July 18, 201411 yr Administrators ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چوبیس آدمی ایک مقام پر جنگل میں درخت کاٹ رہے تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی سب نے نزدیک ہی ایک کمرے میں پناہ لی اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگے. اسی اثناء میں بجلی بھی چمکنے لگی اور خوب گھن گرج سے کمرے کی چھت پر سے ہو کر واپس جانے لگی . تھوڑی ہی دیر میں آسمانی بجلی کا سلسلہ تیز ہوگیا ..... تمام آدمیوں نے مشورہ کیا کہ لگتا ہے ہے کہ ہم سے کسی ایک آدمی پر یہ بجلی پڑنی ہے اسطرح کرتے ہیں کہ تمام آدمی ایک ایک کر کے باہر جائیں جس پر بجلی گرنی ہوگی گر جائے گی اور باقی لوگ محفوظ رہیں گے.اس طرح تمام آدمی باری باری باہر گئے اور بچ کر واپس آگئے. آخر میں ایک آدمی رہ گیا ... سب کو لگا کہ یہی وہ آدمی ہے جس پر بجلی گرنی ہے ... مگر وہ باہر جانے کو تیار نہ تھا .... سب نے مل کر اسے اٹھایا اور باہر پھینک دیا .... ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آسمانی بجلی بڑی زور سے کمرے پر گری اور تمام کے تمام آدمی جل کر راکھ ہوگئے.... صرف آخری آدمی کی وجہ سے باقی سب کی جان بھی بچ رہی تھی مگر اب تمام راکھ کا ڈھیر بن گئے اور وہ بچ گیا ---اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو قصوروار سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر قصور ہمارا اپنا ہی ہوتا ہے .. اور کبھی ہم کسی کے سبب پریشانی اور مصیبت سے بچ رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا --
Create an account or sign in to comment