Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

لڑکی لڑکے اور ہیجڑے کی محبت

Featured Replies

میجر صاحب بہت ہی اچھی کہانی تھی۔اس میں ڈبل ایکشن بہت تھا۔

اس کی شروعات اچھی ہے۔اور اس میں بھی لگتا ہے بہت زیادہ ڈبل ایکشن ہوگا۔امید کرتے ہیں اس میں ڈبل کےساتھ ساتھ ٹرپل ایکشن بھی ہو۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 93
  • Views 270.1k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • قسط نمبر 2 میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی ک

  • قسط نمبر1 ‮‬طوفانی ہواؤں کے شور میں ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی کسی سے محبت ہوئی ؟ وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ، محبتوں کے جلو میں ، میں پیدا ہوا تھا اور انہی کے درمیان مروں گا۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

  • قسط نمبر3 اگلے دن راحت سکول میں ملا اور کہنے لگا یار میں بھی اب عروسہ کی گانڈ مارنا چاہتا ہوں کیا وہ مجھے مارنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں کل دیکھا نہیں تھا کہ وہ تیرا لن ہاتھ میں لے کر خوش تھی

زبردست پلاٹ پر مبنی کہانی ہے۔۔ بلکل اچھوتا آئیڈیا ہے۔۔ امید واثق ہے کہ میجر صاحب کی طرح یہ بھی شاہکار بنے گی۔۔ شکریہ

On 2/18/2022 at 4:20 AM, F khan said:

دوستو میجر صاحب کے بعد میری دوسری کہانی "لڑے لڑکی اور ہیجڑے کی محبت" پیش خدمت ہے امید ہے پسند آئے گی اپنی رائے اور تجاویز ضرور دیجیے گا۔

محترم بھائی جان میجر صاحب  والی کہانی کہاں  مل سکتی ہے بتایا گا ضرور مہربانی ہو گی

  • Author
On 2/22/2022 at 4:27 PM, Nasir Abbas said:

محترم بھائی جان میجر صاحب  والی کہانی کہاں  مل سکتی ہے بتایا گا ضرور مہربانی ہو گی

اسی فورم پر موجود ہے سرچ کر لیں

  • Author

قسط نمبر 2

میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی کو نہیں بتاتا ۔ مجھے بھی بہت مزہ آتا ہے تم دونوں کو یہ سب کرتے دیکھ کر ۔اچھا جی بڑے مزے لے رہے ہو چھپ چھپ کر ۔راحت نے کہا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے میں نے کہا ہاں ہاں کہو اس نے کہا مجھے بھی تمہارے ساتھ وہ سب کرنا ہے میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے توقع نہیں تھی کہ راحت مجھ سے یہ بات کہےگا میں ہنسنے لگا کہا تمہارا کیا مطلب ہے تم میری گانڈ مارنا چاہتے ہو ؟راحت بھی شرماتے ہوئے ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں بلکہ میں تو تم سے مروانا چاہتا ہوں۔ میں حیران ہوا کہ یہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے میں نے کہا میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو اس نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا میرا بھی دل کرتا ہے مزہ لینے کا عروسہ کی طرح پھر ایک آنکھ دبا کر کہنے لگا اگر مارنے بھی دو گے تو مزہ ہی آجائے گا میں نے کہا تو تو جان ہے اپنی تیرے لیے تو یہ قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے نہیں لگتا عروسہ کے ہوتے ہوئے مجھے یہ قربانی دینی پڑے گی میری بات سن کر خوشی سے چہکتے ہوئے کہنے لگا کیا سچ میں عروسہ مجھے بھی کرنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں وہ تم سے تو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہےاگر مجھے کرنے دے سکتی ہے تو تمہیں کیوں نہیں اچھا وہ بھی دیکھ لیں گے مگر ہمارا پروگرام کب ہے پھر ؟ میں نے کہا جب کہو میری جان اس نے کہا ٹھیک ہے آج میں سٹڈی روم میں عروسہ سے جلدی آجاؤں گا تو ہم کر لیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے ۔یہ باتیں کرتے ہوئے میرا لن کھڑا ہونے لگا تھا اور میری شلوار میں تمبو بننے لگا تھا کہ میں نے جلدی سے واشروم کا رخ کیا اور جا کر پیشاب کیا تو لن کا تناؤ ختم ہوا( یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ پیشاب کرنے سے لن کا تناؤ ختم ہو جاتا ہے) اب مجھے سٹڈی ٹائم کا انتظار تھا۔ آخر کار وقت ہوا اور راحت میرے گھر آگیا اور کہنے لگا چلو اوپر سٹڈی روم میں چلتے ہیں ہم دونوں اوپر آگئے عروسہ کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھاہم روم میں آگئے اور آتے ہی اندر سے دروازہ بند کر لیا اور میں راحت کے پاس چلا گیا ہم بیڈ پر بیٹھ گئے مگر راحت کچھ نہیں کر رہا تھا شرما رہا تھا میں نے کہا اب کیوں شرما رہے ہو پہلے کہتے ہوئے تو ایسے نہیں شرمائے اس نے کہا وہ بات نہیں ہے دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے شروع کریں میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھتے ہوئے کہا ایسے۔ اسے اور مجھے بھی ایک کرنٹ سا لگا کیونکہ وہ پہلی بار کوئی لن ہاتھ میں پکڑ رہا تھا اور میرے لن کو بھی پہلی بار پکڑ رہا تھا مجھے بھی عجیب سا مزہ آیا تھا وہ میرے لن کی لمبائی موٹائی چیک کر رہا تھا ہاتھ میں لیکر اور کہنے لگا یہ تو کافی بڑا ہے مجھے تو بہت درد دے گامیں نے اس کے لن کو پکڑ لیا اور کہا یہ کونسا چھوٹا ہے یہ بھی میرے جتنا تو ہے اور کہا شروع میں تو کچھ درد ہوتا ہی ہے مزے کیلئے کچھ درد تکلیف تو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا اگر عروسہ برداشت کر سکتی ہے تو تم بھی کر لو گے راحت کے بارے بتا دوں اسکے ہاتھوں میں بہت ملائمت تھی جیسے کسی لڑکی کے ہاتھ ہوں گورا رنگ تھا گلابی درمیانے ہونٹ تھے اس کے قد میرے برابر تھا یعنی پانچ فٹ کے لگ بھگ اور سمارٹ جسم تھا میں نے کہا دیر نہیں کرتے چلو کپڑے اتارو اس نےکہا سارے میں نے کہا ہاں اس نے کہا نہیں سارے نہیں کوئی آسکتا ہے مجھے اسکی بات ٹھیک لگی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے صرف شلوار نیچے کر لو اتنے میں میں اپنی پینٹ کی زپ کھول کر لن باہر نکال چکا تھا انڈرویئر تو پہنتے نہیں تھے ابھی تک ہم لوگ جیسے ہی اس نے شلوار نیچے کی میں نے کہا بیڈ کی طرف منہ کرو جیسے ہی اس نے بیڈ کی طرف منہ کیا میں نے اسے کھڑے کھڑے ہی بیڈ پر جھکا دیا اب اسکا اگلا دھڑ بیڈ پر لیٹا تھا اور ٹانگیں نیچے تھیں اور اسکی گاند میرے لن کے سامنے ۔

دوستو آپ یقین نہیں کریں گے بالکل سفید اور ملائم سی گانڈ تھی سوراخ کے گرد تھوڑی گلابی نظر آرہی تھی بالکل جیسے گلابی ہونٹ تھے اس کے آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دنیا جہان بھول جاتا ہوں کیونکہ ایسی گانڈ تو ہر کسی کا ڈریم ہوتی ہے اگر اسے ڈریم گانڈ کہا جائے تو بے جا نا ہوگا اس حوالے سے میں بہت لکی تھا ایک لڑکی کی اتنی پیاری گانڈ مل رہی تھی اور اب یہ گانڈ جس نے لڑکیوں لڑکوں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں اپنا انگوٹھاآرام سے اس کے ملائم سوراخ پر پھیرنے لگا میں تو پاگل ہو نے لگا تھا ساتھ راحت کو بھی مزہ آرہا تھا کیونکہ وہ جھٹکے لینے لگتا اور ساتھ سی سی کی آوازیں بھی نکالنے لگتا خیر میں نے ہوش سنبھالا اور اصل کام کی طرف بڑھنے لگا۔

میں نے تھوک ہاتھ پر ڈال کر سوراخ پر ملا اور پھر اور تھوک اپنے ٹوپے سے لے کر لن کے اینڈ تک سارے لن پر لگایا اور ٹھوپا سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ مساج کرنے لگا اور کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد دباؤ بڑھانے لگا ٹائیٹ سوراخ کھلنے لگا اور میرے ٹوپے کو اندر آنے کی جگہ دینے لگا ٹوپے سے کچھ آگے تک اندر جا چکا تھا جب راحت کی بس ہو گئی اور مجھے روکنے لگا کہ بس درد بہت ہو رہا ہے میں ایک لمحہ وہیں رکا اور پھر لن تنگ گانڈ سے کھینچ کر نکال لیااور پھر بہت سارا تھوک سوراخ میں ڈالا اور ایک بار پھر گانڈ کا سفر شروع کیا اس بار کچھ زیادہ کامیابی ملی اور آدھا اند پہنچانے میں کامیاب رہا اور وہیں رک کر راحت کا لن ہاتھ میں لیا اور دبانے لگا اور پھر باہر نکال لیا اور ایک بار پھر تھوک گانڈ اور لن کو لگا کر چکنا کیا اور لن کع اپنی منزل کی طرف روانہ کیا اور اس بار راحت کی تکلیف کی پروا کیے بغیر پورا اندر پہنچا کر دم لیا اور پھر سے اس کے لن کو پکر کر اسکے اوپر لیٹ گیا ۔

انسان اپنا پہلا مزہ نہیں بھولتا کیونکہ اس جیسا مزہ انسان کو پھر کبھی نہیں ملتا جو مجھے عروسہ سے ملا تھا مگر راحت والا مزہ تنگ نرم سوراخ اور اتنی خوبصورت گانڈ یہ بھی کوئی بھولنے والی چیز نہیں تھی۔ کچھ دیر ایسے راحت کے لن کو ہاتھ میں دبانے اور اوپر لیٹے رہنے کے بعد میں پیچھے ہٹا اور لن ایک بار پھر کھینچ کر باہر نکال لیا اور گانڈ اور لن تھوک سے اچھی طرح تر کرنے کے بعد ایک بار پھر لن کو اندر کا راستہ دکھایا جو کہ اب کسی حد تک آرام سے اندر چلا گیا مگر میں اب رکنے کے موڈ میں نہیں تھا ایک تو وقت بہت ہو گیا تھا اور دوسرااب مجھ سے اور برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور میں اندر باہر کرنے لگا مگر آرام سے دومنٹ تک ایسے کرنے کے بعد راحت کی گانڈ کی پہلی آبپاشی ہونے کا وقت ہوا اور اس بنجر زمین کو میں کے سیراب کر دیا میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے مجھے مزے کی وادیوں میں لے جا رہا تھا اور میری چنگھاڑ کے ساتھ ساتھ میری آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔اور میں اس کے اوپر گر گیا اور ایک منٹ بعد پیچھے ہٹ گیا اور اپنا مرجھایا ہوا لن کاغذ سے صاف کیا اور اسے زپ سے اندر کر کے زپ بند کر لی اور راحت نے بھی اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے۔اب عروسہ کے آنے کا ٹائم ہونے والا تھا اس لیے ہم نے جلدی سے دروازہ کھولا اور پڑھنے والا ماحول بنا لیا ۔

اب مجھے عروسہ کے بجائے راحت کا انتظار ہوتااور میرا دل کرتا میں روز اسکی پیاری گانڈ ماروں یہ بات نہیں تھی کہ عروسہ کی گانڈ میں کوئی کمی تھی نہیں بلکہ نئی چیر انسان کو کچھ دن زیادہ بھاتی ہے اس سے اگلے دن بھی راحت جلدی آگیا تھا اور ہم بیڈ پر برابر میں بیٹھ گئے تھے اور ایک دوسرے کے لن سے کھیل رہے تھے راحت کا لن بھی جسامت میں میرے لن جتنا تھا اور بہت زیادہ خوبصورت تھا بالکل سفید رنگ کا اور اسکا ٹوپا گلابی تھا اور اس کے لن کے ارد گرد بالوں کا نشان تک نہ تھا جبکہ میرے لن پر اب ہلکے سے بال آنے لگے تھے لن سے کھیلتے کھیلتے میں نے راحت کو کہا کیا تمہیں اس میں مزہ آرہا ہےاس نے کہا ہاں تھوڑا آرہا ہے میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت تیز کر دی کیونکہ مجھے پتا تھا اس طرح کرنے سے مزہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ میں مٹھ مارنے کا تجربہ بھی کر چکا تھا۔ اور پھر ویسے ہی ہوا کچھ ہی دیر میں راحت آپے سے باہر ہونے لگا اور میرا ہاتھ پکڑنے لگا اور مجھے روکنے لگا اور کہنے لگا رک جاؤ مجھے کچھ ہو رہا ہےمگر میں رکا نہیں ، راحت نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا میں نے کہا یہ کیا راحت اصل مزہ تو اب شروع ہی ہوا تھا اور تم نے مجھے روک دیا اس نے کہا یہ کیسا مزہ ہے پاگل مجھے کچھ ہو رہا تھا میری جان نکلنے لگی تھی ۔میں نے کہا ایک دن سمجھ جاؤ گے خیر اب جلدی سے کپڑے اتارو میں نے جلدی سے اپنی شلوار اتار کر پھینک دی تھی اس نے بھی اتار دی اور بیڈ پر لیٹتے ہوئے گانڈ میری طرف کر دی کل والی پوزیشن میں مجھے اس پر بہت پیار آرہا تھا میں اسکی گانڈ کو چومنے لگا اسکی کمر پر پیار کیا اسکے چوتڑوں پر پیار کیا اس نے بعد تھوک اسکی گانڈ کے سوراخ پر ڈالی اور پھر اپنے لن کو تھوک سے تر کرنے لگا پھر ٹوپا سوراخ پر رکھا تنگ سوراخ پر اور جھٹکا دیا راحت کی ہلکی چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا اور آدھا لن تنگ گانڈ میں جا چکا تھا جو کہ بری طرح سے تنگ سوراخ میں جکڑا ہوا تھا جیسے میرے لن کو درمیان سے کاٹ دے گامیں نے اسے واپس کھینچا پھنس کر باہر آرہا تھا میں اور بہت سارا تھوک اسکے سوراخ اور اپنے لن پر لگایا اور تنگ سوراخ پر رکھ کر ایک دھکا لگایا اب آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا راحت نے کہا آرام سے درد ہوتا ہے میں نے اسکی نہیں سنی اور ایک اور دھکا لگایا اور سارا لن اسکے تنگ سوراخ میں غائب کر دیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم شکنجے میں جکڑا گیا ہو مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک منٹ ایسے ہی رکا رہا اس کے لن کی مٹھ مارتا رہا اس کے بعد اندر باہر کرنا شروع کیا میرا لن مشکل سے آجا رہا تھا ابھی مجھے ایک منٹ ہی ہوا تھا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔

دوستو جب بندہ نیا نیا جوان ہوتا ہے اور اس کام میں پڑتا ہے تو اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا نیا نیا مزے سے آشنا ہوتا ہے تو اس منزل کو بھی جلد پہنچنا چاہتا ہے ٹائمنگ کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس جلد سے جلد وہ منی نکال کر مزے کی انتہا کو پہنچنا چاہتا ہے اسی طرح مجھے بھی جب لگا میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا تو اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز کرنے لگا اور پھر آخر کار میں مزے کی اس انتہا کو پہنچ گیا جس کا خواہاں تھااور میرا لن راحت کی گاند کو راحت پہنچانے لگا اور تین چار پچکاریوں میں اپنی ساری منی اسکی تنگ اور خوبصورت گانڈ میں انڈیل دی اور میں راحت کے اوپر گر کر چنگھاڑتے ہوئے ہانپنے لگا کچھ دیر ایسے ہی پڑا رہا جب حواس بحال ہوئے تو اٹھا اور لن باہر کھینچا اور نکال کر صاف کیا اور اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور اسکے ساتھ ہی راحت نے بھی اپنی شلوار پہن لی اور ہم سٹڈی کرنے لگے راحت نے پوچھا مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت زیادہ اور تمہیں ؟ اس نے کہا پہلے تو درد ہوتا تھا مگر اب درد نہیں ہوا تھوڑا مزہ آیا ہے۔

پھر عروسہ بھی آگئی اور ہم سٹڈی کرنے لگے سٹڈی کرنے کے بعد راحت تو چلا گیا مگر عروسہ بیٹھی رہی راحت کے جانے کے بعد کہنے لگی یہ راحت آجکل کچھ جلدی نہیں آنے لگ گیا کتنے دن سے ہمیں موقع بھی نہیں مل رہا ،کیا خیال ہے مزہ کریں یہ کہہ کر اسنے میرا لن پکڑ لیا اور دبانے لگی میرا لن بھی اسکے ہاتھ کا لمس پاتے ہی آدھ کھڑا ہوچکا تھا مگر میں نے کہا آج نہیں یار کافی ٹائم ہوگیا ہے کوئی آبھی سکتا ہے عروسہ نے کہا تو پھر کب میں نے کہا کل دیکھتے ہیں۔

اگلے دن میں سکول چلا گیا اور آدھی چھٹی کے ٹائم میں فیاض کے پاس چلا گیا جو میرے ان چند دوستوں میں سے تھا جن سے مجھے سیکس کے بارے جاننے اور سیکھنے کو ملتا تھا ہم آٹھویں جماعت میں تھے وہ ہم سے ایک جماعت آگے یعنی نہویں یا جماعت نہم میں تھا اسکا قد میرے جتنا تھا مگر وہ کافی عمر کا لگتا تھا کیونکہ اسکی داڑھی اور مونچھ بہت حد تک آچکی تھی اور وہ سیکس کے معاملے میں کافی تجربہ کار تھا۔

میں نے اس سے کہا کیسے ہو دوست سناؤ آج کل کس لڑکی کی گانڈ مار رہے ہو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا تم پاگل ہو کیا لڑکیوں کی تو چوت مارتے ہیں گانڈ تیرے جیسے لونڈوں کی ماری جاتی ہے مجھے برا لگا کہ اس نے میرے بارے یہ بات کیوں کی میں اٹھ کر آنے لگا تو اس نے کہا ناراض کیوں ہو رہے ہو میں سچ بتا رہا ہوں اور میں نے ایک مثال دی ہے تیری مار نہیں رہا میں چل بیٹھ جا مذاق کر رہا ہوں میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا لڑکیوں کی چوت مارتے ہیں گانڈ نہیں پاگل مگر ایک بات یاد رکھ چوت صرف اس لڑکی کی مارتے ہیں جو جوان ہو جوابھی جوان نہ ہو اسکی چوت نہیں مارنی چاہیے۔ میں نے کیا یہ کیسے پتا چلے گا کونسی جوان ہے کونسی نہیں ؟ اس نے کہا تم بالکل بدھو ہو دیکھو جو لڑکی جوان ہوتی ہے اسکی چھاتیاں اگ آتی ہیں اور اسکو ماہواری آنے لگتی ہے میں نےحیران ہو کر پوچھا یہ ماہواری کیا ہوتی ہے اس نے مجھے جو بتایا اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے اس نے کیا ہر مہینے لڑکیوں کی چوت سے خون جیسا کچھ نکلتا ہے اس کو ماہواری یا مینسز کہتے ہیں میں حیران ہوا اور پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے اس نے کہا اس کا مطلب ہوتا ہے لڑکی جوان ہے اور اس میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آگئی ہے میں نے کہا تو کیا ہر لڑکی کو ماہواری آتی ہے اس نے کہا ہاں ہر جون لڑکی کو آتی ہے مگر جب بچہ پیٹ میں بنتا ہے تو ماہواری رک جاتی ہے ۔یہ سب باتیں میرے لیے نئی اور حیران کن تھیں آدھی چھٹی کو چند منٹ رہ گئے تھے اس لیے میں انہیں سوچوں میں گم واپس آگیا اور سوچ رہا تھا کیا عروسہ کو بھی ماہواری آتی ہوگی پھر سوچا آج پوچھ لوں گااور پھر چھٹی تک میں انہیں باتوں کی ادھیڑ بن میں لگا رہا۔

چھٹی کے بعد ہم گھر آگئے اور پھر مجھے انتظار تھا کہ کب عروسہ آئے اور میں اس سے پوچھوں اور پھر عروسہ اور راحت ایک ساتھ آگئے اور مجھے کچھ کرنے اور پوچھنے کا موقع ہی نا ملا سٹڈی کرتے ہوئے میں نے عروسہ کے کان میں کہا رات کو میں تمہارے چھت والے کمرے میں آؤں گا نو بجے اور پھر رات کو میں اپنی چھت سے راحت کی چھت پر اور پھر وہاں سے عروسہ کی چھت والے کمرے میں چلا گیا ابھی وہاں گیا ہی تھا کہ عروسہ بھی آگئی ہم کمرے میں چلے گئے اور لائٹ بند کر دی مگر کمرے میں پھر بھی دیکھنے لائق روشنی تھی کیونکہ باہر سے محلہ روشن تھا اور باہر کی روشنی کمرے کو بھی کچھ نہ کچھ روشن کر رہی تھی میں جاتے ہی اسے بانہوں میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز دبانے لگا اور پھر ہاتھ نیچے لے جا کر نرم اور موٹی گاند دبانے لگا اسکی گانڈ پہلے سے زیادہ موٹی لگ رہی تھی مطلب کمر سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی میں نے جلدی سے اسکی شلوار نیچے کردی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر آگے چوت پر لے آیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے اور سوراخ چیک کرنے لگا عروسہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی خیر تو ہے آج یہاں کیا کرنے لگے ہو میں نے کہا ایک بات تو بتاؤ تمہیں ماہواری آتی ہے ؟ وہ حیران ہوئی اور کہنے لگی تمہیں کیسے پتا چلا ابھی کچھ دن پہلے آئی ہے پہلی دفعہ میں نے کہا تو ٹھیک ہے پھر آج میں یہاں لن ڈالوں گا میں نے چوت میں انگلی گھساتے ہوئے کہا وہ گھبرا گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کیا کہنے لگی نہیں نہیں یہاں نہیں میں نے بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں اب اپنی قمیض بھی اتار دو اس نے کہا نہیں شلوار اتاری ہوئی ہے ایسے کر لو جیسے پہلے کرتے ہو میں نے کہا نہیں سارے اتارو آج اور میں نے اسکی قمیض پکر کر اوپر کرنی چاہی تو اس نے بھی ساتھ دیا اور اتار دی پھر میں اسکے بدن کو چومنے لگا اور وہاں سے اسکے بوبز پر آگیا اور بوبز چوسنے اور چومنے لگا ساتھ ساتھ اسکی گانڈ میں بھی ہاتھ پھیر رہا تھا پھر کچھ دیر بوبز چوسنے کے بعد اسے کہا جھک جاؤ وہ ڈوگی سٹائل میں آگئی تو میں اسکی گاند کا اور کمر کو چومنے لگا اور پھر اپنا منہ سوراخ کے قریب لا کر اس پر تھوک پھینکا اور انگلی سے اچھے سے لگا دیا اور پھر تھوک سے اپنے لن کو چکنا کیا اور گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا اور پھر ایک ہلکا سا جھٹکا مارا ٹوپے سے کچھ زیادہ اندر تھا پھر لن نکال کر اور تھوک لگایا اور پھر سارا ہی اندر کر دیا نرم اور گرم گانڈ میں اور پھر سارا اندر کر کے وہیں رک گیا اور پھر اسکی پیٹھ چومنے لگا اور نیچے ہاتھ لے جا کر اسکے بوبز دبانے لگا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد لن کو حرکت دینی شروع کر دی اور پھر درمیانی سپیڈ سے اندر باہر کرنے لگا ساتھ ہی ساتھ اسکے بوبز بھی دبا رہا تھا ایک دو منٹ اندر باہر کرنے کے بعد لن باہر نکالتا اور تھوک لگا کر پھر ڈال دیتا آج مجھے پانچ منٹ ہو چکے تھے اندر باہر کرتے ہوئے اور اب میں لذت کی انتہا کو جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا اور کچھ دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میری جان لن سے نکلنے لگی ہے اور میرا لن اور سخت ہو کر پھول گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور پھر لن کو گانڈ کی گہرائی میں روک کر فارغ ہونے لگا میرا لن جھٹکے کھا کھا کر منی کی پچکاریاں مار ریا تھا اور میں چنگھاڑتے ہوئے اسکے اوپر پڑا تیز سانسیں لے رہا تھا اور لگ رہا تھا آج عروسہ کو بھی بہت مزہ آیا ہے کیونکہ وہ اپنی گانڈ کو بھی لن کے گرد مزید کس رہی تھی دبا رہی تھی بھینچ رہی تھی نچوڑ رہی تھی ۔

ساری منی نکل جانے اور حواس بحال ہونے کے بعد میں اس کے اوپر سے اترا اور وہاں پڑے پرانے کپڑے سے اپنا لن صاف کرنے لگا اور اتنے میں عروسہ نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے اور پھر وہ نیچے چلی گئی اور میں واپس اپنے گھر آگیا ۔

تو دوستو وقت گزر رہا تھا اور میں کبھی عروسہ کی اور کبھی راحت کی گانڈ مار رہا تھا یہ سب کرتے مجھے اب دو تین مہینے ہو چکے تھے اب میرا لن بھی لمبائی اور موٹائی میں کچھ بڑھ چکا تھا اور اب راحت کی گانڈ بھی کچھ موٹی ہوکر مٹکنے لگی تھی اور اسکے بوبز بھی کچھ بڑھ رہے تھے مگر اتنے نہیں تھے کہ کپڑوں میں واضع نظر آتے مجھے اس کے بوبز کا اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک رات اسے چودتے ہوئے سارے کپڑے اتارنے کا کہا میں اسکے بوبز دیکھ کر حیران ہوا اسکے بوبز عروسہ جتنے بڑے تو نہیں تھے مگر کافی ہوگئے تھے اس نے اپنا حلیہ چونکہ لڑکوں والا رکھا تھا اس لیے دیکھنے والوں کو زیادہ محسوس نہیں ہوتے تھے اور اسکا لن بھی میرے لن کی طرح بڑھ رہا تھا ۔ اور میں سکول میں اپنے اس کمینے دوست فیاض سے بہت کچھ سیکھ رہا تھا جان رہا تھا اور وہ سب کچھ راحت اور عروسہ پر آزما رہا تھا ایسے سمجھ لو کہ میں پڑھنے اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی کر رہا تھا اور پھر ایک دن عروسہ نے بھی مجھے راحت کو چودتے ہوئے دیکھ لیا۔شاید وہ ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی جب میں فارغ ہو گیا اور لن راحت کی گانڈ سے نکال لیا وہ ایک دم سے کھڑکی سے ظاہر ہوئی کھڑکی ایسے بند تھی کنڈی کرنا ہم بھول گئے تھے ، اس نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے ۔ہم دونوں چونک گئے کھڑکی کی طرف دیکھاتو عروسہ کھڑی مسکرا رہی تھی میرا لن مرجھا چکا تھا مگر راحت کا لن اب بھی نیم کھڑا تھا وہ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی راحت کو اور اس کے لن کو میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور جا کر دروازہ کھولا تو وہ اندر آگئی ۔کہنے لگی کب سے چل رہا ہے یہ سب زیادہ ٹائم نہیں ہوا زیادہ ٹائم نہیں ہواعروسہ نے مسکرا کر راحت کی طرف دیکھا راحت شرما رہا تھا اس سے عروسہ نے راحت سے کہا تم کب سے گانڈو بن گئے ہو میں تو تمہیں معصوم اور شرمیلا سمجھتی تھی راحت نےفٹ سے کہا جب سے تمہیں گانڈ مروتے ہوئے دیکھا تب سے میں بھی بن گیا عروسہ کو نہیں پتا تھا کہ راحت سب جانتا ہے وہ یہ سن کر چونک پڑی اور گھبرا گئی میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں راحت شروع سے سب جانتا ہے اور ہمارا ہم راز ہے کسی کو نہیں بتائے گاتب عروسہ نارمل ہوئی اور پھر ہم سٹڈی کرنے لگے ۔

اب ہمیں ایک دوسرے کا کوئی ڈر یا پردہ نہیں تھا ہم جو چاہتے کھل کر کر سکتے تھے اب ہم تینوں ایک دوسرے کے ہم راز بن چکے تھے۔ اب میں جب چاہتا راحت کی موجودگی میں عروسہ کو چود سکتا تھا یا عروسہ کی موجودگی میں راحت کی لے سکتا تھا اب سٹڈی کرتے کرتے عروسہ راحت کی موجودگی میں میرا لن بھی پکڑ لیتی تھی اور اس سے کھیل لیتی تھی اور میں اسکے بوبز دبا لیتا تھا یا میں اور راحت ایک دوسرے سے لن بھی لڑا لیتے تھے یا ایک دوسرے کی مٹھ لگا لیتے تھے یا ایک دوسرے سے لن کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے کہ کس کا خوبصورت سے یا کس کا بڑا ہے کس کا زیادہ موٹا ہے ۔میں نے ایک بات محسوس کی کہ جب عروسہ میرا لن پکڑتی دباتی یا اس سے کھیلتی تو راحت کو برا محسوس ہوتا یا وہ جیلس ہوتا تھا پتا نہیں ۔

ایک دن جب عروسہ میرے لن کو باہر نکال کر اس سے کھیل رہی تھی تو اچانک ہی راحت نے بھی اپنا لن باہر نکال لیا اور ہمارے پاس آکر کہنے لگا یہ کیا تم بس ایک لن سے ہی چمٹی رہتی ہو یہ دیکھو میرا اس سے زیادہ خوبصورت ہے یہ لو اسے پکڑو عروسہ نے اسکا لن بھی پکڑ لیا اب پوزیشن یہ تھی کہ درمیان میں عروسہ بیٹھی تھی ایک طرف راحت اپنا سانپ نکالے بیٹھا تھا اور اس کے دوسری طرف میں اور عروسہ کا ایک ہاتھ ا سکے ناگ پر تھا اور ایک ہاتھ میرے۔اسی وقت مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے راحت سے کیا تم اصل مزہ لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تو پھر میری طرف آجاؤوہ دوسری طرف آگیا اب میں درمیان میں تھا ایک طرف راحت تھا اور دوسری طرف عروسہ تھی میں نے راحت کو لن سے پکڑ کر کہا بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا تو میں نے تھوک اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور اسے راحت کے لن پر مل دیا اور اسکی مٹھ لگانے لگا میں بار بار ہاتھ کو گیلا کرتا جاتا اور اپنے ہاتھ کی حرکت کو تیز کرتا جاتا دوتین منٹ ہی ہوئے تھے ہی راحت کی حالت خراب ہونے لگی اس نے کہا بس کر مجھے کچھ ہو رہا ہے مگر میں لگا رہا عروسہ ہنس رہی تھی اسے پتا تھا کہ راحت کو کیا ہو رہا ہے میں نے راحت سے کہا یہی تو اصل مزہ ہوتا ہے یہ کہہ کر میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت بڑھا دی ابھی چند بار ہی ہاتھ کو حرکت دی تھی کہ راحت کا لن جھٹکے کھاتے ہوئے اپنا پانی چھوڑنے لگا اسکا پانی آج پہلی بار نکلا تھا وہ حیران ہو رہا تھا بانی نکلنے کے بعد اسے سکون سا آگیا میں نے کہا کیوں آیا نہ مزہ اس نے کہا ہاں یار بہت زیادہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ اصل مزہ کیا ہوتا ہے۔

 

📢 Post Your Ad Here

میجر صاحب بہت زبردست اسٹوری تھی  آپ کی امید کرتے ہیں یہ اس سے بڑھ کر ہوگی

بہت کم اس طرح کی منفرد کہانیاں اویلیبل ہیں 

 

آہستہ چل رہے ہو

لیکن بہترین ٹریک پہ چل رہے ہو

امید ہے

میجر صاحب کی طرح یہ کہانی بھی سپر ہٹ ھو گی

بہت پیارا انداز تحریر ہے 

آپ کا پیارے بھائی

واہ واہ ۔۔۔۔۔۔ بہت ہی اچھی اپڈیٹ ۔۔۔۔

جوانی کے دن ہی ایسے ہوتے ہیں۔بس کسی چیز کا پتا چلنا چاہیے۔پھر اس کی ایسی لٹ لگتی ہے کہ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

کہانی کا آغاز دلچسپ ہے مگر کردار محدود ہیں اور توجہ صرف سیکس سینز پر ہے.. یہ کہانی کو یک سمتی بنا رہے ہیں

زبردست جناب

بہت ہی یونیک موضوع پر لکھ رہے ہیں

مزید کا شدت سے انتظار ہے

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.