March 4, 201412 yr aray bhi black mail to na karein ha ha main ne kia black mail krna hey bhai jo krna hey admin ne krna hey.... ham member log tu sirf suggestion de sakte hey.....!
March 4, 201412 yr اس میں کسی کو بلیک میل نہیں کیا جا رہا۔ فورم جب تک فری سروس دے سکتا تھا۔فورم نے دی۔اب ہمیں فری سروس دینے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔فورم انتظامیہ فورم کے اخراجات بھی برداشت کرے ۔اس پر اپنا وقت اور محنت بھی لگائے۔آپ لوگوں نے تو ڈونیٹ کے تھریڈ میں بھی کوئی رسپانس نہیں دیا۔ورنہ ہمیں ایسا فیصلہ نہ کرنہ پڑتا۔آج کل ایڈمن نے فورم کا ڈیٹا بیس کنورٹ کرنے کا عمل میرے ذمہ کیا ہوا ہے۔جس وجہ سے میں مصروف ہوں۔اس کے مکمل ہوتے ہی سارے فورم کو پیڈ کرنا ہے۔تب آپ حضرات کیا کریں گے؟
March 6, 201412 yr ڈیر ڈاکٹر فیصل ، کہانی تو آپکی بہت پاپولر جا رہی ہے اور آپ جیسے تجربہ کار لکھاری کو کیا کہنا اسلئے آپ کی کہانیوں کا خاموشی سے لطف اٹھاتا رہتا ہوں. لیکن آپ کی پچھلی قسط میں ایک فقرہ ناگوار گزرا، آپکی توجہ دلانے کا مقصد خود تو اعلی ثابت کرنا نہیں صرف طرز خیال متوازن کرنا ہے . وہ الفاظ ہیں "مجھے کسی کو کیفر کردار پہچانے کے لئے بس ارادہ چاہیے" ، میں سمجھتا ہوں کہ آپکا مقصد یہاں جمیل کا استحکام اور ارادے کی مضبوطی ظاہر کرنا تھا، لیکن الفاظ کے چناؤ میں مجھے یہ کچھ کن فیکون جیسا لگا.باقی اگر میری بات سے اتفاق نہ ہو تو برا نہ مانیے گا، اتفاق اور اختلاف تو ہوتے رہتے ہیںمخلص، ایرک
March 6, 201412 yr Author ڈیر ڈاکٹر فیصل ، کہانی تو آپکی بہت پاپولر جا رہی ہے اور آپ جیسے تجربہ کار لکھاری کو کیا کہنا اسلئے آپ کی کہانیوں کا خاموشی سے لطف اٹھاتا رہتا ہوں. لیکن آپ کی پچھلی قسط میں ایک فقرہ ناگوار گزرا، آپکی توجہ دلانے کا مقصد خود تو اعلی ثابت کرنا نہیں صرف طرز خیال متوازن کرنا ہے . وہ الفاظ ہیں "مجھے کسی کو کیفر کردار پہچانے کے لئے بس ارادہ چاہیے" ، میں سمجھتا ہوں کہ آپکا مقصد یہاں جمیل کا استحکام اور ارادے کی مضبوطی ظاہر کرنا تھا، لیکن الفاظ کے چناؤ میں مجھے یہ کچھ کن فیکون جیسا لگا. باقی اگر میری بات سے اتفاق نہ ہو تو برا نہ مانیے گا، اتفاق اور اختلاف تو ہوتے رہتے ہیں مخلص، ایرک سب سے پہلے تو نشاندہی کا شکریہ۔یہ اچھی بات ہے کہ قاری کہانی کو غور سے پڑھتے ہیں اور ہر سطر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ دیکھیں بات درست ہے آپ کی۔ کہانیوں اور زندگی میں ہم بےشمار ایسی باتیں کہتے ہیں جو کہ انسان خود اعتمادی کے جذبے سے مغلوب ہو کر کہتا ہے۔ اس کا نعوذ بااللہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خدائی کا دعویدار ہے۔ بس یہ ایک قسم کا مضبوط ارادی کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہانی میں جمیل کا کیریکٹر چل رہا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسے بھی بار بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ خود زخمی ہوتا ہے،چوٹیں لگتی ہیں،اس کے بھی پیارے مارے جاتے ہیں۔اگر دشمن اس سے خوف کھاتے ہیں تو کئی کئی بار خود جمیل با مشکل موت سے بچ پاتا ہے،کئی بار پسپائی اختیار کرتا ہے،روپوش ہو جاتا ہے،جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ کئی محاذوں پر شکست ہوتی ہے تو کن فیکون والی کیفیت تو کہانی میں نہیں چل رہی۔ کلمات کے اظہار میں اکثر انسان بڑائی کی باتیں کر جاتا ہے۔ جمیل نے اگر یہ باتیں کہیں تو اس مکالمے کی پس منظر میں جائیں کہ وہ انوسٹی گیشن کے آئی جی کو اس کی گوتاہیاں سمجھاتے ہوئے اپنی کامیابی کا راز بتا رہا ہے۔ پورا مکالمہ پڑھا جائے تو یہ باتیں خدائی دعویٰ میں نہیں آتیں۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ جمیل اس مقام تک کیسے اور کن کن مراحل کو طے کر کے پہنچا ہے۔ کہاں گاؤں کا ایک عام نوجوان جسے اس کا پہلوان بھائی کشتی اور کبڈی سکھاتا تھا۔ کیسے انٹیلی جنس والوں نے اسے ٹرین کیا،یہ سب طور طریقے سیکھنے کے بعد وہ اس حد تک پر اعتماد ہوا کہ ایسی باتیں کہہ سکے۔ باقی میرا کبھی بھی ارادہ ایسا نہیں رہا کہ جمیل کو ناقابل شکست یا لازوال بنا کر پیش کیا جائے۔ امید کرتا ہوں میں نے آپ کی تسلی کروا دی ہو گی۔
March 8, 201412 yr سب سے پہلے تو نشاندہی کا شکریہ۔یہ اچھی بات ہے کہ قاری کہانی کو غور سے پڑھتے ہیں اور ہر سطر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ دیکھیں بات درست ہے آپ کی۔ کہانیوں اور زندگی میں ہم بےشمار ایسی باتیں کہتے ہیں جو کہ انسان خود اعتمادی کے جذبے سے مغلوب ہو کر کہتا ہے۔ اس کا نعوذ بااللہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خدائی کا دعویدار ہے۔ بس یہ ایک قسم کا مضبوط ارادی کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہانی میں جمیل کا کیریکٹر چل رہا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسے بھی بار بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ خود زخمی ہوتا ہے،چوٹیں لگتی ہیں،اس کے بھی پیارے مارے جاتے ہیں۔اگر دشمن اس سے خوف کھاتے ہیں تو کئی کئی بار خود جمیل با مشکل موت سے بچ پاتا ہے،کئی بار پسپائی اختیار کرتا ہے،روپوش ہو جاتا ہے،جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ کئی محاذوں پر شکست ہوتی ہے تو کن فیکون والی کیفیت تو کہانی میں نہیں چل رہی۔ کلمات کے اظہار میں اکثر انسان بڑائی کی باتیں کر جاتا ہے۔ جمیل نے اگر یہ باتیں کہیں تو اس مکالمے کی پس منظر میں جائیں کہ وہ انوسٹی گیشن کے آئی جی کو اس کی گوتاہیاں سمجھاتے ہوئے اپنی کامیابی کا راز بتا رہا ہے۔ پورا مکالمہ پڑھا جائے تو یہ باتیں خدائی دعویٰ میں نہیں آتیں۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ جمیل اس مقام تک کیسے اور کن کن مراحل کو طے کر کے پہنچا ہے۔ کہاں گاؤں کا ایک عام نوجوان جسے اس کا پہلوان بھائی کشتی اور کبڈی سکھاتا تھا۔ کیسے انٹیلی جنس والوں نے اسے ٹرین کیا،یہ سب طور طریقے سیکھنے کے بعد وہ اس حد تک پر اعتماد ہوا کہ ایسی باتیں کہہ سکے۔ باقی میرا کبھی بھی ارادہ ایسا نہیں رہا کہ جمیل کو ناقابل شکست یا لازوال بنا کر پیش کیا جائے۔ امید کرتا ہوں میں نے آپ کی تسلی کروا دی ہو گی۔ ye story do jaga mil rahi hey kia ye vip zone main update hu gey ya normal main?
March 8, 201412 yr Administrators ye story do jaga mil rahi hey kia ye vip zone main update hu gey ya normal main? دوسری جگہ یعنی پیڈ سیکشن میں پردیس کا تھریڈ ملنے سے آپ کو سمجھ جانا چاہیے ۔کہ آئندہ سے اپڈیٹ پیڈ سیکشن میں ہی ملا کرے گی۔فری سیکشن میں بھی پردیس کو ختم نہیں کیا گیا۔فری سیکشن میں پردیس جہاں تک پوسٹ ہو چکی ہے۔موجود رہے گی۔البتہ اس کی ریگولر اپڈیٹ اب سے پیڈ سیکشن میں ہی ہوا کرے گی۔
March 8, 201412 yr میں مینمنٹ کے فیصلے سے مطمن ںٰہی ھوں۔ یہ تو لوگوں کو بلیک میل کرنے والی بات ھے۔ جو تھریڈ جہاں چل رہے ہیں ؤٰہی رہنے چاہیے۔ باقی آپ جانے آپ کی مرضی۔
March 8, 201412 yr main sohail se razamand hun ak story jahan start ki jaye wahan se uska nd hona chaiye thread ki location ko chang nai karna chayae
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.