Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/06/15 in all areas

  1. شاید وفا کے کھیل سے اکتا گیا تھا وہ منزل کے پاس آ کے جو رستہ بدل گیا
  2. ‎‏ ‏ ہم کو ہے ان سے وفا کی امید ، جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے -
  3. تغافل سے باز آیا تو جفا کی تلافی کی بھی تو ظالم نے کیا کی کہا اس بت سے کہ مرتا ہے مومن کہا میں کیا کروں ،مرضی خدا کی
  4. Kafir k dil se bhe ho k aya hun. . . Khuda majod ha magar usy pta nahe. . . :-) ;-) ;-( :-/
  5. مرے ہمدم، مرے دوست گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی شکن تیری آنکھوں کی اُداسی، ترے سینے کی جلن میری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرفِ تسّلی وہ دوا ہو جس سے جی اُٹھے پھر سے ترا اُجڑا ہوا بےنور دماغ تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست! روز وشب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت تجھ سے میں حُسن و محّبت کی حکایات کہوں کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ہے کیسے گلچیں کے لئے جھلکتی ہے خود شاخِ گلاب کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر گیت بناتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں نغمہِ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزاد سہی ترے آزاد کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا اور یہ سفاک مسیحا میرے قبضے میں نہیں اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا
  6. کس قدر آگ برستی ہے یہاں کس قدر آگ برستی ہے یہاں خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں صرف اندیشۂ افعی ہی نہیں پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں زندہ درگور ہُوئے اہلِ نظر کس قدر مُردہ پرستی ہے یہاں زیست وہ جنسِ گراں ہے کہ فراز موت کے مول بھی سَستی ہے یہاں
  7. ‫ کبھی کبھی يہ سب اپنا چيال لگتا ہے وہ ميرا ہے يا نہيں الجھا سوال لگتا ہے ميں وفا کر کے بھی گمناميوں ميں رہتا ہوں وہ بےوفا ہے مگر بےمثال لگتا ہے
  8. لمحے رُوٹھ بھی جاتے ہیں بوجھل بوجھل، سُندر سُندر، گہری گہری آنکھوں میں رات کی چنچل سکھیوں میں، اپنی ریشمی پلکوں سے کوئی خواب کبھی مت بُننا سپنے ٹُوٹ بھی جاتے ہیں جیون ایک سفر ہے ایسا، جس کی منزل تنہائی ہے جو بھی آس لگائے اس سے، پگلا ہے سودائی ہے کسی کو بھی اپنا مت کہنا ساتھی چُھوٹ بھی جاتے ہیں مُٹھی میں جو لمحے ہیں، سارے تتلیوں جیسے ہیں رنگوں کی صورت میں آخر ہاتھوں پر رہ جائیں گے جانے والے ہر اک پل کو پلکوں بیچ چھپا لو تم ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے لمحے رُوٹھ بھی جاتے ہیں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.