Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 18/04/18 in all areas

  1. 1 like
    جب پطرس بخاری سے پوچھا گیا کیا آپ کبھی لاجواب ہوے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ایک بار ہو گیا تھا. " ہوا یوں کہ میری گھڑی خراب ہو گئی. بازار میں گھڑیوں کی دکان نظر آئی میں دکان میں گیا انھیں گھڑی دی کہ یہ ٹھیک کرانی ہے. وہ کہنے لگے ہم تو گھڑیاں ٹھیک ہی نہیں کرتے" میں نے پوچھا تو "آپ کیا کرتے ہیں؟" جواب آیا "جی ہم ختنے کرتے ہیں " پطرس بخاری: " تو پھر یہ گھڑیاں کیوں لٹکائی ہوئی ہیں؟" دکاندار: : تو آپ ہی بتا دیں کہ ہم کیا لٹکائیں؟"
  2. (تحریر یوسف ثانی)​ ​ اللہ کی ایک مشہور اور اشرف مخلوق کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو انسان کہتے یں اور دوسری کو عورت۔ عورتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جن پر شاعر حضرات غزل کہتے ہیں اور جن کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ دوسری قسم بیوی کہلاتی ہے۔ جس طرح کسی بچے کی معصومیت اُس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کی ساری خوبیاں اُس وقت ہوا ہو جاتی ہیں جب وہ زَن سے رَن، میرا مطلب ہے بیوی بن جاتی ہے۔ بیوی کو بیگم بھی کہتے ہیں۔ شنید ہے کہ سنہرے دور میں یہ بے غم کہلاتی تھی کیونکہ ان کا کام شوہروں کو ہر غم سے بے غم کرنا ہوتا تھا۔ دور اور کام تبدیل ہوتے ہی نام بھی تبدیل ہو کر بیگم رہ گیا۔ اعلٰی ثانوی جماعت کے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا کہ بیویاں زیادہ تر کس کے کام آتی ہیں؟ ایک شریر طالبعلم نے فوراً جواب دیا "سر لطیفوں کے۔" جی ہاں بیویاں زیادہ تر لطیفوں ہی کے کام آتی ہیں۔ دُنیا میں اب تک جتنے بھی لطیفے تخلیق کئے گئے ہیں، اُن میں سے بھاری اکثریت کا تعلق بیویوں ہی سے ہے۔ بیوی کو ہندی زبان میں استری بھی کہتے ہیں۔ ایک صاحب کی کپڑے پریس کرنے والی استری خراب ہو گئی تو وہ اپنے پڑوسی سکھ سے استری ادھار مانگنے پہنچ گیا جو مزاج کے ذرا تیز تھے۔ سردار جی جب دروازے پر آئے تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولے، "سردار جی وُہ ذرا آپ کی استری ۔۔۔۔ سردار جی نے اُسے گھورتے ہوئے ذرا باآواز بلند کہا، "کیا ہوا میری استری کو؟" سردار جی کی بلند آواز سُن کر اُن کی دھرم پتنی بھی دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ سردار جی غصے سے اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، یہ رہی میری استری۔۔۔ پڑوسی نے جلدی سے کہا نہیں سردار جی وُہ کپڑوں والی استری۔۔۔ سردار جی چلائے "تو کیا تمہیں اس کے کپڑے نظر نہیں آ رہے؟" پڑوسی مزید گھبراہٹ میں بولا، سردار جی۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ وہ وہ والی استری جو کرنٹ مارتی ہے۔ سردار جی ایک زور دار قہقہہ بلند کیا اور بولے، پُتر ذرا ہتھ لا کے تے ویکھ۔ تعلیم بالغاں کی ایک کلاس میں ایک استاد نے ایک شادی شدہ شاگرد سے پوچھا، بیوی اور ٹی وی کیا فرق ہے؟​ ​ شاگرد نے جواب دیا، "ہیں تو یہ دونوں بڑے مزے کی چیز لیکن ٹی وی میں ایک اضافی خوبی بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ جب چاہیں، اُس کی بولتی (ہوئی آواز) بند بھی کر سکتے ہیں۔"​ ​ دُنیا بھر کے مَردوں (مُردوں نہیں) کی معلومات بیویوں کے بارے میں کم و بیش ایک سی ہوتی ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے بارے میں کم سے کم اور دوسروں کی بیویوں کے بارے میں بیش یعنی زیادہ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بیویاں غیر شوہروں کو مرغوب اور شوہروں کو غیر مرغوب ہوتی ہیں۔ بیویوں کے بارے میں ایک محقق نے اپنی تحقیق کو شائع کرنے سے انکار کر دیا، وجہ پوچھی تو کہنے لگا، میں اپنی تحقیق اُس وقت شائع کرواؤں گا جب میرا ایک پاؤں قبر میں ہو گا اور کتاب شائع ہوتے ہی میں اپنا دوسرا پاؤں بھی قبر میں ڈال لوں گا۔ بیویوں کے بارے میں زیادہ تر تفصیلات کنواروں نے لکھی ہیں۔ کیونکہ شادی کے بعد وہ بیوی کو پیارے ہو چُکے ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں منہ کھولنے کے قابل نہیں رہتے۔ معروف مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ نے بیویوں کے بارے میں جتنا کچھ لکھا ہے (اور اس کے علاوہ انھوں نے لکھا ہی کیا ہے) وہ سب کے سب ان کے کنوار پنے (گنوار پنے نہیں) کی تحریریں ہیں۔ بیوی کے بغیر زندگی گزارنا مشکل اور بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل تر ہے۔ بیویاں غریبوں کے لئے باعثِ رحمت اور خوشحال لوگوں کے لئے باعثِ زحمت ہوتی ہیں۔ جب ایک غریب جوان باورچی، دھوبی، چوکیدار، ملازم وغیرہ کی تنخواہوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا تو شادی کر کے ان سب کی جگہ چند ہزار روپے تاحیات تنخواہ پر ایک بیوی کو گھر میں لے آتا ہے۔ اگر کسی شوہر یا بیوی کے جذبات تاحیات تنخواہ کی اصطلاح سے مجروع ہوتے ہیں تو وہ اس کی جگہ حق مہر پڑھ لے۔​ اُردو کا ایک محاورہ ہے اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ گمان غالب ہے کہ اس محاورے کا موجد کنوارہ ہی مرا ہو گا۔ اگر وہ شوہر بن چُکا ہوتا تو وہ اس محاورے کا اَپ ڈیٹ کئے بغیر نہیں مرتا۔ ایسا ہی انگریزی کا ایک مقولہ ہے No Life Without Wife یہاں Without سے پہلے With Or بھی ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں کہ بچے ہمیشہ اپنے اور بیوی دوسروں کی اچھی لگتی ہے۔ جس نگاہ کو کوئی عورت اچھی لگ رہی ہوتی ہے، بدقسمتی یا خوش قسمتی سے وہ اُس کی بیوی نہیں ہوتی۔ جبکہ اُسی محفل میں وہ عورت اپنے شوہر کو ذرا بھی اچھی نہیں لگ رہی ہوتی کیونکہ اُس کے شوہر کو دیگر خواتین اچھی لگ رہی ہوتی ہیں۔ بیک وقت اچھی لگنے اور اچھی نہ لگنے کا اعجاز صرف ایک بیوی ہی کو حاصل ہے۔ دُنیا کی کوئی اور ہستی یا تو اچھی ہوتی ہے یا بُری (دونوں ہر گز نہیں) جیسے دُنیا کی سب سے اچھی ہستی ماں ہوتی ہے (بشرطیکہ وہ آپ کی ہو، آپ کے بچوں کی نہیں)۔ آپ کی ماں اگرچہ آپ کے باپ کی بیوی ہی ہوتی ہے لیکن جب تک آپ اپنی ماں کی عظمت کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں وہ بیچاری اُس وقت تک صرف اور صرف ماں بن چُکی ہوتی ہے۔ پھر ماں کی عظمت کی ایک وجہ اُس کی لازوال مامتا بھی ہے۔ بیوی کے پاس لازوال مامتا نہیں ہوتی اور جو کُچھ ہوتا ہے، وہ سب زوال پذیر ہوتا ہے۔​ میرا ایک دوست "ج" اپنی اہلیہ کو نااہلیہ کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اہلیہ تو تُم اُس وقت کہلاتیں جب میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا۔ اور اگر میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا تو کم از کم تُم میری اہلیہ نہ ہوتیں۔ ایک دانشور کہتا ہے کہ اگر آپ کے فادر غریب ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں، یہ سراسر آپ کی قسمت کا قصور ہے لیکن اگر آپ کے فادر ان لاء بھی غریب ہیں تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے۔ جس کی سزا آپ کی اہلیہ، میرا مطلب ہے کہ نااہلیہ کو ضرور ملنی چاہیے۔ اگرچہ اُسے ایک سزا پہلے ہی ملی ہوئی ہے لیکن کم از کم آپ اُس سزا کا تصور نہیں کر سکتے۔ بھلا کوئی اپنا تصور خود کیسے کر سکتا ہے؟​ دُنیا کا بیشتر مزاحیہ ادب بیوی کے گرد، اور رومانوی ادب غیر بیوی کے گرد گھومتا ہے۔ حتیٰ کہ مزاحیہ شاعری بھی بیوی ہی پر کہی جاتی ہے۔ جبکہ غیر بیوی پر شاعر جو کچھ کہتا ہے، اُسے غزل کہتے ہیں۔​ میری بیوی قبر میں لیتی ہے کس ہنگام سے​ میں بھی ہوں آرام سے اور وہ بھی ہے آرام سے​ ​​ اپنی زندہ بیوی پر یہ شعر سید ضمیر جعفری مرحوم نے کہا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ وہ محض ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فوجی میجر بھی تھے۔ میں بھی بیویات پر یہ تحریر اُس وقت لکھ رہا ہوں جبکہ میں اپنی ذاتی بیوی سے سینکڑوں میل دُور ہوں۔ اوور دُور دُور تک اُس کے قریب ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ شاید یہ اُس سے دُوری کا فیض ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔ مردم شناس تو سارے ہی ہوتے ہیں، لیکن خانم شناس صرف اور صرف ایک شوہر ہی ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبال کا مشہور شعر ۔۔۔۔​ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے​ ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ​ ​کی مندرجہ ذیل پیروڈی جہاں تک مُجھے یاد پڑتا ہے، میں نے اُس وقت کی تھی جب میں اپنی بیوی سے ہی نہیں بلکہ اپنے مُلک سے بھی دور تھا۔ اور اس وقت تک نیک بخت کا پاسپورٹ بھی نہیں بنا تھا۔​ ایک شوہر جسے تُو گران سمجھتی ہے​ ہزار شوہروں سے دیتا ہے عورت کو نجات​ ​
  3. میں نے قارئین کے تمام رپلائی دیکھے ہیں۔ بطور ایک لکھاری میری یہ خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کہانی کو پڑھیں اور اسے سراہیں۔ مگر کچھ چیزیں دنیا داری بھی ہوتی ہیں۔ مثال دوں گا کہ کسی لکھاری کی کوئی بھی کہانی کسی رسالے میں چھپتی ہے تو یقیناً رسالہ خریدنا پڑتا ہے۔ آپ ہمیشہ یا طویل مدت تک مفت میں کسی سے مانگ کر تو نہیں پڑھ سکتے۔ دوم،ایک دوست نے لکھا کہ کسی بھی کہانی کا جہاں ابتدا ہو اینڈ بھی وہیں ہونا چاہیے۔ درست فرمایا دوست! مگر آپ ہی دیکھیں کہ پوری دنیا میں ایک قانون رائج ہے کہ پہلے فری ٹرائل ورژن آتا ہے بعد میں فل پیڈ ورژن کیونکہ بنانے والے نے سالوں کی محنت سے وہ چیز بنائی ہوتی ہے اور پھر کہیں جا کر آپ کو پیش کی ہوتی ہے۔ پردیس کو لکھنے کے لیے ہر روز دو سے تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں،جو میں بلا معاوضہ محض آپ دوستوں کی تفریح کے لیے اپنی بزی شیڈول سے نکالتا ہوں۔ مگر جس جگہ پردیس پوسٹ ہوتی ہے وہاں کی ہوسٹنگ کی ایک فیس ہے،کم ازکم وہ تو مجھے یا انتظامیہ کو ساتھ ساتھ نہ بھرنی پڑے۔ اتنی مہربانی تو قارئین کو کرنی چاہیے۔ پچھلے ایک سال سے میں لگاتار لگا ہوا ہوں کہ کچھ نئے سلسلے شروع کیے جائیں،مگر ان کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔مگر اگر وقت بھی دینا پڑے اور پیسے بھی جیب سے تو بتائیے مجھے کیا فائدہ ہوا وقت اور پیسہ گنوانے کا؟ سہیل صاحب! جناب آپ تو موڈریٹر اور لکھاری دونوں ہیں۔ آپ کو لکھاری کی مجبوری بھی بخوبی پتا ہو گی اور انتظامیہ کی تنگ دستی کا بھی پتا ہو گا۔ آپ کا ایسا رویہ واقعی حیران کن ہے۔ ایک آخری بات یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک انسان ہر روز دس صفحات لکھتا ہے اور ان صفحات کو دن میں پانچ سو کے قریب ریڈر وزٹ کرتے ہیں اور اس پر کمنٹ یا لائیک محض تین یا چار مستقل دوست کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا کہ اس میں ڈھیر لگا ہوتا لوگوں کے رپلائی کا تو خدا کی قسم چاہے جیب سے بھرنے پڑتے پردیس کبھی پیڈ نہ موو کی جاتی۔ اب جو مستقل قاری تھے جو روز اپنا ویو دیتے تھے،اتفاق سے وہ سب پیڈ بھی ہیں۔اگر نہ بھی ہوتے تو یقیناً ان کو پردیس تک رسائی دے دی جاتی،یہ ہم سوچ رکھا تھا۔ اگر تمام دوست محض ہوسٹنگ کی فیس بھر دیں تو پردیس کیا تمام فورم فری کر دیا جائے گا۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.