Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

بس یادیں باقی

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

bahtreen guru ji... kafi achi story ja rahi hai... i feel sonia ko koie bara jatka zror mile ga or maybe umair ko..!

  • Author

ایک دن جب وہ بیٹھے تھے اور حسب معمول یہی گانا لگا ہوا تھا تو سونیا نے اپنے بیگ سے شوخ سے گانوں کی کیسٹ نکالی اور عمیر سے کہا کینٹین بوائے کو دے آئے کہ پلیز اب سے یہ بجانا ۔ وہ رونے دھونے والا گانا سن سن کر کر ہماری روح بھی فریاد کرنے لگی ہیں ۔ہمیں خواب میں بھی یہی گانا سنائی دیتا ہے اب ۔ ہماری زندگی میں کوئی یادیں نہیں ہیں۔نہ ہی کوئی رونا پیٹنا ہے۔ ہم بہت خوش ہیں اور صرف خوشی کو ہی سلیبریٹ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

دن تیزی سے پر لگا کر اڑتے جا رہے تھے کہ ایک دن اچانک امریکہ سے سونیا کے ویزے کے پیپر آ گئے۔عمیر کا بس نہیں چل رہا تھا سونیا کو زنجیروں سے باندھ کر روک لیتا۔ پلیز مت جاو، سونیا۔۔وہاں جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔

"نہیں مجھے ایک با ر تو جانا ہے اپنی ماں سے ملنے وہ چیخی ، مگر میں وآپس آؤں گی تم دیکھ لینا میں ضرور آؤں گی، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بدل جاتے ہیں جن کا خون سفید ہو جاتا ہے" سونیا نے ہزار بار کا کہا جملہ ایک بار پھر سے دہرایا ۔

"اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ مگرمیری ایک شرط پوری کر دو۔، اگر تمہارا پیار سچا ہے تو جانے سے پہلے مجھ سے خاموشی سے نکاح کر لو تاکہ تمہارے پاس وہاں جا کر وآپس آنے کی مضبوط وجہ تو ہو اور دنیا کی کوئی رکاوٹ تمھارا راستہ نہ روک سکے " عمیر بہت اداسی سے بولا

"کیا----------- سونیا کے ہاتھوں سے پھول نیچے گر گئے، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم مجھے اتنا گھٹیا مشورہ دے بھی کیسے سکتے ہو؟۔ مجھے تو یقین ہو رہا ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں بلکہ صرف گرین کارڈ چاہئے اسی لئے ایسے غیر اخلاقی مشورے دے رہے ہو"

، یہ سننا تھا کا عمیر کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔وہ خود کو روک نا پایا اور بہت زور سے سونیا کو چانٹا رسید کر دیا۔ اتنا گھٹیا الزام میری محبت پر لگاتے تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ وہ بہت دکھ سے ٹوٹے لہجے میں بولا"

اور وہ جو صرف اسکی بے پناہ محبتوں کی عادی تھی چہرے پر ہاتھ رکھے گنگ کھڑی رہ گئی۔ یہ پہلی بار تھی ان چودہ مہینوں میں جب وہ اس سے ناراض ہو کر چلا گیا ایک بار مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ سونیا کو سخت غصہ تھا وہ اس ذلت کو بھول نہیں پا رہی تھی۔ غصہ تھا کہ شام کے سائے کی طرح بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

وہ غصے میں پیچ وتاب کھا رہی تھی۔ اس سے ملے بغیر امریکہ جانے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ صبح جب کالج جانے کے لئے نکلی تھی حسب معمول سامنے موجود تھا مگر بے حد سرخ آنکھوں کے ساتھ رویا رویا لٹا لٹا سا۔ اسکو دیکھتے ہی سامنے آیا اور بولا "مجھے معاف کر دو پلیز ۔ ورنہ میں اپنا ہاتھ کاٹ دوں گا" وہ سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھ گئی تو وہ اس کے سامنے آ کر زمین پر بیٹھ گیا اپنے دونوں ہاتھ جوڑ ے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ "مجھے معاف کرو پلیز۔ میری محبت کو پہچانو ۔اتنی ظالم نا بنو۔ خود کو خدا مت سمجھو ۔ ایسی محبتیں ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتیں۔ جو تمہیں ملی ہے تو اسکی قدر کرو ،اس سے منہ مت موڑو ایسا نا ہو اپنی بے قدری پر محبت تم سے ناراض ہو کر ہمیشہ کے لئے منہ موڑ لے اور تم زندگی بھر سر پٹختی رہو۔" ۔

سونیا کو امریکہ آئے آج تیسرا دن تھا جب ممانی اسے اپنی دوست آنٹی فاری کے کر گھر چھوڑ گئیں کہ وہاں وہ بےبی سٹینگ میں ہیلپ کر کے انکی مدد کر سکتی تھی اور کچھ پیسے کما سکتی تھی،

فاری آنٹی کا گھر بہت بڑا تھا اور بہت خوبصورت بھی بالکل اسکے خوابوں کی طرح، انکی دو بیٹیاں پا س ہی بیاہ کر گئیں تھیں جو شادی کے بعد بھی ہر وقت اپنے میکے میں پائی جاتی تھیں اور دو بیٹے پڑھنے کے لئے دوسری سٹیٹ میں رہتے تھے۔ ان میں سے بڑا بیٹا اسد اپنی انجینئرنگ ختم کر کے اگلے ہفتے وآپس آنے والا تھا۔ جسکے لئے وہ کب سے پاکستان سے اپنی بھانجی بیاہ کر لانے کو بےتاب تھیں۔

آخر وہ دن آگیا جب اسد کو آنا تھا، سونیا نے آنٹی کے ساتھ مل کر بہت سے اچھے اچھے کھانے بنائے ۔ جب اسد آیا اور سونیا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنی پیاری لڑکی اور اتنی سلیقہ مند بھی۔ بس اس نے نے تو ماں کا پیچھا لے لیا شادی ہو گی تو سونیا سے ورنہ کسی سے نہیں۔اپنی بیٹے کی ضد سے مجبور ہو کر انھوں نے شادی کا پیغام دے تو دیا مگر دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ وہ بھی اسکو جلدی طلاق دلوائیں گی اور اپنی بھانجی کو ضرور لا کر رہیں گی۔

جب سونیا کو علم ہوا تو وہ بہت پریشان سی ہو گئی۔ گھر والوں کا بھی بہت ذیادہ دباؤ تھا کہ وہ امریکہ میں ہی اسد سے شادی کرے اور اسے پاکستان میں شادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے ہر حال میں اسکو امریکہ میں ہی کسی سے شادی کرنی ہے تو پھر اسد ہی کیوں نہیں ؟

،اسکا ضمیر عمیر کے پاس جانے پر مجبور کرتا مگر دل گھر والوں کے دباؤ کے علاوہ فاری آنٹی کے گھر کی چمک دمک میں الجھ رہا تھا اور پھر کہاں ایک عام سی شکل و صورت والا عمیر اور کہاں ناولوں کے ہیرو جیسا خوبصورت اسد۔ ۔ ان دونوں کا کیا مقابلہ ہے بھلا؟ اور ویسے بھی عمیر ہی مجھے چاہتا تھا۔میں تو نہیں چاہتی تھی اس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بس اس کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اس لئے محبت کا جواب محبت سے دینے پر مجبور تھی۔۔

تین دن تک وہ سخت شش و پنج میں رہی کھبی اسد اور کھبی عمیر۔ اس سے فیصلہ ہو کے نہ دیتا تھا ۔ آخر کار دستور دنیا کے عین مطابق محبت ہار گئی اور دولت جیت گئی۔ایک مہینے کے اندر اند وہ اسد کی دلہن بن گئی۔ نکاح نامے پر سائن کرتے وقت اسکو بالکل اندازہ نہیں تھا اس نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے اور وہ اپنی خوشی نہیں بربادی کے پروانے پر سائن کر رہی ہے۔۔ اپنی تئیں وہ خود کو اس وقت فاتح عالم سمجھ رہی تھی۔

اسکو علم تو تھا وہ ان چاہی بہو ہے مگر شادی کے تیسرے دن ساس اسے کچن میں کھڑا کر دیں گی ہمیشہ کے لئے خود چھٹی کر لیں گی اسکا یقین نہیں آتا تھا، سارا سارا دن دن انکی بیٹیاں اپنے بچوں کو لے آتیں۔ اپنے دوستوں کو بھی لاتی تھیں۔ انکے شوہروں کی فرمائش پر کھانے پکاتے پکاتے وہ ہلکان ہوتی رہتی۔ اسد کا شوق تو جیسے شادی کے پہلے دن ختم ہو گیا تھا۔ ہر وقت ماں بہنوں کے شکوے سن سن کر اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگا تھا اور اسکو ایک نوکرانی سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھا۔، وہ ایک ایک پیسے کے لئے ترستی۔ اپنی انتہائی ذاتی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں لے سکتی تھی۔ وہ ڈرتے ڈرتے اسد سے کہتی تو وہ چلا کر کہتا۔ "پیسے درختوں پر نہیں اگتے ملکہ عالیہ۔۔ کچھ نہیں مل سکتا تمہیں ۔ کوئی نوکری کئے بغیر دو وقت کا کھانا ملتا ہے وہ بھی احسان مانو"۔

سونیا کی ماں نے کچھ پیسے جوڑ کر شادی میں اپنی بیٹی کو کار بھی دی تھی جو اسد نے صرف اپنے نام ٹرانسفر کروا لی اور جب اچانک سونیا نے پیپرر دیکھ کر پوچھا تو وہ بڑی ڈھٹائی سے بولا۔ ہمارےے خاندان میں لڑکیوں کے نام کچھ نہیں کیا کرتے۔سونیا کی پوری زندگی جیسے ایک بہتا ہوا ناسور بن چکی تھی۔ اسکا حسن ماند پڑ گیا تھا ۔ کوئی اسکو دیکھتا تو پہچان نا سکتا۔ عمیر کے جملے بار بار اسکے کانوں میں گونجتے، میری محبت کی بے قدری نہ کرو ، کوئی اور تم کو اتنا نہیں چاہ سکے گا۔

اسکی حثیت گھر میں ایک زر خرید سے زیادہ نہیں تھی۔ سارا دن اسکے دل کا درد آنکھوں سے قطرہ قطرہ بن کے بہتا رہتا اور دل کی دھڑکن تو جیسے ہر بار عمیر کا نام پکارتی تھی ہر سانس کے ساتھ ۔ جیسے جیسے ماہ وسال گزرتے جا رہے تھے عمیر کے لئے اسکا پیار بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اسکو اچھی طرح علم ہو چکا تھا عمیر ہی اسکی زندگی میں خوش قسمتی لایا تھا مگر اپنی کم عقلی سے اس نے کھو دیا تھا۔ اب پچھتانے سے کیا ہو سکتا تھا۔ کبھی کھبار اسد اسکو جیسے ٹریش کین کے طور پر استعمال کر کے حق زوجیت ادا کر دیتا اور بس۔ اسکی اپنی بے شمار مصروفیات تھیں اور اس سے بھی زیادہ گرل فرینڈزتھیں ۔ اسکی زندگی میں سونیا کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

آج بھی جب سونیا نے اپنی نندوں اور انکے شوہروں کی پسند کا کھانا بنایا ۔ پورا گھر صاف کیا، بچوں کو سارا دن سنبھالا ۔ اسکی کمر ٹوٹ رہی تھی پھر بھی سارے کپڑے دھوئے۔ استری کر کے رکھے اور کمر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے شام کو اپنے کمرے میں جانے لگی تو ساس بولیں۔ تم جا کر نہاری کا گوشت لے آو، ۔ نازلی کے ساتھ اس کی ایک دوست فیملی بھی آ رہی ہے ۔انکو نہاری بہت پسند ہے ۔ ابھی بنانا ہو گی تم کو ان کے آنے سے پہلے پہلے سب بنا کر رکھ لو۔

وہ کچھ بھی بول نا سکی خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی آنسو پیتی چابیاں اٹھا کر گوشت لینے نکلی تو ہسپتال کے سامنے کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا، اسکو کوستی باہر نکلی تو اسپٹال کے گراؤنڈ میں ایک پاکستانی عورت کو سجدے میں پڑے بلکتے دیکھا تو رہ نا سکی۔ اپنا غم بھول کر اسکے سامنے بیٹھ گئی اور جب اس نے چہرہ اٹھایا تو حیران رہ گی وہ بیلا تھی اسکی ہوسٹل کی روم میٹ جو ہمیشہ اسے عمیر کی سچی محبت کا یقین دلاتی تھی اورباقی لڑکیوں کی طرح عمیر کی غربت یا کم صورتی کا مذاق نہیں اڑاتی تھی۔

سونیا ۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حیرت اور دکھ سے چیخی۔۔۔ اسے دیکھ کر بیلا کے لبوں سے جیسے آہ سی نکلی۔

"کہاں چلی گئی تھیں تم ۔۔۔بہت برباد کیا تم نے سونیا ۔۔۔ مجھے بھی اور عمیر کو بھی۔، ہماری زندگی سے جا کر بھی ہمیشہ میری سوکن بنی رہی۔۔ تمہارے جانے کے بعد عمیر بار بار ہوسٹل آتا اور گھنٹوں اس بنچ پر اکیلا بیٹھ کر ہچکیوں سے روتا رہتا تھا جہاں تم دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔۔۔ مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تھی، تمھاری شادی کے بعد میں نے خود اسکی منتیں کر کے اس سے شادی کر لی تاکہ وہ اس طرح بلک بلک کر تمھاری ہر چیز کو دیکھ کر رونا چھوڑ دے ورنہ وہ تو اتنے غم میں شاید مر ہی جاتا۔

کیا تمہیں یقین آئے گا میں اسکے ساتھ باغ جناح میں جا کر گھنٹوں اس بنچ کے پاس بیٹھی رہتی جہاں تم بیٹھا کرتی تھیں اور وہ اسکو چھو چھو کر روتا رہتا۔ میں تمھارے بنچ پر بیٹھ کر تمہارے لئے اسکا رونا اور تڑپنا دیکھا کرتی تھی۔۔ میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکی تم دنیا کی سب سے زیادہ خوش نصیب لڑکی ہو(جسکو اتنی شدت سے چاہا گیا ہے( یا دنیا کی سب سے ذیادہ بدنصیب لڑکی ہو (کہ جس نے اس پیار کو ٹھکرا دیا ہے)؟۔

"عمیر نے زندگی میں مجھے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی نا کبھی کسی چیز کے لئے ترسنا پڑا۔ خدا نے دولت بھی بہت دی بس ایک عمیر نے اپنا دل کبھی مجھے نہیں دیا ۔ وہاں آج بھی تم ہو۔ ۔اس سے زیادہ ظلم کیا ہو گا کہ جب میں دو بار ماں بننے والی تھی تو اس نے میرے کمرے میں تمہاری بڑی سی تصویر لگا دی اور رو رو کر مجھ سے کہا

" تم تو میرا دکھ سمجھتی ہو بیلا۔ پلیز مجھے مایوس مت کرنا، کہتے ہیں ماں اگر کسی تصویر کو بہت زیادہ دیکھے تو بچے بالکل ویسے ہوتے ہیں۔ پلیز میری خوشی کی خاطر تم کو سونیا کی تصویر کو مسلسل دیکھنا ہو گا اور تم کو یقین نہیں آئے گا میں نے نو مہینے تمھاری تصویر کو بہت دیکھا صرف اپنی محبت کی خوشی کے لئے۔ یہ دیکھو میرے دونوں بچوں کی شکل تم سے کتنی ملتی ہے"۔' وہ پرس سے اپنے دونوں بچوں کی تصویر نکال کر اسے دیکھاتے ہوئے بولی۔ بچوں کی شکل حیرت انگیز طور پر سونیا سے ملتی تھی۔ وہ تڑپ اٹھی۔ عمیر کہاں ہے وہ دل کے درد کو دباتے ہوئے چیخی۔؟

"وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے اسکے گردے فیل ہو نے کے قریب ہیں اور ہارٹ اٹیک ہونے کا بھی شدید خطرہ ہے۔ تمہارے غم نے اسکو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ہے ، چلو مرے ساتھ اندر چلو۔۔۔۔ شاید تمہیں دیکھ کر اسکی کچھ سانسیں بڑھ جائیں" ۔۔بیلا اسے گھسیٹنے لگی۔

یہ سننا تھا کہ سونیا دیوانہ وار اندر کی طرف بھاگی۔ ایک چپل راستے میں گر گئی مگر اسکو ہوش کہاں تھا۔ وہ ٹھوکریں کھاتی گرتی پڑتی بیلا کے ساتھ عمیر کے کمرے کی طرف بھاگ رہی تھی

" نہیں نہیں عمیر میں آ گئی ہوں۔ میں نے محبت کو پہچان لیا ہے ۔ دیکھو میں نے سارے دروازے کھول دیے ہیں۔میں باغی بن جاؤں گی۔ اب کی بار میں صرف اپنے دل کی بات سنوں گی کسی اور کا خیال نہیں کروں گی۔میں بیلا کی نوکرانی بن کر رہ لوں گی مگر مجھے قبول کر لو۔ میری محبت کو میری معافی کو قبول کر لو ورنہ مجھے چین سے موت بھی نصیب نا ہو گی"

وہ چیخ چیخ کر اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔ آج میں وآپس نہیں جاؤں گی جب تک تم مجھے قبول نا کرو گے میں اپنی جان دے دوں گی۔ ڈاکٹر اسکو کمرے سے باہر دھکیل رہے تھے مگر اس نازک سی لڑکی میں محبت کی اتنی طاقت آ چکی تھی کہ کوئی اسے روک نا سکا وہ آکسیجن لگے ماسک کو ہٹا کر عمیرکو جھنجوڑنے لگی۔ وہ اسکے ہاتھوں کو دیوانہ وار چوم رہی تھی۔ اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا ۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنا دل اور گردے نکال کر عمیر کے جسم میں فٹ کر دے۔ ڈاکٹر بالکل مایوس تھے جب عمیر نے اچانک آنکھیں کھول کر سونیا کو دیکھا۔ سب لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔ عمیر نے سونیا کو اپنے پاس دیکھا ایک ہلکی غیر محسوس آسودہ سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئی ۔ سونیا نے آخر کار آج اسکی محبت کا اعتبار کر ہی لیا تھا۔ وہ لوٹ آئی تھی ۔ وہ زندگی ہار کر اپنی محبت جیت گیا تھا۔۔۔ یہ احساس ہوتے ہی اس کے جسم اور روح کا ناطہ ٹوٹ گیا، کم سے کم اسکی ایک آخری خواہش تو پوری ہو گی تھی اور اس نے اپنی خواہش کے عین مطابق اپنی سونیا کی بانہوں میں دم توڑا تھا۔

سونیا پھر ویسے کی ویسے تہی دامن رہ گئی تھی۔ عمیر نے تو اسے معاف کر دیا مگر محبت نے اسکو معاف نہیں کیا تھا ۔ ایک بار اس نے راستہ بدلا تھا اور اب کی بار قسمت اپنی مرضی سے راستہ بدل کر نکل گئی تھی۔

، اسکو اپنی آخری سانس تک یہ سزا اٹھاتے رہنا تھا۔ جب وہ لٹی پٹی اپنی کار میں آۤ کر بیٹھی تو اسکی گاڑی میں ابھی بھی ایک گانا بج رہا تھا جو وہ پچھلے سات سال سے مسلسل سنتی آ رہی تھی۔ جب بھی پرانی کیسٹ ٹوٹ جاتی وہ ایک نئی کیسٹ کے دونوں سائیدز میں ایک ہی گانا بار بار ریکارڈ کروا لیتی تھی

دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں

گزاری تیرے سنگ جو لگا کے تجھے انگ جو

وہ پل جانے کیا ہوئے ،وہ دن کہاں کھو گئے

بس یادیں باقی۔

ختم شد

گرو سمراٹ

mein app se is he type ka end expect ker rahi thi... eik quite similar ci love story hai lekin khbi is se koie sbaiq hasil nhi keta.. may be ab koie ker le. thanks alot for such a nice and beautiful story

  • Administrators

کہانی کا اینڈ تھوڑا سیڈ ضرور تھا مگر ساتھ میں ایک سبق بھی تھا ان سب کے لیئے جنہیں بن مانگے ہی کچھ مل جائے مگر قدر کھونے کے بعد ہی کرتے ہیں ،،

اگلی کہانی کا انتظار رہے گا ،،شکریہ

📢 Post Your Ad Here

aik bohut hi achi kahani aur hasb-e-sabiq aik andohnak anjaam say pur. behar haal kahani itni achi hay kay meray paas alfaz nahi is ke liye. sirf itna hi kahoon ga ke its a really nice wonderful story i ever read.

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.