Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

سازش زدہ

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
59 minutes ago, DR KHAN said:

ابتدا اچھی ہے لکھتے رہیں۔

 

Dr saab kuch info chahyee thi pm ho nahi raha ~X(

📢 Post Your Ad Here
  • Author

قسط نمبر 2
میں نے اچانک گھوم کر اس جسم کو دبوچ لیا اور اپنے ساتھ بیڈ پر گرا لیا. اب پوزیشن ایسی تھی کہ وہ جسم میرے نیچے تھا اور اس کے گول گول ابھار میری چھاتی میں دب رہے تھے. میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور ایک لمبی فرنچ کس کے بعد اپنے لب اس کے شیریں لبوں سے جدا کیے. اس نے اپنی آنکھیں کھولیں جن میں وصل کا خمار امڈ رہا تھا اور میں اس کی گستاخ زلفوں کو اس کے رخساروں سے ہٹانے میں مگن تھا. چند لمحوں بعد اس کی شیریں آواز میرے کانوں میں رس گھولتی گئی اور اس نے پوچھا تایا ابا کیسے ہیں؟
میں نے اس کے ہونٹوں پہ کِس کی اور بولا اب تو طبیعت ٹھیک ہے انکی. تم سناؤ کالج سے کب آئیں؟
عمارہ: دو لیکچر ہی لیے تھے کہ اماں نے واپس بلوا لیا. گھر آ کر پتا چلا کہ تایا ابا کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے بلوایا گیا.
میں: اچھا ہوا تم آ گئیں. تمھیں تو پتا ہے کہ میں جب بھی مشکل وقت سے ٹکراتا ہوں تو تمھارا میرے ساتھ ہونا ہی میری جیت کا سبب بنتا ہے. تمہیں یاد ہے نا پچھلے سال بیساکھی کے میلے پر مہر صاحب کی عزت کی خاطر اپنے سے تین گنا طاقتور پہلوان سے بھڑ گیا تھا. سچ پوچھو تو مجھے بلکل بھی یقین نہیں تھا کہ میں اس سے جیت جاؤں گا لیکن صرف تمھاری اس ایک جھلک نے میرے اندر کے سکندر حیات کو جھنجھوڑ دیا اور میرے ضمیر نے مجھے کہا کہ آج باپ اور معشوق کے سامنے رسوا نا ہونا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جو پہلوان ساری زندگی کوئی مقابلہ نا ہارا تھا وہ میرے سامنے ٹک نا سکا. یہ تمھارا دلفریب چہرا ہی مجھے قوت دیتا ہے. میں فرطِ جذبات میں بولے جا رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے لب میرے لبوں میں پرو دیے پھر تھوڑی دیر بعد وہ الگ ہوئی اور بیٹھ کر میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی. یہ اس کی ان عادات میں سے ایک تھی جو مجھے بہت پسند تھی. عمارہ میری پہلی اور آخری محبت تھی شاید محبت کا لفظ ہمارے رشتے کے سامنے ہیچ تھا. ہم عشق کے اس درجے پر تھے کہ جہاں سارے طواف محبوب کے لیے تھے. عمارہ مجھ سے دو سال چھوٹی تھی. جب وہ پیدا ہوئی تو میری دادی نے اسے میرے سپرد کر دیا تھا اور یوں اس کا اور میرا  ساتھ سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے تک جوڑ دیا گیا.
عمارہ تھی بھی بلا کی خوبصورت، غزال آنکھیں، مہتاب چہرہ، کالی زلفیں جو چہرے پہ گریں تو شام ہو جائے، قُطب جنوبی کی طرح رخسار پر چمکتا تل، تیکھا ناک غرض وہ حسن کی مورت تھی. اگر وہ حسن کی مورت تھی تو میں بھی مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا. مختصر یہ کہ ہم دونوں کی جوڑی ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھی.
اسکی انگلیوں نے جادو چلایا اور نا جانے کب میں نیند کی آغوش میں جا پہنچا. میری آنکھ کسی کے بلانے پر کھلی. آنکھیں کھولی تو چچی آواز دیں رہیں تھیں کہ پتر اٹھ جاؤ شام ہو گئی ہے ہسپتال نہیں جانا؟
میں نے چچی سے بولا کہ آپ اور اماں تیار ہوں میں بس فریش ہو کہ آیا. چچی چلی گئیں اور میں نہانے گھس گیا. فریش ہو کر نکلا اور ڈریسنگ کے سامنے بال سنوارنے لگا. میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور عمارہ اندر داخل ہوئی. اس نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس پر کمال جچ رہا تھا. پوچھنے لگی اٹھ گئے آپ؟
میں: ہاں اٹھ گیا. تم کب گئیں؟
عمارہ: آپ سو گئے تھے تو مجھے مناسب نہیں لگا یہاں رکنا ویسے بھی اماں آ جاتیں تو انہوں نے خفا ہونا تھا.
میں نے آ گے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور ایک کس کر کے بولا خفا کیوں ہونا تھا آخر منگیتر ہو تم میری. وہ مجھ سے اپنا آپ چھڑوانے لگی اور میں نے اور زور سے اسے پکڑ لیا. آخر وہ بولی چھوڑیں مجھے کوئی آ گیا تو کیا سوچے گا. میں نے ایک کس اور کی اور چھوڑ کر بولا ویسے بڑی تیاری شیاری کی ہوئی ہے کدھر جانے کا ارادہ ہے؟
عمارہ: آپ بھی کمال کرتے ہیں. تایا ابا کا پتا کرنے جا رہی ہو. اگر نا گئی تو ناراض ہو جائیں گے. میں بولا چلو اماں اور چچی کو کہو کہ گاڑی میں انکا انتظار کر رہا ہوں. میں گاڑی میں آ کے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد اماں، چچی اور عمارہ بھی آ  گئیں.
ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑی روک کر اماں لوگوں کو ساتھ لیے اندر کی جانب چل پڑے. ابا کو روم میں شفٹ کر دیا تھا. کمرہ کافی بڑا تھا ایک طرف صوفہ رکھا گیا  تھا اور ایک طرف بیڈ تھا جو مریض کے ساتھ آنے والوں کے آرام کے لیے تھا. چھوٹا سا کچن کمرے کے ساتھ ہی تھا جہاں ضرورت کا سامان موجود تھا. ہم کمرے میں پہنچے تو چچا ساتھ والے بیڈ پر . ابا آنکھیں موندے آرام کر رہے تھے. عمارہ ان سے لپٹ گئی تو ابا نے آنکھیں کھولیں اور عمارہ کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولے آ گیا میرا پتر میں تو سمجھا تھا کہ اپنے تایا کو ملنے ہی نہیں آؤ گی. عمارہ بھی لاڈ سے بولی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ یہاں ہوں اور میں آپ سے ملنے نا آؤں. اماں اور چچی نے بھی طبیعت کا پوچھا اور صوفے پر بیٹھ گئیں. عمارہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی. ابا اب میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکراتے ہوئے بولے ہاں جی مہر جی آپ نے گدی سنبھال ہی لی اب لگتا ہے مجھے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جانا چاہیے.
میں: نہیں ابا جی آپ کے ہوتے ہوئے میں کیسے آپ کی جگہ لے سکتا ہوں. آپ جلد ہی صحتیاب ہو کر دوبارہ ڈیرہ چلائیں گے. اتنی دیر میں چچا آئے اور بولے کہ آپ بڑے مہر صاحب کو آرام کرنے دیں. چچا سے میں عمر کا پوچھ کر تھوڑی دیر میں انے کا بول کر باہر نکل گیا. پارکنگ میں آ کر گاڑی میں بیٹھا اور عمر کو کال کی. وہ قریب ہی ہوٹل پر کھانا کھانے گیا ہوا تھا میں اسے وہیں رکنے کا بول کر ہوٹل کی طرف چل پڑا. عمر کھانے سے فارغ ہو چکا اور چائے کے دو کپ سامنے رکھے کسی سوچ میں گم تھا. میں جا کر سامنے بیٹھا اور پوچھا کس سوچ میں گم ہو جگر؟
عمر: یار تم نے اس بندے کا پتا کرنے کے لیے کہا تھا نا
میں: یاں کیا پتا چلا؟
عمر: یار مجھے تو کوئی گہری سازش لگ رہی ہے.
میں اکتا کر بولا یار تو اپنے اندازے اپنے پاس رکھ تفصیل بتا
عمر:  جب تیرا فون آیا تو میں نے فوراً ہی اپنے ایک آدمی کو فون کیا اور گاڑی کی لوکیشن کا پوچھا اس نے بتایا کہ گاڑی ہمارے گاؤں سے نکل کر شریف بھٹی کے گاؤں کی طرف جا رہی ہے. یہ سن کر میرا ماتھا ٹھنکا میں نے اسے گاڑی کی لوکیشن فالو کرنے کا بولا اور اپنے ایک خبری کو فون کر کہ بولا کہ شریف بھٹی کے ڈیرے پر نظر رکھے میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا اور گاڑی شریف بھٹی کے ڈیرے پر جا رکی. عمر نے اپنی بات جاری رکھی اور بولا کہ پھر میں نے اپنے خبری کو فون کیا اور صورتحال کے بارے میں پوچھا. اس نے جواب دیا کہ وہ ابھی تک وہاں نہیں پہنچا تھوڑی دیر میں پہنچ کر آگاہ کرے گا. عمر اتنی بات کر کے خاموش ہو گیا. میں عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا. نظر واٹو ابا جان کے خاص آدمیوں میں سے ایک تھا. وہ آج جس مقام پر تھا سب بڑے مہر صاحب کی نظرِ کرم کا نتیجہ تھا اور وہ شریف بھٹی کے ساتھ نہیں نہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. بھٹیوں کے ساتھ ہماری دشمنی کئی نسلوں سے چلی آ رہی تھی. ہماری زمینیں بھی ساتھ ساتھ تھیں تو وہاں اکثر ہمارے آدمیوں اور ان کے آدمیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں. یوں سمجھ لیں کہ لائن آف کنٹرول والی صورتحال تھی. میں عمر کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا پھر کیا ہوا؟
عمر: کوئی آدھے گھنٹے بعد مجھے خبری کا فون آیا اس نے بتایا کہ جب وہ پہنچا تو وہاں سے وہ نکل رہے تھے کوئی سات کے قریب گاڑیا‌ں تھیں نظر وٹو کی گاڑی کو اس نے پہچان لیا تھا وہ خود بھی گاڑی میں موجود تھا. باقی گاڑیوں کو وہ نہیں دیکھ سکا لیکن ایک اور گاڑی اس نے پہچان لی تھی. اتنا کہ کر عمر خاموش ہو گیا

لگتا ہے اس سٹوری مین بھی خوب کھڑاک ہوگا اور یہ لمبی چلے گی

اچھی سٹوری ہے جی

بس اپڈیٹ جلدی کرتے رہنا

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.