Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 27/01/26 in all areas

  1. 1 like
    Hi I am Javeria Shehzadi 25 years old. I like novels....
  2. 1 like
    Hi i am noorie i am seeking for best advise and find good friends
  3. 1 like
    Hi my name is Sidra 18 I hope to find good decent love stories here
  4. اور شیوا کے منہ سے بھیانک چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا شیوا نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر ہل بھی نا سکا اس کے ساتھ ہی اک اور زو کا جھٹکا لگا اور پورا لن شیوا کی گانڈ میں داخل ہو گیا شیوا کی گانڈ سے خون کے فوارے نکلنے لگے اور شیوا بیہوش ہونے لگا اس کا سر زمین سے ٹکرانے ہی والا تھا کے شیوا نے خود کو سنبھالا اور سیدھا ہو گیا شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں کسی نے مرچی بھر دی ہے وہ زور زور سے چلا رہا تھا یہاں تک کہ اس کی اواز بھی حلق میں اٹک گئی اور شیوا بے اواز رونے لگا پل بھر کو شی5نے سوچا سب چھوڑ کر بھاگ جاے مگر فوران ہی شیوا نے اس سوچ کو نکال دیا شیوا کو ہر دھکا پچھلے دھکے سے زیادہ تکلیف دے رہا تھا اس تکلیف کو شیوا نے پورے تین گھنٹے برداشت کیا اور آخر شہکال کے فارغ ہونے کا وقت آ گیا اس نے اپنی پوری منی شیوا کی گانڈ میں ڈالنا شروع کر دی شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں تیزاب ڈالا جارہا ہے اس درد کو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا اس کے ساتھ ہی وہ جادوئی لن باہر نکلا اور خون اور منی کا ملا جلا فوارا چل پڑا کچھ دیر میں شیوا نے خود کو سنبھالا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا شہکال نے بتایا 21 دن بعد اماواوئس کی رات کو تو اک بچہ پیدا کرے گا تجھے اس کا دل نکال کر کھانا ہوگا اس کے بعد تجھ میں میری تمام شکتیاں آ جائیں گی مگر یاد رکھنا ہر اماواوئس کی رات تو کمزور ہوگا اس رات تو کسی بھی عورت کے نزدیک نہیں جائے گا اگر توں نے ایسا کیا تو ساری شکتی کھو دے گا اور اس کے ساتھ شہکال چلا گیا
  5. ریحانہ بولی پھلے میں فریش ہو لوں علی بولا میں بھی فریش ہونا چاھتا ہوں کیوں نا مل کر ہی ہو لیں علی کی بات سن کر ریحانہ مسکرائی اور بعلی آ جاو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے علی نے جلدی سے کپڑے اتارے اور باتھ میں گھس گیا اندر کا ماحول کافی خوبصورت تھا ریحانہ کپڑے اتارے علی کا انتظار کر رہی تھی علی نے جاتے ساتھ اس کے ہونٹوں پر حملہ کر دیا اور ہاتھوں سے اس کے نرم نرم مموں کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ریحانہ بھی بھرپور ساتھ دےرہی تھی اس کا اس نے شاور کھول دیا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو خود سے ملا لیا اس کے 36 سائز کے ممے علی کی کشادہ چھاتی میں دبنے لگے پانی دو جسموں کی اگ کو مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کچھ دیر نہانے کے بعد دونوں ننگے ہی کسنگ کرتے باہر اے اور بیڈ پر لیٹ گیے علی نے دوبارہ پوزیشن سنبھالی اور اک ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ کر اس کی گرمی چیک کرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے مموں کو اور نرم کرنے لگا کچھ دیر بعد علی نے پوزیشن بدل کر 69 میں اا گیا ریحانہ کے سامنے جب علی کا لن ایا تو ریحانہ کو احساس ہوا اس نے غلط بندے کو چھیڑا ہے علی کا لن 9 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا ہے جو کسی بھی پھدی کو پھدا بنانے کے لیے کافی ہے علی کے ہونٹوں نے جیسے ہی ریحانہ کی پھدی کو چھوا تو ریحانہ کا پورا بدن کانپ گیا اور مزے کا عجیب سا نشہ محسوس ہوا ریحانہ نے علی کے لن پر زبان پھیرنا شروع کر دیا اور اس کے لن کو منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی کا لن پورا اس کے منہ میں نہیں جا رہا تھا علی نے چوس چوس کر اس کی پھدی سے پانی نکالا اور سارا پی گیا ریحانہ کی زندگی کا پہلا موقع تھا اج کسی نے اس کی پھدی کا پانی پیا تھا وہ زور زور سے لن چوسنے لگی لیکن علی فارغ نہیں ہوا اخر تھک کر بولی علی اب اور برداشت نہیں ہوتا میری پھدی کو پھاڑ دو علی نے یہ سن خر ریحانہ کو لٹا کر اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو اس کی پھدی پر رگڈنے لگا اس سے ریحانہ کی رہی سہی کسر بھی نکال گیئ اور وہ تڑپنے لگی وہ بار بار گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کے لیے ترسنے لگی اخر علی کو اس پر رحم آ گیا علی نے اپنے موٹے لن کو اس کی پھدی کے لبوں پر رکھا اس کی پھدی کے لب کپکہا رہے تھے علی موقع ضائع کیے بغیر اک دھکا لگایا علی کا لن پھسلتا ہوا ٹوپی تک اس کی پھدی میں پھنس گیا ریحانہ کی انکھیں درد کی شدت سے پھیل گئیں علی نے بنا وقت گنوائے اک دھکا لگایا علی کا لن اس کی پھدی کو چیرتا ہوا ادھا اندر داخل ہو گیا اس وقت ریحانہ کے منہ سے چیخوں کا طوفان نکل ایا اور وہ علی کو روکنے کے لیے منتیں کرنے لگی اس کے انسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے اس کے لال گالوں کو بھگو رہے تھے علی نے کچھ لمحے رکنے کے بعد پھر سے حرکت دینا چاہی مگر ریحانہ نے اس کو ہلنے نا دیا علی نے اس کے مموں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا اور اس طرح اس کو نارمل کرنے لگا علی نے کچھ دیر میں محسوس کیا کے ریحانہ کافی حد تک نارمل ہے تو علی نے اسی انداز میں پیٹھ کو تھوڑا سا ہلایا اور لن کو ٹوپی تک باہر نکالا علی کو اپنے لن کو باہر اتے ساتھ ہی کچھ گرم گرم پانی بھی باہر اتا محسوس ہوا علی نے جب نیچے دیکھا تو خون دیکھ علی اور جوش میں آ گیا علی نے ادھے لن کے ساتھ ہی ریحانہ کو چودنا شروع کیا اور ٹوپی تک لا کر ادھا لن اک آہستہ سے جھٹکے سے اندر ڈال دیتا اسی طرح چودتے علی نے محسوس کیا ریحانہ کافی حد تک نارمل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی نے اپنا انداز وہی رکھا اس طرح کرنے کے کچھ منٹ میں ریحانہ کے جسم میں اچانک تھوڑی تیزی آ گئی اور علی کے گرد اس کے ہاتھوں کی پکڑ مضبوط ہونے لگی علی اسی وقت کا انتظار کر رہا تھا اچانک ریحانہ کے جسم نے اکڑنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی وہ فارغ ہونے لگی اس بات کو محسوس کرتے ہی علی نے لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اک زور دار جھٹکے میں پورا لن اس کی پھدی میں اتار دیا علی کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی کپڑا پھٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی علی کا پورا لن ریحانہ کی پھدی میں اتر گیا اور ریحانہ اک زوردار چیخ مار کر بےہوش ہو گئی علی نے اس کے منہ پر کافی تھپڑ مارے مگر وہ دنیا سے بیگانہ ہو گئی تھی مگر بےہوشی کی حالت میں بھی ریحانہ کی انکھوں سے انسو جاری تھے اور اس کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں علی رکا نہیں اور اپنے جھٹکے اس کی ہھدی کی گہرای میں لگاتا رہا کچھ دیر بعد ریحانہ کو ہوش انھ لگا مگر وہ درد اور مزے کی ملی جلی حالت میں کچھ بولنے سے خود کو روک رھی تھی پورے کمرے میں تھپا تھپ اور مدھر اہ اہ اہ اہ اوئی ماں مار ڈلا نیکالو پلیز جیسیا آوازوں سے گونج رہا تھا اسی سب میں ریحانہ اک بار اور فارغ ہو گیئ
  6. علی نے نہا کر جیسے ہی شیشہ دیکھا تو خود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اتنا حسن کے وہ خود اپنے اپ میں کھو گیا علی نے خود کو نہارا اور بیگ اٹھا کر کالج چلا گیا اج کالج میں سب اس کو اتنا بدلا بدلا دیکھ کر حیران تھے ان میں سب سے خاص علی کی انکھیں تھی جو کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا لینے کے لیے کافی تھیں اج لڑکیوں میں علی کافی مشہور تھا ہر کوئی اس کی انکھوں کی بات کر رہا تھا صبا سارا دن علی کا نام سن سن کر تھک گئی تھی اس کو پتہ نہیں کیوں علی سے سخت نفرت تھی کالج میں اس کی اتنی تعریف اس کو غصہ دلا رہی تھی حد تب ہوئی جب رمشاء نے بھی علی کی تعریف کی اس وقت وہ اس پر پھٹ پڑی صبا: بکواس بند کرو اپنی کیا صبح سے علی علی لگا رکھا ہے ارو خاص طور پر تم رمشاء تم کو اج کیا ہوا اس کی بڑی تعریف کر رہی ہو یاد ہے نہ اس نے پورے کالج میں تمہیں زلیل کیا تھا رمشاء: صبا بات وہ نہیں ہے اس کی انکھیں جھیل سی گہری ہو گئی ہیںجب سے وہ کراچی سے ایا ہے بت نکھرا نکھرا سا ہے اک عجیب سی کشش اآ گئی ہے اس میں صبا : خاموش اک لفظ بھی نہیں تیری عزت کی وجہ سے میںے اس کو تھپڑ مارا تھا اور اج تم کو اس میں کشش نظر اا رہی ہے رمشاء: مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے میںے کیسے اس کو زلیل کیا اس نے صرف دوستی کے لیے ہی تو ہاتھ بڑھایا تھا مگر ہم نے اس کو اس کی اوقات گھٹا اور ناجانے کیا کیا کہا مجھے اب افسوس ہو رہا ہے صبا : اتنا ہی دکھ ہو رہا ہے تودفع ہو جاو اس کے پاس میرے پاس کیا ہے رمشاء: جانے دو یار مینے تو بات کی ہے تم اتنا کیوں بھڑک گئی جاو نہیں کرتی اس کا ذکر اب خوش اس کے ساتھ ہی رمشاء نے اس کے بائیں ممے کو زور سے مسل کر انکھ ماری جس سے صبا سسک کر رہ گیئ اور رمشاء کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڈی علی اج سب کی باتوں کا محور رہا کالج کی لڑکیاں کیا ٹیچرز بھی اس پر فدا تھیں سارا دن علی کو دیکھنے کے بعد اخر میتھ ٹیچر ریحانہ سے رہا نہ گیا اور اپنی پھدی کی اگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے علی کو بولا ریحانہ: علی تم دو ماہ سے کالج کیوں نہیں اے علی : مس میں اپنے گھر گیا تھا کراچی ریحانہ: تمہیں پتہ ہے امتحان میں 3 ماہ باقی ہیں کیسے کرو گے سب پڑھائی میں تم پہلے ہی بہت کمزور ہو علی : مس میں کوشش کرو گا سب کور ہو جاے ریحانہ: علی تم کالج ٹائم کے بعد میری بات سن کر جانا میں تمہیں کچھ نوٹس دوں گی اس کے علاوہ تم اک گھنٹہ میرے گھر ٹیوشن لیا کرو گے علی : جی مس ٹھیک ہے میڈم ریحانہ کی عمر 29 سال ہے مگر ان کی ابھی شادی نہیں ہوئی ان کے مموں کا سائز 36 ہے اور بہت ڈیپ گلے پھنتی ہیں علی سمجھ گیا اب اسے کیا کرنا ہے کرتے کرتے کالج سے چھٹی ہوئی اور وہ میڈم ریحانہ کے ساتھ ان کے گھر چل پڑا سارے رستے ریحانہ علی کو گھورتی رہی اور علی اس سب کے مزے لیتا رہا گھر میں مس اکیلی ہی رہتی تھی ان کی فیملی حیدر آباد میں تھی میڈم نے علی کو اندر بلایا اور بیڈ روم میں لے جا کر بیٹھنے کو بولا اور علی سے پوچھا کیا لو گے علی نے انکار کیا تو بولی اسے اپنا گھر ہی سمجھو شرماو مت یہا کوئی نہیں اتا میں اس گھر میں اکیلی رہتی ہوں تم ارام سے بیٹھو علی سمجھ گیا ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے علی نے کہا مس اپ ٹھنڈا ہی لے آئیں ہاں ویسے بھی اس وقت ماحول بہت گرم ہو رہا ہے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.