August 18, 201114 yr ......................... کچھ اندھیرا بھی ضروری ہے غم یار کے ساتھ اب دیا کوئی نہ رکھے میری دیوار کے ساتھ میں جو اک عمر مسافت میں رہا تب جانا راہ بھی چلتی رہی ہے میری رفتار کے ساتھ ہم تو یوسفؑ نہیں بازار سخن میں فراز یوں ہی چل پڑتے ہیں ہر خریدار کے ساتھ .........................
August 18, 201114 yr Ankhon mein jo anso hein hamarey ussey kehna Dono ka yeh hissa hein piyaare ussey kehna Tapkey jo teri ankh sey anso ka koi qatra Nahi dekhney hum ko yeh nazarey ussey kehna Kutti nahi uss sey bhi shub e hijran tu phir Ginna karey woh bhi sitarey ussey kehna Hoti nahi pori kabhi khuwahish koi uss ki Chul jatey hein dil pe merey arey ussey kehna Kal raat to chand kuch mayoos sa tha Aaj woh khud ko na sanwarey ussey kehna Zindgi ik shaam key saharey mein guzaron Ik shaam merey sath woh guzrey ussey kehna
August 18, 201114 yr اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں نیند آجائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کُھل جائے تو تنہائی کا صحرادیکھوں شام بھی ہوگئی،دُھند لاگئیں آنکھیں بھی مری بُھولنے والے،میں کب تک ترارَستا دیکھوں ایک اِک کرکے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اُجالے آکر اتنے غیروں میں وہی ہاتھ ،جو اپنا دیکھوں تو مرا کُچھ نہیں لگتاہے مگر جانِ حیات! جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں! بند کرکے مِری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے بُوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں سب ضِدیں اُس کی مِیں پوری کروں ،ہر بات سُنوں ایک بچے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں مُجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں پُھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کِھل جائے پنکھڑی پنکھڑی اُن ہونٹوں کا سایا دیکھوں میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے،اُسے بس اِک بار اب بن کر تری آنکھوں میں اُترتا دیکھوں تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر میرے حبیب! جی میں آتا ہے، کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں ٹُوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں
August 18, 201114 yr اداس چاند کھلے پانیوں میں چھوڑ گیا وہ اپنا چہرہ مرے آنسوؤں میں چھوڑ گیا ہوا کےجھونکے سے لرزی تھی ایک شاخ گل کسی کا دھیان مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا سفر کے پہلے پڑاؤ میں مرنے والا شخص عجیب خوف ہمارے دلوں میں چھوڑ گیا یہ کس نے ہم کو بنایا شکستہ مٹی سے پھر اس کے بعد گھنی بارشوں میں چھوڑ گیا اس اہتمام سے بکھرے ہوے ہیں پھول حسن نشانی جیسے کوئ راستوں میں چھوڑ گیا
August 18, 201114 yr کبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا یہ ممتحن‘ یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا اے دل فقط یہ ترا امتحان بدلے گا ابھی تو راہ میں کتنے ہی موڑ آنے ہیں بتا کہ اور تو کتنے بیان بدلے گا شکار اس لیے محتاط تھا بہت عاطف وہ جانتا تھا شکاری مچان بدلے گا
August 18, 201114 yr Tazaa tazaa Zakhm e Juddai Khaaya Ha.. SOORAJ Ne Phir Aaj Bohat Sattayaa Ha.. Phir Se SITTAREY Gardish Men Aa Jaaney se. Toofanoon Ne DERA Aan Jammaya Ha.. Ban Jatta Tha SAYEBAAN Jo Garmmi Men.. Ib Ki Baar Woh Hammen Jalaanne Aaya Ha.. Jo ROOTHA Ha Ham Se MOHSIN Pehli Baar.. Tabdeeli Ne Hamen Bohat Darraya Ha.. Shaakh Pay Bethi CHIRYAA Ko Maloom nahi.. Kawwe Ne Wahan Kis Ka KHOON Bahayaa Ha..
August 18, 201114 yr اُن کے ابرُوئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُبھا عید کا چاند تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں گھول کے درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند
August 18, 201114 yr یہ ہےکُتکُتریاں کے نام جی نگاہیں منتظر تھیں کب کرن پھوٹے سحر جاگے مگر یہ رات تو کچھ ا ور کالی ہوتی جاتی ہے میری تِشنہ لبی میری صراحی میں چھلک آئی وہ پیہم بھرتے جاتے ہیں ، یہ خالی ہوتی جاتی ہے کرن پڑتی ہے جوں جوں شوخیوں کی ان نگاہوں میں سرور اتنی ہی صورت بھولی بھالی ہوتی جاتی ہے
August 18, 201114 yr ************************* تمہاری یاد کچھ اس طرح میرے دل سے لپٹی ہے فراز کے جیسے پھول پر تتلی کو نیند آ جائے *************************
August 18, 201114 yr میں تو تھی ہی اپنے خول میں سمٹی ہوئی سی لڑکی دنیاکی خوشیوں سے انجانی ایک پاگل سی لڑکی جسے نہ کسی کے غم کا پتہ تھا نہ کسی کی خوشی کی خبر تھی وہ تو اپنی ہی دنیا میں جی رہی تھی پھر تم آئے اس کی زندگی میں خوشیوں کا ایک پیارا تحفہ لائےزندگی میں ہنسا سکھایا اسکو بولنا سکھایا اسکو پھولوں کی طرح مہکنا سکھایا اسکو رنگوں کی طرح بکھرنا سکھایا اسکو دنیا کے ہر خوشی و غم کو باٹنا سکھایا اسکو پھر اچانک ہی بنا کہے بنا بتائے چھوڑ کر چلے گئے جینا سکھا کر اسکو رونے کے لیے چھوڑ کر چلے گئے اب تو وہ ہی اپنے خول میں سمٹی یوئی سی پاگل لڑکی پہلے سے بھی بدتر حالت میں ہیے جسے نہ تو اس دنیا کی فکر ہیے جسے نہ اپنا خیال ہیے وہ تو اب یہ ہی سوچتی ہیے کیوں جینا سکھایا تھا تم نے جب چھوڑکر ہی جانا تھا
Create an account or sign in to comment