August 12, 20169 yr Author نقاب ان کے چہرے سے جب ہٹ گئی ہے سنا ہے رقیبوں کی پھٹ پھٹ گئی ہے مری ان کی میزان کیا پٹ گئی ہے عزیزوں کی تو ناک ہی کٹ گئی ہے نہیں ہے کچھ ایسی رقیبوں کی کثرت حسینوں کی تعداد ہی گھٹ گئی ہے وہ کس تھا کمر بند سے جس کا پردہ یہاں سے ابھی ہو کے چوپٹ گئی ہے اندھیرے میں ہت پھیریوں سے نہ جھجھکی اجالے میں دیکھا تو کیا کٹ گئی ہے لڑا لی ہے ہم نے اک آیا سے اٹ مٹ وہ آئی ہے جب ہو کے غٹ پٹ گئی ہے میں تھا اس کی بیٹی کی بیٹی پہ عاشق ابھی سامنے سے جو کھوسٹ گئی ہے
August 21, 20169 yr Author سیدھا کھڑا ہے جھانٹ پہ کشت حسیں پہ لنڈ دیکھو کہیں یہ سرو اگا ہے کہیں پہ لنڈ اس فرج خوش نہاد کی الفت کے ضمن میں رکھتا ہے آنکھ غیر کی کون مکیں پہ لنڈ جس دن سے سرخ برقع میں بڑھیا نظر پڑی اٹھتا نہیں مرا کسی پردہ نشیں پہ لنڈ یہ زعم ، یہ انا، یہ تمردیہ طنطنہ سیکھا نہیں ہے پانچ ہی دھرنا زمیں پہ لنڈ
October 3, 20169 yr Author اس بت کی تصور میں بلا کر بھی ہے ماری یاں اس کی ہی خود اس سے چھپا کر بھی ہے ماری بندے کسی مہوش کو دلا کر بھی ہے ماری بیڑی کسی بندے کو پلا کر بھی ہے ماری گرمی ہے تو حمام میں جا کر بھی ہے ماری ساون ہے تو جھولے میں جھلا کر بھی ہے ماری جاناں کی تو ہرڈھب سے ہر انداز سے لی ہے دشمن کی تھکا کر بھی بھگا کر بھی ہے ماری چرخ ستم ایجاد نے کس طرز کو چھوڑا بہتوں کی تو سولی پہ چڑھا کر بھی ہے ماری ہوتی ہے گراں گانڈ کی قیمت کبھی بے ڈھب سچ کہہ دو کبھی تم نے مرا کر بھی ہے ماری دکھلائی بہت ہم نے غم دہر کی مقعد اور اس پہ کبھی لات جما کر بھی ہے ماری آتا ہی نہیں گانڈ کا مرنا اسے باور گو غیر کی دنیا کو دکھا کر بھی ہے ماری
November 5, 20169 yr Author نہیں خلوت ہی پر راضی وہ پردے دار ہوچکتی بس اک دھکے میں دیوار حیا مسمار ہوچکتی کیا ہت پھیر لیکن وہ نہیں تیار ہوچکتی جو کوئی اور سی ہوتی تو کتنی بار ہوچکتی شب فرقت نے فرقت میں تری مجھ کو تھکا مارا کہ آلپٹی ہے مجھ سے اور نہیں اے یارہوچکتی وہ پاپڑمیں نے بیلے وہ شدائد میں نے جھیلے ہیں کہ اس نرغے میں غیر آتا تو پھٹ کر غار ہوچکتی پلے ہیں مارنے مرنے پہ لنڈاور چوت ازل ہی سے کوئی جانے نہیں کیوں ختم یہ تکرار ہوچکتی نہ رکھتی آس اگر تیرے نظارے کی اسے زندہ تو نرگس جو کہ اک مدت سے ہے بیمار ہوچکتی کھڑا کرنا تھا لوڑے کو نہیں ثالث بخیر ایسا زن و شوہر میں پھر تو جو بھی تھی تکرار ہوچکتی
November 14, 20169 yr Author کوئی دن میں گل امید ہے کھلنے والا لنڈ کو صبر کا انعام ہے ملنے والا لنڈ کہتا ہے کہ در سے نہیں ہلنے والا چوت کہتی ہے کہ رستہ نہیں ملنے والا جان من پھر ہے تری جان پہ پلنے والا یہ جو لوڑا ہے مرا اونگھتے ٹھلنے والا شربت وصل انڈیلا تھا کہ پھر لوٹ دیا آگیا اس کا کوئی اور ہی ملنے والا چوت تو اپنی جگہ پر ہی گڑی بیٹھی تھی بانی شر ہے وہ پاجامے میں ہلنے والا تو مجھے بھول گئی ہو تو پتہ بتلا دوں مرا لوڑا ہے تری چوت کا ملنے والا میں نے خودچوت کو انگلی سے خبردار کیا کہ ہے لوڑا تری خلوت میں مخلنے والا اصطلاحیں تو نئی دیکھ کہ کہتی ہے وہ چوت آگیا پھر وہ مری جاں کا گسلنے والا پھر اٹھاتے ہیں وہ لوڑے کے چلن کی تمہید بھئی تازہ کوئی الزام ہے دلنے والا اس کو کم کم ہی برتیے کس مشروع سہی یہ وہ جامہ ہے کہ پھٹ کر نہیں سلنے والا آج ہی دل کے سب ارمان نکال اے کس تو کل تو اک اور ہی ارمان ہے ملنے والا
November 21, 20169 yr Author نکالے جاتے ہیں محفل سے اُس کی پاد کے ہاتھوں کسی کو دوش کیا دیں گانڈ کی یاں اپنی دشمن ہے
November 22, 20169 yr Administrators 1 hour ago, Danish Ch said: بہت خوب ینگ یارٹ صاحب Welcome Dear App ko forum main dekh kar khushi hoi
November 23, 20169 yr Author نہیں محفل میں بھی اے شوخ تجھ کو گانڈ پر قابو نکل جاتی ہے رک سکتی نہیں اتنی ہوا تجھ سے
November 30, 20169 yr Author جان کھوتا ہوں تصور میں تمہارے اپنی میں وہ انساں ہوں کہ جو آپ ہی مارے اپنی دیر سے بیٹھے ہیں پتلون اتارے اپنی دوستی ہے تو دکھا کھول کے پیارے اپنی چوت لینے کی تمنا میں تو کیا دیتے ہیں گانڈ مروانے کو پھر تے ہیں کنوارے اپنی وہ تو روگی تھا وہ کیوں غیر سے مروا بیٹھی نیم کے پانی سے اب چوت کو دھارے اپنی
Create an account or sign in to comment