نے جمیل کی چند تصاویر اپنی جیب میں رکھیں اور میں چاہتے ہوئے بھی اس سے اس بارے میں پوچھ نہیں سکا۔۔۔گاؤں سے نکلنے کیلئے ہم لوگوں نے رات کا وقت اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر وہاں سے نکل سکیں۔۔۔کیونکہ میرا جلا ہوا چہرہ کسی کو بھی شک میں ڈال سکتا تھا۔ گاؤں سے نکلتے وقت میں نے مفلر چہرے پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔گاؤں سے نکل کر ہم لوگ سیدھا لاہور پہنچے اور رات کی ٹرین سے کراچی نکل گئے۔ نادر کے مطابق ہمیں ہمارے پروگرام کے مطابق کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ اس کی چند وجوہات تھیں۔ وجہ نمبر1:کراچی کی اندر گراؤنڈ سرگرمیوں کے بارے میں نادر اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔وہاں سے ہمیں اپنے مطلب کے لوگ مل سکتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں ہم اپنے جانثاروں کی فہرست میں شامل کر لیتے اور ان پر سیالوں کا اثرورسوخ اثر انداز نہ ہوتا۔ وجہ نمبر 2:میرے جلے ہوئے چہرے کا علاج لاہور کی نسبت کراچی میں ذیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا تھا۔ وجہ نمبر 3:ہم ہیروں کو کراچی میں ہی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔۔۔کیونکہ لاہور میں وڈے چوہدری کی رسائی کہاں تک ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ************************ (41) کراچی پہنچنے کے بعد ہم نے نادر کے ایک پٹھان دوست جس کا نام نایاب خان تھا کے گھر رات گزاری۔۔۔وہ روایتی پٹھانوں کی طرح حد سے زیادہ مہمان نواز ثابت ہوا۔۔۔بے چارہ محنت کش آدمی تھا رکشہ چلا کر اپنی روزی کماتا تھا۔۔۔نایاب لالو کھیت میں رہتا تھا جبکہ اس کی فیملی صوبہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں رہتی تھی۔ اگلے دن صبح مجھے گھر میں ہی رہنے کی تائید کر کے نادر نایاب خان کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔۔۔ان کی واپسی چار گھنٹوں بعد ہوئی۔۔۔آتے ہی نادر مجھے گلے لگاتے ہوئے بولا:کمالے میری جان تو بہت خوش نصیب ایں۔۔۔میں صبح دا کوئی چنگا ڈاکٹر لبھ ریا سی۔۔۔آخر ایک پرائیویٹ ڈاکٹر دا پتہ لگ گیا اے۔۔۔بہت قابل سرجن اے۔۔۔کل صبح اونوں جا کے ملاں گے۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد قریباً دس بجے ہم لوگ ڈیفنس کے پوش ایریا میں ایک کوٹھی میں موجود تھے۔۔۔کوٹھی کے باہر کسی سرجن ڈاکٹر کرنل رحمان کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔۔۔یہ کوٹھی کہیں سے بھی کلینک نہیں لگتی تھی لیکن میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ نادر کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہاں تک پہنچا ہو گا۔ کچھ دیر بعد ہی ہم دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ڈاکٹر درمیانے قد لیکن بھاری تن توش کا مالک تھا ڈاکٹر نے مجھے دیکھا تو مجھے ساتھ لیکر اندر ایک کمرے میں چلا آیا۔۔۔یہ کمرہ بلکل کلینک کی طرز پر تیار کیا گیا تھا۔۔۔ایک چھوٹا سا آپریشن ٹیبل اور ایک لانگ چئیر کے ساتھ ساتھ سرجری کے کافی آلات وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر نے مجھے لٹا کر محدب عدسے سے میرا تفصیلاً معائنہ کیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپس سٹِنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا:مسٹر نادر میں نے کبھی بھی غیر قانونی کام میں ہاتھ نہیں ڈالا لیکن تمہارے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور لالہ نایاب خان کی سفارش اور یقین دہانی پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں میں تمہارے دوست کا علاج کروں گا۔۔۔لالہ کا مجھ پر ایک ایسا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے میں اسے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بہرحال ہم موضوع سے نکل رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ تمہارا کیا نام ہے؟میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولا:مسٹر کمال میں تمہارا علاج کرنے پر تیار ہوں۔۔۔لیکن اس کیلئے میری چند شرائط ہوں گی۔ نمبر 1:جب تک تم میرے زیرِ علاج رہو گے کوئی تمہیں یہاں ملنے نہیں آئے گا۔ نمبر 2:ٹھیک ہونے کے بعد میں تمہارا سارا ریکارڈ ضائع کر دوں گا۔۔۔یہ صرف ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ نمبر 3:تمہیں علاج کی ساری رقم چار لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروانی ہو گی۔ ڈاکٹر کے منہ سے چار لاکھ سن کر میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن نادر اسی وقت بولا۔۔۔ڈاکٹر صاحب تسی بے فکر رہو سانوں تواڈیاں شرطاں منظور نیں۔۔۔تسی صرف اینا دسو کہ کب سے علاج کرنا شروع کریں گے۔ نادر کی بات سن کر ڈاکٹر بولا:اگر تم آج ہی پیسے جمع کروا دیتے ہو تو میں کل صبح ہی سارے انتظامات مکمل کرنے کے بعد کل شام سے ہی کام شروع کر دوں گا۔۔۔اور دو ہفتے بعد تم اپنے دوست کو ٹھیک چہرے کے ساتھ لیجا سکتے ہو۔ میں نے زبان کھولتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔ڈاکٹر میرا سارا چہرہ برباد ہو چکا ہے کیا یہ بلکل پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے گا؟تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ دوست فکر مت کرو یہ تو کچھ بھی نہیں میں اس سے بھی ذیادہ بگڑے ہوئے چہرے ٹھیک کر چکا ہوں۔۔۔بس تم گھر جاؤ اور خود کو ذہنی طور پر سرجری کیلیئے تیار کر لو۔ ڈاکٹر کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر نایاب خان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔تنہائی میسر آتے ہی میں نے پہلا سوال نادر کی طرف داغ دیا۔۔۔نادر مجھے ایک بات تو بتاؤ یار!!!ہمارے پاس تو بلکل بھی پیسے نہیں چار لاکھ کہاں سے دو گے؟ نادر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کمالے میرے یار توں وی جھلا ای ایں۔۔۔خزانہ جیب اچ پائی پھرنا ایں اور مینوں پچھنا ایں کہ پیسے کتھوں آون گے۔۔۔لیا کڈ او ہیرے اوناں نوں وی ٹھکانے لائیے۔۔۔قصہ مختصر اسی دن نادر نے وہ ہیرے ٹھکانے لگا دیے۔۔۔ہیروں کی قیمت ہماری توقع سے بھی ذیادہ موصول ہو گئی۔ ************************ (42) میں سمجھا تھا کہ چند لاکھ روپے کے ہوں گے۔۔۔لیکن جب نادر نے ایک چیک بک اور رسید میرے سامنے رکھی تو رسید پر لکھی ہوئی رقم پڑھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔چار کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی خطیر رقم نادر اپنے نام سے اکاؤنٹ کھول کر بینک میں جمع کروا آیا تھا۔ جبکہ سات لاکھ ایک بریف کیس میں کیش موجود تھا۔۔۔یعنی ٹوٹل ملا کر چار کروڑ اٹھہتر لاکھ میں ہیروں کا سودا ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے نادر سے پوچھا۔۔۔نادر یہ۔یہ اتنے پیسے؟تو وہ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا میری جان او ہیرے بہت قیمتی سن۔ وڈے چوہدری دے کم کاج دا خیال رکھدے ہوئے تیرے ویر دے وی کجھ تعلقات بن گئے نیں۔۔۔اس لئی اک بلکل نویں پارٹی نال ہیروں دا سودا کیتا۔۔۔میں ڈائیریکٹ نئیں گیا بلکہ اک درمیانی پارٹی نوں وچ پایا۔۔۔پچیس لاکھ اوناں نیں کمیشن لیا تے اپنا سودا ہو گیا۔ تے مزے دی اک ہور گل دساں۔۔۔اس پارٹی نے ہی مینوں اکاؤنٹ کھلوا کے دتا اے۔۔۔ورنہ تینوں پتہ بینک اچ کھاتہ کھولنا اتنا آسان کم نئیں۔۔۔اکاؤنٹ کھولنے واسطے ایک نام نہاد کمپنی دا بزنس شو کیتا تے باقاعدہ اودے کارڈ وی چھپوائے نیں۔۔۔یہاں ایک بات میں دوستوں کو بتاتا چلوں کہ نادر اچھی طرح اردو بول بھی سکتا تھا اور سمجھ بھی سکتا تھا۔۔۔لیکن چونکہ عادت سے مجبور تھا اس لئے کم از کم میرے ساتھ وہ ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔ اگلے دن ہم لوگ گھر سے نکلے اور سیدھا ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر کو چار لاکھ ادا کرنے کے بعد نادر نے پوچھا!!!ہاں ڈاکٹر صاحب ہم لوگ کب آئیں؟ڈاکٹر نے جواب دیا:دوست تم لوگ آج شام کو ہی آ جاؤ اور یاد رکھنا کہ شرط کے مطابق کمال کے علاج کے دوران کوئی بھی ملاقاتی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ہاں اگر تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہو تو یہ میرا نمبر رکھ لو اس پر کال کر لینا میں تمہاری بات کروا دوں گا۔۔۔لیکن کال بھی اہم ضرورت کے تحت کرنا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر نے ایک کارڈ نکال کر نادر کی طرف بڑھایا جسے نادر نے پکڑ کر دیکھتے ہوئے جیب میں رکھ لیا۔ اسی شام نادر مجھے ڈاکٹر کی کوٹھی پر چھوڑ کے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔ڈاکٹر مجھے لیکر سیدھا اپنے آپریشن روم میں چلا آیا اور لانگ چئیر پر لٹا کر دو گھنٹے تک میرے چہرے کی مختلف ڈرائنگز بناتا رہا۔۔۔خاموشی سے تنگ آ کر میں نے ڈاکٹر سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک بات تو بتائیں کہ آپ میرے چہرے کا علاج کیسے کریں گے؟ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولا یار پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے تمہاری معلومات کیلئے بتا دیتا ہوں کہ میں تمہاری پلاسٹک سرجری کروں گا اس کیلئے میں نے باہر کے ملک سے سارا سازوسامان منگوا کر رکھا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں تمہارا چہرہ ایسے ہو جائے گا کہ تم خود بھی کوئی جلے کا نشان یا داغ وغیرہ ڈھونڈ نہیں پاؤ گے۔۔۔آپریشن کے دوران ذیادہ تر میں تمہیں نیند کی دوائی دے کر رکھوں گا۔۔۔قصہ مختصر اس رات ڈاکٹر نے میرے چہرے کی مختلف اقسام کی ڈرائنگز بنائیں اور فارغ ہونے کے بعد مجھے کوٹھی کے ہی ایک آرام دہ کمرے میں شفٹ کر دیا۔۔۔اگکے دن سے باقاعدہ میرے چہرے کی مرمت شروع ہو گئی۔ چونکہ ساری تفصیل میں پہلے ہی بتا چکا ہوں اس لیے ہم علاج کا دورانیہ تھوڑا فارورڈ کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ ان دو ہفتوں میں ڈاکٹر نے مجھے ذیادہ تر نیند کی حالت میں ہی رکھا۔۔۔میرے کھانے پینے کا انتظام ڈاکٹر ہی کرتا تھا۔۔۔جب کھانے کی ضرورت محسوس ہوتی میں بتا دیتا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ملازمہ آ کر کھانا دے جاتی۔۔۔وقت گزاری کیلئے مختلف اقسام کے اخبارات،ناولز موجود تھے۔۔۔اس کے علاوہ چند عدد فلموں کے کیسٹس اور وی سی آر بھی موجود تھا۔ میں جب نیند سے اکتا جاتا تو فارغ وقت میں یا تو اخبارات پڑھتا رہتا یا پھر فلمیں دیکھتے ہوئے سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔۔یہیں سے مجھے سگریٹ کی باقاعدہ لت لگ گئی۔ میرا چہرہ ہر وقت پٹیوں میں ڈھکا رہتا۔۔۔صرف آنکھیں ناک کے دو سوراخ اور کھانے کیلئے منہ کھلا تھا۔۔۔باقی پورے چہرے پر پٹیاں لپٹی رہتی تھیں۔۔۔ان دو ہفتوں میں صرف ایک دفعہ سات دن بعد نادر کا فون آیا۔۔۔میری خیر خیریت معلوم کر کے اس نے رابطہ منقطع کر دیا۔ آج میری ڈاکٹر کے پاس آخری رات تھی کہ صبح میرے چہرے سے پٹیاں اتر جانی تھیں۔۔۔مجھے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔۔۔وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا اس لیے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا۔۔۔رات بارہ بجے میرے سگریٹ ختم ہو گئے تو میں بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔ میرے سرہانے ایک انٹرکام لگا ہوا تھا جس کے ذریعے میں ضرورت کے تحت ڈاکٹر سے رابطہ کر لیتا تھا۔۔۔میں نے انٹرکام پر کافی دفعہ کال کرنے کی کوشش کی پر شاید کسی فنی خرابی کی وجہ سے انٹرکام نہیں چل رہا تھا۔۔۔میں بیڈ سے اٹھا۔۔۔چپل پہنے اور ڈاکٹر کو ڈھونڈتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر چل پڑا۔ ************************ (43) کمرے سے نکلتے ہی سامنے کوریڈور سے گزر کر جب میں دوسرے کنارے پر پہنچا تو میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی لڑکی نے مزے سے سسکاری بھری ہو۔۔۔میں نے دھیان سے کان لگا کر سنا تو مسلسل سسکاریاں سنائی دینے لگیں۔۔۔میں ان آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔دروازہ کھلا پا کر میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔کمرے میں ڈاکٹر کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی موجود تھی دونوں مادرذاد ننگے تھے۔۔۔لڑکی سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈالے زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر چھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ڈاکٹر کے جھٹکوں میں بے قراری پائی جاتی تھی۔ مجھے دو مہینے سے ذیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ میں نے اپنا پانی نہیں نکالا تھا یہ صورتحال دیکھتے ہی میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا اور میری شلوار میں تنبو بن گیا۔۔۔میں نے ہاتھ سے اپنا لن سہلانا شروع کر دیا۔۔۔چند جھٹکوں کے بعد ڈاکٹر نے اپنا درمیانے سائز کا لن باہر نکالا اور لڑکی کے پیٹ کی طرف کر کے تیزی سے مٹھ مارتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہی ساری منی نکال دی اور خود اس لڑکی کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔۔۔میں وہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا کہ تبھی اچانک۔ اچانک اس لڑکی نے منہ موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کھڑے دیکھ کر پہلے تو حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔پھر اس نے اپنے آپ پر کمال کنٹرول کرتے ہوئے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آنکھ مار دی۔۔۔عین اس وقت جب وہ مجھے آنکھ مار رہی تھی اس کی نظر نیچے میری شلوار میں بنے ہوئے تنبو پر پڑی تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسی وقت میں وہاں سے واپس مڑ کر چلتے ہوئے کوریڈور سے واپس باہر کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔گیٹ کے پاس پہنچ کر میں نے چوکیدار کے کیبن میں جھانکا تو چوکیدار کو موجود دیکھ کر میں نے اس سے کہا:بھائی اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا ایک کام کر دو۔۔۔میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں وہ لا دو۔ چوکیدار نے مجھے کہا صاحب آپ اپنے کمرے میں جائیں سگریٹ تھوڑی دیر میں ہی آپ تک پہنچ جائیں گے۔۔۔میں سست روی سے چلتا ہوا واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے ڈاکٹر کی چدائی کا سین اور پھر اس لڑکی کا جسم یاد آ گیا۔۔۔جسے سوچتے ہی میرا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔لیکن میں اسی طرح لیٹے ہوئے میگزین دیکھ کر اپنا دھیان بٹانے لگا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد چوکیدار آ کر مجھے دو پیکٹ سگریٹ کے دے گیا اور میں سگریٹ سلگا کر کش لگاتے ہوئے وقت گزارنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اچانک مجھے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو میں جو کہ دروازے کی طرف ہی منہ کیے لیٹا تھا۔۔۔چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو اسی نوخیز حسینہ کو کمرے میں آتے ہوئے پایا۔۔۔اس کا آنا بھی قیامت خیز تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہا کر آئی ہے۔۔۔کیونکہ اس کے گیلے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا جو کہ بمشکل اس کی گانڈ تک آتا تھا۔۔۔نیچے اس کی رانیں اور ٹانگیں پوری ننگی تھیں۔۔۔اس کے بال خشک تھے۔۔۔مطلب کہ وہ گردن کے نیچے سے نہا کر آئی ہے۔۔۔اندر آتے ہی اس نے مجھے دیکھا اور بے پروائی سے میرے سامنے کرسی کر بیٹھ کر توبہ شکن انداز میں اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی ٹانگ کے نیچے کا نظارہ دیکھ کر میرا لن ایک دفعہ پھر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند لمحے وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ کرسی سے اٹھی اور میرے پاس آ کر اس نے سائیڈ میز سے سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور سگریٹ سلگا کے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔ آخرکار میں نے ہی سکوت توڑا۔۔۔جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔وہ بلکل میری نقل اتارتے ہوئے بولی:کیا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔میں کھسیاہٹ زدہ لہجے میں بولا:وہ تو میں بس سگریٹ ڈھونڈتے ہوئے ادھر جا نکلا تھا۔۔۔وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔کیوں وہاں کیا سگریٹ کی دکان کھلی تھی۔۔۔اور جب اندر آ ہی گئے تو واپس کیوں نہیں چلے گئے؟ اب کی بار میری جھجھک ختم ہو چکی تھی تو میں رسانیت سے بولا کہ ارادہ تو یہی تھا کہ واپس لوٹ جاؤں پر جب اندر حسن کی ایک مجسم دیوی کو اپنی اداؤں کے خزانے لٹاتے دیکھا تو قدم وہیں جم گئے اور میں چاہ کر بھی واپس نہ مڑ پایا۔۔۔میری بات سن کر وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔دیکھو یار میں کوئی روایتی عورت تو ہوں نہیں جو رسمی باتیں کروں اور گھما پھرا کر مجھے بات کرنا نہیں آتا۔۔۔میرا نام شبنم ہے اور میں ڈاکٹر کی بیوی ہوں پر وہ ابوالہوس میری ابلتی ہوئی جوانی کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔کمینہ انسان۔ بہت جلد ہی بلکہ چند جھٹکوں میں ٹھس ہو جاتا ہے۔۔۔میں پھر گرم کی گرم مچلتی رہ جاتی ہوں۔۔۔تو مدعے پر آتے ہیں۔۔۔میرا دل تم پہ آ گیا ہے۔۔۔اس لیے میں اس وقت تمہارے سامنے اس حالت میں موجود ہوں۔۔۔بولو کیا کہتے ہو اس بارے میں؟ ************************ (44) میں کوئی"چپڑ قناطیہ"تو تھا نہیں کہ کسی لڑکی کی اتنی کھلی ڈھلی آفر نہ سمجھ پاتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے ایک مبہوم سی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔لیکن وہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟شبنم بڑے رسان سے بولی وہ گدھا دارو پی کر گانڈ اٹھائے سو رہا ہے۔۔۔اب اگلے چند گھنٹے اسے ہوش نہیں آئے گا۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا۔۔۔شبنم!!!کیا اس پٹیوں لپٹے چہرے کے ساتھ ہی؟اتنا کہہ کر میں چپ ہو گیا۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔او کم آن یار مجھے تمہاری شکل سے کیا لینا دینا مجھے تو تمہارا لن اپنی پھدی کے اندر چاہیے۔۔۔ویسے بھی صاف سی بات ہے کہ ہم دونوں صرف آج رات کے ساتھی ہیں۔۔۔اس کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:اگر کل صبح میں ڈاکٹر کو بتا دوں کہ پچھلی رات میں اس کی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا ہوں تو پھر؟ وہ بڑے تحمل سے بولی۔۔۔پھر کیا کچھ بھی نہیں بس اتنا ہو گا کہ کراچی سے گم ہو جاؤ گے یا پھر ہو سکتا کہ تمہارا کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے۔۔۔یا پھر راستے پہ چلتے ہوئے کوئی بے آواز آوارہ گولی تمہارا مزاج پوچھ لے گی۔۔۔میں نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اٹھ کر میرے قریب آئی اور نیچے جھک کر ایک دم مجھے گلے سے دبوچتے ہوئے بولی۔۔۔اب بس کرو!!!کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ میں کب سے تمہارا لن لینے کیلئے مری جا رہی ہوں اور تم میرا انٹرویو لیے جا رہے ہو۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار غصہ کیوں کرتی ہو میں تو بس ایسے ہی شغل کر رہا تھا تو اس نے میرا گلا چھوڑ دیا اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔ کسی کی جان جا رہی ہے اور آپ کی ادا ٹھہری۔ یہ کہتے ہی ہاتھ اوپر لیجا کر اس نے اپنا تولیہ اتار پھینکا۔۔۔شبنم ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔میری ہی ہم عمر لگتی تھی لیکن اس کا جسم اس کی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔۔۔کسے ہوئے پیٹ پر چھتیس سائز کے سڈول ممے ایسے شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے جیسے کسی نے درمیانے سائز کے فٹبال درمیان سے کاٹ کر لگا دیے ہوں۔۔۔ان مموں پہ چھوٹے چھوٹے گلابی رنگ کے نپلز بڑے بھلے لگ رہے تھے۔۔۔کمر بلکل پتلی سی نہ ہونے کے برابر۔۔۔اس کی گانڈ کافی موٹی اور باہر نکلی ہوئی تھی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ جیسے گوشت کی پہاڑیاں ہوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ ڈال کر مجھے لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں نہیں تم کچھ نہیں کرو گے تم سکون سے لیٹ جاؤ۔۔۔میں خود ہی سب کچھ کر لوں گی۔۔۔میں کندھے اچکاتے ہوئے چِت لیٹ کر شوق طلب نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ آرام سے میرے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھ گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لیجانے لگی۔۔۔دوستو اپنی جسمانی ساخت تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔اس لیے میرے جیسا بانکا جوان دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا کچھ کہے ہی نشیلی ہوتی جا رہی تھیں۔ چند لمحے وہ ایسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتی رہی۔پھر اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور میرے لن کو پکڑتے ہی اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھر آئی۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔وہ اچھی طرح میرے لن کی لمبائی اور موٹائی ماپ رہی تھی۔ ************************ (45) وہ میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی میرے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے ممے کو پکڑ کر دبا دیا۔۔۔اس کا مما میرے ہاتھ میں آتے ہی اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری نکلی۔۔۔سسسسی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اس کے گول مٹول مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔کچھ دیر میں ایسے ہی ایک ہاتھ سے باری باری اس کے ممے دباتا رہا۔۔۔شبنم میرے لن کو اپنے ہاتھ میں جھکڑے منہ چھت کی طرف کر کے آنکھیں بند کیے سیییییی سیییییی کرتی رہی۔ پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ کر اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کی کمر میں ڈالا اور اسے اپنی طرف کیا تو شبنم نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔میں واضح طور پر اس کی نشیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے جھکتی گئی اور اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چوم لیا۔۔۔چونکہ میرے چہرے پر میرے ہونٹ ہی پٹیوں سے آزاد تھے۔۔۔اور وہ بھی آس پاس کا ایریا پٹیوں میں کسے ہونے کی وجہ سے ہلکے سے سوجھے ہوئے تھے اور صاف سوجن نظر آتی تھی۔۔۔اس لیے شبنم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف ہونٹ چومنے پر اکتفا کیا۔۔۔اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے لن کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ پہلو میں لٹا لیا اور پہلو کے بل ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اس کی ناف میں انگلی سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔میں جتنا ذیادہ اس کی ناف کو چھیڑتا شبنم اتنا ذیادہ مچلتی۔۔۔میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ نیچے سرکایا تو میرا ہاتھ اس کی پھدی کی نرم و ملائم جلد سے ہوتا ہوا پھدی کے ہونٹوں تک جا پہنچا۔۔۔میرے ہاتھ کی انگلیوں نے جیسے ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھوا تو اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اس کی پھدی کافی زیادہ گیلی ہو چکی تھی جس سے نکلنے والی رطوبت کی چپچپاہٹ میں اپنی انگلیوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔میں اس کی نازک اور بالوں سے صاف پھدی کے ہونٹ مسل رہا تھا اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے میرے ہاتھ پر رگڑ رہی تھی کہ جیسے پورا ہاتھ اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کی سسکیوں میں شدت پیدا ہو گئی۔۔۔میں نے بھی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو رگڑنے کی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ہی میں نے اپنے اسی ہاتھ کی دو انگلیاں اندر گھستے ہوئے پھدی کے دانے کو زور سے مسلا تو شبنم نے ایک دم اپنی ٹانگیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی نکلی۔۔۔۔ہائےےےےےےےے امی جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی شبنم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ چند سیکنڈ بعد میں نے اپنا ہاتھ باہر نکال کر بیڈ شیٹ کے ساتھ ہی صاف کیا اور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا ہوا شبنم جی۔۔۔یہ تو آپ ہی چند سیکنڈز میں ٹھس ہو گئیں۔۔۔تو وہ میرے اکڑے ہوئے لن پر ہلکا سا ہاتھ مار کر بولی۔۔۔بکواس مت کرو یار۔۔۔اس بڈھے نے مجھے پہلے ہی کافی گرم کر دیا تھا اوپر سے تمہاری انگلیوں میں جادو ہے جادو،،جو میں برداشت نہیں کر پائی۔ اسی لیے گنگا بہہ گئی۔ رکو ابھی تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے میری شلوار کر ہاتھ ڈالا اور میرا ازاربند کھول کر شلوار اتار دی۔۔۔میرا لن کسی شیش ناگ کی طرح مچل کر شلوار سے باہر نکلا اور فل مستی میں سر اٹھائے جھومنے لگا۔۔۔شبنم بڑی نشیلی نگاہوں سے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر شبنم نے آگے بڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھتے ہوئے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنا منہ نیچے کیا اور میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔وہ اتنی لگن سے میرا لن چوس رہی تھی کہ میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔ اف فف اس کا گرم گرم منہ کیا مزہ دے رہا تھا۔۔۔میں سب بدلے ودلے بھول کر سوچنے لگا کہ کاش وہ اسی طرح میرا لن اپنے منہ میں لیے بیٹھی رہے اور یہ لمحہ امر ہو جائے۔۔۔شبنم میرے لن کو منہ میں لیے آہستہ آہستہ سے اپنے منہ کو چودنا شروع ہو گئی۔۔۔میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔ شبنم بہت تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔بیچ میں کبھی کبھی وہ اپنی پوری زبان نکال کر میرے ٹٹوں پر پھیرتی تھی۔۔۔میں حیران تھا کہ شبنم اس رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔۔۔صرف پانچ منٹ کے اندر ہی شبنم کے جاندار چوپوں نے مجھے منزل کے قریب کر دیا۔ میرا جسم اکڑنے لگا تو میں نے کہا شب۔شب۔شبنم میرا پانی نکلنے والا ہے۔۔۔بس کرو اب لن کو منہ سے باہر نکال لو۔۔۔لیکن وہ میری بات سنی ان سنی کر کے اور تیزی سے لن کو چوسنے اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق تک لیجانے لگی۔۔۔تبھی میرے جسم کو آخری جھٹکا لگا اور میرے لن سے منی کی دھاریں خارج ہونے لگیں۔۔۔شبنم نے اپنے ہونٹوں کو گرِپ کر کے میری ساری منی اپنے منہ میں ہی جمع کرنا شروع کر دی۔ ************************* (46) جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا اور میرے لن نے جھٹکے مارنے بند کر دیے تو شبنم نے بڑے احتیاط سے میرا لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔شبنم نے لن کو منہ سے باہر نکالتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھا کہ منی کا ایک قطرہ باہر نہ گرنے پائے۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے سیکسی انداز میں وہ منی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔ میں ابھی حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اچانک شبنم نے پھر سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کو اچھی طرح سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے گرم منہ کی حدت سے میرے مردہ ہوتے ہوئے لن میں ایک دفعہ پھر جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی میں اس کو نیچے فرش پر بٹھائے اپنا لن اس کے منہ میں ڈالے اس کے منہ کو چود رہا تھا۔ دو منٹ تک ایسے ہی اس کے منہ کو چودنے کے بعد میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے شبنم کے چہرے کو پکڑتے ہوئے لن کو اس کے حلق کی گہرائی تک لیجا کر چودنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے اس کے حلق کو چھوا تو اسے کے منہ سے اوغ۔اوغ کی آواز نکلی۔۔۔یوں لگا جیسے ابکائی لینے لگی ہو۔۔۔لیکن اس نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔تقریباً پانچ منٹ کی جاندار حلق چودائی کے بعد میرا لن اپنے پورے جوبن پر آ چکا تھا۔ میں نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔وہ سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کافی ساری کھول لیں۔۔۔میں اس کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔پھر اپنے لن کو پکڑ کر اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھا۔۔۔شبنم کی پھدی ایک دم مست پھدی تھی۔۔۔اس پر ایک بھی بال نہیں تھا۔۔۔کسی کنواری پھدی کی طرح اس کے ہونٹ بھی آپس میں ایک دم ٹائٹ ہو کر جڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے لن کو پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھتے ہوئے آہستہ سے پش کیا تو لن کی ٹوپی پھدی کو چیرتی ہوئے اندر گھس گئی۔ شبنم کے چہرے پر ہلکی سی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔شچنم نیچے سے مچلتی گئی پر میں رکا نہیں۔۔۔نتیجتاً بیس سیکنڈ میں ہی میرا پورا لن اس کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔میں نے ہلنے کی کوشش کی تو شبنم نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیے۔۔۔جیسے مجھے روکنا چاہتی ہو۔۔۔میرے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اس نے کہا۔۔۔تھوڑی دیر یہاں ہی رکو۔۔۔پہلی بار اتنا صحت مند لن اندر لیا ہے۔ تھوڑی دیر اسے محسوس تو کرنے دو۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کو سکون ملا تو وہ بولی اب آہستہ آہستہ سے دھکے لگانا شروع کرو۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ پمپنگ کرنی شروع کر دی۔۔۔شبنم اب پورا لن اندر لینے کے بعد مستی بھری آوازوں سے مجھے سب اوکے ہے کا سگنل دے رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کر دی۔۔۔شبنم بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔لن اندر جاتے ہی وہ اپنی گانڈ کو پیچھے دبا کر میرا ساتھ دیتی۔ میں جیسے ہی گھسہ مارتا۔۔۔شبنم کے ممے باؤنس ہو کر اوپر کو اچھلتے اور اس کے ڈانس کرتے مموں کو دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا جاتا۔۔۔اور میں مزید زور سے گھسہ مارتا۔۔۔شبنم اف فف فف ہائےےےےےےے کی آوازیں نکال کر میرے مزے کو دوبالا کر رہی تھی۔۔۔شبنم کی پھدی اب اندر سے بلکل ہموار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے میرا لن باآسانی اندر باہر آ جا رہا تھا۔ ************************* (47) میرے اور شبنم کے جسم آپس میں ٹکرانے کیوجہ سے کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اب شبنم نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اندر لے رہی تھی اور میرا لن اس کی بچہ دانی تک مار کر رہا تھا۔۔۔مسلسل دس منٹ تک گھسے مارنے کے بعد اچانک شبنم نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر باندھتے ہوئے پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر مجھے اپنے شکنجے میں بھینچ لیا۔۔۔میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مار رہا تھا۔۔۔شبنم سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ تیز۔تیز۔ہاں راجہ۔۔۔اور تیز۔ اس کی پھدی مسلسل رطوبت چھوڑ رہی تھی جس کیوجہ سے میرا لن پھسل پھسل کر اندر جا رہا تھا۔۔۔اب میرے دماغ میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی اور میں بنڈ پھاڑ گھسے مارنے لگا۔۔۔شبنم بھی اب مزے کے ساتھ پورے فارم میں تھی۔۔۔اور پانی نکالنے کیلئے تیار ہو رہی تھی۔ اوہ میری پھدی۔۔۔آہ۔۔ممممم۔ممممم۔۔میں گئییییی۔۔۔ میں نے فل جوش میں تین چار گھسے اور مارے تو میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا تو میں نے پوری طاقت سے لن کو جڑ تک پھدی میں گھسا دیا اور میرے لن نے اس کی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔میرا منی اندر گرنے کی دیر تھی کہ شبنم کی ٹانگیں بھی کانپیں اور اس نے بھی لرزتے ہوئے منی کی برسات کر دی۔ میں نڈھال ہو کر شبنم کے اوپر گر کے ہانپنے لگا جبکہ وہ بھی ہانپتے ہوئے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔اس طرح کوئی دس منٹ تک اپنی سانسیں بحال کرنے کے بعد وہ اٹھی اور اپنا تولیہ اٹھا کر پھر سے باندھ کر ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک ننگا لیٹا ہوا تھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں مجھے دیکھتی رہی۔۔۔پھر وہ اچانک بولی دیکھو میں بھی کتنی بدھو ہوں۔۔۔ابھی تک تمہارا نام نہیں پوچھا۔۔۔میں نے بتایا کہ میرا نام کمال پاشا ہے۔۔۔وہ میری آنکھوں میں تکتے ہوئے بولی تمہارا یہ حال کیسے ہوا۔۔۔اس کا اشارہ میرے جلے ہوئے چہرے کی طرف تھا۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر نہ جانے کیوں اسے نہایت اختصار کے ساتھ ساری کہانی خود ہر بیتے سارے حالات بتاتا چکا گیا۔ صرف ہیروں کا قصہ گول کر گیا۔۔۔پیسوں کے بارے میں اسے بتایا کہ ہم لوگ زمیندار لوگ ہیں کافی زمین تھی جو اب ساری کی ساری بلا غیرے شرکت میری ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ سرشار لہجے میں بولی"مسٹر کمال پاشا!!!تم چاہو تو فرض کر سکتے ہو کہ تمہارے ہاتھ پارس پتھر لگ گیا ہے۔۔۔کچھ استفادہ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔۔۔کوئی کام کہیں اٹکا ہوا ہو تو بتا سکتے ہو۔۔۔کوئی مسئلہ درپیش ہو تو صرف اشارہ کر دو۔ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی میں تو نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔۔۔لیکن میرا جو یہ نام نہاد عاشق شوہر کرنل ہے ناں!!!۔باہر دنیا کیلئے بہت بڑی توپ قسم کی شے ہے لیکن بیڈروم میں میرا ہاتھ بندھا غلام ہے۔۔۔اس لیے اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں ہماری ضرورت پیش آ سکتی ہے تو واضح بتا دو۔۔۔تمہارا کام باآسانی ہو جائے گا۔ ہاں ایک کام ہے جس کو کرنے کیلئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔میں نے ایک لمحہ توقف کے ساتھ تھوڑا مکھن لگانی کی کوشش کرتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا۔۔۔لیکن فلحال اس موضوع کو رہنے دو۔۔۔ابھی تم مجھے ملی ہو،تمہارا ساتھ مجھے ملا ہے،مجھے جی بھر کر سیراب تو ہو لینے دو۔۔۔پہلے مجھے کچھ دیر تک اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دو۔۔۔میری روح میں پیاس کا اک صحرا پھیلا ہوا ہے۔۔۔اسے کچھ دیر تو تمہاری محبت کی شبنم جذب کرنے دو۔۔۔وہ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی لیکن جیسے ہی میں نے اپنی بات ختم کی وہ تالیاں بجانے کے انداز میں بولی"تقریر اچھی کر لیتے ہو۔ پر میری جان میں اس وقت سے بہت آگے آ چکی ہوں جب لڑکیاں اس قسم کی باتوں پر مر مٹتی تھیں۔۔۔تم کیا جانو میں کتنا بڑا صحرا پار کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔پھر وہ اٹھتے ہوئے بولی بہرحال میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے مجھے کال کر لینا تمہارا کام ہو جائے گا کانٹیکٹ نمبر وہی ہے جس پر تم لوگ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہو۔۔۔ اوکے اب اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ۔۔۔صبح کا دن تمہارے لیے نئی خوشیوں کی امید لیکر آ رہا ہے۔۔۔اس کا اشارہ پھر میرے چہرے کی طرف تھا۔۔۔گڈ نائٹ کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لیا اور پھر مڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔شبنم کے جانے کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور واش روم میں جا کر فریش ہونے کے بعد واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ جاری ہے۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeسب دوستوں کا شکریہ جنہوں نے اپنا ٹائم نکال کر اس سٹوری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کمنٹس سے نوازا۔ اگلی اپڈیٹ میں سٹوری کو ایک اور نیا رخ دیا جائے گا اور باقی کرداروں کو فلحال پسِ پشت ڈال کر میں کردار کو آگے بڑھا جائے گا۔۔۔کچھ نئے کردار بھی شامل ہوں گے اور سٹوری کو ایک ترتیب سے ان کرداروں کے ساتھ لنک کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگلی اپڈیٹ میں کوئی سیکس سین ہو گا۔بہرکیف میں کوشش کروں گا کہ سٹوری کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی سیکس سین ڈال سکوں۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 likeدوستو پڑھ کے بتائیے گا ضرور کہ کہانی کا ٹریک کیسا جا رہا ہے۔۔۔ دراصل میں پہلی دفعہ تھوڑا روٹین سے ہٹ کر لکھ رہا ہوں۔۔۔اس سے پہلے اس طرح کی کوئی سٹوری نہیں لکھی اس لئے آپ لوگوں کی رائے کا شدت سے انتظار رہے گا۔۔۔ نوٹ:۔۔۔ آج 19 جون ہے تو اگلی اپڈیٹ 2 جولائی کو اپلوڈ کروں گا۔۔۔میری آفس میں ایک اسائنمنٹ ہے وہ بھی ساتھ ساتھ پوری کرنی لیکن دو جولائی کو ہر صورت اپڈیٹ دے دوں گا۔۔۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور وہ روتے ہوئے بولی۔ کمال باؤ۔ تم واقعی کمال ہو۔ چھیمو بڑی خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کے نصیب میں تو زبردستی چدائی اور حلق میں پھنسے لنوں کا منی پینا ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔ابھی جب تم نے تھوڑی دیر پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ مجھ جیسی رانڈ کو کوئی ہونٹوں پر بھی چوم سکتا ہے۔ ان ہونٹوں پر جہاں آج تک سیال زادوں کے لن رگڑے گئے۔۔۔ان گشتی کے بچوں نے کبھی بھی مجھے پیار سے کس نہیں کی۔۔۔میرے راضی خوشی چدوانے کے باوجود وہ لوگ زبردستی چدائی کو فوقیت دیتے ہیں۔ مجھے اچانک ایک بات یاد آئی تو میں بول اٹھا راجی مجھے جب چھیمو نے تم دونوں کی داستان سنائی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ پہلی دفعہ سیال زادوں سے چدوانے کے بعد تم خود وڈے چوہدری کے آگے لیٹنے کو تیار ہو گئی تھی اور اپنی مرضی سے پھدی مروائی تھی۔ اگر تم مظلوم ہو تو وہ سب کیا تھا جو اس دن وڈے چوہدری کے کمرے میں ہوا۔ میری بات سن کر راجی کچھ دیر خاموش رہی پھر جیسے خلا میں تکتے ہوئے بولی۔ جو بات میں ابھی بتانے جا رہی ہوں وہ تو چھیمو بھی نہیں جانتی۔۔۔اس دن میں جان بوجھ کر حویلی گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ ہو گا یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں چوہدری کہ حویلی میں گئی ہی کیوں۔ تو یہ جاننے کیلئے چند سال پہلے کا قصہ سناتی ہوں۔ ہم دو بہنیں تھیں۔ میرا نام تو تم جانتے ہی ہو جبکہ مجھ سے چھوٹی کا نام نغمہ تھا۔ رنگ روپ میں اتنی خوبصورت کہ پریاں بھی دیکھ کر شرما جائیں۔ جسم کی اٹھان بھرپور تھی۔ وہ ہم سب کی لاڈلی تھی۔ گھر میں میرے امی ابو میں اور نغمہ ٹوٹل چار لوگ ہی تھے۔۔۔صرف مکان اپنا تھا زمین بلکل بھی نہیں تھی اس لیے ابا لوگوں کی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے گھر کی دال روٹی چلاتے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔۔۔آس پاس کے گاؤں میں اور خود اپنے گاؤں میں اگر کوئی شادی بیاہ ہوتا تو مجھے اسپیشل بلایا جاتا تھا کہ میں وہاں رنگ جماؤں۔ اس طرح چار پیسے کی آمدنی بھی ہو جاتی۔ اور میرا گانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔۔۔کہ تبھی اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے گاؤں کی دوسری نکڑ پر موچیوں کے گھر شادی تھی۔۔۔ان کی عورتیں گانا گانے کیلئے مجھے بلا کر لے گئیں۔ آدھی رات تک کا فنکشن تھا۔ رات کو جب فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کافی پیسے دیے۔۔۔اور ایک بزرگ ملازمہ جس کا نام ماسی صغراں ہے۔۔۔مجھے اس کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا۔۔۔ماسی صغراں ہمارے گھر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ **************************** (25) ماسی کی داستاں بھی عجیب تھی۔۔۔ماسی کا خاوند کافی سال پہلے نشے کی ذیادتی کی وجہ سے مر گیا۔ پھر ایک دن ماسی کا جواں سال بیٹا پیسے کمانے گھر سے نکلا تو آج تک واپس نہیں آیا۔ ماسی دائی کا کام بھی جانتی تھی مگر اس کا ذیادہ تر وقت ادھر ادھر کے گھروں میں ہی گزرتا تھا۔ جھاڑو پونچھا کر کے روٹی پانی کھا پی لیتی اور اسی طرح اس کی زندگی کی گاڑی بھی چل رہی تھی۔ میں اور ماسی شادی کی باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی میرے گھر کے قریب پہنچے تو مجھے گھر کے سامنے ایک بڑی جیپ کھڑی دکھائی دی جس میں کچھ لوگ بیٹھ رہے تھے۔ جیپ دیکھتے ہی ماسی کے منہ سے نکلا ***** خیر۔ میں نے گھبرا کر ماسی سے کچھ پوچھنا چاہا تو ماسی نے مجھے سختی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرا بازو پکڑ کر پاس ہی موجود درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئی۔۔۔چند منٹ بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور غراتی ہوئی ہمارے سامنے سے گزرتی چلی گئی۔ جیپ میں چار گن مینوں کے ساتھ دو سوہنے سوہنے منڈے بھی موجود تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سوہنے منڈے وڈے چوہدری کا پتر صفدر سیال اور اس کا کوئی شہری دوست تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ بندوق بردار آدمیوں کا میرے گھر میں کیا کام۔۔۔میں ہولتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھی اور ماسی سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھر میں داخل ہو گئی۔۔۔جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو۔ جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو اندر کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔اسے دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔سامنے فرش پر میرے ابا اور امی کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ امی کا جسم پورا ننگا تھا اور ان دونوں کے سینوں میں دستے تک خنجر پھنسے ہوئے تھے۔ میں پھٹی آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑائی تو سہارا لیتے لیتے فرش پر کسی چیز کے ساتھ پاؤں الجھے اور میں گر پڑی۔۔۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد جب آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میری نظر اس چیز پر پڑی جس سے میرے پاؤں الجھے تھے۔ اس چیز کو دیکھ کر یوں لگا آسمان سر پہ آن گرا ہو۔۔۔وہ میری بہن، چھوٹی لاڈلی بہن، نغمہ کی لاش تھی۔۔۔جس کے بدن پہ کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا۔ نغمہ کو اس حالت میں دیکھ کر اور پے در پے جھٹکوں نے مجھے تکلیف سے نجات دلائی اور میں چیخیں مارتے روتے روتے بیہوش ہو کر وہیں زمین پر گر گئی۔ پھر جب ماسی صغراں اندر آئی اور اس نے سارا ماجرہ دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔۔۔لیکن وہ بیہوش ہونے سے بچ گئی۔ جہاندیدہ تھی سارا معاملہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مجھے اٹھایا پھر پانی کے چھینٹے میرے منہ پر ڈالے اور جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا ماسی مجھے ہلا رہی تھی۔ چند لمحے تو میں غائب دماغ سی ماسی کی طرف دیکھتی رہی لیکن جب شعوری کیفیت میں واپس آئی تو ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ماسی مجھے چپ کرواتی رہی۔ میں روتے ہوئے پوچھا رہی تھی ماسی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔کون لوگ تھے وہ اور ان کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی تھی جو انہوں نے یہ کر دیا۔ اتنا کہہ کر میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا تو دیکھا کہ اب امی اور نغمہ کی لاشیں ننگی نہیں تھیں۔۔۔اس وقت غم کی شدت میں اس بات پر دھیان نہیں دے کہ ان کے ننگے جسموں کو کپڑے کس نے پہنائے۔ مجھے روتی کو چپ کرواتے ہوئے اور دلاسے دیتے ہوئے ماسی نے کہا۔۔۔چپ کر جا میری دھی۔۔۔فٹا فٹ اپنے آپ نوں سانبھ لے پر کسے نوں پتہ نا چلے کہ لاشاں پہلے ننگیاں سن۔۔۔ایہہ بری گل اے لوکی طرح طرح دیاں گلاں کرن گے۔۔۔میں روتی ہوئی بولی پر ماسی وہ لوگ کون تھے تو ماسی نے جواب دیا کہ پتر مینوں کی پتہ کون سی۔ پر شکلاں توں تے ڈاکو ہی لگدے سی۔ (26) بہرحال کسی نا کسی طرح ماسی مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے وہاں سے باہر لائی اور شور مچا مچا کر گاؤں والوں کو گھروں سے اٹھا لیا۔ جب گاؤں والے اکٹھے ہوئے اور انہیں اس حادثے کا پتہ چلا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس بھی آ گئی اور چند گھنٹے ادھر ادھر گھوم پھر کے روٹی ٹکر کھانے کے بعد ساری کاروائی ڈاکوؤں کے سر ڈال کر لاشوں کو دفنانے کا کہہ کر چلی گئی۔ سب کو دفنا دیا گیا اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ماسی نے میرے گھر کو تالا لگایا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔۔چند دن تو میں گم صُم رہی۔ ہر وقت امی ابو اور نغمہ کے ہنستے کھلکھلاتے چہرے نظروں کے سامنے آتے رہتے اور میں گھنٹوں تک گھٹنوں میں سر دیے روتی رہتی۔ ماسی بے چاری میری اشک جوئی کرتی رہی اور حوصلہ دیتی رہی۔۔۔آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ دستورِ دنیا بھی یہی ہے اور وقت کا تقاضا بھی کہ جانے والے کی یاد آہستہ آہستہ دماغ سے جھڑنے لگتی ہے چنانچہ میرا غم بھی کم ہوتا گیا۔ پھر میں اور ماسی اکٹھے ہی گھر سے نکلتے اور لوگوں کے گھر کام کاج کر کے سرِشام ہی گھر کو لوٹ آتے۔ زندگی آہستہ آہستہ پھر سے ٹریک پر آ گئی تھی۔۔۔پھر چار مہینے بعد ایک دن ماسی کی طبیعت بہت ذیادہ خراب ہو گئی۔۔۔ماسی کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے گاؤں کی اکلوتی ڈسپنسری پر موجود کمپاؤنڈر کو بلایا تو اس نے ماسی کو چیک کرنے کے بعد مجھے ایک دوائی دی کہ یہ ماسی کو ہر چار گھنٹے بعد کھلاتی رہنا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہنا۔۔۔کل تک بخار ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ساری رات ماسی کے سرہانے بیٹھی رہی اور دوائی کھلانے کے ساتھ ساتھ پٹیاں کرتی رہی۔۔۔لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا!!!۔ اگلے دن ماسی کی طبیعت تھوڑا سنبھل گئی لیکن شام تک ماسی کی حالت بہت خراب ہو گئی۔۔۔میں نے ماسی سے کہا کہ میں جاتی ہوں کسی کو کہہ کر تانگے کا بندوبست کر کے آپ کو ہسپتال لیکر چلتے ہیں۔ لیکن ماسی نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی۔ دھیے نا کر ایتھے میرے کول رہ مینوں لگدا میرا آخری ویلا آ گیا۔۔۔تے پتہ نئیں میں کس ویلے ٹر جانا۔ میرے کول بہ جا تے دھیان لا کے میری گل سن۔۔۔اتنا کہہ کر ماسی کمزوری سے ہانپنے لگی۔ میں نے فٹافٹ دو گھونٹ پانی ماسی کو پلایا اور پھر ضد کی کہ شہر چلتے ہیں۔ ماسی غصے سے بولی بکواس نہ کر میری گل دھیان نال سن۔۔۔اک گل اے جیڑی تینوں نئیں پتہ پر ہن میں مردے مردے سینے تے بھار لے کے نئیں مرنا چاندی اس لئی اج سب کجھ تینوں دساں گی۔ پتر رضیہ!!!سب توں پہلے او ٹرنک کھول۔۔۔ماسی نے سامنے پڑے ایک پرانے ٹرنک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔میں نے اٹھ کر کھولا تو ماسی بولی:سب توں تھلے اک خاکی رنگ دا لفافہ پیا ہونا اونوں کڈ بار۔ میں نے ڈھونڈ کر لفافہ نکالا اور ماسی کے ہاتھ پر رکھ دیا تو ماسی نے مجھے بتایا کہ پتر میں اک اک پیسہ جمع کر کے کچھ رقم جوڑی سی۔۔۔کہ منڈے دا ویاہ کر دیواں گی پر او اک دن ایسا گیا کہ مڑ واپس ای نئیں آیا۔ ************************** دنیا کیندی او مر مک گیا ہونا پر میرا یعنی ماں دا دل کیندا کہ میرا پتر زندہ اے۔ میں پیسے جوڑ جوڑ انتظار کردی رئی پر او ناں آیا۔۔۔فیر اک دن میں کسے کم لاہور گئی سی تے اوتھے مینوں میرا پھپھی دا پتر ٹکر گیا۔ اسی دونوں اک دوجے نوں مل کے تے بڑے خوش ہوئے۔۔۔اک دوجے دا حال احوال پچھیا۔ میرے پتر بارے جان کے اونوں بڑا ای افسوس ہویا۔۔۔فیر اکثر میل ملاقات ہوندی رئی۔۔۔میں اودے گھر وی آندی جاندی رئی۔۔۔اک دن میں لاہور گئی تے اونوں ملی۔۔۔گلاں باتاں اچ اونے ذکر کیتا کہ آپاں ایتھے اک موقعے دی دکان لبھ رئی اے۔ بڑی چنگی جگہ تے ہے۔۔۔تیرے کول جنے پیسے نیں لگا کے تے دکان خرید لے۔۔۔جیڑے پیسے گھٹن گے میں پا دیواں گا۔۔۔آخر توں میری بہن ایں۔ پر میری گل من جا تے دکان لے لا۔۔۔اک تے دکان دا کرایہ آندا رہو نالے اگاں اودا ریٹ وی بڑھ جاؤ۔ ہر پاسے فیدہ ای فیدہ۔ میں بڑا سوچیا فیر میں سارے پیسے اکٹھے کیتے کجھ پیسے ادھار چکے تے لاہور چلی گئی۔۔۔جیڑے پیسے کم ہوئے او میرے بھرا نیں پا دتے تے او دکان میری نام تے خرید لئی۔۔۔پکے پیپر تے انگوٹھے لگ گئے۔ (27) پتر!!!میں چند دن توں سوچ رئی سی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ریندی تے او میرا پتر وی پتہ نئیں کدوں آوے۔ پر میرا دل کیندا آوے گا ضرور۔ بہرحال تینوں یاد اے ناں پچھلے ہفتے میں لاہور گئی سی۔۔۔میں نے ثبات میں سر ہلایا تو ماسی پھر سے بولی:میں اپنے بھرا نوں ساری گل دس کے پکے کاغذ تے تیرا نام لکھا کے دکان تیرا نام کر دتی۔ میں تے انگوٹھا لا چھڈیا تے توں میری دھی رانی۔۔۔توں وی انگوٹھا لا لے۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا تو ماسی نے ایک دم کہا ناں ناں پتر ٹیم ناں ضائع کر ہجے میری گل پوری نئیں ہوئی۔ میرے مرنے توں بعد توں اس دکان دی مالک ایں۔۔۔جے کدی میرا پتر واپس آ جاوے تے اونوں ساریاں گلاں دس دویں۔۔۔نالے اونوں دسیں کہ تیری ماں دی بڑی خواہش سی کی تیری یعنی رضیہ دی تے میرے منڈے دی شادی ہو جاوے۔ اگر او من جاوے تاں اودے نال ویاہ کر لویں۔۔۔جے نا منے تے لاہور آلی دکان ویچ کے اودی رقم دے دو حصے کر لینا اک تیرا تے اک میرے پتر دا۔ جے کدرے او ناں آیا تے توں آزاد ایں۔۔۔دکان تیری ہوئی۔۔اودے واسطے جیڑے پیسے میں ادھار چکے سی او میں پورے کر دتے نیں۔ ساتھ ہی ماسی نے ایک پرچہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہا میرے بھرا دے گھر دا پتہ ہے۔ دکان دے کرائے دا سارا حساب اوہی رکھدا۔۔۔اونوں مل لویں۔بڑا ایماندار اے تیرا خیال رکھے گا۔۔۔اتنی بات کہہ کر ماسی پھر کھانسنے اور ہانپنے لگی تو میں نے فٹا فٹ ماسی کو دو گھونٹ پانی کے ساتھ دوائی دی۔ اور سرہانے بیٹھ کر پھر سے پٹیاں کرتی رہی۔۔۔کچھ دیر بعد جب ماسی کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو وہ پھر بولنا شروع ہوئی۔ پتر رضیہ!!!سب توں اہم گل۔ تینوں یاد اے او رات جس دن تیرے ماں پیو تے پین دا قتل ہویا سی۔۔۔یاد اے نا او رات۔ ماسی کی بات سن کر میں بیٹھے بیٹھے جیسے کھو گئی۔۔۔میرے لبوں سے نکلا ماسی وہ رات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ان کی ننگی لاشیں آتی ہیں۔ تو ماسی آہستہ سے بولی راجی اس دن میں تیرے توں اک گل چھپائی سی۔۔۔میں ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی اور حیرانی سے بولی وہ کیا بات تھی ماسی۔ تو ماسی بولی پتر تینوں پتہ اے ناں کہ میں دائی آں۔۔۔تے ایداں دے معاملات میری نظر توں بچ نئیں سکدے۔ میرے دل میں اندیشوں نے گھر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ماسی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی اس رات توں نٹھ کے اپنے گھر وڑ گئی تے میں وی تیز تیز قدماں نال تیرے پیچھے آئی تے اندر لاشاں ویکھ کے میرا وی حال برا ہو گیا سی۔دماغ نوں چکر آ گیا نالے اکھاں اگے ہنیرا۔ فیر اچانک تیرا یاد آیا،،تھوڑی ہوش پھڑی تے فٹا فٹافٹ تینوں چیک کیتا تے ساہ چلدا ویکھ کے مینوں حوصلہ ہویا۔۔۔فیر میں تینوں چھڈ کے سب توں پہلے تیرے پیوں نوں ویکھیا اودے ساہ مک چکے سن۔ تیری ماں دے ساہ وی مک چکے سن۔۔۔نغمہ وی دور جا چکی سی۔۔۔پر اک چیز میں غور نال ویکھی،،چیک کیتا تے میرا دماغ سن ہو گیا۔ اتنا کہہ کر ماسی نے چند لمحے سانس لیا اور بولی کہ تیری ماں تے نغمہ دوناں دی عزت لٹی گئی۔ اوناں نال زبردستی ہوئی۔۔۔اسے واسطے میں تیرے ہوش توں آن توں پہلے کھچ دھو کے اوناں دوناں بدنصیباں نوں کپڑے پا چھڈے۔ میں کدے وی ہا گل تینوں نہ دسدی پر اج مینوں لگدا کہ میرا ویلا آ گیا تے اج ساری گل کھول چھڈی۔ ہن میں آرام نال مر سکاں گی۔۔۔میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ماسی کو دکھتے ہوئے بولی۔۔۔ماسی وہ کون لوگ تھے۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تو آنکھیں سکوڑے ماسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماسی تم ان کو جانتی ہو نا۔۔۔تو ماسی نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ او گورا سوہنا منڈا یاد ای جیڑا جیپ دی اگلی سیٹ تے بیٹھا سی۔۔۔تو میں نے اس کی شکل دل میں یاد کرتے ہوئے کہا ہاں ماسی یاد ہے کون تھا وہ مجھے بتاؤ کون تھا وہ؟ تو ماسی بولی او منڈا نال آلے پنڈ چک اکتیس دے وڈے چوہدری دا منڈا سی۔۔۔اودا نام صفدر سیال اے۔ میں اوناں کنجراں نوں چنگی طرح جاندی آں۔پہلے وی آس پاس دے پنڈاں وچ او کنجر اپنے یاراں نال مل کے ایداں دیاں دو چار وارداتاں کر چکیا۔ لوگ سب جاندے نیں پر اوناں تو ڈردے رو دھو کے چپ وٹی رکھدے۔۔۔اس دن اوناں نیں تیری ماں تے پین دی عزت لٹی سی۔اس گل دا میں بعد اچوں پتہ وی لوایا سی۔پر میں خاموش رئی۔تینوں دسن دی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے بعد میں ساری رات ماسی کی خدمت کرتی رہی اور اس واقعے بارے سوچتی رہی۔۔۔رات بارہ بجے کے قریب ماسی کی آنکھ کھلی اور مجھے اپنے سرہانے بیٹھے دیکھ کر بولی۔۔۔کملی نا ہووے تے۔ چل اٹھ منجی تے پے کے سو جا کل رات دی توں اکھ نئیں لائی۔۔۔میں ہن ٹھیک آں چل شاباش میری دھی رانی۔۔۔سچ پوچھو تو ساری رات سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا اس لیے نیند سے میری بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔چنانچہ اٹھ کر ماسی کے ساتھ ہی موجود اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔اور اس واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ (28) میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن چڑھ آیا تھا۔ میں نے ماسی کی طرف دیکھا تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔میں اٹھی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی واپس آ کر میں نے ماسی کو دیکھنے کیلئے جیسے ہی چادر اٹھا کر ماسی کے ماتھے کو چھوا تو پتہ چلا کہ ماسی تو کب کی سانس پورے کر چکی تھی۔ اب تو اس کی لاش بھی اکڑ رہی تھی۔۔۔میں ایک دفعہ پھر یتیم ہو چکی تھی۔۔۔میں ماسی کی لاش سے لپٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔تھوڑی دیر تک سارے گاؤں کو پتہ چل گیا اور شام تک ماسی کو بھی دفنا دیا گیا۔ شام کو ماسی کے ہمسائے چاچی کنیز اور اس کا خاوند ملک رمضان مجھے اپنے گھر لے گئے۔۔۔ماسی کے گھر کو بھی تالا لگا دیا گیا۔ چند دن بعد جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ اب ماسی کا کوئی بھی نہیں اور ماسی کا مکان خالی ہے تو انہوں نے آنے بہانے مکان پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یہ بتایا کہ ماسی نے ان سے کافی ادھار پیسے لیے تھے اس لیے اب مکان پر ان کا حق ہے ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے دھوکے سے ایک کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ رضیہ تم بڑی منحوس ہو۔۔۔پہلے اپنے پورے گھر کو کھا گئی پھر ماسی کو بھی نگل گئی۔ اب ہم تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اس لیے تم یہاں سے چلتی بنو۔۔۔میں نے بنا کوئی بات کیے ماسی کے گھر سے اپنا تھوڑا سا سامان اٹھایا اور اپنے گھر آن بسی۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ انتقام۔ انتقام۔ انتقام۔ پر کیسے؟میں ٹھہری ایک عورت ذات اور وہ ٹھہرے وڈے چوہدری۔۔۔انہی سوچوں میں دو مہینے نکل گئے۔ میں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے اپنا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ایک دن اچانک مجھے پتہ چلا کہ چک اکتیس کے وڈے چوہدری کے پتر کی شادی ہے اور اسے گھر میں کام کاج کیلئے ملازمائیں چاہیے۔۔۔یہ سننے کی دیر تھی کہ میں نہا دھو کر صاف ہوئی اور بنا کسی کو بتائے تانگے میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئی۔ آگے کہ ساری کہانی تمہیں پتہ ہے کہ کیسے سیال زادوں نے ہم دونوں کی عزت اتاری۔۔۔اور اس کے بعد ہم کیسے کامی کے ذریعے وڈے چوہدری تک پہنچے۔ جب چوہدری نے زبردستی چھیمو پر ہاتھ ڈالا تو میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ او کمزور عورت ایک یہی ذریعہ ہے کہ تو مستقل یہاں رہ سکتی ہے۔ واپس تو میں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ میں اس لیے تھوڑی نہ آئی تھی کہ چوہدری اور اس کے کنجروں سے پھدی مروا کر واپس چلی جاؤں۔۔۔میرے سامنے ایک مقصد تھا جس کو پورا کرنے کیلئے میرا وہاں رہنا ضروری تھا۔ اور وہ مقصد تھا صفدر سیال کا قتل!!!۔ **************************** (29) میں نے چونک کر راجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مجھے بجلیاں لپکتی ہوئیں نظر آئیں۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں راجی نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی۔ ان چوہدریوں کے ظلم دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ان کیلئے نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے بھی پنگا لے چکے ہیں۔۔۔بس موقع محل دیکھ کر ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ راجی قطعیت سے بولی۔ نہیں کمال بابو یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں خود ہی لڑوں گی۔۔۔چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔بس تم مجھ پر ایک مہربانی کرو۔ کبھی کبھی مجھے یاد کر لیا کرنا میں آ جایا کروں گی اور تمہارا پیار مجھے سہارا دیتا رہے گا۔ میں نے اس کی نم ہوتی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پھر بھی راجی!میں یہی کہوں گا کہ تھوڑا تحمل سے کام لو۔۔۔ہم کچھ ایسا پلان کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کے علاوہ تم جب چاہو چھیمو کے ساتھ آ سکتی ہو۔۔۔میں تمہیں بھی اتنا ہی پیار دوں گا جتنا کہ چھیمو کو۔۔۔اچھا ایک بات تو بتاؤ اتنی دیر سے تم یہاں ہو کیا تمہیں صفدر سیال نظر نہیں آیا۔ تو میری بات سن کر راجی بولی: کمال بابو!!!۔ صفدر سیال وڈے چوہدری کے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔چوہدری ظفر سیال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شبینہ سیال ہے یہ دونوں وڈے چوہدری اپنی فیملیوں کے ساتھ اسی حویلی میں رہتے ہیں۔ مگر ان کا کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔۔۔اور سنا ہے کہ ناجائز اسلحہ کی تجارت اور ساتھ ساتھ ڈاکوؤں سے بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ یہاں نہیں آتا اور اگر آیا بھی ہو تو وڈی حویلی تک نہیں پہنچا۔۔۔میں اسی آس پر وہاں ٹکی ہوئی ہوں کہ کبھی نہ کبھی تو اس سے سامنا ہو گا نا۔ اس کی شکل میرے دل د دماغ پر نقش ہو چکی ہے۔۔۔جس دن اس کا میرا آمنا سامنا ہوا!!!وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ میں نے کہا راجی میں پھر کہہ رہا ہوں کوئی بے وقوفی مت کرنا اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنا۔ ہم مل جل کر کوئی راستہ نکالیں گے کہ تمہیں اپنا انتقام لینے کا موقع مل جائے تو راجی منہ سے کچھ نہیں بولی بس مجھے گھورتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور میں خیالات کے تانے بانے بنتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ *********************** (30) اگلے دن میرے آنکھ کھلی اور معمول کے مطابق ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا تو پتہ چلا کہ آج گاؤں میں ناظم کے الیکشن ہو رہے ہیں۔۔۔ابو صبح سے ہی گھر سے غائب تھے۔ دراصل ابا جان کی گاؤں میں کافی عزت تھی اس لیے الیکشن کے انتظامات میں وہ بھی پیش پیش تھے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ سیالوں کی طرف سے وڈا چوہدری مظفر سیال الیکشن میں امیدوار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے پر ساتھ والے گاؤں سے چوہدری رحمت علی کڑیال امیدوار تھا۔ دراصل ہمارے سسٹم میں ناظم کے تحت آس پاس کے آٹھ گاؤں آتے تھے۔۔۔تو ناظم ہونے کا مطلب آٹھ گاؤں کا سربراہ۔۔۔اس لیے دونوں پارٹیوں میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ پولنگ سٹیشن بن چکے تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔۔۔صبح آٹھ بجے گاؤں کے سکول میں ووٹنگ شروع ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آ کر ووٹ ڈال رہے تھے۔۔۔میں بھی گیا تو ابا جان مجھے وہیں پولنگ سٹیشن کے باہر چارپائی پر بیٹھے مل گئے۔ میں نے ابا جان کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کھڑی گاڑیوں کے جھرمٹ میں لیجا کر پوچھا ابا جان ہمارے ووٹ کس سائیڈ پر ہیں؟ تو ابا جان مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:یار یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ پتر! کتے کے منہ میں کھیر نہیں سجتی۔۔۔کھیر کھانے کیلئے بندہ بننا ضروری ہے۔ ہمارے گھر کے اور ہمارے سارے ہاریوں کے اور ان کے خاندانوں کے ووٹ چوہدری رحمت علی کڑیال کو جا رہے ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وڈے چوہدری مظفر سیال کی نیت کیسی ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو سب پر عرصہِ حیات تنگ کر دے گا۔ اس لیے ہم سب چوہدری کڑیال کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔۔اور دیکھ لینا **** کی رحمت سے کڑیال ہی جیتے گا۔ اب گھر جاؤ،،اپنی ماں،بہن کو بھی لیکر آؤ اور ووٹ ڈالو۔۔۔اتنا کہہ کر ابا جان واپس جا کر گاؤں کے معززین کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی گھر کی طرف جانے کیلئے قدم بڑھائے۔۔۔سامنے کھڑی ایک پجیرو کے پاس سے گزرتے وقت بے ارادی طور پر میری نظر پجیرو کے شیشے میں گئی!!!تو میں نے دیکھا کہ چند منٹ پہلے جہاں میں اور ابا جان کھڑے باتیں کر رہے تھے عین اسی جگہ پر وڈے چوہدری کا ایک کارندہ کھڑا پیچھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا نام بعد میں پتہ چلا کہ یہی چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز ہے۔ اس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا اور گھر چلا گیا لیکن یہ بات لاشعور میں رہ گئی کہ میں نے وڈے چاہدری کا پالتو کتا وہاں کھڑا دیکھا تھا۔ میں گھر سے امی اور بینا کو ساتھ لے گیا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ان کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔۔سارا دن آرام سے گزر گیا۔شام کو نتیجہ آ گیا۔۔۔چوہدری رحمت علی کڑیال واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جیت گیا۔ وڈے چوہدری مظفر سیال سے یہ ہار برداشت نہیں ہوئی اور اسی ہار کے غصے میں انہوں نے ایک ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے میری دنیا بھی تہہ و بالا ہو گئی۔ اگلے دن دوپہر تین بجے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی داہنی سمت سے اپنا نام سنائی دیا۔۔۔میں نے مڑ کر داہنی طرف دیکھا تو زمینوں پر کام کرنے والے دو لڑکے زور زور سے میرا نام پکارتے ہوئے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ میں وہیں ٹھٹھک گیا۔ قریب آتے ہی پھولی سانسوں کے ساتھ ا ہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ہر ان کی سانس اس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی کہ نہ وہ صحیح طرح سے کچھ بول پا رہے تھے اور نہ ہی میں ان کی بولی سمجھ پا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ان میں سے ایک سانس روک کر بولا۔ باؤ کمال۔ کھیتوں پر۔ چاچا جمال۔ سیال لڑائی۔ بس یہ تین چار الفاظ ہی مجھے ساری بات سمجھانے کیلئے کافی تھے۔میں لپک کر اندر گیا اور اپنا ریوالور جو کے چند دن پہلے ہی خریدا تھا ڈب میں لگا کر وہاں سے باہر نکلا اور ان لڑکوں کے ساتھ تیزی سے کھیتوں کی طرف بھاگا۔۔۔بھاگتے بھاگتے ان سے بھی آگے نکل گیا۔۔۔میں بھگٹٹ بھاگتا ہوا کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سامنے سے مجھے اپنے ہاری چارپائی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔۔۔مجھے بھاگتے دیکھ کر انہوں نے چارپائی وہیں زمین پر رکھ دی پھر دو تین لوگوں نے آگے ہو کر مجھے روکا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیالوں نے ابا جان کو بہت بری طرح سے پیٹا ہے۔۔۔اس لیے ان کو فوری طور پر ٹانگے میں ڈال کر ڈسپنسری بھیج دیا ہے۔جبکہ یہ ایک اور ملازم کو بڑی بری طرح سے مارا ہے اس کو بھی اب ڈسپنسری لے جا رہے ہیں۔ میں وہیں سے مڑا اور بھاگتے ہوئے ڈسپنسری جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو برآمدے میں ہی چارپائی پر ابا جان بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ان کی حالت دیکھ کر میں غیض و غضب میں مبتلا ہو گیا۔ ابا جان کا سر پھٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ کر پوری قمیض کو رنگین کر چکا تھا۔جبکہ ابا کی داہنی آنکھ بھی بری طرح مضروب ہوئی تھی۔۔۔آنکھ پھول کر سوجھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے فوراً ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چوٹیں تو خاصی لگی ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔آنکھ بھی بچ گئی ہے اور سر پر لگنے والی چوٹوں سے دماغ بھی متاثر نہیں ہوا۔۔۔بس ان کو اب سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ابا جان کی مرہم پٹی ہونے کے دوران میں نے اپنے ایک ملازم کو گھر کی طرف دوڑایا کہ احاطے سے گاڑی لے آئے وہ ملازم بھی گاڑی چلانا جانتا تھا۔۔۔ڈاکٹر سے دوسرے لڑکے شاکر کے بارے پوچھا تو ڈاکٹر جس کا نام امتیاز اور وہ میرا دوست تھا نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔کسی بھاری چیز سے اس کی ٹانگ پر ضرب لگائی گئی ہے۔۔۔منہ اور سر پر بھی خاصی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ناک سے بھی خون بہہ رہا ہے۔ ابھی تک اس کو ہوش نہیں آیا۔۔۔میں ڈاکٹر امتیاز کو اس لڑکے کا خیال رکھنے اور خود تھوڑی دیر تک واپس پہنچنے کا کہہ کر وہاں سے نکل کر اباجان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اباجان نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کراہتے ہوئے بولے: کمال پتر!!!میری لاعلمی میں کوئی حرکت مت کرنا۔ تمہیں اصل بات کی آگاہی نہیں ہے۔۔۔میں پریشانی سے بولا ابو یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔۔آپ چپ چاپ اپنی مرہم پٹی کروائیں۔۔۔پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔۔۔اباجان کچھ نہیں بولے بس مجھے دیکھتے ہوئے کراہتے رہے۔۔۔مرہم پٹی ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی جو کہ اتنی دیر تک گھر سے منگوا چکا تھا کا دروازہ کھولا اور ابا جان کو بٹھایا تو ابا جان بولے:پتر!!! وہ شاکر بھی زخمی ہوا تھا۔ تو میں نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر سے ہی مل کر آیا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے گاڑی موڑی اور بڑے آرام سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابا جان کو گاڑی سے نکالا اور سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر لے گیا۔ ************************ (31) ابا جان کو اس حالت میں دیکھتے ہی امی اور بینا دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔میں نے ان کو مختصراً صورتحال بتا ہی رہا تھا کہ گھر کے باہر موٹر سائیکل رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں الٹے قدموں باہر نکلا تو کمپاؤنڈر نظر آیا۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔بھایا شاکر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔اس کو شہر ہسپتال لیجانا پڑے گا۔۔۔آپ جلدی سے گاڑی لے آئیں۔۔۔میں پریشانی کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو دروازے تک پہنچتے ہی امی کی آواز سنائی دی۔۔۔رکو کمال!!!میں وہیں رک گیا تو امی جان بولیں:کمال!!!کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا امی وہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے میں اس کو لیکر شہر ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔ آپ ابوجان کا خیال رکھیں اور اگر ابو میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ میں کہاں گیا ہوں۔۔۔تو امی میرا ماتھا چومتے ہوئے بولیں:میرے لال جلدی واپس آنا میرا دل ہولتا رہے گا۔۔۔میں جی اچھا امی کہہ کر ان کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ڈسپنسری پہنچا تو باہر ہی کھڑے ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔اس کا سانس رک رک کر آ رہا ہے۔ اب گاؤں میں تو ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ اس کو آکسیجن وغیرہ لگا کر باقاعدہ علاج کیا جا سکے تو اسی لیے آپ کو بلایا کہ آپ گاڑی لے آئیں تو اس کو لاہور لے چلتے ہیں۔۔۔ہم یہی باتیں کرتے ہوئے ڈسپنسری کے اندر پہنچے تو اسی وقت ایک کمرے سے رونے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو شاکر کا والد روتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کا بازو تھامتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چاچا انور آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ہم شاکر کو لیکر لاہور ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔تو چاچا انور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بولا نہیں پتر!!!شاکر کو اس کی ضرورت نہیں رہی اب۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تیزی سے اندر کمرے میں داخل ہوا تو شاکر کی ماں اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مارتے ہوئے اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔میں نے تیزی سے ان کو تھامتے ہوئے صبر کی تلقین کی اور خود نظریں گھما کر شاکر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اور ناک سے نکلا ہوا خون بھی جم چکا تھا۔ سر پر لگنے والی چوٹوں نے شاکر کو جانبر نہیں ہونے دیا۔۔۔میں وہیں ان کے ساتھ رہا اور شاکر کی لاش کو لیکر اس کے گھر تک پہنچا کر خود وہاں سے نکلا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔۔۔میری زمینوں اور احاطے پر کل ملا کر چودہ لوگ کام کرتے تھے۔۔۔چونکہ ہم اپنے سب ملازمین کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت ہمارے دکھ کی گھڑی میں سارے ملازمین گھر پہنچے ہوئے تھے۔۔۔اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ میں سب لوگوں سے ملا۔۔۔وہ لوگ ابا جان کا حال چال پوچھنے آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ چلے گئے۔۔۔ان کے جانے کے بعد ہمارا ایک ہاری نوشاد جو کہ میری ہی عمر کا تھا لیکن مجھ سے اور ابا جان سے بہت پیار کرتا تھا وہ بھی آ گیا۔۔۔میں اسے اندر اپنے کمرے میں لے آیا اور بٹھا کر پوچھا کہ وہاں کیا بات ہوئی کیسے ہوئی۔۔۔نوشاد نے بتانا شروع کیا۔بھایا!!!ہم لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔۔۔چونکہ آج پانی کی باری ہماری تھی اس لیے دو بندوں نے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں چھوڑنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے دو پاؤں والے کتے بھونکنے لگے کہ آج پانی ہماری سائیڈ پر چلے گا۔ شاکر انہیں بتانے کیلئے آگے گیا کہ آج شیڈول کے مطابق ہماری باری ہے تو انہوں نے شاکر کو بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ہم لوگوں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تبھی پچھلی طرف سے ان کے چھ رائفل بردار آدمی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ہمیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ چچا جمال نے آگے ہو کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے بیٹے راجو سیال نے چچا کے پیٹ میں ایک ٹھوکر ماری اور انہیں گرا کر لاٹھی سے مارنے لگا۔۔۔ اس کام میں اس کا ساتھ چوہدری کا خاص کتا شاہنواز بھی دے رہا تھا۔۔۔میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ دونوں چچا کو پیٹتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ تیرے اتنے پر نکل آئے کہ تو ہمارے مخالفین کا ساتھ دے گا۔اتنا کہہ کر نوشاد چپ کر گیا۔۔۔جبکہ میری رگوں میں میرا خون کھولنے لگا تھا۔ میری مٹھیاں آپوں آپ غصے سے بھینچ گئیں۔مجھے کھڑا ہوتے دیکھ کر نوشاد بولا:بھایا میں نے بڑی کوشش کی کہ چچا جان کو بچا لوں۔۔۔لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر دور پٹخ دیتے تھے۔۔۔کافی مار پیٹ کرنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ چاچا اور شاکر دونوں کی حالت خراب ہو چکی ہے تو وہ گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں بھایا۔میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نوشاد تمہیں معلوم ہے کہ میں اس وقت کہاں سے آ رہا ہوں۔۔۔ پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور بولا کہ میں اپنے ان ہاتھوں سے شاکر کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ابا جان کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو۔۔۔اور کتنا برداشت کریں گے ان کنجروں کو۔۔۔آج میں ان کنجروں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ پھر میں نے نوشاد کو مختصراً یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ لوگ لوگوں کی لڑکیوں کو خراب کر رہے ہیں۔۔۔نوشاد جواب دیتے ہوئے بولا ہمارے لوگ بھی سب کچھ جانتے ہیں لیکن کہاں کوئی کسی پرائی آگ میں کودتا ہے۔۔۔ویسے بھی آج تک اپنے گاؤں میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی پاس پڑوس کے گاؤں میں ہی ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی ہیں۔۔وہ بھی صرف سنا ہے آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا اس لیے آج تک سب چپ رہے۔۔۔ میں نے بھی چھیمو کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن بھایا اب شاکر مر گیا۔۔۔اس کا کیا قصور تھا وہ تو صرف بات کرنے گیا تھا۔۔۔اور میرے باپ جیسے چچا کا یہ حال کیا ہے۔۔۔پھر وہ اپنی گردن نفی میں ہلتے ہوئے بولا:نہیں نہیں کم از کم میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔بھایا اب تم بدلہ لو نہ لو کم از کم میں تو پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔ان سیالوں کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔نوشاد کو اتنے جوش میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اسے گلے لگاتے ہوئے بولا:نوشاد میرے بھائی تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہو گا میں کروں گا۔ بس جہاں مجھے تمہاری ضرورت پڑی میں پکار لوں گا فلحال تم میرے ساتھ چلو اور کوئی ہتھیار ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔نوشاد نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا بھایا اسلحہ کا کیا کرو گے تمہارے پاس کیا ہے۔ میں نے اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر اسے دکھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور وہ بولا بس ٹھیک ہے بھایا میرے پاس بھی پستول ہے میں بھی وہ لے آتا ہوں۔۔۔تو میں نے کہا نوشاد تم کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر پہنچو میں بس تھوڑی دیر بعد وہاں ملتا ہوں۔۔۔خیال سے جانا۔ کسی کو کانوں کان بھی پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس قسم کی کھیر پک رہی ہے۔۔۔نوشاد نے میری طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا۔ نجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ نوشاد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔۔نوشاد کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ابو کا بستر بھی اندر کمرے میں ہی لگایا گیا تھا تا کہ ان کا خیال رکھا جا سکے۔۔۔ابو دوائی کے زیرِ اثر سو رہے تھے۔۔۔بینا اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر امی سوالیہ لہجے میں بولیں:ہاں پتر!!!گاؤں والے چلے گئے؟تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی امی وہ سب لوگ چلے گئے۔۔۔اب آپ لوگ بھی سو جائیں۔۔۔میں بھی سوتا ہوں۔اتنا کہہ کر میں نے جھکتے ہوئے ابو کا ماتھا چوما اور وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔باہر کے دروازے کی کنڈی اندر سے لگا کر میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ************************* (32) مجھے سچ میں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ بدلہ لینا ہے اور سیالوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور اپنے پلان کے تحت میں چھیمو کے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے صحن میں اتر گیا۔۔۔چھیمو کے گھر والے اندر کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا سیدھا باہر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا میں چپکے سے گلی میں نکل آیا۔۔۔باہر نکل کر میں نے ادھر ادھر دیکھا مباداً کوئی مجھے ایسے چوروں کی طرح نکلتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا۔۔۔لیکن اطراف میں سناٹا تھا۔۔۔میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ڈیرے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈیرہ ہم اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہم نے اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران آرام کرنے کے لیے ایک کمرہ سا بنایا ہوتا ہے۔ میں ڈیرے پر پہنچا تو نوشاد مجھے کمرے کے باہر چارپائی بچھائے بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے مل گیا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے اس کے شانے پر وزن ڈالتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھایا اور اسی سے لیکر ایک سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔میں وہاں پہنچ تو جاؤں گا لیکن اندر کیسے گھسوں گا۔۔۔چند منٹ میں وہاں بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میرے ساتھ ہی نوشاد بھی اٹھ گیا۔ ہم دونوں کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف چل دہے۔۔۔چلتے وقت نوشاد نے چارپائی سے دو چادریں اٹھائیں جو کہ وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔ایک چادر مجھے دینے کے بعد دوسری چادر اس نے اپنے شانوں پر ڈال لی۔۔۔میں نے پوچھا:نوشاد یہ کس لیے تو وہ بولا بھایا یہ کام آئیں گی۔۔۔میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے قدم بڑھا دیے۔ ایک عجیب طرح کی وارفتگی میری راہنما تھی۔۔۔ہمارا رخ وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف ہی تھا۔۔۔ذہن میں واضح تصور نہیں تھا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔بس ایک ہی سوچ میرے دماغ میں چنگاریاں بھرتی جا رہی تھی کہ انہوں نے میرے باپ کی یہ حالت کی ہے۔۔۔اب بغیر مزاحمت ان فرعونوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے۔ ان کنجروں کو ان کی اوقات یاد دلانی ہے کہ شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ ابھی تک میں بیگناہ تھا ایک دفعہ ہتھیار اٹھا لینے کے بعد میں جرم کی راہ پر چل پڑوں گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کچھ تو تڑپ پھڑک لینا چاہیے۔ اگر میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔یہ تصور ہی میرے لیے جان لیوا تھا۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا جب دور سے حویلی کی مدھم روشنیاں نظر آنے لگیں۔۔۔میں اور محتاط ہو گیا۔۔۔کماد اور مکئی کے کھیتوں سے ہوتا ہوا میں وسیع و عریض عمارت کے پچھواڑے کی جانب نکل گیا۔۔۔سامنے سے حویلی کے بے رحم اور سنگلاخ چار دیوادی نظر آنے لگی۔۔۔اس چار دیواری کے کئی حصے ٹیوب لائٹس کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔۔۔میں نے نوشاد کے کندھے پر ہاتھ مارا اور اسے جھک کر چلنے کو کہا۔۔۔پھر ہم محتاط قدموں سے قریب تر قریب ہوتے چلے گئے۔ کماد کے کھیت بیرونی چار دیواری سے ملے ہوئے تھے۔۔۔یہاں رک کر ہم دونوں نے چادریں اس طرح چہروں پر لپیٹ لیں کہ صرف ہماری آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔میں نے نوشاد کو اشارے سے ریوالور دکھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا پستول کدھر ہے تو اس نے بھی اپنی شیروانی کی جیب سے پستول نکال کر دکھایا۔۔۔ہم دونوں نے جھکے جھکے انداز میں حویلی کی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ آخر کار ایک جگہ جہاں سے حویلی کی دیوار مڑ کر دوسری سائیڈ پر جا رہی تھی وہاں سے مجھے چند اینٹیں اس انداز میں اکھڑی دکھائی دیں کہ اگر ہم احتیاط سے چڑھتے تو اوپر پہنچ سکتے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو نوشاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور دھیمی آواز میں بولا:بھایا یہاں سے نہیں آگے راستہ ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ چلتا ہوا آگے گیا تو دیوار کے ساتھ ساتھ مڑنے کے بعد چند قدم آگے مجھے ایک قد آدم درخت نظر آیا۔ میں نوشاد کی بات سمجھ گیا تھا۔درخت اس انداز میں تھا کہ اس کی بڑی بڑی ٹہنیاں حویلی کے اندر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔یہاں دیوار پر روشنی بھی نہیں تھی۔میں اور نوشاد باری باری اوپر چڑھ گئے۔۔۔اوپر چڑھنے کے بعد میں نے اندر کا جائزہ لیا تو مجھے ادراک ہوا حویلی کے اندر کا فرش دیوار سے کچھ آٹھ نو فٹ نیچے تھا۔۔۔میں نے نوشاد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشاد تم یہیں رک کر میرا انتظار کرو گے۔اس نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا سمجھا کرو یار۔۔۔اگر میں پھنس گیا تو تم میرے لیے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہو ناں۔۔۔اگر دونوں ایک ساتھ پھنس گئے تو بہت برا ہو گا۔ نوشاد نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔۔۔میں نے پھر کہا نوشاد میں چاہے ایک گھنٹے تک واپس نہ آؤں تم نے میرے پیچھے نہیں آنا۔۔۔ہاں اگر میں کہیں پھنس گیا تو فائر کر دوں گا یا حویلی میں کسی بھی قسم کے فائر کی آواز سنو تو اندر آ جانا۔ نوشاد کے سر ہلانے پر میں شاخ سے لپٹ کر آگے ہوا اور حویلی کی دیوار پر لیٹ کر اندر کی طرف لٹکتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیے۔۔۔کچے فرش پر گرنے سے ہلکی سی دھپ کی آواز سنائی دی۔میں تیزی سے اٹھ کر ساتھ موجود گملوں میں لگے ہوئے پودوں کے پیچھے ہو گیا۔۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے چند لمحے آس پاس کی سن گن لی۔۔۔کسی قسم کی ہلچل نہ محسوس کرنے کے بعد میں اٹھا اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اندرونی کمروں کی جانب چل پڑا۔ ************************** (33) چند وسیع و عریض کمروں سے گزر کر میں ایک نیم روشن کوریڈور میں پہنچا۔۔۔یہاں ایک زینہ نظر آ رہا تھا جو کہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا۔۔۔مطلب میں پہلے ہی گراؤنڈ فلور پر تھا تو یہ زینہ مجھے سپردِ خاک کر دیتا مطلب نیچے تہہ خانے میں لے جاتا۔ اس سے پہلے کہ میں سوچتا مجھے کدھر کو جانا ہے کوریڈور کے دوسرے سرے سے مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں بلا سوچے سمجھے تیزی سے دبے پاؤں زینے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔۔۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ دکھائی دیا جس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔۔۔اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ یہ واقعی ایک تہہ خانہ تھا لیکن میرے تصورات سے بلکل مختلف۔۔۔فلمی تہہ خانوں کی طرح نہ اس میں پیٹیاں تھیں نہ گاڑیوں کے استعمال شدہ ٹائر اور ڈرم۔۔۔حتیٰ کے فرش پر جھاڑ جھنکاڑ والا کوئی مدقوق قیدی بھی نظر نہیں آیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ فرش ہی نظر نہیں آیا۔۔۔نیچی چھت کے ایک وسیع کمرے میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔اس کمرے میں تین اطراف صوفے لگے ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے ایک قد آدم الماری تھی۔ رنگین ٹی وی،وی سی آر۔ (جو ان دنوں عجوبہ سمجھا جاتا تھا) فریج،تمام آسائشیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں ابھی کھڑا ہونقوں کی طرح کمرے کی سجاوٹ ہی دیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف سیڑھیوں کا دروازہ ہی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں میں چھپ سکتا تھا۔۔۔میں نے ایک زقند بھری اور بھاگتے ہوئے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔چند لمحوں بعد ہی کمرے میں دو آدمی داخل ہوئے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے سیدھا سامنے صوفے کی طرف گئے۔۔۔اچانک میں نے سوچا کے اگر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تو میرا دیکھ لیا جانا اظہر من الشمس تھا۔۔۔چنانچہ اس سے پہلے کے وہ صوفے پر بیٹھتے میں سرعت سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور دروازے کے دوسرے پٹ کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔وہ دونوں واقعی سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی ان کا رخ میری طرف ہوا میری ساری حسیات کھچ کر آنکھوں میں چلی آئیں۔۔۔میری قسمت نے یاوری کی تھی۔۔۔سامنے صوفے پر ریاض عرف راجو سیال اور اس کا کوئی آدمی بیٹھے تھے۔۔۔ریاض کو دیکھ کر میرا دماغ غصے سے کھولنے لگا کہ یہی وہ بھین کا چھنکنا ہے جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ ************************ (34) بیٹھتے ہی راجو نے اپنی ڈب سے ایک جرمن لیوگر نکالا اور سامنے میز پر رکھ دیا۔۔۔چونکہ مجھے اسلحے کا شوق تھا اور اکثر میں اسلحے کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اس لیے دیکھتے ہی لیوگر کو پہچان لیا۔گن کے آگے ایک لمبی سی نال لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں جانتا تھا کہ اس کو سائلنسر کہتے ہیں۔ میں جو ان پر جھپٹنے کو پر تول رہا تھا راجو کے ہاتھ کی رسائی میں گن دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔وہ مجھے سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔اگر میں وہاں سے بھاگ کر بھی ان کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو ناممکن سی بات تھی۔۔۔کیونکہ جیسے ہی میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلتا میرا دیکھ لیا جانا یقینی تھا۔۔۔اور لیوگر راجو کی رسائی میں تھا۔ ریوالور میرے پاس بھی تھا لیکن وہ میں نے انتہائی ایمرجنسی کیلئے رکھا ہوا تھا میں یہاں گولی نہیں چلانا چاہتا تھا کیونکہ جیسے ہی گولی چلتی ساری حویلی کو پتہ چل جاتا۔۔۔اس لیے میں وہیں دبکا ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔راجو نے جیب سے ایک چھوٹی سی چرمی تھیلی نکالی اور اسے کھول کر احتیاط سے میز پر الٹ دیا۔۔۔میری آنکھیں ایک دم چندیا گئیں۔ تھیلی میں سے قمیض کے بٹن برابر شیشے کی طرح چمکتے ہوئے ہیرے باہر نکلے۔۔۔میں فلموں میں پہلے ہی ہیرے دیکھ چکا تھا۔۔۔لیکن آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہیرے دیکھ رہا تھا۔۔۔راجو نے ہیرے باہر نکالے اور اٹھا اٹھا کر غور سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔اچھی طرح ہیرے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد راجو نے ہیرے واپس تھیلی میں ڈالے اور تھیلی اٹھا کر اس آدمی کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے پیچھے الماری میں رکھ دو۔۔۔ساتھ ہی راجو نے اسے چابیوں کا ایک گچھا پکڑایا تو وہ آدمی سعادت مندی سے اٹھا اور ہیروں کی تھیلی لیجا کر الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ راجو نے اپنا جرمن لیوگر اس کی طرف سیدھا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آدمی ہکلاتے ہوئے بولا:بب۔بب۔باس یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔تو راجو قہقہ لگا کر بولا:میں اپنے پیچھے کبھی بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔۔۔اگر تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ راز میرے علاوہ تم بھی جانتے ہو جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔۔تو وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:بب۔باس میں نے آپ کا نمک کھایا ہے تو نمک حرامی کیسے کر سکتا ہوں تو راجو دانت پیستے ہوئے بولا:جب تو اپنے مالک کا نہ ہوا تو میرا کہاں سے ہو گا۔ یہ کہتے ہی راجو نے گولی چلا دی۔۔۔سائلنسر ہونے کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز کے ساتھ گولی نکلی جو کے سیدھا اس کی داہنی آنکھ سے تھوڑا اوپر کھوپڑی میں لگی۔اور اس کی کھوپڑی پرزوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔وہ آدمی گرنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔۔۔میرے لیے یہی موقع تھا۔۔۔راجو نے اس کو مارنے کے بعد لیوگر صوفے پر پھینکا اور آگے ہو کر الماری کو تالا لگانے لگا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔۔۔میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلا اور دبیز قالین پر دبے قدموں تیزی سے راجو کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کی چھٹی حِس نے اسے گڑبڑ کا احساس دلایا اور اس نے مڑنا چاہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح مڑ پاتا میں نے دو قدم بھاگ کر چھلانگ لگائی اور اسے لیتا ہوا نرم نرم روئی جیسے قالین پر گِرا۔۔۔راجو کے جسم پر ہاتھ پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا وہ بھی ایک مضبوط جسم کا مالک اور کڑیل جوان ہے۔ نیچے گرتے ہی اس کے منہ سے ایک انتہائی فحش گالی نکلی۔۔۔کیڑا اوئے کسی کتی ماں دا جنیا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بے دریغ ایک ٹکر میری پیشانی پر دے ماری۔۔۔مجھے اس سے اس حرکت کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ٹکر اور گالی کھا کر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر جما دیا۔۔۔وہ زور لگا کر مجھے پہلو کے بل نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش میں میرے چہرے سے میری چادر بھی اتر گئی۔ اسی وقت مجھے اس کے بائیں ہاتھ کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔بایاں ہاتھ مجھ سے پنجا آزما نہیں تھا بلکہ کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔۔میری یہ خبرداری میری زندگی کی ضمانت بن گئی۔۔۔ورنہ جو گراری دار چاقو راجو کی قمیض کے نیچے سے اس کے ہاتھ میں برآمد ہوا وہ ایک لمحے بعد میری آنتیں قالین پر ڈھیر کر دیتا۔۔۔چاقو کے باہر آتے آتے میں نے راجو کی کلائی جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے ایک طوفانی مکا اس کی ناک پر دے مارا۔۔۔اسی وقت وہ سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ بھی کسی سخت جان سے پڑا ہے۔۔۔اس نے اچانک چاقو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور دونوں ہاتھ اپنی ناک پر رکھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے چاقو اٹھایا اور پھل مطلب دھار والی سائیڈ سے پکڑتے ہوئے پوری جان سے چاقو کا دستہ اس کی کھوپڑی پر جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ پاؤں جھٹک کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔اس کے بیہوش ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ یہ میری زندگی کی پہلی لڑائی تھی۔۔۔دو منٹ سانس درست کرنے کے بعد میں سیدھا ہوا راجو کو ہلا کر دیکھا تو الماری کی چابیاں مجھے اس کے نیچے سے مل گئیں۔۔۔میں نے پھرتی سے الماری کو کھولا تو کھولتے ہی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔الماری کے ایک خانے میں بڑے بڑے نوٹوں کی گڈیاں چنی ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ دوسرے خانے میں کچھ ملبوسات پڑے تھے۔۔۔سب سے نچلے خانے میں چند رائفلیں اور ان کا ایمونیشن پڑا ہوا تھا۔ رائفلیں دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔لیکن مجھے کسی اور چیز کی تلاش تھی۔۔۔میں نے پیچھے ہو کر نظر دوڑائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ ہی مجھے وہ چرمی تھیلی نظر آ گئی جس میں ہیرے تھے۔ میں نے تھیلی کھولی اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرا باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔روشنی میں ہیرا پورا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر میں نے تھیلی واپس رکھی اور مڑ کر راجو کی طرف دیکھا جو کہ ابھی تک بیہوش تھا۔۔۔میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے میرے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی۔۔۔پھر میری نظر گھومتی ہوئی راجو پر ہی آن ٹکی۔ راجو نے بھی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی مطلب شلوار میں نالا ضرور ہو گا۔۔۔میں نے ٹٹول کر اس کا نالا کھولا اور زور لگا کر شلوار سے باہر نکال لیا۔۔۔راجو کو پہلو کے بل لٹاتے ہوئے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے باندھ دیے۔۔۔پھر آگے بڑھ کر میں نے تہہ خانے کا دروازے اندر سے بند کر دیا۔۔۔دروازہ بند کرنے سے امید تھی کہ اندر کی آواز باہر تک نہیں جائے گی۔۔۔پھر الماری سے ایک قمیض نکال کر اسے پٹیوں میں پھاڑ دیا۔۔۔ان پٹیوں سے میں نے راجو کی ٹانگیں بھی باندھ دیں اور باقی ماندہ پٹیوں کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے دوسرے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کھوپڑی سے خون بہہ بہہ کر قالین کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔پھر میں نے فریج کھولی اور اندر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر آدھی بوتل اپنے معدے میں اتاری اور باقی پانی راجو کے چہرے پر انڈھیل دیا۔۔۔چند لمحوں بعد ہی راجو ہوش میں آ گیا۔۔۔کچھ دیر تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔پھر جب اس کے دماغ کو صورتحال کی سمجھ آئی تو وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے اوں اوں کرنے لگا۔ ************************ (35) راجو کو ہوش دلانے سے پہلے میں نے اپنی چادر واپس چہرے پر لپیٹ لی تھی۔۔۔پہلے مارا ماری میں وہ ٹھیک سے میرا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ہوش آنے کے بعد میں نے اس کو گالی دیتے ہوئے کہا او رانی خاں کے سالے،،کسے کتی کے پتر اپنی کتی زبان ذرا قابو میں رکھنے اور شور نہ مچانے کا وعدہ کرے تو میں تیرے منہ سے کپڑا نکالتا ہوں۔۔۔اس کے ہاں میں سر ہلانے پر میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ سے کپڑا باہر نکال لیا۔ کون ہے تو؟؟اس نے غصیلی سرگوشی کی۔" میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھ سے ایک نازیبا رشتہ جوڑا اور اس کے منہ سے بوچھاڑ کی صورت میں گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے گال پر مارا۔۔۔اور پھناتے ہوئے بولا کہ اب تو نے ایک بھی گالی بکی تو تیری زبان کاٹ دوں گا ساتھ ہی زمین پر پڑا گراری دار چاقو اٹھا کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔وہ چاقو کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا:کیا چاہتے ہو مجھے ایسے کیوں باندھا ہوا ہے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔میں نے کھڑے ہوتے ہوئے ایک ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری تو اس کے منہ سے ایک دھاڑ برآمد ہوئی۔۔۔کتی کے بچے ہو تم۔۔۔تو نے میرے باپ پر ہاتھ اٹھایا اور اس معصوم شاکر کا کیا قصور تھا جسے تم نے مار ڈالا۔ مرنے کی بات سن کر ایک لمحے کیلئے اس کا چہرہ تاریک ہوا پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا:تم نے پہلے میری کزن شبینہ کے ساتھ بدتمیزی کی میں برداشت کر گیا۔۔۔پھر کل تیرے باپ نے میرے پاپا کو گالی دی۔۔۔تم لوگوں کو کیا لگا ہم آسانی سے ہضم کر جائیں گے نہیں۔۔۔اور اب تم حویلی کے اندر گھس کر مجھ سے الجھ گئے۔۔۔ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔۔۔اور شبینہ کو چھیڑنے کے بدلے میں تیری بہن کو یہاں اٹھا لاؤں گا۔۔۔وہ سب کے سامنے ناچے گی اور پھر میں اس کی پھدی ماروں گا۔ اس کے منہ سے یہ بکواس سننا تھی کہ میرے دماغ پر جیسے چھپکلی سی رینگ گئی۔۔۔دم سمٹ کر میری آنکھوں میں آ گیا۔۔۔میں عجیب لہجے میں بولا:گشتی کے بچے تو میری بہن کو اٹھائے گا،،نچائے گا اور اور۔۔۔اس کے آگے الفاظ میرے منہ میں ہی اٹک گئے۔۔۔جب میرے منہ سے آواز نکلی تو اپنی آواز سن کر مجھے ٹھیک ٹھاک تسلی ہوئی۔۔۔اس وقت میرے لہجے میں وہ درندگی تھی جو شاید پتھر کو بھی پانی کر دیتی۔میں یکا یک اس کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا اتنی زور سے بھینچا کہ درد کے مارے اس کا منہ کھل گیا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے کپڑا پھر سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔پھر صوفے سے لیوگر اٹھا کر میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھتے ہوئے غرایا۔۔۔تجھے میں زندہ چھوڑوں گا تو ہی یہ سب کر پائے گا نا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی شلوار کھینچتے ہوئے لیوگر کے آگے لگے سائلنسر کی نال پورے زور سے اس کی گانڈ میں گھسائی اور پاگلوں کی طرح ٹرائیگر دباتا گیا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب گن سے ٹرچ کی آواز سنائی دی۔ میں پانچ منٹ تک وہیں صوفے پر بیٹھ کر اپنے آپ پر قابو پاتا رہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے الماری میں سے چرمی تھیلی اٹھائی۔۔۔اچھی طرح تلاشی لینے پر مجھے الماری سے ہی لیوگر کا ایمونیشن بھی مل گیا جو کہ تین ڈبوں کی شکل میں تھا۔۔۔میں نے ایمونیشن اپنی جیبوں میں ڈالا۔۔۔لیوگر کی نال صوفے کے ساتھ رگڑ کر صاف کی اور تہہ خانے سے نکل آیا۔۔۔اب چونکہ میرا بدلہ بھی پورا ہو چکا تھا اور میں ہیروں کی شکل میں بھی سیالوں کو ایک کاری ضرب لگا چکا تھا تو اب مجھے یہاں سے نکلنے کی فکر تھی۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچا اور آس پاس دیکھ کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔چند لمحوں بعد میں کوریڈور کراس کر کے صحن کی طرف کھلنے والے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔جیسے ہی میں دروازے سے باہر نکلنے لگا سامنے سے اچانک کوئی اندر کی طرف مڑا اور میں نا چاہتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا۔۔۔جس سے میں ٹکرایا اس نے سنبھلنے کیلئے ہوا میں ہاتھ مارے تو میری چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں آیا جسے کھینچتے ہوئے وہ زمین پر جا پڑا۔۔۔چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور چادر کھل کے نیچے گر گئی۔1 like
-
مجرِم یا۔۔۔
1 like(22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************1 like