Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 04/08/15 in all areas

  1. واہ جی واہ۔ چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا کیا بات ہے جی۔۔ بہترین ۔۔ اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔
  2. چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا پیش کرتا رہا میں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھر کے کھلونوں سے مجھے بہلایا
  3. نہیں جاؤ یوں مجھے چھوڑ کر مرے چارہ گر یہاں پِھر رہا ہوں میں در بہ در مرے چارہ گر ترا نام میری زبان پر رہے دم بہ دم نہ ہو اپنی ذات کی کچھ خبر مرے چارہ گر میں ہوں سرگراں یہاں زندگی کی تلاش میں کبھی آ کے بن مرا ہمسفر مرے چارہ گر مری تِشنگی کو قرار دے مجھے پیار دے مرا ہجر کر دے تُو مختصر مرے چارہ گر تری آنکھ جس پہ بھی اٹھ گئی وہ سنور گیا کبھی ڈال مجھ پہ بھی وہ نظر مرے چارہ گر میں تھا زندگی کے شعور سے بھی نا شناس ترے عشق نے کیا معتبر مرے چارہ گر مری عاشقی کو دوام دے مجھے نام دے مجھے مُرسلِ غَم و درد کر مرے چارہ گر مرے لب پہ یہ ہی صدا رہی بخدا رہی مرے چارہ گر، مرے چارہ گر،مرے چارہ گر ہے حبیب کی یہی آرزو یہی التجا مری خاک ہو تری رہ گُزر مرے چارہ گر
  4. میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر تو میرے سفر کا شریک ہے نہیں ہم سفر؟ میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے اسے کاٹتے میرا سارا وقت نکل گیا نہیں جس پہ کوئی بھی نقشِ پا میرے سامنے ہے وہ رہ گذر میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر یہ جو ریگ دشت فراق ہے میرے راستے میں بچھی ہوئی کسی موڑ پہ یہ رُکے کہیں یہ جو رات ہے میرے چار سو مگر اس کی کوئی سحر نہیں نہ ہی چھاوں ہے نہ ثمر کوئی میں نے چھان دیکھا شجر شجر میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر
  5. سنو اے چارہ گر میرے مجھے پڑھنا نہیں آساں کہ میں تفسیرِخوشبو ھوں فقط محسوس کر لینا مجھے تم ان کہی باتوں کے دھندلے سے خیالوں میں کٹی انمول راتوں میں کہ میں تفسیرِ خوشبو ھوں سنو اے چارہ گر میرے مجھے لکھنا نہیں آساں کہ میں تحریرِ فرقت ھوں فقط ترتیب دے لینا مجھے تم اپنے سینے کی لوحِ محفوظ پہ کندہ ہجر کی داستانوں میں کہ میں تحریرِ فرقت ہوں بدلنا بھی نہیں آساں مجھے اے چارہ گر میرے کہ میں تقدیرِ الفت ھوں فقط ماتم میرا کرنا ہتھیلی پہ لکھی بے ربط سی تحریر کی تلخی کو پڑھ پڑھ کے کہ مین تقدیرِ الفت ھوں
  6. اس تھریڈ میں وہ اشعار/نظمیں/غزلیں پوسٹ کریں جن میں لفظ چارہ گر شامل ہو -------------------- مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے -------------------- مرے ہاتھ سے ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے رہے ------------------- ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے بعنوانِ جفا چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں تلواروں میں ------------------------ رکھیں چارہ گروں سے کیا توقع کہ اے یار ان میں کچھ یارا نہیں ہے جسے تم کہہ رہے ہو چارہ سازی وہ چارہ بھینس کا چارہ نہیں ہے
  7. اطہر شاہ خاں* مسٹر جیدی اطہر شاہ خان 1943ء میں برطانوی ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ آپ پاکستانی ڈرامہ نگار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر اور اداکار ہیں۔ اپنے تخلیق کردہ مزاحیہ کردار “جیدی” سے پہچانے جاتے ہیں۔ اصلی نام اطہر شاہ خان ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی “جیدی” تخلص کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ “کشت زعفران” سے مزاحیہ شاعری میں مقبولیت حاصل کی۔ تخلیقی کام اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈرامہ نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ آپ کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کیلئے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈرامہ “ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔ نمونۂ کلام ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے ********* یارب دل جیدی میں ایک زندہ تمنا ہے تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو “جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے” مزاحیہ کلام اطہر شاہ خاں* مسٹر جیدی ::: چار بیویاں ::: بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلمکار چلا چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدی آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.