Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author

ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺮﭼﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ لگتیں
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺳﯿﭙﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺭُﺕ ﮐﮯ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﮐﮭﻠﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﯽ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺟﮍﺍ ﻧﮕﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﺑﺘﮏ
ﮨﺮﯼ ﺑﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﯽ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻠﺘﯽ ﮨﻮ!
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﺑﮭﻠﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺭُﺥ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﯽ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ!
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺿﺪﯼ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭَﺳﻦ ﺑﺴﺘﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﻣﺤﺴﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﺮﻧﯿﺎﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯿﮟ

(ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 18k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

مــــــــــنزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مــل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر
ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پـــتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر
سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگئیں
دنیا تیری بــدل دے وہ ســـــجدہ تلاش کر
ایـــــــمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایـــــــماں تیرا بــــــــچالے وہ رہبر تلاش کر
گھٹنے ٹکائے ســـر کو جھکایا ہوا ہے کیوں
ظالــــــم کا سر اُڑا دے وہ جذبہ تلاش کر
قـــــــــاتل ہی بن چُکا ہے منصف ہمارا اب
قــاتل کو قــــتل کردے وہ قاتل تلاش کر
ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تـــلاش کر
کـــــردے ســــــوار اونٹ پہ اپنے غلام کو
پـــیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر

  • Author

واپس چلے جاتے ھیں لوگ ھمارا غم دیکھ کر،
جیسے لہر چلی جاتی ھے کنارا دیکھ کر،
مت دینا ھمارے جنازے کو کندھا،
اے دوست
,کہیں زندہ نہ ھو جاؤں
تیرا سہارا دیکھ کر...!‏‎......‎

  • Author

فیض احمد فیؔض
ہم پروَرشِ لَوح و قلَم کرتے رہیں گے
جو دِل پہ گُزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اسبابِ غمِ عِشق بَہم کرتے رہیں گے
وِیرانئ دَوراں پہ کَرَم کرتے رہیں گے
ہاں تلخئ ایّام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم، مشقِ سِتم کرتے رہیں گے
منظُور یہ تلخی، یہ سِتم ہم کو گوارا
دَم ہے تو مداوائے الَم کرتے رہیں گے
مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سُرخئ مے سے
تزئینِ دَرو بامِ حَرَم کرتے رہیں گے
باقی ہے لہُو دِل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگِ لب و رُخسارِ صنم کرتے رہیں گے
اِک طرزِ تغافُل ہے سو وہ اُن کو مُبارک
اِک عرضِ تمنّا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
فیض احمد فیض

  • Author

مٹ گيا ہوں مجھ کو مٹا رہنے دو
 ميرے جذبات کے شعلوں کو بجھا رہنے دو

درد سہنے کي ہو گئي ہے اب عادت مجھ کو
 ميرے رستے ہوئے زخموں کو ہرا رہنے دو

اب تو تعبير کي حسرت ہي نہيں ہے مجھ کو
 ميري آنکھوں ميں ميرا خواب چھپا رہنے دو

مسکراہٹ پہ ميرا حق ہي نہيں ہے يارو
 ميرے ہونٹوں سے تبسم کو خفا رہنے دو

دل جو ٹوٹا ہے تو آنکھيں نا چھلک جائيں
 آج آنکھوں کو ان اشکوں سے بھرا رہنے دو

  • Author

.  ??? *غزل*???
فقط ملنے ملانے سے ملنساری نہیں آتی
نہ ہو ایثار کا جزبہ تو پھر یاری نہیں آتی
خدا اپنی عنایت سے مدارس کو چلاتا ہے
مدارس میں کوئی امداد سرکاری نہیں آتی
سبق ہم كو ملاہے یہ سنو قرآں کے پاروں سے
ہمیں دہشت پسندوں کی طرفداری نہیں آتی
ہماری رہبری کے واسطے قرآن اترا ہے
اگر اس پر عمل کرتے تو دشواری نہیں آتی
اگر ہم ایک ہوجائیں حکومت پھر ہماری ہو
مسلمانوں میں لیکن کچھ سمجھداری نہیں آتی

  • Author

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی 
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!
تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند 
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی 
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی
شیر مردوں سے ہوا بیشہء تحقیق تہی 
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی
عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے 
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی
سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات 
ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی
تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ 
ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

  • Author

۱
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
آمدنی جلد ہو جائے نئے نوٹ کی صورت میں خدایا میری
جلد 2000 کی نوٹوں کا میرا خزانہ ہو جائے
1000 اور 500 سے خالی میرا گھرانہ ہو جائے
ہو بلیک دھن سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
کوئی ہو بینک میں نوٹ بھروانے کی صورت یا رب
پھر کیوں کر ہو کسی یار و مددگارکی ضرورت یا رب
ہو مرا کام امیروں کو ہدایت کرنا
100 اور 50 کی کرنسی میں کفایت کرنا
مرے اللہ! دلالی سے بچانا مجھ کو
بینک کی ہو جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
??????????
۲
کوئی امید بر نہیں آتی 
نئی کرنسی نظر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے کیشیر کو 
لائن ہماری نظر نہیں آتی
آگے آتی تھی خالی جیب پر ہنسی 
اب کسی بات پر نہیں آتی
بینک کس منھ سے جاؤ گے غالب 
بھیڑ تم کو نظر نہیں آتی
تیس دسمبر کا دن معین ھے 
نیند یوں رات بھر نہیں آتی
شاعر---> نامعلوم
??????????
۳
بہادر شاہ ظفر کی روح سے معذرت کے ساتھ
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
نہ پانچ سو میں چین و سکوں نہ ہزار میں
دفتر سے چار دن کی جو چھٹی ملی مجھے
ہر دن لگا رہا میں یہاں پر قطار میں
بنکوں میں چار دن مرے برباد یوں ہوئے
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنے مظالموں کو اے ظالم ترے سہیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
بیٹا، بہو،داماد وخسر اور دلہا، دلہن
کاسہ لئےکھڑے ہیں یہاں سب قطار میں
دریا میں بہ رہی ہے غریبی سے میَّتیں
دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
اچھے دنوں کی آس دلاکر فدا ہمیں
مارے گا چائے والا کرنسی ہزار میں
بنکوں میں چار دن میرے برباد یو ہوئے 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
شاعر---> نامعلوم

  • Author


ایک سسکتی غزل
لگتا نہیں ہے دل مرا "مودی دیار" میں
کس کی بنی ہے یارو یہاں "دو ہزار" میں
میں نے تو دفن کردی ہر اک دل کی آرزو
میں بھی کھڑا ہوں یارو صف سوگوار میں
خائف ہوں اپنے سائے سے لاریب کیا کہوں
وحشت سی ہورہی ہے مجھے کوئے یار میں
تجھ کو خبر کہاں کہ کئ میتیں اٹھیں
شامل تھی جیسے موت بھی ان کی قطار میں
اک گہرا داغ دے کے وہ روپوش ہوگیا
الفت کہاں کسی بھی دل داغدار میں
اب کے چمن میں پھولوں کے چہرے اتر گئے, 
یکلخت آگ لگ گئی فصل بہار میں
یارب مرے چمن کی سبھی بلبلوں کی خیر
صیاد لے رہا ہے مزے اب شکار میں
جنبش قلم نے لی تویہ کچھ شعرہو گئے
یوسف سکوں سا آیا دل بے قرار میں
جمیل جامعی

  • Author

قبر میں زِندہ گاڑ دیتا ہے
صبر ، اینٹیں اُکھاڑ دیتا ہے
عشق پرچھائیں جس پہ آ جائے
دو جہاں چھوڑ چھاڑ دیتا ہے
صرف اِک دِل کا رونا روتے ہو
غم تو بستی اُجاڑ دیتا ہے
تتلیاں چھوڑنے سے پہلے سخی
پنکھ قدرے اُکھاڑ دیتا ہے
شوق ’’ ہَل من مزید ‘‘ کہتا ہے
عشق ، دامن کو جھاڑ دیتا ہے
وَقت سے تین ، پانچ مت کرنا
وَقت ، حلیہ بگاڑ دیتا ہے
لکھ کے دِل بیتیاں لہو سے قیسؔ
خشک ہوتے ہی پھاڑ دیتا ہے
(شہزاد قیس)

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.