June 27, 201213 yr آوارگی میں ہم نے اس کو بھی ہنر جانا اقرار وفا کرنا اور پھر اس سے مکر جانا۔ جب خواب نہیں کوئی کیا زندگی کا کرنا ؟ ہر صبح کو جی اٹھنا، ہر رات کو مر جانا۔ شب بھر کے ٹھکانے کو اک چاہت کے سوا کیا ہے کیا وقت پر گھر جانا کیا دیر سے گھر جانا۔ ایسا نہ ہو دریا میں تم بارگراں ٹھرو جب لوگ ہوں زیادہ تو کشتی سے اتر جانا۔ سقراط کے پینے سے کیا مجھ پہ ایاں ہوتا خد زہر پیا میں نے تب اس کا اثر جانا۔ جب بھی نظر آؤ گے ،ہم تم کو پکاریں گے چاہو تو ٹھہر جانا ، چاہو تو گزر جان
June 27, 201213 yr پھرتے ہیں کب سے دربدر، اب اس نگر اب اُس نگر ایک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی نا آشنا ہر رہگزر، نہ مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ، ایسے کہاں برباد تھے بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی جینا بہت آساں تھا ، اک شخص کا احسان تھا ہم کو بھی اک ارمان تھا ، جو خواب کا سامان تھا اب خواب ہے نہ آرزو ، ارمان ہے نہ جستجو یوں بھی چلو خوش ہیں مگر ، میں اور میری آوارگی وہ مہوش وہ ماہ رو ، وہ ماہِ کامل ہوبہو تھیں جسکی باتیں کوبہ کو، اس سے عجب تھی گفتگو پھر یوں ہوا وہ کھو گئی ، تو مجھ کو ضِد سی ہوگئی لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر ، میں اور میری آوارگی یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا جب کہہ کے وہ دلبر گیا ، ترے لئیے میں مر گیا روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے پیشہ نہ ہو جسکا ستم ، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم ہوں گے کہیں تو کارگر ، میں اور میری آوارگی آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹ کے قسمت کا سب یہ پھیر ہے ، اندھیر ہے اندھیر ہے ایسے ہوئے ہیں بےاثر ، میں اور میری آوارگی جب ہمدم و ہمراز تھا ، تب اور ہی انداز تھا اب سوز ہے تب ساز تھا ، اب شرم ہے تب ناز تھا اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا ، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا ایک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی
July 22, 201213 yr دعا کا بدل... ھے وھی ایک پل... جب انسان کو... طلب تک نا ھو.... نہ کچھ کھائے وہ.... نہ سو پائے جو... سو جائیں سب... جگائے نہ جب.... آسائش کوئی..... خواھش کوئی..... وہ سجدہ کرے... وہ آھیں بھرے.... طلب نا طعام.... خدا سے کلام...
July 22, 201213 yr میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر کماں بدست ستادہ ہے عسکری اس کے وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے سپردِ دارورسن سارے سر کشیدہ ہوئے تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے سو یہ جواب ہے میرا ،میرے عدو کے لئے کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر کماں بدست ستادہ ہے عسکری اس کے وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے سپردِ دارورسن سارے سر کشیدہ ہوئے تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے سو یہ جواب ہے میرا ،میرے عدو کے لئے کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
July 22, 201213 yr مرا سارا شہر ہی بہہ گیا مِرے سارے لوگ اُتر گئے کہیں بے سبب سی منافقانہ فضاؤں میں کے کسی زہر میں کسی بد گماں سی رات کے کسی پہر میں مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا مِرے سارے لوگ اُتر گئے کوئی تہمتوں،کوئی پانیوں کوئی دلفریب کہانیوں کوئی خواہشوں کی گرانیوں کوئی آنسوؤں کی روانیوں کوئی سبز کائیوں کی جھیل میں کوئی سُرخ و خستہ فصیل میں کوئی آب میں،کوئی خواب میں کوئی اپنے کردہ عذاب میں مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا مِرے سارے لوگ اُتر گئے مِرے سارے خواب بِکھر گئے اِسی شہر میں اِسی لہر میں
July 22, 201213 yr ھار جائیں گے جنھیں ڈر ھو گا... عزم والون کا گھر ھی گھر ھو گا... بھیگھی بلی بنے رھیں گے جو... ان کا دن گھر مین ھی بسر ھو گا... وہ سنبھالو ملے جو ورثے میں... ایسا ھر پھل حسیں ثمر ھو گا...
Create an account or sign in to comment