August 18, 201114 yr عمر بھر کرتے رہے ہیں آرزو درختوں کی دشت و صحرا کے سفر میں آرزو درختوں کی خواہشوں کی تیز ہوا جانے کب سے کرتی ہے ہجر کے بیاباں میں آرزو درختوں کی ٹوٹی پھوٹی بستیوں میں جانے کیوں لئے پھرتی ہے اک تنہا پرندے کو آرزو درختوں کی کتنی صدیوں سے یوں ہی سرنگوں سی بیٹھی ہے دھوپ کے دریچوں میں آرزو درختوں کی
August 18, 201114 yr تم نے کہا میری آنکھوں کی ویرانیاں تمہیں پریشان کرتی ھیں میرے خاموش لبوں کو تم گھنٹوں تکا کرتے ھو تم نے کہا میں اپنے دل کی ھر بات تم سے کہہ دوں میرا دل تو کب کا مر چکا اور یہ بات تو تم بھی جانتے ھو کہ مردے کبھی بولا نہیں کرتے
August 18, 201114 yr ہم سمندر کی طرح ظرف وسیع رکھتے ہیں واصی دل میں طوفاں بھی ہوں تو چہرے پہ سکوں رہتا ہے
August 18, 201114 yr dil ki chokhat pe jo ek deep jla rkha hai tere lot ane ka amkaan sja rkha hai sans tak bhi nahin lete hain tujhe sochte waqt hum ney is kaam ko bhi kal pe utha rkha hai rooth jate ho tu kuch aur haseen lagtay ho hum ney yeh soch k hi tum ko khfa rkha hai tum jise roota huwa choor gaye thay aik din hum ney us shaam ko sene s lga rkha hai chain lene nahin deta yeh kisi tor mujhay teri yadoon ney jo toofan utha rkha hai jane wale ney kha tha woh lotey ga zror ek isi aas pe drwaza khula rkha hai tere jane s ek dhool uthti thi ghum ki hum ney us dhool ko ankhoon mein bsa rkha hai mujh ko kal shaam s woh buhat yaad ane laga dil ney mudat s jo aik shkhs bhula rkha hai akhri baar jo aya tha mere naam "naz" mein ney us khat ko kleje s lga rkha hai
August 18, 201114 yr میں ایسی محبت کرتا ہوں - تم کیسی محبت کرتی ہو تم جہاں بھی بیٹھ کہ جاتی ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتی ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو تم جن سے ہنس کر ملتی ہو میں ان کو دوست بناتا ہوں تم جس رستے پر چلتی ہو میں اس سے آتا جاتا ہوں تم جن کو دیکھتی رہتی ہو وہ خواب سرہانے رکھتا ہوں میں تم سے ملنے جلنے کے کتنے کی بہانے رکھتا ہوں کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں پلکوں سے موتی چنتا ہوں کوئی لمس اگر چھو جائے تو میں پہروں اس کو سوچتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو جن لوگوں میں تم رہتی ہو تم جن سے باتیں کرتی ہو جو تم کو اچھے لگتے ہیں وہ مجھ کو اچھے لگتے ہیں جس باغ میں صبح کو جاتی ہو جس سبزے پر تم چلتی ہو جو شاخ تمہیں چھو جاتی ہے جو خوشبو تم کو بھاتی ہے وہ اوس تمہارے چہرے پر جو قطرہ قطرہ گرتی ہے وہ تتلیاں چھوڑ کے پھولوں کو جو تم سے ملنے آتی ہیں ان سب کے نازک جذبوں میں میرے دل کی دھڑکن بستی ہے تم پاس رہو یا دور رہو نظروں کے سامنے رہتی ہو میں تم کو تکتا رہتا ہوں میں تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو ہر موقع پر ہر منظر میں میں ساتھ تمہارے رہتا ہوں میں چشم تصور میں اکثر بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں بس تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو
August 18, 201114 yr دل ناداں کو سمجھاؤ محبت زخم دیتی ہے تم اپنی ضد سے باز آؤ محبت زخم دیتی ہے محبت کا سفر آغاز کرنے پر تمہیں ہم نے کہا تھا کہ رک جاؤ محبت زخم دیتی ہے اسے شدت سے چاہا ہے تو یہ بھی ذہن میں رکھو کہ بڑھ جائے اگر حد سے محبت زخم دیتی ہے
August 18, 201114 yr میں دوستی کے اصولوں کا بھرم چاہتا ہوں کتنا ہے پاسدار اسے، یہ دیکھنا چاہتا ہوں سنا ہے بات کا دھنی ہے، چلو بات کر کے دیکھتا ہوں اسکی زبان پہ اک بار اعتبار کر کے دیکھتا ہوں لفظ زبان سے نکال کے، اسکا پلٹنا دیکھتا ہوں جو تیر ابھی کمان میں ہے، اسکا نکلنا دیکھتا ہوں جو شب بھی نکلتا ہے، تیر بن کے نکلتا ہے سب تیرووں کا نشانہ، میں اپنی طرف دیکھتا ہوں
August 18, 201114 yr تصوارت کے حسرت کدے ميں کون آيا چراغ تا حد احساس جلتے جاتے ہيں بس ايک موت کی حد تک پہنچ سکی ہے نگاہ کہاں ملی ابھی دريائے سانحات کی تھاہ موجہ نکہت فيسو جسے سمجھا ميں نے وہ بھی ميرے نفس سرد کا جھونکا نکلا چاند چمکا شفق ابھری ہوئی زربار سحر اس نے اک پر تو رخسار سے سو کام لئے خاموش بھي کرديتی ہے تاثير سخن کی کچھ داد ہی اشعار کی قيمت تو نہيں ہے غاصب جلوہ فطرت ہے يہ دور ايجاد دشت سے چھين ليا منصب ويرانی تک اس کے لب و عارض کو کيوں غنچہ و گل کہہ دوں کيوں حسن کی يکتائی رسوا مثالوں سے
August 18, 201114 yr میں نے کب یہ سوچا تھا زندگی کے ،سانسوں سے فاصلے بڑے ہوں گے تجھ سے ملنا چاہوں تو آج میری راہوں میں راستے کھڑے ہوں گے میں نے کب یہ سوچا تھا تیرے سائے سے باہر دھوپ میں جلن ہوگی ریت میں چبھن ہو گی درد بھی کڑے ہوں گے میں نے کب یہ سوچا تھا! میرے چاہنے والے دور بس رہے ہوں گے اور میں فقط اپنے ہاتھ کی لکیروں کو بے قرار آنکھوں سے یوں ہی تک رہا ہوں گا میرے چاہنے والے مجھ پہ ہنس رہے ہوں گے۔ میں نے کب یہ سوچا تھا! زندگی کے دھوکے میں عمر جب بتا دوں گا خود کو جب مٹا دوں گا ہجر یہ صدا دے گا بے بسی کی سانسوں میں زندگی نہیں رہتی وقت کے سمندر سے لاکھ خواہشیں چن لو بے بسی کی مٹھی میں ریت بھی نہیں رہتی آج میں نے سوچا ہے آج میں نے جانا ہے
Create an account or sign in to comment