Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کنٹین والی لڑکی

Featured Replies

  • Author
4 hours ago, Sharartikaka said:

Good keep it up yar maza aya bt plz font ko change kar dya karo

font kesae change hoga 

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

Byai jan comment na karny wala tau masla ha yaha par... Dr. Khan ki Tarha mustakil mizagi se lagy rahy yehi masvara ha apko... Ni tau nadani se jawani ka safar aur otar, charhao ki surate Hall apke samny ہے. Vaki apki story bohat interesting ha aur aggy ja k aur b hogi continue rakhny ki darkhawast ha apse..... Salamti ki dhero duayein 🤗

On 3/17/2020 at 9:37 AM, Mehar_ch said:

بہت خوب اورشاندار 

Mehar Sahab ek story تھی jis me iqra heroine aur hero Mehar Sahab aur name shayd Ali تھا aur story k character eshal, صبا, aur b bohat sary thy. آپ tau uske writer nahi ha. Agar ہے tau wo story apny complete q ni کی? 

15 hours ago, Saqlan said:

Mehar Sahab ek story تھی jis me iqra heroine aur hero Mehar Sahab aur name shayd Ali تھا aur story k character eshal, صبا, aur b bohat sary thy. آپ tau uske writer nahi ha. Agar ہے tau wo story apny complete q ni کی? 

نہیں بھائی وہ میں نے نہیں لکھی 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

کنٹین والی لڑکی 
قسط 5
میڈم عفیفہ پہلے تو حیرانی سے مجھے دیکھتی رہیں اور پھر کہنے لگیں صندل تو یہاں کیا کر رہی ہے۔ عائزہ بھی الف ننگی میز پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی۔ میڈم عفیفہ بھی بالکل ننگی تھیں اور ان کے کپڑے اس فرش پر پڑے تھے جس پر میں گری تھی۔ میں نے میڈم عفیفہ  کو جواب دیا میڈم میں کلاس میں گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا تو میں نے سوچا کہ آپ یہاں ہوں گی اس لئے آپ کو دیکھنے ادھر آگئی (میں جان بوجھ کر بشری کا ذکر گول کرگئی کہ میڈم اس بے چاری پر غصے نہ ہوں) میڈم نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے گھورنے لگیں، مجھے ان کی نگاہوں سے خوف آرہا تھا۔ جیسا کہ میں دوسری قسط میں بتا چکی ہوں کہ میڈم عفیفہ تقریباً وائس پرنسبل تھیں میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور انکا غصہ پورے اسکول میں بہت مشہور تھا چونکہ ہمارا اسکول 12ویں جماعت تک یعنی ہائر اسکینڈری تھا اس لئے وہاں فرسٹ اور سیکنڈ ایر  کی طالبات بھی تھیں وہ بھی میڈم عفیفہ کے غصے سے ڈرتی تھیں۔  میڈم عفیفہ کے میاں کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ میں میڈم کے گھورنے سے بہت نروس ہو رہی تھی، میڈم نے اپنی کڑک دار آواز میں پوچھا تو نے بک شیلف کے پیچھے سے کیا دیکھا، میں کچھ نہ بولی بلکہ سر جھکا کر کھڑی رہی۔ میڈم نے پھر غصے سے پوچھا گشتی منہ میں زبان نہیں ہے کیا کہ تیری ماں کو بلا کر بتاوں کہ تیری بیٹی یہاں جمیز بونڈ بن کر دوسروں کی ٹوہ لے رہی ہے۔ بول کیا دیکھا، میڈم کے اس طرح تیسری بار پوچھنے پر منہ سے نکل گیا جی وہ میں نے دیکھا کہ آپ عائزہ کو پیار کررہی ہیں۔ اور لائیبریری میں گرمی کی وجہ سے آپ نے کپڑے اتار دیے ہیں۔ میرا آخری جملہ سن کر میڈم کی ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگی ارے واہ تو بہت چالاک نکلی یہ بہانہ تو میری سمجھ میں بھی کبھی نہیں آیا۔ آگے آ، میں میڈم کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، میڈم نے میرے ہونٹوں کو چٹکی سے لے کر مسل دیا میری سی نکل گئی پھر میڈم نے میرے گالوں کو چوم لیا اور پھر کہا تو تو بڑی نمکین ہے۔ اس تمام گفتگو کے دوران عائزہ بڑی خاموشی سے ساری باتیں سن رہی تھی۔ میڈم نے اسے کہا کیوں ری تو کیا یہاں ولیمے میں آئی نیچے اتر میز سے۔ عائزہ اتر کر میرے ساتھ کھڑی ہوگئی، پھر  میڈم عفیفہ نے اسے کہا جا لایبریری کی کنڈی لگادے یہ نہ ہو کوئی اور تیسرا ٹپک پڑےجب تک عائزہ آئی میڈم میرے مموں پر ہاتھ پھرتی رہیں، عائزہ کے آنے کے میڈم نے مجھ سے پوچھا کہ جب میں عائزہ کو پیار کر ہی تھی تو تجھے کیسے لگا، میں خامو ش کھڑی رہی میڈم نے پھر غصے سے کہا بولتی کیوں نہیں۔ دوستو سچی بات یہ ہے کہ مجھے پتہ تھا کہ میڈم نے مجھے ایسے تو چھوڑنا نہیں بدلہ پر بھی اتر سکتی تھی، پھر میرے دل میں وہ خیال اور حکمت عملی آئی جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ میں خاموش کھڑی تھی میڈم نے اپنی ننگی لات آگے بڑھائی اور اپنے پیر سے میری پھدی کو اپنے پیر کے انگوٹھے سے مسل دیا اور کہا جواب دے، میری ہلکی سی  چیخ نکل گئی۔ لیکن تب تک میں نے اپنی حکمت عملی تشکیل دے لی تھی۔ میں نے بڑی شرمیلی آواز میں کہا کہ جی اچھا لگ رہا تھا۔ میڈم نے کہا کہ واہ تو بڑی گرم ہے، کیوں اچھا لگ رہا تھا کیا عائزہ اچھی لگتی ہے تجھے۔ میں نے نفی میں سر ہلادیا میڈم کے چہرے پر شدید حیرانی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے کہا اچھا پھر کیوں مزا آرہا تھا  میں نے بڑی آہستہ آواز میں کہا کہ میڈم مجھے آپ اچھی لگتی ہیں بہت زیادہ۔  میڈم عفیفہ کے چہرے کا تو رنگ ہی بدل گیا انہوں نے مجھے اور قریب  کرلیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اور کہا سچ کہہ رہی ہے، میں نے بھی دل کڑا کر کہا جی میڈم اور پھر ایک خیال برق کی طر ح میرے دماغ میں کوندا میں نے کہا کہ میڈم لاسٹ فنکشن والے دن سے آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ جب آپ نے سفید لان کا سوٹ اور شیفون کا  ملٹی کلر ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ میڈم کا چہرہ تو گلنار ہوگیا اور انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا اچھا تو جانو اب تک بتایا کیوں نہیں، میں نے کہا شرم آتی تھی میڈم نے پھر مجھے بازوں میں بھینچ لیا۔ پھر ان کو کچھ خیال آیا انہوں عائزہ کو کہا کپڑے تو پہن لے کہ وہ بھی میں پہناوں۔ عائزہ نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ پھر میں نے میڈم کو کہا کہ میڈم 3بج گئے کوئی یہاں نہ آجائے۔  میڈم عفیفہ نے یہ بات سن کر کہا ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہے تو 2منٹ یہاں ٹھیر، پھر میڈم کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئیں، وہاں سے کپڑے پہن کر آیئں تو کہنے لگیں عائزہ اب تو نکل اور دیکھ اپنی زبان بند رکھنا۔ اس کے جانے کے بعد کہنے لگیں  صندل تو میری جان ہے اور میری پکی جگر ہے۔ تو جمعے والے دن میرے گھر چکر لگانا میں تیری امی سے خود بات کرلوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میڈم پھر میں نے ایک ایسا کام کیا جس کی مجھے خود بھی امید نہ تھی میں نے آگے بڑھ کر میڈم کی آنکھوں کو کس کردیا، میڈم تو نہال ہوگئیں اور کہا ہائے ظالم ایسے کرے گی تو میں رات تیرے ساتھ یہیں گزار دوں گی۔ اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں باہر نکل آئے اور بڑے صیح وقت پر نکل آئے کیونکہ سامنے سے پی ٹی ٹچر میم رفعت آرہی تھیں، انہوں نے  میڈم عفیفہ کو سلام کیا اور پاس کھڑی ہوگئیں،  میڈم عفیفہ نے میری طرف دیکھ کر  پیاری بچی ہے ، تب تک میں آگے نکل آئی۔ ہے۔۔ میڈم عفیفہ نے کہا ہاںکہا تم جاو اور دیکھو محنت کرو گی تو اپنی ماں اور مرحوم باپ کو خواب پورا  کرسکوگی۔ میں نے کہا جی میڈم اور میں چل پڑی مجھے میڈم رفعت کی آواز آئی بہت اچھی اور ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور آج کے سارے ماجرے پر غور کرتی رہی اور آگے کی پلاننگ کرتی رہی، میں نے یہ بات ٹھان لی تھی کہ ہر حالت میں میڈم عفیفہ کو قابو کرنا ہے اور اب زندگی  دب کر نہیں گزارنی۔ اس طرح کی باتیں سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی۔ اگلے دن کنٹین میں آدھی تفریح کے بعد میں اور رقیہ باجی جب کام کے پریشر سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں بلا کم و کاست ساری داستان سنا دی، میرا خیال تھا کہ باجی پریشان ہوجائیں گی۔ لیکن رقیہ باجی کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا انہوں نے کہا کہ اگر  میڈم عفیفہ نے عائزہ کے ساتھ سیکس نہ کیا ہوتا تو یہ خطرے کی بات تھی لیکن اب وہ کوئی وار نہیں کرے گی بلکہ تعلقات کی کوئی راہ نکالے گی تو پریشان نہ ہو میری بنو تو بس جمعے کا انتظار کر پھر ہم آگے کی سوچیں گے۔  ویسے عفیفہ طاقتور اور بہت گرم عورت ہے تیرے کڑاکے نکال دے گی لیکن تو نے ایک ایسا وار کیا ہے وہ بچ نہیں سکتی۔ میں کہا باجی وہ کیا۔ انہوں نے کہا میری بنو آج تک  میڈم عفیفہ نے جس لڑکی کے ساتھ بھی سیکس کیا ہوگا وہ زبردستی کا سودا ہوگا، لیکن تونے  پیار کی وہ چھڑی گھمائی کہ وہ پاگل ہوگئی ہوگی اور اب وہ تجھے بہت عزیز رکھے گی کونہ عورت سب سے زیادہ پیار اس سے کرتی ہے جو اس کو چاہتا ہے ۔ بس اب تو ذرا سنبھل کر چلنا، میں نے کہا کہ رقیہ باجی بس اب رہنمائی کرتی رہنا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں میں کوئی ٹریفک پولیس ہوں کہ راستہ دکھاتی رہوں۔ اسی طرح ہنسی مذاق میں دن کٹ گیا اور پھر ٹھیک دو دن بعد جمعہ آگیا۔ جمعے کے دن  میڈم عفیفہ ایک ٹیکسی پر ہمارے گھر آگئیں وہ اسکول کے قریب رہتی تھیں انہوں انے امی سے بات کی ہوئی تھئی کہ کچھ پڑھائی کے لیے صندل کو لے کر جانا ہے امی بھی حیران تھیں کہ اتنی سخت عورت ہم پر مہربان کیسے  ہوگئی، پھر میں میڈم کے ساتھ انکے گھر پہنچ گئی۔ جب میڈم نے بیل بجائی تو ایک بہت پیاری سی لڑکی نے دروازہ کھولا۔ اس لڑکی کی عمر کوئی  25سال تھی لیکن کین وہ لگتی 18سال کی تھی اس نے چارد نما حجاب سے چہرے کو کور کیا ہو تھا اور اسکی آنکھیں ہلکی سبز تھیں ناک ستواں اور بڑی کیوٹ سی سمائل اسکے چہرے پر تھی۔ میڈم نے  اس کے سلام کا جواب دیا اور مجھے کہا یہ کہ صندل یہ میری بہو شازیہ ہے۔اور شازی یہ میری سٹوڈنٹ صندل ہے بہت اچھی بچی ہے میں نے کل تمہیں بتایا تھا نا اسکے بارے میں  شازیہ نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جی جی آپ نے بتایا تھا۔ ہم لوگ اندر آگئے، میڈم کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تو تھوڑی دیر بعد شازیہ جوس کے دو گلاس لے آئی اور پھر اس نے میڈم کو کہا امی میں نے آپ کو بتایا تھا نہ آج جانے کا میڈم نے کہا ہاں ہاں بتایا تھا مگر کیسے جاو گی۔ شازیہ نے کہا جی عمیر آرہا ہے مجھے لینے کے لیے اور گڈو کو وہ صبح ہی لے گیا تھا، میڈم نے مجھے کہا کہ آج اس نے پنی امی کے گھر جانا ہے وہ یہیں جی ایٹ میں رہتی ہیں، پھر کہنے لگی گڈو اس کا بیٹا اور میرا پوتا ہے ابھی کلاس ون میں ہے۔ ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ داروزے پر بیل بجی شازیہ دروازے پر گئی تو واپسی پر اس کے ساتھ ایک  اٹھارہ انیس سالہ نوجوان تھا جو اس کا بھائی اشعر تھا۔  اشعر ایک معصوم شکل کا خوبصورت لڑکا تھا جس کی شکل آج کے  زمانے کے ہیرو شاہد کپور کی طرح تھی اس نے اپنی بہن کو کہا کہ بیگ لے آو  تو چلتے ہیں  پھر اس نے میڈم عفیفہ کے آگے سلام کے لیے سر کو جھکا یا تو میڈم نے اس کو گلے سے لگا لیا اور پھر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا ماشااللہ ہیرو لگ رہا ہے، اشعر کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔ .یں نے کہا کہ میڈم آپکے گھر میں اور کون کون ہے۔ میڈم نے کہا کہ ایک بیٹی کی ابھی شادی ہوئی ہے وہ کراچی میں رہتی ہے اور دوسرا بیٹا  فوج میں ہے ابھی پی ایم اے میں اتنی دیر میں شازیہ آگئی اور دونوں بہیں بھائی میڈم کی اجازت لے کر چلے گئے۔ میڈم نے کہا کہ میں دروازے بند کرکے آتی ہوں پھر میڈم دروازہ لاک کرے کے آگئیںکیڈٹ ہے۔ میں نے کہا تو شازیہ کیا شام کو آئے گی۔ میڈم  نے کہا ہاں وہ شام تک اپنی امی کے گھر رکے گی اور میں نے تمہاری امی کو بتادیا تھا کہ تم شام تک  میرے پاس رکو گی۔ یہ کہہ کر میڈم نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور اسی طرح اٹھائے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئیں۔ میڈم کو جی سکس فور میں ایک ای ٹائپ مکان ملا ہوا تھا جس کے کمرے بڑے بڑے تھے۔ کمرے میں جا کر میڈم نے مجھے گود سے اتارا اور کہا کہ میں زرا کپڑے بدل کر آتی ہوں تو میرا انتظار کر۔ یہ کہہ کر میڈم باتھ روم میں چلی گئی تو مجھے شاور کا پانی گرنے کی آواز آنے لگی۔ پھر تین منٹ بعد میڈم باہر نکلیں تو کیا غضب کی لگ رہی تھیں میڈم نے ایک کالی نیکر اور سفید ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بال گیلے تھے اور کھلے ہوئے تھے۔ کچھ تو ویس بھی وہ بہت سیکسی لگ رہی تھیں کچھ میں بے بھی مبہوت ہونے کی اداکاری کی  اور ٹک ٹک میڈم کو دیکھتی رہی، میڈم پر اس کا بڑا اثر ہوا اور میرے قریب آکے کہنے لگیں جگر کیا دیکھ رہی ہے اب نظر لگائے گی کیا، میں نے کہا آپ تو ہو ہی اتنی پیاری میں کیا کروں، یہ سن کر میڈم عفیفہ  جیسی گھاگ عورت بھی جذباتی ہوگئی اور مجھے کہنے لگی سچ میں میں تجھے اتنی پیاری لگتی ہوں  میں نے کہا آپکی قسم، یہ سن کر میڈم نے مجھے خود سے لپٹا لیا اور میرے چہرے پر بوسوں کی بارش کردی جب یہ بارش تھی تو میڈم نے کہا کہ میں بال سکھا لوں تو اتنی دیر میں نہالے۔  میڈم نے الماری سے ایک تولیہ نکال کر مجھے دیا اور میں باتھ روم چلی گئی واہ کیا باتھ روم تھا ہمارے باتھ روم سے تین گنا بڑا اور اس میں شاور بھی تھا میں کبھی شاور سے نہیں نہائی تھی ہمارے باتھ روم میں تو صرف بالٹی تھی۔ میں نے نہانے کے لئے کپڑے اتارے اور شاور کا گرم پانی کھول کر نیچے کھڑی ہوگئی اف کیا مزیدار نہانا تھا مزا آگیا۔ ابھی میں نہا رہی تھی کہ میڈم نے دروازے پر دستک دی اور کہا جگر جو کپڑے اتارے ہیں وہ دیدے، میں بے دروازے کی اوٹ سے انہیں اتارے ہوئے کپڑے پکڑا دئے۔ جب میں نہا کر فارغ ہوئی تو میں نے میڈم کے بتائے ہوئے کپڑے تلاش کیے جو کہیں نہ ملے پھر ایک سائیڈ پر ایک کالی نائٹی نظر آئی جو میرے گھٹنوں تک ہی آتی تھی۔  میں مجبورا وہ ہی پہن کر باہر نکل آئی۔ مجھے دیکھ کر  میڈم کے منہ سے ایک سیٹی نکل گئی۔ میڈم نے مجھے پھر گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹادیا۔میڈم نے   پھر بڑے ہی رومینٹک لہجے میری   طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تم یقین نہیں کرو گیصندل  جب سے میں نے تمہارے مموں کو دیکھا ہے مجھے یہ بہت اچھی لگے ہیں نہ یہ زیادہ بڑے ہیں نہ چھوٹے ان کا سائز قیامت ہے قیامت بالکل کچے امرود جیسا۔ اپنے مموں  کی تعریف سن کر سرخ ہوتا ہوا ثمینہ کا چہرہ جزبات کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔پھر انہوں نے  نے براہِ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا جان میری اگر تم ناراض نہ ہو تو میں کیا  ان کو دیکھ سکتی ہوں؟ اور میرے  جواب کا انتظار کیئے بغیر میری نائٹی کا واحد بٹن کھول دیا  اور پھر۔۔۔۔ برا ہٹا کرمیرے مموں کو بالکل برہنہ کردیا  میری  چھاتیاں کافی گوری اور گول تھیں ان گول گول چھاتیوں پر ہلکے براؤن رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو اس وقت اکڑے ہوئے تھے۔میڈم  میری طرف دیکھ رہی تھیں  اور بہت گرم ہو گئی تھیں  پھر انہوں نے  ایکممے  کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ میں لے لیا۔اور اسے چوسنے لگیں۔  ممے  کو منہ میں ڈالنے کی دیر تھی کہمیں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور نپل چوسنے کو انجوائے کرنے لگی،  اس کے ساتھ ہی میرے  منہ سے لذت آمیز ہلکی ہلکی کراہیں نکلنے لگیں۔۔اْف۔ف۔ میم۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ میری  کراہیں سن کرمیم نے   نپل کو اپنے منہ سے ہٹایا۔۔۔۔اورمیری  طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ صندل  تمہیں مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔ تومیں   نے آنکھیں کھول کرکہا جی میڈم  مجھے بہت مزہ آرہا ہے آپ ایسے ہی چوستی جاؤ اور میڈم  کچھ اور جوش اور خوشی سے میرے دونوں مموں کو چوسنے لگ گئیں میرے مموں  کوچوستے چوستے اب میڈم  نے اپنا ایک ہاتھ میری  رانوں کی طرف لے گئیں۔۔۔ انکا  ہاتھمیری  رانوں کی طرف بڑھا۔۔۔ایک دفعہ پھر میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی میڈم آئی لو یو۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے جوش میں آ گئی اور بڑی ہی سیکسی آواز میں کہنے لگی۔ تو میرا جگر کا ٹوٹا ہے صندل تو پہلی لڑکی ہے جس نے میرا پیار میں بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری   پھدی کی طرف جانے والی۔۔۔۔ اپنی  انگلیوں کو جو اس وقت میری  سڈول ننگی رانوں پر رینگ رہیں تھیں کے لیئے میری دونوں ٹانگوں کو کچھ مزید کھول دیا میڈم کی آنکھیں اس وقت بالکل لال ہوچکی تھیں اور ان  میں  ہوس کے سرخ ڈورے تیررہے تھے میڈم  نے  میرے ادھ کھلے ہونٹوں کو اپنے سیکسی ہونٹوں کو  میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگی کچھ ہی دیر میں انہوں  نے اپنی زبان سے میرے ہونٹوں پر دستک دینی شروع کر دی یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ کھولا اور انکی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااوران کی  زبان کو چوسنے لگی۔۔ پھر کچھ دیر بعدمیری  پھدی پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔اس  پھدی کو پہلے بھی کسی نے چاٹا ہے یا میری پہلی دفعہ ہے تو میں  شرماتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں میم  یہ پہلی دفعہ ہے (میں نے رقیہ باجی والا قصہ نہ میڈم کو سنایا تھا نہ سنانے کا ارادہ تھا)  میڈم نے کہا کہ واہ سیل بند پھدی کا اپنا مزہ ہے  اس اپنی انگلی کو میری ننگی چوت پر پھیرتے ہوئے بولیواہ واہ ریشم کی طرح نرم ہے۔ وہ چوت چیک کرنے لگی۔آج میری  چوت  کلین شیو تھی۔۔۔ چوت کے دونوں لب اندر کی طر ف مْڑے ہوئے تھے اور پھدی کی لکیر کے عین اوپر ایک موٹا سا پھولا ہوا دانہ تھا۔۔۔۔۔۔ انہوں نے میری کلین شیو پھدی پر ہاتھ پھیرا اور اپنی ایک انگلی چوت کے اندر  داخل کر دی۔  پھر  اس کے ساتھ ساتھ ہی میری  چوت پر جھکی اوراس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگی۔جیسے ہی انہوں  نے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیا۔۔۔۔ میں  سسکی لیتے ہوئے کہنے لگی  میم جی  میری پھدی۔۔۔ کو  زور سے چوسیں۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ  پہلے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیئے ہلکے ہلکے چوس رہی تھیں اب انہوں  نے اس دانے کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوئے چوت کو چوسنے کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔۔ ان کی  اس حرکت سے میں  تڑپنے لگی تھوڑی دی اس طرح کرنے  کے بعد انہوں اپنی قمیض اتار دی اور اپنا انار کے سائز کا ممہ میرے منہ کے آگے کردیا اور اور کہنے لگیں اس کو چوس، میں اس وقت مستی کے عالم میں تھی میں نے بھی انکے ممے چوسنے شروع کردئے باجی کے ممے گندمی رنگ کے تھے اور ابھی مجھے چوستے ہوئے 2منٹ ہی ہوئے تھے کہ میم نے بھی ہلکی ہلکی چیخیں مارنی شروع کر دیں اور ساتھ ساتھ میرے چوتڑوں پر ہلکا ہلکا مساج شروع کردیا، پھر میڈم نے اپنی نیکر اتار دی  تھوڑی دیر بعد میم نے ٹانگیں کھول دی اور ر میرے سر کو۔۔اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگی اب تمہاری باری۔ ویسے شائد میں کبھی یہ کام نہ کرتی لیکن سچی میں اس قدر گرم ہوگئی تھی کہ میں  اسی طرح ان کی چوت کو چومنا  شروع کر دیا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد۔۔۔۔ میڈم نے  نے اپنی پھدی کے دونوں لبوں کو کھول کر کہا صندل جان   ادھر  زبان ڈالواس کی یہ بات سن کر میں نے پھدی کے  کھولے ہوئے لبوں پر نظرڈالی تو ان کی چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان والی جگہ آف وائیٹ پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نینائٹی کے کونے سے ان  کی چوت کے درمیان لگے آف وائیٹ پانی کو صاف کیا اور پھر  چوت کی دیواروں کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ ایسا کرتے ہی مزے اور جوش کے ماریان کے منہ سے ہیجان خیز آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں اور وہ مستی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ صندل میرے شونا اور زور سے اور زور سے میری جان میرے جگر اور یوں میں ان کی پھدی کو مزید جوش سے چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ میرے اس طرح چوت چاٹنے سے وہ بے قرار ہو گئیں  اور۔۔۔ میرا سر پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگیہائے اتنا مزا، کبھی کسی  نے دل سے نہیں کیا یہ کام صندل تونے میری خواہش پوری کردی  ہائے میری پھدی۔۔۔اور میں نے محسوس کیا کہ ایسا کہتے ہوئے ان پر  کپکی طاری تھی۔۔۔۔ اور وہ بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی ہائے  میری پھدی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہا۔ ور پھر اس کے ساتھ ہی  کانپتے ہوئے اس کی چوت نے ڈھیر سارا پانی چھوڑا اور پھر ٹھیک 10سیکنڈ بعد میری چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا۔ کافی دیر تک تو ہم دونوں اسی طرح بے سدھ پڑے رہے، مزے کا عالم تھا مجھے بھی رقیہ باجی کے ساتھ کئے گئے سیکس سے 10گنا مزہ آیا تھا۔ پھر تقریباً پورے ایک گھنٹے بعد میڈم نے میرے بالوں میں بڑے پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کہا صندل جان چل اٹھ نہاتے ہیں۔ پھر میں نے اور میڈم نے اکٹھے شاور لیا اور خوب مستیاں کرتے رہے۔ پھر میڈم نے لنچ کے لیء سالن گرم کیا جو شازیہ صبح جاتے ہی بناگئی تھی، لنچ کرکے ہم  بستر پر لیٹ گئے۔ میں آپکو بتاچکی ہوں کے میں نے طے کرلیا تھا کہ اب فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہے میں نے بستر کے سرہانے پر بنی بیک سے ٹیک لگالی اور میڈم کو کہا  کہ عفو جی میری گود میں سر رکھ لو۔ میڈم نے پہلے تو عفو کہنے پر مجھے بڑے غور سے دیکھا اور اور پھر کہنے لگیں۔ بڑا اچھا لگا بڑے عرصے بعد کسی کا یوں پیار  سے پکارنا۔ جب وہ میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئیں تو میں انکے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں۔ کافی دیر ہم خالص زنانہ گفتگو کرتے رہے رشتہ داروں کے بارے اور دیگر اسی طرح کے  موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔  پھر میں نے کہا عفو جان ایک بات پوچھوں، میڈم نے کہا ہائے جب تو عفو جان کہتی ہے نا میرا دل کرتا ہے تجھے اپنے اندر چھپالوں۔ تو پوچھ جو تیرا دل کرے، میں نے کہا کہ لڑکیوں سے اس طرح کی دوستی کب سے شروع کی تو اس نے چونک کر کہا ارے یہ کیا سوال کردیا میں نے کہا سوری عفو جان اگر آپ کو برا لگا ہو۔ میڈم نے ایک دم سر اٹھا کر میری آنکھوں پر ایک ڈیپ کس کیا۔ اور کہا کہ صندل میری جان میں نے کئی لڑکیوں سے سیکس کیا ہے لیکین سب کے ساتھ ایک طرح کی زبردستی تھی مگر پیار صرف تیرے ساتھ ہوا میں تجھے سب کچھ بتاوں گی۔ 

Bhai story tau thek ja rahi ha apko ni lagta k ap kuch ziada hi lesbian ka tarka laga rahy ho esme ya phir ye women oriented story.main heroine ka koi  sex scene with men  dalo ta k kuch interesting b aye aur reader ki dilchaspi b barhy.... Ye sirf mery رائے ha. Ap es se ikhtalaf kar sakty hain... Salamti ki dhero duayein 🙏

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.