Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

Featured Replies

  • Author

نقاب ان کے چہرے سے جب ہٹ گئی ہے
سنا ہے رقیبوں کی پھٹ پھٹ گئی ہے
مری ان کی میزان کیا پٹ گئی ہے
عزیزوں کی تو ناک ہی کٹ گئی ہے
نہیں ہے کچھ ایسی رقیبوں کی کثرت
حسینوں کی تعداد ہی گھٹ گئی ہے
وہ کس تھا کمر بند سے جس کا پردہ
یہاں سے ابھی ہو کے چوپٹ گئی ہے
اندھیرے میں ہت پھیریوں سے نہ جھجھکی
اجالے میں دیکھا تو کیا کٹ گئی ہے
لڑا لی ہے ہم نے اک آیا سے اٹ مٹ
وہ آئی ہے جب ہو کے غٹ پٹ گئی ہے
میں تھا اس کی بیٹی کی بیٹی پہ عاشق
ابھی سامنے سے جو کھوسٹ گئی ہے

 

  • 2 weeks later...
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 144
  • Views 158.1k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے  

  • زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔

  • Young Heart
    Young Heart

    رات اک دم کسی نے سسکی لی نہیں معلوم کس نے کس کی لی

  • Author


سیدھا کھڑا ہے جھانٹ پہ کشت حسیں پہ لنڈ
دیکھو کہیں یہ سرو اگا ہے کہیں پہ لنڈ
اس فرج خوش نہاد کی الفت کے ضمن میں
رکھتا ہے آنکھ غیر کی کون مکیں پہ لنڈ
جس دن سے سرخ برقع میں بڑھیا نظر پڑی
اٹھتا نہیں مرا کسی پردہ نشیں پہ لنڈ
یہ زعم ، یہ انا، یہ تمردیہ طنطنہ
سیکھا نہیں ہے پانچ ہی دھرنا زمیں پہ لنڈ

  • 1 month later...
  • Author

اس بت کی تصور میں بلا کر بھی ہے ماری
یاں اس کی ہی خود اس سے چھپا کر بھی ہے ماری
بندے کسی مہوش کو دلا کر بھی ہے ماری
بیڑی کسی بندے کو پلا کر بھی ہے ماری
گرمی ہے تو حمام میں جا کر بھی ہے ماری
ساون ہے تو جھولے میں جھلا کر بھی ہے ماری
جاناں کی تو ہرڈھب سے ہر انداز سے لی ہے
دشمن کی تھکا کر بھی بھگا کر بھی ہے ماری
چرخ ستم ایجاد نے کس طرز کو چھوڑا
بہتوں کی تو سولی پہ چڑھا کر بھی ہے ماری
ہوتی ہے گراں گانڈ کی قیمت کبھی بے ڈھب
سچ کہہ دو کبھی تم نے مرا کر بھی ہے ماری
دکھلائی بہت ہم نے غم دہر کی مقعد
اور اس پہ کبھی لات جما کر بھی ہے ماری
آتا ہی نہیں گانڈ کا مرنا اسے باور
گو غیر کی دنیا کو دکھا کر بھی ہے ماری

  • 1 month later...
  • Author

نہیں خلوت ہی پر راضی وہ پردے دار ہوچکتی
بس اک دھکے میں دیوار حیا مسمار ہوچکتی
کیا ہت پھیر لیکن وہ نہیں تیار ہوچکتی
جو کوئی اور سی ہوتی تو کتنی بار ہوچکتی
شب فرقت نے فرقت میں تری مجھ کو تھکا مارا
کہ آلپٹی ہے مجھ سے اور نہیں اے یارہوچکتی
وہ پاپڑمیں نے بیلے وہ شدائد میں نے جھیلے ہیں
کہ اس نرغے میں غیر آتا تو پھٹ کر غار ہوچکتی
پلے ہیں مارنے مرنے پہ لنڈاور چوت ازل ہی سے
کوئی جانے نہیں کیوں ختم یہ تکرار ہوچکتی
نہ رکھتی آس اگر تیرے نظارے کی اسے زندہ
تو نرگس جو کہ اک مدت سے ہے بیمار ہوچکتی
کھڑا کرنا تھا لوڑے کو نہیں ثالث بخیر ایسا
زن و شوہر میں پھر تو جو بھی تھی تکرار ہوچکتی

  • 2 weeks later...
  • Author

کوئی دن میں گل امید ہے کھلنے والا
لنڈ کو صبر کا انعام ہے ملنے والا
لنڈ کہتا ہے کہ در سے نہیں ہلنے والا
چوت کہتی ہے کہ رستہ نہیں ملنے والا
جان من پھر ہے تری جان پہ پلنے والا
یہ جو لوڑا ہے مرا اونگھتے ٹھلنے والا
شربت وصل انڈیلا تھا کہ پھر لوٹ دیا
آگیا اس کا کوئی اور ہی ملنے والا
چوت  تو اپنی جگہ پر ہی گڑی بیٹھی تھی
بانی شر ہے وہ پاجامے میں ہلنے والا
تو مجھے بھول گئی ہو تو پتہ بتلا دوں
مرا لوڑا ہے تری چوت  کا ملنے والا
میں نے خودچوت کو انگلی سے خبردار کیا
کہ ہے لوڑا تری خلوت میں مخلنے والا
اصطلاحیں تو نئی دیکھ کہ کہتی ہے وہ چوت
آگیا پھر وہ مری جاں کا گسلنے والا
پھر اٹھاتے ہیں وہ لوڑے کے چلن کی تمہید
بھئی تازہ کوئی الزام ہے دلنے والا
اس کو کم کم ہی برتیے کس مشروع سہی
یہ وہ جامہ ہے کہ پھٹ کر نہیں سلنے والا
آج ہی دل کے سب ارمان نکال اے کس تو
کل تو اک اور ہی ارمان ہے ملنے والا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

نکالے جاتے ہیں محفل سے اُس کی پاد کے ہاتھوں

کسی کو دوش کیا دیں گانڈ کی یاں اپنی دشمن ہے

  • Author

نہیں محفل میں بھی اے شوخ تجھ کو گانڈ پر قابو
نکل جاتی ہے رک سکتی نہیں اتنی ہوا تجھ سے

  • Author
جان کھوتا ہوں تصور میں تمہارے اپنی
میں وہ انساں ہوں کہ جو آپ ہی مارے اپنی
دیر سے بیٹھے ہیں پتلون اتارے اپنی
دوستی ہے تو دکھا کھول کے پیارے اپنی
چوت لینے کی تمنا میں تو کیا دیتے ہیں
گانڈ مروانے کو پھر تے ہیں کنوارے اپنی
وہ تو روگی تھا وہ کیوں غیر سے مروا بیٹھی
نیم کے پانی سے اب چوت کو دھارے اپنی
📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.