Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

Featured Replies

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا

وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی

مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 146
  • Views 32.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے ج

  • مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا مجھے

  • ہم ہی وفا شکن سہی اور ہم ہی بے وفا تم تو وفا شعار تھے، تم کیوں بدل گئے؟ Posted from Xperia Smartphone using Tapatalk

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا

وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی

مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟

ohh maar dala zalim :D kia kehny ha

📢 Post Your Ad Here
  • Author

آداب آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں

آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں

شیشہِ دل کو توڑنا اُن کا تو ایک کھیل ہے

ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں

کاش وہ اپنے غم مجھے دے دے تو کچھ سکون ملے

وہ کتنا بدنصیب ہے غم ہی جسے ملا نہیں

  • Author

*اے محبت !

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے ہم سے دانا

جو کمالات کیا کرتے تھے

خشک مٹی کو امارات کیا کرتے تھے

اے محبت!

یہ تیرا بخت

کہ بن مول ملے ہم سے انمول

جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے

ہم سے منہ زور

جو بھونچال اُٹھا رکھتے تھے

اے محبت میری!

ہم تیرے مجرم ٹھہرے ،

ہم جیسے جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے

ہم جو سو باتوں کی ایک بات کیا کرتے تھے

تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک

ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے

ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے

اور !

اب تیری سخاوت کے گھنےسائے میں

خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے

جتنے الزام تھے

مقسوم ہمارا ٹھہرے

اے محبت !

ذرا انداز بدل لے اپنا

تجھہ کو آئندہ بھی عاشقوں کا خون پینا ہے

ہم تو مر جائیں گے ، تجھ کو مگر جینا ہے

اے محبت !

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے ہم سے انمول

ہم سے دانا۔۔۔۔۔

اے محبت!

  • Author

سورج کے بہتے خوں سے گلنار ہو گئے ہیں

وہ دھوپ کی صراحی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے

پھر شام کی سیاہی دہلیز پر کھڑی ہے

کیا رات ہو گئی ہے

ڈرتے تھے جس سے سارے

وہ بات ہو گئی ہے

مہجور وادیوں میں

متروک راستوں پر

گمنام جنگلوں میں

روتی ہوئی شعاعیں اک خواب بُن رہی ہیں

ظلمت کی د استاں کا اک باب سن رہی ہیں

تیری تلاش میں پھر نکلیں گے چاند تارے

مجھ سے نہ جانے کتنے پھرتے ہیں مارے مارے

  • Author

ہم تو کل بھی کہتے تھے

اپنے عکس کی کالک

دُھل سکے تو دھو ڈالو

...عکس کی صباحت کو

’’ برص ‘‘ چاٹ لیتا ہے

ہم تو کل بھی کہتے تھے

اپنی ٹیڑھی آنکھوں کے

تِرچھے زاویے بدلو

زاویے جو تِرچھے ہوں

مستقیم راہوں کا

کب سُراغ ملتا ہے؟

آئینے کی عظمت سے

اب حقارتیں کیسی؟

عکس سے گُریزاں ہیں

اب بصارتیں کیسی؟

اپنے آپ سے کب تک؟

یوں نظر چراؤ گے

آئینہ جو توڑو گے

خود بھی ٹوٹ جاؤ گے

  • Author

میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے

میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے

میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے

میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے

جو ہیں طعنہ زن میری ذات پر، مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں

مجھے جان سے وہ عزیز تر، میری دوستی بھی عجیب ہے

میں لہو جگر سے گداز کر، تجھے نقش کرتا ہوں ورق ورق

ہے قلم کی نوک سے مختصر، تیری آگہی بھی عجیب ہے

میں پہر کی تپتی ہواؤں سے، کڑی دھوپ میں کھڑا بے خبر

سرِ راہ گزر تیرا منتظر، میری بے بسی بھی عجیب ہے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.