November 2, 201114 yr کسی کمزور لمہے میں اگر میں تم سے یہ کہہ دوں مجھے تم سے محبت ہے تو تم یہ مت سمجھ لینا کہ میں نے سچ کہا ہو گا ایسی دل نشیں باتوں کو ایسے دلچسپ پرائے میں کہنا مجھے بچپن سے آتا ہے میری آنکھیں میرا چہرا میرا یہ بےساختہ لہجہ یہ سب کچھ جھوٹ کہتا ہے اسے تم جھوٹ ہی کہنا مگر اس “جھوٹ” میں اک سچ بھی ہے کے مجھے تم سے “محبت” ہے
November 2, 201114 yr میرے عشق کو نڈھال کر کبھی ھجر کو بھی وصال کر میری آنکھ کو بینائی دے میرے قلب کو اجال کر مجھے درس دے تو فنا کا میرا عشق میں برا حال کر مجھے دے سزا کوئی سخت سی مجھے اس جہاں میں مثال کر میری اصل صورت بگاڑ دے کسی عشق کی بھٹی میں ڈال کر مجھے بھی پلا کوئی ایسی شئے کبھی میری آنکھیں بھی لال کر وہ جو اُس جہاں میں حلال ہے کبھی اس جہاں میں حلال کر تیری طلب میں ہوںمیں دربدر کبھی اس طرف بھی خیال کر
November 11, 201114 yr اتنے چپ کیوں ہو؟ اتنے چپ کیوں ہو رفیقانِ سفر کچھ تو کہو؟ درد سے چُور ہوئے ہو یا قرار آیا ہے؟ بھر گیا ہجر کا زخم کہ جی ہار چلے؟ بُجھ گیا شوق کہ پیغامِ نگار آیا ہے؟ نا مرادی کی تھکن ہے کہ خمارِ شبِ وصل؟ جاں سلگتی ہے کہ چہروں پہ نکھار آیا ہے؟ کتنی اجڑی ہوئی رت ہے کہ سکوں ہے نہ جنوں اتنی بے فیض ہوئی بادِ بہاری کیسے؟ نہ کہیں نوحئہ جاں ہے نہ کہیں نغمہِ دل کچھ تو بولو کی شبِ درد گزاری کیسے؟ سر بہ زانو ہو تو کیوں چاک گریباں والو بازئی راہِ طلب جیت کے ہاری کیسے؟
November 21, 201114 yr معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ بچھڑے گا تو پھر یاد بھی آئے گا بہت وہ اب جس کی رفاقت میں بہت خندہ بہ لب ہیں اس بار ملے گا تو رلائے گا بہت وہ چھوڑ آئے گا تعبیر کے صحرا میں اکیلا ہر چند ہمیں خواب دکھائے گا بہت وہ وہ موج ہوا بھی ہے ذرا سوچ کے ملنا امید کی شمعیں تو جلائے گا بہت وہ ہونٹوں سے نہ بولے گا پر آنکھوں کی زبانی افسانے جدائی کے سنائے گا بہت وہ
Create an account or sign in to comment