September 12, 201114 yr مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟
September 12, 201114 yr Author Very Nice Dear Achi Potery HaiKeeepp it upp thnx u so much for like my post
September 12, 201114 yr مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟ ohh maar dala zalim kia kehny ha
September 13, 201114 yr Author آداب آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں شیشہِ دل کو توڑنا اُن کا تو ایک کھیل ہے ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں کاش وہ اپنے غم مجھے دے دے تو کچھ سکون ملے وہ کتنا بدنصیب ہے غم ہی جسے ملا نہیں
September 13, 201114 yr Author *اے محبت ! تیری قسمت کہ تجھے مفت ملے ہم سے دانا جو کمالات کیا کرتے تھے خشک مٹی کو امارات کیا کرتے تھے اے محبت! یہ تیرا بخت کہ بن مول ملے ہم سے انمول جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے ہم سے منہ زور جو بھونچال اُٹھا رکھتے تھے اے محبت میری! ہم تیرے مجرم ٹھہرے ، ہم جیسے جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے ہم جو سو باتوں کی ایک بات کیا کرتے تھے تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے اور ! اب تیری سخاوت کے گھنےسائے میں خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے جتنے الزام تھے مقسوم ہمارا ٹھہرے اے محبت ! ذرا انداز بدل لے اپنا تجھہ کو آئندہ بھی عاشقوں کا خون پینا ہے ہم تو مر جائیں گے ، تجھ کو مگر جینا ہے اے محبت ! تیری قسمت کہ تجھے مفت ملے ہم سے انمول ہم سے دانا۔۔۔۔۔ اے محبت!
September 13, 201114 yr Author سورج کے بہتے خوں سے گلنار ہو گئے ہیں وہ دھوپ کی صراحی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے پھر شام کی سیاہی دہلیز پر کھڑی ہے کیا رات ہو گئی ہے ڈرتے تھے جس سے سارے وہ بات ہو گئی ہے مہجور وادیوں میں متروک راستوں پر گمنام جنگلوں میں روتی ہوئی شعاعیں اک خواب بُن رہی ہیں ظلمت کی د استاں کا اک باب سن رہی ہیں تیری تلاش میں پھر نکلیں گے چاند تارے مجھ سے نہ جانے کتنے پھرتے ہیں مارے مارے
September 13, 201114 yr Author ہم تو کل بھی کہتے تھے اپنے عکس کی کالک دُھل سکے تو دھو ڈالو ...عکس کی صباحت کو ’’ برص ‘‘ چاٹ لیتا ہے ہم تو کل بھی کہتے تھے اپنی ٹیڑھی آنکھوں کے تِرچھے زاویے بدلو زاویے جو تِرچھے ہوں مستقیم راہوں کا کب سُراغ ملتا ہے؟ آئینے کی عظمت سے اب حقارتیں کیسی؟ عکس سے گُریزاں ہیں اب بصارتیں کیسی؟ اپنے آپ سے کب تک؟ یوں نظر چراؤ گے آئینہ جو توڑو گے خود بھی ٹوٹ جاؤ گے
September 13, 201114 yr Author میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے جو ہیں طعنہ زن میری ذات پر، مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں مجھے جان سے وہ عزیز تر، میری دوستی بھی عجیب ہے میں لہو جگر سے گداز کر، تجھے نقش کرتا ہوں ورق ورق ہے قلم کی نوک سے مختصر، تیری آگہی بھی عجیب ہے میں پہر کی تپتی ہواؤں سے، کڑی دھوپ میں کھڑا بے خبر سرِ راہ گزر تیرا منتظر، میری بے بسی بھی عجیب ہے
Create an account or sign in to comment