June 13, 201213 yr سنو! یہ وقت رخصت ہے، سکوت سفر طاری ہے ختم عمروں کا زر، باقی لمحوں کی ریزگاری ہے سنو! آنکھیں تو گم صم ہیں، دلوں میں آہ و زاری ہے سنو! یہ ضبط کا موسم نہیں ھے، بے اختیاری ہے سنو! یہ آس کی ڈوری اٹھا لو ہاتھ سے میرے میرے ہاتھوں میں کچے دھاگوں کی بےاعتباری ہے سنو! میں خواب اب بھی دیکھتا ہوں دل کے کہنے سے میری آنکھوں میں اب بھی زخم، دل میں بیقراری ہے سنو! یہ راز بھی سن لو، کہ دل کا کھیل جتنا تھا یہ بازی تم نے جیتی ہے، ہمیشہ ہم نے ہاری ہے سنو! تم ساتھ رہتے تھے میری ہر اک سانس میں تمہارے نام کرتے ہیں، جہاں جتنی گزاری ہے سنو! آنکھوں سے پڑھ لینا وہ ساری ان کہی باتیں کوئی پوچھے تو کہہ دینا، بہت ہی رازداری ہے سنو! پلکوں پہ جتنے خواب تھے، ان کو اٹھا لینا میری آنکھوں پہ ان کا بوجھ، میری طاقت سے بھاری ہے سنو! دوری سے گبھرا کر ہمیں آواز دے لینا مگر یہ رابطہ دل کا، بشرط استواری ہے سنو! ہم لوٹنے والے نہیں، سب کہہ لو سن لو آج بہت ہی دور جانا ہے، بڑی لمبی اڈاری ہے سنو یہ وقت رخصت ہے، سنو یہ حرف آخر ہے سنو! یہ درد ہجر کا ہر اک ہجرت سے کاری ہے
June 13, 201213 yr کب اپنی ذات کا کوئی ہم کو سرا ملا اس کی نگاہ سے تھا ذرا سلسلہ ملا کچھ دوستی کے داغ تھے ، کچھ دشمنی کے زخم اب تجھ سے کیا کہوں مجھے کس کس سے کیا ملا جب تک وہ باخبر تھا ، سو اپنی خبر رہی وہ اجنبی ہوا تو نہ اپنا پتہ ملا لمحے کی نیند تھی سو کہیں خواب ہو گئی آںکھوں میں ہم کو اپنی فقط رتجگا ملا اُکسا رہی ہے مجھ کو یہ عزمِ سفر پہ پھر یہ اک خلش ہے جس سے سدا حوصلہ ملا ہم سمجھ نہ پائے عمر بھر یہ ماجرہ یار کہتے ہیں کسے اور دشمنی کیا چیز ہے
June 13, 201213 yr کبھی آنسو کبھی خوشبو کبھی نغمہ بن کر ہم سے ہر شام ملی ہے تیرا چہرہ بن کر چاند نکلا ہے تیری آنکھ کے آنسو کی طرح ہھول مہکے ہیں تیری زلف کا سایہ بن کر میری جاگی ہوئی راتوں کو اُس کی ہے تلاش سو رہا ہے میری آنکھوں میں جو سپنا بن کر دل کے کاغذ پر اُترتا ہے تو شعروں کی طرح میرے ہونٹوں پہ مچلتا ہے تو نغمہ بن کر رات بھی آئے تو بُجھتی نہیں چہرے کی چمک روح میں پھیل گیا ہے جو اُجالا بن کر میرا کیا حال ہے یہ آ کہ کبھی دیکھ تو لے جی رہا ہوں تیرا بھولا ہوا وعدہ بن کر دھوپ میں کھو گیا وہ ہاتھ چُھڑا کر کہیں گھر سے تو ساتھ چلا تھا میرا سایہ بن کر کبھی آنسو کبھی خوشبو کبھی نغمہ بن کر ہم سے ہر شام ملی ہے تیرا چہرہ بن کر
June 13, 201213 yr چاہت دیس سے آنے والے یہ تو بتا کہ صنم کیسے ہیں دل والوں کی کیا حالت ہے پیار کے موسم کیسے ہیں کیا اب بھی کوئی باتوں باتوں میں روتا ہے ہنس دیتا ہے اُس راہ کی خوشیاں کیسی ہیں اُن گلیوں کے غم کیسے ہیں کیا اُس نے ہمارا نام لیا کیا اُس نے ہمیں کبھی یاد کیا کیا اُس نے کبھی تُجھ سے پوچھا کس حال میں ہیں ہم کیسے ہیں جگنو شبنم تارے بن کر میرے آنسو ڈھونڈھ رہے ہیں آنے والے تُو ہی بتا دے میرے ہمدم کیسے ہیں چاہت دیس سے آنے والے یہ تو بتا کہ صنم کیسے ہیں دل والوں کی کیا حالت ہے پیار کے موسم کیسے ہیں
Create an account or sign in to comment